مہاراجہ رنجیت سنگھ، پنجابی شاونسٹ، قوم پرستوں کی بالادستی کی علامتی اسطورہ ہے۔ چونکہ تاریخی طور پر مسلمان پنجابی، نامعلوم وقت سے، مزاحمتی اسطوروں، سیاسی اور جنگی قیادت اور اسی قسم کی علامتوں کی لحاظ سے بانجھ پن کا شکار ہے۔ اس لیے، مذہبی طور پر الگ سہی، لیکن نسلی طور پر پنجابی قوم پرست مسلمان اور سکھ دونوں کے لئے مہاراجہ رنجیت سنگھ سے بڑھ کر کوئی مشترکہ ہیرو نہیں۔ پھر مسلمان پنجابی اور سکھ پنجابی دونوں کا، تاریخی مقابل اور مخالف بھی مشترکہ طور پر ایک یعنی پختون ہے۔
سکھ پنجابی نے ماضی قریب میں پشاور تک حکومت کرکے پختونوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے بعد اپنے دلی ارمان بڑی حد تک پورے کرلیے ہیں۔ لیکن مسلمان پنجابی کو، باوجود سکھ حکمرانوں کے ساجھے دار کے، ابھی تک کوئی ایسا کھلم کھلا موقع نہیں ملا، جس میں وہ صدیوں پر محیط اپنی ذاتی، مذہبی اور نسلی توہین کا حساب کتاب چکا سکے۔ کیونکہ پختون کبھی خود، افغانستان کے کوہ و دمن سے، ہندوستان کو باجگزار بنانے کی نیت سے اترا، تو کبھی کسی اور حملہ اور کے ہراول دستے میں شامل ہوا۔
Read more