پی آئی اے طیارہ حادثے کا ایک سال مکمل؛ ‘ہم دینے والے ہاتھ تھے اب لینے والے بن گئے’
کراچی — "میری بیٹی کا شمار اس ملک کے قابل ترین لوگوں میں ہوتا تھا۔ وہ برطانیہ سے وطن واپس آنا نہیں چاہتی تھی لیکن میں نے اسے کہا کہ آپ جیسے پڑھے لکھے لوگوں کی اس ملک کو ضرورت ہے۔ اس بات پر وہ پاکستان آگئی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہاں اتنے ظالم لوگ بیٹھے ہیں کہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے گی۔ میری زندگی کے 30 برس اس پی آئی اے اور حکومت نے ضائع کر دیے۔ آخر کب تک یہ حادثے ہوتے رہیں گے؟ ہمارے بچے یوں ہی مار دیے جائیں گے؟ کب یہ نظام ٹھیک ہوگا؟ اور کون اسے ٹھیک کرے گا؟۔”
Read more


































































































