پلوڈیو: یورپ کا شہباز گھڑی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشتو زبان و ادب میں ایک کہاوت ہے ”د ستڑو زائے شہباز گھڑئی دہ“ یعنی تھکے ہارے لوگوں کی جگہ شہباز گھڑی ہے، اور اس کے علاوہ اکبر بادشاہ کے ”لٹان“ بھی اپنی سستی اور کاہلی میں اپنی مثال نہیں رکھتے۔ لیکن آج میں آپ لوگوں کے ساتھ یورپ کی جدید دنیا کی جدید شہباز گھڑی بلغاریہ کے شعر پلوڈو اور اس شہر میں جدید ترین اکبر بادشاہ کے ”لٹان“ ایلیاک کا تعارف کروانے جا رہا ہوں۔

بلغاریہ کے شہر پلوڈو میں روزمرہ زندگی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے اٹھ کر کوئی کام کاج کرنے سے انکار اور زیادہ کام کی اہمیت کے متعلق شکوک و شبھات رکھنے والوں کے لئے ایک ایسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کا تقریباً کوئی ترجمہ نہیں اور وہ لفظ ہے ایلیاک۔

بلغاریہ کے دوسرے بڑے شہر پلوڈیو میں مختلف کاموں کو اپنے طریقے سے کرنے پر فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ لیکن دارالحکومت صوفیہ پہنچنے کے بعد آپ کو یہاں زندگی کی رفتار میں تبدیلی محسوس ہو گی۔ لوگ زیادہ آہستہ چل رہے ہوں گے اور آپ کو ایسا لگے گا کہ ان کے پاس زیادہ وقت ہے۔ ٹریفک کا بھی اتنا رش نہیں ہوتا۔

جب آپ شہر کے وسط میں پہنچنے کے لیے پارک سے گزرتے ہیں، جہاں بوڑھے شطرنج کھیلنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور لوگ پرانے درختوں کے سائے میں بیٹھے گپیں ہانک رہے ہوتے ہیں، یہاں پلوڈیو بالکل ہی مختلف نظر آتا ہے۔

پلوڈیو میں ایک طرح کا بے فکری کا احساس سمایا ہے، جو کہ فوری طور پر ظاہر ہوتا ہے لیکن آپ ہاتھ لگا کر اس کی نشاندہی نہیں کر سکتے۔

کاپنا ضلع کے اندرون میں گلیوں میں بنے کیفے اور شراب خانوں سے لوگ باہر نکلتے نظر آتے ہیں۔ روشن پینٹ دیواروں سے لگے بیٹھے نوجوانوں کے گروپ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے، فلرٹ کرتے اور اپنے فون چیک کر رہے ہوتے ہیں۔

اس ضلع کے مرکز میں واقع جھومایا مسجد سے ملحق کیفے میں لوگ گھنٹوں بیٹھ کر ترک کافی کی چسکیاں لے رہے ہوتے ہیں۔

یہاں تک کہ پرانے شہر کی گلیوں میں بلیاں بھی باقی کسی اور جگہ سے زیادہ سست نظر آتی ہیں۔ ایک آدھ مرتبہ وہ اٹھ کر آپ کو کھینچیں گی، ہلکی سے کوئی آواز نکالیں گی اور پھر دوبارہ سو جائیں گی۔

اگر آپ یہاں کے لوگوں سے پوچھیں کہ شہر اتنا آرام طلب کیوں ہے تو وہ آپ کو بتائیں گے : پلوڈیو، ’ایلیاک‘ ہے۔

لفظ ’ایلیاک‘ پلوڈیو کے باہر زیادہ استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ یہ انیسویں صدی کے آخر میں بلغاری لغات میں نظر آتا ہے۔ یہ لفظ ترکی زبان کے لفظ ’الاکلک‘ سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ہے کاہلی یا آرام طلبی یا آوارہ گردی ’، اور یہ ترک لفظ‘ ایلک کے معنی بھی لیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے مہینہ۔

صوفیہ لٹریچر اینڈ ٹرانسلیشن ہاؤس کے ڈائریکٹر یانا جونوفا کے مطابق، ’ایلیاک‘ کے اصل معنی کسی کو ہر مہینے بار بار کام پر رکھنا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شخص جانتا تھا کہ ان کے پاس کتنا وقت ہے۔

ایلیاک کے ساتھ استعمال ہونے والا فعل ’بیچم‘ ہے، جو ’بیچا‘ سے نکلا ہے اور جس کا مطلب ہے وار کرنا، کوڑا مارنا، یا کسی درخت کے تنے سے بیم اور تختیاں کاٹنا۔

وار کرنے، کوڑے مارنے یا کاٹنے کا خیال ایک یاد دہانی ہے کہ کچھ سرگرمی ہو رہی ہے۔ اگر آپ ایلیاک رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے لیے بہت سارا وقت نکالنا پڑے گا۔ اپنی روز مرہ کی پریشانیوں سے خود کو الگ کرنے کے لیے آپ کو خود ہی پہل کرنا ہو گی۔

لیکن لفظ کی ابتدا جو بھی ہو، آج کے پلوڈیو میں، ایلیاک نے اپنی معنویت اور اہمیت کو اپنا لیا ہے، جس کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا لیکن زندگی گزار کر دکھایا جا سکتا ہے۔

سنہ 2019 میں پلوڈیو نے اٹلی کے شہر میٹرا کے ساتھ یورپی دارالحکومت ثقافت کا خطاب جیتا تھا۔

بلغاریہ کے اداکار، ڈائریکٹر اور آرٹسٹ پلامین ردیف جارجیف کی سربراہی میں فائر تھیٹر مائم کمپنی نامی تنظیم نے شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے لیے عوامی مشاورت کے لیے کئی ملاقاتیں کیں۔

وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایلیاک کیا ہے، یہ کہاں سے نکلا ہے اور پلوڈیو کے ساتھ اس کا اتنا قریبی تعلق کیسے بن گیا۔

انیسویں صدی میں پلوڈیو کے کافی ہاؤسز کے تاریخی واقعات انھیں ایسی جگہوں کے طور پر بیان کرتے ہیں جہاں کاریگر اور سوداگر ملتے ہیں اور جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا۔

انیسویں صدی کے بلغاری شاعر ہریستو ڈینوف نے ناگوار انداز میں لکھا کہ کیسے لوگوں نے سارا دن کافینوں میں گزارا۔ انھوں نے لکھا، لوگ کیفین پر جاتے ہیں، تمباکو نوشی کرتے ہیں، کافی پیتے ہو، ے بات چیت کرتے سورج غروب ہونے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں

بلغاریہ کے اداکار، ڈائریکٹر اور آرٹسٹ پلامین ردیف جارجیف کی سربراہی میں فائر تھیٹر مائم کمپنی نامی تنظیم نے شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے لیے عوامی مشاورت کے لیے کئی ملاقاتیں کیں۔

وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ ایلیاک کیا ہے، یہ کہاں سے نکلا ہے اور پلوڈیو کے ساتھ اس کا اتنا قریبی تعلق کیسے بن گیا۔

لیکن عوامی مباحثوں کے بعد ایک وسیع تر تصویر ابھری۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایلیاک وقت کی تلاش سے متعلق ہے۔ یہ دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھنے اور یہ معلوم کرنے کے بارے میں ہے کہ آپ رات کو باہر گھومنے جا رہے ہیں یا نہیں۔ یہ آپ کے موجود ماحول میں خوشی کو اپنانے کے متعلق تھا۔

اور اس کو معاشرتی حیثیت کے ساتھ جوڑ دیا گیا اور اسے ایسے معنی پہنا دیے گئے کہ جس میں ایک قسم کا کچھ نہ کرنے والا کاہل شخص سڑکوں پر گھوم رہا تھا۔ لیکن جارجیوف نے اس کو ’زین ایلیاک‘ کہا۔ یہ روح کے ساتھ کچھ کرنے کی آزادی ہے۔ انھوں نے کہا ’ایلیاک کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن آپ زندگی کے تمام مسائل سے محفوظ بھی رہتے ہیں۔

Latest posts by اقبال شاہ ایڈووکیٹ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •