فواد چوہدری ، میڈیا کی آزادی اور سابق پاکستانی شہری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوچہ وزارت اطلاعات سے خوار ہو کر نکالے جانے کے باوجود سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا حکومت اور عمران خان کی ترجمانی کرنے کا شوق بہر صورت زندہ و جاوید ہے اور وہ کسی نہ کسی موقع پر یہ شوق پورا کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ خواہ یہ بیان بازی حقیقی صورت حال کے برعکس اور ان کے وزارتی دائرہ اختیار سے باہر ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لئے انہوں نے وزیر اعظم کا یہ پیغام پہنچانے کے لئے قاصد کا کردار ادا کیا ہے کہ اپوزیشن کے احتجاج کو روکنے کی کوشش نہ کی جائے۔
میڈیا میں چھائے رہنے کے اسی شوق میں کبھی فواد چوہدری چاند دیکھنے کے سوال پر مفتی منیب الرحمان سے مذہبی اور سائنسی مباحث کی قیادت کرتے ہیں اور کبھی بھارت کو ترکی بہ ترکی جواب دینے کےلئے دو برس کے اندرخلا میں پاکستانی خلاباز بھیجنے کا اعلان کرتے ہیں حالانکہ اپنے چولہے کا ایندھن تلاش کرنے کی فکر میں غلطاں اہل پاکستان کو اس سے کیا غرض ہو سکتی ہے کہ پاکستان خلابازی میں بھارت سے بازی لے جاتا ہے یا اس سے پیچھے رہ گیا ہے۔ لوگوں کا مسئلہ روز مرہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بیروزگاری میں اضافہ، کاروبار میں مندی اور ملک میں مسلسل بڑھتا ہؤا خلفشار ہے۔ اس عوامل سے پیدا ہونے والی بے چینی کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ یا لائحہ عمل تو سننے میں نہیں آتا لیکن وزیر اعظم اور ان کی سنگت میں تان اٹھانے والے وزیر اور مشیر کبھی ٹرمپ کی ’آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے‘ والے عمران خان کی قصیدہ گوئی کرتے ہیں ، کبھی واشنگٹن میں نریندر مودی کے جلسہ کا ریکارڈ توڑ کر پاکستانی وزیر اعظم کی برتری ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے، ورنہ چوروں کے قصے اور ’کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘ کے نعرے کو ہر مسئلہ حل کرنے کا چورن سمجھ لیا گیا ہے اور اسے تواتر سے استعمال بھی کیا جارہا ہے۔ لیکن قومی معیشت اور سیاست کو لاحق ’بدہضمی ‘ کا سدباب نہیں ہو پاتا۔
حکومت کو معاشی شعبہ میں درپیش مسائل سے نمٹنے کا کوئی کارگر طریقہ تو سجھائی نہیں دیتا لیکن واشنگٹن سے لے کر اسلام آباد تک سابقہ حکمرانوں کے خلاف بیان بازی کے ذریعے عوام کو روزانہ کی بنیاد پر تازہ بہ تازہ مواد فراہم کرنے کی کوشش ضرور کی جاتی ہے۔ اب وفاقی کابینہ نے باقی سب مسائل سے ’نجات‘ حاصل کرلینے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ سابقہ ادوار میں حکمرانی کے مزے لیتے ہوئے سرکاری وسائل پر سفر کرنے والے وزرائے اعظم اور صدور سے ان کے سفری اخرجات وصول کئے جائیں گے۔ یا یہ کہ دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو پاکستان کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق دینے کے لئے قانون سازی ہو گی۔
تاہم وفاقی حکومت یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ان دونوں معاملات پر ہونے والے فیصلے اور ان کے اثرات سے ملک کی معاشی حالت تبدیل ہونے کا کیاامکان ہے۔ سابقہ صدور اور وزرائے اعظم سے سفری اخراجات اور اپنے عہدہ کے کیمپ دفاتر کے مصارف وصول کرنے کا اعلان ویسا ہی ناقابل عمل فیصلہ ہے جس کا مظاہرہ گزشتہ دنوں ماضی میں لئے گئے غیر ملکی قرضوں کا حساب کتاب کرنے کے لئے ’خصوصی کمیشن‘ قائم کرتے ہوئے کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا کی جنگ جیتنے کے لئے کئے جانے والے اس فیصلہ کے نتیجہ میں قومی خزانہ کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا لیکن عمران خان کرپشن کے منترا میں شدت پیدا کرنے میں ضرور کامیاب ہورہے ہیں۔ سابقہ حکمرانوں کے دور میں لئے جانے والے قرض کا معاملہ ہو یا سفری اخراجات کا حساب کتاب، موجودہ صورت حال سے اس کا موازنہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے اگر تحریک انصاف کی حکومت دوسروں کا معاملہ دیکھنے سے پہلے اپنی کارکردگی کا حساب دینے کے لئے تیا ر ہو۔
بہتر ہوگا کہ حکومت بتائے کہ گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران سولہ ارب ڈالر کی امداد، قرض اور معاونت ملنے کے باوجود ملکی معیشت مسلسل کیوں رو بہ زوال ہے۔ یا یہ کہ موجودہ حکومت کو بیرونی قرض لینے کا جو اختیار حاصل ہے، سابقہ حکومتوں کے اس حق و اختیار پر کیوں اور کیسے سوال اٹھایا جاسکتا ہے؟ اسی طرح وزیر اعظم نے امریکہ جاتے ہوئے قطر ائیر لائن سے سفر کرنے اور واشنگٹن میں پاکستان ہاؤس یا سفیر کی رہائش گاہ میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ میڈیا رپورٹوں اور سوشل میڈیا جیالوں کے ذریعے اس کا کریڈٹ لینے سے پہلے کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ وزیر اعظم یہ بتاتے کہ قومی ائیر لائن کی بجائے انہیں غیر ملکی ائیر لائن سے سفر کرنا کیوں مناسب لگا؟ اور اس سفر کے لئے قطر ائیر لائن کو کتنی رقم ادا کی گئی ہے؟ اور کیا یہ مصارف واقعی پی آئی کا طیارہ لے جانے کے مقابلے میں کم تھے؟
اسی طرح حکومت یہ جواب دینے کی بھی پابند ہے کہ وزیر اعظم کے سفیر کی رہائش گاہ میں قیام سے کتنے قومی وسائل کی بچت کی گئی ہے۔ ان کے وفد میں کتنے سول اور عسکری عہدیدار تھے اور ماضی میں واشنگٹن جانے والے پاکستانی وزرائے اعظم کے ہمراہ جانے والے وفود سے یہ ہجوم کس حد تک مختصر تھا۔ اسی طرح کیا صرف ایک شخص یعنی وزیر اعظم کے پاکستان ہاؤس میں ٹھہرنے سے اخراجات کی کمی کا ڈھکوسلہ کرنا مناسب ہے؟ عمران خان کے ہمراہ اور ان سے پہلے واشنگٹن پہنچنے والے سرکاری عہدیداروں کے قیام اور ان کے سفری اخراجات کے مصارف بھی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے بجٹ کا حصہ ہیں۔ صرف عمرا ن خان کے ہوٹل کا خرچ بچا کر اس بجٹ کے حجم اور وفد کی تعداد کے حقائق کو چھپایا نہیں جاسکتا۔
دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو پاکستانی سیاست میں حصہ لینے یعنی انتخاب لڑنے کا حق دینے کا معاملہ بھی پروپیگنڈا کا ایک نیا ہتھکنڈا ہے جسے عمران خان بیرون ملک مقیم اپنے حامیوں کو خوش کرنے یا انہیں سہولت بہم پہنچانے کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس فیصلہ سے دوہری شہریت کے حامل یا صرف پاکستانی شہریت کے ساتھ بیرون ملک کام کرنے والوں کی اکثریت کے مفادات وابستہ نہیں ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت خلیجی ممالک میں رہتی ہے اور یہی پاکستانی ، ملک کے لئے زر مبادلہ فراہم کرنے والوں میں سب سے آگے بھی ہیں ۔ کیوں کہ ان لوگوں کو اپنے میزبان ملکوں میں کبھی شہری حقوق یا مستقل رہائش حاصل نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ کام کے دوران اپنا پس انداز سرمایہ پاکستان لا کر یہاں مکان بنانے یا کاروبار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا پھر اپنے لواحقین کو رقم بھیج کر پاکستانی ریاست اور حکومت کو بعض شہریوں کی ذمہ داری سے نجات دلاتے ہیں۔ حکومت پاکستان کو اگر بیرون ملک پاکستانیوں کی فلاح کے لئے کوئی اقدام کرنا ہے تو اسے سب سے پہلے خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے حالات کار درست کروانے اور پاکستان واپسی پر ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔
امریکہ یا دیگر مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی ان ملکوں کی شہریت لینے کے بعد صرف جذباتی طور سے ہی پاکستان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ وہ یہ سمجھ چکے ہیں کہ ان کا اور ان کی آئندہ نسلوں کامستقبل ان میزبان ملکوں سے ہی وابستہ ہے جہاں تارکین وطن ہونے کے باوجود انہیں تمام بنیادی حقوق دیے گئے ہیں۔ ان پاکستانیوں یا سابقہ پاکستانیوں کی اکثریت میزبان ملکوں میں اپنے حالات کار کو بہتر بنانے پر ہی اپنی صلاحیت اور وسائل صرف کرتی ہے۔ یا یہ لوگ مقامی سیاست میں حصہ لے کر اس نظام کا حصہ بن رہے ہیں جس سے ان کے تمام تر مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے پاکستانیوں کی بہت ہی قلیل تعداد مالی یا عملی لحاظ سے پاکستانی سیاست میں حصہ لینے کی اہل ہے۔ موجودہ حکومت پاکستان میں ان لوگوں کے سیاسی مفادات کا تحفظ کرکے کسی بڑے قومی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔
مغربی ممالک میں مقیم پاکستانی نژاد لوگوں کی اکثریت جھوٹ اور اقربا پروری پر استوار پاکستانی سیاست میں فعال کردار ادا نہیں کرسکتی۔ البتہ ان لوگوں کی نئے معاشروں میں سیاسی اور معاشی کامیابی سے کچھ سبق سیکھنے کی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے۔ البتہ سیاسی مفادات کے تحفظ کے لئے میڈیا کی آزادی کا دعویٰ کرتے ہوئے عمران خان نے امریکہ میں ایک خطاب کے دوران فرمایا ہے کہ ’ پاکستانی میڈیا برطانیہ کے میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے‘۔ اور اسی سانس میں انہوں نے یہ کہہ کر پاکستانی صحافیوں کی بے بسی کا قصہ اور اپنی حکومت کی منہ زوری کی کہانی بھی بیان کردی کہ ’ پاکستانی میڈیا آزاد ہی نہیں بلکہ قابو سے باہر بھی ہے‘۔ میڈیا پر کنٹرول کرنے کے لئے ہی اب تحریک انصاف کی حکومت ’میڈیا کورٹس ‘ کا انوکھا منصوبہ سامنے لائی ہے۔ بنیادی انسانی آزادی اور جمہوریت کی صفت کے بارے میں وزیر اعظم کی اس غلط بیانی سے جس پاکستانی سیاست کا نقشہ ابھرتا ہے ، مغربی ممالک کے شفاف سیاسی نظام میں رہنے والے پاکستانی اس میں کوئی کردار ادا کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
امریکہ سے واپس آکر وزیر اعظم اپوزیشن لیڈروں کو چور اور لٹیرے قرار دینے کے متعدد مواقع سے استفادہ کرچکے ہیں لیکن حیرت ہے کہ کل لاہور، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں اپوزیشن کے احتجاجی جلسوں کے خلاف پولیس اور سیکورٹی فورسز کے جبر کو مسترد کرنے کے لئے انہیں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ٹویٹر ہینڈل کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اسے فواد چوہدری کا میڈیا میں شہرت کا شوق سمجھا جائے، حکومت کا جھوٹ قرار دیا جائے یا عمران خان کی کم ہمتی کہا جائے کہ وہ سیاسی مخالفین کے خلاف زور زبردستی کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ بھی نہیں رکھتے کیو ں کہ اس صورت میں انہیں بعض مشکل سوالوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1289 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali