مار اوئے ڈپٹی (افسانہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہیں کسی پنجابی فلم کا ڈائیلاگ سنا تھا جس میں مصطفے ٰ قریشی تھانے میں ڈی ایس پی سے مار کھا رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے (مار۔ اوئے ڈپٹی۔ ہور مار) اور پولیس والے اسے مار مار کر تھک جاتے ہیں مگر وہ مسکراتا رہتا ہے اور کہتا رہتا ہے (مار۔ اوئے ڈپٹی۔ ہور مار) ۔

پاکستان میں اب بھی پولیس ڈپٹی کے بہت اختیارات ہیں وہ جسے چاہے اندر کردے جس پر چاہے پرچہ دے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ کوئی غریب ہو۔ ہا ں اگر اگلاشخص پیسے والایا اشرافیہ سے تعلقات رکھتا ہو تو نتیجہ مختلف ہو سکتاہے۔ لیکن آج کے دور میں نوری نت یا مولا جٹ جیسا بدمعاش ملنا مشکل ہے جو اپنی طاقت اور بڑھکوں کے بل بوتے پر اکڑ دکھائے۔ کیونکہ اب اس طرح کی اکڑ دکھانے پر اسے اپنی تشریف کی بعد میں ٹھیک ٹھاک مرمت کروانی پڑتی ہے اور دوائی لگانے کے لئے اپنا ہاتھ بھی نہیں پہنچتا۔

لیکن آج کل تھانہ آب پارہ کا ڈپٹی بہت سخت ہے اور اپنے کہے ہوئے اصولوں کا بہت پکا ہے۔ اور اُس کو ہمیشہ سے راولپنڈی کے ہر آئی جی کی آشیر باد حاصل رہی ہے۔ اس کے تھانے کی حدود میں رہنے والا ہر شخص اس کے بستہ بند رجسٹر کا ممبر ہے ان میں چاہے وہ پیسے والا ہو، سیاست دان ہو، کوئی صحافی، کاروباری یا دانشور ہو سب کو اس کے اصولوں کو عین مطابق چلنا پڑتا ہے جن کی وہ کبھی تشہیر بھی نہیں کرتا اور نہ ہی کتابی صورت میں شائع کرتا ہے۔

اور اس مقصد صرف علاقے میں امن و سکون اور اس کے بنائے ہوئے اصولوں کی ترویج شامل ہوتی ہے۔ کچھ معلوم اصولوں میں اُس کی طے کردہ حدود و قیود میں مقامی یونین کونسل کے چنتخب نمائندوں کا اس کی مرضی کے مطابق انتخاب، عوامی رابطے کے تمام ذرائع پر اس کی مرضی کے مطابق معلومات کا ہونا جن میں تمام خبروں اور معلومات کا ملکی اور علاقائی سلامتی سے متصادم نہ ہونا، اور اس کے چنتخب نمائندوں کے خلاف کسی قسم کی معلومات کی تشہیر نہ ہونا، اور سب سے اہم کسی معاملے میں اس کی یا اس کے آئی جی کی مداخلت کے بارے میں بات کرنا۔

اس کے بنائے ہوئے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو وہ صرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ سب ان اصولوں کی خود بخود پابندی کریں گے دوسری صورت میں ایک خود کار اور غائبانہ طریقہ سے خلاف ورزی کرنے والے کی قسمت میں اس خلاف ورزی کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور کئی صورتوں میں زیادہ خلاف ورزی کرنے پر ان کی تشریف پر زخموں کے نشانات بھی ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ آج تک کسی نے ڈپٹی یا اس کے کارندے کو مارتے نہیں دیکھا ہوتا۔

لیکن مار کھانے والا ہمیشہ تھانہ آب پارہ کے ڈپٹی کا نام لیتا ہے کہ اسی نے مارا ہو گا اور اسی نے اس کی قسمت خراب کی ہو گی۔ او ر حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈپٹی کبھی ان الزامات اور ان کاموں کی تردید بھی نہیں کرتا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ڈپٹی تو صرف حکم کا غلام ہے حقیقت میں تمام اصول آئی جی کے ہی چلتے ہیں۔ ڈپٹی اپنے خلاف جانے والے تمام افراد کو ہمیشہ کچھ کرنے سے پہلے باقاعدہ وارننگ دیتا ہے اور اُس کو تین شرائط انتخاب کے لئے دیتا ہے۔

1۔ خاموشی سے اس کے بنائے ہوئے اصولوں کو قبول کرلے اور اُن کے مطابق زندگی گذارے۔

2۔ یا پھراپنی تمام دولت یا اس کا ایک بڑا حصہ جو کہ اضافی از میزان آمدن کے ذریعے کمایا گیا ہو کو حکومتی خزانے میں جمع کروا کر رسید حاصل کرنا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

3۔ یا پھرنافرمانی کی صورت میں سزا کے لئے تیار ہوجائے۔

تھانہ آب پارہ کے ڈپٹی کی پوسٹ بھی بہت عجیب ہے۔ کبھی پتہ چلتا ہے کہ ڈپٹی ریٹائرڈ یا پھر ٹرانسفر ہو گیا ہے اور اس کا اعلان اخباروں، ٹی وی پر بہت دھوم دھام سے کیا جاتا ہے اور تمام بستہ بند افراد سکون کا سانس لیتے ہیں مگر عرصہ دراز سے جب بھی ملنے جاؤ تو ہمیشہ وہی پرانا بندہ ڈیوٹی پر بیٹھا ملتا ہے جس کو ڈیوٹی کرتے دیکھ دیکھ کر تین نسلیں گزر گئی ہیں۔

لیکن اب کچھ عرصہ سے لوگ اس کے سامنے دوبارہ اکڑ دکھانے کی کوشش کر نے لگے ہیں اور اپنی قسمت کی خرابی اور تشریف کی خرابی صحت کے باوجود اس کے علاقہ کی حدود میں رائج اصولوں کو ماننے سے انکاری ہو جاتے ہیں جن کی اکڑ ابتداء میں پنجابی فلموں کی بڑھکوں سے شروع ہو کر بعد میں منتوں ترلوں اور معافی پر آ جاتی ہے۔ مگر اب کچھ عرصہ سے اس نے چند چیدہ چیدہ افراد اور اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کومعافی دینا چھوڑ دی ہے۔

اور اپنے علاقے کے تقریباً ان تمام بستہ بند افراد جنہوں نے اس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں یا اس کے بنائے ہوئے اصولوں کی خلاف ورزی کی تھی یا اس سے ایک دفعہ معافی ملنے کے بعد دوبارہ آنکھیں دکھائیں تھیں اس نے ان سب کے تمام پرانے کارناموں اور غلط کاریوں، بدمعاشیوں کی فائلیں کھولنا شروع کر دی ہیں۔ جس کی ان بستہ بند افراد کو کسی صورت امید نہ تھی۔

بلکہ اب تو اس نے ان بستہ بند افراد کے دور نزدیک کے ساتھیوں، ان کے اہل خانہ بلکہ ان کے ملازمین اور ان کے حمایتی صحافیوں کی بھی قسمت خراب کرنا شروع کر دی ہے اوراب کچھ عرصہ سے اس کی ان بستہ بندوں کو سزا دینے میں مد د دینے کے لئے ادارہ برائے ضبطگی اضافی مال وزازمیزان آمدن بھی شامل ہو گیا ہے جس کو آج کل ادارہ برائے نابینا افراد کی بھی مکمل آشیر باد حاصل ہے۔

ٓآج کل وہ تمام بستہ بند افراد جن کی ڈپٹی نے قسمت خراب کی ہوئی ہے وہ معافی حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے جس کے لئے اپنے مال و زر کا ایک بڑا حصہ اضافی از میزان آمدن کو سرکاری خزانے میں بطور خراج (لیکن بغیر رسید کے ) دینے کو تیار ہیں مگر علاقہ میں اپنی خاندانی چودھڑاہٹ اور گدی کو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہتے تاکہ ان کی آنے والی نسلیں آسانی سے کسی نہ کسی دن علاقہ کی دوبارہ چودھری بن سکیں۔

صرف اس یک نکاتی مسئلے کا تصفیہ نہ ہونے کی وجہ سے پورے علاقے میں انارکی اور بے چینی کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔

لیکن اب کچھ عرصہ سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے کہ علاقے میں انارکی اور بے چینی ختم ہو جائے گی۔ لیکن اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس بات کا فیصلہ ہونا باقی ہے جس کا کسی حد تک دارومدار پٹرول اور ڈیزل کے غیر سرکاری ڈیلر اور عقیدت کا پرچار کرنے والے نمائندوں پر منحصر ہے۔

نوٹ: (مضمون ہذاٰ میں دیے گئے ناموں کی حقیقی دنیا میں مشابہت اتفاقیہ ہو سکتی ہے جس کا مصنف سے کوئی لینا دینا نہیں )

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
چوہدری محمد رضوان کی دیگر تحریریں
چوہدری محمد رضوان کی دیگر تحریریں