”آپ کا نام؟ شادی شدہ“ مردوں کے بنائے ادھورے معاشرے پر طنزیہ تحریر

پہلی عورت : آپ کا نام؟ دوسری عورت : شادی شدہ پہلی عورت : میں نے آپ کا نام پوچھا ہے مس۔ دوسری عورت : ارے مس وس نہیں۔ ہم تو مسز ہیں۔ مسز۔ شادی شدہ پہلی عورت : جی مسز۔ آپ کا نام ہی تو پوچھا تھا تاکہ میں آپ کو۔ دوسری عورت : ارے ارے بس بس۔ تم شادی شدہ ہو؟ پہلی عورت : جی۔ نہیں۔ تعارف پوچھ رہی ہوں آپ کا۔ دوسری عورت : اوہو مجھے پتہ

Read more

بہرُوپیا

( سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ) تحریر: ڈاکٹر ایاز قادری ترجمہ: یاسر قاضی شکیلہ کا ہاتھ آہستہ آہستہ اپنے بالوں کی طرف بڑھا۔ اس کی چوٹی میں گلاب کا تازہ کِھلا ہوا پُھول ظلمات میں نُور کی کرنوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اس نے اپنے بالوں سے گلاب کو کھینچ کر نکالا۔ آہستہ آھستہ ہاتھ بڑھا کر، اس نے وہ گلاب مجید کے سفید کوٹ کے کالر میں سَجا دیا۔ مجید تھوڑا مُسکرایا۔ ”یہ تمہارے بالوں میں زیادھ خوبصورت

Read more

شکست کی قیمت

ولیڈن کی زندگی کا اب ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح وہ نطاشہ کو ڈھونڈ نکالے اور دوبارہ وہ دن واپس آجائیں جب وہ دونوں اکٹھے تھے۔ اس نے ہر فوجی کیمپ، پولیس اسٹیشن، اور جیل کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ شہر کے سب با اثر اشخاص سے ملا۔ سرکاری ملازموں، فوجی افسروں اور وزیروں کی منت سماجت کی اور بعض دفعہ ان کے سامنے بے اختیار بلک بلک کر رویا۔ اس کی سمجھ سے بالاتر تھا کہ نطاشہ نے

Read more

فتح کی قیمت

”انگلیاں! انُ کے نشانات! میں کہاں سے لاؤں؟ انہی کو بچانے کے لئے مجھے پاسپورٹ کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ کب تک فتح کا جشن منائیں گے؟ “ حارث فٹ پاتھ پر نا جانے کب سے کھڑا خود سے باتیں کر رہا تھا اور اس کی نظر بار بار اپنی انگلیوں پر جا کر ٹک جاتی تھی۔ یہ تین روز پہلے کی بات ہے جب شہر پر فوج نے حملہ کر دیا تھا۔ لوگ امید کر رہے تھے کہ فوج

Read more

نہ ہی باٹا نہ اسکول

” پہلے باٹا پھر اسکول“ کمرشل سروس ریڈیو پاکستان پر چند خوش باش بچے یہ فقرہ یا مصرع پڑھ کر خاموش ہو گئے اور مجھے رنج و غم کے اتھاہ سمندر میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے چھوڑ گئے۔ آپ بھی کہیں گے بھلا اس ایڈورٹائزمنٹ کو سن کر کے غمگین ہونے کی کیا تک ہے؟ اگر یاسیت سے لطف اندوز ہونا مقصد ہو تو کوئی حزنیہ گیت یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتا ہے یا پھر ”آداب عرض“ کی کوئی سچی

Read more

شکی شوہر اور دھوکے باز بیوی

وہ دو بھائی اور چار بہنوں کے بعد پیدا ہوا۔ بچپن سے ہی ایک ذہین بچہ تھا۔ کھلونے سے کھیلنے کے دوران بھی وہ بڑوں کی باتوں پر دھیان دیتا۔ اور اپنے مطابق ان کو سمجھنے کی کوشش کرتا۔ وہ اپنی عمر سے بڑی بڑی باتیں کرتا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تھی گھر کا ماحول۔ اس نے بچپن سے ہی ماں باپ کے درمیان جھگڑا دیکھا۔ اس کے والد سخت مزاج کے انسان تھے۔ بات بات پہ بیوی

Read more

جنگ

مترجم: عامر گمریانی۔ 1965 کی گرمیوں کی ایک خنک رات تھی۔ ہوا بالکل بند تھی، مچھر بہت تھے، چاند نے آسمان میں اپنا آدھا سفر طے کیا تھا۔ میں اپنی چارپائی میں بے چین پہلو بدل رہا تھا، اور بے خواب آنکھوں سے چاند کے منزل کی راہ تک رہا تھا۔ میرے ذہن میں قسم قسم کے بے چین خیالات ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کبھی گلاب کی باتیں اور کبھی فیاض کی زبانی جنگ کا احوال۔

Read more

نتھ (ارباب رشید احمد خان کا پشتو افسانہ)۔

توت کے درختوں میں کونپلیں نکلنے کو تھیں۔ بہار کے آثار تھے۔ گاؤں گاؤں شادیوں کے شادیانے بج رہے تھے، ہر طرف خوشیاں تھیں لیکن سلطان حجرے کے ایک کونے میں پڑی پھٹی چارپائی پر پڑا غم اور درد کی تصویر بنا ہوا تھا۔ دوپہر کے سائے بس لمبے ہی ہوئے تھے کہ سلطان نے ایک لمبی انگڑائی لی اور چارپائی میں بہ مشکل بیٹھ گیا۔ آج دوپہر تک اس کے نشے کا کوئی بندوبست نہ ہوسکا، کسی کام کاج

Read more

بیداری کا خواب اور تعبیر کے دھبے

جج کرسیِ انصاف پہ بیٹھا تو وہ تمام لوگ بھی اپنی اپنی سیٹوں پہ بیٹھ گئے جو جج کے احترام میں کھڑے ہوئے تھے۔ عدالت کھچا کھچ لوگوں سے بھری ہو ئی تھی۔ ایک ایک کرسی پہ دودو لوگ بیٹھے تھے اور کھڑوں کا شمار مشکل ہو رہا تھا۔ ”کارروائی شروع کی جائے۔ “ جج گرج دار لہجے میں بولا۔ ایک آبنوس کا کندہ وکیل کھڑا ہوا۔ سامنے سے اپنے گاؤن کو دونوں ہاتھوں سے ملاتے ہوئے عرض گزار ہوا:

Read more

انتقام – پشتو کا ایک افسانہ

ارباب رشید احمد خان کے اس شاہکار افسانے کا پشتو نام ”پتنہ“ ہے۔ پتنہ اور انتقام دو مختلف کیفیات ہیں۔ پتنہ کے لئے اردو کا کوئی موزون لفظ میرے ذہن میں نہ آسکا۔ پتنہ کو ہم تعصب کہہ سکتے ہیں لیکن لفظ تعصب بھی پوری طرح اس لفظ کا احاطہ نہیں کرتا۔ افسانے کی ساخت کے حوالے سے مجھے اردو میں اس کے لئے انتقام نام اچھا لگا۔ انتقام اور تعصب کے حوالے سے پشتو میں اس سے بہتر افسانہ شاید ہی کسی نے لکھا ہو۔ ترجمہ پیش خدمت ہے

Read more

انہونی

علیم ایک متوسط درجے کے خاندان کا انسان تھا۔ اپنی گریجویشن کے بعد وہ ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا۔ 26 سال کی عمر میں اُس نے اپنی خود کی کمائی سے اپنا ماسٹرز مکمل کیا لیکن دو سال بعد اُس کے والدین ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ وہ اکیلا رہتا تھا اور کوئی زیادہ قریبی رشتہ دار نہ تھا اور آمدنی کا ذریعہ بھی بہتر تھا۔ اُس میں کچھ اضافی فن موجود تھا جیسا کہ کہانیاں لکھنا اور

Read more

مقدس مندر کے منحوس پجاری کا بیچارا بت

اس وقت دنیا بھر میں کم و بیش دو سو مندر تھے جن میں سے ایک مندر میں اس وقت پرتعیش کمرے میں مندر کا پجاری اس کے چیلے کھانے پینے کے ساتھ ساتھ بہت پریشانی کے عالم میں بیٹھے ہوئے تھے۔ دنیا بھر کے ان دو سو مندروں میں الگ الگ قسموں اور صورتوں کے بت رکھے ہوئے تھے لیکن ان سب مندروں کے پجاریوں کا عقیدہ ایک ہی تھا اس عقیدہ کے مطابق طاقت ہی اصل مذہب تھا

Read more

آزاد نگاہیں

رشیدہ کو نقاب پہننے سے سخت نفرت تھی لیکن وہ اپنے شوہر عمران کے اصرار پر گھر سے باہر برقعہ اور نقاب کی پابندی کرتی تھی۔ آج اچانک عمران نے رشیدہ کو بتایا کہ اسے نقاب سے منہ ڈھانکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن رشیدہ نے جواب دیا کہ وہ نقاب پہن کر ہی باہر جائے گی۔ کل اس کو نقاب نے جو آزادی بخش دی تھی اسے وہ کسی بھی صورت میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔ پھر رشیدہ کو ایک دم خیال آیا کہ شاید کل عمران نے اس کی حرکت کو نوٹ کر لیا تھا۔

Read more

جنسی ہوس کا شکار ہونے والے معصوم بچوں کے لئے انصاف

گلی کا موڑ مڑ کر وہ ان آوازوں تک پہنچنا چاہتی تھی جہاں سے ہنسی کا شور بلند ہو کر فضا میں مسکراہٹیں بکھیر رہا تھا۔ اچانک ہی اٹھنے والے بچوں کے قہقہے اس کو بھی ہنسنے پر مجبور کر دیتے تھے اس کے تیز اٹھتے قدم لمحہ بھر کو رکتے، وہ اس شور کی طرف کان لگاتی اور مسکرا دیتی۔ موڑ کاٹتے ہی بچوں کا پارک تھا جہاں ہر عمر کے بچے کھیلنے کودنے میں مصروف تھے۔ ان کی

Read more

راہِ نجات

[ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]
تحریر: نجم عبّاسی
ترجمہ: یاسر قاضی

وہ خیالوں کے طُوفان سے پیچھا نہیں چُھڑا پا رہا تھا۔ اس نے اُٹھ کر ریڈیو لگایا۔ اور اُس کی آواز بلند کر دی۔ مگر اس کے کان، باہر کی آواز کی جانب مُتوجّہ نہیں ہو پائے۔ وہ نہانی تذبذُب کی سرگوشیاں سن رہے تھے۔

Read more

نئے دور کا نیا خاندان

رات دو بجے عذرا کا فون تھا۔ ”سر وہ لیبر میں ہے، ہسپتال آگئی ہے۔ شائستہ، وہی ایچ آئی وی والی عورت۔ “ ”کتنی دیر لگے گی تمہارے خیال میں؟ “ میں نے پوچھا۔ ”دو گھنٹے میں سب کچھ ہوجائے گا سر! ابھی وہ چھ سات سینٹی میٹر ہے اور بچے کا سر بالکل ہی نیچے آچکا ہے۔ درد ٹھیک ٹھاک اٹھ رہے ہیں۔ پروگریس کررہی ہے۔ “ عذرا نے جواب دیا تھا۔ میں نے کہا کہ ”میں آرہا ہوں۔

Read more

جب میں اس کی بہن سے ملا

”آج میری بہن کا برتھ ڈے ہے“ پیٹر کا لہجہ کچھ الجھا ہوا تھا۔ ”یہ تو خوشی کی بات ہے، تم کچھ پریشان لگ رہے ہو؟ “ میں نے حیرت سے کہا۔ ”میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ میں اس کے لیے کیا گفٹ خریدوں“ وہ بولا۔ ”بس اتنی سی بات ہے، یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، مارکیٹ میں جاؤ وہاں جو چیز پہلی نظر میں اچھی لگے خرید لو، تحفہ خریدنے کا بہترین طریقہ یہی

Read more

سیلفی : ایک افسانہ

اکبر کے گلابی چہرے پر روئی جیسی بھوری مونچھیں اب زیادہ ہی گہری ہو گئی تھیں۔ قلموں نے کانوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مونچھوں کی قربت حاصل کر لی تھی۔ ٹھوڑی پر بھی روئی جیسے بھورے بال سیاہی مائل ہو چکے تھے۔ پہلے تو وہ انہیں ہٹانے کے لئے مشین کا استعمال کرتا تھا لیکن ایک دن حجام کے کہنے پر ٹھوڑی کے بالوں کوموٹی مشین سے صاف کروادیا، مونچھوں کی قینچی سے تراش خراش کروائی اور کانوں کی

Read more

ٹیٹوال کا کتا: کشمیری منٹو نے کشمیر کا دکھ کیسے لکھا؟

کئی دن سے طرفین اپنے اپنے مورچے بر جمے ہوئے تھے۔ دن میں ادھر اور ادھر سے دس بارہ فائر کیے جاتے جن کی آواز کے ساتھ کوئی انسانی چیخ بلند نہیں ہوتی تھی۔ موسم بہت خوشگوار تھا۔ ہواخود رو پھولوں کی مہک میں بسی ہوئی تھی۔ پہاڑیوں کی اونچائیوں اور ڈھلوانوں پر جنگ سے بے خبرقدرت اپنے مقررہ اشغال میں مصروف تھی۔ پرندے اسی طرح چہچہاتے تھے۔ پھول اسی طرح کھل رہے تھے اور شہد کی سست رو مکھیاں

Read more

سوال بستی میں چھپے مفرور شخص کی حکایت

’کیا یہی سوال نامی بستی ہے؟ ‘ ’آ جاؤ آ جاؤ کیا تمہیں بھی نکال دیا ہے؟ ‘ ’ہاں، انہوں نے مجھے شہر بدر کر دیا ہے۔ ‘ ’یہاں کچھ شہر سے نکالے ہوئے باسی رہتے ہیں۔ لیکن تم تو ابھی بالکل نوجوان ہو تمہیں کیوں نکال دیا؟ ‘ ’میں نے اسکول میں ایک سوال پوچھا تھا۔ ‘ ’پھر؟ ‘ ’جب میرے استاد نے اور میرے گھر والوں نے اس کا جواب نہیں دیا تو میں نے بھرے بازار میں

Read more

گِرتی ہوئی دیواریں

(سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ۔۔۔ تحریر: شوکت حسین شورو /  ترجمہ: یاسر قاضی) دیواریں گِر رہی تھیں! وہ اپنے قیمتی لباس کو سبھالتے ہوئے پاس آئی۔ جب اُنگلی اس کے ہونٹوں پر آئی۔ ”یہ تو گِر رہی ہیں۔ “ دیواریں خاموش تھیں۔ دیواروں کو زبان کہاں! ”شکر ہے کہ میں اس گھر میں نہیں آئی۔ “ ہاں دیواریں گِر رہی ہیں۔ دیواریں گِر رہی ہیں۔ اُس نے ششدر ہو کر دیکھا۔ دیواریں نہیں بولی تھیں، صرف ہوا کی سرسراہٹ تھی۔ دیواروں

Read more

بدتمیز: جمال ابڑو کا سلگتا ہوا سندھی افسانہ

(سندھی افسانے کا اردو ترجمہ: تحریر: جمال ابڑو،  ترجمہ: یاسر قاضی) میں میجسڻریٹ ہوں۔ پیسے والا ہوں، اچھا کھانے پینے اوڑھنے پہننے والا اور کچھ اثر و رسُوخ والا بھی۔ میری بچّی بیمار ہو گئی۔ سورج غرُوب ہو رہا تھا، دوڑتا ہوا ڈاکٹر کے پاس پہنچا۔ ڈاکٹر صاحب کی کمائی کا سیزن تھا، اس لیے اس کے مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔ ماتھے پر بَل، بات بات پر خفا خفا سے ہوئے جا رہے تھے۔ مریضوں کی پُوچھ پُوچھ

Read more

ندا [ سندھی افسانے کا اُردو ترجمہ ]۔

افسانہ نویس: رسُول میمن ترجمہ: یاسر قاضی وہ کمرا ایک پُر اسرار حقیقت تھا۔ کمرا کیا تھا! رُوحوں کا پنجرہ تھا۔ اُوپر جالے لگے ہوئے تھے۔ جن میں مکڑیاں مَری ہوئی تھیں، جن کو پَتنگے کھا رہے تھے۔ بائیں جانب دیوار کو ٹیک لگا کر الماری ایسے کھڑی تھی، جیسے کوئی خاموشی اور افسوس کے مارے اپنی ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے، اُس پلنگ کو دیکھ رہا ہو، جس پر کبھی اسکول ماسٹر نُور الامین نوروز اپنی بیوی کے ساتھ سویا

Read more

ارباب رشید احمد خان کا افسانہ: قربانی

آسمان پر بجلی اچانک چمکی اور ارد گرد کے تمام قمقمے بجھ گئے۔ گھپ اندھیرے میں گنجے نے تالیاں بجائیں اور بے ساختہ ہنس پڑا۔ تورے نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نہایت افسوس سے درد بھرے لہجے میں کہا ”عید کی اس مبارک رات کو دیکھو اور ان قمقموں کے اندھیرے کو دیکھو، آخر مسلمانی ہے“، اور پھر ایک لمبی ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش بیٹھ گیا۔ تورا چند لمحے خاموش بیٹھا تھا، اسی اثنا میں گنجے نے گھٹنوں

Read more

شاہ جی اور لال آندھی

”آج لال آندھی آنی ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں آسمان پہ خدا کا جلال نظر آنے کو ہے۔ بہت احتیاط سے رہنا۔ استغفار پڑھو، توبہ کرو۔ اللہ کے آگے سر کو جھکا لو اور اس کے جلال سے پناہ مانگو۔ آج زمین بھی بے قرار ہے اور آسمان بھی غضبناک۔“ شاہ جی بولتے تھے تو ہم سب خاموشی سے سنتے تھے۔ ہمارے دلوں میں دہشت بیٹھ جاتی تھی۔ ہم ڈرنے لگتے۔ اللہ سے توبہ تائب کرتے اور شہداء کربلا کے

Read more

آنندی – اردو کے شاہکار افسانے

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی غیر حاضر نہ تھا۔ بلدیہ کے زیرِ بحث مسئلہ یہ تھا کہ زنان بازاری کو شہر بدر کر دیا جائے کیونکہ ان کا وجود انسانیت، شرافت اور تہذیب کے دامن پر بد نما داغ ہے۔

بلدیہ کے ایک بھاری بھرکم رکن جو ملک و قوم کے سچے خیر خواہ اور دردمند سمجھے جاتے تھے نہایت فصاحت سے تقریر کر رہے تھے۔

”اور پھر حضرات آپ یہ بھی خیال فرمائیے کہ ان کا قیام شہر کے ایک ایسے حصے میں ہے جو نہ صرف شہر کے بیچوں بیچ عام گزر گا ہ ہے بلکہ شہر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے چنانچہ ہر شریف آدمی کو چار و ناچار اس بازار سے گزرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں شرفاء کی پاک دامن بہو بیٹیاں اس بازار کی تجارتی اہمیت کی وجہ سے یہاں آنے اور خرید و فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ صاحبان! یہ شریف زادیاں ان آبرو باختہ، نیم عریاں بیسواؤں کے بناؤ سنگار کو دیکھتی ہیں تو قدرتی طور پران کے دل میں بھی آرائش و دلربائی کی نئی نئی امنگیں اور ولولے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے غریب شوہروں سے طرح طرح کے غازوں، لونڈروں، زرق برق ساریوں اور قیمتی زیوروں کی فرمائشیں کرنے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کا پُر مسرت گھر، ان کا راحت کدہ ہمیشہ کے لئے جہنم کا نمونہ بن جاتا ہے۔ “

Read more

ملبے کا مالک

موہن راکیش 8 جنوری 1925 کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ نئی ہندی کہانی کے بانیوں میں شمار ہوئے۔ ناول لکھے۔ ہندوستانی تھیٹر میں موہن راکیش کا ایک الگ مقام ہے۔ 3 جنوری 1972 کو دہلی میں وفات پائی۔ موہن راکیش کی ہندی کہانیوں کا مجموعہ "پارٹیشن کی دس کہانیاں” بہت مقبول ہوا۔ اس مجموعے کی ایک کہانی "ملبے کا مالک” کا تانا بانا لاہور اور امرتسر کی گلیوں سے بنا گیا۔ ہندی سے اردو ترجمہ: حسان خان

٭٭٭    ٭٭٭
ساڑھے سات سال کے بعد وہ لوگ لاہور سے امرتسر آئے تھے۔ ہاکی کا میچ دیکھنے کا تو بہانہ تھا، انہیں زیادہ چاؤ ان گھروں اور بازاروں کو پھر سے دیکھنے کا تھا جو ساڑھے سات سال پہلے ان کے لیے پرائے ہو گئے تھے۔ ہر سڑک پر مسلمانوں کی کوئی نہ کوئی ٹولی گھومتی نظر آ جاتی تھی۔ ان کی آنکھیں اس انہماک کے ساتھ وہاں کی ہر چیز کو دیکھ رہی تھیں جیسے وہ شہر عام شہر نہ ہو کر ایک اچھا خاصا مرکزِ ثقل ہو۔

تنگ بازاروں میں سے گزرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو پرانی چیزوں کی یاد دلا رہے تھے۔۔۔ دیکھ۔۔ فتح دینا، مصری بازار میں اب مصری کی دکانیں پہلے سے کتنی کم رہ گئی ہیں! اُس نکڑ پر سُکھّی بھٹیارن کی بھٹی تھی، جہاں اب وہ پان والا بیٹھا ہے۔۔۔ یہ نمک منڈی دیکھ لو، خان صاحب! یہاں کی ایک ایک لالائن وہ نمکین ہوتی ہے کہ بس۔۔!

Read more