مرد کو نفرت کی زبان سمجھ آتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پیاری تحریم

تمہاری تحریر کے سوال بتا رہے ہیں تم اس وقت پروپیگینڈا مہم کاشکار ہو گئی ہو۔ جیسا کہ ابلاغ عامہ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جو جنگ لفظوں اور اسلحہ سے نہ جیتی جا سکے، اس کے لئے پرو پیگنڈا بہترین ہتھیار ہوتا ہیں۔ جنگ عظیم دوم میں اس نے بہت کام کیا۔

سو دوستم ہمارے لئے اقوال بھی ہیں، مطائبات بھی مگر اس مہم کے تحت کیمو فلاج سے زیا دہ کام لیا گیا ہے۔ ورنہ یہ چوہے تو کڑکی میں آ چکے تھے۔ کیونکہ اگر نظام پہ عمل ہو گیا تو حکومت ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اسی لئے لطائف میں، گالی میں، جنگ میں، ہر جا عورت کو استعمال کر کے اس کی نزاکت کے حسن کو کمزور ی ظاہرکیا گیا۔ مگر آ ج اس نے اسلحہ چلا کر، جہاز اڑا کر، باکسنگ کر کے، کشتی کر کے، کراٹے سیکھ کر، ٹرک چلا کرپہاڑوں، خلاؤں کو سر کے (حتکہ شوہر اور بے وفا محبوب کو قتل کر کے، ان کے عضو کاٹ کے ) ثابت کر دیا ہے کہ وہ کیا ہے۔ عورت کی جس تخلیق سے خوف زدہ ہو جو پدر سری سماج بنایاگیا تھا۔ ایک بار پھر ان کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ تو یہ چیخ و پکار تو ہو گی۔ جیسے بجھتے دیے کی لوآ خری لمحوں میں تلملا اٹھتی ہے۔

جسمانی نزاکت بھی ہم نے تمہاری محبت میں اپنائی تھی۔ مگر تم کو محبت کی زبان سمجھ کب آ تی ہے جان من۔ سو یہ بھید بھی تمہارے پیار میں اپنایا ہے۔

تحریم چونکہ اکثر مرد خود نفرت کی زبان بولتے ہیں سو انہیں محبت کی زبان سمجھ بھی نہیں آ تی۔ تم آ زما لو تم کسی پہ اپنی پوری سو فی صد محبت نچاورکر دو۔ وہ خود کو بادشاہ سمجھتا رہے گا کہ محبت تو اس کا حق ہے، سو مل رہا ہے۔ تم کوئی احسان نہیں کر رہی ہو ں۔ تمہارا کام ہی یہی ہے۔ مگر وہ تمہیں محبت کے بدلے محبت نہیں دے گا۔ بس تم ایک بار نفرت کا ایک جملہ کہہ دو پھر دیکھو اس کے منہ سے کیسے پھولوں کی بہار ہوتی ہے۔

مگر آپ گھبرانا نہیں، بس آزمانا ہے۔

کیونکہ اس کی تربیت میں محبت لینا، اور نفرت دینا حق ہے۔ ماں پہلے خود یہ کرتی ہے، پھر وہ باپ کا ماں کے ساتھ یہ حسین سلوک دیکھتا ہے، پھر ماں بہن سے یہ کرواتی، اور تمہیں جابجا یہ سننے کو مل جائے کہ بہنیں تو بھائی پہ اپنی جان وار دیتی ہیں۔ بھائی کی محبت شرارت ہے۔ شرارت میں بھی وہ بہن کی ناک مڑور دیتا ہے تو کبھی بال کھینچ کے بھاگ جاتا ہے یہ عام چلن ہے مگر یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا چل تیرا بھائی ہے پیار میں ہی کر رہا ہے، اس کے بعد بیوی تو خیرآہ۔ اس کی محبت تو ویسے ہی اندھیری راتوں کے غاروں میں چھپی وہ کہانی ہے جس کا درد اس کی آ نکھوں میں اتر بھی آئے تو پڑھنے والا کوئی نہیں ہو تا۔ لیکن اگر وہ رد عمل میں ایک جملہ بھی بول دے تو اس کے خاندان والوں تک کو گالیو ں سے بھون دیا جاتا ہے۔ طلاقیں ہو جاتی ہیں، جسمانی تشدد کیا جاتا ہے۔

گویا ہمارے مردوں کو بہت سلیقے سے محبت کے نام پہ، نفرت اور تشدد کی تربیت گھر سے ہی دی جاتی ہے۔ جو اس کی گھٹی میں شامل ہو جاتی ہے۔ سو ہماری محبت چونکہ ایک میسر شے ہے لہذا اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ اسی رد عمل کے طور پہ عورت کی زبا ن ومزاج میں نفرت اتر گئی ہے۔ اور یہ زبان بہت اچھے سے مرد کو سمجھ آ تی ہے۔ کیونکہ اس کی مادری زبان ہے۔

جب بات سماجی رویے کی ہوتی ہے تو صد فی صد کی نہیں ہو تی۔ اکثریت کے لئے صیغہ واحد استعمال کیا جاتا ہے۔ سو کمزود دل، اس کو اپنے دل پہ مت لیا کریں۔

ایک اہم بات، حقوق کی بات کرنا اور ہے، فیمنسٹ ہو نا اور ہے۔ ہم اس باریک لکیر کو سمجھ نہیں سکے۔ مرد کے دماغ میں تو خیر حقوق والا ڈبہ ہی نہیں ہے۔ ہمارا ایک گروپ ہے۔ جس میں ہم نفسیاتی مسائل پہ بھر پور بات کرتے ہیں۔ اس میں ایک صاحب نے وراثت پہ بات اٹھائی کہ آ خر بھائی بہن کو وراثت کیو ں نہیں دیتا۔ بیٹی کو بھی دے دیتا ہے۔ سب اپنی اپنی رائے دے رہے تھے۔ کچھ صاحبان نے آ کر لکھا کہ یہ ہمارے رسم وراج کا حصہ نہیں ہے۔ گویا جانم ان کو حقوق اور فیمینزم کا فرق سمجھ نہیں آ رہا۔ بس سماج کا رویہ ان پہ غالب ہے۔ ہر حق مانگنے والی لڑکی فیمینسٹ نہیں ہے۔ اور ہرفیمنسٹ کو مرد سے نفرت بھی نہیں ہے۔ بس ان عورتوں کو اپنی بات سمجھانے کے لئے محبوب کی زبان بولنی پڑی ہے۔

تم کسی مرد سے بات کرتے ہوئے گالی دو۔ اس کو بہت اچھا لگے گا کہ یار بہت لبرل لڑکی ہے۔ مگر وہ بعد میں مردانہ دوستوں میں بیٹھ کرایسی عزت کی دھجیاں اڑائے گا کہ فرشتوں کو بھی شرم آ جائے گی۔ ایک ادبی محفل میں بات ہو رہی تھی ایک بہت مقبول شاعرہ مرحومہ کی۔ محفل کے اختتام پہ آدھے مرد وں کی خام خیالی یہ تھی کہ وہ اس کے ساتھ محبت کی حد کو چھو چکے ہیں۔ حد سے زیادہ یہ تھی کہ ایک ایسے صاحب نے بھی یہ دعوی کیا تو میرے چودہ نہیں، چالیس طبق روشن ہو گئے۔

کیونکہ جب ان شاعرہ کا انتقال ہوا۔ ان صاحب کی عمر اس وقت بامشکل نو سے دس سال ہو گی۔ تب اندازہ ہو ا کہ کردار کی دھجیاں کیسے اڑائی جاتی ہیں۔ جب کہ ایک عورت ہو نے کے ناتے اگر اس شاعرہ مرحومہ کا جائزہ لوں تو اس کی اداس آ نکھیں اور بے شکن جسم بنا رہے تھے کہ وہ محبت کے کشت سے نہیں گزری، پیاسی ہی چلی گئی ہے۔ عورت کی تو آ نکھ حسن و عشق پہ محو رقص ہو جاتی ہے۔ یہ فطرت ہے۔

بات ہو رہی تھی فیمینزم کی، ویسے تو بہت سو کیا خیال ہے کہ یہ موضوعات پہلے لکھے جا چکے ہیں۔ مگر اس کے باوجودگولڈن گرلز سے ان کی کنپٹیاں پھٹنے والی کیوں ہو جاتی ہیں؟ کیوں ان کے پردے اتنے چاک ہو جاتے ہیں کہ ان سے رہا ہی جاتا اور الٹی دھمال شروع کر دیتے ہیں۔ سو کالڈ شرفابھی بے نقاب ہو رہے ہیں آ خر کیوں؟

ہم نے فیس بک پہ ایک پوسٹ لگائی کہ ”وقت ریت کی طرح ہاتھوں سے نکل جاتا ہے، ۔ نیچے کومنٹس میں ایک سرکاری افسرنے (اس محکمے کا سرکاری افسر کہ جن کا بجٹ اور مراعات اس ملک میں سب سے زیادہ ہیں ) لکھ دیا“ کیونکہ آپ فمینسٹ ہیں۔ میری بیوی کے پاس تو اتنا وقت ہوتا ہے کہ اسے سمجھ نہیں آ تا کہ وہ کرے کیا۔ ، ہمیں غصہ نہیں آتا مگر انسان ہیں دکھ ہو تا ہے۔ سو لکھنا پڑا ”سر نہ تو میں کسی سر کاری افسر کی بیوی ہوں، نہ ایسے افسر کی بیٹی، ایک عام عوامی خاتون ہوں۔ تو ان کے جواز بے جواز کو چھوڑو۔ فہم کی معراج چیک کرو۔ کہ وہ معاشرتی و اقتصادی ڈھانچے سے کیا اتنے ہی بے خبر ہیں۔ اور ایسے لوگ ملک سنبھال رہے ہیں۔ کیا بات ہے؟

(گویا فیمنسٹ ہونا ایک گالی ہے۔ گویا آزاد سوچ رکھنا فیمنزم ہے۔ جب کہ یار تم سمیت ہماری سب سہلیاں جانتیں ہیں کہ فیمنزم سے اپنا کوئی لینا دینا نہیں)

ایک وہ لوگ ہیں جو مسلسل مرد ہو کر درد حیض و زہ میں مبتلا ہیں کہ انہو ں نے میری طرح پوری دنیا آن لائن گھومی ہوئی ہے اور مغرب کو ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ سچ ہی کہتے ہیں ایک عمران خان ہیں اور باقی یہ جو مغرب کو اتنا جانتے ہیں کہ سیتا وائٹ ان کو آئینہ دیکھا دیتی ہے۔ سو جب بات حقوق کی ہو تی ہے تو یہاں کوئی آپ سے مغرب زدہ غلامی نہیں مانگ رہا جو آپ کی خواہش ہے۔ جو پوری نہیں ہو نے والی، یہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا رہے ہیں۔ آپ کاکام دہی لانا ہے آپ سے ہم دہی منگواتے رہیں گے۔ بلب لگواتے رہیں گے، جالے اترواتے رہیں گے۔

اور تیسری قسم ان مردانہ قوتوں کی ہے جن کو اسد عمر کی طرح دعوی ہے کہ معیشت تو ڈاکٹر کے ہاتھ ہی کا کام ہے۔ لہذا ہر عورت کوہر شعبہ میدان سے نکل جانا چاہیے۔ اور کمروں کی تاریکی میں محبت تخلیق کرنے کا فرض انجام دینا چاہیے۔ تاکہ جب شوہر محبت کرتا کرتا مر جائے تو وہ نہ صرف لوگوں کے در کی غلام ہو جائے۔ بلکہ اس کا قرض بھی چھپ چھپا کر اتارے۔

اجی، اتنے سوپر مین بننے سے اچھا ہے طالب علم بن جائیں۔ سپر مین صرف کارٹون میں ہو تے ہیں۔ جو بچوں کا دل بہلانے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔

تحریم ان سوپر حرکات کا تم کیسے مشاہدہ کرتی ہو؟ چائنہ کا مرد کتنا سپر ہیرو ہے آ ج کچھ اس پہ بات کرو۔

جناب من آزادی دو قسم کی ہو تی ہے۔ ایک ذہنی، دوم جسمانی۔ آپ کو آزادی کا لفظ سنتے ہی لہراتے ہوئے جسم دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب کہ ذہنی آزادی ایک الگ شے ہے۔ چونکہ آپ لوگ ابھی تک خود ذہنی طور پہ آزاد نہیں ہو سکے۔ اس لئے ابھی آپ کو اس کا تصور سمجھ نہیں آئے گا۔

ایک قید جسم میں ایک آزاد ذہین پروان چڑھ سکتا ہے۔ اور ایک آزاد جسم میں قید ذہین بھی موجود ہو تا ہے۔ آئیے اس کو آزاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو دیکھئے گا زندگی و دنیا کتنی حسین ہو جائے گی۔ اور زبان کتنی شائستہ

حسن کو سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں

اس سیریز کے دیگر حصےگولڈن گرلز: شریف عورت کون ہوتی ہے؟گولڈن گرلز: دور کیوں جانا، چینی مردوں کو ہی دیکھ لو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 27 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments