نواز شریف پر غداری کا مقدمہ

پاکستان مسلم لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم نے چند حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کے خلاف اپنی حالیہ تقاریر میں الزامات عائد کیے ہیں ان سے ملک میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ ان کی تقاریر کے چند حصوں کو بنیاد بنا کر ان پر اور وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت مسلم لیگ نون کے دیگر عہدیداروں کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، جس کا اظہار چند روز قبل وفاقی وزیر ہوابازی غلام سروری اپنے ایک اخباری بیان میں کرچکے تھے۔

مگر بقول وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کہ مقدمے کے اندراج پر وزیر اعظم عمران خان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ بغاوت کے اس مقدمے پر مسلم لیگ نون نے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراء تصویر کو دوسرا رخ دے کر خود اداروں کو متنازعہ بنا رہے ہیں مسلم لیگ کی جنگ کسی کے خلاف نہیں ہے۔ مگر حکومتی ترجمان نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو غدار اور بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی مہم میں سرگرم ہیں۔

Read more

زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا

آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد نے قومی سیاست کے ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس پر نواز شریف کی تقریر نے دو آتشہ کا کام انجام دیا ہے۔ سیاست کی یہ صورتحال یقیناً ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔ ستر کی دہائی کے بعد غالباً آج سیاست پھر ایک بنیادی نکتہ پر مرتکز ہے۔ ستر کی دہائی میں ایک جانب اختیارات اور وسائل پر قابض جاگیرداروں اور سرمایہ داروں تھے اور دوسری جانب استحصال زدہ طبقات۔ مگر آج سیاست کا بنیادی نکتہ حقیقی سیاسی اور جمہوری اقدار کے تعین کا ہے۔

حزب اختلاف کا اصرار ہے کہ اقتدار منتخب نمائندوں کے پاس بلا شرکت غیرے ہونا چاہیے، مگر حکومت اور اس کے اتحادیوں کا فرمانا ہے کہ حزب اختلاف اپنی بدعنوانیوں کو بچانے کے لئے تحریک انصاف کی حکومت اور اداروں کے خلاف ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے خاتمے کے بعد حکومت نے ترجمانوں کے نام پر جو بھان متی کا کنبہ اکٹھا کر رکھا ہے، اس کی چیخ و پکار دیدنی تھی، مگر سب سے بڑھ کر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید جن پر آتشؔ کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ :

Read more

محمد اختر مسلمؔ۔ لاکھ تاروں کی بہاریں ہیں مگر تم تو نہیں

شاعر مشرق علامہ اقبال سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خصوصیت کیا ہے، تو اقبال نے فرمایا کہ میرا ذہنی ارتقاء۔ والد مرحوم بھی اقبالؔ کی پیروی میں ذہنی اور فکری ارتقاء کی منازل طے کرتے رہے۔ مطالعہ کی وسعت اور تنوع ان کی قدر خاص تھی۔ مطالعہ میں وہ مشرق سے بیزار ہوئے نہ مغرب سے حذر کیا، بلکہ ہر شب کو سحر کرنے کی جستجو میں رہے۔ اکثر قریبی احباب کو تحفتا کتابیں پیش کرتے تھے۔ ہمیں بھی اکثر ہماری عمر کے لحاظ سے کتابیں پڑھنے کو دیتے۔

Read more

میثاق پاکستان: راتاں ہوکے بھرن دیاں نیئں

تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا ایک نیا اتحاد تشکیل کے مراحل میں ہے، پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف، چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی مشاورت سے اس نئے اتحاد کا مجوزہ نام ”میثاق پاکستان“ ہے، جس کا حتمی اعلان آئندہ چندروز میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا۔ اخباری ذرائع کے مطابق کانفرنس کے ایجنڈے اور دیگر معاملات پر

Read more

غالبؔ : لسانی و اسلوبیاتی مطالعہ

غالبؔ کو شعراء میں یہ امیتاز بھی حاصل ہے کہ ان کا وہ کلام بھی محفوظ ہے جسے آغاز شعر گوئی کہا جاتا ہے۔ کلام میں شعریت، شعری حسن اور جامعیت اور بے ساختہ پن نمایاں ترین خصوصیات ہیں۔ غالبؔ زندگی کا شاعر ہے، غالب نے زندگی کے مد و جزر اور شکست و ریخت کو بیان کیا ہے اور انسانی کمزوریوں اور اعلیٰ اقدار کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ طالب علم کے خیال میں غالب کی شاعری

Read more

ارتکاز وجمود کا شکار سرمایہ اور ہماری معیشت

پاکستان کی معیشت کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا ہو تو یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ اور عوام کا استحصال۔ ریاست اور سماج پر آج تک جن طبقات اور اداروں کا غلبہ رہا ہے، آج معیشت کی زبوں حالی اور غربت و تنگ دستی کا شکار عوام، ان ہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آج بھی ریاست کا اشرافیہ کی کی خدمت گزاری کا کردار اور معاشرے و سماج پر جاگیرداروں کا تسلط پوری طرح قائم ہے۔ اسٹیٹ بنک کے سابق گورنر عشرت حسین کی کتابPakistan The Eonomy of Elitist State کا بنیادی موضوع بھی یہی ہے۔

Read more

کرونا وبا کے مثبت اور منفی سماجی پہلو

کرونا وائرس کی وبا اگرچہ زاوال پذیر ہے لیکن ماہرین طب نے ابھی مکمل کلین چٹ نہیں دی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اس وبا نے دوبارہ سر اٹھایا ہے لیکن اس کی تباہ کاریوں کی شدت میں کمی واضح طور پر محسوس کی جارہی ہے۔ وطن عزیز میں بھی زندگی کرونا وبا سے پہلے والی ڈگر پر چلنا شروع ہوچکی ہے۔ عید الاضحی کے دوران بد احتیاطیوں کے باوجود الحمد اللہ مرض کے متاثرین میں غیر معمولی اضافہ

Read more

جنگ آزادی 1857ء اور پنجاب

تاریخ میں 1857 ء کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آچکے ہیں اور مزید بھی آتے رہتے ہیں۔ ایک سوچ وہ ہے جسے عبداللہ ملک مرحوم نے پاکستان ٹائمز میں ”پنجاب نے برطانیہ کا ساتھ کیوں دیا؟ کے عنوان سے مضامین لکھ کر پیش کیا۔ جس کا بنیادی استدلال پنجابیوں کی فوج میں بھرتیوں کو بنایا جو 1857 ء سے دوسری جنگ

Read more

جمعہ کی چھٹی!

چند روز قبل جماعت اسلامی کے امیر سنیٹر سراج الحق نے اتوار کے بجائے جمعہ کو ہفتہ وار تعطیل کرنے کی قرار داد سینٹ میں پیش کی، جس پر چئیرمین سینٹ نے معاملہ ایڈوائزری کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ سراج الحق صاحب کا استدلال یہ تھا کہ اکثر مسلم ممالک میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے اس لیے ہمیں بھی جمعہ کی چھٹی اختیار کرنی چاہیے۔ اتوار کو چھٹی کا فیصلہ نواز شریف دور میں معاشی نقطہ نظر کے

Read more

بنکوں کا کرونا ریلف پیکج۔ گلاس توڑا بارہ آنے

ہم میں سے ہر شخص کو بازاروں میں قائم ہوٹلوں میں جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ ہوٹل میں جاکر سب سے پہلی کوشش صاف میز کی تلاش ہوتی ہے، جس کا امکان کم ہی ہوتا ہے۔ بہرحال بیرا ایک میلا سا کپڑا لے کر آتا ہے اوراپنے تئیں میز کو صاف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ہی سانس میں پندرہ پکوانوں کے نام بتا کر آپ سے آڈر وصول کرتا ہے۔ جسے کھانے کے بعد

Read more

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر اور ہمارا جذبہ ایمانی

وفاقی دارالحکومت میں پہلے مندر کی تعمیر کے لئے حکومت کی جانب سے دس کروڑ کی امداد کی منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن ٹو میں مندر کے قیام کی زبانی منظوری مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کے وفد سے ملاقات میں دی۔ اجازت کی رسمی کارروائی ابھی جاری ہے اور حتمی منظوری نہیں ہوئی ہے لیکن اس دوران ہی تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری ہیومن رائیٹس لعل ملہی نے افتتاحی تعمیر ات کا آغاز کر دیا۔

وفد کے رکن لعل چند ملہی نے بتایا کہ اسلام آباد میں ہندو آبادی تقریباً تین ہزار کے قریب ہے، جس میں سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین، کاروباری افراد اور ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ مہیش چوہدری نے بھی بتایا کہ بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کی ایک بڑی تعداد عدم تحفظ کے سبب اسلام آباد منتقل ہو گئی ہے، اور اپنے اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی، مرنے والوں کی آخری رسوم، شادی، ہولی اور دیوالی کے لیے انھیں جگہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہولی اور دیوالی کی تقریبات سرکاری کمیونٹی ہالز میں منعقد کی جاتی ہیں۔

Read more

صاحب بہادر کا انٹرویو اور ادیب کا جرمن شیفرڈ

عام طور پر شعراء کرام کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ اپنا کلام سنانے کے لیے سامع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور اگر سامع میسر آ جائے تو اس کی خوب آؤ بھگت بھی کرتے ہیں اور اس وقت تک کرتے ہیں جب تک اپنا کلام اس کی روح تک میں اتار نہ دیں۔ لیکن ایسے شاعربھی ہیں جن سے ان کا کلام سننے کے لیے سامعین کو ان کے ناز نخرے اٹھانے پڑتے ہیں۔ ایک

Read more

بکھرتا سماج اور مذہبی انتشار

کالم کا عنوان معروف دانشور فرخ سہیل گوئیندی سے مستعار لیا ہے۔ سماج کی ابتری پر ان کے کالموں کے مجموعے کا عنوان ”بکھرتا سماج“ ہے۔ سماجی زوال کے پیش آنے والے چند تجربات میں اس تحریرکے ذریعے آپ کو شریک کرنا چاہوں گا۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں کتابوں کی ایک بہت بڑی دکان ہے۔ چند ماہ قبل میں دکان سے نکلا تو پارکنگ میں ایک صاحب ہاتھوں میں دو تھیلے لیے کھڑے تھے اور لگ رہا

Read more

اٹیمی دھماکے اور ایک سیاسی قلی کا دعویٰ

28 مئی جسے یوم تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کے موقع پر وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے حسب روایت دروغ گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ 1998 ء ایٹمی دھماکے ان کی، راجہ ظفر الحق اور گوہر ایوب کی وجہ سے ممکن ہوئے۔ شیخ رشید قبیل کے تمام لوگوں نے نہ جانے ایٹم بم کو کیا سمجھ رکھا ہے کہ یہ ایک کھلونا ہے جسے کوئی بھی چابی دے کر چلا سکتا ہے۔

Read more

جناب! ایک شعبہ تعلیم بھی ہے

دنیا کرونا کی وبا سے بر سر پیکار ہے۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ اس سال تو اس وبا کے علاج کے لیے دوا کی تیاری ممکن نہیں ہے۔ سنگاپور، ووہان اور جرمنی میں اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کی خبریں سننے کو مل رہی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس وبا کے ساتھ گزر کرنے کی عادت اختیار کرنی ہوگی۔ معیشت اور تجارت سے وابستہ طبقے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بد حالی کا شکار ہیں۔ ہر ملک نے اپنے وسائل کے حجم کے مطابق اپنے عوام کو امداد فراہم کی ہے اور ہمارے یہاں بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے نچلے طبقے کو امداد پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کی ہے۔

لیکن مخالف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں نے حسب روایت طعنہ زنی اور الزام تراشی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا

Read more

یہ باتیں حاکم لوگوں کی

کرونا کی وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت نے ڈیڑھ ماہ قبل جو لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا اس میں نرمی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ حکومت کا استدلال یہ ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے آغاز سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کا پہیہ چلنا شروع ہوگا۔ لیکن طرفہ تماشا یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی نام کی کسی شے کا وجود شاید ہے ہی نہیں۔ دوسرے صوبوں کو تو چھوڑیئے

Read more

سیمنٹ کی بڑھتی قیمتیں: پس منظر اور زمینی حقائق

سیمنٹ کی بڑھتی قیمت کے پس منظر کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے پھیلنے والی معاشی بدحالی کو کم کرنے کے لیے حکومت نے تعمیرات کے شعبے کو صنعت کو درجہ دینے کا فیصلہ کیا اور اہم مراعات کے اعلان کے ساتھ کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بورڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا۔ یہاں یہ وضاحت نہایت ضروری ہے کہ شعبہ تعمیرات کی اس حکومتی درجہ بندی میں سیمنٹ اور اسٹیل کے علاوہ تقریباً تمام شعبے

Read more

فریضہ زکوٰۃ: کیا، کب اور کتنا؟

رمضان کی آمد ہے اور ہر مسلم ذہن میں فریضہ زکوٰۃ کے حوالے سے سوال جنم لیتے ہیں کہ اس کی تاریخ کیا ہے، اس کی ادائیگی کب کرنی چاہیے اور کتنی کرنی ہے اور اس کے مصارف کیا ہیں۔ اس حوالے سے طالب علم نے جناب جاوید احمد غامدی کی کتاب میزان میں زکوٰۃ کے باب اور مختلف مواقع پر اس حوالے سے کی گئی غامدی صاحب اور ڈاکٹر شہزاد سلیم کی گفتگو سے استفادہ کیا اور چیدہ چیدہ

Read more

سماجی فاصلہ۔ طبقاتی تقسیم اور فلسفہ بیگانگی

کرونا وائرس کی تباہ کاریاں اپنی جگہ مگر اس میں بھی دو رائے نہیں کہ اس نے بہت سے بُتوں کو گرا دیا اور دنیا اور خاص کر ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک کے حکمرانوں اور اقتدار اور وسائل پر قابض طبقات کا وہ چہرہ دکھا دیا ہے جسے ان طبقا نے مصنوعی ترقی کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ ترقی یافتہ ممالک جہاں کی اوسط عمر اسّی سے پچاسی برس ہے، جس کا سبب خالص خوراک، ماحول، صاف پانی

Read more

سیمنٹ سیکٹر کا منافع اور پروگرام حسبِ حال

سیمنٹ سیکٹر کو درپیش مسائل کے حوالے سے گزشتہ کالم اخبار کو ارسال کرکے بیٹھا ہی تھا کہ پانچ اپریل کو دنیا ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک پروگرام حسبِ حال کے میزبان کی گفتگو سننے کو ملی۔ جس میں موصوف سیمنٹ سیکٹر کے منافع کے بارے میں اپنی ادھوری معلومات اس اعتماد اور زعم سے بیان فرما رہے تھے جو سننے اور دیکھنے کے لائق تھا۔ انہوں نے ریت، اینٹوں کے بھٹوں کے منافع کے بارے میں بھی

Read more

کرونا وائرس : سیمنٹ سیکٹر کودرپیش مسائل

کرونا وائرس سے معیشت اور روزگار کو درپیش مسائل کے سبب وزیراعظم پاکستان نے تعمیراتی صنعت کے لئے ایک پیکچ کا اعلان کیا ہے۔ جیسا کہ روایت رہی ہے کہ پس ماندہ اور ترقء پذیر ممالک میں جب بھی کوئی معاشی اسکیم یا منصوبہ متعارف کروایا جاتا ہے وہ زمینی حقائق سے کم اور شخصی اور گروہی مفادات سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ ہی صورت اس پیکج کی بھی ہے جسے سامنے تو تعمیراتی شعبے کے نام پر لایا

Read more

کرونا وائرس : ابلیس کے ہاتھوں میں ہے دنیا کی حکومت

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ پاکستان میں کرونا سے متاثرین کی تعداد نو سو سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ کرونا سے مشتبہ متاثر افراد کی تعدادساڑھے ساتھ ہزار سے زائد ہوچکی ہے اور سات افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم نے مکمل لاک ڈاؤن کی مخالفت میں جو دلائل دیے ہیں وہ قابلِ فہم ہیں، لیکن ہمارے یہاں یہ دستور تنقید برائے تنقید کا ہے لہذا مخالفین نے ان دلائل کو

Read more

کرونا اور سماجی پستی

کرونا وائرس جس نے دنیا کے تقریبا 165 کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ سائنس جس کا دعویٰ اوج ثریا پر پہنچنے کا ہے۔ آج بے بس و لاچار ہے۔ اگرچہ سائنس داں اس مرض کی ویکسین کی تیاری میں دن رات مصروف ہیں لیکن ابھی تک اس میں کوئی حتمی کامیابی سامنے نہیں آئی ہے، اور کامیابی کی صورت میں بھی اس دوا کو عوام الناس تک پہنچنے میں تقریبا ایک سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ دوسری اہم

Read more

عورت مارچ، حیا مارچ اور اسلامی تہذیب

8مارچ کو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ جس کامقصد عورتوں کے حقوق کو اُجاگر کرانا اور عورتوں کو ان کے حقوق سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی آمد سے جس طرح دیگر افکار کی تشہیر موئثر طریقے سے ہونے لگی ہے اسی طرح عورتوں کے حقوق کی مہم نے بھی اپنا دائرہ اثر بڑھا لیا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے اور اس کی

Read more

کرکٹ: کھیل چند کا ہے لاکھوں کے لیے اذیت ناک

انگریز اس خطے میں جہاں اپنی بہت سی اچھی بری یادگاریں چھوڑ کر گیا ان میں ایک کرکٹ بھی ہے۔ کرکٹ جس نے عشروں سے قوم کے اذہان پر قبضہ جما رکھا ہے، اخبارات کی شہ سرخیوں میں بھی جگہ پاتا ہے اور ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور بہتری کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ڈیڑھ سو سال قبل صرف انگریز ہی کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور بنیادی طور پر اسے وہاں کے لارڈز کا کھیل سمجھا

Read more

مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟

محمود مرزا صاحب مرحوم کی کتاب ”مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟ “ اپنے موضوع کے لحاظ سے غیر معمولی توجہ کی مستحق کتاب ہے۔ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں مرزا صاحب نے جو نتائجِ فکر پیش کیے ہیں وہ محمود مرزا صاحب کی وسیع المطالعگی، اہل علم سے ہونے والے تبادلہ خیالات اور مشاہدے کا مظہر ہے۔ مرزا صاحب نے جن موضاعات پر مضامین لکھے ہیں ان پر مختلف پہلوؤں سے بات ہوسکتی ہے۔ مثلاً مسلم دنیا

Read more

پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ

گزشتہ ہفتے صحافت کے حوالے سے دو شاہکار سامنے آئے۔ ایک وفاقی اردو یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد خان کی کتاب ”پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ“ اور دوسرا پاکستان ٹیلی ویژن کی معروف نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے یوٹیوب چینل پر پاکستان ٹیلی ویژن کے سابقہ جنرل منیجر اورکنٹرولر پی ٹی وی اکیڈمی اور اظہر لودھی اور سابقہ ڈائریکٹر نیوز عبدالشکور طاہر کی گفتگو، جن کے مطالعے اور گفتگوسے صحافت کی اس تاریخ

Read more

اے نئے سال بتا تجھ میں نیا پن کیا ہے؟

نئے عیسوی سال 2020 ء کا آغاز ہوگیا ہے۔ نئے سال کے آغاز پر ہر طرف جشن منائے جارہے ہیں۔ ٹی وی کے چینل ان تقریبات کی جھلکیاں دکھا رہے ہیں۔ مگر ہمارے سیاسی منظر نامے میں گزشتہ سال کا آخری مہینہ اور خاص کر آخری عشرہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔ حکومت اور اداروں کی نا اہلیوں نے سرد ترین موسم میں بھی سیاسی میدان کو گرمائے رکھا۔ نیب قوانین کا ترمیمی آرڈیننس صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے

Read more

ہیں کیوں تلخ بندہ مزدور کے حالات؟

ایک خبر کے مطابق فرانس کی ایک عدالت نے ٹیلی کام کمپنی کے تین سابقہ اعلیٰ عہدیداران کو قید اور جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ ان پر جرم یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے اپنی ملازمتوں کے دوران ادارے میں کام کرنے والے افراد کو ہراساں کیا اور اس حد تک کیا کہ 2008۔ 9 میں پینتیس ملازمین نے خودکشی کرلی۔ یہ حالت اس ملک کے تجارتی اداروں کی ہے جو اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر مستحکم ہے۔

Read more

اضطرابی سیاست اور بگڑتی معیشت

وطن عزیز کی سیاست اور معیشت کو عجیب سی صورتحال کا سامنا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ اضطراب اور ڈرامے سے عبارت رہی ہے۔ تازہ بے چینی یہ ہے کہ تحریک انصاف حکومت کی معاشی، خارجی اور داخلی معاملات پر ناکامی کے خلاف مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ اور دھرنے کے لیے یکسو ہیں، پیپلز پارٹی جس نے جمہوریت کی سربلندی کے ساتھ ساتھ لبرلازم اور سیکولرازم کے پرچار کا بھی بیڑہ اٹھا رکھا ہے، وہ مولانا صاحب کے دھرنے میں

Read more

مجھے ہے حکمِ اذاں۔۔۔۔ اور قائد کا خواب

آزادیِ کو تہتر برس کا عرصہ گزر چکا ہے۔ خطہ زمین آزاد ہوا لیکن کیا اس پربسنے والے انسان بھی آزاد ہیں؟ جمہوریت، معاشی و سماجی انصاف، فرد اور اس کی رائے کی آزادی جنھیں ریاست کے بانی نے ریاست کے لازمی اجزاء قرار دیا تھا آج تک مکمل شکل میں نافذ نہیں ہوسکے ہیں۔ مسکینی، محکومی اور نومیدی ِکے منحوس سائے ابھی تک وطن عزیز پر چھائے ہوئے ہیں۔ قیام سے لے کر آج تک ارباب اختیار و اقتدار

Read more

قانون پر فوری عمل درآمد کی چند مثالیں

قانون کی موٹی موٹی کتابیں جرائم کی سزاؤں کی شقوں سے بھری پڑی ہیں۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں قانون موجود نہ ہو لیکن اس پر عمل در آمد کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ برسوں پہلے انڈیا کی ایک آرٹ فلم ”کملا“ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔ فلم کا موضوع عورتوں کی خرید و فروخت کا دھندہ تھا۔ فلم کا مرکزی کردار صحافی اس دھندے کو منظر عام پر لانے کے لئے ایک عورت

Read more

حکومت کی انتظامی اور اقتصادی پالیسیوں کے ابہام

حکمت تدبر، فراست اور زمینی حقائق سے آگہی سے محروم جو ٹولہ حکومت کی تہمت لیے اپنے لیے تو جو کررہا ہے سو کررہا ہے اس کی مشقِ سیاست میں وطنِ عزیز کی عوام کے مسائل میں کمی ابھی تک دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ ابہام اور تذبذب کی جو کیفیت حکومت کے انتظامی اور اقتصادی فیصلوں سے پیدا ہورہی ہے، اس کا ادارک حکومت کو نہیں ہے۔ ملک کی بگٹرتی ہوئی اقتصادی صورتحال پر کسی ایک حکومتی ترجمان اور

Read more

فرخ سہیل گوئندی کی کتاب لوگ در لوگ

فرخ سہیل گوئندی کے بارے میں یہ لکھنا آسان ہوگا کہ وہ کیا نہیں ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی ایک کٹر سیاسی نظریاتی کارکن، دانشور، مصنف، کالم نگار، شاعر، سیاح، پبلشر اور ایک نظریاتی شخصیت ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی کے کان میں سوشلزم کی اذان بھٹو صاحب نے دی اور وہ اس ازان پر لبیک کہتے ہوئے اس دور میں بھی کہ جب سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے بطن سے پھوٹنے والی ”جمہوریت“ کے سامنے بہت سے دانشور سرنگوں ہوکر

Read more

فلک نے اُن کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں!

آدھی رات کا وقت تھا اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب آنکھوں میں نیند کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے موجود تھے۔ اچانک ان کے اسٹاف نے انھیں آکر بتایا کہ ایک مریض ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے کمرے سے سے وارڈ میں پہنچے تو ہیضے کے باعث بارہ تیرہ سال کا ایک بچہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا۔ بچے کا باپ بھی حُلیے سے ایک غریب محنت کش لگ رہا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے فوری طور پر علاج شروع کیا اور کچھ دیر بعد بچے کی حالت سنبھلنے لگی۔

Read more

عمران خان کو مڈ ٹرم انتخاب کے بارے میں سوچنا چاہیے

قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری خطاب کررہے تھے انہوں نے ناقص کارکردگی پر کابینہ میں کی جانے والی ردو بدل پر خوب دل کی بھڑاس نکالی اور آخر میں وزیر اعظم عمران خان کو ایک بار پھر سلیکٹڈوزیراعظم کہہ ڈالا اور ستم یہ کیا کہ ساتھ ہی نا اہل اور نالائق بھی کہہ ڈالا۔ حکومتی بنچوں سے ردِ عمل شدید احتجاج متوقع تھا لیکن سب سے زیادہ لال پیلے عمر ایوب ہوئے اور اس قدر ہوئے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہے تھے۔

Read more

سر سید احمد خان ایک متنازع ہیرو؟

چندروزقبل سوشل میڈیا پر ایک صاحبِ لیاقت نے پوسٹ لگائی جس پر درج تھا ”خدا کا شکر ہے کہ اب مسلمانوں میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ جیسے غدار پیدا ہونے بند ہوگئے ہیں اور میر جعفر اور میر صادق جیسے محب وطن اور قوم کے بہی خواہ پیدا ہورہے ہیں جو سرکار برطانیہ کے وفا دار ہیں بلکہ اس راج کو مستحکم کرنے والے ہیں۔ سرسید احمد خان، لائل محمڈنز آف انڈیا“۔ طالب ِ علم نے اس پوسٹ کو

Read more

زمیں کے زخم آج بھی بھٹو کو پکارتے ہیں

جون 1966 ء میں پہلے فوجی آمر ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کو وزارتِ خارجہ سے برطرف کیا تو عام خیال یہی تھا کہ ان کا سیاسی سفر ختم ہوگیا ہے۔ بھٹو بے پناہ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نہایت ذہانت اور جرات سے ایوب خان کے خلاف استعمال کرتے ہوئے اقتدار کو دوبارہ پا لیا۔ ان کی وفات کو چالیس سال گزرنے کے بعد بھی پاکستان کی سیاست پر بھٹو کے

Read more

کلدیپ نائر کے خاکے۔ ٹیپو سلطان، بہادر شاہ ظفر اور عمران خان

مشہور و معروف بھارتی صحافی کلدیپ نائر 23 اگست 2018 کو وفات پا گئے تھے۔ انہوں نے تقریبا چھیانوے برس کی عمر پائی۔ وہ پاک بھارت تاریخ کے اہم واقعات کے چشم دید گواہ تھے۔ انہوں نے 1950 ء میں ایک اردو اخبار کے رپوٹر کے طور پر اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا سے منسلک ہونے کے بعد انگریزی صحافت کو اختیار کیا۔ کلدیب نائر اسٹیٹس مین۔ دہلی کے ایڈیٹر رہے مگر ان کی طویل وابستگی انڈین ایکسپریس کے ساتھ رہی۔

Read more

OIC یا OH I SEE

عصرِ حاضر کے ایک مثبت اور روشن فکر دانش ور ندیم نے درست لکھا ہے کہ آج اُمتِ مسلمہ ایک روحانی تصور ہے سیاسی نہیں۔ اس سے ایک قدم آگے بڑھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ خاص کر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد سے دنیا نظریاتی بنیادوں کی بجائے معاشی مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار کرتی نظر آرہی ہے۔ اسلامی ممالک کے تعلقات کو سیاسی اور معاشی مفادات کے تناظر میں دیکھیں تو یمن میں سعودی جارحیت، ایران

Read more

جنگ کی قیمت اور امن کے فائدے

پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد اور اقتصادی معاہدوں اور امداد کی خبروں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ لیکن حسبِ روایت پوری قوم تمام تعصبات سے بالا ترہوکران حملوں میں پاکستان کو ملوث کیے جانے اور بھارت کی دھمکیوں کے خلاف متحد اور سراپا احتجاج ہے۔ ہندو قیادت ہمیشہ سے بھارت کے ہر نقصان کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتی آ رہی ہے۔ پلوامہ حملہ

Read more

سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

آخر کار آئی ایم ایف سے حصولِ قرض کی حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں اور وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکڑ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں قرض کی شرائط تقریباً طے ہوگئیں۔ چھ ارب ڈالر کے اس معاشی پیکج کے بنیادی نکات طے کر لیے گئے ہیں اور اپریل 2019 ء اس پیکج کی شرائط کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ عمران خان اور ان کی جماعت سی پیک سمیت دیگر منصوبوں کی تفصیلات

Read more

پارلیمنٹ! ایک ہنگامہ شب و روز بپا رہتا ہے

پارلیمنٹ وہ ادارہ ہے جہاں منتخب عوامی نمائندے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ لیکن آج تک چند ایک مواقع ہی ایسے ہوں گے جہاں پارلیمنٹ نے اپنا حقیقی کردار ادا کیا ہو۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی تقسیم حکومتی ارکان اور حزبِ اختلاف کے ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ایک تیسرا گروہ بھی ہر پارلیمنٹ میں ہوتا ہے جو طاقتور کے ساتھ اپنے الحاق رکھنا چاہتا ہے۔ یہ گروہ ہر اہم موقع پر اپنی رائے دینے کی بجائے واک آوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خاموش تماشائی بنا رہتا ہے۔

قومی انتخاب میں سیاسی انجینئرنگ نے پوری کردی جس کے سبب حکومتی ارکان اور حزب اختلاف کے ارکان کی تعداد میں معمولی فرق رکھا جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی حزب اختلاف نے کبھی کسی حکومت کو آسانی سے حکومتی معاملات چلانے نہیں دیے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے وجود کا جواز بھی اس وقت تک ہی رہتا ہے جب تک وہ اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونے پر مجبور نہ کردے۔ لیکن ہر حزبِ اختلاف نے حکومتی پالیسیوں پر تیکنیکی تنقید کرنے کی بجائے ہلڑ بازی اور شور شرابے کا راستہ اختیا ر کیا ہے اور جواب میں حکومتی ارکان نے بھی یہی وتیرہ رکھا ہے۔

Read more

اجارہ دار سیاست اور استحصالی طبقات

چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک صاحب طرز کالم نگار کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔ کالم نگار ایک عرصے سے اپنے کالموں میں پاکستان تحریک انصاف کی تشہیر کرتے چلے آرہے تھے۔ مگر ان دنوں تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں موصوف کے مخالفانہ اورجارحانہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا کی زینیت بنے ہوئے ہیں۔ موصوف پروگرام میں تحریک انصاف کے بارے میں اپنے وائرل ہونے والے ویڈیو کلپس کے بارے میں فرما رہے تھے

Read more

نئے ٹیکس اور عوام کی حالتِ زار

تحریک انصاف نے 2018 ء کے عام انتخابات میں جیسے تیسے کرکے اقتدار توحاصل کرلیا لیکن حکومت کے نظم کو چلانے کے لیے تحریک انصاف وہ کچھ نہیں کرپائی جس کا ڈھول ان کے عہدیدارانتخابی جلسوں اور ٹی وی چینلز پر پیٹا کرتے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ستمبر 2018 ء میں اپنی حکومت کا پہلا ضمنی بجٹ پیش کیا جس میں 183 ارب کے نئے ٹیکس اور ترقیاتی اخراجات میں 350 ارب روپے کی کمی کر دی گئی۔

Read more

بنام محمد حسن عسکری۔ نو دریافت خطوط

کسی فرد کی قلبی و نفسی کیفیات اور علمی و ادبی میلانات اور رجحانات سے آگاہی کے لئے اس کے لکھے گئے یا اس کو لکھے گئے خطوط ایک اہم ذریعہ ہیں۔ ہماری علمی اور ادبی تاریخ میں مکاتیب کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ بلا شبہ خط کو تہذیبِ انسانی کی محیر العقول عجائبات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے باب میں بھی مکاتیب کو بنیادی معلومات کا بہترین ماخذ تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ خط میں مخاطب فردِ واحد ہوتا ہے جس کے باعث لکھنے والا بلا تکلف ذہن و قلب کی کیفیات رقم کرتا چلا جا تا ہے۔ علامہ اقبالؔ شاعر کے ادبی اور ذاتی خطوط سے اس کے کلام کے پس منظر سے آگاہی کے لیے ضروری قرار دیتے تھے۔

اردو افسانہ و تنقید میں محمد حسن عسکری کی ایک مسلمہ حیثیت ہے۔ وہ مغربی ادب کے طالب اور استاد تھے۔ انہوں نے مشرقی اور مغربی ادب تاریخ کے پس منظر کے ساتھ پڑھا۔ 1930 ء کے بعد اردو ادب میں نئے ادب کی تحریک کے آغاز نے ایک عجیب کیفیت پیدا کی جسے اس کے بعد ہماری ادبی تاریخ میں نہیں دیکھا گیا۔ اس سے پہلے کے ادب پر علی گڑھ کی جمال پرستی کا اثر تھا، اس کے بعد اشتراکی حقیقت نگاری کا رنگ ادب پر غالب آیا۔ پھر نئے ادب نے جدجدیت کا رنگ اختیار کیا۔

Read more

حکمِ انفاق اور ہمارا سماج

سماجی رابطے کے ایپس نے خبر اور معلومات کے پھیلاؤ کو حد درجے آسان کردیا ہے۔ مثال کے طور پر واٹس ایپ پر مختلف افراد اپنے ہم خیال احباب پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انفرادی طور پر بھی لوگ باہمی دلچسپی کی خبریں، ویڈیو کلپس سمیت مختلف مواد ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں بھی بحثیتِ مجموعی ہماری ذہنی پسماندگی اور تعصبات کے عملی مظاہرے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جھوٹ، من گھڑت خبروں اور واقعات، لغویات اور فضولیات کو اس دھڑلے سے پھیلایا جاتا ہے کہ سچ اور دلیل اس کا سامنا کرنے سے قاصر ہیں۔

Read more

فروغ ِ تحقیق اور نصاب

مطالعات و تحقیق کی روایت ہر ملک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے ذریعے پنپتی ہے۔ تحقیق کی اس روایت کی آبیاری میں انفرادی اور نجی کاوشوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہاں عمومی نوعیت کی تحقیق بھی دیکھنے میں آئی ہے اور ایسے اعلیٰ اور معیاری تحقیقات بھی سامنے آئی ہیں جو اس باب میں کوہ نور ہیرے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد پنجاب یونیورسٹی ایک شاندار علمی پس منظر کے ساتھ علم و

Read more

تحریک انصاف کے 100 دن

ہر قدم دوری منزل ہے نمایاں مجھے سے
مری رفتار سے بھاگے ہیں بیاباں مجھ سے

غالبؔ کا یہ شعر تحریک انصاف کی حکومت پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سو روز کا تجزیہ ان دونوں موضوع خاص اہمیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ اول دن سے جس چیز کا فقدان تحریک انصاف کی حکومت میں نظرآیا ہے وہ سنجیدگی اور حکومتی معاملات چلانے کی مہارت ہے اور جس چیز کی بہتات نظر آئی وہ ہے لطائف اور مضحکہ خیز حرکات کی برسات۔ پہلے پندرہ روز تو یہ ہی طے ہوتا رہا کہ وزیراعظم کے شب و روز کہا ں بسر ہو نگے؟ آیا وہ وزیراعظم ہاؤس میں رہیں گے، ملٹری سیکرٹری کے گھر میں رہیں گے یا بنی گالا میں۔ اس کے بعد مسئلہ یہ آیا کہ وہ دوران سفر پروٹوکول لیں گے یا نہیں۔ پھر انہوں نے ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کیا جس پر سفر کی لاگت 55 روپے فی کلو میٹر بتائی گئی اور ان کے ہر مصاحب نے اپنی بساط کے مطابق اس پر طرہ لگائی۔

Read more

اقبالؔ کا فن، شخصیت اور فکری جدوجہد

بلا شبہ علامہ اقبال ؔ ایک عہد ساز شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک مکمل دور اور تاریخ کو بیان کیا ہے۔ ۔ اقبال جس دور میں اقبالؔ بنے وہ مشرقی اقوام کے لیے سیاسی بدحالی اور سماجی اضطراب کا دور تھا اور یہی درد ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ سے متعارف کروایا ہے۔ ان کے شاعرانہ کلام کو بلا شبہ قرآن حکیم کی تفسیر کہا جاسکتا ہے۔

Read more

امّی جان کی یاد میں

وہ ہستی دنیا سے رخصت ہوچکی جس کی ہرسانس میں ہمارے لیے دعاؤں کا سمندر تھا اور آج ان کے بعد حال یہ ہے کہ : دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے آج سے دس سال قبل جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب تقریباً ڈیڑھ بجے، 24 اکتوبر 2008ء کو امّی جان لاہور میں وفات پاگئیں تھیں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے آخری

Read more

عبدالرحیم خانخاں اور مآثر رَحیمی

سیاسی وابستگیوں نے جہاں معاشرے کے دیگر شعبوں کا پراگندہ کیا ہے وہاں تخلیق و تحقیق کا عمل بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہاہے۔ جو علمی و تحقیقی کام سرکاری سطح پر ہونے چاہیے تھے وہ انفرادی طور پر کیے جارہے ہیں۔ یہ تاریخ فراموشی اور تاریخی واقعات سے دانستہ چشم پوشی کانتیجہ ہے کہ تا ریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے ہم ماضی کی غلطیاں دہراتے چلے جارہے ہیں۔ مآثر رحیمی مغل دربار کے ایک امیر

Read more

سماجی تبدیلی کا فکری خاکہ

چند سالوں سے ملک کی سیاست میں تبدیلی کا شور برپا ہے۔تبدیلی کے علم برداروں کو جیسے تیسے اقتدار بھی مل ہی گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود فکری حبس او رمسائل کو ختم کرنے کے لیے قحط الرجال نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ : وہ حبس کا موسم تھا کہ لو کی دعا مانگتے تھے لوگ کی کیفیت ہے ۔قوم کیا چیز ہے؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟ کے اہم نکتے سے ہماری سیاسی جماعتوں نے دانستہ

Read more

مجلہ تحصیل اور قیسی رامپوری کا ’’غبار‘‘

وطنِ عزیز میں سیاست نے زندگی کے ہر شعبے کو پراگندہ کررکھا ہے۔ علوم کے معنی و مفہوم کی بازیافت اور تحقیق کا میعار تنزلی کا شکار ہے۔ جسے اصل تحقیق کہتے ہیں وہ ناپید ہے۔ ذاتی حیثیت میں چند اساتذہ تحقیق میں نئے رجحانات متعارف کرانے کے لیے سرگرم ہیں او ر وہ تحقیق کی وسعت اور پھیلاؤ میں حائل وسائل کی قلت کے باجود علمی و تحقیقی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسی شخصیات ابھی موجود ہیں

Read more

شہادتِ حسین ؓ مزاحمت کا استعارہ

قرآن پاک نے قارون، فرعون اور ہامان کی شکل میں تین کردار بتائے ہیں۔ قارون نظامِ سرمایہ داری کی ہوسِ خون آشامی کا پیکر، فرعون ملوکیت کے استبداد کا مجموعہ اور ہامان مذہبی پیشیوائیت کی روباہ بازیوں کا نمائندہ بتایا گیاہے۔ ان کرداروں کی چیرہ دستیوں سے انسانیت آج بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کرداروں اور حق کے علمبرداروں کے درمیان ہمیشہ سے معرکے جاری ہیں اور ابد تک رہیں گے۔ ان باطل عناصر کی سرکوبی کے لیے پرودرگار عالم

Read more

محمد اختر مسلمؔ ۔ ابّو جی کی یاد میں

وہ ہستی جس نے زمانے کے سرد و گرم سے ہمیں محفوظ رکھا جس کے وجود میں رحمت خداوندی ہم پر سایہ فگن رہی، اسے دنیا سے رخصت ہوئے چار سال بیت گئے۔ ابّو جی 17 ستمبر 2014؁ء کو وفات پا گئے تھے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ تقریباً عشاء کے وقت وہ اپنے پروردگار کے حضور حاضری کے لیے روانہ ہوئے اور اس جہاں کو قیامت تک کے لیے خیرباد کہا۔ ان کا انتقال راولپنڈی میں میرے پاس ہوا۔

Read more

میرا مطالعہ

کتاب سے تعلق اور دوستی مرحوم و مغفور والد محترم محمد اختر مسلمؔ کی تربیت کا فیض ہے۔ بچپن میں نونہال، ٹوٹ بٹوٹ، اشتیاق احمد اور مظہر کلیم کے ناول پڑھتے رہے۔ جوں جوں شعور بڑھتا گیا والد صاحب کے کتب خانے کی کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ جس میں قرآن حکیم کی تفاسیر و سیرت طیبہ ﷺ کے نسخے، دیگر دینی و ترقی پسند لٹریچر کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ، سیاسیاست، ادب اور شاعری کا ایک قابلِ ذکر ذخیرہ موجود

Read more

جماعت اسلامی: بیانیہ اور سیاسی حکمت عملی؟

سینیٹ کے چئیرمین و ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب میں ارکان پارلیمنٹ کی خریدو فروخت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق صاحب کے تازہ انکشاف نے پاکستان کی سیاست اورسینیٹ کے انتخابات کی غیر شفافیت پر مہر ثبت کردی ہے۔ جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلاف ہوسکتا ہے۔ اس کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کی جاسکتی ہے۔ لیکن سراج الحق صاحب سے دروغ گوئی کی امید نہیں کی جاسکتی ہے۔ منصورہ میں پانچ روزہ تربیتی نشست اور

Read more

سیاسی وابستگیاں اور جاگیر داری

گزشتہ دنوں بلوچستان میں صوبائی حکومت کی تبدیلی، سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے مواقع پر ہماری سیاسی تاریخ کے صفحات میں جو کچھ رقم ہوایہ جاگیر دار او ر قبائلی سرداروں کے طبقے کی اس شرمناک روایت کا تسلسل ہے جو صدیوں سے چلی آرہی ہے ۔ اسی روایت پر جنوبی پنجاب کے سیاستدانوں نے بھی عمل کیا اور جنوبی پنجاب کے مسائل کا رونا روتے ہوئے اپنی سیاسی وابستگی کو مسلم لیگ (ن) سے ختم

Read more