درد کی دلیل اور متقی وکیل


zafar kakar

اس پر تو ابھی بحث جاری ہے کہ عورت پر تشدد جائز ہے یا ناجائز۔ قوم کے متقی صحافی ہمیں بتا رہے ہیں کہ بات تشدد کی نہیں تھی بلکہ تادیب کی تھی اور تادیب کے لئے مسواک اور رومال جیسی  بے ضرر چیزوں کے استعمال کا ذکر ہے۔ وہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ تشدد پر تنقید کر کے ہم دراصل اس معزز سماج کو مغرب جیسا مادر پدر آزاد سماج بنانا چاہتے ہیں اورمغربی تہذیب کی وہ بد تہذیبی لانا چاہتے ہیں جس کی بنیاد شراب، عوت کا استحصال اور بے حیائی ہے۔ وہ مزید ہمیں بتاتے ہیں کہ مغرب میں خاندانی زندگی تباہ ہو چکی ہے اور رشتے اپنا تقدس کھو چکے ہیں۔ یہ بات البتہ انہوں نے نہیں بتائی کہ ہند آریائی سماج کا مشترکہ خاندانی نظام کب سے اسلامی ہوا ہے؟ دیکھیے قفہی موشگافیوں کا معاملہ یوں ہے کہ کل مسواک والی تادیب میں مستعمل مسواک کی لمبائی اور موٹائی کا ذکر بھی تفصیلاََ آجائے گا اس لئے قوم اس مخمصے سے نکل جائے گی کہ تشدد ہے یا نہیں۔

فی الحال تو زیر نظر وڈیو کی تشدد کا معاملہ درپیش ہے۔ یہ بلوچستان کے ایک سرکاری سکول کی ویڈیو ہے جہاں ایک استاد کسی ایسی چیز سے طالبعلم کو علم سکھا رہا ہے جس کے مسواک ہونے پر تو کم ازکم اتفاق ممکن نہیں ہے۔ کسی ایک سکول کا مسئلہ ہوتا تو ہم ایک استاد کو ذہنی مریض قرار دے کر اسے معطل کرنے یا قرار واقعی سزا دینے کی سفارش کر سکتے تھے مگر معاملہ یوں ہے کہ کم و بیش ہر دوسرے سکول اور مدرسے کا یہی حال ہے۔ پشین مین واقعہ ایک مدرسے کا تو یہ خاکسارچشم دید گواہ ہے جہاں طالبعلموں کی اصلاح کے باقاعدہ پنچرے قائم تھے اور ان پنجروں کے اندر بھی طلباء بیڑیوں اور ہتھکڑیاں میں قید تھے۔ چونکہ یہاں ہر کڑوا سچ کسی کے خلاف سازش ہوتی ہے یا کسی ایجنڈے پر کاربند ی کا الزام لگا کر معزز پیشے کو بدنام کرنے کا الزام آتا ہے اس لئے عرض کئے دیتے ہیں کہ کسی کو یہ بیڑیاں اور ہتھکڑیاں الزام لگے تو خاکسار نام، پتہ بمعہ مہتمم کی معاشی سرگرمیوں کی تفصیل پیش کرنے کا پابند ہو گا۔
آپ ویڈیو دیکھیے میں آپ سے راجہ انور کے ایک خط کا اقتباس نقل کرتا ہوں۔ ’ مجھے جن لوگوں نے جنم دیا ان کا اپنا کوئی ماضی تھا، حال ہے نہ مستقبل۔ مجھے کیا دیتے بے چارے؟ ان کا کیا قصور کہ ان کو جنم دینے والے بھی اسی طرح بے حال اور کنگال ہوتے ہوں گے۔ میں انسان ہوں، صدیوں سے یوں ہی گمنام پیدا ہوتا آیا ہوں۔ میرا مذہب، تاریخ اور نام مفلسی ہے۔ میرے ہاتھ میں اپنے لہو بھرے کپڑے ہیں۔ میری ساری کائنات بس اتنی سی ہے۔ خلا کی بلندیوں پر بیٹھے خدا کے نام پر مجھے بار بار ذبح کیا گیا۔ مگر مجھے اس سے گلہ ہے نہ اس کے بندوں سے‘۔ یہ اقتباس میری طرف سے متقی صحافیوں کی نذر اور اس بچے کی طرف سے قوم کے وقار کی نذر۔

https://web.facebook.com/yede.beza/videos/1855323531361818/

 


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah