بند دماغ کی نفسیات

استاد محترم کے گیانی ہونے میں کیا شک ہے۔ معلومات اور مشاہدے کے امتزاج سے جنم لینے والے علم کو بصیرت کہتے ہیں۔ بصیرت ہمارے عمل میں منعکس نہیں ہو تو الماری میں رکھی بند کتابوں کے مترادف ہے۔ استاذی علم، بصیرت اور عمل کے ہر پیمانے پر کندن ہیں۔ پرکھوں نے بتا رکھا ہے کہ صوفی کو منازل سلوک کی تعلیم کرنے کا فرض نہیں سونپا گیا۔ گیانی کا منصب عوام کی تعلیم بھی ہے۔ سو اسی روایت میں

Read more

عمران پراجیکٹ کتنے میں پڑا؟

یاسر پیرزادہ کی تجویز ہے کہ مجھے اپنے عنوانات کا انداز بدلنا چاہیے۔ دوست کی تجویز حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ میرا مسئلہ لیکن عنوانات سے زیادہ اپنے موضوعات پر براہ راست اظہار کا ہے۔ اس مقام پر یاسر پیرزادہ تو کیا، سہیل وڑائچ بھی میری غم خواری نہیں کر سکتے۔ آج کوشش کر کے دیکھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں پہلے دن ہی سے دو سیاسی دھارے نمودار ہو گئے تھے۔ ایک مضبوط دھارا اپنی ریاستی قوت اور پیوستہ معاشی

Read more

چاند سے خالی آسمان اور گھڑیال کا انتظار

اگر درویش کو اختیار ہوتا کہ آج کا پاکستان بیان کرنے کے لئے عالمی تاریخ سے ادیبوں اور فنکاروں کا ایک سمپوزیم منعقد کرے تو اس مجلس میں اگلے تدریسی گریڈ کے انتظار میں بے مغز مقالے لکھنے والے محققین خارج از فہرست قرار پاتے۔ ریاستی بیانیے کی تائید میں دلائل ڈھونڈنے کی فکر میں سر کے بالوں سے محروم ہوتے نام نہاد اہل دانش کے لئے کوئی جگہ نہ ہوتی۔ بصیرت سے عاری ان معنک کرداروں سے استفادے کی

Read more

صحافت کی بازیابی کیسے ہو؟

ڈاکٹر اقبال احمد نومبر 1997 میں انسانی حقوق کانفرنس سے خطاب کرنے لاہور آئے۔ صدر فاروق لغاری اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ سے متعلق بحران اپنے عروج پر تھا۔ ہم تب بھی آج ہی کی طرح انہونی کے اندیشوں میں زندہ تھے۔ حتمی تجزیے میں انحراف ایک عبوری نقطہ قرار پاتا ہے۔ قوم معمول کے تسلسل میں آگے بڑھتی ہے۔ ہم قومی ابتلاؤں کے طویل سلسلے کی تکان کے باوجود خود کو خوش نصیب سمجھتے تھے کہ ہمیں ایک

Read more

عمران خان نے کیا فرمایا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور عمران خان عصرِ حاضر کے عظیم ترین سیاسی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں۔ مقدر کی لیلا نیاری ہے۔ ایک نے سپاہی اور دوسرے نے کرکٹر کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا لیکن دونوں کی بصیرت کے جوہر سیاست میں کھلے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے ذکرِ خیر سے بات شروع کرتے ہیں۔ 1945 ء میں برما کے محاذ پر بزدلی دکھانے پر انہیں کمانڈ سے ہٹا کر

Read more

انحراف کے ریشوں سے بُنا گیا بحران

بائبل مقدس میں ایک سے زیادہ مقامات پر بنی اسرائیل کو انتباہ کرتے ہوئے ایک خاص استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ ’تم نے ہوائیں کاشت کی ہیں، تم بگولوں کی فصل کاٹو گے‘۔ اس بلیغ جملے میں دو زاویے پوشیدہ ہیں۔ کسان بیج بوتا ہے تو فصل اٹھاتا ہے۔ ہوائیں بونا کار لاحاصل ہے۔ ہوا نمود کے امکان سے خالی مظہر ہے۔ ہوائیں بونے والے کسی ثمر آور فصل کی توقع نہیں رکھ سکتے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جو

Read more

کالم میں ناغہ کیوں ہوتا ہے؟

سراج اورنگ آبادی بڑے آدمی تھے۔ خود بھی گریز پا تھے اور عمر نے بھی زیادہ مہلت نہیں دی۔۔ بیس برس کی عمر میں بیعت ہوئے۔ چالیس کے پیٹے میں شعر سے تائب ہو گئے اور باون برس میں رخصت ہو گئے۔ نہ جنوں رہا نہ پری رہی۔ سراج اورنگ آبادی نے خبر کو بے خبری کا عنوان دیا۔ آج کے پاکستان میں زندہ ہوتے تو سراج اورنگ آبادی کی بہت بھد اڑتی۔ ٹیلی ویژن ان سے تقاضا کرتا کہ

Read more

امریکا کتنی دور ہے؟

ہفت روزہ ‘لیل و نہار‘ اردو صحافت کا شعلہ مستعجل تھا۔ 20 جنوری 1957ء کو اس ہفت روزے کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔ 18 اپریل 1959ء کو پروگریسو پیپرز لمیٹڈ پر ایوب آمریت کے شب خون کے بعد ‘لیل و نہار‘ معیار اور شناخت کھو بیٹھا۔ اشفاق احمد اور صوفی تبسم نے کچھ عرصہ ادارت کی ذمہ داری نبھانا چاہی مگر سبط حسن کا خلا پورا کرنا کارے دارد تھا۔ حقیقی طور پر محض سوا دو برس شائع ہونے والے

Read more

ایک طویل رات کے بعد صبح کی خود کلامی

صحافت ایک شب زاد پیشہ ہے، اصطلاح کی حد تک ہی نہیں، لغوی طور پر بھی صحافت میں رات جاگتی ہے تو خبر کا سراغ لاتی ہے۔ کوئی اس وقت برہمن کی صباحت دیکھے / نکلے جب رات کا جاگا ہوا بت خانے سے۔ آپ تو جانتے ہیں، رات کے ہر روزگار میں خواب کا کچھ زیاں لازم ہے اور پھر ایک خاص نوع کی بیزار کن یکسانیت۔ گزشتہ شب کے کیف و کم سے ایسا اغماض گویا ’جانے والے

Read more

آزمائش کے اساڑھ میں چیت کا کرشمہ

ایک صاحب ہمارے بیچ پائے جاتے ہیں، برا کیونکر کہیے، خدا کی مخلوق ہیں۔ ایوب خان کی ساعت غروب میں صحافت کو اپنے ورود سے شرف بخشا، چندے کاوش سخت اٹھائی۔ کوہستان اور مساوات وغیرہ سے ہوتے ہوئے بالآخر ایجنسی افغان پریس میں لنگر ڈال دیا۔ چالیس برس سے سلگتے پختون استخواں کی تپش میں بہت سوں نے ہاتھ سینکے۔ ہمارے ممدوح نے تو ’فاتح‘ کا عنوان دے کر اس شمشان کی راکھ تک بیچی۔ سود ایک کا لاکھوں کے

Read more

اپریل ظالم ترین مہینہ ہے

ٹی ایس ایلیٹ کی نظم دی ویسٹ لینڈ (The Waste Land) بیسویں صدی کی معروف ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ 1922 میں شائع ہونے والی اس نظم کا پہلا مصرع عالمی ادب میں ایک خاص طرز احساس کا استعارہ بن چکا ہے۔ April is the cruellest month۔ اس مصرعے کی معنویت سے پہلے نظم کے عنوان سے نمٹ لیں۔ ارض ویران، بنجر زمین یا پھر اہل کراچی کی اصطلاح میں کچرا کنڈی۔ یہ نظم پہلی عالمی جنگ کی تباہ

Read more

سازش کے نام پر بحران کی سازش

قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دیے جانے اور صدر مملکت کی طرف سے وزیر اعظم کی ہدایت پر قومی اسمبلی تحلیل کیے جانے کے بعد ملک ایک ہمہ جہتی اور پیچیدہ آئینی اور سیاسی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف 8 مارچ کو تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے کے بعد سیاسی عمل کے دو بنیادی دھارے دیکھنے میں آئے۔ ایک طرف سیاسی جوڑ توڑ اپنے عروج پر تھا

Read more

قدوسی صاحب کی بیوائیں اور لاوارث بیانیہ

قدوسی صاحب خدا کے فضل سے ابھی بقید حیات ہیں، نبض کی ضرب برابر سنائی دیتی ہے مگر اوبھی اوبھی سانسیں لے رہے ہیں۔ وقت کے جوار بھاٹے سے کس کو رستگاری ہے۔ جرس رخصت کی صدا کاتک کے کہر زدہ چاند کی طرح بالیں پہ لرز رہی ہے، بات کرتے میں گلا رندھ جاتا ہے۔ ستر سے کیا کم رہے ہوں گے مگر ابھی چند ہفتے پہلے تک الہڑ بچھیرے کی طرح کدکڑے لگاتے پھر رہے تھے۔ خدا رکھے،

Read more

تاریخ کے چیمبر میں پھنسی گولی

پاکستان میں تاریخ ان دنوں سبک قدم ہو رہی ہے۔ حزب اختلاف نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر رکھی ہے ۔ پارلیمانی طرز حکومت میں تحریک عدم اعتماد دستوری معمول کا حصہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کا اعتماد کھو دینے والا وزیراعظم اپنے ساتھیوں سمیت سپیکر کے بائیں ہاتھ والی نشستوں پر آ بیٹھتا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں 1951ءسے دستوری حکومت شروع ہونے کے بعد سے 27 مرتبہ مختلف وزرائے اعظم کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا

Read more

چھبیس مزدور، ایک لڑکی اور فتح مند سپاہی

آج مارچ کی 25 تاریخ ہے۔ یونہی یاد دلانا تھا کہ 51 برس پہلے آج ہی کے دن ڈھاکہ میں آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا تھا۔ فارم گیٹ کے ناکے پر چلنے والی پہلی گولی سے وہ آگ بھڑکی جس نے قائد اعظم کا پاکستان دو لخت کر دیا۔ سلہٹ کی پہاڑیوں پر گرتی بوندوں سے خنجراب کی برف پوش چوٹیوں کو چھوتا ہوا پاکستان سمٹ کے ایک عمودی پٹی کی صورت اختیار کر گیا۔ 26 مارچ کی شام بھٹو

Read more

کیا عمران خان فسطائی ہیں؟

درویش کو ہرگز علم کا دعویٰ نہیں بلکہ میری رائے میں ایسا دعویٰ بذات خود اپنی ہی تردید کے مترادف ہے۔ سچ کی جستجو، اسے بیان کرنے اور پھر اس پر قائم رہنے کے لئے جس استقامت کی ضرورت ہوتی ہے، دوسروں میں اس کے آثار دیکھ کر رشک ضرور آتا ہے لیکن اپنی محرومی کا بہرحال ادراک ہے۔ بہادری، بالخصوص ذہنی بہادری یقیناً ایک گراں قدر انسانی خوبی ہے لیکن بہادری کی بھاری قیمت دیکھتے ہوئے آپ کے نیاز

Read more

ٹینس کورٹ اجلاس اور سپیکر کی کرسی

موسمی طوفان ہو، وبائی آفت ہو یا سیاسی منظر تلپٹ ہونے کا امکان ہو، کالم نگار بھی خلقت شہر کی طرح کہنے کو فسانے مانگتا ہے۔ سیاست دان اور فیصلہ ساز تو اپنے ارادے کھول کے بیان نہیں کرتے مگر تجزیہ کار کو یہ جانتے ہوئے بھی رائے دینا ہوتی ہے کہ مستقبل کا خاکہ کھینچتے ہوئے تمام ممکنہ عوامل کو گرفت کرنا ذہن انسانی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد اب نفر شماری کی

Read more

لوح وقت پر حرف فریب کی ایک اور ناکامی

دھوپ کا شیشہ گلی میں کندھے سے کندھا ملائے مکانوں کی دیواریں چڑھتا، چوباروں کی کھڑکیاں پھلانگتا اور آرزو بھری چھتوں کی کائی زدہ منڈیروں سے گزرتا بستی کے عقب میں اترچکا تھا۔ اب شام ہو رہی تھی۔ حیرت بھری آنکھوں والے ننھے بچے، اوڑھنی سے بے نیاز بچیاں اور قد نکالتے لڑکے بالے ایک ایک کر کے گھروں کو پلٹ رہے تھے۔ تماشا گر نے گرد آلود کھلونے سمیٹے۔ کچی مٹی کے پیروں پر رکھے چوبی چوکھٹے پر منڈھا

Read more

صحافت وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے

مولوی محمد سعید کا نام اس ملک کے صحافیوں کے لئے مرشد باصفات اور گفتہ شیریں مقال کی تاثیر رکھتا ہے۔ ڈان اور سول اینڈ ملٹری گزٹ جیسے اخبارات سے مدتوں وابستہ رہے۔ پاکستان ٹائمز کے مدیر کے منصب سے پیشہ ورانہ زندگی کا اختتام کیا۔ اس صحافی کی عظمت میں کیا کلام جسے خالد احمد جیسے نابغہ روزگار صاحب علم نے اپنا استاد تسلیم کیا۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد کے برسوں میں مولوی صاحب کی صحافت اپنے نصف

Read more

درویش کے دانتوں کی مجلس شوریٰ

چودہویں صدی عیسوی میں دو نادرہ روزگار شاعر پیدا ہوئے، حافظ شیراز اور جیفری چاسر۔ عمر خیام بارہویں صدی میں رخصت ہو چکے تھے۔ اب نہ اصفہان میں رصدگاہ کی جستجو تھی اور نہ صراحی سے چھلکتی چہار سطری رباعیات کی موج ہائے طرب آمیز کا ہنگام تھا. حافظ شمس الدین شیرازی کو ایران پر تیموری یلغار کی تاخت و تاراج سے واسطہ رہا. مطرب شیراز نے بیم موج کے گرداب سے سبکساران ساحل کو پیغام بھیجا کہ دریاب نقد

Read more

اعتماد اور عدم اعتماد کے شکستہ پل پر خود کلامی

ن م راشد کے حسن کوزہ گر نے جہاں زاد کی محبت میں نو برس گزارے اور پھر ایک روز جہاں زاد سے اجازت طلب کی کہ ایک بار پھر سے اپنے ان مہجور کوزوں کی جانب لوٹ جائے، جن کے شراروں سے دلوں کے خرابے روشن ہو سکیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کی شہرزاد پر گزرنے والی ابتلا ایسی سادہ نہیں رہی۔ گزشتہ صدی کو ایک طرف رکھیے۔ بلا کشان محبت پہ جو ہوا، سو ہوا۔ اکیسویں صدی طلوع

Read more

ہائبرڈ بندوبست ناکام کیوں ہوتا ہے؟

ہماری تاریخ کا ہر صفحہ گرد آلود اور ہر باب سیاہ پوش ہے۔ آج سات مارچ ہے۔ 45 برس قبل 7 مارچ 1977 کو کسی منتخب حکومت کی نگرانی میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ یہ انتخابی مشق اکتوبر 1976 میں آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل غلام جیلانی کی ایک خفیہ رپورٹ سے شروع ہوئی اور پہلا ووٹ ڈالے جانے سے کئی ہفتے قبل 19 جنوری 1977 کو عملی طور پر اپنے انجام کو

Read more

آڈیو کالم: ہائبرڈ بندوبست ناکام کیوں ہوتا ہے؟

ہماری تاریخ کا ہر صفحہ گرد آلود اور ہر باب سیاہ پوش ہے۔ آج سات مارچ ہے۔ 45 برس قبل 7 مارچ 1977 کو کسی منتخب حکومت کی نگرانی میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ یہ انتخابی مشق اکتوبر 1976 میں آئی ایس آئی کے سربراہ میجر جنرل غلام جیلانی کی ایک خفیہ رپورٹ سے شروع ہوئی اور پہلا ووٹ ڈالے جانے سے کئی ہفتے قبل 19 جنوری 1977 کو عملی طور پر اپنے انجام کو

Read more

بزرگ صحافی اور تاریخ کا امتحانی پرچہ

میر صاحب 1810ءمیں رخصت ہوئے تھے۔ اس دوران فلک نے کیسا کیسا انقلاب دیکھا، اجداد پہ کیا گزری اور خود ہماری محضر پر کیسا کیسا نوشتہ مُہر کیا گیا۔ خدائے سخن کے نشتر کی کاٹ مگر بدستور حقیقت کی پرتیں وا کئے جاتی ہے۔ فرمایا، ’عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا / اگلے زمانے میں تو یہی لوگوں کی رسم و عادت تھی‘۔ اور یہ اگلا زمانہ کوئی ایسا زیادہ پرانا بھی نہیں۔ کوئی

Read more

سویا ہوا محل اور شاہی جوڑے کی سحرسازیاں

سلیم احمد حیات تھے تو اردو دنیا میں ان کا سکہ چلتا تھا۔ شعر، تنقید اور سرکاری نشریات غرض کسی گھر بند نہیں تھے۔ اس پہ طرۂ یہ کہ فکری طور پر غالب ریاستی بیانیے کے دو ٹوک حامی تھے۔ فن اور اقتدار میں اساسی کشمکش پائی جاتی ہے۔ فن انسان کے ارتفاع کی جہد ہے اور اقتدار شرف انسانی پرجبر کی پاڑ لگانے کی صنعت ہے۔ اورنگ زیب مغل سلطنت کے عروج کا نشان نہیں، دارا شکوہ اور سرمد

Read more

خالص زبان میں لکھا گیا ایک کالم

اس فقیر پُرتقصیر کے پڑھنے والے بھلے (ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے ) تسلیم کرنے سے انکاری ہوں، خلوص اور موانست کا رشتہ تو ان سے طے پا چکا۔ کچھ مہینے ہوئے، غالباً گزشتہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ تھا، ایک کالم لکھا تھا، ’درویش کے دانت سویلین ہو گئے‘ ۔ سیدھے سیدھے بتا دیا تھا کہ درویش کے دانت غیر مستحکم ہو گئے ہیں۔ اصول پسندی کی تاب نہیں لا پا رہے۔ بڑھتی ہوئی عمر کا

Read more

مشتعل ہجوم کی مقدس کپکپی اور سارتر کی معزز فاحشہ

15 فروری کو کالم نہیں لکھ سکا۔ پھیپھڑوں میں سوزش ایک سبب تھا لیکن اصل مشکل وہی تھی جو ایمل زولا نے اپنے ناول Germinal (نطفہ) میں بیان کی تھی۔ ”Blow the candle out۔ I don ’t need to see what my thoughts look like۔“ لکھنے والے کی مجبوری یہ ہے کہ اپنے معروض سے نجات نہیں اور معروض کی حقیقتوں سے اتفاق کرنا اپنی ذات، شعور اور عزت نفس کی نفی کے مترادف ہے۔ ایک ہی ہفتے میں تلے

Read more

تبدیلی کی ہوائیں

لیاقت علی خان کی شہادت ہماری تاریخ میں وہ نقطہ تھا جہاں غیر سیاسی قوتوں کے اونٹ نے سادھارن عوام کے خیمے میں گردن داخل کر لی۔ خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمیٰ سنبھالی اور روہیل کھنڈ ریلوے میں اسسٹنٹ آڈٹ افسر کی ملازمت سے عملی زندگی شروع کرنے والے غلام محمد پاکستان کے گورنر جنرل بن بیٹھے۔ یہ ہماری پہلی ہائبرڈ حکومت تھی جو 17 اپریل 1953 کو پنجاب فسادات اور مصنوعی قحط جیسی سازشوں کی چٹان سے ٹکرا

Read more

پاکستان میں عورتوں کا دن12 فروری کیوں؟

دنیا بھر میں عورتوں کا دن 8 مارچ کو منایا جاتا ہے مگر پاکستان میں یہ دن 12فروری کو منایا جاتا ہے۔ اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ 1983میں جنرل ضیاالحق نے اسلام کے نام پر1862 کے قانونِ شہادت میں ترمیم کر کے عورتوں کی گواہی کو مردوں کے مقابلے میں آدھا قرار دے دیا تھا۔ اس سے ٹھیک تین برس پہلے فروری 1979میں حدود قوانین کے نفاذ سے عورتوں کی قانونی، سماجی، معاشی اور سیاسی حیثیت کو خاصا

Read more

خاتون کے سر میں کیل اور قوم کے چوراہے میں ہاتھی

گورنمنٹ کالج لاہور ایک درس گاہ نہیں، ہمارے تمدنی ارتقا کا اشاریہ تھا۔ ’’جاننے کی جستجو‘‘ اس ادارے کا اعلان ہی نہیں تھا، یہاں کی ایک ایک اینٹ پر علم، تحقیق اور تخلیق کے نشان ثبت تھے۔ مولانا آزاد، آرنلڈ، اقبال، گنگا رام، پطرس، صوفی تبسم، عبدالسلام، ڈاکٹر نذیر، پروفیسر سراج، خواجہ منظور، فیض، راشد، خورشید انور، بھیشم ساہنی، رفیع پیر، خوشونت، بلراج ساہنی، دیوآنند اور اشفاق احمد تو ڈیڑھ صدی پر پھیلی کہکشاں کے چند نجم ثاقب تھے، بھرے

Read more

عمران حکومت اور مونتیل کی بیوہ

جوانی بھی کیسا خواب در خواب کا جادوئی سلسلہ ہے۔ ہماری نسل کے لئے 80 ءکی دہائی کے آخری برس فروری میں خزاں زدہ ٹہنیوں سے پھوٹتی کونپلوں جیسی لطیف آرزوؤں کا موسم تھے۔ ہمارے ملک میں تیسری آمریت کی طویل رات ختم ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ سے لے کر لاطینی امریکا تک جمہوریت کے چشمے ابل رہے تھے۔ یورپ صدیوں پر محیط جنگ اور رقابت کی تاریخ کو دیوار برلن کی طرح روندتے ہوئے یورپی یونین تشکیل دے

Read more

قوم کیسے منحرف ہوتی ہے؟

ہم فانی انسانوں کا مشاہدہ اور علم محدود ہے اور کیوں نہ ہو۔ کائنات بہت وسیع ہے اور دنیا بے حد پیچیدہ۔ ادھر اس کرہ خاکی پر ہمارے ٹھکانے کا احوال غالب کے ہم عصر نسیم دہلوی نے ایک ہی مصرعے میں سمو دیا۔ ’اجل ہے استادہ دست بستہ، نوید رخصت ہر ایک دم ہے‘۔ اگر یہ مصرعہ مغلق یا مشکل معلوم ہو تو اسی غزل میں اسی مضمون کا زیادہ معروف مصرع دیکھیے۔ ’نسیم جاگو، کمر کو باندھو، اٹھاﺅ

Read more

جلاوطن حکومت سے جلا وطن شہریت تک

بہت نازک موضوع ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی سے قلم پھسل کر ممنوعہ حددو میں داخل ہو سکتا ہے۔ ہماری صحافت میں ایک عرصے سے ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے کی روایت ختم ہو چکی ہے۔ اب ہماری صحافت میں کسی بدنصیب زمین پر قابض غنیم کی مسلط کردہ اجنبی دھنوں جیسی بے معنویت اور بیزار کن یکسانیت پائی جاتی ہے، چھچھورے پن کی حد تک سفید جھوٹ جس سے دیہات کی دیواروں پر گوبر کے تازہ اپلوں کے بیچ

Read more

جہاں ادیب مر جاتا ہے

اب میں آپ کو چھ دہائی پرانی حکایت کیا یاد کراؤں کہ محمد حسن عسکری ایک مختصر سے شذرے میں اردو ادب کی موت کا اعلان کر کے مفتی محمد شفیع کے صحبت نشین ہو گئے تھے۔ مرحوم عسکری صاحب نے کچھ ایسی ہی افتاد پائی تھی۔ پاتال اور ثریا کے بیچ کہیں پڑاؤ  کے روادار نہیں تھے۔ مگر بھائی، محمد حسن عسکری ایک فرد نہیں تھا، اپنی ذات میں جوالا مکھی تھا، جوار بھاٹا تھا، ایک تحریک تھا، ایک

Read more

سیکس کس طرح زندگی کو معنی دیتی ہے؟

زندگی کو کیسے بامعنی بنایا جائے؟ اس سوال پر قدیم یونانی فلسفیوں کے زمانے سے بحث ہوتی رہی ہے۔ بحث اس سوال پر مرکوز ہے کہ ایک مکمل زندگی کے لیے کون سا زیادہ اہم ہے — جسم کی لذت یا دماغ (فکری سرگرمیوں) کی لذت۔ وہ لوگ جو لذت پسندی کو ترجیح دیتے ہیں،وہ خوشی کو مسرت کے تجربے اور دکھ یا درد کی غیرموجودگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک بامعنی زندگی، چنانچہ وہ زندگی کی معنویت کو جسم

Read more

پاکستان میں سول سوسائٹی کی موت؟

عجیب موسم ہے۔ گویا اماوس کی رات میں دھند نے سارے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ادھر ہردے کے بندی خانوں میں دل ایسے خالی ہیں گویا متروکہ گھروں کے دالان۔ اندیشوں کی چاپ تک نہیں۔ ناگزیر سے آشنائی ہو جائے تو وقت کے ظلم سے انکار ممکن نہیں رہتا۔ نا امیدی کی سفاک سل کا بوجھ ناقابل برداشت ہو گیا تو بے اختیار استاد بڑے غلام علی خان سے رجوع کیا۔ استاد مرحوم کی لے کاری میں پٹیالہ

Read more

پاسٹرناک کا جنازہ اور سرکاری دانش

آج کل ہماری تاریخ ندامت کا ایک اور قابل فراموش باب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، اچھا موقع ہے کہ رک کر کچھ بنیادی نکات کی بار دگر خواندگی کر لیں۔ سپہ سالار اور سپاہی میں یہی فرق ہے کہ لڑائی ختم ہونے پر کماندار اپنے خیمے میں محفل ہاﺅہو سجاتا ہے مگر سپاہی اپنے جوتے نہیں اتارتا، جانتا ہے کہ لڑائی میں فتح یا شکست ہوا میں رچی موت کے اندوہ اور لہو کی باس کا وقفہ

Read more

قومی سلامتی اور ناخداﺅں کی خواب فروشی

ٹوپی سے کبوتر نکالنا، رائی کا پہاڑ بنانا اور کمرے میں موجود ہاتھی سے انکار کرنا کوئی ہم سے سیکھے۔ ہمارے قومی رہبر عمران خان اور قومی مفکر معید یوسف نے ملکی تاریخ میں ’پہلی قومی سلامتی پالیسی‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ’سنگ میل‘ عبور کرتے ہوئے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ’معاشی سلامتی ہی مجموعی قومی سلامتی کا مرکزی نقطہ ہے‘۔ اگرچہ اس دستاویز میں معاشی ترقی کو حتمی تجزیے میں قومی سلامتی کا آلہ کار ہی

Read more

تاریخ بڑے کام کی چیز ہے

یادش بخیر! عبدالولی خان نے حیدر آباد ٹریبونل سے مخاطب ہو کر کہا تھا ”می لارڈ! تاریخ بڑے کام کی چیز ہے۔ “ یہ عین ممکن ہے کہ ایک ہی روز رونما ہونے والے پے در پے واقعات میں مقصد اور طریقہ ¿ کار کی مطابقت محض اتفاق ہو لیکن تاریخ کے دو مختلف ادوار میں اور دو مختلف مقامات پر رونما والے واقعات میں مماثلت بڑے کام کی چیز ہے۔ اس سے لکھنے والے کو آج کے دن میں

Read more

کیا نیویارک میں بھی کوئی شہباز شریف گزرا ہے؟

سیاست کی لیلا کے رنگ نیارے ہیں۔ ایک جملہ مولانا ابو الکلام آزاد غفرلہ سے منسوب کیا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ مولانا علم اور بصیرت سے متصف تھے۔ سستی جملے بازی کی بجائے اپنی فہم کے راست اظہار میں یقین رکھتے تھے۔ گمان غالب ہے کہ اپنے براہ راست مشاہدے کی روشنی میں چوگان سیاست میں احساس، ہم دلی اور اثبات علویت کی نفی کا اشارہ دیتے ہوئے مولانا جیسے وضع دار اور راست

Read more

71ء کی شکست میں جنرل نیازی کا کردار (دوسرا حصہ)

میجر جنرل فضل مقیم نے جنگ کے فوراً بعد "قیادت کا بحران” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی تھی۔ جنرل صاحب نے برسراقتدار فوجی جنتا کو غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا مثلاً جنرل یحییٰ، جنرل حمید، جنرل گل حسن، جنرل پیرزادہ، جنرل عمر اور جنرل مٹھا وغیرہ۔۔۔ لیکن یہ قیادت کا بحران نہیں تھا۔ پاکستان کو 1971 میں بھی طرز حکومت کے بحران کا سامنا تھا۔ نصف درجن فوجی کمانڈروں کو نام زد کرنا حقیقی مسئلے کی نشان دہی نہیں

Read more

71ء کی شکست میں جنرل نیازی کا کردار (پہلا حصہ(

1 ہم نے پاکستان میں ریاست اور جنگ کے اصول دھندلا دیے ہیں۔ ہمیں آزادی کے موقع پر جو فوج ملی تھی اس کے بہت سے سپاہیوں نے دوسری عالمی جنگ میں یورپ، برما، سنگاپور اور شمالی افریقہ کے محاذوں پر جنگ لڑی تھی۔ ہم جنگ کے اصول سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ ہماری ایک سے زیادہ مرتبہ جنگ ہوئی۔ جنگ کے دوران بھی دونوں ملکوں نے اس معاہدے کی پابندی کی کہ ایک دوسرے کے شہریوں

Read more

قلعہ سیف اللہ کے نوجوان سلمان خان سے سیکھنے کی ضرورت

دو برس قبل 2020 میں یہی جنوری کے ہڈیوں میں خون جما دینے والی سردی کے دن تھے۔ پاکستان کے انتہائی شمال مشرق میں نیلم وادی کی چوٹیوں سے شمال مغربی بلوچستان کے علاقوں کچلاک، زیارت اور خانوزئی تک برف کی دبیز چادر نے ملک کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے منقطع کر دیا تھا۔ کوئی 270 کلومیٹر طویل کوئٹہ ژوب سڑک کے جگہ جگہ بند ہونے سے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں مسافر غیر

Read more

جمہوریت کے بغیر پائیدار انسانی ترقی ممکن نہیں

انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ، متنوع، سیال اور اکثر ناقابل پیش بینی مظہر ہے۔ اس میں آبادی کے مختلف حصوں میں ناگزیر طور پر مفادات کا ٹکراﺅ بھی پایا جاتا ہے اور قدرتی عناصر کی بے اماں مداخلت بھی۔ تاریخ ایک اثاثہ بھی ہو سکتی ہے اور اجتماعی نفسیات میں گہرا گھاﺅ بھی۔ کہیں معدنیات کی فراوانی کے باوجود کانگو کی معیشت کا کل حجم 80 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی بمشکل 900 ڈالر ہوتی ہے اور کہیں جرمنی اور

Read more

جمہوری تسلسل اور مداخلت کے غیر متصل منطقے

آپ جیسے اصحاب علم سے کچھ عرض کرنا طفل ناتراشیدہ کی شوخ چشمی معلوم ہوتا ہے۔ ادب کی مبادیات میں پڑھایا جاتا ہے کہ ناول زندگی کی کلیت (Entirety) کا احاطہ کرتا ہے۔ وقت کے کسی خاص وقفے میں زمین اور اہل زمین کے معاملات کی ممکنہ حد تک مفصل تصویر، واقعے اور خیال کے بیچ آنے والے نیم تاریک گوشے، لمس کی سرسراہٹ سے رنگوں کی ست رنگی طیف تک، خد و خال کے تناسب سے لہجوں کے زیروبم

Read more

ایک نازک موضوع پر کچھ محتاط خیالات

درویش کی معروضات پڑھنے والے جانتے ہیں کہ میں اپنے قلم کو سیاسی، معاشی اور سماجی موضوعات تک محدود رکھتا ہوں۔ خالص مذہبی مباحث کی کرید مجھے پسند نہیں۔ میری رائے میں صحافت کا منصب عقیدوں کی تبلیغ یا تنقیص نہیں۔ قانون نے ہر انسان کو عقیدے کے انتخاب کا انفرادی حق عطا کر رکھا ہے اور صحافی کا کام ہر انسان کی مذہبی آزادی کا غیرمشروط احترام یقینی بنانا ہے۔ تھامس جیفرسن نے کہا تھا کہ عقیدوں کے صحیح

Read more

عوام کو تجرباتی چوہے بنانا قائد کاخواب نہیں تھا

بابائے قوم کے خواب کو پاکستان کی قومی ریاست میں تبدیل ہوئے پون صدی گزر گئی۔ اس دوران اہل پاکستان نے ہر گزرتے دن کے ساتھ قوم کو کمزور اور ریاست کو مضبوط ہوتے دیکھا ہے۔ عوام کے ساتھ اس سازش، جرم اور ناانصافی کی جڑیں ذاتی مفاد، استحصال اور کوتاہ نظری میں پیوست ہیں۔ قائد کا خواب یہ نہیں تھا۔ 25 نومبر1945 کو اسلامیہ کالج پشاور میں قائد نے پاکستان کو دنیا کے لئے ایک تجربہ گاہ بنانے کا

Read more

سیکولرازم جرم نہیں !

تاریخ دان احباب سے دریافت کیا ۔ سیاسیات کے اساتذہ سے استفسار کیا۔ پاکستان میں سیاسی ارتقا کے نشیب و فراز کے شناوروں سے پوچھا کہ آخر اردو زبان میں پہلی مرتبہ سیکولر ازم کا ترجمہ ”لادینیت“ کس عبقری نے کیا تھا۔ کسی نے مولوی عبدالحق کی اردو لغت پر نام دھرا۔ ارے صاحب، وہ لغت تو مولوی احتشام الحق حقی کی عرق ریزی کا نتیجہ تھی۔ مولوی عبدالحق تو اس لغت پر اپنا اسم گرامی شائع کرنے کے گناہ

Read more

دیار مغرب دکان ہی ہے!

منو بھائی فرمایا کرتے تھے کہ بگڑا ہوا گائیک قوال، بگڑا ہوا عاشق شوہر اور بگڑا ہوا شاعر نقاد بن جاتا ہے۔ ویسے منو بھائی شاعر کی کایا کلپ کو کچھ اور عنوان دیا کرتے تھے جسے آج کل کے مشتعل ماحول میں دہرانا ممکن نہیں۔ البتہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ آج کے پاکستان میں از کار رفتہ اداکار سماجی کارکن، ریٹائرڈ اہلکار دفاعی تجزیہ کار اور مغرب کو اچھی طرح سمجھنے والے کھلاڑی سیاست دان بن جاتے

Read more

او آئی سی اجلاس: کشکول قبیلے کا ریشتاغ

پڑھنے والوں میں ایسے صاحبان علم کی کمی نہیں جو یہ عنوان پڑھ کر چونک اٹھیں گے۔ سیالکوٹ کے جوہر بے آب ایل ایل بی مدظلہ سے تو کچھ بعید نہیں کہ انسائیکلوپیڈیا کی کرم خوردہ جلد نکال کر یہ بھی نشاندہی فرما دیں کہ ریشتاغ تو روایتی طور پر جرمن پارلیمنٹ کی عمارت کو کہتے ہیں۔ سو عرض ہے کہ جنت مکانی مولانا عبدالمجید سالک کسی بے تکلف دوست کے ساتھ پرانے لاہور سے گزر رہے تھے۔ یہ شدھی،

Read more

فراموشی: پانچ ایکٹ کی المیہ تمثیل

ان دنوں سویرا روشن ہوتا تھا اور رات میں نامعلوم کا جادو تھا۔ زندگی ایک دلچسپ اور بہت پھیلا ہوا کھیل تھا۔ یہ معلوم ہو چلا تھا کہ دنیا رنگ برنگی ہے لیکن من کو چنتا لگی تھی کہ آوازوں اور تصویروں کے اس بارونق میلے کا سارا تماشا آنکھ میں کیسے سمویا جا سکے گا۔ دس سے اوپر کون گنے؟ بالک پن کے ان دنوں میں کتاب کی کھڑکی کھل گئی۔ کتاب وہ سیربین تھی جس میں منظر اور

Read more

قلم کی روشنائی اور تاریخ کی سیاہی

درویش شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ پانے کی خواہش نہیں رکھتا۔ افتاد طبع کو تو ایک طرف رکھیے، انحرافی فکر اور تقلید کی روش سے گریز پائی کا رجحان اپنی جگہ بھاری پتھر تھا کہ لغت میں مشکل پسندی بھی بغیر بتائے چلی آئی۔ لفظ تو مشکل نہیں ہوتا، لغت میں رکھا ہے تو معنی جاننا کیا دشوار ہے۔ امتحان تو یہ ہے کہ لفظ کی سادگی میں خیال کے امکان کو کیسے سمیٹا جائے۔ یہاں

Read more

آلو کھانے والے

دنیائے مصوری کی جدید تاریخ میں اٹلی، فرانس اور ہالینڈ کا حصہ کسی دوسرے ملک یا خطے سے بڑھ کر ہے۔ شمالی یورپ کے ایک چھوٹے سے ساحلی ملک ہالینڈ نے مصوری کی وہ عظیم روایت تخلیق کی جسے ڈچ مکتب مصوری کہا جاتا ہے۔ اس میں علائم اور اساطیر تو یونانی، رومن اور مسیحی ہی ہیں لیکن سرد مرطوب آب و ہوا یورپ کی ہے۔ بل کھاتی گلیوں میں لمبے ہوتے سائے، سرسبز چراگاہیں، پھولوں کی ٹوکریاں اٹھائے لڑکیاں،

Read more

امرتا شیرگل کون تھی؟

 6 دسمبر 1941ء کی سرد شام کچھ لوگ ایک ارتھی لے کر راوی کے کنارے پہنچے۔ سوگواروں کے اس ہجوم میں ہندو، مسلم ، سکھ بھی تھے اور لاہور کے مصور اور ادیب بھی۔ اس شام شیشم کے گھنے پیڑوں کے نیچے جس چتا کو آگ دکھائی گئی وہ جدید ہندوستان کی حقیقی معنیٰ میں پہلی مصورہ امرتا شیر گل کا جسد خاکی تھا۔امرتا کی بھوبھل راکھ کو راوی کی منہ زور لہریں دم بھر میں بہا کر جانے کہاں

Read more

قائد اعظم کی عینک اور دیگر مال مسروقہ

اس برس اکبر الہ آبادی کی وفات پر ایک صدی گزر گئی۔ 1846 میں پیدا ہونے والے اکبر الہ آبادی نے 1857 ء کا ہنگامہ بھی مشاہدہ کیا اور پہلی عالمی جنگ بھی دیکھی۔ اکبر اردو ادب میں قدامت پسندی کی اولین آوازوں میں سے تھے۔ سرسید، علی گڑھ تحریک اور آزادی نسواں کے سخت مخالف تھے۔ بدیشی علوم اور ثقافت پر تنقید کے لئے طنزیہ علامتیں تراش رکھی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود اکبر نے سرکاری مدارس

Read more

عقل مند لوگو! معیشت ہی میں راہ نجات ہے

مارچ 1971 کے دن تھے جب قائد اعظم کے پاکستان کی بنیاد کھودی جا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میں شفیع الاعظم چیف سیکرٹری تھے جنہیں عملی طور پر حکومت اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے خانہ جنگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر شفیع الاعظم سے کہا کہ وہ شیخ مجیب الرحمن کو عوامی جذبات ٹھنڈا کرنے پر قائل کریں۔ شفیع الاعظم نے بغیر کسی جھجک کے

Read more

قائد اعظم کے کھوٹے سکے

تحریک پاکستان میں بہت سے ایسے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں اس تحریک کے مفروضہ مقاصد سے اختلاف کیا جیسے جی ایم سید، میاں افتخار الدین۔ کچھ افراد تحریک پاکستان کے مخالف تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد ان مقاصد کے علم بردار بن گئے جو مبینہ طور پر نظریہ پاکستان کہلائے۔ اور بہت سے ایسے سیاسی رہنما بھی تھے جو تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ کا حصہ تھے لیکن ان کے سیاسی کردار پر بہت سے

Read more

شارق جمال خان کی خرد پسندی

پطرس کے مضامیں ہم سب نے پڑھ رکھے ہیں۔ اردو مزاح کی یہ کلاسیک تصنیف 1927 میں شائع ہوئی جب پطرس کیمبرج سے انگریزی ادبیات میں ٹرائی پوز مکمل کر کے لاہور لوٹ آئے تھے۔ یہ بات قدرے کم معروف ہے کہ برطانیہ میں قیام کے دوران پطرس بچوں کے منفرد رسالے پھول کے لئے ہلکی پھلکی تحریریں بھی بھیجا کرتے تھے۔ ان میں سے دو نثر پارے بچپن میں میرے ہاتھ لگے۔ ’لندن کا سپاہی‘ اور ’لندن کی ٹیوب‘۔

Read more

سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟

نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے کیا تھا جب ریاستی افسر شاہی نے سیاسی قیادت کو حقیقی اقتدار سے بے دخل کر کے فلاحی مملکت کی بجائے سیکورٹی اسٹیٹ کا نمونہ

Read more

ثاقب نثار کو برطانیہ میں معلوم ہو گیا کہ حسین نقی کون ہے؟ (قند مکرر)

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، قابل صد احترام سابق چیف جسٹس (سپریم کورٹ آف پاکستان) مسٹر جسٹس ثاقب نثار رواں برس (2019) 17 جنوری کی شام تک پاکستان کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت تھے۔ انہوں نے قوم کو انصاف، پانی کے ذخائر (ڈیم) اور مانع حمل اگہی مع ضروری accessories فراہم کرنے کا ذمہ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ وہ انتخابی امیدواروں (از قسم شیخ رشید لال حویلی والے) کے ساتھ ہسپتالوں کا معائنہ کرتے تھے۔ جیل

Read more

ادب کی معیشت

محمد حسن عسکری نے ساٹھ برس قبل ادب کی موت کا اعلان کیا تو لاہور سے ناصر کاظمی کی آواز آئی، میں غزل لکھ رہا ہوں تو ادب کیسے مر سکتا ہے۔ اب ناصر غزل نہیں لکھ رہا لیکن اسد محمد خان تو افسانہ لکھ رہے ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ ہمارے لکھنے اور پڑھنے والے ذہین نوجوان انگریزی زبان میں لکھنے پر مائل ہو رہے ہیں۔ پاکستانی ادیب کو بین الاقوامی ادب میں پذیرائی مبارک ہو۔ ہماری زمین

Read more

اسلام، قائد اعظم اور مولانا مودودی

بات اس نکتے سے شروع ہوئی تھی کہ مسلم لیگ نے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس مطالبے کی تشریح میں موعودہ مملکت کے باشندوں سے کیا وعدے کئے۔ اور جب تقسیم کا مرحلہ طے کیا جا رہا تھا تو زمینی حقائق میں کیا تبدیلیاں آئیں۔ مملکت کے بانی نے نئے ملک کا افتتاح کرتے ہوئے ملک کے باشندوں کو کیا یقین دہانیاں کرائیں اور ان کے لئے کیا نصب العین طے کیا۔ پھر کچھ ذکر چلا کہ

Read more

رکاکت اور ابتذال کے موسم میں جینا

برادر محترم ان دنوں خاموش ہیں ۔یوں بھی اسرافیلی طبیعت پائی ہے ۔ مہینوں بلکہ برسوں میں قلم اٹھاتے ہیں ، ان کا قلم بھی برہمن کے ناقوس، جوگی کے سنکھ اور نالہ جرس سے کم نہیں۔ کوئی چار برس پہلے خامہ ہوش ربا کو حرکت دی اور پارٹی ختم ہو نے کی خبر دی۔ یہ برہم ہونے والی محفل یوں بھی برہم ہو جاتی۔ برادر محترم کی رسوائی کو مفت میں پر لگ گئے۔ 2018ءکے ابتدائی مہینوں میں صاحبان

Read more

سیاست اور سیاست دان کو برا کہنے کی روایت

اگر آپ نے مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: ’ہمیں سیاست سے نفرت ہے؛ ڈاکٹر، انجینئر یا سول سرونٹ بن کے قوم کی خدمت کریں گے۔ ‘ گویا سیاست میں حصہ لے کر قوم کی خدمت نہیں

Read more

ابرار احمد: قصباتی لڑکا واپس چلا گیا

عدم اور وجود کے کھیل سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ موت وہ فسطائی فرمان ہے جو مکالمے کا روادار نہیں۔ نامعلوم کی نیند کے ایک لامتناہی سلسلے میں بیداری اور غفلت کے جلتے بجھتے روز و شب کا ایک مختصر وقفہ، فرد کی زندگی یہی ہے۔ گزشتہ نسل جگہ خالی کرے گی تو زمین آئندگان کو خوش آمدید کہہ سکے گی۔ یہ سب درویش کو بھی اسی طرح معلوم ہے جیسے آپ کو۔ تو پھر چند برسوں سے یہ

Read more

مکھوٹے، موکھے اور محافظ کی سیاست

سند باد جہازی جولائی 2018 کے بعد سے احباب کو خبر کیے بغیر ایک نامعلوم سفر پر نکل گیا تھا۔ آپ سے کیا پردہ، گیا کہیں نہیں تھا، یہیں گھر کے عقبی دالان میں در و دیوار لپیٹے پڑا تھا۔ کالم لکھنے کا دن آتا تو آنکھ پر مصلحت کی پٹی باندھ کر دست لرزیدہ سے کلک شکستہ تھام کر ایران توران کی کہانیاں لکھ دیتا تھا۔ کبھی نئے پرانے ادب کی وادیوں میں نکل لیا تو کبھی کسی غیر

Read more

مکان اور ستارے میں پرواز کی تیکنیکی دشواریاں

(ڈاکٹر ابرار احمد کے لئے جولائی 2012 میں لکھی ایک نظم) ابرار احمد ایک خوش رنگ پرندہ ہے منجمد جھیلوں سے گرم ساحلوں کی طرف اڑان بھرے اسے نصف صدی سے زیادہ وقت گزر چکا اس کے پروں میں ماوراالنہر کی روئیدگی جھلکتی ہے اس کی آواز میں خلیج بنگال کی لہریں الاپ کرتی ہیں چولستانی ریت کے ذرے اس کی آنکھوں کا حصہ بن چکے اس کے بالوں سے محروم ہوتے فراخ سر میں اوقیانوسی جزیروں کے موتی ٹکے

Read more

روانڈا: قتل عام کی راکھ سے ترقی کا ققنس کیسے اٹھا؟

بہت برس پہلے کی بات ہے۔ ہم لوگ جوان تھے، حیرت اور امید کی جڑواں کرنوں میں دنیا دریافت کر رہے تھے۔ میرے نائجیرین دوست ابوبکر کوانگے نے مجھے ساﺅتھ لندن میں اپنے گھر مدعو کیا تھا۔ ایسا ہی مختصر، بے ترتیب مگر دلچسپ گھر تھا جو ایک پڑھے لکھے جلاوطن کا ہوتا ہے۔ بن دھوئے برتن اور موسیقی کے آلات ساتھ ساتھ بکھرے تھے۔ کتابیں الماریوں سے باہر گرنے کو تھیں۔ کھڑکی سے آتی سہ پہر کی یکسانیت بھری

Read more

نغمے کی سیاست

آپ تو جانتے ہیں کہ درویش نے سہل طلب اور عافیت پسند طبیعت پائی ہے۔ مسائل کی دھوپ قدرے تیکھی ہو جائے تو کسی خیال کے سائے میں جا بیٹھتا ہے۔ واقعات کی گتھی الجھ جائے تو خواب میں پناہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مکالمہ گالی دشنام کی راہ پر چل نکلے تو آپ کا نیاز مند عوامی تبصرے دیکھنا بند کر دیتا ہے۔ بے شک کڑواہٹ بھی ایک ذائقہ ہے لیکن تلخی دہن کے صلے میں ’یک

Read more

زمان خان اور فرخندہ بخاری: التوا میں رکھی زندگیاں

خواب دیکھنے والے اور خواب کی بازیابی کے لئے اندھیروں سے لڑنے والے اس تیزی سے رخصت ہو رہے ہیں کہ ہمارے ہاتھ رہن دعا ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہ وہ نسل تھی جس نے ابنائے وطن کی پلکوں پر شب و روز کے ہلکا ہونے کی حسرت میں اپنی زندگیاں التوا میں رکھ دیں۔ زندگی کو موت کے نقطہ اختتام سے مفر نہیں لیکن دکھ یہ ہے کہ آزادی کی نیم شب کے آس پاس آنکھ کھولنے والی

Read more

راسپوٹین کب نمودار ہوتا ہے؟

زندگی کا تشکر تو بہرصورت واجب ہے لیکن ہر زمانے اور زمین کے اپنے رنگ اور اپنے امتحان ہوتے ہیں۔ ناصر کاظمی نے ہمارے عہد کو ’کالے کوس کی پرہول رات‘ کہا تھا۔ 16 دسمبر 1971 کے بعد 75 روز ناصر کاظمی پر بہت سخت گزرے۔ شاعر نے پاکستان کا خواب آنکھوں میں لئے رونمائی دی تھی۔ وہ پاکستان بکھر گیا تو شاعر نے 2 مارچ 1972 کو آنکھیں موند لیں۔ امانت کے زیاں کا احساس جانگسل ہوتا ہے۔ کوئی

Read more

پرائیویٹ ریان کو کون بچائے گا؟

آج کچھ محسنوں کی یاد نے دل کو عجب محبت سے گرفت کیا ہے۔ اردو میں بچوں کے ادب کی داغ بیل مولانا محمد حسین آزاد اور مولوی اسماعیل میرٹھی نے ڈالی۔ 1901 میں عورتوں کے حقوق پر پہلی اردو کتاب ’حقوق نسواں‘ لکھنے والے شمس العلما مولوی سید ممتاز علی اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم نے اپنے صاحبزادے امتیاز علی کی علمی تربیت کے خیال سے اکتوبر 1909 میں بچوں کا رسالہ "پھول” جاری کیا۔ آج ہم ننھے

Read more

الف لیلیٰ کا ابوالحسن اور سوتے جاگتے کی حکایت

پنجاب کے سکولوں میں رواں تعلیمی سال سے یکساں نصاب تعلیم رائج کر دیا گیا ہے۔ ’رائج کرنا‘ از رہ احتیاط لکھا ہے۔ مسلط کرنے کا پیرایہ بیان قرین مصلحت نہیں اور ’نفاذ‘ کا امکان ورائے حقیقت ہے۔ آپ کے اس نیاز مند کو لے دے کر اردو کے نصاب ہی میں دلچسپی ہو سکتی تھی لیکن سچ بتا رہا ہوں کہ مبلغ یک صد روپلی خرچ کر کے پانچویں جماعت کے لئے تجویز کردہ اردو کی نصابی کتاب دیکھنے

Read more

کوہ ندا پر آوارہ بشارتیں

فیض صاحب نے شب غم کے چاند کو یہ کہہ کر قریب بلایا تھا کہ ’نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم…. کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں‘۔ علی گڑھ میں ریاضی کے مایہ ناز استاد ڈاکٹر ضیا الدین احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کسی شوخ چشم طالب علم کی فرمائش پر ’طول شب فراق‘ کا تختہ سیاہ پر حساب پھیلا کر جواب نکالا تھا ’لامحدود‘۔ صاحبان نظر جانتے

Read more

پڑھنے والوں سے رہنمائی کی درخواست

دنیا کی کل آبادی کا موجودہ تخمینہ سات ارب 80 کروڑ سے زائد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب نوے کروڑ سے زیادہ ہے گویا دنیا کا ہر چوتھا شہری مسلمان ہے۔ بدقسمتی سے دنیا کی اس 25 فیصد آبادی کے سیاسی، تمدنی، علمی اور معاشی خد و خال قابل رشک نہیں ہیں۔ بیشتر مسلم اکثریتی ممالک کے شہری آمریتوں، غیر شفاف حکومتوں میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ملک کا حال ہم سے بہتر کون جانتا ہے

Read more

ددی بائی مگھیانے والی کی تجوری اور پینڈورا پیپرز

ایوب حکومت نے عبداللہ حسین کو "اداس نسلیں” لکھنے پر 1963ءمیں آدم جی ادبی ایوارڈ سے نوازا تو گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان کالاباغ سخت ناراض ہوئے۔ ان کا ردعمل قدرت اللہ شہاب اپنی خود نوشت میں درج کر رکھا ہے۔ ہم اخبار میں بر بنائے بد زبانی نقل نہیں کر سکتے۔ زرعی زمین، مونچھ، حکمرانی اور صلبی اولاد کی لایعنی دنیا میں بسنے والے دریائی ٹھیکیدار کو ادب کی کیا سمجھ ہو سکتی تھی۔ عبداللہ حسین کو

Read more

درویش کے دانت سویلین ہو گئے

میر تقی میر نے خود کو دریا کہا تھا۔ بے شک وہ ایسے ہی تھے۔ لاہور مگر ایک سمندر ہے اور ایسا سمندر جس کا پانی میٹھا اور مہربان ہے۔ دور دور سے ٹھنڈے چشمے زرخیز زمینوں کی خزانے اپنے سینے میں سموئے جھومتے بل کھاتے لاہور پہنچتے ہیں، تہذیب اور کشادہ دلی کے اس ساگر میں اتر جاتے ہیں، لاہور کا دامن کچھ اور وسیع ، کچھ اور وقیع ہو جاتا ہے۔ یہ روایت بہت پرانی ہے۔ 1857 کی

Read more

جبر کی ناقابلِ برداشت کثافت

بیسویں صدی میں فکشن اور فلم میں ایک دلچسپ تعلق دریافت ہوا۔ نثربیانیے کے لفظ کو تصویر میں تبدیل کرنا بذات خود ایک تخلیقی فن کی صورت اختیار کر گیا۔ کئی صفحات پر پھیلے ہوئے واقعے کو چند لمحات کے منظر میں کیسے بیان کیا جائے؟ لکھنے والے نے ایک لفظ میں جو کیفیت رکھی تھی، اسے مکالمے اور واقعے میں کیسے سمویا جائے؟ فنکار کا گیان عجائب کی دنیا ہے، 1975ءمیں جلا وطنی اختیار کرنے والے میلان کنڈیرا نے

Read more

فرد کی مسیحائی اور جمہوریت کا کرشمہ

بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ان کی عمر 43 برس، گیارہ ماہ اور پندرہ روز تھی۔ 1971 کے بحران کا تجزیہ مطلوب نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ملکی حالات غیرمعمولی طور پر ابتر تھے۔ ایک شکست خوردہ قوم جس کی سیاسی بنیادیں کھودی جا چکی تھیں، جو پیوستہ مفادات کے لئے تقسیم در تقسیم کی آزمائش سے دوچار تھی۔ جو برس ہا برس تک بے خبری کے اندھیرے میں رکھنے جانے کے سبب خود پر اعتماد کھو بیٹھی

Read more

ففتھ جنیریشن وارفیئر اور پانچواں کالم

جوانی خواب دیکھنے کا موسم ہے۔ محبتوں کے خواب، خوبصورتی کے خواب، دنیا کو جاننے کے خواب، ناانصافی سے لڑنے کے خواب، دنیا کو بہتر بنانے کے خواب۔ ہم ایسے تو زمین کا بوجھ ہیں، ہمارے لئے یہی بہت ہے کہ تاریخ کی کثافت میں اضافہ کئے بغیر خاموشی کی وادی میں اتر جائیں۔ بڑے انسان اس خواب کو مہ و سال کی آندھیوں میں بچا رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے

Read more

نکولائی گوگول کی ’مردہ روحیں‘ اور ہماری سیاست

دل ایسے آزاد پرندے کی اڑان کے کیا کہنے! یہ محض نیلے آسمان اور بادل کی دھانی ٹکڑیوں کے بیچ مرتعش ہواؤں پر وارفتہ پرواز کا مضمون نہیں، اس میں پرانے پیڑوں، آشنا گلی کوچوں اور وہاں بسنے والوں سے رشتے کی پابستگی کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ میرؔ سے خوش نوا پرندے کا یہ عالم تھا کہ ’تری گلی میں گیا، سو گیا، نہ بولا پھر‘ ۔ خیر خواہوں کی پکار پر صدا تک نہیں دیتے تھے۔ میرؔ سے

Read more

باور آیا ہمیں خاکی کا ہوا ہو جانا

جی ہاں، آپ کی سخن فہمی میں کیا کلام ہو سکتا ہے۔ مجھے بھی غالب کے مصرعے میں تصرف کا احساس ہے۔ یہ کچھ ایسا معنی خیز اشارہ بھی نہیں۔ معنی خیز سے خیال آیا کہ آپ نے مختلف ریاستی حلقوں کی طرف سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لئے عام معافی کے عندیے پر تنظیم مذکورہ کا تحریری ردعمل تو دیکھا ہو گا۔ ایک جملے نے بہت لطف دیا۔ لکھا تھا، ’ہم ذومعنی گفتگو میں یقین رکھتے ہیں….‘ ذرا

Read more

استاد رخصت ہوتا ہے

گوجرانوالہ سے محب قدیمی آغا سہیل نے خبر دی ہے کہ استاد مکرم تطہیر کاظمی رخصت ہو گئے۔ ماہ و سال کی چادر میں سلی یاد کی روشنیوں میں ایک اور ستارہ خاموشی سے بجھ گیا۔ پچپن برس پر محیط اس تصویر پر سیاہ نقطوں کے منطقے اب تیزی سے پھیلتے جا رہے ہیں۔ دنیا تو پہلے سے کہیں زیادہ بھری پری ہے، صرف یہ ہو رہا ہے کہ ہم نے جنہیں دیکھ کر دنیا کو جاننا سیکھا تھا، وہ

Read more

تاریخ کے اعادے میں المیہ اور مضحک کا الجھاؤ

’خدا حشر میں ہو مددگار میرا‘ نیز حشر سے پہلے اس کرہ خاکی پر مجھے پارسائی کی بے رنگی، نا انصافی کی بے معنویت اور انقلاب کے بے بصر خروش سے محفوظ رکھے۔ دراصل ان دنوں مجھے کارل مارکس یاد آ رہے ہیں۔ انیسویں صدی کے اس مفکر بے بدل نے ایک چشم کشا سطر قلم بند کی تھی۔ پہلے لکھا، ’تاریخ خود کو دہراتی ہے۔‘ اور پھر کچھ سوچ کر چند لفظ بڑھا دیے، ’تاریخ پہلے المیے کی صورت میں اپنی جھلک دیتی ہے اور پھر مضحک طربیے کے روپ میں نمودار ہوتی ہے‘ ۔

Read more

لنڈے کے دیسی لبرل کا تجدید عہد

ہمارا قومی المیہ کیا ہے؟سات دہائیاں گزر گئیں، تقویم کے ہندسے بدلتے ہیں، جمہور کے مقدرات کی تقسیم تبدیل نہیں ہوتی۔ جہاں بانی کے خود ساختہ دعویدار ابھرتے اور ڈوبتے رہتے ہیں، جہاں بینی کی نمود نظر نہیں آتی۔ سرکار دربار کے حاشیہ برداروں کے نام بدل جاتے ہیں، درباری قصیدے کی بندش بدلتی ہے اور نہ سرگم کی ترتیب۔ چالیس برس پہلے اسلامی نظام کی مالا کے دانے شمار کر رہے تھے، آج کل ریاست مدینہ کا ورد نوک

Read more

صحافت: زمین اور شہری کے دفاع میں تعلق

انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ بندوبست ہے۔ اس گتھے ہوئے سیال دھارے کی بنیادی اکائی فرد انسانی ہے۔ غالب نے لکھا ، ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال۔ 206 چھوٹی بڑی ہڈیوں پر منڈھے گوشت پوست سے بنی یہ مخلوق حیاتیاتی ارتقا کی لوح ہی نہیں، خیال کی توسیع، ترمیم اور نمود سے بھی عبارت ہے۔ قریب سات ارب 80 کروڑ کی آبادی میں ہر انسان مشاہدے، تجربے، خوشی، خسارے، واردات اور یادداشت کا ایک منفرد دفتر سمیٹے ہوئے ہے۔

Read more

انصاف کی شریان اور سازش کی بدرو

یکم ستمبر 2021 کی رات بزرگ کشمیری حریت پسند رہنما سید علی گیلانی سری نگر میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر بانوے برس تھی۔ سید علی گیلانی ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے علمبردار تھے۔ انہوں نے کبھی خود ہتھیار نہیں اٹھائے لیکن ان کی عزیمت نے کشمیری نوجوانوں کی کئی نسلوں میں روح حریت کو مہمیز کیا۔ بدھ کی رات جب ان کا انتقال ہوا تو وہ پیرانہ سالی کے باوجود سرکاری طور پر اپنی

Read more

بن برکھا برسات اور پت جھڑ کی تاویل آرائی

برادر مکرم نے دیار افرنگ سے فون کر کے احوال دریافت کیا۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ آمدہ خزاں کے منتظر نیم زرد پتے کی نوک پر ایک قطرہ آب لرز رہا ہے ’کہ اس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی‘۔ سجاد باقر کا ٹکڑا دہرا دیا، ’پوچھتے کیا ہو باقر کے شام و سحر‘۔ ہمارے تپتے ہوئے موسمی نقشے پر سال میں دو مختصر وقفے ہی خوشگوار ہوتے ہیں۔ فروری کا نصف اول اور پھر اواخر جولائی

Read more

کیا سر ظفراللہ خان کی سازش یا نالائقی کے سبب گورداسپور بھارت کو ملا؟

تقسیم ہند کی پوری داستان سیاسی معاملات میں غیر واضح حکمت عملی اور عوام کے جذبات سے کھلواڑ کی کہانی ہے اور اس میں کانگرس یا مسلم لیگ کی تخصیص نہیں کی جا سکتی۔ پنڈت نہرو نے ایک غیر ذمہ دارانہ پریس کانفرنس سے کیبنٹ مشن پلان کا تیا پانچا کر دیا۔ دوسری طرف مسلم لیگ کی راست اقدام کی سیاست برصغیر کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ فسادات پر منتج ہوئی۔ روزنامہ انقلاب کے مدیر مولانا غلام رسول

Read more

افغانستان: خواہشوں کے پرندے اور امید کی ہجرت

وہی کابل کی گلیاں ہیں، وہی وحشت زدہ آنکھیں۔ گہرے پانیوں پر رواں حریف بجرے مختلف رنگوں کے جھنڈوں سے دور فاصلاتی اشارے دے رہے ہیں۔ کرزئی ائرپورٹ سے بلند ہوتے جہازوں سے ٹوٹتے ستاروں کی طرح گرتے خاک زادے، کابل کے صدارتی محل کے مرصع ایوانوں میں بندوق بردار فاتحین، بم دھماکوں میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے گنگ اعداد و شمار، اسلام آباد کی کلیدی مسجد پر لہرائے اور پھر اتارے گئے پھریروں کا علامتی ابلاغ اور

Read more

سانحہ لاہور اور روشن خیالی کی گرہیں

آج سے ٹھیک بیاسی برس پہلے 23 اگست 1939 کو سوویت یونین نے نازی جرمنی کے ساتھ امن معاہدہ کر کے دنیا بھر کے روشن خیال اور امن پسند انسانوں کو گنگ کر دیا تھا۔ دس روز بعد جرمن افواج مشرق میں پولینڈ اور مغرب میں بیلجئم کے راستے فرانس پر حملہ آور ہو رہی تھیں تو ہمارے اشتراکی احباب اسے سرمایہ داری کی جنگ قرار دیتے تھے۔ پورے یورپ پر قابض ہونے کے بعد 22 جون 1941 کو جرمنی

Read more

فزکس کے اینٹی میٹر سے سیاست میں اینٹی سٹیٹ تک

درویش سمیت ہم میں سے بیشتر احباب جدید سائنس کی باریکیوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اتنا بہرصورت معلوم ہے کہ بیسویں صدی میں نظری اور عملی سائنس میں ایسے نئے تصورات سامنے آئے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے سائنسی نظریات پیش پا افتادہ نظر آنے لگے۔ فزکس ہی کو لیجئے۔ آئن سٹائن نے 1905 میں نظریہ اضافیت پیش کیا، جو تصدیق اور ترمیم سے گزر کر کائنات کے ایک بالکل نئے تصور پر منتج ہوا۔ ایک

Read more

داغ داغ اجالا اور آزادی موہوم

وقت کا ظلم اس بے نیازی سے دلوں پر پاﺅں دھرتا آگے بڑھتا ہے کہ دھوپ ڈھلنے کی خبر نہیں ہوتی۔ فرد آخر سرراہ کھڑے پیڑ پر ایک پتہ ہی تو ہے، ایک طرف شاہراہ پر دھول اڑاتا پرشور ہجوم اور دوسری طرف فنا کی گہری ندی کا سکوت۔ برگ سبز کو زرد پتے میں بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ مگر یہ کہ شاہراہ اور ندی کے بیچ ایستادہ تاریخ کا پیڑ ہر سعی پر نظر رکھتا ہے، ہر

Read more

تنویر جہاں کا لان اور نارسائی کا اندھیرا

کچھ برس پہلے لاہور کے انتہائی جنوب میں تنویر جہاں نے اپنا گھروندہ بنایا تو اس میں سبزے کے ایک لان نما قطعے کا التزام بھی کیا۔ قریب قریب اتنا ہی حدود اربعہ جتنے رقبے پر گاﺅں میں چوہدری کی چارپائی سماتی تھی۔ اس پر غضب یہ کہ ایک کونے میں Rockery بنانے کی بھی ٹھان لی۔ روکری لان کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں ٹیڑھے ترچھے پتھر بے ترتیبی سے اوپر تلے جما کر جنگلی بیلیں اور خاردار پودے

Read more

فینا رینے وسکایا کون تھیں؟

ہر قوم کی تہذیبی، تخلیقی اور فکری روایت میں کچھ لوگ استعارے کا درجہ پا جاتے ہیں۔  شیکسپیئر کا نام آئے گا تو انگلینڈ کا ذکر ہو گا۔ ایران کا ذکر حافظ شیرازی کے بغیر کیسے مکمل ہو گا۔ پاکستان کا تذکرہ ملکہ ترنم نور جہاں کے بغیر ادھورا رہے گا۔ مصر کی کہانی ام کلثوم کے بغیر نامکمل ہے۔ ہندوستان اور نوشاد کا ستار ایک ہو گئے۔ امریکا کا تعارف مارلین منرو کے شعلہ مستعجل سے طے پاتا ہے۔

Read more