جعلی دوائی سے اصلی علاج اور عطائی معالجوں کا مسئلہ

امرینہ خان کی ٹویٹ اور اس کے بعد چھڑنے والی سوشل میڈیا کی بحث نے علاج کی سہولیات کے میسر نہ ہونے کا زیادہ تر قصور ان خواتین ڈاکڑز پر ڈال دیا ہے جو میڈیکل کی تعلیم تو حاصل کر لیتی ہیں لیکن بعد میں مختلف وجوہات کی بنا پر کام نہیں کر سکتیں۔ لیکن شہروں میں تو ڈاکٹروں کی اتنی کمی نہیں اگر پرائیویٹ پریکٹس کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ دور دراز کا مسئلہ یہ ہے کہ کم ہی ڈاکٹر بڑے شہروں کو چھوڑ کر قصبات اور دیہات میں کام کرنا چاہتے ہیں خاص طور پر لڑکیاں۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختون خواہ میں ڈاکٹروں نے اس بات پر ہڑتال کر دی کہ انہیں بڑے شہروں جیسا کہ پشاور سے اپنے آبائی علاقے میں کیوں پوسٹ کیا جا رہا ہے، وہاں تو ہمارے بچوں کے لئے اچھے سکول بھی نہیں ہیں (بس دادا دادی ہیں لیکن وہ اچھی تعلیم تو نہیں دے سکتے ) ۔ لیکن جب بات گاؤں اور غریب شہری علاقوں میں موجود جعلی عطائی ڈاکٹروں کی ہوتی ہے تو شدت جذبات سے سرخ ہو کر سب ڈاکٹر گورنمنٹ کو ملامت کرتے ہیں کہ ہمارے پسماندہ علاقوں اور شہر کے غریب لوگ عطائیوں کے ہاتھ خراب ہو رہے ہیں اور وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کرتی۔

سیالکوٹ کے نزدیک ایک بنیادی ہیلتھ یونٹ میں ایک دوست کی تقرری ہوئی تو معلوم ہوا کہ پچھلے ڈاکٹر صاحب جو کہ اب سپیشلائز کرنے لاہور جا رہے ہیں، اپنے چار سالہ دور میں صرف چار بار ہی تشریف لائے تھے اور بی ایچ یو کا چپڑاسی ہی ڈاکٹر کے نام سے جانا جاتا تھا اور وہ ہر آنے والے سے پچاس روپے فیس لے کر پچھلے نلکے سے پانی بھر کر ٹیکا لگا دیتا تھا جس سے مریض شاید ’شفا‘ بھی پا جاتے ہوں گے۔ ’ڈاکٹر‘ صاحب نے بتایا کہ وہ شام اور رات کی ڈیوٹی مختلف پرائیویٹ ہسپتالوں میں کرتے ہیں لہذا صبح کو بی ایچ یو کے ٹائم پر استراحت فرماتے ہیں اور تنخواہ کو تو شاید بحیثیت ڈاکٹر وظیفہ کے طور حق سمجھتے ہیں، آخر ایم بی بی ایس کتنا مشکل کام ہے اور ملک و قوم پر کتنا احسان ہے۔

اسی میں معلوم ہوا کہ گورنمنٹ، صابن سے لے کر سفید چادریں اور اچھا خاصا دوائیوں کا سٹاک بھی فراہم کرتی ہے لیکن وہ بی ایچ یو کا سٹاف بندر بانٹ کر لیتا ہے اور رجسٹر میں روزانہ جعلی مریضوں کا اندراج کر کے ای ڈی او ہیلتھ کی شماریاتی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔ جب نئے فرض شناس ڈاکٹر صاحب نے پہلے مہینے کے مریضوں کا درست ڈیٹا ای ڈی او ہیلتھ آفس بھجوایا جو کہ گزشتہ ماہ کے دو ہزار جعلی مریضوں کی جگہ اصلی پچاس مریضوں پر مشتمل تھا تو ای ڈی او آفس نہ صرف طلبی ہوئی بلکہ شدید جھاڑ کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ آپ نے سیالکوٹ کا ڈیٹا خراب کر دیا اور ہمارا ضلع باقیوں سے پیچھے رہ جائے گا اور میری پوچھ گچھ ہو گی۔

باقی جو کچھ ہوا وہ تو ایک الگ داستان ہے لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہو تو عطائیوں کو خالی کیا برا بھلا کہیں۔ ایک سوچ کے مطابق عطائیوں کا معاملہ ڈاکڑوں کی صحت کے شعبہ میں مناپلی اور ان کے بڑے شہروں سے باہر پریکٹس نہ کرنے کی ضد کے باعث بڑھ گیا ہے اور وہ بالواسطہ طور پر اس جرم میں شریک ہیں چاہے وہ احساس کریں کہ نہ کریں۔ اب عطائی آخر کس طرح علاج میں اس حد تک کامیاب ہیں کہ لوگ ان کے پاس جا رہے ہیں؟

صرف غربت پر تو کوئی ایسی جگہ نہیں جائے گا جہاں آرام نہ آئے کیونکہ آخر عطائی بھی پیسے لیتے ہیں۔ میرے اندازے میں اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ وجہ ہے کہ زیادہ تر عمومی شکایات بہت آسانی سے کچھ بنیادی دواؤں کے ذریعے حل ہو جاتی ہیں اور دوسری بڑی وجہ placebo پلیسیبو نامی اثر ہے جو میں آگے تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔

گزشتہ دنوں وسعت اللہ خان صاحب کے کالم میں ایک ڈاکٹر صاحب کا پڑھا جو بیکار بیٹھے تھے کیونکہ وہ مریضوں کو کہ رہے تھے کہ دو دن آرام کر لیا تو خودہی ٹھیک ہو جائیں گے لیکن نزدیک ہی ایک کمپاونڈر کی پریکٹس چل رہی تھی کیونکہ وہ لوگوں کو مختلف رنگوں کی ڈرپ لگا رہا تھا۔ ماڈرن میڈیسن کچھ کیمسٹری میں ترقی اور کچھ دواساز کمپنیوں کے اثر میں کیمیائی علاج کے فلسفہ کی طرف بہت زیادہ چلی گئی ہے۔ انسانی جسم کو ایک فیکٹری کی مانند سمجھا جاتا ہے جہاں بہت زیادہ سسٹم کیمیکلز کے ذریعے کام کر رہے ہوتے ہیں اور کسی قسم کی کمی بیشی کو بھی دوائیوں کے کیمیکلز کے ذریعے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔

جراثیم بھی زہریلے کیمیکلز پیدا کرتے ہیں اور کیمیکل دوائی ان کو ٹھیک یا کنٹرول کر سکتی ہے۔ بہت حد تک یہ ایک درست تصویر ہے لیکن انسان کی اس روبوٹ نما تصویر میں ذہن کی اہمیت اور طاقت کو فراموش کر دیا گیا ہے۔ سر میں درد، دو گولی پیراسیٹامول۔ لیکن مغرب میں ڈاکٹروں میں سے ہی بہت سارے لوگ اب ڈاکٹری میں مریض سے ہمدردی، توجہ اور یقین دہانی سے علاج کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔ صحت کے پیشہ سے تعلق رکھنے والا پر شخص پلیسیبو سے واقف ہے جس میں مریض صرف اس یقین سے بہتر ہو جاتا ہے کہ اسے دوا مل گئی ہے (درحقیقت اس کو ایک جعلی گولی یا کیپسول دیا گیا ہوتا ہے ) ۔

ہر دوائی اپنے ٹرائل میں پلیسیبو کیے مقابلے میں افادیت پر ہی کامیاب قرار پاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نہ ہی میڈیکل سائنس میں پلیسیبو سے علاج کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ٹریننگ یا زور دیا جاتا ہے۔ اب وہ وسعت اللہ خان صاحب کا کمپاونڈر دراصل پلیسیبو کی طاقت سے علاج کر رہا تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب صرف کیمیکل سے ؛ اپنی جگہ وہ سچے تھے لیکن وہ اس بات کا ادراک نہیں کر پا رہے تھے کہ دوائی کھانے کی ایک نفسیاتی اہمیت ہے۔ میں نے علاج کی یہ درجہ بندی گھر میں کام کرنے والی ایک خالہ سے سنی کہ سب سے طاقتور علاج بوتل (ڈرپ) ، اس سے کم ٹیکہ، پھر گولی اور آخر میں شربت۔ لیکن پریکٹس کرنے والے ڈاکٹرز پلیسیبو کو ایک نفسیاتی چال سمجھتے ہیں اور اس طریقہ علاج کو غیر اخلاقی سمجھتے ہیں۔

پلیسیبو کے ٹرائلز میں یہ بھی دیکھا گیا کہا اگر پلیسیبو دوائی مہنگی بتائیں تو وہ سستی پلیسیبو دوائی سے زیادہ اثر کرتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے وہ کمپاونڈر مختلف رنگوں کی ڈرپس مختلف قیمتوں پر لگا رہا تھا کہ جتنا بھرو گے، اتنا آرام آئے گا۔ بتا کے بھی پلیسیبو کے ٹرائل کیے گئے ہیں جہاں مریضوں کو بتایا گیا کہ جو گولی آپ کو دی جا رہی ہے یہ دوائی نہیں ہے بلکہ سادہ گولی ہے جس کا آپ کی بیماری پر کوئی اثر نہیں ہے لیکن دینے والے نے سفید کوٹ پہن کر ڈاکٹر کے آفس میں پریشانی سنی، دوائی کی گولیاں دیں (بتا کر کہ یہ صرف پاؤڈر کی گولی ہے، دوائی نہیں ) اور طریقہ وہی رکھا کہ نہار منہ، یا رات کو ایک دفعہ کھانا ہے۔ اس چیز سے پرہیز کرنا ہے، اس سے نہیں۔ ان علامات کی صورت میں اسے لینا چھوڑ دیں وغیرہ۔ ٹرائل میں بہت سارے مریضوں کو باقاعدہ آفاقہ ہوا جیسا کے اصلی دوائی سے ہوتا ہے۔ اب تو پلیسیبو سرجری پر بھی ریسرچ کی جا رہی ہے اور گھٹنوں کے جعلی آپریشن کیے گئے جہاں مریض کو بیہوش کر کے کٹ لگا کر سی دیا گیا تو ان کو تقریباً اتنا ہی آفاقہ ہوا جتنا کہ اصلی سرجری والے گروپ کو ہوا۔

اخلاقیات کے مسائل کے باعث یہ ریسرچ کافی سست ہے لیکن آہستہ آہستہ ڈاکٹر اس کو سمجھنا شروع ہو گئے ہیں کہ ہر جگہ تو نہیں لیکن کچھ تکالیف میں جن میں مختلف قسم کے درد شامل ہیں پلیسیبو کا بھی علاج میں ایک کردار ہے۔ لیکن ہمارے عطائی سرجن تو ہر گلی محلے میں موجود ہیں اور ’فل ٹائم پریکٹس‘ کر رہے ہیں اور لوگوں کو بہت زیادہ بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔

ڈسکور میگزین نے حال ہی میں ایک طویل رپورٹ شائع کی جس میں تجربات کے نتائج سے دلائل دیے گئے کہ پلیسیبو کوئی نفسیاتی چال نہیں بلکہ انسانی ذہن اور دماغ میں ایک باقاعدہ دواخانہ قائم ہے جو بہت ساری بیماروں کا خود سے ہی علاج کرنے پر قادر ہے اگر اسے صحیح طرح استعمال کیا جائے۔ پلیسیبو ایک فزیولوجیکل طریقہ علاج ہے اور اس میں دماغ اسی طرح کے ہارمون ریلیز کرتا ہے جیسا کہ وہ دوا کے استعمال سے نکالتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پرانے زمانے کے حکیم، افریقی وچ ڈاکٹر زیادہ تر اسی طاقت سے علاج کرتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
آج کے ہومیوپیتھک معالج کا طریقہ علاج بھی یہی ہے کیونکہ ان کی گولیوں میں تو کچھ نہیں ہوتا۔ آکوپنکچر پر ٹرائلز میں بھی پلیسیبو کی طاقت شامل پائی گئی اور آج کل مشہور حجامہ سے علاج میں بھی شاید کچھ ایسی ہی طاقت شامل ہو گی۔ ان سب کے بر عکس جدید میڈیکل سائنس نے اسے ایک نفسیاتی چال اور غیر اخلاقی چیز سمجھ کر چھوڑ دیا ہے اور اس طرح ایک طاقتور طریقہ علاج کونظر انداز کر دیا ہے جس سے مریضوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

بتا کر کیے جانے والے پلیسیبو کے تجربات نے یہ واضح کیا ہے کہ علاج میں ایک خاص طریقہ کار کی بہت اہمیت ہے۔ ایک معالج اگر اپنے باقاعدہ لباس میں جیسا کہ ڈاکٹر کا سفید کوٹ اور گلے میں سٹیتھوسکوپ لٹکا کر مریض کو اگر تسلی سے سنے، مختلف انسٹرومنٹس سے اسے چیک کرے اور باقاعدہ دوائی دے تو بہت سی روزمرہ شکایات کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ اور اب مغرب کے بہت سے ڈاکٹر جو پلیسیبو پر ریسرچ کر رہے ہیں، کہ رہے ہیں کہ ہم ڈاکٹروں کو بھی اس سے علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔

ہر چیز کا تو اس طرح سے علاج نہیں ہو سکتا لیکن جس کا ہو سکتا ہے، اسے تو کیمیکلز سے نہ کیا جائے۔ صرف کیمیکل سے علاج کے فلسفہ کی پیروی کرنے کے باعث بہت کم ڈاکٹر ہمدردی اور تسلی سے مریض کی بات سنتے ہیں اور زیادہ تر ایک روبوٹ کی طرح شکایت سنتے سنتے دوائی تحریر کرتے جاتے ہیں۔ اس پر ستم انٹرنیٹ نے ڈھا دی ہے جہاں مریض اپنی بیماری کی ریسرچ کر کے وہ معلومات بھی حاصل کر لیتا ہے جو صرف اس کے ڈاکٹر کے پاس ہونی چاہیے جیسا کہ اس دوائی کا کامیابی کا تناسب کیا ہے، اس بیماری کی علامات عمومی طور پر کیا ہیں اور میری علامات کس بیماری کی نشاندہی کرتی ہیں، اس بیماری کے علاج میں کیا مسائل ہیں؟

اب ان معلومات سے لیس ہو کر مریض جب ڈاکٹر کے پاس پہنچتا ہے تو اس کو ڈاکٹر پر شک ہی رہتا ہے کہ شاید یہ میرا صحیح علاج نہیں کر رہا اور صحیح دوائی نہیں دی۔ اس شک سے پلیسیبو کی طاقت سے تو وہ محروم رہتا ہی ہے بلکہ اصل دواؤں کا بھی شاید اثر کم پڑ جاتا ہے۔ یقین کی طاقت سے ایک ان پڑھ غریب مریض کو رنگین پانی والی بوتل سے بھی آرام آ جاتا ہے (بقول ہماری کام والی خالہ کے، بوتل لگواتے ہی فوراً آرام آ جاتا ہے اور طاقت بحال ہو جاتی ہے ) لیکن اس نعمت سے آج کے ’پڑھے لکھے‘ مریض محروم ہیں۔ احمد جاوید صاحب نے کیا خوب کہا ہے کہ انٹرنیٹ نے نہ ہی لوگوں کو عالم بننے دیا اور نہ ہی جاہل رہنے دیا۔

پلیسیبو کی طاقت سے علاج ہو سکنے کی بات نے عطائیوں کے بارے میں بھی صحت کے پالیسی سازوں میں بحث کا رخ تبدیل کر دیا ہے۔ عطائی چونکہ پابندی کے باعث چھپ کر کام کرتے ہیں اور ڈگری یا لائسنس نہیں رکھتے تو ان کے علاج مضر صحت بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ کم ہی حفضان صحت کے اصولوں کا علم رکھتے ہیں یا اس کی پرواہ نہیں رکھتے۔ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ انہیں باقاعدہ ایک آدھ سال کی حفظانِ صحت اور بنیادی علاج کی تربیت دے کر اس بات کی تسلی کی جائے کہ وہ کوئی مضر صحت کام نہ کریں اور معمولی بیماری جس میں سادہ دوائیں دینا ہوتی ہیں (جو عمومی طور پر بہت زیادہ ہوتی ہیں اور جہاں پلیسیبو سے بھی کام چل سکتا ہے ) کا علاج باقاعدہ معالج کے طور پر کر سکیں۔

جب دیکھیں کہ بیماری زیادہ ہو رہی ہے تو مریض کو بڑے قصبوں اور شہروں کے ڈاکٹروں کے پاس بھیج سکیں۔ ان کو علاج کا ایک محدود لائسنس دے کر سسٹم میں لا کر نقصان کو کم کریں نہ کہ زبانی طور پر ان پر پابندی لگائیں لیکن ڈیمانڈ اور سپلائی کے مسائل کی وجہ سے اسے روک نہ سکیں۔ ڈاکٹر کی پڑھائی پر اس قدر خرچ ہوتا ہے کہ وہ سستا کام نہیں کر سکتا اور غریب لوگ اس سے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس کے علاوہ پانچ سال کی پڑھائی کا انجام اگر شکایات سن کر دس بارہ قسم کی گولیاں اور دو تین ٹیکوں پر ہی ہو تو یہ توپ سے مکھی مارنے والی بات ہے۔

اسی وجہ سے کمپاؤنڈر حضرات تھوڑے ہی عرصے میں صرف سن سن کر بنیادی دوائیں دینا سیکھ جاتے ہیں اور دوردراز علاقوں یا غریب علاقوں میں ’پریکٹس‘ شروع کر دیتے ہیں اور بڑک مارتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کو ایسی کیا چیز پتہ ہے جو مجھے نہیں پتہ۔ سوچ یہ ہے کہ بغیر اجازت کے بھی تو عطائی خطرناک طریقہ سے کام کر رہے ہیں تو کیوں نہ کچھ دے کر کچھ لے لیا جائے ؛ یعنی محدود لائسنس کے بدلے حفاظتی انتظامات۔ مزید یہ کہ ان میں دو طبقے بن جائیں گے، ایک لائیسنس یافتہ ہیلتھ ورکر اور دوسرے غیر لائسنس یافتہ لہذا لوگ خودبخود تربیت یافتہ کے پاس جائیں گے جس کے پاس لائسنس ہو گا۔

یہ بات تو مصمم ہے کہ چاہے جتنے ڈاکٹر بنا لیں، چک نمبر فلاں فلاں میں تو وہ نہیں جانے والے۔ اکانومسٹ میگزین نے اس پر ایک پوری رپورٹ شائع کی کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کیونکہ ایک محتاط اندازے کے مطابق برصغیر میں اسی فیصد تک معالجوں کے وزٹ عطائیوں کے پاس ہوتے ہیں۔ ورلڈ بینک اور دوسرے امداد دینے والے ادارے اس پر غوروفکر کر رہے ہیں کہ اس تجویز کو تیسری دنیا میں علمی جامہ کیسے پہنایا جائے جہاں ڈاکٹر دیہی علاقوں میں نہیں جاتے۔

تجاویز دی جا رہی ہیں کہ ایک تمام لائسنس یافتہ عطائیوں کو بنیادی مرکز صحت کے ڈاکٹر کے ماتحت کر دیا جائے جسے وہ رپورٹ کریں اور جو ان کی پریکٹس کی نگرانی کرے۔ علاوہ ازیں یہ سارے اپنی پریکٹس کا ڈیٹا بھی فون ایپس کے ذریعہ سسٹم کو بتانے کے پابند ہوں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن ڈاکٹر حضرات اس کے سخت خلاف ہیں کہ آپ چوروں کو چوری کرنے کے اوزاروں سے لیس کر رہے ہیں اور ان کو چوری کا لائسنس دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عربی کے اونٹ والا معاملہ ہو گا کہ اگر ایک مرتبہ جسم کا علم حاصل کیے بغیر (میڈیکل کی طویل تعلیم انسانی جسم کو سمجھنے میں لگتی ہے ) علاج کا راستہ کھول دیا گیا اور اس کو سرکاری سرپرستی دے دی گئی تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکے گا اور یہ اصل علاج کو بھی نکال باہر کرے گا۔

اس بات میں بہت وزن ہے جس کے باعث یہ بحث جاری ہے۔ لیکن اس بات کے حمایتی پالیسی ساز کہ رہے ہیں کہ ڈاکٹروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ علاج عطائیوں کے ذریعے تو پہلے ہی ہو رہا ہے اور صرف سرکاری سرپرستی نہ ملنے سے رُکا نہیں۔ جو نقصان وہ کر رہے ہیں، پابندی اور گرفتاریوں سے رُکنے والا نہیں کیونکہ یہ مال بنانے کا موقع ہے اور اگر آپ ایک کو گرفتار کریں گے تو دوسرا اس کی جگہ لے لے گا۔ ابھی ڈاکٹروں کی برادری میں عزت پریکٹس اور آمدنی سے ہے۔

شہروں میں سینیر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی وہ جلد سپیشلائز کر جاتے ہیں اور علاج کی نئی تکنیکوں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے دوردراز علاقوں میں کام ان کو گناہ بے لذت محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ خود سے کوئی طریقہ وضع کریں جس میں وہ کمیونٹی میں عزت اور سوشل پریشر کے ذریعے دوردراز اور غریبوں کے لئے ڈاکٹرز کو بھجوائیں۔ انسان عزت کے لئے کیا نہیں کرتا، جنگوں میں سب سے آگے حملہ کر کے مارا جاتا ہے کیونکہ بہادری اور جرآت کی کمیونٹی عزت دیتی ہے تو دوردراز علاقوں میں کام کرنا تو اس سے کہیں آسان کام ہے۔

وکٹر ہیوگو کا کہنا ہے کہ اُس آئیڈیا سے طاقتور کوئی چیز نہیں جس کا وقت آ گیا ہو اور اگر عطائیوں کو استعمال کرنے کا وقت آ گیا تو وہ اسے روک نہیں پائیں گے۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ پلیسییبو کی طاقت جس کو وہ ان عطائیوں سے بہتر سمجھتے ہیں (کیونکہ عطائیوں کے برعکس ان کو معلوم ہے کہ کہاں تک پلیسیبو کام کرتا ہے اور کہاں نہیں ) علاج میں استعمال کریں تاکہ ان عطائیوں کا راستہ بند ہو جو اس طریقہ سے مریضوں کا اعتماد حاصل کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ دوردراز میں پریکٹس مسئلوں کا حل خود اپنی کمیونٹی میں ہی نکالیں، چاہے وہ سپیشلائزیشن کوان علاقوں میں تجربہ سے منسلک کر دیں یا اور کسی طریقے سے اس تجربہ کو عزت دیں۔ لیکن یہ تو مشکل کام ہیں، کیوں نہ عطائیوں کے خلاف او پی ڈی بند کر کے ہڑتال کر دی جائے؟