تما م رات بجے گی …. ابھی بجا کیا ہے؟


wisi 2 babaاوبامہ جب کہتا ہے کہ پاکستان افغانستان کئی دہائیوں تک عدم استحکام کا شکار رہیں گے تو یہ بات سن کر پھینکنے والی نہیں ہے۔ یقینا اس کا اشارہ شدت پسندی کی جانب ہے جو اس خطے کی جان سے چمٹی ہوئی ہے۔ بظاہر پاکستان اس شدت پسندی کو مو¿ثر شکست دے چکا ہے۔

اس وقت جب شدت پسند پاکستان میں کہیں بھی کوئی ایسی پناہ گاہ نہیں رکھتے جہاں سرکار کی رسائی نہ ہو۔ وہ اپنی عملداری کھو چکے ہیں پاکستان سے فرار ہو چکے ہیں اگر کہیں باقی بھی ہیں تو پاک افغان سافٹ باڈر پر یا اس کے آس پاس ہو سکتے ہیں۔ داعش نے اس ریجن میں جو اپنے مضبوط گڑھ بنائے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ افغانی سرحدی صوبوں میں ہی واقع ہیں۔

افغان طالبان وہ سارے سگنل دے رہے ہیں جن سے لگتا ہے کہ وہ دنیا کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن کیا یہ شدت پسندی اور عسکریت پسندی کے بھی خاتمے کا اعلان ہے تو بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ اس کی وجوہات ہیں۔ جب طالبان اپنے گلوبل ایجنڈے کے نہ ہونے کا اعلان کر رہے ہیں ہمسایہ ریاستوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ ان کی جدوجہد افغانستان کی سرحدوں کے اندر تک محدود ہے اس وقت داعش ایک گلوبل ایجنڈا رکھنے والی تنظیم کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

افغانستان میں موجود غیر ملکی دہشت گرد جن میں چیچن ازبک چینی تاجک اور عرب شامل ہیں وہ افغان طالبان کے گلوبل ایجنڈے کو ترک کر دینے کے بعد مجبور ہیں کہ داعش کی جانب دیکھیں جو نہ صرف گلوبل ایجنڈا رکھتی ہے بلکہ اپنی کارروائیوں میں ایک بے رحم تنظیم ثابت ہوئی ہے جو سرگرم ہونے کے بعد عراق شام یمن حتی کہ افغانستان میں بھی ایک مضبوط چیلنج بنی ہوئی ہے۔

پاکستان کے لئے اب مجبوری بنتی جا رہی ہے کہ وہ باقی عسکری تنظیموں کے ساتھ کشمیر میں سرگرم رہنے والی تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کرے۔ یہ کارروائی ناراض شدت پسندوں کے لئے داعش مین کشش پیدا کرے گی۔ شدت پسندوں کو فوجی شکست دی جا چکی ہے لیکن نظریاتی لڑائی کا ان سے ابھی آغاز ہی نہیں ہوا۔

چین جو آنے والے تیس سال کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھنے والا ملک ہے وہ اپنی اقتصادی ضرورت کے تحت ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ پر عمل کرنے جا رہا ہے۔ اکنامک کاریڈور کے نام سے مشہور ہونے والا یہ منصوبہ ان سب علاقوں کو آپس میں ملائے گا جہاں شدت پسند موجود ہیں۔ اگر شدت پسندی کا مرکز پاکستان افغانستان رہا ہے اور اب تک ہے تو یہ یاد رہے کہ کاریڈور بھی اسی علاقے میں سے ہو کر آگے جانا ہے۔

ایسے میں چین اور داعش دو ایسے حریف ثابت ہونے جا رہے ہیں جن کا ٹکراو یقینی ہے۔ چین اگر ریاستوں اور طالبان تک کو آن بورڈ لے رہا ہے تو داعش بھی سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہی ہے چین کی ہمسایہ وسط ایشیائی ریاستوں کے عسکریت پسندوں کو ساتھ ملا رہی ہے۔ یہ تصادم ہو کر رہنا ہے۔ چین کی طاقت کو قابو میں رکھنے کے لئے امریکی اگر داعش کا ساتھ نہیں بھی دیں گے تو اس کے خاتمے میں پوری دلچسپی بھی نہیں لیں گے۔ یہ چینیوں کا خیال ہے۔

چین کی سوچ ہے کہ القاعدہ کے اوجھل ہوتے جانے سے داعش ابھری ہے جس نے اپنا ٹارگٹ تبدیل کر لیا ہے جو اب امریکہ کی بجائے یورپ ہے جس کے ساتھ چین منسلک ہونے کے لئے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ شروع کر چکا ہے امریکہ خود محفوظ رہ کر ایک بار پھر جنگ سے کمائی کرنے کا موقع دیکھ رہا ہے اپنے لئے۔ معیشت کی اس لڑائی میں بڑا میدان ہمارے ہی خطے میں لگتا دکھائی دے رہا ہے جس کی طرف اوبامہ نے اپنی آخری صدارتی تقریر میں اشارہ بھی کیا۔

یہ لڑائی تب تک نہیں ختم ہو گی جب تک نظریاتی بنیادوں پر نہیں لڑی جائے گی۔ شدت پسند اس کو مذہبی بنیادوں پر لڑ رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے اپنی قیادت کے مارے جانے پر پہلے سے زیادہ سخت اور واضح عقائد نظریات رکھنے والی متبادل قیادت دی ہے۔

نظریاتی لڑائی کون لڑے گا ، کب لڑے گا اور کیسے لڑے گا ؟ اس پر بات ابھی ہونا ہے ۔ ساری باتیں آج ہی تو نہیں کر سکتے ۔ تمام رات بجے گی، ابھی بجا کیا ہے…. وغیرہ، وغیرہ ا¿


Comments

FB Login Required - comments