ایک اور کلیشے کردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی لایعنی باتیں کرنے کا دل چاہتا ہے۔ اردگرد پھیلی ہر چیز علامت لگتی ہے۔ کمرے میں پھیلی کمزور سی روشنی، اس پہ حاوی بے نام سی تاریکی جو محسوس زیادہ ہوتی ہے۔ ہڈیوں میں اترتی ٹھنڈ اور دل میں اٹھتی ہلکی ہلکی ٹیسیں، یخ ہوتے پاؤں کے پنجے، خاموشی میں گونجتی گھڑی کی ٹک ٹک، اور کبھی کبھی سناٹے کو چیرتی کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کی آواز۔ دل چاہتا ہے ہم اس منظر سے باہر بیٹھے یہ سب دیکھ رہے ہوں اور اس کے تخلیق کرنے والے کی مہارت پہ داد دینا چاہتے ہوں، جس نے اتنا مکمل منظر تخلیق کیا کہ آپ خود کو اس کا حصہ سمجھنے لگیں۔

کبھی کبھی دل چاہتا ہے ایک منظر کو ہی مکمل داستان بنا دو۔ آنکھیں بند کرو اور باہر کے منظر کو اندر دوبارہ تخلیق کرو۔ موبائل فون سے چھلکتی روشنی اور اس سے روشن چہرہ، جو کردار کا ہے یا اس کردار کے خالق کا کون جانے۔ مگر جو اس منظر میں موجود ہے وہی جانتا ہے کہ یہی منظر قید خانے سے کم نہیں کہ ہم اس منظر سے نکل نہیں سکتے کچھ بدل نہیں سکتے۔ وہی منظر کشی جو قاری کو باندھ رہی ہے خود کو تحریر کا حصہ سمجھنے پہ مجبور کر رہی ہے وہ کردار کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں۔

کیسی بے بسی ہے کہ ہم نئے نئے کردار تخلیق کر سکتے ہیں مگر اپنے کردار سے نکل کر کوئی دوسرا کردار اختیار نہیں کر سکتے۔ اگر ایسا ہوسکتا تو کیا کوئی بھی اپنے کردار میں رہتا؟ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں میں ظفر ہی کیوں ہوں، اور اگر میں اس کردار کو بدلنا چاہوں تو کیا بنوں؟ اس نیم تاریک کمرے کے منظر سے نکلوں تو کہاں جاؤں جس کے تاریکی نما اجالے میں ایسی گھٹن ہے جیسی قبر میں ہو۔ کیسا عجیب کردار ہے فرسٹ کلاس ایم اے اکنامکس کی ڈگری لے کر ایک پرائیویٹ اسکول میں ریاضی پڑھانے والا۔

کوئی ہے میری کہانی پڑھ کے کہنے والا کہ یہ کیا لکھ دیا؟ کہانی منطقی نہیں، لکھنے والے کا مشاہدہ کمزور ہے۔ ایم اے اکنامکس کرنے والا، اسکول کالج میں مباحثوں میں دوسروں کو چپ کرادینے والا آج اسکول انتظامیہ کے ہاتھوں روز بے عزتی کرواتا ہے اور الفاظ گم ہوجاتے ہیں۔ کوئی تو غور کرے کہ میری ہی کہانی کے کئی معاون کردار میرے کردار پہ حاوی ہورہے ہیں، جنہیں اپنا کردار بھی درست طریقے سے نبھانا نہیں آتا۔ کہاں ہیں وہ مکالمے جو مجھے ادا کرنے تھے مگر لکھے ہی نہیں گئے۔

اور معاون کرداروں کے غیر ضروری طنزیہ، تضحیکی اور پرتذلیل مکالمے موجود ہیں جن کا کہانی سے کوئی ربط نہیں۔ میرے اردگرد بھاگتے دوڑتے بے تحاشا کردار جن کے درمیان میری کہانی گم ہوگئی ہے۔ کوئی نقاد تو کہے کہ وحدتِ تاثر نہیں ہے۔ جب جب کہانی کسی ڈگر پہ چلنے لگتی ہے تو ایک بالکل غیر متعلق کردار کہانی میں نجانے کہاں سے شامل کردیا جاتا ہے اور یوں ظاہر کیا جاتا ہے جیسے وہ ہمیشہ سے وہیں تھا۔ پہلے میری کہانی میں نوشین آئی، اسکول کا منظر تھا میرا بھی پہلا دن تھا اس کا بھی، کئی صفحات نظروں نظروں میں باتیں ہوئیں جذبات گہرے ہوتے چلے گئے راتوں کی نیند کی جگہ برقی پیغامات نے لے لی اور پھر کردار لکھنے والے کو خیال آیا کہ چلو ایک کردار اور شامل کردیتے ہیں جس کا پہلے تذکرہ ہی نہیں تھا۔

میرے گاؤں میں موجود میری بیوی، آدھی کہانی گزر جانے کے بعد؟ ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ پہلے ہی چند صفحات میں کسی معاون کردار کا کوئی ایک مکالمہ لکھ دیا جاتا جو مجھ سے نوشین کے سامنے بیوی کا حال چال پوچھتا، جب صرف ایک مبہم سا احساس تھا، جب راتوں کی نیندیں نہیں اڑی تھیں، اور پھر یہ بھی صرف میرے کردار کو بتایا کہ وہ نیا کردار تو میری پیدائش سے پہلے ہی لکھ رکھا تھا بس شامل اب کیا گیا۔ جبکہ اسے کہیں اور شامل کرنا تھا۔

اب بھی پڑھنے والے خوب ہنسیں گے۔ میری حالت کا لطف اٹھائیں گے مگر پلاٹ کے اتنے بڑے جھول پہ کوئی تنقید نہیں کریں گے۔ محبت کی کہانی لکھنی نہیں آتی تو لکھنے کی ضرورت کیا تھی۔ کچھ مطالعہ کیا جاتا کچھ مشاہدہ کیا جاتا مگر کیا کیا۔ ل؟ نوشین پہ بلاوجہ ثابت کردیا کہ میں دھوکے باز ہوں۔ کیوں کہ محترم لکھاری کو ایک سسکتی ہوئی داستان لکھنی تھی۔ ایک تڑپتا ہوا کردار تخلیق کرنا تھا۔ جو کئی برسوں تک ناکام عاشقوں کے کتھارسس کے لیے استعمال ہو۔

مگر میں کیوں؟ میں ہی کیوں؟ اتنے سارے معاون، غیر ضروری، غیر اہم کرداروں میں سے کسی کی بھی داستان ہوسکتی تھی۔ کوئی اور ہوتا جو شادی شدہ ہوتا، جسے نوشین دھوکہ باز سمجھتی اور میرے کردار میں ماضی کی، اس چھپے ہوئے کردار کی کوئی جھلک شامل نہ کی جاتی۔ صرف ایک جملہ لکھ کر میری محبت، میری وفا سب جھوٹے بنا دیے کیا ضروری تھا کہ لکھا ہی جاتا کہ وہ پَٹّے والا اسی دن اسی وقت آکر کہ جس دن میں نوشین کو اپنے انداز سے مناسب لفظوں میں بتانے والا تھا کہ وہ کتنی اہم ہے، کہتا کہ آپ کی ”مسز“ کا فون آیا ہے اور میرا ماضی حال مستقبل صرف نوشین کے ساتھ تخلیق کیا جاتا۔

یا کم از کم مجھے کردار بدلنے کا اختیار دیا جاتا۔ تو میں کبھی ظفر کا کردار نا اپناتا۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا کم از کم اب میرے کچھ مکالمے لکھ دے نوشین کے لیے۔ میں اسے بتا سکوں کہ میں نے جان بوجھ کے دھوکا نہیں دیا، میرے کردار میں اس کے لیے سچے جذبے ہی لکھے گئے ہیں، مگر یہ مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ جس کردار کو صرف میرے کردار کی معلومات میں رہنا تھا وہ اتنی غیر موزوں جگہ پہ تخلیق کردیا جائے گا۔ کاش وہ سمجھ سکے۔

کاش وہ لکھاری نوشین کے کردار کو یوں لکھے کہ وہ مان جائے۔ کاش وہ بتائے کہ وہ کردار میرے لیے لکھا ہی نہیں گیا تھا وہ کسی اور کہانی کا کردار تھا جسے میری کہانی میں زبردستی شامل کیا گیا۔ کاش اس کردار کی الگ کہانی مکمل کر دے۔ جسے میری کہانی میں ادھورا لکھ کر چھوڑ دیا گیا اور جس کی وجہ سے میری کہانی بھی ادھوری رہ گئی۔ مگر لکھاری تو یہاں اس نیم تاریک کمرے تک میرا کردار لکھ کر جانے کہاں مصروف ہوگیا ہے۔

کمرے سے باہر چاروں جانب صرف گہری تاریکی ہے جیسے پوری کائینات میں صرف یہی ایک کمرہ ہے میں اس کمرے سے نکل کر روشن دنیا میں جانا چاہتا ہوں۔ مجھے یہاں بیٹھ کر یہ سب آوازیں نہیں سننی جو صرف الفاظ ہیں۔ بے وجود بے صوت، لکھاری کے موبائل کے نوٹ پیڈ پہ لکھے آوازوں کے الفاظ جو ٹیبل پہ روشن اسکرین لیے پڑا ہے۔ آخری لفظ جو شاید ادھورے جملے کے درمیان کا کوئی لفظ ہے کے بالکل ساتھ ہرا کرسر بلنک کر رہا ہے۔ کب تک انتظار کروں میں۔

کیسی اذیت ہے۔ اب وہ چائے پیے گا۔ شیو کرے گا، نہائے گا، بیوی سے چھپ کر گرل فرینڈ کو کال کرے گا، اسے اپنی سچائی کا یقین دلائے گا۔ بیوی کے آفس جاتے ہی خود بھی اس نام کی محبوبہ سے ملنے چلا جائے گا۔ مگر مجھے دھوکے باز لکھے گا۔ بے شرم کہیں کا۔ اوہ وہ واپس آرہا ہے۔ شاید کچھ نیا ذہن میں آیا۔ اس نے موبائل ہاتھ میں لے لیا ہے۔ خدا کے لیے میری کہانی میں نوشین کا ساتھ لکھ دو تمہیں تمہاری بیوی کا واسطہ، اس نام کی محبوبہ کا واسطہ میری خوشیاں لکھ دو اذیت سے نکال دو۔

*۔ *۔ *

وہ کان سے ایک اور موبائل لگائے عجلت میں اندر آیا۔

”جی جی بس پانچ منٹ میں بھیجتا ہوں۔ بس بے فکر رہیں موضوع ایسا ہی ہے کہ قاری کو باندھ کے رکھے گا۔ محبت کا موضوع کبھی پرانا ہوا ہے بھلا۔ جی جی جو حکم محترم ایسا ہی ہوگا۔ بس دو منٹ اور انتظار کریں اختتام پہ ہی ہوں۔ سلامت رہیے۔ “

اس نے موبائل اٹھایا اور اسکرین انگوٹھے سے چھوئی، مدھم ہوتی اسکرین دوبارہ روشن ہوگئی۔

” ظفر کچھ دیر گم سم بیٹھا رہا پھر کچھ سوچ کے نیم تاریک کمرے سے نکل کر روشن صحن |“ اس نے دوبارہ سے ادھورا جملہ پڑھا، دماغ میں آتے تمام ربط ذہن سے جھٹکے، ادھ لکھا جملہ مٹایا اور آگے ٹائپ کرنا شروع کردیا۔

”ظفر کچھ دیر گم سم نیم تاریک کمرے میں بیٹھا رہا۔ پھر آہستگی سے اٹھا اور لرزتے ہاتھوں سے الماری سے پستول نکال لیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ بے جان زمین پہ پڑا تھا اور اس کے سر سے خون بہہ بہہ کر فرش لال کر رہا تھا۔ “

محبت کی ایک اور کلیشے داستان تخلیق ہوگئی تھی جس میں کچھ نیا نہ ہونے کے باوجود قاری اسے پڑھتا، تڑپتا اور بار بار پڑھتا اور یوں ظفر کا کردار امر ہوجاتا۔ اور لکھاری کے لیے بیوی اور محبوبہ کا خرچہ ساتھ ساتھ نکالنے کا بندوبست ہوجاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 46 posts and counting.See all posts by absar-fatima