کراچی سے اتنی نفرت کیوں؟


پاکستان سپر لیگ اپنے اختتام کو پہنچ چکی۔ پشاور زلمی نے اس کپ کو جیتا اور پاکستان نے دنیا کا دل۔ بہت سے نشیب و فراز کے بعد پاکستان میں کئی برسوں بعد پہلا بین الاقوامی کرکٹ میچ منعقد ہوا۔ دل کو بہت دھڑکا لگا رہا۔ مسلسل سب دعا گو رہے کے سب بخیر و عافیت طے پائے۔ اور شکر ہے کہ تمام کھلاڑی خیریت سے فائنل کھیل کر واپس چلے گئے۔ کچھ پھٹیچر باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن چلیے چھوڑئیے۔ بڑے بڑے سیاستداں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہتے ہیں۔

ہم نے بھی پاکستان سپر لیگ دل سے پسند کی۔ ہر میچ میں کراچی کو سپورٹ کیا کیونکہ ہم خود کراچی سے ہیں۔ وہیں پلے بڑھے۔ زندگی کے پچیس برس وہیں کی سمندری ہواؤں میں سانس لیا۔ پھر ہم نے ایک پنجابی آدمی سے شادی کی اور کچھ دن لاہور کی ہری بھری ہواؤں سے بھی لطف اندوز ہوئے ۔ہمارے خاوند نے ہمیں پنجاب کے اکثر شہروں کا دورہ بھی کروایا۔ ہم نے بے تحاشہ تصویریں کھینچیں، ضد کر کر کے سڑک پہ ملنے والے بن کباب اور ‘دہی بھلے’ کھاۓ۔ الله کی قسم ہمیں لاہور بہت پسند آیا۔ کتنا خوبصورت شہر تھا۔ اور شہباز شریف نے تو ویسے ہی تہیہ کیا ہوا ہے پورے پنجاب کا پیسہ لاہور پہ لگانے کا۔ ہم تو عش عش ہی کرتے رہے۔ اور دل میں دعا ہی کر سکتے تھے کہ الله ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو بھی اتنی ہمت دے کے سارا بجٹ کراچی پہ خرچ کر دیا جائے۔ اور مملکت خداداد کو بھی توفیق ہو کہ دہشت گردی کی لعنت سے پورا چھٹکارا ملے تاکے کراچی والوں کو بھی آفریدی کو ہوم گراؤنڈ پہ سپورٹ کرنے کا شرف حاصل ہو۔

جب کراچی اور لاہور کے میچ ہوتے، سب سے زیادہ مزہ آتا۔ یقین کیجئے، میری اور میرے خاوند میں ایسی مہا بھارت ہوتی کہ اس پہ باقاعدہ ایک کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے۔ سمندر، دودھ سوڈا، نہاری، پانامہ، الطاف بھائی – ہر طرح کی باتیں ہم ایک دوسرے کو کہتے۔ لیکن ظاہر ہے یہ تمام باتیں ازراہ مذاق کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے کئی دوست پشاور زلمی، اسلام آباد اور لاہور کے سپورٹر تھے۔ ان کے ساتھ بھی مزے کی نوک جھونک ہوتی رہتی۔ نہ ہم کسی کی دل آزاری کرتے نہ کسی سے امید کرتے کہ کوئی جان بوجھ کے ہمیں تکلیف پہنچاۓ گا۔

البتہ کہیں کہیں کچھ نازیبا باتیں سننے کو ملتیں تو ہمیں بہت حیرانی ہوتی۔ کراچی سے لوگوں کی نفرت ایک عجیب سے بغض کی شکل اختیار کرتی نظر آتی۔ کوئی ٹارگٹ کلنگ پہ مذاق اڑاتا، کوئی لہجے پہ، تو کوئی کچرے پہ۔ ارے بھائی۔ کیا پشاور کی ٹیم کا مذاق ہم ان کے صوبے میں ہونے والی غیرت کے نام پہ قتل ہونے والی لڑکیوں کے حوالے سے اڑاتے؟ یا حقانیہ مدرسے کا نام لے کے اڑاتے؟ یا پشتونوں کو دہشت گرد کہہ دیتے؟ آفریدی کی وکٹ گرنے پہ؟ کیا ہم لاہوریوں کا مذاق ونی کی روایت کا کہہ کے اڑاتے؟ کہ وہ دیکھو رانا فواد ونی ہوگیا؟ یا ہم لاہور کو ماڈل ٹاؤن کے واقعے یاد دلا دلا کے چوکے چھکے کے دھمال ڈالتے؟ کیا ہم اسلام آباد کا مذاق افغانی بستیوں کو ریزہ ریزہ کرنے پہ اڑاتے؟ کیا یہ انصاف کی بات ہوتی؟ ہرگز نہیں۔

مگر کراچی سے متعلق مذاق اور فقرے کچھ ایسے ہی تھے۔ ‘بوری میں بند کرو اس ٹیم کو’۔ ‘یہ پوری ٹیم کراچی کے کچرے کی طرح ہے’۔ ‘فلاں کو ٹارگٹ کلر بنا دو’ وغیرہ وغیرہ۔ پھر کراچی کے لوگوں پہ اس قدر گرمی کے ہمیں سمجھ ہی نہیں آتا تھا کہ اس کی جڑ کیا ہے۔ کیا تعصب ہے؟ مگر کیسے؟ کراچی میں تو لاکھوں پشتون آباد ہیں، لاکھوں پنجابی ہیں۔ اور مزید کئی زبانیں بولنے والے لوگ ہیں۔ انہی کو کراچی سے نفرت کیوں؟ یہ کراچی میں رہ کے کراچی کی ایک منفرد آب و ہوا سے مستفید ہیں۔ وہاں کی تجارتی روح کی وجہ سے بخوبی روزی روٹی کماتے ہیں۔ ایک صاحب تو اتنے جذباتی ہوگئے کہ انہوں نے سیدھا سا مقولہ جڑ دیا۔ “کراچی = اردو سپیکنگ/مہاجر= مجرم = نفرت”!!

بھائی ہم تو قائل ہوگئے ایسی کمر توڑ لاجک پہ۔ یہ وہی منطق ہے جو ٹرمپ میکسیکن اور مسلمان لوگوں کے لئے استمعال کرتا پایا گیا ہے۔ ‘٩/١١= القاعدہ = مسلمان = سب مسلمان دہشتگرد’ لگا دو سب پہ بین۔ لگا دو سب کو ایک لائین سے اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دو۔ ایک اور عظیم ہستی کا خیال آیا یہ جملہ لکھتے ہی۔ تاریخ اس کو اڈولف ہٹلر کے نام سے جانتی ہے۔

پھر کسی دانشمند نے کہا کراچی کے سپورٹر سب برے ہوتے ہیں۔ یعنی نہ صرف یہاں کے لوگ سب دہشت گرد و ٹارگٹ کلر ہیں بلکہ کراچی کی ٹیم کے سب سپورٹر بھی خراب ہیں۔ ہمارا تو بہت دل جلا۔ خاص کر جب ہم نے دبئی اسٹیڈیم میں ‘وی لوو یو رانا چاچو’ چیخ چیخ کر سب کا ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ اور الله نہ کرے ہم سے تو ایک عدد چیونٹی کی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہو پاتی۔ کسی جانور کو بھی مرتا دیکھ لیں تو دو دن نیند نہیں آتی۔ کسی بچے کو روتا سن لیں تو گھنٹوں ذہن پہ بوجھ رہتا ہے۔

اسی لئے ہم اب تک اس سوچ میں ہی غرق ہے۔ کراچی سے اتنی نفرت کیوں؟ کراچی اوروں کے اعصاب پہ سوار کیوں؟ کراچی پہ تین چار زہر بھری جگتوں کے بغیر کیا طنز و مزاح کا سرٹیفکیٹ ملنا ناممکن ہے؟ یہ شہر جو سب کا شہر ہے۔ یہ شہر جو اپنی کمزوریوں کے باوجود کسی سے ایسا تعصب نہیں برتتا جیسا کہ کچھ دن پہلے پشتونوں کے خلاف پنجاب پولیس نے برتا۔ یہ شہر جو کی دہائیوں سے قربانیاں بھی دیتا ہے اور گالیاں بھی سنتا ہے۔ یہ شہر جو صرف ایم کیو ایم کا نہیں بلکہ اے این پی کا بھی ہے۔ شاہی سید صاحب نے فرمایا کہ ہم چاہیں تو پورا شہر بند کروا دیں۔ پیپلز پارٹی کے ذلفقار مرزا اور مشہور زمانہ ٹپی اور مزید بدنام زمانہ عزیر بلوچ بھی اسی شہر کے ہیں۔ مگر کوئی سندھیوں پہ وہ لعن تعن نہیں کرتا جو مہاجروں کے لئے ہوتی ہے۔

نہ ہی کراچی کے مسائل کا ذمہ دار ذوالفقار علی بھٹو کو ٹھہرایا جاتا ہے جنہوں نے شہری اور دیہی سندھ کا کوٹہ الگ کیا اور سندھی زبان کو سندھی نہ بولنے والوں پہ بھی ایسا ضروری کیا کہ ہمارے میٹرک کے نمبر تک رہ گئے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کسی کو یہ ضرورت کیوں نہ پیش آئی؟ پنجاب میں بھی کئی اردو بولنے والے آباد ہوئے۔ اسلام آباد میں رہنے والے اردو بولنے والے آخر کیوں لوگوں کے اعصاب پہ اس طرح سوار نہیں ہوتے جیسے کراچی کے اردو بولنے والے کچھ لوگوں کے دماغوں پہ ایسے سوار ہو چکے ہیں جیسے پی ایس ایل کی ٹرافی اگر غلطی سے کراچی کے پاس آ جاتی تو یہ خود کشی کر جاتے۔

بہرحال کراچی سب کا ہے اور سب کا رہے گا۔ ناچیز کی دعا بس یہی ہے کہ اگر محبت نہیں کر سکتے تو نفرت بھی مت کریں۔ اتنا برا نہیں ہے میرا شہر۔ یقین نہیں آتا تو کسی کراچی والے سے محبت کر کے دیکھیں۔ دل ٹوٹ بھی گیا – تو بھی رواداری اور برداشت کا سبق ضرور سیکھنے کو مل جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments