مولانا طارق جمیل کی دعا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شہزادہ سلیم نے اکبر اعظم کے خلاف بغاوت کر دی۔ اکبر خود فوج کی قیادت کرتا ہوا شہزادہ سلیم کے مقابل آیا اور چند گھنٹوں میں جنگ کا فیصلہ ہو گیا لاڈلا شہزادہ زنجیروں میں جکڑا بادشاہ کے سامنے پیش ہوا اور معافی کا طلبگار ہوا یاد رہے اس ولی عہد کو پانے کے لئے اکبر پیدل سلیم چشتی کی درگاہ تک گیا تھا۔ بادشاہ نے شہزادے سے پوچھا تم نے یہ گستاخی کیوں کی شہزادے نے کہا ابا حضور غلطی ہو گئی۔ بادشاہ نے معاف کر دیا اور کہا شہزادے جتنا بڑا انسان کا عہدہ ہوتا ہے اس کی غلطی کی اتنی بڑی قیمت ہوتی ہے کیا تمہیں معلوم ہے اس معمولی غلطی کی قیمت کتنی ہزار انسانی جانوں کو چکانی پڑی کتنی ہزار عورتیں بیوہ اور کتنے بچے یتیم ہوئے۔

ہماری مساجد میں دعا کا ایک عام انداز ہے کہ اے اللہ ہم گناہگار ہیں خطا کار ہیں ہم گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں تسلیم کرتے ہیں اور تیری بخشش کی امید لے کر آئے ہیں کئی سالوں سے مولانا طارق جمیل کی دعا کا بھی یہی انداز ہوتا تھا۔ اس میں سود۔ بے حیائی۔ اور باقی معاشرتی برائیوں پر تنقید کر کے توبہ کی اپیل کی جاتی تھی اور اللہ کا رحم مانگا جاتا تھا تو اب مولانا نے کیا غلط کر دیا۔

یاد رہے مولانا تبلیغی جماعت میں ایک خاص سوچ رکھتے ہیں کہ سیلیبریٹیز پر محنت کی جائے اور ایک سیلیبریٹی ہزاروں فینز کو تبلیغ کی راہ پر لے آتا ہے۔ مولانا پارلیمنٹ میں بھی دعا کروا چکے ہیں اور کئی دفعہ نواز شریف کے پاس بھی تبلیغ کرنے آ چکے ہیں اور اس بات پر خاص طور پر پی ٹی آئی کے میڈیا سیل کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

مولانا کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے اب کی دفعہ ان کی تقریر جن کے حق میں سمجھی گئی ہے وہ نادان دوست ہیں اور ایک روایت کے بندر کی طرح مکھی مارنے کے لیے مولانا کے منہ پر تلوار چلا رہے ہیں۔ مولانا کی تقریر کو سیاسی حمایت کا سٹنٹ بنانا پی ٹی آئی کی زیادتی تھی۔ اور پی ٹی آئی کا میڈیا سیل مولانا کی پوسٹس شئیر کر کے اس مسئلے کو مسئلہ کشمیر بنا رہا ہے مولانا کے پاس صرف ایک راستہ ہے اور وہ ہے مولانا عبد الوہاب کا راستہ انہیں بالکل صاف الفاظ میں سیاسی وابستگی کے تاثر کی نفی کرنی چاہیے اور ٹی وی پر آ کر بتانا چاہیے کہ نواز شریف سے لے کر عمران خان پر وہ محنت پاکستانی قوم کی بہتری کے لئے کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *