ورکنگ خواتین اور ان کے مسائل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت کے بہت سارے روپ ہیں۔ عورت بیک وقت بہن، بیٹی، بیوی اور ماں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وجودِ زن سے ہے کائینات میں رنگ۔ یہ بالکل صحیح کہاوت ہے۔ کیونکہ عورت کے بغیر گھر گھر نہیں لگتا پھر چاہے اس کا کوئی بھی روپ ہو۔

ماں باپ کے گھر ہوتی ہیں تو اس کی ذمہ داریاں کچھ اور ہوتی ہیں۔ باپ اور بھائی کی جہاں لاڈلی ہوتی ہیں وہاں ان کی عزت کی پاسداری کی بھاری ذمہ داری بھی اس کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ جب بیوی بنتی ہے تو شوہر اور اس کے گھر والوں کی ساری ذمہ داریاں اپنے سر اُٹھا لیتی ہے۔ ماں بنتی ہے تو ذمہ داریوں میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ یعنی ہر روپ میں بھاری ذمہ داریاں عورت پر آتی ہیں۔

کیونکہ معاشی مسائل اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اب ایک بندے کے کمانے سے اخراجات پورے نہیں ہوتے لہاذا خواتین کو بھی گھر سے باہر نکلنا پڑ رہا ہے تاکہ وہ گھر کے اخراجات اُٹھا سکیں اور شوہر کا ہاتھ بٹا سکیں۔ اب وقت بہت بدل چکا ہے آج کے دور میں خواتین ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں جیسا کہ بینکنگ، ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ، ٹیچنگ، کسٹمر سروس اور اس طرح کے کئی شعبے۔ بڑے شہروں میں لوگوں کی کافی سوچ بدلی ہے۔ لیکن اس میل ڈومیننٹ سوسائیٹی میں ایک عورت کا کام کرنا انتہائی مشکل ہے۔

وہ گھر سے باہر تو نکلتی ہے لیکن ہر قدم پر ذمہ داریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ اس نے گھر کو بھی دیکھنا ہے بچوں کے کھانے پینے، کپڑے، پڑھائی سب کا خیال کرنا پڑتا ہے۔ گھر کے سارے کام نمٹا کر نوکری پر جاتی ہے۔ وہاں کے کئی اور مسائل اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ نوکری پر ہر بندہ ٹانگ کھینچنے پر لگا ہوتا ہے۔ ہر کام میں پرفیکشن دکھانی پڑتی ہے۔ ہر وقت فریش، ایکٹو رہنا پڑتا ہے۔ کولیگز اور باس کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ تھوڑی سی بھی لاپرواہی کوئی برداشت نہیں کرتا۔

گھر میں جو بھی پریشانیاں ہوں گھر ہی چھوڑ کر آنا پڑتی ہیں۔ آفس والے یہ سمجھتے ہیں کہ آفس کے کام کے علاوہ کوئی کام نہیں اور کوئی زندگی نہیں۔ وہ تنخواہ دیتے ہیں تو آپ پر پورا حق رکھتے ہیں۔ ڈیڈ لائینز کو میٹ کرنا، میٹنگ کرنا، کلائینٹس سے بات کرنا اسی طرح ہر شعبے کے اپنے مسائل اور ہزار جھنجھٹ ہوتے ہیں۔

خواتین معاشی مسائل کی وجہ سے گھر سے نکلتی ہیں لیکن گھر والوں کی طرف سے پابندی ہونے کی وجہ سے ایسی نوکری کرنے پر مجبور ہوتی ہیں جس کی تنخواہ کم ہوتی ہے۔ لیکن کام زیادہ ہوتا ہے جیسے ٹیچنگ وغیرہ۔ کیونکہ گھر والے چاہتے ہیں کہ گھر کے کام اور بچے بھی ڈسٹرب نہ ہوں اور پیسے بھی آجائیں۔ ان کو ایسی نوکری کرنی پڑتی ہے جس کے ورکنگ آورز کم ہوں تاکہ وہ بچوں اور گھر کو وقت دے سکیں۔ اور شادی شدہ ہونے کی وجہ سے لیٹ ورکنگ آورز والی نوکری نہیں کر پاتیں اور اچھے اپنی قابلیت کے مطابق مواقع حاصل نہیں کر سکتیں۔

کیونکہ خواتین گھر کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے باہر نکلتی ہیں اس لیے میل ڈومیننٹ سوسائیٹی میں ہراسمنٹ پر آواز نہیں اٗٹھا سکتیں۔ اور ان کو طعنے، غلیظ باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ صرف اپنی مجبوریوں کی وجہ سے۔ نوکری چھوڑ نہیں سکتی، لوگوں کو جواب دے نہیں سکتی حتی کہ گھر والوں کو بھی بتا نہیں سکتی۔ ساتھی ورکرز کا جارہانہ رویہ خواتین کو آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنی پڑتی ہے جو کہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے ہمارے معاشرے میں۔ زیادہ تر ایسی نوکریاں کرنی پڑتی ہیں جو گھر کے پاس ہوں تاکہ آنے جانے میں وقت بچ جائے اور کرائے کی بھی بچت ہو جائے۔

اس کا حل یہ ہے کہ حکومت اور ادارے اپنی اپنی جگہ ماحول کو بہتر بنائیں اور خواتین کے لئے سازگار بنائیں۔ خواتین کے لئے دفتری اوقات میں تھوڑی کمی کی جائے تاکہ وہ گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی بخوبی نبھا سکیں۔ ڈے کئیر کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ بچوں کی طرف سے ان کی پریشانی ختم ہو اور وہ سکون سے کام کر سکیں۔

دوسرے اہم بات کہ ہم اپنا ماحول خود بناتے ہیں اپنی سوچ سے اپنے عمل سے۔ اپنی سوچ کو بدلیں جب ہم کسی کو عزت دیں گے اہمیت دیں گے اس کی رائے کا خیال کریں گے تو لوگ بھی اسی طرح ہمارا خیال کریں گے اور عزت دیں گے۔ جب ہم کسی کی مدد کریں گے تو اللہ تعالی ہماری مدد کرہں گے۔ ہم مخلوق خدا کا خیال کریں گے تو اللہ تعالی ہمارا خیال کریں گے۔ ہم کسی کے راز کا پاس رکھیں گے تو اللہ ہمارے گناہوں پر پردہ ڈالیں گے۔

ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے کہ کمپنی کی طرف سے سہولت دی جائے تاکہ دور کے علاقوں سے خواتین آسانی سے آ سکیں۔ تاکہ خواتین اپنی قابلیت کے مطابق نوکری کر سکیں۔ اور اپنی تعلیم کا فائدہ اٹھا سکیں۔ جب سب مل کر کام کریں گے ایک دوسرے کو آگے بڑھنے کے مواقع فرایم کریں گے تو ہم خود بھی ترقی کریں گے اور ہمارا ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ انشا اللہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •