الوادع! اے کشمیر کے شیر دل مجاہد

زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم نہ تو کبھی ملتے ہیں اور ناں ہی انہیں دیکھا ہوتا ہے۔ لیکن ان کی شخصیت میں کچھ عجب سا رنگ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کی اتنی گہری چھاپ لیے ہوتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ محترم سیّد علی شاہ گیلانی بھی کچھ ایسے ہی انسان تھے۔ ان کے چہرے کی متانت، سنجیدگی، نرمی اور افکار کی مضبوطی دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی جاتی ہے۔ سیّد علی گیلانی صاحب کی استقامت کو آج تک کوئی ہلا نہیں سکا۔ کشمیری عوام کے لیے وہ ایک ایسے چھتناور درخت تک کی حیثیت رکھتے تھے جس کی چھپر چھایا تلے ایک قوم پنپ رہی تھی۔ ان کے چہرے پر جو ایک ٹہراﺅ تھا وہ بلا شبہ ایک داستان گو کے جیسا تھا۔ ہم سب ان کی وفات پر سوگوار ہیں۔ سیّد علی گیلانی 91 برس کی عمر میں اپنے لوگوں کی آزادی کے خواب پلکوں پہ سجائے اس دارِ فانی سے کُوچ کر گئے۔ وہ کشمیریوں کے ایسے عظیم رہنما تھے جس نے اپنی زندگی اپنے لوگوں کی آزادی اور سکون کے لیے وقف کر دی تھی۔ سیّد علی گیلانی آزادی کی بند سیپ میں چھپا وہ قیمتی موتی ہے جو عزم و استقلال کی چلتی پھرتی تصویر تھا۔ بقول شاعر:

جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم

جو چلے تو جاں سے گزر گئے

سیّد علی شاہ گیلانی 1929 کو سَو پُور بارہ مُولا میں پیدا ہوئے۔ وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ بھی رہے۔ وہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رُکن بھی رہے۔ وہ عمر بھر مضبوطی سے چٹان کی طرح اپنے اصولوں اور موقف پر ڈٹے رہے۔ سیّد علی شاہ گیلانی کشمیریوں کی آزادی کی ان تھک تحریک کا وہ روشن ستارہ تھے جو ظلم کی اندھیری راتوں میں چمکتا تھا۔ وہ خود تو کشمیر کی جنت نظیر وادی کی آزادی کی تمنا اس دل میں لیے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن یہ تحریک جو عمروں سے بھی لمبی ہے یہ کشمیر کی آزادی تک چلتی ہی رہے گی۔ بھارت نے ایک بار پھر اپنا ظالم اور مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ بھارتی حکومت نے ان کی تدفین میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کی رحلت کی خبر سنتے ہی بھارتی حکومت نے ان کے گھر کا گھیراﺅ خار دار تاریں لگا کر کیا۔ وصیتیں بھی امانتیں ہیں اور امانتیں بلا شبہ لوٹانے کے لیے ہوتی ہیں۔ مگر ظالم بھارت نے سیّد علی شاہ گیلانی کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں نہیں ہونے دی۔ زبردستی ان کی تدفین حیدر پورہ کے آبائی قبرستان میں کی گئی۔ حتیٰ کہ ان کے بیٹے اور بہو کو زخمی بھی کیا۔ ان کے اہلِ خانہ کو پوری طرح سے آخری رسومات بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کرنے دیں۔

سیّد علی گیلانی کی رحلت سے کشمیر کے عوام یتیم ہو گئے ہیں۔ لیکن دنیا بھر کی سُپر طاقتوں کو انڈیا کی مارکیٹ تو نظر آتی ہے وہ افغان عورتوں کی آزادی کی بات تو کرتی ہیں مگر ان کو کشمیر کے درماندہ عوام دکھائی نہیں دیتے کیا؟ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بابائے حقِ خود ارادیت کے انتقال سے نہ صرف کشمیر بلکہ تمام مسلمانوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جو صدیوں تک نہیں بھر سکے گا۔ آج سے چھے برس پہلے جب سیّد علی شاہ گیلانی سعودی عرب میں اپنی بیمار بیٹی سے ملنے جانے کے لیے پاسپورٹ آفس گئے۔ تب بھارتی پولیس نے انہیں نظر بندی سے رہائی دی تھی۔ تب پاسپورٹ والوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی شہریت کے خانے کو خالی رکھا، مزید کہا کہ ان کی عرضی نا مکمل اور غیر قانونی ہے۔ تب اس شیر دل مجاہد نے کہا: "By Birth I am not Indian, we are under occupation”  ہمارا کاز بہت مقدس ہے۔ ہم قبضہ ہوجانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں گزشتہ 69 سال سے and that will continue انشاءاللہ! سید علی گیلانی صاحب کی کتابوں میں معصوم شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی گئی خواہ وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔

لگ بھگ دو ڈھائی سال پہلے جب بزرگ رہنما سیّد علی گیلانی کو پھر سے نظر بند کیا گیا تو ان کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کہہ رہے تھے: ”بتاﺅ ہم کیوں بند ہیں؟ دروازہ کھولو! ہندوستان کی جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے؟ کون اجازت نہیں دے رہا۔ دروازہ کھولو! ان کی ضعیف مگر توانا آواز نے بھارتی فوجیوں کو للکارا۔ دنیا بھر میں ان کی یہ آواز سنی گئی مگر افسوس صد افسوس! اقوام متحدہ جو انسانوں کے حقوق کی خاطر بنائی گئی اس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اے دنیا کی طاقتو! ہم تم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا کشمیریوں کو یہ حق بھی نہیں کہ انہیں ان کی مرضی سے دفنایا جاسکے۔ یہ بات مودی حکومت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ کشمیر پر قابض بھارتی فوج نے اس شیر دل مردِ مجاہد کو 12 برس سے مسلسل نظر بند رکھا۔ لیکن سلام ہے اس عظیم رہنما کو جو عمر بھر بھارتی سامراج کے سامنے ڈٹے رہے۔ سیّد علی گیلانی کی زندگی کا سفر بہت طویل ہے۔ انہوں نے بہت سے نشیب و فراز کو نہ صرف دیکھا بلکہ دلیری سے سامنا کیا۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیّد پیر شاہ گیلانی ایک قلی کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور بہت محنتی آدمی تھے۔ وہ ان پڑھ تھے لیکن تعلیم کے ساتھ ان کی بہت محبت تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ سیّد علی گیلانی نے لاہور کے اورینٹل کالج سے اُردو اور فارسی میں تعلیم حاصل کی۔ بھارت نے اپنی مکارانہ چالوں سے روزِ اول سے ہی پوری کشمیر ریاست پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ 370 ہٹانے کے بعد بھارت نے کشمیر میں تمام مواصلاتی نظام بھی بند کر دیا۔ اب ان کے انتقال کے فوراً بعد ہی انٹرنیٹ اور موبائل سروس پھر سے بند کر دی گئی۔ لوگوں کے آنے جانے پر پابندی لگا دی گئی حتیٰ کہ صحافیوں کو بھی آنے کی اجازت نہیں ہے۔ سیّد علی شاہ گیلانی کے یہ الفاظ کہ: ”پاکستان ہمارا ہے اور ہم پاکستانی ہیں“ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

قارئین! الفاظ یاد رکھنے سے یاد آیا کہ اب پاکستان کو اپنا کردار اور زیادہ مضبوط بنانا ہوگا۔ اب پاکستان کو مزید پُر اثر انداز سے کشمیر کے معاملے پر یہ معاملہ حل کروانا ہوگا۔ یہ سب اس لیے ضروری ہے کہ سیّد علی گیلانی جیسے بزرگ رہنما کے آزادی کے خواب کو جلد از جلد پا یہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔ اپنے لوگوں کی آزادی کے لیے وہ انڈیا سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ سیّد علی شاہ گیلانی کی ایک پکار یہ ساری وادی کھچا کھچ آزادی کے متوالوں سے بھر جاتی تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت ان کے جسدِ خاکی سے بھی لرز اٹھے۔ بلا شبہ وادی کشمیر کے اس شیر دل مجاہد کے جانے سے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو دھچکا ضرور لگا ہے۔ لیکن اب اس تحریک میں اور بھی تیزی آئے گی اور کشمیر انشا اللہ سیّد علی گیلانی کا پاکستان بن کر رہے گا۔ وہ زندگی بھر اپنے اس نقطہ نظر پر کر کشمیر ایک متنازعہ دیار ہے پر فولادی چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ اب چونکہ وہ اپنی ان تھک تحریک کا اعمال نامہ لے کر ربّ کے حضور پیش ہوچکے ہیں۔ دنیا کی نظر میں وہ اب ایک لاش کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن ان کو لینے یقینا فرشتوں نے اپنے پھیلائے ہوں گے۔ انہوں نے اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنے لوگوں کی وہ پودوں کی طرح پتوں، شاخوں، گلابوں اور پھولوں کی طرح آبیاری کرتے رہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ بلا شبہ وہ ایک شہید ہیں۔ الوادع! اے کشمیر کے شیر دل مجاہد! ایسے لوگ نایاب ہیں۔ بقول شاعر:

ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

Comments - User is solely responsible for his/her words