کراچی سمیت صوبہ سندھ میں ٹاؤن پلاننگ کی بدترین صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت فوجی ہو یا سیاسی، کراچی سمیت سندھ بھر میں لینڈ مافیا قبضوں میں سرگرم رہتی ہے، قومی، صوبائی، بلدیاتی، ہر سطح کا محکمہ ٹاؤن پلاننگ میں دلچسپی لینے کے برعکس شہری منصوبہ بندی کا ازلی دشمن نظر آتا ہے، ہر دور میں لینڈ مافیا اور سرکاری اہلکاروں نے ملی بھگت سے سارے صوبے میں ٹاؤن پلاننگ کو ناکام بنایا ہے، خصوصاً کراچی کی قدرتی آبی گزرگاہوں پر مستقل آبادیوں کی تعمیر کا مجرمانہ سلسلہ جاری و ساری ہے جب کہ شہرت یافتہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور وزارت کچی بادی کے اہلکار دولت کے انبار سمیٹنے میں مصروف ہیں، حیران کن طور پر کچی آبادیاں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دائرہ کار میں نہیں آتیں بلکہ کچی آبادیوں کے لیے ایک علیحدہ وزارت ہے۔ ان دو معاملات کو علیحدہ رکھنے کی راکٹ سائنس حکومت سندھ زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔

ملک کے معاشی مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی کے لیے زبان زد عام ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کسی کام کو ہاتھ لگائے بغیر گھر بیٹھے رجسٹر میں حاضری لگائے تب بھی ”پول منی“ کے لاکھوں روپے گھر پہنچتے ہیں، دفتر آئیں تو کام کرنے کے جو غیر قانونی اسٹرکچر گرانے کی دھمکی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا یہی ”پول منی“ کئی گنا بڑھ جاتی ہے، یہی صورتحال وزارت کچی آبادی کی ہے۔

لاقانونیت کا یہ مظاہرہ ماضی کی ہر حکومت میں ہوتا رہا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتی رہے گا، معاملات ٹھیک کرنے کے لیے فوج کی نہیں اجتماعی/ سیاسی خواہش یا پولیٹیکل ول کی ضرورت ہے، سب ٹھیک ہو سکتا ہے، کچھ حلقے اس انتہائی تکلیفدہ صورتحال کو کراچی کے ساتھ صوبائی حکومت کا تعصب بتاتے ہیں اس کے جواب میں مخالف سمت سے ایسا ہی کچھ جواب آتا ہے کہ تعصب کا الزام لگانے والے خود متعصب ہیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی اور کیچڑ اچھالنے کا رقص ابلیس جاری رہتا ہے اور معاملہ گول مول کر کے ٹال دیا جاتا ہے۔

تباہی مچانے والوں کی چھان بین کریں تو اس حمام میں سب ننگے ملیں گے، سب نے مل کر اس بربادی میں اپنا حصہ ڈالا ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے، ڈی ایچ اے کراچی جہاں پانچ سو گز کے خالی پلاٹ کی قیمت دس کروڑ روپے تک ہے ایک سہانے ڈھول سے زیادہ کچھ نہیں، ہر بارش میں ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے بیشتر خصوصاً ڈی ایچ اے کراچی کے پرانے فیز میں تعمیرات زیادہ متاثر ہوتی ہیں، وجہ، غیر پیشہ ور نالائقوں کی اہم جگہوں پر تعیناتی، ناقص منصوبہ بندی، پیسہ بٹورنا اور سب کو حصہ پہنچانے کا نظام ہے، ڈیفینس کے رہائشیوں کا عام استعمال (پینے کے پانی کی لائن سے سپلائی کے بارے میں لوگوں نے سوچنا ترک کر دیا ہے ) کے پانی کی فراہمی کے لیے مکمل انحصار ٹینکر پر ہے، ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مالیاتی اداروں سے اربوں روپے کے قرض لے کر سمندری پانی کو عام استعمال کے قابل بنانے والا پلانٹ سیکنڈ ہینڈ اور ناقص حالت میں درامد کیے جانے کے باعث ڈی ایچ اے کو ایک قطرہ پانی سپلائی کیے بغیر بند پڑا ہے، دو دہائیوں سے ناکارہ پڑے اس ڈی سیلینیشن پلانٹ پر اربوں روپے برباد کرنے کے ذمہ داروں کو آج تک کسی نے نہیں پوچھا، نہ کوئی پوچھنے کی ہمت رکھتا ہے۔

اپنے دور کی توصیف اور مدح سرائی کرنے والے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے اور مخالفین کی برائیوں پر انگلی اٹھاتے ضرور نظر آتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں بتاتے کہ ان کے دور میں ناجائز قائم آبادیوں کی تعداد کیا تھی اور ان ناجائز آبادیوں کے خاتمے کے لیے انہوں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا، البتہ فلاں خان نے یہ اور فلاں کمال نے کراچی کی وہ خدمت انجام دی کا ڈھنڈورہ پیٹتے ضرور نظر آئیں گے۔

راشد منہاس روڈ پر کینٹونمنٹ کے سینما کی تعمیر نے سڑک کو چھوٹی سی گلی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں دن بھر ٹریفک کی روانی متاثر رہتی ہے، مین شاہراہ فیصل پر لب سڑک کینٹ ک حدود میں ایک شاپنگ مال تیاری کے آخری مراحل میں ہے، شاہراہ فیصل کے کئی کلومیٹر پر دیوار کھڑی کر کے قبضہ مضبوط رکھنے کے اقدامات صاف دیکھے جا سکتے ہیں، یہ دیوار اشتہارات کے کمرشل استعمال میں رہی ہے، اعلی ’ترین عدالت کے اس تعلق سے تبصرے بہت اہم ہیں۔

کراچی کے سولجر بازار کے نکاسی آب نالہ کی مثال لے لیں جس پر شاہین کمپلیکس کراچی اور سندھ ہائی کورٹ کی پارکنگ قائم ہے جبکہ اسی نالے پر ایک سرکاری اسکول اور گرلز کالج کی سرکاری عمارتیں اور جیولری مارکٹ تعمیر ہو چکی ہیں۔

آبی گزرگاہوں پر پکی آبادیاں کھڑی کر کے شہریوں کی زندگی صرف کراچی میں عذاب نہیں ہے بلکہ کم و بیش یہی کارنامے صوبے کے ہر شہر ہر قصبے میں جاری ہیں، کراچی سے نکل کر حیدراباد چلے جائیے ٹاؤن پلاننگ کے ساتھ ہونے والا بلد کار قدم قدم پر نظر آ جائے گا، چاہے قاسم آباد کا نسبتاً جدید علاقہ ہو یا کوہسار کا کم آباد علاقہ، اصل پلاننگ بھی نقائص سے بھرپور تھی تو اس پر کھڑی کی گئی تعمیرات سمیت زیر زمین ناقص سیویج کا نظام، روزمرہ کے استعمال کے لیے سپلائی کیا جانے والا سیویج زدہ پانی، گلیوں سے زیادہ تنگ سڑکیں، پارکنگ کی ضرویات پر عدم توجہ، جگہ جگہ غیرقانونی اسٹرکچر، سب مل کر سرکاری عملداری کی کہانی با آواز بلند سناتی نظر آتی ہے۔

کراچی کی طرح پرانا حیدراباد، اور لطیف آباد جہاں ڈیڑھ سو، دو سو گز پر قائم کوارٹرز کئی منزلہ عمارتوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، کوئی سڑک ذرا مصروف ہوتی ہے اور سرکاری طور پر کمرشل ایریا میں بدل دی جاتی ہے، نتیجہ کچھ ہو سرکاری محکموں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھلیلی نہر کے دائیں بائیں لاکھوں آبادی اور اس کا تمام سیویج دن رات اس نہر کی نظر ہوتا ہے، نہر کا یہ تعفن زدہ غلیظ پانی بدین تک آبپاشی سے لے کر عام استعمال کے پانی کا ذریعہ ہے لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہے، سکھر، لاڑکانہ سمیت دیگر شہر بھی ٹاؤن پلاننگ سے عاری اورآبادی کے بڑھتے دباؤ سے بے ہنگم طور پر پھیل رہے ہیں۔

کراچی کی آبی گزرگاہوں پر قائم آبادیاں قائم رہیں تو شہر سیلاب کی کیفیت سے ہمیشہ دو چار رہے گا، سرکلر ریلوے جیسے شاندار منصوبے کو ناجائز قابضین کے حوالے کر کے لینڈ مافیا کی پشت پر سیاسی اور سرکاری ہاتھ تہس نہس کر چکے ہیں، سرکلر ریلوے کی بتدریج تباہی صوبائی اور شہری حکومتوں کی آنکھوں کے سامنے ہوتی رہی جبکہ کراچی کی چھوٹی سڑکوں کو کمرشل کیے جانے کا عمل جاری ہے جس کے باعث شہر کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔

شہروں میں زمین پر قبضے اور عمارتوں کی تعمیر میں من پسند ردوبدل کا رحجان جاری ہے اس لاقانونیت نے کراچی اور صوبہ سندھ کے موسم پر بے حد خراب اثرات مرتب کیے ہیں، عمارتوں کی ناقص تعمیر میں پلاننگ کے ذمہ دار سرکاری اداروں میں مہارت کا فقدان اور نوٹ کمانے کی بیماری ان مسائل کی جڑ ہے، ہر گزرتے سال کے ساتھ گرمی میں اضافہ کی ایک وجہ بے ہنگم عمارتی تعمیرات ہیں، یہ بربادی کسی ایک دور حکومت میں نہیں ہوئی، ہر حکومت اس بربادی میں ڈھٹائی سے اپنا حصہ ڈالتی رہی ہے۔

اس شیطانی چکر کی جڑیں بہت مضبوط ہو چکی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اپنی طاقت مطابق بلڈنگ کنٹرول اور وزارت کچی آبادی کی کالی بھیڑوں سے اپنا حصہ وصول کر کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں شامل ہیں، صرف کراچی میں روزانہ بارہ سے پندرہ ہزار ٹن جمع ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی موثر انتظام موجود نہیں ہے جبکہ اس کچرے سے دو سو میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے، اسی طرح بے حد ضروری واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ناپید ہیں جس کی وجہ سے تمام گٹر نالوں کا اخراج سمندر کے سپرد کر کے اپنے ہی ساحل اور سمندر کی آبی حیات کو تباہ کیا جا رہا ہے، حالانکہ صنعت کار واٹر ٹریٹمنٹ سے حاصل شدہ پانی خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

جب ہر سمت سے گدھ حملہ آور ہوں ہر دور حکمرانی بربادی میں اپنا حصہ ڈالے تو صوبے کا دارالحکومت کراچی ہو یا صوبے کے دیگر شہر یا قصبے عام شہری خود کو مردار خور گدھ کے غول میں گھرا لاچاری سے چاروں طرف دیکھتے رہتے ہیں۔

اس ناقص منصوبہ بندی کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی/اجتماعی خواہش یا سیاسی عزم ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ مخصوص مفادات رکھنے والے عوام کو تقسیم رکھنے کی حکمت عملی میں کامیاب ہیں، ملکی اقتدار ہو یا کراچی کے گندے نالے ہر طرف قبضہ مافیا سرگرم جبکہ سیاسی عزم کمزور ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply