کرونا: کہیں عید کا سماں، کہیں شامٍ غریباں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ضلع پونچھ (راولاکوٹ) تحصیل ہجیرہ گاٶں سیراڑی کا ایک چھوٹا سا قدرتی مناظر سے معمور قصبہ ہے۔ عبدالقدیر عرف مکھن اس قصبے کے ایک چھوٹے سے کچے مکان کا باسی تھا۔ عمر چالیس پینتالیس سال۔ ذریعہ روزگار دیہاڑی داری (مزدوری) مگر کرونا نے سب کام دھندے ٹھپ کر رکھے تھے۔ جس کی وجہ سے مکھن کو گزشتہ دس دن سے کوئی کام نہیں ملا تھا۔ سو وہ اپنی اہلیہ اور تین بھول سے بچوں کے ساتھ فاقہ کشی پر مجبور تھا۔ ننھے بچوں کی حالت زار والدین کے لیے سوہان روح تھی۔

ان کا بھوک سے بلبلانا اور تڑپنا ان سے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ سفید پوشی کا بھرم اسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے روکتا تھا۔ میاں، بیوی اور بچے تو جیسے تیسے برداشت کر ہی رہے تھے مگر جب گھر میں ننھے مہمان کی آمد ہوئی تو اس نے خودداری اور عزت نفس کی ردا اتار کر گھر چھوڑ ی اور کچھ شناسا ناشناسا چہروں کے آگے گڑ گڑا کر اپنی حاجت بیان کی۔ شومیٕٕ قسمت کسی نے حاجت روائی نہ کی۔ نامراد گھر میں قد م رکھا تو بھوک سے نڈھال بچوں، اہلیہ کے سوکھے لب اور نومولود کی چیخیں سن کر خود کو مجرم سمجھ کر کوسنے لگا۔

کئی دن کی فاقہ کشی نے جب احساس گناہ سے رسہ کشی شروع کی تو بیچارہ غش کھا کر دروازے پر ہی گر پڑا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی سانسوں کی ڈوری ٹوٹ گئی۔

جو محلہ انسانیت کے دم توڑنے پر دم سادھے بیٹھا تھا مکھن کی اندوہناک موت پر یک دم بیدار ہوا اور ماتم والے گھر کہرام مچ گیا۔ تجہیز، تکفین اور تدفین کی رسومات پوری کی گئیں۔ معصوم بچوں، ننھی جان اور بدنصیب بیوہ کی بھوک مٹانے کا سامان ہوا۔ انہیں میں سے کسی غریب نواز نے اہل علاقہ سے دل کھول کر چندہ دینے کی اپیل کی۔ دریا دلی اور سخاوت کے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے کہ چند منٹوں میں مرحوم کے نام پر پچاس ہزار سے زیادہ چندہ اکٹھا ہو گیا۔ جو مرحوم کے کسی کام کا نہیں تھا۔ البتہ چند گھنٹے قبل اگر زندہ مکھن کو ایک ہزار بھی مل جاتے تو شاید وہ جواں مرگ زندہ بچ جاتا۔

یہ سب کچھ دیکھ اور سن کر راقم کو اشفاق احمد کے ذہن رسا اور معجز نما قلم کا شاہکار افسانہ ”محسن محلہ“ کے ساتھ شاعر بے بدل مجید امجد کا لافانی شعر بھی یاد آجاتا ہے، جو ان کی لوحٍ مزار پہ کندہ ہے۔

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
میری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

کرونا کے حوالے سے تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ ایک صاحب حیثیت صاحب جو لاک ڈاٶن کے دوران پسماندہ علاقوں میں جا کر مستحقین میں راشن پانی تقسیم کرتے ہیں، ایک دن ان کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ ویڈیو بھی ہمیں جھنجھوڑنے والی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے کسی نے بتایا کہ راولپنڈی کے فلاں علاقے کے فلاں محلے میں ایک انتہائی نادار اور مفلس بڑھیا اپنی پانچ چھ نوجوان بیٹیوں یا پوتیوں کے ساتھ کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہیں۔اللہ کے علاوہ ان کا کوئی آسرا نہیں۔ میں اگلے دن گھریلو استعمال کا کچھ ضروری سامان لے کر بتائے گئے پتے پر پہنچ گیا۔

کچی آبادی میں جھونپڑی نما مکان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک عمر رسیدہ اور لاغر سی خاتون نے دروازہ کھولا۔ میں نے اپنا نام بتا کر عرض کیا کہ اماں جی! یہ ایک تحفہ آپ کے لیے لایا ہوں، براہ مہربانی قبول فرمایے۔ معمر خاتون نے اپنی بیٹی یا پوتی کا نام لے کر اسے آواز دی کہ بیٹا! یہ سامان لے جاٶ، ایک اور بھائی امداد لے کر آئے ہیں۔

جب میں سامان سے بھرا تھیلا اس بچی کے ہاتھ میں دے رہا تھا تو معمر خاتون نے اس بچی سے مخاطب ہوئے ہوئے ایک ایسا جملہ بولا جس نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ ڈالا۔ میں چند لمحے سکتے کے عالم میں وہیں کھڑا رہا۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں اس کے جواب میں کیا کہوں؟

کہن سال اور جہاندیدہ خاتون نے خوشی سے معمور لہجے میں کہا کہ بیٹا! لے جاٶ یہ بھی، آج تو لگتا ہے کہ عید کا سماں ہے۔ اتنے دن بعد اللہ تعالٰی کچھ لوگوں کو رحمت کے فرشتے بنا کر ہماری کٹیا میں بھیج رہا ہے۔

میں ندامت، خجالت اور تاسف کے گہرے احساسات میں ڈوبا بوجھل قدموں اور گھائل دل کے ساتھ وہاں سے لوٹتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہماری حکومتیں، مخیر ادارے اور درد دل رکھنے والے لوگ ایسے لوگوں کی امداد کے لیے کسی قدرتی آفت، رمضان یا عیدین ہی کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *