عِلم برائے فروخت

علم مومن کی معراج ہے۔ علم وہ موتی ہے جسے سمندر کی اتھاہ گہرائیوں سے بھی نکالنا پڑے تو گھاٹے کا سودا نہیں۔ علم، اعمال و کردار کی بلندی کا سبب ہے۔ جو کسی بھی معاشرے میں مثبت نتائج کے حصول کے لئے ناگزیر ہیں۔ مگر! علم کیسا ہونا چاہیے؟

اِس کا جواب آنحضرت صل اللہ علیہ والہ و سلم کی سیرتِ مبارکہ سے بخوبی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ آپ صل اللہ علیہ والہ و سلم نے ہمیشہ ”علمِ نافع“ کی طلب کی اور اِسی بنیاد پر جماعت کی تشکیل اور سوسائٹی کا نظام بنایا۔ علم نفع بخش تبھی ہوسکتا ہے جب وہ سوسائٹی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جس سے لوگوں کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کا ایسا نظام قائم ہو جو بلاتفریق رنگ، نسل اور مذہب کے عوام الناس کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے۔

Read more

جدوجہد آزادی میں ولی الہی جماعت کا کردار

تاریخ عالم میں کچھ ایسی ہستیوں کا ظہور ہوتا آیا ہے جو اپنے فکر و عمل کی خوشبو سے جہانِ بے رونق میں زندگی کی نئی لہر پیدا کر دیتی ہیں۔ اُن کی زندگی انسانیت کے لئے کسی مسیحا سے کم نہیں ہوتی وہ اپنے علم کی شمع لئے عمل کے راستے پر چل کر…

Read more