کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے

نوے کی دہائی کے نوجوان اینٹی اسٹیبلش منٹ مزاج کے حامل تھے، یہ ضیا کے مارشل لا میں ہوش سنبھالنے والی نسل تھی۔ فطری طور پہ یہ نسل تبدیلی کے لیے بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑی تھی۔ جنھیں نہیں معلوم انہیں بتاتا چلوں، ضیا دور میں پاکستان میں امن امان کی مجموعی صورت احوال مشرف دور سے کہیں بہتر تھی اور امریکا سے جہاد کے نام پر ڈالر بھی خوب آتے تھے، ملکی خزانہ بھرا تھا۔ آج کے نوجوان

Read more

قائد اعظم کے پاکستان کے مجرم

تاریخ نویس اسٹینلے والپرٹ ’جناح کے پاکستان‘ میں لکھتے ہیں، کہ ’کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کردیتے ہیں۔ جب کہ اُن میں سے بھی کچھ دُنیا کے نقشے میں ترمیم کرتے ہیں۔ اُن میں سے بہت ہی کم لوگ نئی قومیت پر ملک تعمیر کرنے کا سہرا سر پہ سجاتے ہیں، اور جناح نے یہ تینوں کام کر دکھائے‘۔ بہت پہلے ہمارے چند دوستوں میں یہ بحث چھِڑی کہ ’مسلمان ایک قوم ہیں‘، اس بنیاد پر تقسیم ہند

Read more

ابنِ آس اور اس کی صد لفظی کہانیاں

اِبن آس سے میرا تعارف شکیل عادل زادہ کے یہاں ”سب رنگ“ کے دفتر میں ہوا۔ یہ کوئی سترہ اٹھارہ برس پرانی بات ہے۔ غالباً اُن دنوں ابنِ آس روزنامہ اُمت سے وابستہ تھے۔ شکیل عادل زادہ جنھیں ہم بھائی شکیل کہتے ہیں، دُپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ اُس دوران ابنِ آس سے مکالمے کا وقت مل گیا۔ باتوں باتوں میں ابنِ آس نے بتایا کہ وہ رات کو لکھتے ہیں، صبح بچے کو اسکول چھوڑ کر آتے ہیں،

Read more

سوال کا حق اور ووٹ کی عزت: سقراط کی پھیلائی ہوئی نحوست

دور دیس کی کہانی ہے وہاں مروج بیانیہ یہ تھا، کہ سوال کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں دیا جا سکتا۔ سوال مقدس ہوتے ہیں اور دیوتا سوالوں سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ دیوتا پتھر کی مورتیوں کو کہا جاتا تھا، جن کے کانوں میں نہ کوئی آواز پڑتی تھی، نہ یہ ہاتھ پاوں زبان ہلاتے تھے۔ سو دیوتا کسی کو نقصان پہنچا سکتے نہ فائدہ۔ رعایا کے لیے یہ ایک طرح کا روحانی بندوبست تھا کہ ہم جیسے

Read more

سب زمین پر خدا کے نائب ہیں

یہ واقعہ اتنا پرانا نہیں ہے، کہ فیس بک پہ ہماری ایک دوست ہوا کرتی تھیں۔ موصوفہ زبان کی تھوڑی تیز تھیں، جو منہ میں آتا کَہ جاتیں۔ جیسا کہ فیشن سا ہو گیا ہے کہ مذہبی معاملات کو لے کر کے نا زیبا انداز میں اعتراضات کیے جاتے ہیں؛ موصوفہ بھی یہی کرتی تھیں۔ دوستی کے ناتے سے ایک دو بار سمجھایا کہ آپ جس معاشرے میں رہتی ہیں، وہاں مذہب پہ مناسب الفاظ میں کی گئی تنقید بھی

Read more

اب آپ کیسے خود ڈرامہ بنا سکتے ہیں؟

ٹیلے ویژن پروگرام پروڈکشن میرا شوق کَہ لیجیے؛ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا، کہ اس کام میں پڑ کے رقم کمائی جا سکے گی۔ یہ کل کی بات لگتی ہے، میں نیشنل اسٹوڈیوز اسلام آباد میں کسی کام کے سلسلے میں بیٹھا انتظار کر رہا تھا، کہ ساتھ بیٹھے ایک سے کہا، میرے پاس سرمایہ نہیں، ورنہ میں ڈراما (ٹیلے ویژن کے لیے) بناتا۔ اس لمحے اپنی موج میں وہاں سے گزرتے جمشید فرشوری (مرحوم) یہ سن کے

Read more

جانی بوجھی شاخ پہ جھولتی ناسفتہ کلی اور شوق کے پردے میں عریاں بھنورا

تئیس اپریل دو ہزار گیارہ: وہ: فرینڈ رِکویسٹ ایکسپٹ کی، شکریہ۔ آپ نے ”وال“ بند کی ہوئی ہے۔ میں: شکریہ کیوں؟ آپ اپنا تعارف پیش کرنا پسند کریں گی؟ وہ: لگتا ہے، اپ پیش کرنا ہی پڑے گا؛ آپ نے پوچھا ہی ایسے ہے۔ لیجیے پیشِ خدمت ہے؛ میرا نام دُردانہ ہے، میں پیرس میں پلی بڑھی، لیکن اب برونائی میں رہتی ہوں۔ شادی کے بعد دس سال پاکستان میں گزارے۔ میرے دو پیارے پیارے سے بچے ہیں۔ بورنگ لگا

Read more

2018 کی انتخابی مشق سے جمہوریت مضبوط نہیں ہوئی

کیا اپنے تئیں مقبول سیاست دانوں کو اس عام انتخابات میں یہ سبق مزید پختہ نہیں کروایا گیا کہ الیکشن ترقیاتی منصوبوں, پیٹرول کی قیمتیں کنٹرول کر کے نہیں جیتا جا سکتا بلکہ ان قوتوں کو خوش کرنا اولین فریضہ ہے جو اقتدار میں حصے دار ہیں. وہ طاقت ور حلیف آپ کے لیے سب اداروں بشمول میڈیا کو بھی کنٹرول کرتے ہیں. اگر چہ میں یہ بات لکھ چکا کہ پاکستان میں الیکشن ایسے ہی ہوتے ہیں اور مستقبل

Read more

بنے گا نیا پاکستان!

سب سے پہلے تحریک انصاف کے دوستوں کو جیت کی مبارک باد۔ اس وقت کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف وفاق میں اکثر نشستوں پر لیڈ لے رہی ہے۔ اس صورت احوال میں دُعا گو ہوں کہ تحریک انصاف کم سے کم دس پندرہ مزید نشتیں جیت جاے، تا کہ نسبتا مضبوط حکومت بنا سکے، کیوں کہ پاکستان کے مستقبل کے لیے اچھا ہے کہ مستحکم حکومت بنے۔ جہاں تک پولنگ کی اطلاعات ہیں، اور

Read more

پنجاب نے اردو نوں پگ بنڑایا، لاج گنوائی

اشرافیہ دی گل چھڈو کہ ”اشرافیہ اک قوم ایہ“۔ لوکاں دے سامنے ایہ سوال رکھ ریاں۔ ایہ دسو بئی سندھ اچ کنھے مہاجر نے جنھاں نوں سندھیاں نے سندھی سمجھیا؟ بلوچستان اچ کنے پٹھان نے جنھاں نوں بلوچ سمجھیا جاندا ایہ، آکھاندے نے؟ خیبر پختون خوا اچ کنھے پنجابی نے جنھاں نوں پختون من لیا گیا ایہ؟ ایہ بدعت پنجاب دی ایہ جیھڑا ایتھے آ جائے پنجابی اُنھوں اپنڑا من لیندے نے۔ باقی صوبیاں دے لوک دسن بئی انھاں نے دوجے

Read more

ہارون بلور پر حملہ، عدلیہ کو بد نام کرنے کی سازش؟

شہر میں کرفیو کا سا ساماں پیدا کر کے اور اسٹیڈیم کے گرد فوج کھڑی کر کے ہم نے غیر ملکی ٹیموں کو مدعو کیا کہ ہمارے یہاں کسی قسم کی دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں، آیے کھیل کھیلیں۔ اپنی سی کوشش کے با وجود زمبابوے، ویسٹ انڈیز کی ٹیم اور پاکستان سپر لیگ کے سیمی فائنل، فائنل کے انعقاد سے بڑھ کے کام یاب نہ ہو سکے، کہ ان حالات میں یہی غنیمت تھا۔ کھیل ابھی جاری ہے۔

Read more

آج کہیں اس قوم کا نشاں نہیں ملتا

شہر کا کوتوال ایسا قوی تھا، اور ایسا رُعب داب والا، کہ اُس کی اجازت کے بغیر، قلعے کے آسمان پر چڑیا تک بھی پر نہ مارتی تھی۔ بستی کے کس مکان میں جوے کا اڈا ہے، کہاں چوری ڈکیتی کا مآل چھپایا جاتا ہے، کہاں شراب کے مٹکے تیار ہوتے ہیں، کس بالا خانے میں دمڑی کی سی ارزاں چمڑی ہے؛ وہ سب کی خبر رکھتا تھا؛ کنجڑوں سے لے کر کے کسبیوں تک کا احوال جانتا تھا۔ خبر

Read more

جھیل بنجوسہ کے کنارے ذاتی زوجہ مگر تتلیاں غائب

”اُف! کیسا غلیظ واش رُوم ہے، یہ تو استعمال کے قابل نہیں ہے“۔ میں نے یہ سنتے ہی فورا ویٹر کو پکارا، اور لعن طعن شروع کر دی کہ آپ صفائی کا خیال بھی نہیں رکھتے، جب کہ میں یہاں آپ کے ریستوران کا نام سن کر آیا تھا، کہ بہت اچھا انتظام ہے۔ ویٹر دوڑا دوڑا گیا، اور صفائی کرنے والے کو بلا لایا۔ اتنے میں ہم دونوں اور بچے ایک میز کے گرد بیٹھے مینیو دیکھنے لگے۔ راولا

Read more

ٹی وی توڑ دو، بیوی چھوڑ دو

یہ دس بارہ سال پرانی بات ہے؛ ان دنوں سکونت لاہور میں تھی۔ میں بس میں بیٹھا، ریلوے اسٹیشن کی جانب محو سفر تھا؛ دھرم پورہ اسٹاپ سے مخصوص پگڑیوں والے سوار ہوئے؛ ان کا رہ نما ہاتھ میں پوسٹر اٹھائے صدا لگانے لگا: ”بھائیو اور بہنو! یہ جو ٹیلے ویژن ہے، یہ فحاشی کا ڈبا ہے؛ بے حیائی کی کھڑکی ہے؛ اخلاق کا جنازہ ہے؛ کل فلاں وقت، فلاں میدان میں ٹی وی توڑے جائیں گے؛ آپ بھی اپنے

Read more

جب میں جمال شاہ بن کے لڑکیوں سے باتیں کیا کرتا تھا

قصہ میرے ایکٹر بننے کا، شایع ہوا تو اس کے تبصروں کی لڑی میں، راشد نذیر علی صاحب نے بجا طور پہ ڈراما سیریئل ”کل“ کی کاسٹ میں شامل، اس وقت کی معروف ماڈل نوین نقوی کا نام یاد دلایا۔ ایک اور نام میں یاد دلاتا چلوں، وہ نام ہے، شہناز کا۔ شہناز نے ”کل“ میں انتہائی مختصر کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد وہ آئی ایس پی آر کی مقبول سیریئل ”ایلفا، براوو، چارلی“ میں ”شہناز“ کے کردار

Read more

قصہ میرے ایکٹر بننے کا

یہ پچھلی صدی کا قصہ ہے۔ میرے ایک دوست بین الاقوامی شناخت رکھنے والے پینٹر اور مجسمہ ساز جمال شاہ کے آرٹ اسکول ”ہنر کدہ“ میں فوٹو گرافی پڑھایا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ”ہنر کدہ“ کا ”تھیٹر گروپ“ بھی ہے۔ رُکن بننے کی معمولی سی فیس تھی، یوں میں تھیٹر گروپ کا رُکن بن گیا۔ یہاں یہ بات صاف کر دوں کہ تھیٹر ایکٹر کا میڈیم ہوتا ہے، اور ایکٹنگ میری مراد نہ تھی۔ مقصد یہ تھا، کہ

Read more

زرافہ اور لمبی لڑکی

اجمل اعجاز کے افسانوی مجموعے ”زرافہ اور لمبی لڑکی“ کا فلیپ میرے پسندیدہ نثر نویس حسن منظر نے لکھا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو۔ ”اجمل اعجاز کے افسانے کسی خیالی دُنیا کے افسانے نہیں ہیں۔ ان کے شہر اور آس پاس کی دُنیا کے لوگ انھیں کردار بھی فراہم کرتے ہیں، اور ان کرداروں کی زندگی کے واقعات بھی۔ نتیجہ حقیقت پر مبنی اجمل اعجاز کا افسانہ ہوتا ہے۔“ اس کتاب میں بیس افسانے شامل کیے گئے ہیں۔ پہلا افسانہ

Read more

کیا عوام جمہوری نظام بچا پائیں گے؟

کم سنی میں ایک ناول پڑھا تھا، اس میں کچھ ایسی صورت احول تھی، کہ ایک شخص کی اراضی پر کچھ بدقماش قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ فریاد لے کر ایک با اثر کے پاس جا پہنچتا ہے۔ وہ با اثر شخص اسے یہ کہ کر لوٹا دیتا ہے، کہ جو شخص اپنی اراضی کی حفاظت نہیں کرسکتا، اسے حق نہیں پہنچتا، کہ وہ اس کی ملکیت کا دعوا کرے۔ خلاصہ اس ماجرے کا یہ ہے کہ زمین کا مالک

Read more

وہ دیکھو کتیا کی بچی پیشاب کر رہی ہے

ہمارے یہاں سوشل میڈیا پر یہ چلن ہے، کہ کوئی مخصوص موقع ہو‘ تہوار ہو، خوشی ہو کہ غمی ہو؛ انتہائی مخالف سمت جا کر اس پر بحث کرنا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ بعض اوقات بات کی ’اصل‘ تک پہنچنے کے لیے یونھی ایک شوشا چھوڑ دینا بھی مناسب ہوتا ہے۔ ایسے وہ وہ زاویے بھی دکھائی دینے لگتے ہیں‘ جو گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ کم سے کم میں اس طریقے پر عمل کرتا ہوں؛

Read more

میری ماں کا وعدہ، میری بیٹی اور پیرس کا خواب

رانجھے نے اس سماج سے بغاوت کی، جس میں اس کے فن (بانسری) کی قدر نہ ہوئی۔ راہ میں دریا تھا، اسے پار اُترنا تھا، جو اس کی منزل مقصود تھی؛ ملاح کو بانسری سنا کر دریا پار کرنے کا سودا کیا۔ تو بچو! کشتی نہیں؛ اُس کا فن ہی (بانسری) اسے پار لے گیا۔ اُس پار جہاں اس کا نصب العین (ہیر) تھا۔ جب انسان اپنے ’مقصود‘ تک پہنچ جاتا ہے، تو ’امتحان‘ اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ ’کیدو‘

Read more

گھنٹی والی ڈاچی اور فریب کار بانسری

’’میرے باپ نے مجھے بتایا کہ میں کیا ہوں، کتنی حسین ہوں، کتنی دِل کش ہوں۔ اُس نے میری تربیت کی ہے‘‘۔ اُس کے باپ نے اُس کی ماں‌ کو، اُس کی کم سنی میں چھوڑ دیا تھا۔ ماں کی دوسری شادی کردی گئی۔ وہ ننھیال میں ماموں کے در پہ پلی۔ پھر یہ ہوا کہ ماں کا سایہ بھی سر پہ رہا؛ کیوں کہ سوتیلا باپ کمائی کے غرض سے مشرق وسطیٰ میں تھا، تو اُس کی ماں، بھائیوں

Read more

کوئی معنی نہیں محبت کے

بالآخر بڑی تگ و دو کے بعد، میں نے کھاری کا ٹھکانا ڈھونڈ ہی لیا تھا۔ سلے ان سلے کپڑے، جا بہ جا بکھری بوریوں کے دہانوں سے زبانیں باہر نکالے پڑے تھے۔ نیلم بلاک، علامہ اقبال ٹاون کی اس کوٹھی میں کھاری نے کارخانہ بنایا ہوا تھا۔ کارخانہ کیا، درزی خانہ کہیے۔ امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرنے والی فیکٹریوں کا ردی مال، سستے داموں اُٹھا کر، ان کی تراش خراش کر کے صنعتی نمایش میں بیچنا، کھاری کا روزگار

Read more

آزاد میڈیا اور دفاعی تجزیہ کار

ناظرین! ہم آپ کو بریکنگ نیوز دیتے چلیں کہ ثانیہ مرزا اور شعیب ملک نے اپنی الماری میں ایک خانے کا اضافہ کردیا۔ قوم کو مبارک ہو، شعیب ملک اُمید سے ہیں، کہ اُن کے گھر اک نیا مہمان آنے والا ہے۔ اس خوشی کی خبر پہ تبصرہ کرنے کے لیے ہم نے دعوت دی ہے، معروف دفاعی تجزیہ کار جناب رِٹائرڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی سر، آپ بتائیے، ثانیہ مرزا اور شعیب ملک نے الماری میں ایک خانے کا اضافہ کیوں کیا“؟

Read more

فیمن ازم کی بحث کا پینڈورا باکس

تھیٹر کے ڈرامے میں اداکاری کا میرا پہلا موقع تھا۔ (اب تک کا آخر بھی) میں آپ کو بتاوں‌ تھیٹر ہی اداکار کا میڈیم ہے۔ یہاں ہم فنون لطیفہ کی تکنیکی بحث میں نہیں پڑتے، اور مطلب کی بات کی طرف آتے ہیں۔ پندرہ بیس روز یا اس سے کچھ زیادہ، ہم ڈرامے کی ریہرسل کرتے رہے۔ دراصل یہ ایک این جی او کا اسپانسرڈ ’کھیل‘ تھا۔ تھیٹر گروپ کون سا تھا، این جی او کون سی، اس کا ذکر

Read more

آئین کی پاس داری کے بغیر امن اک خواب ہے

اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد کے کیفے ٹیریا میں چائے پیتے اِدھر اُدھر کی گفت گو کے دوران، میجر شہزاد نیر نے سوال داغ دیا۔ ”کیا کسی کو اپنے نظریے کے لیے ہتھیار اٹھانا چاہیے“؟ کچھ سوال بظاہر سیدھے سادے ہوتے ہیں، لیکن اُن کا جواب سیدھا نہیں ہوتا۔ میں نے ایک لمحے غور کیا، اور دانش ور بننے کی اداکاری کرتے کہا، ”یہ تو ڈپینڈ کرتا ہے، کہ نظریہ کیا ہے۔ دیکھنا ہوگا، کہ اس ’نظریہ‘ میں ہتھیار اُٹھانے

Read more

میشا شفیع کا الزام اور فیمن ازم کی دکان داری

فیمن ازم کی بات کرنا دراصل ایک فیشن ہے۔ آپ فیمن ازم کی بات کر کے مہذب سے لگتے ہیں، اور ایسا لگنا چاہتے ہیں۔ ”اپنا کھانا خود گرم کرو“، میرا جسم، میری مرضی“؛ اس طرح کے جذباتی نعروں پر تنقید کر کے آپ بنیاد پرست، یا دقیانوسی کہلانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ لیکن نا سمجھی سے لگائے جانے والے ایسے نعرے محروم عورت کے لیے مزید محرومیوں ہی کا پیش خیمہ ہوں گے۔ میشا شفیع نے علی

Read more

آزادی صحافت: دہ سنگہ آزادی دہ؟

وائس آف امریکا کی ایک خبر کے مطابق نادیدہ قوتیں اظہار پر پابندی لگارہی ہیں۔ پاکستان میں مارشل لا کے ادوار میں صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن اظہار سے باز نہیں آئے، لیکن جمہوری دور میں نادیدہ قوتیں اظہار پر پابندی لگارہی ہیں۔ بابر ستار، گل بخاری، مشرف زیدی اور وجاہت مسعود کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کے کالم روک لیے گئے ہیں۔ ارشاد احمد عارف نے نادیدہ قوتوں کا دفاع کرتے کہا، کہ کالم نگاروں کو بھی سوچنا

Read more

خاکی جمہوریت اور مبہم مجذوبی پیش گوئیاں

ایک ڈوڈی الفہد المشہور و مرحوم، لیڈی ڈیانا والے تھے، جنھیں سبھی جانتے ہیں۔ ایک ڈوڈی ہمارے کامریڈ ہیں، اشتراکی نظام کے دل دادہ، اور سرخ انقلاب کے داعی۔ جب بے نظیر بھٹو نے پرویز مشرف سے مفاہمت کی، تو ہمارے کامریڈ ڈوڈی نے عین پنجاب اسمبلی کے بالمقابل، تاج کمپنی کی بلڈنگ کے پہلو میں سجے ٹی اسٹال پر بیٹھ کر پیش گوئی کی کہ اس بار آمر سے مفاہمت کی ہے، تو بے نظیر بھٹو جان سے جائیں گی۔

Read more

نوجوان سعید شارق کا ”سایہ“

پاکستان اکادمی ادبیات کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے، اتفاقا ہی اس نوجوان سے ملاقات ہوگئی۔ اس کے ہاتھ میں اس کا مجموعہ کلام ”سایہ“ تھا۔ ”شاعری سے مجھے کچھ خاص دل چسپی نہیں ہے“، اس نمونے کا جملہ کَہ کر میں عموما جان چھڑا لیتا ہوں۔ کسی حد تک یہ بات دُرست بھی ہے، وہ ایسے کہ میں شاعری کے محاسن اس کی خوبی خامیوں سے نابلد ہوں؛ سو کسی کے شعر کو اچھا برا کہنے سے بچ رہتا ہوں۔

Read more

کیا منظور پشتین، اسما نواب کو جانتا ہے؟

سنا ہے کوئی منظور پشتین نامی ریاست کو دہائی دیتا ہے، کہ نامعلوم افراد کا پتا دو۔ ان پر الزام ہے، تو عدالت میں پیش کرو، ثابت ہوجائے تو سزا دو، وگرنہ رہا کرو۔ منظور پشتین پختون کی ستم رسیدگی کا وکیل بنا ہے۔ چہ خوب! منظور پشتین یقینا غیر پشتون اسما نواب کو نہیں جانتا ہوگا، کہ جب وہ ریاست کے خلاف دھرنا دیے بیٹھا ہے، تو اسما نواب کو ’باعزت‘ طور پر بری کردیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے،

Read more

دی سیکرٹ لائف آف ظفر عمران

”باو وارث کی گم شدگی“ اخلاق احمد کا یہ پہلا افسانہ تھا، جسے پڑھ کر میں ان کا پرستار ہوگیا۔ اور یہ بھی کہ ”باو وارث کی گم شدگی“ پڑھنے کے بعد، میں باو اخلاق احمد کو ڈھونڈتا رہ گیا۔ باو اخلاق احمد کا پتا معلوم تھا۔ میں کراچی میں تھا، اور باو اخلاق احمد یہیں کہیں تھا، لیکن اپنی کم مائیگی کا احساس تھا، کہ چند قدم چل کے ”جنگ“ کے دفتر نہ جا سکا؛ سامنا کرنے کی ہمت

Read more

عاصمہ جہانگیر ہمیں راستے میں چھوڑ گئیں

عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر آئی تو سوشل میڈیا پہ کچھ لوگوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں معلوم ہی نہیں کہ عاصمہ جہانگیر کون تھی، یا کیا تھیں۔ ہمارے یہاں تعلیم کی کمی کے ’ثمرات‘ ہیں، کہ ہم سنی سنائی باتوں پر ایمان کی حد تک یقین کرلیتے ہیں۔ بس اتنا ہونا چاہیے کہ ’سنی سنائی‘ ہمارے ’تعصب‘ سے میل کھاتی ہو۔ ایسے ہی لوگوں کے نفسیات کے مطابق میں نے ”عاصمہ ایک بھٹکی ہوئی عورت“

Read more

پاکستان میں تو ایسا نہیں ہوتا

اس بنک کی کہانی زمانے سے جدا ہے، جس برانچ میں میرا اکاونٹ ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ بنک انتظامیہ نے بنک کی حفاظت کا ٹھیکا، ایک نجی سیکورٹی ادارے کو سونپ رکھا ہے۔ اس سیکورٹی ادارے کا اہل کار بڑا اکھڑ مزاج ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے تو وہ کسی کلائنٹ کو بنک میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے، اس کی مرضی نہ ہو، تو کسٹمر کو دروازے ہی سے لوٹا دینے کا حکم لگاتا ہے۔ نتیجہ

Read more

سیکس، شادی، اور شادی کے بعد کسی اور کی چاہت

دیہات میں کم سنی کی شادی کا رواج عام ہے؛ ہم لڑکپن کی حدود میں داخل ہوئے تو ایک دیہی پس منظر رکھنے والے دوست کی شادی ہوگئی۔ اس وقت ہم شہری بابوؤں کو یہ علم نہ تھا، کہ شادی کے بعد حقوق زوجیت کیسے ادا کیے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے میرے ساتھ کے سبھی دوستوں کو نہ پتا ہوگا، لیکن دوست کی بارات میں شامل ہم سب اسکول بوایز ایک دوسرے کو گول مول جواب دیتے یہ تاثر

Read more