سند باد جہازی اور دبئی کی مقدس سرزمین کے ٹھگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی قسط: سند باد جہازی کا پہلا سفر – دبئی کا جہاز اور فرنگی حسینہ ۔

جہاز کے اڑان بھرنے کے بعد بتیاں بجھا دی گئیں اور ہم نے خود کو محفوظ پا کر آنکھیں موند لیں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک روشنیاں جل اٹھیں۔ ہم سمجھ گئے کہ دبئی آ گیا ہے۔ بخدا یہ تو سنا تھا کہ ہوائی جہاز میں دنوں کا فاصلہ لمحوں میں طے ہو جاتا ہے مگر یہ گمان تک نہ تھا کہ یہ جہاز لاہور سے دبئی محض دس منٹ میں پہنچا دے گا۔ ہمیں تو دس منٹ کے لحاظ سے ہزاروں روپے کا ٹکٹ نری لوٹ مار لگی۔ ہم نے اس بات کا ذکر اپنے ساتھ بیٹھے نوجوان سے کیا۔ اس کا نام فریدوں سیالکوٹی تھا اور ہم پہلے رقم کر چکے ہیں کہ اس نے ہمیں دورانِ سفر بے شمار آفات بشمول ائیر ہوسٹس سے بچایا تھا۔

فریدوں مسکرایا اور اس نے ہمیں مطلع کیا کہ ابھی تو دبئی آنے میں چھے گھنٹے باقی ہیں۔ ابھی تو پریاں آئیں گی اور ہمیں کچھ کھانا کھلائیں گی۔ ہم حیران ہوئے لیکن پھر سوچا کہ پریوں کے لئے کیا مشکل ہے کہ اڑتے ہوئے جہاز میں آ جائیں۔ ان کے بھی تو پنکھ ہوتے ہیں۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ دو فرنگنیں ایک پہیوں والی میز کو کھینچتی ہوئی ہماری طرف بڑھ رہی ہیں۔ میز پر انواع و اقسام کے کھانے لدے ہوئے تھے۔ ہم سمجھ گئے کہ یہ ہمیں حرام کھلانے کے چکر میں ہیں لیکن ہم پہلے ہی سے تیار تھے۔

ہم لپک کر اپنی نشست سے اٹھے اور جھپٹ کر سر پر موجود سامان کا کھوپچہ کھول کر اپنا بیگ نکالا اور اس فرنگی حسینہ کے قریب آنے سے پہلے ہی اپنے قدموں میں رکھ دیا۔ ہم نے اپنے ہمراہی مسافر فریدوں سیالکوٹی تھا کہا ”بھائی فریدوں ہماری عزت تمہارے ہاتھوں میں ہے، ہمیں ان سے بچاؤ، یہ ہمیں زبردستی حرام کھلائیں گی۔ ہم زاد راہ کے لئے اپنے چنے لائے ہیں، وہ پھانک لیں گے لیکن ان کا لقمہء تر نہیں کھائیں گے“۔

فریدوں سیالکوٹی نے ان فرنگنوں سے کچھ گٹ پٹ کی اور وہ ہمیں ستائے بغیر چلی گئیں۔ فریدوں کو انہوں نے رنگا رنگ کھانے دیے اور ہمارے لاکھ منع کرنے پر بھی وہ ان کو چٹ کرنے لگا۔ اس کا ایمان کمزور لگتا ہے۔ اس کم بخت جہاز سے نکل کر ہم اس کا عقیدہ درست کریں گے۔ ابھی مشکل وقت ہے اور ایسے وقت میں تو گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے۔

ہم نے اپنے بیگ سے چنوں کی پوٹلی نکالی اور اپنے تختے پر ڈھیر بنایا اور کھانے لگے۔ خشک چنے چباتے چباتے حلق خشک ہوا تو ہم نے فریدوں سے اس کی ٹرے میں رکھا ہوا کولا کا گلاس مانگا۔ اس نے ہمیں مطلع کیا کہ حال ہی میں ان بوتلوں میں بھی شراب کی کچھ مقدار کا انکشاف ہوا ہے اور ہمیں ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس کے ایمان میں تو کجی ہے لیکن شکر ہے کہ ہمارے نور کی ہیبت اس پر ایسی طاری ہوئی ہے کہ ہمارے ساتھ غلط نہیں کر سکتا۔

ایک سربند کاغذی گلاس میں اس کی ٹرے میں پانی بھی تھا مگر اسرار نے یاد دلایا کہ ان فرنگیوں پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے اور اس پیک شدہ پانی کی بجائے ہمیں غسل خانے کی ٹونٹی سے تازہ پانی نکال کر پینا چاہیے۔ بات معقول تھی۔ ہم ہوائی جہاز کے غسل خانے میں گئے اور تازہ پانی خوب سیر ہو کر پیا۔ شاید ہم جیسوں کو ستانے کے لئے ہی غسل خانے کی ٹونٹیاں اتنی کم جگہ میں لگائی جاتی ہیں کہ چلو بھرنا بھی مشکل ہو جائے۔ واپس نشت پر بیٹھے ہی تھے کہ جہاز کی بتیاں گل ہو گئیں اور ہماری آنکھ اس وقت کھلی جب جہاز دبئی کے ہوائی مستقر پر اترنے کا اعلان ہو رہا تھا۔

ہوائی مستقر پر اترے اور ہم نے خدا کا شکر کیا کہ مقدس سرزمین عرب کو ہمارے قدم چھو رہے ہیں۔ پاکستان میں تو فحاشی اور عریانی کا سیلاب آیا ہوا ہے، شرم و حیا رخصت ہو چکی ہے، مگر سرزمین عرب پر ہمیں ہر طرف باحیا اور باعبایا خواتین دیکھنے کو ملیں گی جن کا سراپا مستور ہو گا لیکن ان کی سیاہ غزالی آنکھیں دیکھ کر دل چار نکاحوں کی تمنا کرے گا۔ ہم فریدوں کو اپنا سفری امام مان کر وہی کرتے گئے جو وہ کر رہا تھا۔

ہم مقدس سرزمین عرب کے ہوائی مستقر کے لاؤنج میں داخل ہوئے تو ایک مرتبہ تو یوں لگا کہ جنت میں داخل ہو گئے ہوں۔ قطار اندر قطار حوریں ادھر مٹرگشت کر رہی تھیں۔ لیکن ادھر موٹے اور گنجے مردوں کو دیکھ کر ہمیں علم ہو گیا کہ یہ فرنگیوں کی فوج ظفر موج ہے جو ہمیں گھیرے کھڑی ہے۔ فریدوں نے ہمیں بازو سے پکڑا اور ان سے بچا کر آگے لے چلا۔ علم ہوا کہ یہاں جہاز بدلنا ہو گا۔

عجب جادو کا کارخانہ بنایا ہوا ہے اہل عرب نے۔ لیکن ہمیں زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کو سائنس کا تحفہ مسلمان سائنسدانوں نے دیا ہے۔ طبیعات، حیاتیات، فلکیات اور ریاضی غرض کہ ہر علم کے موجد مسلمان ہی ہیں۔ ایسے میں جب ہم نے ایسے حیرت انگیز زینے دیکھے جو خوب بخود انسانوں کو ایک منزل سے دوسری پر پہنچا دیتے ہیں اور ایسی متحرک روشیں پائیں جو تخت رواں کی مانند مسافر کو ایک مقام سے دوسرے تک لے جاتی ہیں تو ہم حیران نہیں ہوئے بلکہ اپنے ارد گرد موجود فرنگیوں پر فخر کی نگاہ ڈالتے رہے کہ تم ہمارا کیا خاک مقابلہ کرو گے، دیکھو یہ ہے سائنس کی دنیا میں ہمارا مقام۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

اس سیریز کے دیگر حصےسند باد جہازی کا پہلا سفر – دبئی کا جہاز اور فرنگی حسینہ
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1395 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar