روحانی گرو ’جنسی بابے‘ کیسے بنے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرمیت رام رحیم سنگھ اورسادھو آسارام کے علاوہ بھی بھارتی جیلوں میں ایسے درجنوں ہائی پروفائل ، راک اسٹاربابے اپنے کئے کی سزا بھگت رہے ہیں۔ گزشتہ سال گرمیت رام رحیم سنگھ کا اپنی دو خواتین پیروکاروں سے زیادتی کا قصہ خبروں کی شہ سرخیوں میں رہا اور گزشتہ روز آسارام باپو کا نوجوان لڑکیوں سے زیادتی کا جرم ثابت ہو گیا اور انہیں عمر قید کی سزا مل گئی۔

بات صرف ان دونوں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ بھارت میں ایسے کئی آشرم چلانے والے بابےہیں جنہوں نےمذہبی لبادہ اوڑھ کر خواتین کا جنسی استحصال کیا ۔ان میں اکثراپنی بے تحاشا دولت اور سیاسی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے سزاسے بچے رہے اور کچھ کا جرم ثابت ہو گیا۔

2011 میں اتر پردیش کے سابق مرکزی وزیر داخلہ سوامی چن مے آنند پر ایک خاتون کی جانب سے ان کے آشرم میں یرغمال بنا کر عصمت دری اور جان سے مارنے کی دھمکی دینےکا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔ سوامی نے گرفتاری سے بچنے کے لئے ہائی کورٹ سے رابطہ کیا جس کے بعدکیس 7 سال زیر التواء رہا اور اب گزشتہ روز پہلے اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا۔

ایک اور 70 سالہ فلا ہاری مہاراج کے نام سے جانے جاتے ہندو بابا جیل کی سلاخوں کے پیچھے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان پر گزشتہ سال ایک 21 سالہ قانون کی طالب علم سے ریپ کا الزام ہے۔ یہ لڑکی بابا جی کے 15 سال پرانے عقیدت مند کی بیٹی ہے، لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ بابا کے ہاتھوں راجستھان میں واقع ان کے آشرم میں زیادتی کا شکار ہوئی۔رواں ماہ راجستھان ہائی کورٹ نےبابا کی ضمانت مسترد کر دی اور وہ تاحال جیل میں بند ہیں۔

2010 میں نتھیانند نامی گرو کے شاگرد کی جانب سے ان کے خلاف چنائی پولیس کو عصمت دری کی شکایت درج کرائی گئی۔ کرناٹک ہائی کورٹ نے درخواست خارج کرتے ہوئی حکم امتناع جاری کر دیا۔ آسارام باپو کا بیٹا نارایان سائی بھی ہندو پیشوا مانا جاتا ہے مگر اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔2013  میں اس کو دو بہنوں سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بھارتی جیل میں قید کاٹنے والے بابوں میں سب سے مشہور اتر پردیش کے بابا پرمانند ہیں ، 2016 میں ان کو 100سے زائد خواتین کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔پرمانند بابا بے اولاد خواتین کو اولاد ہونے کا جھانسہ دے کر ان سے زیادتی کرتا تھا۔

1994 میں تامل ناڈو میں آشرم چلانے والے ایک اور سوامی پری مانند کو دو عقیدت مندوں ، 13 قید یوں کے ساتھ زیادتی اور ایک شاگرد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔2005 میں بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کو عمر قید کی سزا سنا ئی گئی تاہم 2011 میں صحت کی خرابی کے باعث ان کی قدرتی موت واقع ہو گئی۔

جنس پرست بابا اور ان کے جنسی تشدد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بھارتی مضمون نگار نے لکھا کہ یہ لوگ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر مذہب میں جھوٹی رسموں کا رواج ڈالتے ہیں اور اس کی آڑ میں اپنا شکار ڈھونڈتے ہیں جو آسانی سے مل جاتا ہے۔کم عقل پیروکار ایسے’راک اسٹار‘ گروکی باتوں میں جلد آتے ہیں اسی لئے خطرہ ہے کہ ایسے بابوں کا سلسلہ رکے گا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •