کیسا ہونا چاہیے، 2020 ء؟ ( 4 )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئے سال میں پاکستان کو ترقی اور اقوام عالم میں اپنا مقام پیدا کرنے کے لئے داخلی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجی محاذ پر بھی کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ چند مسائل ایسے ہیں کہ جب تک اسلام آباد خارجی سطح پر اپنے امیج کو بہتر نہیں کر تا اس وقت تک وہ مسائل نہ حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی ان کے بیانیے کا ساتھ دیگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ 2020 ء میں خارجہ تعلقات میں بہتری کو ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ سفارتی سطح پر پاکستان کو حسب ذیل اقدامات کرنے ہوں گے۔

پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسر نو جائزہ:حکومت کو چاہیے کہ پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں خاص کر افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کابل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ وہاں کی پوری معیشت کا انحصا ر اسلام آباد پر ہے۔ افغانستان کے ساتھ سفارتی سطح پر تعلقات کی بہتری کے لئے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ویزہ پالیسی کا جائزہ لیا جائے۔

کاروباری افراد، طلبہ، مریضوں اورسرحدوں سے ملحقہ اضلاع کے لوگوں کے لئے الگ الگ ویزہ پالیسی بنا ئی جائے۔ افغانستان کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لئے بھی اداراجاتی سطح پر تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کابل اس وقت دلی کی زبان بول رہا ہے لیکن اسلام آباد کو کوشش کرنی ہوگی کہ ان کو ان کے چنگل سے آزاد کر وائیں۔ ایر ان کے ساتھ بھی تعلقات میں بہتری کے لئے غیر معمولی اور محتاط انداز میں اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس وقت تہران کو عالمی پابندیوں کا سامنا ہے۔ مشرق وسطیٰ خاص کر سعودی عرب کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہیں، لیکن کئی شعبہ جات ایسے ہیں کہ جس میں ان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے دونوں ملکوں کو ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بغیر کسی تشہیر کے مقامی طور پر اپنی ہی کر نسی میں تجارت کے لئے اقدامات کرنے چاہیں۔ چین کے ساتھ اگر چہ تعلقات بہتر ہیں لیکن ویزہ کا نظام مشکل ہونے سے پاکستانیوں کو وہاں کی منڈیوں تک رسائی مشکل ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کاروباری افرادکے لئے چین کے ساتھ ویزہ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔

اگر چہ آج کل پاکستان کے بہت سارے طالب علم چین میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جارہے ہیں مگر وہاں کاروبار اور روزگار کے لئے جانے والوں کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے لہذا ضروری ہے کہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ اگر اسلام آباد، کابل، بیجنگ اور تہران کے ساتھ روابط مضبوط بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پھر ممکن ہے کہ دلی بھی اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات کی بحالی پر آمادہ ہو، جب تک پاکستان اپنے آپ کو پڑوسی ممالک کی مجبوری بنانے میں کامیاب نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت کے رویے میں تبدیلی ممکن نہیں لہذا نئے سال میں اسلام آباد کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پڑوسی ممالک کے لئے مجبوری بنانے کا آغاز ضرور کریں۔ پاکستان صرف ایک صورت میں پڑوسی ممالک کے لئے مجبوری بن سکتا ہے کہ ان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط ہوں۔

مسلم ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات :اس سے کوئی انکار نہیں کہ مشکل وقت میں ہمیشہ مسلم ممالک نے پاکستان کا ساتھ دیا ہے لیکن اسلام آباد کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جب 2013 ء میں اقتدار سنبھالا تو خلیجی ممالک نے معاشی استحکام کے لئے اربوں ڈالر دیے تھے۔ پھر جب سعودی عرب اور یمن کا مسئلہ سامنے آیا تو پاکستان نے ریاض کی درخواست پر فوج یمن بھیجنے کا معاملہ پارلیمان کے سامنے رکھا۔

پارلیمان نے یمن، فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ سعودی عرب کو آگاہ کیا گیا۔ انھوں نے فیصلے کا احترام کیا۔ گز شتہ سال جب عمران خان اقتدار میں آئے توخلیجی ممالک نے حسب روایت مالی معاونت کی لیکن اس مرتبہ انھوں نے پاکستان کی خودمختاری اور آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی۔ وزیر اعظم عمران خان کو کوالالمپور کانفرنس میں شرکت سے روک دیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان عالم اسلام کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سرنو جائزہ لیں۔

ان کے ساتھ تعلقات برابری کی بنیاد پر استوار ہوں تاکہ ملک کی خودمختاری اور آزادی برقرار رہے۔ امریکا نے چند روز قبل بغداد میں ائیر پورٹ پر حملہ کرکے اس میں ایران کے پاسداران انقلاب کے القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کرکے مشرق وسطیٰ میں طبل جنگ بجادیا۔ امکان یہی ہے کہ تہران بھی سخت ردعمل دیگا۔ پاکستان ایران کا پڑوسی ملک ہے۔ امریکا، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان سے ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کا مطالبہ ضرور کریں گے۔

اسلام آباد کو چاہیے کہ بغیر کسی اگر، مگر اور چونکہ، چنانچہ کے اس جنگ میں غیر جانبدار رہے۔ ابھی تک جو بیانات سامنے آئے ہیں اس سے معلوم ہورہا ہے کہ پاکستان نے غیر جابندار رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر امریکا مشرق وسطی میں نئی جنگ مسلط کر دیتا ہے تو پھر ممکن ہے کہ وہ بغیر کسی روڈ میپ کے افغانستان کے محاذکو خالی کر دے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان پر نظر رکھی جائے۔ بھارت کی طرف سے شرارت کا خطرہ براہ راست بھی مو جودہے اور وہ کشیدہ حالات میں افغانستان کی سرزمین کو دوبارہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لئے اس پر بھی نظر رکھنا ہو گی۔

امریکا کے ساتھ تعلقات :امریکا کی عالمی دہشت گر دی اس وقت پاکستان کے لئے ایک درد سر بنا ہوا ہے۔ افغانستان کے بعد اب انھوں نے مشرق وسطی کا رخ کر دیا ہے۔ ایران پاکستان کا پڑوسی ملک ہے۔ اگر وہ براہ راست تہران کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے تو پھر وہ اسلام آباد سے مدد ضرور طلب کر یگا۔ اگر چہ یہ حقیقت ہے کہ امریکا پاکستان پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا، لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اگر وہ ایران یا افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اگلی باری پاکستان ہی کی ہو گی اس لئے ایران کے خلاف جارحیت میں امریکا اور سعودی عرب کا ساتھ دینے کی بجائے اپنے ملکی مفاد کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنی مجبوریوں سے آگاہ کر دیں اور ان سے درخواست کریں کہ پاکستان پر وہ بوجھ نہ ڈالا جائے تو مستقبل میں ان کے اپنے وجود کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مشرق وسطی کے معاملات پر امریکا کو سفارتی پیچیدگیوں میں الجھا کر رکھیں اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر وہ پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے، بھارت کو اکسا کر یا افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے۔ اگر اس بار امریکا کو حکمت کے ساتھ جواب دیا گیا تو ممکن ہے کہ ڈومور کا مطالبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *