قصہ ایک نشئی بھکاری کا


زمانہ طالب علمی میں بسوں میں سفر کرنے کا بہت اچھا اتفاق رہا، یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا طالب علموں پر ایک زبردست احسان رہا کہ انہوں نے سرکاری بسوں میں اسٹوڈنٹس کا آدھا کرایہ کروانے کا اعلان کیا، یہ سلسلہ تاحال جاری ہے مگر بہت ہی کم بچے ان میں سفر کرتے ہیں۔

صبح اسکول جاتے ہوئے اکثر کرایہ بچانے کے چکر میں ہم تھوڑا پیدل چل کر تین ہٹی سے چلنے والی بڑی بس میں بیٹھ جاتے تھے تاکہ بچے پیسوں سے کچھ اور ضروریات کو پورا کرسکیں۔

پہلے روز جب کنڈیکٹر کو کرایہ دیا تو اُس نے پانچ کے نوٹ میں سے 3 روپے واپس کردیے، اب تو بس مارے خوشی کے ہمارا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا، بس اُسی روز پلان کیا صبح جلدی اٹھنا ہے تاکہ اسٹاپ تک آنے میں زیادہ وقت نہ لگے۔

بس میں اکثر ہمارے بیٹھتے ہی اسٹاپ سے ایک فقیر چڑھتا تھا، اُس کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اللہ کے نام پر صدا بلند نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے گھر والوں کی برائیاں کر کر کے نشے کے پیسے جمع کرتا تھا۔

اب تو روز ہی اُس سے سامنا ہونے لگا تھا اور وہ بھی اتنا ذہین تھا کہ اُسے معلوم ہوگیا تھا کون سا مسافر پیسے دے گا اس لیے سیدھا اُس کے پاس جاکر ہاتھ پھیلاتا تھا۔

پہلے دن تو اُسے کرایے میں سے بچا ایک روپیہ دے دیا، وہ بھی خوش ہوا ہمارے پاس اب بھی دو روپے بچے، یعنی جیب خرچ اور بچی ہوئی رقم کو کُل ملا کر پانچ روپے ہوگئے، اُس دور میں یہ رقم بہت ہوتی تھی اس لیے بی سی بھی ڈال لی تھی۔

خیر سلسلہ چلتا رہا، وہ ہمارے پاس روزانہ آنے لگا، ہم بھی جیب سے ایک روپے کا نوٹ نکال کر دے دیتے تھے، پھر لالچ نے دل میں انگڑائی لی اور اب ہم نے بھی فیصلہ کرلیا کہ پیسے نہیں دیں گے، مگر وہ جس طرح اپنے گھر والوں کے مظالم اور نااہلی کا تذکرہ کرتا تھا شایدہی کوئی مسافر ہو جو رک سکتا ہو۔

ایک روز واپسی پر جب ہم اسٹاپ پر اترے تو وہ نشہ کرنے والے انکل سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھے تھے، سڑک پار کرتا دیکھ کر ہنسنے لگے پھر ہم فٹ پاتھ پر پہنچے تو اٹھ کر قریب آئے، ہم سمجھے شاید کوئی نشے کا انجیکشن لگا دیں گے مگر قدم ایک جگہ ساکت ہوگئے۔

مشفقانہ انداز میں سر پر ہاتھ پھیر کر پوچھنے لگے سڑک پار کرلوگے یا پھر میں کرادوں کیونکہ ٹریفک بہت ہے، ہم نے جواب دیا نہیں انکل آپ کا شکریہ، ہم وہاں سے ایسا بھاگے کہ گھر آکر ہی دوسرا سانس لیا۔

ایک بار اور ایسی سامنا ہوا مگر اُس روز ہم سہمے نہیں بلکہ خود اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ ہم خود چل کر اُن کی طرف سے گزرے وہ اپنا نشہ کرنے کا انتظام کررہے تھے، قمر انکل آپ بھیک کیوں مانگتے ہیں؟ اُن کےشکل دیکھتے ہی سوال داغ دیا۔

وہ مسکرائے اور بولے بیٹا بھیک نہیں پیسے مانگتا ہوں، بھیک تو وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ کے نام پر مانگیں، میں نے کبھی اللہ کے نام کی صدا نہیں لگائی بلکہ ہمیشہ گھر والوں کو برا کہہ کر ہی مانگا۔

مجھے نہ جانے کیوں کل ٹی وی دیکھنے کے بعد قمر انکل یاد آگئے، وہ اگر ٹی وی پر آتے تو شاید اسی طرح ہنستے، کچھ شگوفے سناتے، حاضرین بھی محظوظ ہوتے کیونکہ وہ بالکل ایسی کرتے تھے جیسے گھر والے اپوزیشن کے ممبران اور وہ خود حاکم ہوں۔

وہ بھی بابنگ دہل کہتے تھے کہ میں بھیک نہیں مانگ رہا بلکہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ سب کررہا ہوں، اس تباہی کے پیچھے میرا ہاتھ نہیں بلکہ گھر والوں کا ہے، اگر وہ بے دخل نہ کرتے تو آج نشہ نہیں کررہا ہوتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں