انتہاپسند گروہوں کے خلاف حکومت پاکستان کے اقدامات کے باوجود اس شبہ کا اظہار کیا جارہا ہے کہ کیاپاکستان واقعی ان گروہوں کو ختم کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان نہ تو اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک میں حملہ کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دے گا اور نہ یہ قبول کرے گا کہ کوئی دوسرا ملک پاکستان میں تخریب کاری کا سبب بنے۔ اس صورت حال پر تفصیل سے غور کرنے اور یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آخر پاکستانی حکومت پر عدم اعتبار کی وجہ کیاہے۔
سب سے پہلے تو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے اور دوسرے ملکوں کو بھی یہی اصول اپنانے کا مشورہ دینے کے حوالے سے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس بیان کا بنیادی ہدف بھارت اور افغانستان ہوتے ہیں۔ بھارت کو پاکستان سے شکایت رہتی ہے کہ پاکستان سے متحرک عسکری گروہوں نے نہ صرف یہ کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی اور فدائی حملوں کو فروغ دیا ہے بلکہ ان کے تیار کردہ دہشت گردوں نے بھارت میں بھی ہلاکت خیز کارروائیاں کی ہیں۔
Read more