عبدالقدوس بزنجو بلوچستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے


وزارت اعلیٰ کے لیے مسلم لیگ ق کے عبدالقدوس بزنجو اور پشتون خوا میپ کے امیدوار آغا لیاقت کے درمیان مقابلہ تھا، جبکہ پشتونخواہ میپ کے ہی عبدالرحیم زیارتوال آغا سید لیاقت علی کےحق میں دستبردار ہوگئے تھے۔

بلوچستان کے نئےوزیراعلی کےانتخاب کےلئےاسمبلی اجلاس آج ہورہا ہے جس کی اسپیکرراحیلہ حمید خان درانی صدارت کررہی ہیں ، نئےوزیراعلیٰ کا انتخاب شوآف ہینڈ کے ذریعے کیا جائے گا جس کے بعد نیا وزیراعلیٰ آج شام ہی حلف اٹھائے گا۔

ذرائع کے مطابق عبدالقدوس بزنجو کی کامیابی کے امکانات واضح دکھائی دے رہے ہیں ۔

وزیراعلی کے لئے2 امیدواروں ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو اور پشتونخواہ میپ کے آغا لیاقت علی کےدرمیان مقابلہ ہے، پشتونخواہ میپ سے2 اراکین عبدالرحیم زیارتوال اورلیاقت آغانےکاغذات نامزدگی جمع کرائےتھے تاہم عبدالرحیم زیارتوال اجلاس سےتقریباایک گھنٹہ قبل آغا لیاقت کےحق میں دستبردارہوگئے۔

دوسری جانب اسمبلی اجلاس میں شرکت میں پہنچنےوالےاراکین میں سے نوابزادہ طارق مگسی کاکہناتھا کہ وہ میر عبدالقدوس بزنجو کی غیر مشروط حمایت کریں گے جان محمدجمالی کاکہناتھا کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو 40 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد بلوچستان نے بالغ ہونے کا ثبوت دے دیا،باقی صوبے بھی سیکھیں، پشتونخواہ میپ کے منظور کاکڑ کا کہنا تھا کہ بظاہر عبدالقدوس بزنجو باآسانی قائد ایواں منتخب ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے 2013 کے انتخابات میں پاکستان کی تمام اسمبلیوں میں سب سے کم ووٹ لے کر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے ضلع آواران سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر 544ووٹ حاصل کیے، حلقے میں صرف ایک اعشاریہ 18 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے۔

اس موقع پر اسمبلی کے باہر سکیورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔