کاغذ قلم اٹھائیے اور لکھیے

آپ کیسے لکھتے ہیں؟ ڈراما کیسے لکھا جاتا ہے؟ کہانی کیسے لکھتے ہیں؟ کبھی کبھی اس طرح کے سوالوں کا سامنا رہتا ہے۔ جب بھی ایسا ہو، میں‌ سوچ میں پڑ جاتا ہوں؛ جواب کی کھوج میں لگ جاتا ہوں۔ بہت پہلے میں نے ایک رسالے کے مدیر کو ٹیلے فون کال کی، اور کہا،…

Read more

چیف جسٹس کی فکر مندی اور بھکاری کی بے پروائی

میں اسے یہاں دیکھ کے حیران رہ گیا، وہ چائے پی رہا تھا، اور اخبار کھولے ادارتی صفحہ دیکھ رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جب میں موٹر مکینک سے اپنی گاڑی مرمت کروا رہا تھا، تو وہ مجھ سے بھیک میں بیس رُپے کا کڑکتا نوٹ لے کر گیا تھا۔ کراچی ایرپورٹ سے شاہ راہ فیصل پر قدم رکھو، تو سامنے ہی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، عرف عام میں اس کو ”چھوٹا گیٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں موٹر مکینک، کار اے سی، پوشش، بیٹری، ویل الائنمنٹ بیلنسنگ، آٹو اسپیر پارٹس شاپس، الغرض گاڑیوں سے متعلق سبھی کاروبار ہیں۔ انھی کے بیچ میں کہیں کہیں خوانچوں پر اصلی اور لذید حلیم، اسکرین ثابت کرنے والے کو ایک لاکھ انعام دینے کا اعلان کرتا شربت فروش، چائے خانے، روش، نہاری اور مقوی اعضا خوراک کی بہتات ہے۔ غریبوں کے دو ہی شوق ہوتے ہیں، ایک تو جب کھانا خوب کھانا، کہ کھانے کے لیے ہی وہ کام کرتے ہیں، اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا یہاں بتانا مناسب نہیں، کیوں کہ فیصلہ ہوا ہے، آیندہ ”ہم سب“ پر ایسی گندی گندی باتیں نہیں ہوا کریں گی۔

Read more

فرقہ امید پرستوں کا

حمید جان بس اسٹینڈ پر اُترا تو ہر طرف سے کیچڑ نے اُس کا اِستقبال کِیا۔ پہاڑی علاقوں میں پانی نشیب میں اُتر جاتا ہے، لیکن اِس چھوٹے سے سے حصے کو بس اسٹینڈ کے لیے ہم وار کیا گیا تھا؛ اطراف میں بے ڈھب دُکانوں نے آب کی نکاسی کا راستہ روک رکھا تھا۔…

Read more

ریما کا ریٹ کیا ہے؟

ہمارے ایک دوست نے یہ اعتراض اٹھایا، کہ ہیں تو آپ شوبز سے، لیکن آپ سیاست پر لکھتے ہیں۔ یہ کیوں؟ آپ شوبز کی داستان سنایا کریں۔ فن کار کو سیاست یا سیاست پر تبصرے سے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میں نے یونھی ایک دو مثالیں دیں، پوچھا کہ کیا شاعر ادیب رومان کی بات…

Read more

پارلر سے سج دھج کر نکلی غریب لڑکی اور چائے کا ڈراما

میرے دوست احسن لاکھانی، آج کل مجھ سے روٹھے ہوئے ہیں۔ بات معمولی سی ہے، لیکن بعض اوقات معمولی باتیں بھی بڑے صدموں کا باعث بن جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم سر جوڑے اس بات پہ وچار کر رہے تھے، کہ پاکستان کے ٹیلے ویژن ڈراموں‌ کا معیار کیسے بلند کیا جا سکتا ہے۔…

Read more

قصہ پھٹیچر قوم اور قاضی قرطبہ کا

یہ گزرے وقتوں کے شہر بغداد کا قصہ ہے؛ جب کا ماجرا ہے، تب وہاں انصاف کا دور دورہ تھا۔ شاہی تاریخ نویس لکھتا ہے، کہ اُس دور میں نہ کوئی پھٹیچر قاضی تھا، نہ کوئی پھٹیچر سیاست دان، نہ پھٹیچر طریقے سے ایشوز کو کھڈے لائن لگایا جاتا تھا، اور رعایا بھی نا سمجھ…

Read more

اب نہیں آئے گا گلیوں میں غبارے والا؟

جب میں بچہ تھا، تو اے حمید سے لے کر اشتیاق احمد اور جبار توقیر وغیرہ بچوں کے لیے کہانیاں ناول لکھا کرتے تھے۔ بچوں کے لیے اردو زبان میں نونہال، پھول، تعلیم و تربیت نامی رسائل شایع ہوا کرتے تھے. صوفی تبسم کے ٹوٹ بٹوٹ بھی سانس لیتے تھے، اور میری نانی اماں بھی…

Read more

جس کی لاٹھی وہی گائے

محاوہ کچھ یوں ہے، ’’جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس‘‘۔ بھینسیں تو بِک گئیں، لاٹھیاں محفوظ کر لی گئیں۔ یہ لاٹھیاں کب کب کام میں لانی ہیں، یہ وہی جانیں جن کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ ماہرین لسان کہتے ہیں، کہ محاورہ تبدیل نہیں ہوتا، ورنہ یہ محاورہ یوں بھی ہو سکتا ہے، ’’جس کی…

Read more

میرے دیس کے بونسائی

بیتا دن بڑا بیزار کن رہا۔ میری بیٹی کی چودھویں سال گرہ گزری تھی۔ اور ہم نے ایک بھی درخت نہیں‌ لگایا۔ میں بچوں سے یہی کہتا آیا، وہ اپنی سال گرہ کے دن کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔ یوں وہ جتنے برس کے ہو جائیں گے، اتنے درخت لگا چکے ہوں گے۔…

Read more

تمھارا اور میرا نام، جنگل میں، درختوں پر، ابھی لکھا ہوا ہے

دروازے پر مسلسل دستک سن کے ناچار آ کے اُٹھا۔ گھر کے دو ہی فرد تھے، ایک میں اور دوسرا امی۔ امی اسکول میں پڑھاتی تھیں، اور اُن دِنوں میں فرصت کے رات دِن گزار رہا تھا۔ امی ملازمت پر جانے سے پہلے، میرے لیے ناشتا بنا کے رکھ جاتیں، اور میں دِن دَس گیارہ…

Read more