عورتوں کے بارے میں ہمارا مجموعی رویہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے میں پروان چڑھنے والے رویے ّ اسی معاشرے کی عکا سی کرتے ہیں اور معاشرے انسانوں سے بنتے ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ شعوری سطح کیسے بلند ہوتی ہے۔ کیا صرف علم معاشروں کو بلند کر سکتا ہے۔ کیا معاشرے کے چند با شعور لوگ پورے معاشرے کے رویے تبدیل کر سکتے ہیں۔ ایسا کم از کم ہمارے مشرقی معاشروں میں تو ممکن نہیں ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک کتاب کی تقریب ِرونمائی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس ادبی تقریب میں بڑے بڑے ادبی لوگ شامل تھے جو بہت ساری کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ اس ادبی تقریب میں جا کر دل بہت خوش ہواکیونکہ جن علمی طور پرمعتبر شخصیات کو ٹی وی پردیکھا اور اخباروں میں پڑھا کرتے تھے آج ان شخصیات کے رو برو ہو کر ان کو سننے کا موقع مل رہا تھا۔ ان علمی شخصیات کی علمی گفتگو سن کر دل باغ باغ ہو گیا۔ تقریب کے اختتا م پر ایک بڑے ہال میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیاگیا تھا۔ بڑی خوشی ہوئی کہ آج ان ادبی شخصیات کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا بھی شرف حاصل ہو رہا ہے۔ کھانا کھانے کے بعد گپ شپ کا دور شروع ہو گیا۔

اس خو ش نصیبی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں بغور ان شخصیات کی گفتگو سننے لگا جنھیں میں ادبی تقریب میں سن کر آیا تھا۔ میری حیرانگی کی انتہا نہ رہی جب میں نے ان کو قریب سے سنا۔ جو زبانیں ادبی تقریب میں علم و عرفان کے مو تی بکھیر رہی تھیں وہی زبانیں اب زہر اُگل رہی تھیں۔ چونکہ جس کتا ب کی تقریب رونمائی کے سلسلہ میں یہ تقریب منعقد ہوئی تھی وہ کتاب دو لوگوں نے ترتیب دی تھی، ایک مرد اور ایک عورت نے۔ اسی تقریب میں شریک یہ ادبی شخصیات مصنفہ کے بارے میں کہہ رہے تھے کی یہ ایک (… عورت ہے – حذف شدہ لفظ ناقابل اشاعت تھا) عورت ہو کر کتاب لکھی ہے، یہ اس نے خود نہیں لکھی بلکہ بہت سارے لوگوں سے لکھوائی ہے (قہقہہ۔) اور جس طرح لکھوائی ہے کوئی عز ت دار خاتون اس طرح کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہ گفتگو سن کر میرا دماغ ماؤف ہو گیا اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہاتھاکہ یہ ہمارے معاشرے کے ہی پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کا تہذیبی رنگ اتنا کچا ہے کہ کچھ ہی لمحوں میں ادھڑ گیا۔ بو جھل قدموں کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے واپسی ہوئی کہ اگر ہمارے معا شرے کے با شعور ستونو ں کا یہ حال ہے تو معاشرتی عمارت کیسے بہتر اور مضبوط ہو سکتی ہے۔ آج کل ایک ڈرامہ نگار خلیل الرّحمٰن قمر کے ایک بیان پر بہت شور مچا ہوا ہے کہ موصوف نے عورتوں کے بارے میں کوئی سلجھی ہوئی زبان استعمال نہیں کی۔

اس میں فکر کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ عورت کے حوالے سے ہمارا مجموعی رویّہ شروع سے ہی بہت منافقانہ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید سڑاند صرف گندے پانی سے ہی آتی ہے، ذہنی سڑاند اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس کے اثرات زبان کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگوں کی ہمارے معاشرہ میں کمی نہیں ہے۔ لیکن کیا ذہنی غلاظت کو تعلیم دور کر سکتی ہے۔ اَن پڑھ لوگوں کو تو چھوڑیئے جناب یہاں تو پڑھے لکھے لوگوں کی گالیوں میں پوری کی پوری عورت سما جاتی ہے، ہمارے معاشرے میں آج جو تھوڑا بہت احترام اورمرتبہ عورت کو حاصل ہوا ہے وہ اسی سماج کی عورت کی جدو جہد کا ثمر ہے۔

ورنہ ہم نے سماجی غیرت کے نام پر اس کے پر کترنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عورت کے اندر جرأت پرواز ہے مگر ہم میں حوصلہ نہیں ہے اُن کو آزادانہ طور پر پرواز کرتے ہوئے دیکھنے کا۔ ہماری ذہنی کسمپر سی کا یہ عالم ہے کہ جب ملالہ زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی تو ہم اس واقعہ میں بھی بین الاقوامی سازش ڈھونڈ رہے تھے۔ جب شرمین عبید چنائے کو ایوارڈ سے نوازا گیا تو اس وقت بھی ہمیں اس میں بیرونی سازش نظر آ رہی تھی۔

ویسے داد دینی چاہیے ہماری نظرو فہم کو جو لاکھوں میل دور سے سازشی تھیوری کو بھانپ لیتی ہے مگر اپنے معاشرے میں ذہنی طور پر قد آور ٹیلنٹ کو نہیں دیکھ پا تیں۔ جب اسی ٹیلنٹ کو بیرونی طور پر تسلیم کر لیا جاتا ہے تو پھر ہمارے کان کھڑے ہو جاتے ہیں او رہمیں بھی چاروناچار تسلیم کرنا پڑجاتا ہے۔ ہم نے عورت کو بطور فرد کبھی تسلیم ہی نہیں کیابلکہ اس کو روایات کے نام پرجتنے ممکنہ طور پر طوق پہنائے جا سکتے تھے اس کو پہنا دیے۔ کبھی غیرت کے نام پر کبھی مذہب کے نام پراور کبھی اپنی روایات کی گھِسی پٹی اقدار کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عورت کی اس درد ناک حقیقت کو ڈاکٹر خالد سہیل نے کچھ اس نظر سے محسوس کیا تھا۔

میں عورت ہوں دنیا والوں شہر کی ساری دیواروں پر

میں نے اپنی ذات کے قصے ّ میری ننگی تصویروں سے

صدیوں سے جو سینہ بسینہ مجھ کو ہی نیلام کیا تھا

چلتے آئے دیکھ لیے ہیں سب مردوں نے مل کر صدیوں

سچ پوچھو وہ سب جھوٹے ہیں میری ایک کہانی لِکھی

میری زیست کا ہر ایک قصہ ایسی کہانی جس میں عورت

مردوں کا مرہونِ منت مردوں کا احساس لذت

ان کے ذہنوں کی عکاسی کمزوری کی ایک علامت

میرے لئے رسوائی ذلت کل تک میں اک خواب تھی لیکن

گھر کی قید میں رکھ کر مجھ کو آج ہوں میں اک زندہ حقیقت

گلیوں میں بدنام کیا تھا گھرکی میں بنیاد تھی برسوں

میری فطرت حسن و صداقت

کاروبار ِ زیست میں کب سے

مردوں کے اب شانہ بشانہ

کرتی ہوں دن رات میں محنت

صدیوں کی فرسودہ کہانی

میں نے مٹائی۔ اِس کو مٹا کر

تازہ کہانی لکھنے لگی ہوں

دنیا والوں اک دن تم بھی

ٓتازہ کہانی دیکھنے آؤ

میری کہانی سننے آؤ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •