مستنصر حسین تارڑ کا بہاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 152
  •  

بہاؤ زندگی کا نام ہے وہ زندگی جو پانی کے سنگ بہتی ہے، پانی کے ساتھ ٹھہرتی ہے اور پانی کے ساتھ ہی کوچ کر جاتی ہے۔ یہ زندگی کے، وقت کے، تہذیب اور فطرت کے سفر کا نام ہے کہ یہ سب ایک تغیر میں ہیں، ہونے سے نہ ہونے اور گم ہو جانے سے پھر سے دوبارہ طلوع ہو جانے تک کے سفر کا۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول ’بہاؤ‘ زندگی کے ہر بنیادی عنصر کی علامت کو بیان کرتا ہے، یہ امید سے نا امیدی تک اور خشکی سے تری تک کا سفر ہے۔

بہاؤ اس قدر نئے معانی آپ پر آشکار کرتا ہے کہ انسان سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس نے کیا پڑھا، کیا سمجھا اور کیا جانا، اور جو سمجھا شاید ادھورا سجھا، جو جانا بہت ہی کم جانا۔ میں نے یہ ناول آج پڑھا جب اس ناول میں پیش کی گئی تعبیریں ہماری زمین پر حقیقت ہو کر اترنے لگی تھیں اور اس میں چھپائی گئی پہلیاں کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے کے قابل ہونے لگی تھیں۔

بہاؤ پڑھنے کے بعد جو سب سے پہلا کام میں نے کیا وہ تھا اس کی اشاعت کی تاریخ اور سن دیکھنا۔ جانے کیوں مجھے لگا کہ شاید یہ پچھلے پانچ چھے سال میں چھپا ہو گا۔ مگر جب 1992 کی تاریخ دیکھی تو میں واقعی حیرت زدہ رہ گئی۔ شاعر پیغمبر مانے جاتے ہیں اکثر اس لئے نہیں کہ ان پر اللہ کی کتاب یا مذہب اترتا ہے۔ بلکہ اس لئے کہ ان کی نگاہ بصیرت اکثر دور تک دیکھتی ہے جہاں عام لوگوں کی بصیرت دیکھ نہیں پاتی۔ یہ زمیں پر ہوتی ہوئی تبدیلیوں کی بو سونگھتے، وقت اور تہذیب کے بدلنے کی دھڑکن سنتی، اور موسموں کی آہٹ کو پہچانتی ہے۔

تارڑ صاحب شاعر تو نہیں مگر اس ناول میں وہ کام ایسی ہی اہل بصیرت آنکھ کا کر گئے۔ آج پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پانی کم ہے مگر اٹھارہ سال پہلے شاید بہت کم لوگوں کو اس بات کا ادراک تھا۔ جن میں تارڑ صاحب شامل تھے جنہوں نے آج کے پانی کی کمی کے دہانے کھڑے پاکستان کو بہاؤ کی صورت ایک کال دی تھی اور اپنی تہذیب کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ پانی کم ہو رہا ہے یعنی زندگی کا سرا ہاتھ سے سرک رہا ہے۔

بہاؤ کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو آئنہ دکھانے سے بڑھ کر دیوتا بنا کر پوجے گئے سورج کو آئنہ دکھانے کے مترادف ہے کہ جس کے تذکرے پاک و ہند سے بڑھ کر دنیا بھر کے اہل ذوق حلقوں میں ہو چکی اس کے بارے میں اتنے عرصے بعد کوی بات کرنا، چہ معنی؟ مگر ایک ایسی زندہ جیتی جاگتی تحریر کا پڑھنا اور اس کا ذکر نہ کرنا چاہے وہ ذکر کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو چکا ہو اپنے آپ میں ایک بہت بڑی زیادتی ہے۔

آج کی دنیا میں آنے والے خدشات، واہمات، اور توقعات کے ادراک کا نام ہے بہاؤ! کیا انسان ہمیشہ ایسا ہی سوچتا رہے گا کہ ایسے ہی ہوتا ہے اور ایسے ہی ہوتا رہے گا۔ نہ کوئی گاگرا سوکھے گا نہ کوئی ستلج نہ راوی۔ سیلاب ہمیشہ زرخیزی لے کر ہماری طرف لپکتے رہیں گے اور ہمارے بھڑولوں میں پڑی کنک ہمیشہ ہمارے آنے والے اگلے سال کے لئے کافی ہو گی؟ اور کیا محض ہر سال بیج بو کر لنک اگا لینا ہی بنی نوع انسان کے لئے کافی ہے؟ یہ وہ سارے سوال ہیں جو یہ ناول انسان اور اس کی تہذیب کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ موہنجو دارو کی قدیم تہذیب سے نکل کر حالات و واقعات کو ذرا علامتی نگاہ سے دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ یہی ہماری موجودہ تہذیب کی کہانی ہے۔ ہمارے لوگوں اور ریاست کی حکایت ہے۔

امید اور نا امیدی کے درمیان گھومتی، خوف اور خدشات میں گھری، زندگی کے بیچ میں کھڑی موت سے دل لگاتی اور موت کے دروازے پر پہنچ کر زندگی کی طرف لپکتی پاروشنی وہی انسانی جبلت ہے جو انسانوں کو مشکلیں پار کرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ جو سیلابوں کے، زلزلوں اور قحط کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے اور اپنی حیات کے موسم خود تخلیق کر لیتی ہے۔ پا روشنی وہ جذبہ ہے جو انسان کے اشرف المخلوقات ہونے اور ایک طاقتور تخلیق ہونے کا اعلان کرتا ہے۔

جو چاہے تو جیتے جاگتے شہروں میں جشن مرگ طاری کر دے، چاہے تو دھم ہوؤ دھم کرتی اجڑی بیابان بستی میں امید کے نئے بیج بو دے۔ بیچ جو زندگی کو بڑھاتے ہیں، جو آنے والے موسموں کی صبح بنتے ہیں اور انسانوں کا مستقبل، ان کے خواب اور امید بنتے ہیں۔ پا روشنی ایک قدیم تہذیب کی مٹیار جو دو لوگوں سے ایک ساتھ پیار کر سکتی ہے اور ان سے ایک ساتھ بیاہ بھی کر سکتی ہے۔ اور پڑھنے والا اپنے وقت، مذہب اور تہذیب کی بنا پر اس کی طرف ایک اشارہ تک نہیں کر سکتا بلکہ اس کی تمکنت، اس کے رعب حسن کے سامنے جھکتا چلا جاتا ہے۔ ایک لکھاری کا ہنر اپنا عروج تب آ شکار کرتا ہے جب وہ اپنی تخلیق ہر سوال سے مبرا کر دیتا ہے۔ جب اس کے کہے پر قاری کو کان دھرنے پڑتے ہیں اور اس کی کہی ہر بات پر آمین کہنا پڑتا ہے۔ ہم جیسے بہت سے قلم کے نئے آشناؤں کے لئے یہ تارڑ صاحب کے عروج بام کا عظیم تر سبق ہے۔

پکلی کی صورت میں وہ ثقافت نظر آتی ہے جو سانس کھونے سے پہلے اپنی نشانیاں گھڑوں پر رنگ برنگے بیل بوٹے الیک کر ہمیشہ لہروں کے کنارے چھوڑ جاتی ہے تا کہ آنے والے زمانوں میں پنپنے والی نئی بستیاں، نئے معاشرے کے نئے لوگ ان ٹھیکریوں پر کھدے نقش و نگار سے موہنجو ڈارو اور ہڑپہ جیسی تہذیبوں کے سراغ پا سکیں، ان کی کہانیاں جانتے رہیں اوران سے تقویت اور عبرت حاصل کرتے رہیں۔

مامون ماسا، وہ درویش جو زمین اور آسمان کے بیچ کہیں زندگی کی نبض پر ہاتھ رکھے اس میں موت اور حیات کی رگ کو ٹٹولتے رہتے ہیں۔ مور کی صورت گونگے بہرے پرندوں اور جانوروں کی وہ مخلوق جو تبدیلیاں محسوس کرتے ہیں، ان کو دیکھ سکتے ہیں، مگر ان کو روک نہیں سکتے۔ عمل کی طاقت نہیں رکھتے۔ جو معاشرے کو سدھارنے اور بگاڑنے میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ جو محض بھیگی آنکھوں سے کرب کو ظاہر کر سکتے ہیں اور آخر میں شاخوں سے لپٹ کر ان کے ساتھ سوکھ سکتے ہیں۔ تو جب انسان بھی شاخوں کے ساتھ لپٹ کر سوکھ جانا چاہے تو وہ اعلی ارفع انسان نہ رہا کہ اپنے مقام سے گر کر ایک پرندہ یا محتاج چوپایہ ہو گیا۔

یہ ناول بنی نوع انسان کے سامنے ایک بہت بڑا سوال بھی رکھ دیتا ہے جو پوچھتا ہے کہ سوکھتی زمین کے ساتھ سوکھ جانا انسانیت کی معراج ہے یا موسموں کے ساتھ نقل مکانی کر جانا اشرف المخلوقات ہونے کی اصل دلیل ہے؟ کیا اس زمین کی سب سے ذہین اور طاقتور مخلوق کو مقدس بیلوں، سوکھتے گاگرا اور ریت میں دفن ہوتے گھروندوں میں دفن ہو جانا چاہیے یا خدا کی دی گئی اس جان، بصیرت اور شعور کو لے کر حکم سفر اوڑھ کر نئی زرخیزیوں کی سمت کوچ کر جانا چاہیے۔ کیا انسان صرف دیواروں سے چپکے رہنے کے لئے تخلیق کیا گیا ہے یا سوکھے سے آگے ان کے لئے نخلستان اور بھی ہیں۔

ڈورگا، کسی بھی معاشرے کا استحصال زدہ وہ مزدور طبقہ جن کو خبر ہی نہیں کہ وہ بیلوں کی طرح ڈھوئے جانے کا قابل نہ تھے۔ جو سرمایہ دارانہ نظام کے تحت ہمیشہ جھکے کندھوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اور انہیں جھکے کندھوں سے دفن ہوتے رہیں گے۔ جب تک کوئی ورچن، کوئی رہنما بنکر ان کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر ظلمت کی ندیاں پار کر کے ان کو روشنی، آزادی اور خودمختاری کی طرف کا راستہ نہ دکھا دے، ان کا نیا جنم نہ دے دے۔

مقدس بیلوں کی صورت دینی خدمات پر مامور مذہبی پیش رو، اور دین کے سپاہی جو سفید ہاتھی بن کر معاشرے پر صرف اپنا بوجھ ڈالنا چاہتے ہیں اور اس طرح سے تقدس کی پٹی اشرف المخلوقات انسان کے سر پر باندھ دیتے ہیں کہ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ یہی مقدس بیل نہ صرف ان کی بہت سی بنیادی ضرورتیں پوری کر سکتے تھے بلکہ اور بھی کچھ اہم کام تھے جن میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا۔ بجائے اس کے کہ ان کو مذہبی چولے پہنا کر ان کے غضب سے ڈرا جاتا، خدا کی زمیں پر ان کو خدا مانا جاتا، ان کی طرف منہ کر کے ان کو سجدے کیے جاتے اور پرستش کی جاتی۔ انسانی دماغوں کو چاٹنے اور کھانے کے لئے کئی قوتیں اس دنیا میں کار فرما ہیں اور بہاؤ ان سب کی کہانی ہے۔

کاش کہ کبھی کوئی اس کا انگلش ترجمعہ کر سکے اور دنیا کے بڑے بڑے ادب کے میناروں کو بتا سکے کہ ہمارے ہاں پاکستان کے اردو ادب میں کیسی کیسی معرکتہ الآرا تخلیقیت ملتی ہے اور کیسے کیسے پیغمبری ترسیل کرنے والے ذہین دماغ ہماری اردو کو حاصل ہیں اس سے پہلے کہ ہمسایہ ملک سے کوئی لکھاری اس کا ایک سرقہ لکھ کر پوری دنیا کو اپنے نام سے چونکا دے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 152
  •