مسلم لیگ (ن) کے رہنما مریم نواز کی قیادت میں چودھری نثار کے گھر جا کران سے معافی مانگیں: سلیم صافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینئر صحافی سلیم صافی کا کہنا ہے کہ آج کے فیصلے کے بعد شریف فیملی میں گڑ بڑ شروع ہو گئی ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف اس وقت لندن میں مشاورت کر رہے ہیں اور ہو سکتا ہے مریم نواز بھی ٹویٹ کریں۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیتے ہوئے سینئر صحافی و کالم نگار سلیم صافی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ آج کے فیصلے پر میڈیا اور ورکرز کے ردعمل کے بعد شریف فیملی میں تھوڑی گڑ بڑ جنم لے چکی ہے۔

دونوں شریف اس وقت لندن میں مشاورت کررہے ہیں اور کسی حد تک اس بات کا بھی امکان ہے کہ مریم نواز کا ٹویٹر اکاونٹ انگڑائی لے۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع بتا رہے ہیں کہ آج کے فیصلے پر میڈیا اور ورکرز کے ردعمل کے بعد شریف فیملی میں تھوڑی گڑ بڑ جنم لے چکی ہے۔ دونوں شریف اس وقت لندن میں مشاورت کررہے ہیں اور کسی حد تک (اگرچہ بہت کم ) اس بات کا بھی امکان ہے کہ مریم نواز کا ٹویٹر اکاونٹ انگڑائی لے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سینئر تجزیہ کارسلیم صافی نے کہا تھا کہ ن لیگی قیادت چودھری نثار کے گھرجا کران سے معافی مانگیں، سب قائدین مریم نواز کی قیادت میں جا کرمعافی مانگیں، اگر چوہدری نثار کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی، جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ تابعداری کی وہ سیاست کرنی پڑتی جواب کی جارہی ہے۔

انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق نون لیگ کے فیصلے میں میاں نوازشریف اور مریم نواز پوری طرح شریک ہیں۔ گویا یہ اعتراف کرلیا گیا کہ شہباز شریف اور چودھری نثارکا بیانیہ درست اور مریم نواز وغیرہ کا غلط تھا۔ کیا وہ خوشامدی اب معافی مانگیں گے جنہوں نے باپ بیٹی کو پنگے لینے پر اکسایا؟ انہوں نے کہا تھا کہ اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین مریم نواز صاحبہ کی قیادت میں چودھری نثارعلی خان کے گھرجا کران سے معافی مانگیں۔ ان کی بات مانی جاتی تو نہ حکومت جاتی ، جیلیں دیکھنی پڑتیں اور نہ بعدازخرابی بیسیار تابعداری کی وہ سیاست کرنی پڑتی جو اب نون لیگ کرنے لگی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *