مناپولی مین: امریکہ میں گوگل اور فیس بُک کے ایگزیکٹوز کو ٹرول کرنے والا سماجی کارکن


Ian Madrigal as the Monopoly Man

Getty Images
فوٹوبومب کرنے والے ایئن میڈریگال دراصل ایک وکیل اور سماجی کارکن ہیں

11 دسمبر کو گوگل کے سی ای او سندر پچائی واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے سامنے پیش ہوئے اور ڈیٹا اکٹھا کرنے سے لے کر چین میں سنسرشپ جیسے موضوعات پر ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن پچائی کے بیان دینے کی تصاویر ’مناپولی مین‘ کے ’فوٹو بومب‘ کرنے کی وجہ سے وائرل ہوئیں۔

فوٹوبومب کرنے والے ایئن میڈریگال دراصل ایک وکیل اور سماجی کارکن ہیں جو مشہور بورڈ گیم مناپولی کے کردار ’رِچ انکل پینی بیگز‘ جیسے کپڑے پہن کر امریکی ہاؤس جوڈیشری کمیٹی کی سماعت کے دوران حاضرین کے ساتھ موجود تھے۔ نوٹوں سے بھرا ہوا بیگ ان کے لباس کا حصہ تھا۔

میڈریگال نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ میں بڑے کارپوریشن ’جیل سے نجات کے کارڈز’ حاصل کر رہے ہیں تو مناپولی مین کا لباس زیبِ تن کر کے اس کے خلاف احتجاج کرنا ہی مناسب طریقہ تھا۔

Madrigal in front of the White House

Ian Madrigal
کورٹ میں میڈریگال کی موجودگی سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی

پچائی کی گواہی کوئی پہلی مرتبہ نہیں جب 29 سالہ مناپولی مین پرانی طرز کا ایک آنکھ پر لگایا جانے والے چشمہ، نقلی مونچھیں اور ٹاپ ہیٹ پہن کر کسی سماعت کا حصہ نہیں بنے ہوں۔ انھوں نے ایسا پہلی مرتبہ اس وقت کیا تھا جب پچھلے سال اکتوبر میں ایکووی فیکس کے سی ای او رچرڈ سمتھ کو سینیٹرز نے کنزیومر کریڈٹ رپورٹنگ ایجنسی میں 10 کروڑ افراد کے ذاتی ڈیٹا کے افشا کیے جانے کے حوالے سے بیان دینے کے لیے طلب کیا تھا۔

کورٹ میں میڈریگال کی موجودگی سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگوں کی طرف سے کہا گیا کہ سمتھ کو ’ٹرول‘ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

نوجوان انٹرنیٹ پر خود کو ٹرول کیوں کر رہے ہیں

رشوت زدہ عدلیہ، کرپٹ حکمران اور آزاد صحافت

ڈونلڈ ٹرمپ کون ہیں؟

وہاں سے میڈریگال کو ’آلٹر ایگو‘ یا اپنی دوسری شخصیت بنانے کا خیال آیا جسے ’رشئین ٹرول‘ کہا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار اپریل میں منظرِ عام پر آئی جب فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کپیٹل ہِل تشریف لائے۔

میڈریگال نے مذاق میں کہا کہ ’اس بار لوگوں نے زکربرگ کو حاضرین سے بچانے کی بھرپور کوشش کی اور میں ان کے قریب نہیں جا سکا۔ یہ میرے لیے ایک بڑا لمحہ ہو سکتا تھا۔‘

تاہم وہ اصرار کرتے ہیں کہ اس طرح کپڑے پہن کر کسی کردار کی شکل میں سامنے آنا کوئی مذاق نہیں ہے۔

میڈریگال چاہتے ہیں کہ ’لوگ سیاست میں دلچسپی لیں۔‘

’میں چاہتا ہوں کہ لوگ ان مباحثوں پر دھیان دیں جو ان پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ کانگریس میں ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی سماعت ہو رہی ہوتی ہے لیکن لوگوں کو اس کے متعلق علم نہیں ہوتا۔‘

Ian Madrigal as a Russian troll

Ian Madrigal
‘رشئین ٹرول’ مارک زکربرگ کے قریب نہ جا سکے

وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں ہونے والے مظاہروں میں مزاح کا عنصر بھی ہونا چاہیئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ملک کے لیے یہ ایک مشکل گھڑی ہے اور لوگ غصے میں ہیں۔ انھیں خوش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔’

اگر میڈریگال کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے کا خواب پورا ہو جائے تو وہ زوکربرگ سے نہ مل پانے کا غم بھلا دیں گے۔

میڈریگال کہتے ہیں ’یقیناً میں انھیں فوٹو بومب کرنا چاہوں گا۔ لیکن آج کل وہ صرف ریلیوں میں شرکت کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس سے نکلتے ہیں۔ اور یہ ریلیاں میرے لیے ذرا خطرناک ہیں۔‘

Madrigal with Elizabeth Warren

Ian Madrigal
اگر میڈریگال کا ڈونلڈ ٹرمپ سے ملنے کا خواب پورا ہو جائے تو وہ زوکربرگ سے نہ مل پانے کا غم بھلا دیں گے

لیکن سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی کسی مخصوص لباس میں مداخلت کرنے آئے تو انھیں سکیورٹی حکام کی جانب سے کڑی نظروں سے دیکھنے کے علاوہ کچھ زیادہ برداشت نہیں کرنا پڑتا۔ تماشائی ان کے ساتھ سیلفیوں کی درخواست کرتے ہیں۔ لیکن میڈریگال کو اب تک اصلی شہرت نصیب نہیں ہوئی۔

انھوں نے مذاق کرتے ہوئے کہا ’پچھلے ہیلووین پر میں واشنگٹن میں منعقد کی گئی ایک پارٹی میں مناپولی مین بن کر گیا اور کوئی بھی مجھے پہچان نہیں سکا۔‘

’اگرچہ میں یہ کرتب دکھا کر خوش ہوتا ہوں لیکن میرے لیے زیادہ اہم بات چیت شروع کرنا ہوتی رہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ کڑی نگاہ رکھیں اور فعال شہری بنیں۔‘

Ian Madrigal

Ian Madrigal
نومبر میں انھوں نے قانونی طور پر اپنا نام امینڈگ وارنر سے تبدیل کر کے میڈریگال رکھ لیا تھا

تاہم، ان کے تمام سٹنٹ مزاحیہ پہلو نہیں رکھتے۔ گذشتہ جون کو میڈریگال اور ان کے ساتھیوں نے ہوم لینڈ سکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹین نیلسن کو اس وقت گھیر لیا جب وہ واشنگٹن میں واقع ایک میکسیکن ریستوران میں کھانا کھا رہی تھیں۔

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر تارکینِ وطن والدین کے بچوں کو علیحدہ کرنے کی پالیسی کے پیچھے نیلسن کا ہاتھ تھا۔

مظاہرین نے ان کے سامنے تارکینِ وطن والدین سے بچھڑنے پر بچوں کے رونے کی ریکارڈنگز چلائیں۔

’14 ماہ سے بھی کم عمر بچوں کو ایک منظم طریقے سے والدین سے الگ کرنے کے کچھ ہی دن بعد ملک بھر میں غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ہم نے یہ مناسب سمجھا کہ ذمہ داران کو عوام الناس کے غم و غصے کا احساس دلایا جائے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6795 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp