سماجی دوری کے زمانے میں سماجی قربت کے قیامت نامے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیسویں صدی میں، شاید اس قدر شہرت، پسندیدگی اور وسعت کسی اور چیز کے حصے میں نہیں آئی جو سوشل میڈیا نے بہت خاموشی اور بہت تیزی سے ہتھیا لی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ماضی کی انگریز سرکار کی طرح سوشل میڈیا کی سلطنت میں بھی سورج غروب نہیں ہوتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طلوع آفتاب سے شروع ہونے والا صارف اور سوشل میڈیا کا یہ سلسلہ یوں گردش میں آتا ہے کہ اگر سات دنوں پر صارف کے ساتھ، اس کی رفاقت کا تناسب لگایا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ٹوئنٹی فور سیون ( 24 / 7 ) فارمولے کا اطلاق اگر آج کہیں صحیح معنوں میں ہوتا ہے تو وہ سوشل میڈیا ہی ہے، جو بلاشبہ، بلا تھکن رابطے کی رتھ دوڑائے چلا جاتا ہے اور ہانپتا بھی نہیں۔

ادھر، اس کے استعمال کنندگان بھی کچھ ایسے بے صبرے نکلے ہیں کہ لمحہ بھر کو سانس لے کر آگے بڑھنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ ان کی بے قراری اور وابستگی کا انداز کچھ اس طرح ہے جیسے انہیں اس نوعیت کا پلیٹ فارم بڑی منتوں اور دعاؤں کے بعد ہاتھ لگا ہو۔ ایک ایسا پلیٹ فارم جو بلاجھجک اور بلاتوقف الہ دین کے چراغ سے نکلے جن کی طرح ہر حکم بجا لانے اور اسے اس وسیع کرۂ ارض کے کسی بھی کونے تک پلک جھپکتے پہنچانے کے لیے دستیاب ہے، سو اس آفر کی ناقدری بھلا کیسے ہو۔

یوں سوشل میڈیا کا جادو کچھ ایسا سر چڑھ کر بولا ہے کہ وہ دن اور آج کا دن نہ صارفین کی تشنہ آرزوؤں اور ناتمام ارمانوں کی فہرست ختم ہوئی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا ان باکمال لوگوں کے لیے اپنی لاجواب سروس میں کسی طور کمی پر آمادہ دکھائی دیا ہے۔ اب تو یہ فیصلہ مشکل ہے کہ صارفین کے تقاضے زیادہ ہیں یا سوشل میڈیا کی پرفارمنس میں تیزی بہت ہے۔

کچھ من چلے تو سوشل میڈیا کو اپنا جی پی ایس بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کوئی ان کا جائے مقام جاننے میں دلچسپی رکھتا ہو یا نہیں، وہ اپنے مقامات آہ و فغاں کی تصویر کشی اور اس کی مسلسل نمائش پر بضد رہتے ہیں۔ خصوصاً حالت سفر میں، سفر کی منزل بہ منزل لائیو رپورٹنگ سے جہاں یہ اپنے میزبانوں کا دل دہلاتے ہیں وہاں غیر متعلق صارف ان خود ساختہ ابن بطوطوں کے اعلانات در اعلانات کی مداخلت پر سوائے جھلانے اور تلملانے کے کچھ نہیں کر سکتے۔

سونے پہ سہاگہ کا کام کورونا نے کر دکھایا ہے۔ سماجی دوری کے راگ ( اور الاپ ) سے خائف (اور دل برداشتہ) آخر کہاں جاتے۔ انھیں قربت کا کوئی نہ کوئی بہانہ اور کہیں نہ کہیں پناہ تو درکار تھی۔ سماجی قربت کا یہ فریضہ، سوشل میڈیا کی برق رفتار اور دور رس پیغام رسانی سے بہتر اور کہاں ممکن تھا۔ سو اب آزمائش کی اس گھڑی میں سوشل میڈیا پر انسانی جذبات، احساسات، حالات، مصروفیات، تفریحات اور تعلقات کو پھیلانے، دکھانے، بڑھانے، گھٹانے اور نبھانے کا تمام بوجھ لاد دیا گیا ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ صرف مشہور شخصیات اور تخلیق کاروں کی تصاویر ہی منظر عام پر آیا کرتی تھیں مگر بھلا ہو سوشل میڈیا کی آزادی سے آنے والے (اظہار جذبات) کے اس انقلاب کا، اب ایسی کوئی قدغن نہیں، سو متحرک اور جامد تصاویر کا سیلاب ہے کہ امڈا چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں تصویر بنانے اور تصویر دکھانے کا موقع اور مقام ڈھونڈا جاتا تھا، اب مزاج یار میں جو آئے اور جب آئے ( اور جس حساب سے آئے ) وہ روا ہے۔

اس نمائش کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس توسط سے گزشتہ صدیوں کے تمام فیشن، اپنی تمام تر سادگی، معصومیت اور خود نمائی کے ساتھ نئی نسل کے مشاہدے کے لیے مفت میسر ( اور مشتہر ) ہیں جنہیں دیکھ کر نوجوانوں کو اپنے بزرگوں کی حس جمالیات اور ”حسن ظن“ پر وہ رشک آتا ہے جس کے اظہار کی شدید خواہش کے باوجود، وہ شدید حد ادب میں خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے احسانات کو گنوانا شاید اتنا آسان نہیں مگر کچھ کارنامے ایسے ہیں جو فوری طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں سائن لینگویج یعنی اشاروں کی زبان ہے جو درحقیقت مختصر ترین ابلاغ کے شارٹ کٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اب سبھی صارف خواہ کسی عمر کے ہوں، اس کے عادی ہو چکے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اشارے روزمرہ زندگی میں اس قدر اہمیت اختیار کر گئے ہیں کہ ان کے آگے خود صارف بے اختیار ہو کر رہ گئے ہیں۔ سماجی تعلقات میں ان کا استعمال یا عدم استعمال اچھے یا برے نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔ یہ پیغامات کا وہ لازمی جزو ہے جو آپ کے اقربا کو دور اور آپ سے اجنبیوں کو قریب لانے کا سبب بن سکتا ہے۔ شاید اسی لیے یہ اشارے اپنی اہمیت کے اعتبار سے کسی بھی سندیسے کا اب لازمی ( اور فیصلہ کن )حصہ بن گئے ہیں۔

سوشل میڈیا کی بہتی گنگا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض سادہ دل صارف اپنے آبا و اجداد کے گزشتہ سے پیوستہ، بھولے بسرے، معاملات اور واقعات کو بھی اسی پلیٹ فارم پر ہی نمٹانا چاہتے ہیں۔ کچھ دل جلے اپنے زکام اور چھینک کو بہانہ بنا کر دعاؤں کی ڈراؤنی درخواست کے کچھ یوں طالب ہوتے ہیں کہ دعاگو خوف زدہ ہو کر، ان کے لئے ان کی آخری دعا سمجھتے ہوئے مائل بہ گریہ ہوتے ہیں۔

ایک قبیلہ اور ہے، جس نے یہ قسم کھائی ہوئی ہے کہ جو بھی نئی تصویری یا بصری ( یا صوتی ) اختراع متعارف کرائی جائے گی وہ اسے اپنائے بنا، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ یہ بے چین صارف ( بلا استثنا عمر و شعور ) آپ کو اسی تیزی سے متحرک نظر آئیں گے جس تیزی سے یہ نو ساختہ بصری اثرات وقتاً فوقتاً سوشل میڈیا پر نمودار ہوتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •