ایک وقت کا کھانا

”بس دو منٹ بیٹھو۔ میں ابھی اے ٹی ایم استعمال کر کے آیا۔ “ شہر کے مصروف کمرشل روڈ پر، دو بنکوں کے سامنے کھڑی کئی موٹر سائکلوں کے درمیان، مشکل سے ”عارضی پارکنگ“ کی جگہ ڈھونڈھتے ہوئے، عدنان نے گاڑی کھڑی کی اور مکرّم کو تاکید کرتے ہوئے، گاڑی سے اُتر گیا۔ روڈ کراس کر کے، اُس پار جا کر، ایک اور بنک کے ’اے ٹی ایم سے‘ اپنی ضرورت کے مطابق کچھ رقم نکلوا کر، واپس سڑک عبور

Read more

بڑھاپے کی ورچوئل محبت، وبا اور موت کا دکھ

ایک پیلا پھول تھا جس کے گرد کئی سارے کاسنی ننھے ننھے پھول تھے اور ان کے بیچوں بیچ ’صبح بخیر‘ کا پیغام تھا۔ دل میں تازگی کی لہر دوڑ گئی تو ارجمند بیگم بستر پر ہی پڑی مسکرا اٹھیں۔ آج کل ایسی حسین صبحیں ان کا سواگت کیا کرتیں کہ ان کا جی چاہتا وہ ننگے پاؤں پھولوں سے سجی دھرتی پہ دوڑتی چلی جائیں۔ ایک لا ابالی لڑکی کی طرح ناچتی گاتی پھریں۔ ہواؤں کو اپنے من کے

Read more

اس نے مجھے آخری خط میں کیا لکھا؟

عداوتیں تھیں، تغافل تھا، رنجشیں تھی بہت بچھڑنے والے میں سب کچھ تھا، بے وفائی نا تھی محبت جب ہاتھ سے ریت کی مانند پھسل جائے تب رہ جانے والی چیزوں میں پچھتاوا اور الزام ہوتا ہے جو برابر اک دوسرے پہ تھوپا جاتا ہے، اس بار بھی تمہارے خط میں، تم ہی ہمیشہ کی طرح سچے اور میں ساری دنیا کی جھوٹی! جدائی کا سبب میں، لڑائی کا موجب میں۔ کوئی الزام اگر رہ گیا تھا تو وہ بھی

Read more

بوڑھے والدین کی تنہائی

آج تو شدید سردی تھی۔ زوار صاحب ہیلمنٹ اُتارتے ہوئے ثانیہ سے بولے۔ خیر میرے خیال میں کھانے پینے کا سامان تو پورا لے ہی آیا ہوں۔ ثانیہ آپ بھی تو حد کرتے ہیں۔ گاڑی پہ چلے جاتے یا پڑوس کے لڑکے عامر سے کہتی وہ لے آتا۔ ویسے بھی تو جب بلائیں کام کے لیے آ ہی جاتا ہے۔ وہ بات ٹھیک ہے جب تک میں بائیک چلا سکتا ہوں تو خود خود سامان لاؤں گا اور جہاں تک

Read more

سیلاب کے بعد

سیلاب ایک ماہ تک ہرطرف تباہی مچانے کے بعد اترنے لگا تھا۔ بپھرا ہوا پانی گاؤں کے گھر، کھیت سمیت ہر چیز جو نگل گیا تھا اور اب کسی اژدہے کی طرح اگل رہا تھا۔ تباہ شدہ مکان، مرے ہوئے مویشی اور ان سے اٹھتا طعفن، ہرے بھرے کھیتوں کی جگہ بھوک، بیماری اور مایوسی کی فصلیں۔ جو گاؤں کبھی خوشحال تھا اب وہ تباہ ہوچکا تھا۔ یہاں کے کھیت گیہوں اور دھان اگاتے تھے۔ گھروں میں کڑھائی کا کام

Read more

وبا اور پہلی محبت

دھیرے دھیرے رات ڈھل رہی ہے برسوں کے بعد آسمان صاف نظر آ رہا ہے۔ بچپن میں ایسی چمک دیکھا کرتے تھے پھر فیکٹر یوں، مشینوں اور گاڑیوں کے دھویں نے آسمان کی اصل شکل ہی گم کردی۔ وبا پھیلی، سب اپنے گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے تو فضا بھی گم صم اور مردے کے کفن کی طرح صاف ہو گئی۔ میں اپنے گھر کی چھت پر کھڑ ا بے چین و بے قرار ستاروں کی بادلوں کی ساتھ

Read more

اللہ وارث

اُس محترمہ اور میری پہلی ملاقات شہر کے مشہور ہوٹل کے ایک کمرے میں ہوئی تھی۔ میں ان دنوں بالکل بے کار تھا۔ میرے پاس کرنے کو کوئی کام نہ تھا۔ پھر ایک عجیب کام میرے ہاتھ لگ گیا۔ وارث جو ایک بڑے ہوٹل میں مینیجر کے بعد وہاں خاص آدمی تھا، نے مجھے پہلی مرتبہ اس کام کے بارے میں بتایا۔ پہلے تو سن کر عجیب لگا تھا کیوں کہ ہمارے ذہنوں میں اس کام کا تصور صرف ایک

Read more

قدرت کے بچّے

ہیلو، نمبراجنبی تھا مگر آواز مانوس۔ سارہ کے پور پور میں رچی بسی آواز، جیسے اس کی اپنی کھوئی ہوئی آواز، جس کی تلاش میں سارہ کا پل پل آزردہ تھا۔ خوشی تھی، غم تھا، کسک تھی، خوف یا جھجک۔ کچھ تھا جس نے یوں خنجر گھونپا کہ سسکی آہ میں بدل گئی۔ ”How are you“ وہی صدیوں پرانا رٹا رٹایا سوال۔ ”I am good“ وہی اس کا پرانا گھسا پٹاجھوٹ۔ لہجے کے اِرتعاش نے جسم کی رگ رگ کو

Read more

کرونا کی کرامت اور اٹلی کا سفر

آج لاک ڈاؤن کا دوسرا ہفتہ تھا۔ روز باہر سے ایک نئی خبر سننے کو ملتی تھی اور ایک نئی ٹیس صابر کے دل میں اٹھتی تھی۔ صابر ایک اسکول کے باہر آلو کے چپس بیچتا تھا۔ جس دن وزیرِاعلی نے اسکول بند کرنے کا اعلان کیا، اس کے پاس پانچ کلو آلو موجود تھے۔ لیکن اگلے دن اسکولوں میں بچے نہ تھے۔ اس کی کمائی نہ ہوسکی۔ آنے والے دنوں میں راہ گیروں نے معمول سے کم چپس کھائے۔

Read more

وبا کے دنوں میں محبت

ڈاکٹر سعدیہ کے دل کی دھڑکن معمول سے کچھ زیادہ تیز تھی۔ ہاسپٹل میں اس دن کام کا رش نسبتاً کم تھا۔ ڈاکٹر خرم کے کمرے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس نے دو تین بار اپنی بے ترتیب سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش کی مگر دل کم بخت بڑے زور دھڑک رہا تھا۔ ڈاکٹر سعدیہ کو ڈاکٹر خرم پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ آخر وہ سمجھتا کیوں نہیں ہے۔ کتنی بار اس نے اپنے دل کو سمجھانے

Read more

ذہانتَ (افسانہ)

”بابا! اس سامنے والے جہاز میں کھڑکیاں کیوں نہیں ہیں! ؟ “ جہاز کی کھڑکی والی سِیٹ پر بیٹھی حرِیم نے، جہاز اُڑنے سے قبل، ٹیکسی کے دوران، کھڑکی سے نظر آنے والے، ایئرپورٹ پر کھڑے، دوسرے جہاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ابا سے حیرتَ کے مارے دریافت کیا۔ شاید اس نے ایسا جہاز، اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ”بابا، یہ کارگو کا جہاز ہے، اس لیے۔ “ جہاز کی گلی کی سائیڈ والی سیٹ (آئل

Read more

لے سانس بھی آہستہ

یہاں مجھے آئے ہوئے کئی دن ہوچکے تھے۔ میں ایک انجینئر کے گھر میں بطور پیینگ گیسٹ سکونت پذیر تھی۔ میں اس گھر میں اپنے ابو کے ایک دوست کے ذریعے سے آئی تھی۔ انجینئر کی فیملی میں اس کی بیوی اور دو بیٹیاں تھیں۔ اس کی بیوی ایک لوکل سرکاری اسکول میں استانی تھی اور اس کی بیٹیاں بالترتیب ساتویں اور دسویں کلاس میں ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ یہاں رہ کر کبھی بھی

Read more

وبا کے دنوں کا ایک سچا منظر

وبا کا خوف گام گام، گھر گھر مایوسی کا ڈیرا تھا۔ حاکم نے حکم لگا رکھا تھا، کوئی شہری ماسک پہنے بہ غیر گلی میں نہ آئے۔ بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے غذا لینے بازار آیا، تو سپاہی نے سیٹی بجا کے روک لیا، کہ ماسک نہ پہن کر حکم عدولی کا مرتکب ہوا ہوں۔ "تم وہ موذی ہو، جس سے سماج کو خطرہ ہے”۔ میں نے دہائی دی، کہ اس وقت میری کل پونجی پانسو رُپیا ہے، اور

Read more

ٹوٹتا تارہ، دعا اور مسیحا

زندگی زمین سے روٹھی نہیں تھی۔ نسل آدم بڑھانے کے لیے ایک عورت موجود تھی۔ "لڑکی ہوئی یا لڑکا، ہم اس کا نام اُمید رکھیں گے”۔ اس بار بھی زندگی وہیں سے شروع ہوئی، جہاں سے پہلی بار ہوئی تھی۔ فرق محض یہ تھا، کہ اس بار آدم اکیلا نہیں تھا۔ اس کے شریک اور بھی تھے، لیکن حوا ایک ہی تھی۔ اس کا نام دعا تھا۔ ان میں سے ہر کوئی ایک واقعہ، ایک کہانی تھا۔ مکمل اشخاص اپنی

Read more

نازمینہ …. ایک درد بھری کہانی

”دیوار کے ساتھ پتھروں کو یکجا کرکے نازمینہ اور اس کی سہلیوں نے اپنا گھر بنایا تھا جس میں آج نازمینہ کی گڑیا کی شادی“ رچائی جارہی تھی نازمینہ اور اس کی سہیلوں نے اس شادی کے لئے خوب تیاری کر رکھی تھی ”وہ سب وہ گیت گا رہے تھی جو عموما شادیوں میں دوشیزائیں اور بڑی عمر کی عورتیں مقامی رقص میں ٹولیوں کی صورت میں گاتی ہیں“۔ نازمینہ نے اپنی گڑیا کے لئے خوبصورت جوڑا اپنی امی سے

Read more

گل بانو کی بچپن میں اچانک شادی, افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 3

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئی تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب

Read more

غلط فہمی

جلدی چلو رجسٹریشن کا آج آخری دن ہے۔ یونیورسٹی کے مین گیٹ پہ پہنچتے ہوئے آئمہ نے کہا۔ میں ہمیشہ کی طرح یار یہاں کی بیوٹی دیکھ کہ پاک جانے کا دل ہی نہیں کرتا آئمہ قہقہ لگاتے ہوئے۔ تمھارا بھی دین ایمان نہیں کبھی کہتی ہو آنکھ جھپکنے سے پہلے پاک پہنچ جائیں اور کبھی کیسے ڈرامے اسی طرح باتیں کرتے ہوئے ہم ڈیپارٹمنٹ میں انٹر ہوئے۔ آئمہ رکو زارہ میں زارہ کہاں ہے اتنے میں وہ ”ایوی ایٹر“

Read more

کیا کرونا وائرس جنسی خواہشات کو بھی ختم کر دے گا؟

کرونا وائرس کے بعد دنیا مسلسل ایک آزمائش سے گزر رہی ہے۔ لوگ ہاتھوں کی بجائے آئیسولیشن میں دم توڑ رہے ہیں۔ بڑے بڑے لوگ جان جانے کے خوف سے گھروں میں قید ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، عرب، ایشیا، یورپ ساری دنیا لاک ڈاؤن ہو چکی ہے۔ مسیحی، مسلم، ہندو سب اپنے خدا سے بھی ناتا توڑ چکے ہیں۔ اگر کوئی ڈر ہے تو وہ بس جان جانے کا ڈر۔ اور اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی تمنا۔ مگر کوئی حل

Read more

زبردستی کی شادی رومانوی ہوتی ہے کیا؟

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 2 اصل ارمغان اس کے لیے ”عام سا اسلم“ تھا اور بسمہ کو اُس سے بلاوجہ چڑ تھی۔ اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کے تخیل میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں، فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ

Read more

خوب سیرت کی تلاش

پرانے وقت کی بات ہے ایک ”بادشاہ“ تھا۔ اس کا بیٹا جو کہ اس وقت تخت نشین تھا۔ 18 سال کا ہونے والا تھا اور بادشاہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کی شادی دنیا کی حسین ترین لڑکی سے کرائے۔ وہ چاہے شاہی گھرانے کی ہو یا غریب گھرانے کی۔ اس حوالے سے بادشاہ اپنے بیٹے کو بھی آزادی دیتا ہے کہ وہ پیاری لڑکی خود بھی تلاش کر سکتا ہے۔ بادشاہ کی خواہش کی وجہ یہ تھی

Read more

ہوٹل کا کمرہ

صاحب نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلا یا۔ ہوٹل کے وسیع ہال کے سٹیج پرمحکمے کے مختلف افراد اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ پروگرام ختم ہونے والا تھا۔ ”یہ چابی لو! میری گاڑی میں پڑا سامان اور بریف کیس کمرے میں پہنچا دو۔ “ اس کے صاحب نے آج پھر ہوٹل میں ہی ٹھہرنا تھا۔ ان کی بہت سی خفیہ سرگرمیوں کا وہ گواہ تھا۔ صاحب اکثر ضمنی انتظامات کے لئے ہوٹل میں اسے ہی بھیجتا تھا۔

Read more

نو ستارہ خفیہ تنظیم اور تسخیر کرنے والوں کا نامہ اعمال

سیمیوئل امریکہ کے گرین وڈ نامی ایک چھوٹے سے ٹاون میں رہتا تھا، اس کے والدین نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں جرمنی سے امریکہ ہجرت کی تھی اور انتہائی کسمپرسی میں زندگی بسر کرتے رہے تھے، سیمیوئل کے تعلیمی اخراجات بہت مشکل سے ادا کیے جاتے، سیمیوئل ذہین تھا، ہائی اسکول میں اس کو اسکالرشپ مل گیا، سیمیوئل نے بہت محنت کی اور ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گیا، یونیورسٹی میں

Read more

الجھے جال، کالے ناگ

ڈئیر ہم نفس کیسے ہو سنا ہے محبت پر ریسرچ کرنے کا ارادہ ہے۔ منع بھی کیا تھا تمہیں یہ محبت کے چکر میں نہ پڑو، گورکھ دھندا ہے کالے دھن سے زیادہ ڈونگا ابھی بھی سمجھا رہا ہوں دور رہو اس آگ سے جل جاؤ گے اور تم میں جلنے کا حوصلہ نہیں۔ پر محبت میں جلے بغیر گزارا نہیں۔ تم سیکھاؤ گے محبت، تم تو اپنا ایک ارادہ تک نہیں بدل سکتے کسی کے لیے اور محبت تو

Read more

رنگ بدلتے گلاب

دونوں میں بے انتہا محبت تھی ان دونوں کے جسم تو الگ الگ تھے لیکن روح ایک ہی تھی۔ ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے۔ لڑتے ’جھگڑتے تھے لیکن ایک دوسرے کے بنا رہ نہ پاتے تھے۔ حرا کو گلاب کے پھول بہت پسند تھے۔ وہ بڑے مان سے کہتی عمیر لال گلاب کے پھولوں کا گجرا لانا نہ بھولنا۔ اس کی خواہش ہو اور عمیر پوری نہ کرے یہ تو ہو نہیں سکتا تھا۔ پھر وہ گجرا ہاتھوں

Read more

افسانے کی حقیقی لڑکی

اپنی زندگی کی افسانویت اور حقیقت میں پھنسی لڑکی جو کہیں نہ کہیں ہر لڑکی جیسی ہے۔ ”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے“ معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار

Read more

بھکاری: انتون چیخوف کی ایک کہانی

مجھے اپنی یاد داشت پر زور دینے کی بالکل ضرورت نہیں۔ برسات کی وہ دوپہر مجھے ابھی تک ایسے یاد ہے جیسے کل کا واقعہ ہو۔ میں آٹھ سال کا تھا اور اپنے باپ کی انگلی تھامے ماسکو کی ایک مصروف سڑک پر کھڑا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی انجانی سی بیماری آہستہ آہستہ میرے جسم میں سرایت کر رہی ہے۔ حالانکہ درد بالکل نہیں ہو رہا تھا مگر میری ٹانگوں میں جان نہیں تھی۔ گھٹنے جیسے ربڑ

Read more

خواہشیں۔۔۔ بے کراں رات کے سناٹے میں

یہ خواہشیں بھی بڑی عجیب ہوتی ہیں ان سے دور بھاگو تو یہ خوابوں میں آنے لگتی ہیں اور بس خواب میں آنے پر بات ختم نہیں ہو جاتی یہ تو خود کو کسی کم عمر شوخ چنچل دلہن کی طرح سجائے پوری رنگینی اور حسرت کا آنچل اوڑھے بے چینی کے دروازے پر دستک دیتی ہیں جب بے چینی اس کی آہٹ محسوس کرتی ہے تو دل کے در و دیوار پر لرزش کرتی ہے زور زور سے ہاتھ

Read more

ژالہ باری کی رات اور پِرجا کا حلالہ

اترسوں رات سے موسم خراب تھا۔ اس سال سردی کڑاکے کی پڑی تھی۔ موسم کی شدت ہر چیز کو غارت کردینے پر تلی تھی۔ بہار کا موسم شروع ہو چکا تھا پھاگن کا مہینہ تھالیکن سردی جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بادلوں کے اوٹ سے جھانکتے تر چھے سورج کی زرد روشنی ابھرتی ہوئی گندم کے خوشوں کو پیلا رنگ رہی تھی۔ کبھی کبھی دکھائی دیتے سورج میں حدت ذرا برابر بھی نہیں تھی۔ شمال کے پہاڑوں سے

Read more

کمزور سہیل کی باکرہ دلہن

ایک کلو بادام بھی تول دو، میں نے دکاندار سے کہا اور فہرست دیکھنے لگا کہ کچھ رہ تو نہیں گیا، چھوہارے، ناریل، خشک خوبانی، بتاشے اور میٹھی سپاریاں، سب کچھ تھیلیوں میں رکھ دیا گیا تھا، اپنا پسندیدہ میوہ بادام پیک کروانے کے بعد میں نے دکاندار سے کہا، آپ لوگوں کا تول درست نہیں ہے، کیسی بات کرتے ہیں بھائی، اتنے سالوں سے ہم سے سودا لے رہے ہیں، شادیوں پر بھی بری کا میوہ ہماری دکان سے گیا، اب آخری شادی پر ایسی باتیں تو نہ کریں، پچھلے دنوں میرا دوست بیرون ملک سے آیا اور میرے لئے بادام لایا، پیکٹ کھول کر اسی مرتبان میں ڈالا جس میں سالہا سال سے تم سے بادام خرید کر رکھتا ہوں، کبھی پورا نہیں بھرا، لیکن بیرون ملک سے لائے باداموں سے پورا مرتبان بھر گیا، میں نے اسے بتایا۔

Read more

حیدر آباد 47 کلو میٹر

سپر ہائی وے پر سو کلو میٹرسے زیادہ کی رفتارسے ڈرائیو کرتے ہوئے سرمد سی ڈی پلیئر میں چلتے کشورکمار کے گیت سے سر ملانے کی کوشش کر رہا تھا: زندگی اک سفر ہے سہانا یہاں کل کیا ہو کس نے جانا اسی لمحے اس کے فون کی بیل، گیت کے ساتھ بجنے لگی۔ اس نے ڈیش بورڈ سے موبائل اٹھا کر دیکھا۔ موبائل کی سکرین پر اِرم کی تصویر دیکھ کر مسکرا دیا۔ اس نے سی ڈی پلیئر بند

Read more

ہرجائی

ہرجائی اب چلے بھی جاؤ۔ میرے دل میں موجود خوش گمانیوں کا ہر کونا تمہاری چاہ سے رخصت طلب ہے۔ شبِ زندگی ابھی اختتام پذیر نہیں ہوئی۔ زندگی میں موجود اندھیرے اب بھی بدستور برقرار ہیں، مگر دور کہیں سے ٹمٹماتے قمقمے میری روح سے اندھیروں کو دور کرنے کے لیے بے قرار نظر آرہے ہیں۔ گلشن میں موجود کلیاں جو ہر بار تمہارے ساتھ ہونے کے باوجود مجھے اداس کر جاتی تھیں آج میری مسکراہٹوں کے ساتھ اٹکھیلیاں کر

Read more

دو بوری عزت والا

وہ اپنی پانچ چھ بکریوں کو لیے گھومتی گھامتی گاؤں سے ذرا دور نالے تک نکل آئی تھی۔ چلتی جاتی تھی اور ہر ہر چیز کو غور سے دیکھتی جاتی تھی۔ کسی چیز کو دیکھنے میں زیادہ مگن ہوتی تو اردگرد کا دھیان ہی نہیں رہتا تھا۔ اب بھی جھاڑی میں لگے ایک جالے کو دیکھنے میں میں لگ گئی جس پہ ایک مکڑی بیٹھی تھی اور ادھر ادھر منڈلاتی مکھی کو پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔ مکھی قریب

Read more

سائل کو خالی نہ لوٹاؤ! (سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ)

تحریر: انیلا ”نیل“ میرانی ۔۔۔ ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * اُس دن گرمی کی شدّت اپنے عروج پر تھی اور شام ڈھلنے کے باوجود تپش ابھی تک برقرار تھی۔ لیکن موسموں کی سختی ہمیشہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہی ہوا کرتی ہے اور ان ہی کو جھیلنی پڑتی ہے۔ امراء کی لُغت میں تو شاید اس چیز کا نام و نشان ہی نہیں ہوتا کہ ان کی دولت موسمِ گرما کو سرما اور جاڑے کو گرمیوں میں

Read more

پیر سائیں کا شمامۃ العنبر عطر اور لچھی کی اقلیتی کرسی

”لچھی“ اس نے دونوں ہاتھ پلنگ کے کناروں پہ جما کے گھٹنا اوپر رکھا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک دم اماں کی آواز نے اسے وہیں روک دیا۔ یہ بالکل پہلی یاد تھی جو اس کے دماغ میں پتھر پہ کھدی تحریر کی طرح پختہ اور واضح تھی۔ اس سے پہلے کبھی اسے پلنگ پہ بیٹھنے سے منع کیا گیا ہو یا بیٹھنے دیا گیا ہو اسے بالکل یاد نہیں۔ تب اس کی عمر شاید تین یا اس سے

Read more

”زندگی“

تمہیں زندگی کیسی لگتی ہے؟ یہ کیسا عجیب سوال ہے۔ اس میں عجیب ہی کیا ہے؟ تم جب آنکھیں بند کرو تو زندگی کی کیسی شکل تمہارے ذہن میں ابھرتی ہے زندگی! اس کی آنکھیں کسی وحشی قاتل کی طرح خون ٹپکاتی ہیں۔ غصے کی حالت میں گالیاں بکتے اس مرد جیسی جس کی نظر میں اس کی بیوی کی اوقات کسی راہ پڑے پتھر سے زیادہ نہیں ہوتی، جس کو کبھی بھی ٹھوکر مار کر اپنی مردانگی اور طاقت

Read more

انتون چیخوف کا شاہکار افسانہ : وارڈ نمبر 6

اسپتال کے احاطے میں اسی سے متعلق ایک چھوٹی سی عمارت بنی ہوئی ہے جس کے چاروں طرف گوکھرو، بچھوا اور جنگلی سن کے پودوں کا جنگل کا جنگل کھڑا ہے۔ اس کی چھت زنگ آلود ہے، چمنی ٹکڑے ٹکڑے ہو چلی ہے، برساتی کی گلی سڑی چوبی سیڑھیوں پر گھاس اُگی ہوئی ہے اور جہاں تک دیواروں کا تعلق ہے تو انہیں غور سے دیکھ کر ہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان پر کبھی پلستر بھی کیا گیا

Read more

افسانہ ”غربت“

مجھے اندر جانے دو بہت مجبوری ہے۔ ضروری بات کرنی ہے۔ سلمان گیٹ پر کھڑے ”سیکورٹی گارڈ“ سے بحث کر رہا تھا۔ گارڈ اسے اندر جانے سے روکتا ہے۔ اسی طرح دو گھنٹے گزر جاتے ہیں۔ شدید گرمی میں درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے بے چین ہوکر جیب سے فون نکالتا ہے اور بھائی جو سلمان سے چھوٹا ہوتا ہے فون پر ہی کہتا ہے کہ آپ لوگ اماں کا نماز جنازہ پڑھوا لو مجھے آنے میں بہت وقت

Read more

افسانہ ”التجا“

اے میری ناراض محبوبہ! اب مان بھی جاوُ نا۔ تمہیں مجھ سے منہ پھیرے نہ جانے کتنا عرصہ بیت چکا ہے۔ تمہارے جانے کے بعد سے چاند مجھ سے اکھڑا سارہتا ہے۔ عورت سے تعلق بنانے سے ساری زندگی محض اسی لئے گریز کرتا رہا تھا کہ یہ قیمت بہت بڑی مانگتی ہے۔ تم جاتے جاتے میرے بچپن کی سب سے اچھے ساتھی کو بھی اپنی مٹھی میں لے اڑی۔ اب میں چاند کو پکارتا ہوں تو وہ مجھے آنکھیں

Read more

ادھوری محبت کے نام آخری خط

ہم دوہری اذیت کے گرفتار مسافر پاؤں بھی شل ہیں، شوق سفر بھی نہیں جاتا ”اجالا! تمہارا پیمان وفا اب تلک یاد ہے مجھے، اب تک تمہارے اس دلاسے کے سہارے شب و روز گزارتا ہوں کہ ساتھ نہیں چھوٹے گا“ آج کتنا وقت بیت گیا، تمہیں دیکھے ہوئے، تم سے بات کیے ہوئے۔ تم سے لڑے ہوئے تو صدیاں بیت گئیں، تمہارے لوٹ کے آنے کے سب خواب کرچیاں بنی میرے سینے میں چبھتی ہیں۔ سانس لیتا ہوں تو

Read more

افسانہ دیوانی

میری بے ساختہ ہنسی کو کھوجتے کھوجتے تمہارے ہونٹوں پر ابھرنے والی دھیمی مسکراہٹ، تمہاری محبت سے لبریز پر سحر آنکھیں جن کا جادو میری روح تک کو تمہاری خوشبو سے معطر کر دیتاہے۔ تمہاری ہتھیلی پر موجود گہری لکیریں جن کا کوئی سرا بھی کبھی ہمیں ایک نہ کر پائے گا۔ تمہارا آبگینے کی طرح میرا خیال رکھنا اس خوف کے ساتھ کہ وقتی طور پر تمہارے بدلتے مزاج اور تلخ رویے کی ذرا سی ٹھیس میرے وجود کو

Read more

میرا وچھڑیا پیکا دیس!

فضیلت کی عمر 22 سال ہے۔ رنگ گندمی، قد درمیانہ اور آنکھوں کے گرد سیاہ ہلکے ہیں۔ چہرہ انتہائی بوجھل، اداس اور جوانی میں بوڑھا دکھائی دے رہا ہے۔ آنکھیں تھکی ہوئی ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ان سے رونے کا بہت کام لیا گیا ہے جبکہ بالوں کی سیاہی بھی ماند ہے۔ پاوں کی جوتی گھس، گھس کے زمین برابر ہوچکی ہے اور کپڑوں کے رنگ بالکل ایسے ہیں جیسے کسی نے اینڈرائڈ موبائل سے تصویر کھینچنے کے

Read more

پچھلے بينچ پر بیٹھا ہوا شخص

ويران شہر کے زبوں حال ريلوے اسٹيشن کے ملبے سے گزر کر، میں پليٹ فارم پر پہنچا۔ وہاں اتنا ملبہ نہیں تھا اور ريلوے ٹريک بالکل صاف تھا۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ، "اس شہر سے آخری ٹرين نصف صدی قبل روانہ ہوئی تھی، جس کے بعد پھر دوبارہ کوئی ٹرین اس شہر میں نہیں آئی…” مگر ریلوے ٹریک کی پٹریاں یوں چمک رہی تھیں جیسے ان پر سے روزانہ جانے کتنی ٹرينیں گزرتی رہی ہوں۔ میں نے پليٹ فارم

Read more

شکر ہے کوئی کتا نہیں

پاگل کتوں نے شہر میں انت مچایا ہوا ہے، لوگوں کا جینا دو بھر ہے۔ ان کی خوفناک آوازیں سن کر گلی پر کوئی بچہ بھی نہیں نکلتا کہ کہیں کوئی پاگل کتا کاٹ ہی نہ لے۔ رانی بیٹی! زرہ غور سے سنو ناں گلی میں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آ رہی ہے۔ ماں اپنی پانچ سالہ ننھی رانی کو گود میں لٹائے سمجھا رہی تھی۔ رانی کا کھلتا ہواچہرہ کتوں کے خوف سے دھیرے دھیرے پیلا پڑنے

Read more

خدا کی پہچان کا سفر

سینما ہال سے نکل کر گھر پہنچتے ہی اُسامہ بستر پر اوندھے منہ جا گرا۔ ٹائم پیس پر صبح کا الارم لگا کر سونے ہی والا تھا کہ کوہِ ندا پہ بشارت کی آواز گونجنے لگی۔ بازگشت ارتعاش پیدا کرتے ہوئے خطِ استوا پر پھیلنے لگی۔ ڈوبتے ستاروں کو ضِد تھی کہ خدا کو دو گھڑی آرام کرنا چاہیے۔ صبح اٹھتے ہی اُسامہ نے ایک لمبی انگڑائی لی اور زمانے کے کیلینڈر پر تاریخ بدل دی۔ وہ ہر روز دس

Read more

افسانہ: ”نصیحت کی بدولت“

”وانیہ“ ایک ضدی اور خودسر لڑکی تھی۔ اگلے دن ہاتھوں میں مہندی لگائے کلاس میں آئی۔ ٹیسٹ لینے سر آئے انہوں نے پیپر دیا۔ وانیہ نے خود جان بوجھ کر پھینک دیا۔ ”سر“ شرارت نہ سمجھے، پیچھے سے مڑ کر دیکھا اور پین اٹھا دیا۔ وانیہ اصل میں عام شکل و صورت کی مالک تھی۔ لیکن وہ خود کو بہت خوبصورت تصور کرتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ لوگوں کو خوبصورتی اور فیشن سے متاثر کیا جاسکتاہے۔ یہی غلط فہمی

Read more

افسانہ مرد

وہ ریلوے اسٹیشن پر بیٹھی نہ جانے کب کی ریل کی منتظر تھی۔ اس تھکا دینے والے انتظار نے اسے بے چین کر دیا تھا۔ اس کے مہندی لگے ہاتھوں میں لال چوڑیاں تھیں۔ وہ اپنا وقت ان کی کھنکھناہٹ کے ساتھ کاٹ رہی تھی. کبھی وہ انہیں گھوماتی اور کبھی گننے لگتی۔ وہ عجیب سی سرشاری کے عالم میں تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن ہے۔ اس کا چہرہ نقاب کے نیچے چھپا ہوا تھا

Read more

جوتے کی نوک پر

”اری او سوہنی! کہاں ہو؟ جب دیکھو جوتوں سے ہی کھیلتی رہتی ہو۔ “ ”جی، بی بی جی۔ آئی۔ “ ”صبح سے کیا کام کیا ہے؟ “ ”بی بی جی، سارا صحن صاف کر چکی ہوں۔ کمرے جھاڑ پونجھ لئے، اب صاحب کے جوتے پالش کر رہی ہوں۔ “ ”اب چھوڑ بھی دو ان کو۔ کوئی اور کام بھی کر لو۔ “ ”بی بی جی، اگر یہ چمکتے نہ ہوں تو آپ پھر بھی غصہ کرتی ہیں۔ اور مجھے یہ

Read more

جشن سال نو اور ازلی بے بسی

اختتامِ شام ہجراں کے انتظار میں نجانے کتنے ہی چاند بے آواز رونے میں مصروف ہیں۔ نہ جانے کتنے سورج سمندر میں آگ لگائے بیٹھے ہیں۔ مایوسی لے کے خالی ہاتھ پلٹنا کیسا تڑپا دینے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ وہ انسان اچھی طرح کر سکتا ہے جو چائلڈ کورٹ کے سامنے بیٹھا اپنے بچوں سے ملاقات کی امید باندھے ہر گزرتے لمحے کو قیامت کی طرح جھیلتا آیا ہو اور طے شدہ وقت سے چند لمحے پہلے اسے

Read more

نفسیاتی مریض

وہ پری چہرہ نجانے کب سے سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی اس نے ڈریسنگ ٹیبل پر سلیقے سے سجی ہوئی ان ہری چوڑیوں کو دیکھا جنھیں شیراز بڑے چاؤ سے اس کے لیے خرید کر لایا تھا۔ اس کے نکاح میں گزارے گئے حسین لمحات کسی فلم کے منظر کی طرح اس کی بند آنکھوں میں در آئے تھے۔ وہ معمول کے مطابق کچن میں کام کرنے میں مشغول تھی۔ جب شیراز کے قدموں کی آواز اور چوڑیوں

Read more

لڈو کی ٹوپی

فیصل کے کھانسنے سے میری آنکھ کھل گئی، ذہن سو رہا تھا لیکن پریشانی سے آنکھیں پوری کھول کر فیصل سے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا آپ کو لیکن فیصل کھانسے گئے، بہ مشکل سن ہوتے ہاتھ پاوں حرکت میں لائی اور فیصل کو سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس تھمایا، فیصل کو پانی پی کر ہی سکون آیا، خواہ مخواہ خشک ہوا چل پڑی، موسم خشک ہونے کی وجہ سے گلا بھی خشک ہو گیا تو کھانسی آ گئی،

Read more

صدائیں مجھے نہ دو!

فضا میں خنکی بڑھتی جا رہی ہے۔ میں کافی کا کپ لے کر ٹیرس پہ آ بیٹھا ہوں۔ نومبر کی شاموں کی اداسی میرے مزاج کے عین مطابق ہے۔ نومبر سے اگلے مہینے بھی میری سرد مہری سے زیادہ سرد نہیں۔ مو بائل کے سپیکر سے اٹھتی مہدی حسن کی آواز مجھے اپنے دل کی آواز لگ رہی ہے۔ شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو سیگریٹ سلگا

Read more

توبہِ عشق

میں تو یہ جانتی ہی نہیں کہ کیا ہو گئی میری توبہ قبول کیا ہو گئی معافی میری تو پھر۔ تو پھر کیسے ایک اور گناہ پر راضی ہو گئی کیا یہ جو آئینے میں موجود میرا عکس ہے کیا یہ بھی جواب نہیں دے گا کیوں یہ بھی تو میں ہی ہوں میں ہوں ہاں میں ہی تو ہوں خودکو جانتی ہوں سمجھتی ہوں مطلب اور کوئی تو ویسے جانتا بھی نہیں جیسے یہ عکس مجھے جانتا ہے تو

Read more

پانچویں سَمت [ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ]

افسانہ: منوّر سراج         ترجمہ: یاسر قاضی * * * * * ”سنو! ؟ “ ”ہُوں! “ ”جاگ رہی ہو؟ “ ”ہاں۔ “ ”ایک بات تو بتاؤ۔ “ ”ہُوں۔ کہو! “ ”وہ کون تھا؟ “ ”کون وہ؟ “ ”وہ، جو آیا تھا۔ “ ”کون آیا تھا؟ “ ”کوئی تو تھا۔ “ ”پتا نہیں۔ “ ”بتاؤ، کون تھا؟ “ ”پتا نہیں، کون تھا۔ “ ”کہاں سے آیا تھا؟ “ ”پتا نہیں۔ “ ”مجھے پریشان ناں کرو۔ بتاؤ! “ ”کیا؟

Read more

اچھوت مسلمان

’ارے بھئی تم اُدھر بیٹھ کر کھانا کھاؤ۔ ‘ نوجوان کارندے نے سختی سے کہا۔ ’اِدھر بھی تو لوگ بیٹھے ہیں میرے اِدھر بیٹھنے میں کیاحرج ہے۔ بھئی اب تو میں مسلمان ہوں۔ میں اور میرا بھائی ہندو دھرم چھوڑ کر مسلمان ہو گئے۔ ‘ اُس نے ڈرتے ڈرتے ہمت کی۔ ’تم کو پتا نہیں کہ تم اِدھر نہیں بیٹھ سکتے! سب ہلا جاتیوں کو الگ بٹھایا ہے۔ ‘ ’میرے کو بھی تو چودھری صاب نے کھانے کی دعوت دی

Read more

پیرخانہ: گدی نشینوں کی ایک کمین عورت کی کہانی

سورج غروب ہوتے ہی ہر طرف دھندلکا چھانے لگا۔ پیڑوں کے بڑھتے ہوئے سائے اندھیر نگری کے کوٸی دیوہیکل جن معلوم پڑتے تھے۔ خاموشی گلا پھاڑ کر چیخنے لگی تھی۔ ان گنت حشرات یکلخت فضا میں چھاٸی اداسی پر ماتم کرنے لگے۔ چند برس قبل پیر شہاب الدّین نے اپنے سگے بھاٸی کو گدّی کے راستے سے ہٹانے کے لٸیے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ دربار پر تالے پڑے رہے۔ خوف اور سناٹا کچھ دن چھایا رہا۔ درسگاہ بھی

Read more

افسانہ :گر سمجھ سکو

دکان کا دروازہ کھولتے ساتھ ہی ٹھنڈک کا ایک لطیف احساس ہوا۔ اندر کا ٹھنڈا ماحول باہر پڑ رہی شدید گرمی کے مقابلے میں انتہائی خوشگوار معلوم ہو رہا تھا اور دل ودماغ کو پر سکون کیے دے رہا تھا۔ میں نے دکان کے اندر داخل ہو کر کچھ دیر اس احساس کو اپنے اندر اتارا پھر ٹوکری اٹھا کر اپنی مطلوبہ اشیاء کی جانب چل دیا۔ دن کے گیارہ بج رہے تھے اور دکان میں اکّا دکا خریداروں کے

Read more

میٹھی جھیل کی ڈچ لڑکی: گینگ بینگ سے داعش جہاد تک

مشعال اک بہت پیاری ولندیزی بچی تھی۔ گلابی رنگت، نیلی آنکھوں اور سیاہ بالوں کے امتزاج سے وہ دوسری ولندیزی بچیوں سے منفرد نظر آتی تھی۔ سیاہ گھونگریالے بال اسے اپنے باپ کی طرف سے وراثت میں ملے تھے جن کا تعلق ہالینڈ کے کرابیین جزیرے سے تھا۔ مشعال جب ذرا بڑی ہوئی تو اپنی چھوٹی سی بائیسکل پر خود ہی اسکول جانے لگی۔ وہ اسکول سے واپسی پر کچھ دیر کے لئے اپنے قصبے کے وسط میں واقع تازہ

Read more

حرام خور (افسانہ)۔

اس بار پنڈ کا جاڑا اور بھی جان لیوا تھا۔ جیسے جیسے رات ڈھلتی تھی رگوں میں خون جمتا تھا۔ رات کے 9 بجے تھے۔ پگڈنڈی چپ چاپ سو رہی تھی۔ پہلے تو کبھی کبھار کتے بھونکتے تھے جیسے میلوں دور اپنا ہی کوئی جہان بستا ہو ان کا جہاں انسانوں کو جانے کی اجازت نہ ہو۔ شبنم کے قطروں نے بھی جاڑے سے دوستی کرلی۔ سیلن تو نام کو نہیں۔ ہر شے جاڑے کی ساتھی بن گئی۔ ہر کوئی

Read more

رسموں کی قیدی کہانی

مجھے کبھی کبھار حیرت ہوتی ہے جو لڑکی اس ملک میں یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے کے لئے باآسانی پہنچ جاتی ہے، اینڈرائڈ موبائیل استعمال کر سکتی ہے، بنا روک ٹوک باہر آجا سکتی ہے، جینز پہن سکتی ہے، سیمینار، میلے، مالز، بازار، ہوٹل اور بالخصوص مخصوص دن میں بینر اٹھا کر روڈ پر آ سکتی ہے اسے کوئی معاشی مسئلہ درپیش نہیں ہے، اور اکیلے روانگی واپسی پر نا وہ کاری ہوتی ہے، نا اس کے پاوں میں زنجیر

Read more

نادان لڑکی

زندگی نشیب و فراز کے ایک ایسے اندھے کنویں کے گرد گھومتی رہتی ہے جس میں خواہشات اور خوشیوں کے حصول کے لیے انسان کو اپنا وجود تو ایک بار اس کنویں کے سپرد کرنا پڑتا ہے اس کنویں کا پانی بعض لوگوں کے لئے تو آب حیات ثابت ہوتا ہے اور کچھ بدقسمت لوگ اپنی پیاس کی شدت کو اتنا بڑھا لیتے ہیں کہ وہ انہیں سراب کرنے کی بجائے موت کی وادی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ موت

Read more

خواہشات کی غلامی

مجھے بتا اے زندگی کہ جو خواب دیکھے میں نے جو دراصل دکھائے بھی تو نے تھے اور دکھائے بھی کیا کچھ اس طرح دل و دماغ کی دیواروں پر نقوش پیوست کر دیے کہ جیسے یہ بنے ہی میرے لئے تھے اور ان پر صرف میرا ہی حق ہے۔ تو جانتی ہے اے زندگی! وہ جو تو نے خواب دکھایا تھا پہلی بار اس من چاہی گڑیا کا جس کو میں روز روز خواب میں دیکھنے سے اپنا ماننے

Read more

شمع پھول یا شمع فضول

ہم کوئٹہ کی شدید سردیوں سے بچنے کو ہمیشہ دسمبر سے مارچ تک کراچی جا بستے ہیں۔ میں نے کم و بیش بارہ سال قبل جمشید روڈ کی حیدرآباد کالونی میں ایک فلیٹ لے رکھا ہے۔ جہاں ہر سال سائبیریا کی ٹھنڈی ہواؤں سے بچنے کو پناہ لی جاتی ہے۔ جوانی میں کچھی پاڑہ لیاری میں تایا ابو کے گھر رہا کرتا تھا اُن دنوں لیاری اتنا گنجان آباد نہ تھا۔ کُھلے کُھلے روشن ہوادار مکانات اور کھیل کے میدان

Read more

افسانوی ادب

کیا اس کو خبر ہوگی کہ کیسے ایک ایک لمحہ گراں گزرتا ہے اس کے بنا کیسے وقت کاٹے نہیں کٹتا میں لاکھ سمجھاتی ہوں اس نادان دل کو کہ اب نہ یاد کر وہ نہیں آئے گا وہ جا چکا دامن چھڑوا کر میرا۔ پر یہ دل بے چارہ محبت کا مارا مانتا نہیں جانتا نہیں کہ جو ایک بار دور چلا جائے لوٹ کر آیا نہیں کرتا میرا محبت کا مارا دل کہتا ہے کہ تُو تو بڑے

Read more

سندھی کہانی قطار

تخلیق : زاہد منگی ترجمہ: شاہد حنائی طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی عورتیں بینک کے مرکزی دروازے کے پاس دھیرے دھیرے جمع ہونا شروع ہو نے لگی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بینک کے باہر عورتوں کی خاصی بھیڑ اکٹھی ہو چکی تھی، جیسے کوئی میلا ہو۔ دفعتاً بینک کے اندر سے ایک ملازم برآمد ہوا، جس نے باآوازِبلند چلا کر کہا: ” سب قطار بنا کر کھڑی ہو جائیں، باری باری سب کو پیسے ملیں گے۔ “ ملازم کی ہدایت

Read more

وینٹی لیٹر پر پڑی یادیں

وہ آوارہ، بد مزاج اور تلخ قدموں کے ساتھ ایک بار پھر انہی لمحوں کے پاس تھی جن لمحوں کے ساتھ اس کی زندگی سانس لیتی تھی۔ بائیِس برس پہلے کا وہ ایک لمحہ جو اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ بھی تھا اور ساتھ ہی سب سے بدصورت لمحہ بھی وہی تھا۔ وہ اپنے سسکتے ہوے وجود کے ساتھ بھیگے ہوے اس سٹیشن پر موجود تھی۔ جہاں زندگی کی گاڑی کے آنے میں ابھی پورا ایک گھنٹہ

Read more

افسانہ بدروح

یہ تم سے نفرت کی انتہا ہی تو ہے جو مجھے ہر وہ لڑکی جو خود سے بے نیاز آپنے خیالوں کی دنیا سجائے، ہتھیلی میں اپنا چہرہ تھامے، فضا میں موجود بادلوں سے مختلف تصویریں بناتیں رہتی ہے میں اس معصوم چہرے کے اندر چھپے بچپنے کو کھوجنے کے بجائے اس میں چھپی حرص اور لالچ کی تلاش میں لگ جاتا ہوں۔ ہر وہ لڑکی جو شرم و حیا کا زیور اپنی آنکھوں میں سجائے اپنے دوپٹے سے اٹکھیلیاں

Read more

تیس روپے

نومبر کی نیم سرد شام میں شہر کے مرکزی چوک کے سگنل پر گرم انڈے، گرم انڈے کی آواز گونج رہی تھی۔ بازو کے ساتھ لٹکتے انڈوں سے بھرے کولر کا وزن اسے اپنے کندھوں پر پڑ ی ذ مہ داری سے بھاری نہیں لگ رہا تھا۔ سگنل سبز ہوتے ہی جلد بازی میں نکلتی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں سے خود کو بچاتے ہوئے وہ گرین بیلٹ کے پاس واپس پہنچا، دیوار کی ٹوٹی ہوئی دو اینٹوں کو اوپر نیچے

Read more

محبوب کے نام ادھورا خط۔ خود کلامی

سنو میرے چاند! کل دوستوں کی محفل میں اچانک سے خوشبووُں کا تذکرہ ہونے لگا۔ یقین مانو میرے ذہن میں تمہاری خوشبو کے علاوہ کسی خوشبو کا گماں بھی نہ آیا تھا۔ میرا خوشبووُں اور خوشیوں سے معطر چہرہ تمہاری اچانک یاد آ جانے سے زرد پرچکا تھا۔ کیا تمہارے بھی ذہن میں وہ دن اسی انداز میں تروتازہ ہے؟ وہ وقت جب تم مجھے تحفہ دینے پر بضد تھے۔ میں جس چیز پر ہاتھ رکھتی تم اسے میرے قدموں

Read more

بزرگ کے تین دن – سندھی کہانی

تخلیق : زیب سندھی ترجمہ : شاہد حنائی پہلا دن:۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی درگاہ میں مرقد پرچادر چڑھا کر حاکمِ وقت نے فوٹو گرافروں کی طرف دیکھتے ہوئے دُعاکے لیے ہاتھ اُٹھائے تو اس گھڑی وہ نورانی چہرے والا بزرگ بھی وہیں موجود تھا۔ بزرگ شخص نے لمحہ بھر کے لیے حاکمِ وقت کی طرف حیرانی کے ساتھ دیکھا اور ان کی دُعا مکمل ہونے سے پہلے ہی وہاں سے نکل گیا۔ مزار سے باہر نکل کر درگاہ کے

Read more

ریشماں اور ریشم بیگم

عارف بند گیٹ کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا۔ ’یہ گیٹ کا دروازہ نہیں ہے یہ میری قسمت کا دروازہ ہے جو ابھی کھل جائے گا۔ اگر ریشماں خود باہر آئی تو میں اسے کھینچ کر درختوں کی اوٹ میں لے جاؤں گا۔ اگر اس کا شوہر آیا تو میں اس کو ایک لاکھ روپئے دے کر ریشماں کو آزاد کرا لوں گا۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی نہیں آیا تو میں یہیں کھڑا رہوں گا۔ ریشماں شاید

Read more

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

بہت انوکھی لڑکی تھی وہ۔ باپ ملک کا مشہور باکسر، چھ فٹ پانچ انچ قد۔ رِنگ میں مخالف اس کی مار سے بے حال ہو جاتے تھے۔ اس کے مکے کوہساروں میں زلزلے کے جھٹکوں سے گرنے والے پتھروں کی طرح برستے تھے۔ رِنگ کے باہر اس کاشوق صرف جنس مخالف تک ہی محدود تھا۔ بھدے، چپٹے ناک اور موٹے ہونٹوں کے ساتھ بھی وہ اپنی جسامت اورحرکات و سکنات کی وجہ سے خواتین میں مقبول تھا۔ ان کی موجودگی

Read more

محبوبہ کے نام ایک خط

سنو جاناں! یہ جو تم خواہشات کی چادر اوڑھے ننگے پیر اس کٹھن صحرائی سفر پر نکل چکی ہو، جانے سے پہلے اپنے سے متعلقہ چند لوگوں کو اپنے سفر اور منزل کی معلومات دیتی جاوُ۔ اس تھکادینے والے سفر میں بیچ راستے سے مایوسی لے کر پلٹنا کیسا غضب ناک ہے۔ میں تو اس اذیت سے واقف ہوں۔ تنہائیوں سے محبت کرنے والے تو کسی طرح ان سے مرضی مطلب کے لوازمات ڈھونڈ نکالتے ہیں مگر اس کو آسیب

Read more

کنوار (دلہن)۔

”واؤ مجید صاحب، آپ ڈبل ایم اے ہیں۔ اور اتنے سارے کورسز بھی، زبردست، آپ کی سادہ سی شخصیت دیکھ کے اندازہ ہی نہیں ہوتا نہ آپ اتنی عمر کے ہیں۔ “ وہ تیزی سے ٹائپ کرتے کرتے ٹھہر گئی اور توصیفی نظروں سے مجید کی طرف دیکھا۔ سلیقے سے تراشی گئی مونچھیں اور تازہ بنی ہوئی شیو میں بتیس سالہ مجید اپنی عمر سے کم از کم پانچ سال چھوٹا لگ رہا تھا۔ ” جی میڈم ہم تو واقعی

Read more

کُہر میں محصورباورچی خانہ سندھی کہانی

تخلیق: ڈاکٹر رسول میمن ترجمہ۔ : شاہد حنائی (کویت) اُن دنوں وہاں اتنی کُہر ہوا کرتی تھی کہ جیسے دھرتی پر دُھند کے سوا کسی شے کا وجود ہی نہ ہو۔ کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا۔ آنکھوں کے چوطرف کُہرسے شکلیں بنتی اور مٹتی رہتیں۔ اس کُہرمیں گھرے گھر میں چھے افراد رہتے تھے۔ ایک وہ خود، اس کی بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں۔ کُہر اس قدر گہری ہوتی تھی کہ نگاہ گھر کے بیرونی دروازے تک ہی

Read more

چاند کہاں ہے؟

سندھی تخلیق : اکبر لغاری ۔۔۔ ترجمہ: شاہد حنائی (کویت) آج چودھویں کی رات ہے اور آسمان پر چاند نہیں ہے۔ مطلع بالکل صاف ہے۔ آسمان پر بادل بھی نہیں ہیں، لیکن چاند کی صورت ندارد۔ ہم دونوں چاند کی کھوج میں نکل پڑتے ہیں۔ ہمیں ایک شخص ملتا ہے، ہم اس سے پوچھتے ہیں کہ چاند کہاں ہے، تو وہ جواب دیتا ہے کہ ”رات کے بارہ بجے ہیں۔ “ یہ کَہ کر وہ بلا وجہ ہنسنے لگتا ہے اور

Read more

جان سلطانہ: ایک بہادر پٹھان خاتون کی کہانی

یہ اس بہادرپختون خاتون کی کہانی ہے جوپینسٹھ ( 65 ) سالہ ہجروفراق کو سہ کر نہ صرف زندہ رہی بلکہ محنت، ہمت، غیرت اورخودداری کا استعارہ بن کے داد بھی پائی۔ یہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے ضلع اننت ناگ (اسلام آباد ) کے گاؤں بجہارہ کی ایک بہادر پٹھان خاتون ہے جوغریب الدیار ہے یعنی اپنے آبائی علاقے سے ہزاروں کلومیٹردور ہے اور ستم یہ کہ ان کی ذہن میں ایک دھندلی سی تصویر اپنے ملک کی تو موجود

Read more

دو بستر اور ایک چادر

نومبر کی ابتدائی راتیں اپنے جوبن پر تھیں۔ عاشر رات کے اس پہر میں اپنے کمرے میں کھڑکی کے راستے داخل ہونے والی مدھم چاندنی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ چاند کو پہروں تکتے رہنا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنے وجود میں اتارنا اس کا مشغلہ تھا۔ سردیوں کی راتیں اس کا اور چاندنی کا ساتھ بھی اکثر چھین لیتی تھیں۔ وہ بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کی چاندنی کو دیر رات تک کھوجتا رہتا اور پھر

Read more

خواب اور نومبر

نبیلہ اپنا سردونوں بازوؤں میں ٹکا کر چھت پربیٹھی تھی شام کے وقت گھر کو لوٹتے پرندے۔ سورج کے غروب ہونے کے منظر۔ ہر بار اس کی آنکھوں میں جمی اداسی کو مزید گہرا کر کے اس کے جسم میں اتار دیتا تھا وہ بھی تو اس سورج کی طرح ہر گزرتے دن کے ساتھ غروب ہو رہی تھی اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور نیچے اتر گئی نبیلہ جو کبھی رنگوں سے بھرپور شوخ حسینہ کے طور پر

Read more

بے رُوپ چہرے کی کہانی

سندھی کہانی تخلیق : طارق عالم ابڑو ترجمہ : شاہد حنائی (کویت) رات کو کائنات کے گھونسلے میں اُترے دُوسرا پہر گزرنے کو تھا۔ میری پلکیں آنکھوں کے گرد خاردارتاروں کی طرح تن گئی ہیں اور اَن جانے ڈر میں گھری نیند میری پلکوں کی سرحد سے کوسوں دُور کھڑے ہو کر مجھے حیرت سے تک رہی تھی۔ دیوار پر ٹنگے گھڑیال نے اپنی دونوں اُنگلیاں تمام نمبروں میں سے اِک عدد ( 1 ) کے لبوں پر رکھ دی

Read more

اس لڑکی نے ناخن کیوں بڑھائے؟

ٹھرو۔ اس گلاس میں پانی مت پیئو۔ کیوں کیا ہوا۔ بس اس کو رکھو تم اس میں پیئو۔ پانی پی لو تو بتاتی ہوں۔ تم تو ابھی نئی آئی ہو ۔تمہیں نہیں پتہ ہوگا۔ وہ جو سامنے بلکل کونے میں اکیلی لڑکی بیٹھی ہے نہ۔ اشارہ نہ کریں ہاتھ نیچے کریں وہ آپ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ ارے دیکھے گی تو کیا کرے گی مجھے۔ سن لو! وہ لڑکی نہیں ڈائن ہے۔ کیوں۔ ایسا کیا ہے۔ دیکھنے میں تو

Read more

پھول اور پھل کے درمیاں

یونیورسٹی میں آج رجھا کا پہلا دن تھا۔ ایف ایس سی میں ڈاکٹر بننے کے سپنے، دن اسکول، شام اکیڈمی اور رات دیر گئے تک گھر میں پڑھائی، یوں لگتا تھا کہ انسان نہیں روبوٹ ہے، جس کے اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں، اِدھر ادھر ہٹنانا ناممکن ہے۔ بہت قریب پہنچ کر داخلہ نہیں ہو سکا۔ میرٹ میں صرف ایک آدھ نمبر کی کمی رہ گئی۔ اب اس نے سوچا تھا کہ آسان سے مضامین لے کر یونیورسٹی کی

Read more

رسولی والی ماسی

جامعہ سے واپسی پر اس کا ارادہ اپنے والدین کے گھر جانے کا تھا مگر واپسی پر بکھرا گھر، گندے برتن اور دیگر گھریلو کاموں نے اس کی توجہ یکسر اس جانب سے ہٹا کر گھریلو امور کی جانب مائل کر ی۔ اور وہ تندہی سے کاموں میں جت گئی۔ تین گھنٹے میں کام نمٹا کر تھکن سے اس کا برا حال تھا۔ بہت دن سے ماسی بھی نہیں تھی، کئی اڑوس پڑوس کے لوگوں سے کہا بھی تھا مگر

Read more

اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے

”تو مجھ سے شادی کرے گی؟“ ”کر لوں؟“ مایا نے دھیمے سے لہجے میں، دِل باختگی سے پُوچھا۔ ”اللہ کا نام ہے، کہیں ہاں ہی نہ کَہ دینا۔“ شکیل مَتذَبذِب ہنسی کے بیچ میں گویا ہوا۔ ”جس طرح میرا بیٹا تم سے اٹیچڈ ہے، دِل کرتا ہے، میں تم سے شادی کر لوں۔“ مایا نے بڑی لگاوٹ سے جِتلایا۔ ”اچھا چھوڑو، ابھی تم نواز ہی کے بارے میں سوچو۔ میرے ساتھ تم خوش نہیں رہ سکتیں۔“ دونوں مایا کے گھر

Read more

بے غیرت صغری یا قاسم؟

قاسم جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا۔ اب قاسم کے ابا اکثر قاسم کو ڈانٹ کرکہتے کہ وہ اب شلوار بنیان پہن کر گلی میں مت نکلا کرے گھر میں بھی قمیض پہن کر رہا کرے۔  قاسم کی داڑھی اور مونچھ کے بال بھورے سے کالے ہونا شروع ہوگئے تھے۔  قاسم کی روٹین میں شامل تھا روزانہ صبح شام اسٹیڈیم جا کر ورزش کرنا اور گوگے پہلوان سے کبڈی کے داٶ پیچ سیکھنا۔ ہر روز کلو دو کلو

Read more

ٹھرک سے چھٹکارا نہیں ملا

زندگی میں بارہا اثنا نے” ٹھرکی” کا لفظ استعمال ہوتے سنا تھا۔ مگر اس لفظ کے باقاعدہ معنی کبھی سمجھ نہ آئے تھے۔ پہلی بار اس لفظ کے معنی سے آشنائی اُس وقت ہوئی جب وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی اور اسکول سے گھر واپس جا رہی تھی۔ اس کی عادت تھی کہ راستہ طویل ہو یا مختصر، ہمیشہ نیچی نگاہیں کیے اپنے راستے پر چلتی چلی جاتی۔ اِدھر اُدھر دیکھے بنا گزرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا

Read more

کالی رنگت اور سفید پوشی میں سمجھوتہ

زندگی کی چلتی ہوئی گاڑی کو اچانک بریک اس وقت لگا کہ جب چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اسے یہ سننے کو ملنے لگا کہ ہمیں لڑکی کی ذہانت کا کیا اچار ڈالنا ہے۔ ہمیں تو حسین خوبصورت اور نوعمر دوشیزہ چاہیے جو بحیثیت بہو ہمارے گھر کو مرکری بلب کی مانند روشن کردے اور بھئی سوکی سیدھی بات تو یہ ہے کہ جب بہو خوبصورت ہو تو بچے خودبخود خوبصورت ہوں گے، شادی کوئی ایک دن کی بات تو نہیں

Read more

عقيدہ

”بابا!“ ”جی بیٹا!“ ”بابا، بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔“ ”بیٹا! الله کو پُکارو!“ ”پھر سردی نہیں لگے گی بابا؟“ ”ہاں بیٹا! پھر ٹھنڈ اتر جائے گی۔“ ”تو پھر کیا بارش بھی بند ہو جائے گی؟“ ”ہاں بیٹا! بارش بھی رُک جائے گی۔“ ”اور بابا! ہماری جھونپڑی کے اندر بارش کا پانی بھی نہیں آئے گا؟“ ”ہاں بیٹا! خُدا نے چاہا تو رہنے کے لیے ایک اچھی جگہ بھی مل جائے گی۔“ ”اور وہ کب ملے گی بابا؟“ ”بیٹا! جب خُدا

Read more

آندھ راجہ بے داد نگری

رشنو  یمنا کنارے شُکری کے مقام پرپیدا ہوئی۔ اس کا پِتا دیوتاؤں کی دھرتی کا سب سے بڑاراجہ تھا۔ اس کی رحم دلی، انسان دوستی اور عدل کی کہا نیاں دوردور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دیوتاؤں کی دھرتی پر اس کے آباؤ اجداد نے صدیوں حکومت کی اگر چہ وہ خود دیوتاؤں کے پجاری نہیں تھے۔ اس کا باپ بھی صرف ایک ناقابل ادراک، غیر ذاتی خدا کو ماننے والا تھا۔ تین سو تیس کروڑ دیوتاؤں کی زمین میں خدائے

Read more

عزت کا سوال

"اماں جانے دو ناں علی بھی تو جاتا ہے اس کو تو نہیں روکتی” انعم نے منہ بسورا۔ "اس کی بات اور ہے” نجمہ نے بے رخی سے کہا "وہ لڑکا ہے”۔ "ہاں بس اسی کی اماں ہو میری تو ایک نہیں مانتی” انعم نے منہ پھلا لیا۔ علی جو اس سے سال بھر ہی بڑا تھا تھا اسے اداس نہیں دیکھ سکا بہت چاہتا تھا اسے اور کیوں نہ چاہتا ایک ہی تو بہن تھی اس کی پیاری سی

Read more

ذرا ہور اُوپر

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔
اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا۔ ۔ ۔ پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ہی لمحے وہ نواب صاحب کے پاس پہنچ چکی تھیں۔ ۔ ۔ سراپا انگارہ بنی ہوئی۔

”سچی سچی بول دیو، آپ کاں سے آرئیں۔ ۔ ۔ جھوٹ بولنے کی کوشش نکو کرو۔ ۔ ۔ “
نواب صاحب ایک شاندار ہنسی ہنسے۔
”ہمنا جھوٹ بولنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟ جو تمے سمجھے وہ ہیچ سچ ہے۔ “

”گل بدن کے پاس سے آرئیں نا آپ؟ “
”معلوم ہے تو پھر پوچھنا کائے کو؟ “

Read more

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جاوید مسعود سے میرا اتنا گہرا دوستانہ تھا کہ میں ایک قدم بھی اُس کی مرضی کے خلاف اُٹھا نہیں سکتا تھا۔ وہ مجھ پر نثار تھا میں اُس پر ہم ہر روز قریب قریب دس بارہ گھنٹے ساتھ ساتھ رہتے۔ وہ اپنے رشتے داروں سے خوش نہیں تھا اس لیے جب بھی وہ بات کرتا تو کبھی اپنے بڑے بھائی کی بُرائی کرتا اور کہتا سگ باش برادر خورد باش۔ اور کبھی کبھی گھنٹوں خاموش رہتا، جیسے خلاء میں

Read more

افسانہ: تنگ پگڈنڈی

وہ ہر روز آٹھ بجے دفتر کے لیے نکلتا تھا اس کا دوست زین اور وہ ایک ہی فلیٹ میں رہتے تھے زین ایک ٹیلی کام کمپنی میں انجینیر تھا۔ وہ رات دیر سے فلیٹ پر آتا اور صبح تاخیر سے کام پہ جاتا۔ روحان لندن کے ایک نجی بنک میں اسسٹنٹ منیجر کی پوسٹ پہ کام کرتا تھا۔ اس دن بنک پہنچ کر اس نے اپنے لیپ ٹاپ کو آن کیا اور کل کی میل چیک کرنے لگا۔ اس

Read more

مجرم کا سچ اور معاشرے کا جھوٹ

”بس جی میں نے سر کو گلے سے کاٹ کر پہلے تو پرانے اخبار میں اچھے طریقے سے لپیٹا پھر ایک پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر اوپر سے باندھ دیا، جسم کے ٹکڑے کرنا کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے جلدی جلدی ٹکڑے کیے پھر ٹرنک میں پہلے دھڑ رکھا اس پر دونوں ہاتھ، دونوں بازو، دونوں ٹانگ اور دونوں ران سجادیئے۔ چینی تالے کی چابیاں ٹرنک میں ڈال کر ٹرنک میں تالا لگاکر دبا دیا سوزوکی کیری میں

Read more

سندھی کہانی: مداری

ایمپریس مارکیٹ میں پنجرے میں بند کل مَیں نے دیکھے ایسے کبوتر جن کی آنکھیں سرخ تھیں وہ دن کچھ اچھے نہ تھے۔ شہر کے بازار اکثر بند رہتے تھے۔ دیہاڑی پر مزدُوری کرنے والوں نے شاید ہی کبھی ایسا برا وقت دیکھا ہو۔ بیراج روڈ پرآنسو گیس کے گولوں کے خول اور پتھر یوں بکھرے رہتے تھے جیسے آسمان سے ان کی بارش ہوئی ہو۔ یہاں گلیوں سے اچانک لوگ ازدحام کی صورت نمودار ہوتے اور پھر فضا ان

Read more

پیشہ ور رقص کرنے والا

کمرے میں مدھم موسیقی کے ساتھ ساتھ ایک بے چین روح خود آزاد پنچھی کے مانند اڑ رہی تھی۔ کبھی کبھی اس کے ہوش و حواس جواب دینے لگتے، خود پر اختیار کھونے لگتا۔ بچپن میں سب اس کا مورنی سا ناچ دیکھ کر سراہتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناچ اس کی ذات کا حصہ بنتا چلا گیا۔ جب تک وہ دن میں ایک دفعہ اپنا نشہ پورا نہ کرتا اس کو اپنا آپ

Read more

عاشقِ کتاب (افسانہ)

تحریر : ہوشنگ مرادی کرمانی ترجمہ: عارف بھٹی ہوشنگ مرادی کرمانی کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ بچوں کے مقبول ادیب ہیں۔ ان کی کتابوں پر کئی مشہور فلمیں اور ٹی وی سیریز بنائے جا چکے ہیں۔ یہ کہانی ان کے ایک مقبول کردار ”مجید“ کے بارے میں ہے۔ ***     *** ’مش اسد اللہ‘ نے کتاب میں سے ایک صفحہ پھاڑا۔ صفحے کو لپیٹ کر ایک کاغذی لفافے کی شکل دی۔ اس کے اندر تمباکو ڈالا، ترازو میں رکھا،

Read more

چار دُشنام [ سندھی افسانے کا اردو ترجمہ ]۔

( افسانہ نگار: جبّار آزاد منگی | ترجمہ: یاسر قاضی ) آج مجھے دو جرائم کا فیصلہ سُنانا ہے۔ آج مجھے انصاف کرنا ہے۔ ایک قتل کا جرم، جس جرم میں ایک غریب کسان ملزم ہے، جس کے بیل کی ٹکر سے گاؤں کے سرغُنے کا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے۔ ملک کے قانون نے بیل سے سرزد ہونے والے گناہ کی سزا بُھگتنے کے لیے اس بیل کے مالک کو گرفتار کر لیا تھا، وہ اس لیے کہ اس

Read more

اک طوائف کی خود کلامی

ہاں میں اک طوائف ہوں۔ بھرے بازار میں گنڈیریوں کی اک ریڑھی کی طرح۔ مٹھاس بھری۔ رسیلی۔ گاہکی لگے نہ لگے۔ مکھی ضرور بیٹھ جاتی ہے۔ میں اک تن جلی کی جنم جلی ہوں۔ ولدیت کے بے رنگ کتبے پر میری جنم پرچی بے نام نصب ہے۔ مجھے جنم دینے والی من جلی عورت تھی کسی کی بیوی نہ تھی۔ میں اک مال ہوں۔ بے دام۔ بکاؤ ارزاں قیمت کی بار بار وصولی کے باوصف حساب چکتا نہیں ہوتا۔ روزنامچہ

Read more

سب کچھ ہو لیکن محبت نا ملے تو ادھورے ہیں ہم

درختوں سے چھن کر آتی چاندنی کی کرنیں ٹھنڈی خنک ہوا لان میں بکھرے خزاں رسیدہ پتے اور ان پتوں میں چلنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ آج وہ وہ اپنے آپ کوکتنا مکمل تصور کررہی تھی اس کی روح میں جیسے کوئی جذب ہوگیا تھا۔ کوئی تھا جواس کے درد کو اپنے اندر سمیٹ کے لے گیا تھا۔ یقینا وہ خوش نصیب ہے اسے بنا مانگے سب کچھ مل گیا تھا۔ بچپن میں سکول جاتے ترسی نگاہوں سے ماں

Read more

ارض ِموعودہ

مکھڑا اس کا بسانِ آفتاب ِتاباں، کالی گھٹا زلفیں، گیسوے مشک فام، ناگن بل کھاتی ہوئی، پیشانی پر چاند چمکتا۔ رخسار ابھرے ابھرے، گلابی کنول کھلے ہوے۔ ستواں ناک الف حسینی، دہن مانند تنگ غنچہ، لب نازک برگ ِگل سے سوا، یا قوت رمانی یا لعل بدخشانی؟ کچھ بھی مناسب نہیں۔ بس قدرت ِخدا ہی کہنا بجا ہے۔ میرے ہاتھوں کے گھیرے میں یوں سجا، اس کا مکھڑا جیسے پجارن کے برنجی کاسہ میں، صندل پوجا کا رکھا ہوا۔ ہاتھوں

Read more