معراج بھائی (آخری قسط)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے دن وہ لوگ واپس آ گئے اور امنگوں سے شروع کیا گیا پر جوش ہنی مون اپنے اختتام کو پہنچا۔ ایک دن گھر میں سیٹل ہوتے گزر گیا اور اس سے اگلے دن وہ ڈرائیور کو لے کر میکے چلی گئی، تیمور گھر پر نہیں تھا اس کو ٹیکسٹ کر دیا تھا۔ میکے میں سب خوش ہو گئے اور ایک چہل پہل ہو گئی لیکن شام اچانک وہ بھی آن پہنچا بس اب تو ایک ہلہ گلہ تھا اور کان پڑی آواز نا سنی جا رہی تھی، لڑکے سپورٹس پر ڈسکشن کر رہے تھے اور عفت کا مسلسل مذاق اڑا رہے تھے تو اسے بھی اپنا موڈ ٹھیک کرنا پڑا کیونکہ وہ ماں باپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ تیمور الیکشن کی باتیں کر رہا تھا اور یہ بھی کہ وہ کتنا مصروف ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ رات کا کھانا کھا کر تیمور چلا گیا اور اماں ابا ثمر اور عمر اس کی تعریفوں میں رطب الساں تھے۔

عفت کو ماں باپ کے یہاں آئے ہوئے بھی تین ہفتے ہو گئے تھے، وہ اپنی جاب کے لئے فکر مند تھی اور ٹائم پر جوائن کرنا چاہتی تھی جو وقار احمد فکس کرا چکے تھے مگر کچھ بھی واضح نہیں تھا، اور وہ ملک سے باہر تھے۔ ایک رات جب سب کھا نا کھا رہے تھے اور تیمور بھی موجود تھا تو اس نے بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ چار ہفتے کے لئے یورپ کا پلان بنا رہا ہے اور وہ لوگ le۔ mans بھی دیکھیں گے۔

اٹ ول بی کوائیٹ اے فن سمر
وہ سلاد کا پتہ منہ میں رکھتے ہوئے بولا
ہاں مگر آپ تو الیکشن کے سلسلے میں بزی ہوں گے تو پلان کیسے بن رہا ہے؟
عفت نے غصے پر قابو پاتے ہوئے بظاہر ایک عام سا سوال کیا
میری خوشیوں کی دشمن خوبصورت ترین لڑکی!

وہ ہنستے ہوئے اس کی جانب مڑا مگر الفاظ جہرے کے تاثرات کا ساتھ نہیں دے رہے تھے، وہی سختی اور اجنیت تھی مگر عفت کے سوا کوئی بھی نہی جان سکتا تھا جو ساری ساری رات جاگ کر بھی اس کے بدلے روئیے کا معمہ حل نا کر پا رہی تھی لگتا تھا کسی نے کالا جادو کر دیا تھا۔

الیکشن تو سپریم کورٹ نے تین مہینے کے لئے ملتوی کر دیا ہے۔
ابا نے کہا تو اب پھر عفت کے حیران ہونے کی باری تھی۔

چلیں ٹھیک ہے، جو بھی ہے بلکہ میں خوش ہوں کہ عفت بھی گھوم پھر آئے گی ذرا فریش ہو جائے گی۔ کیسی کملا گئی ہے

رضوانہ نے عفت دیکھتے ہوئے کہا، مگر اس کو اپنا ذکر پسند نا آیا تھا۔
پھر تو مجھے گل پریشے اور عبدل کے لئے بھی انتظامات کرنے ہوں گے آخر وہ عفت کے بیسٹ فرینڈز ہیں بھئی،

بظاہر تیمور نے معصوم شکل بنا کہا تو عمر اور ثمر نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اور ڈنر خوشگوار ماحول میں ختم ہوا۔ رضوانہ مگر بیٹی کے لئے فکر مند تھیں کیونکہ اس میں نئی دلہنوں والی کوئی چونچالی اور ادائیں ہی نہیں تھیں بس عجیب سی میٹر آف فیکٹ والی سیچوئشن تھی مگر واضح کچھ پوچھ بھی نا پا رہی تھیں۔ ایک دو بار انھوں نے دبے دبے پوچھا بھی مگر اس نے سرد مہری سے ہاں میں سر ہلا دیا مگر نجانے کیوں ما ں کا ماتھا ٹھنک رہا تھا۔

ابا میری جاب کا کیا معاملہ ہے آخر؟ پھو پا اب واپس بھی آ گئے ہیں مگر کچھ پتہ ہی نہیں چل رہا ہے
آخر ایک دن اس نے باپ سے صبح ناشتے پر ناراضگی سے کہا

بیٹا میرا خیال ہے تم ان سے خود بات کرو، میرا بار بار پوچھنا مناسب نہیں ہے اور ان کے پرسنل فون پر کال کرو!

انھوں نے نرمی سے کہا

دوپہر ایک بجے اس نے ان کو کال کیا تو انھوں نے خود ہی اٹھا لیا اور اس کی آواز سن کر خوش ہو گئے اور کہا کہ وہ قریب ہی کسی لنچ پر تھے مگر اب فار غ ہیں تو اس کو ملنے کے لئے آتے ہیں۔

بہت دن ہو گئے میں نے اپنی بیٹی کو دیکھا ہی نہیں اور فون بند کر دیا۔ وہ بس کھڑی اپنے فون کو گھورتی رہی۔ وقار احمد دس منٹ میں پہنچ گئے اسے گلے لگا کر پیار کیا، دعائیں دیں مگر اب گھر آنے کی تلقین اور رضوانہ سے کافی کی فر مائش بھی کی تھی۔ ابا بھی ان کے آنے کا سن کر گھر آ گئے تھے اور سیاست کا نا ختم ہونے والا باتوں کا ایک سلسلہ تھا۔ کافی ختم کر کے جب وقار نے پائپ جلایا تو عفت نے درمیان میں ہی بات شروع کر دی اس پہلے کہ وہ چلے جاتے، مگر وہ اس کی بات سن کر گہری سوچ میں ہی پڑھ گئے تھے۔

بیٹا اب یہ اتنا آسان معاملہ نیں ہے ’
ا نھوں نے سنجیدگی سے کہا
جی! مطلب؟
وہ تو حیراں ہی رہ گئی

ہاں جب تمہاری اپائنٹمنٹ ہوئی تو ایک امیدوار نے اس کو چیلنج کر دیا تھا اور میری لیگل ٹیم سارا معاملہ سنبھال تو لیا مگر وہ سیٹ پھر کسی اور مل گئی۔

وہ سکون سے پائپ کے کش لے رہے تھے اور عفت صدمے سے گنگ تھی۔

اور بیٹا کیا کروگی اس جاب واب کو، زندگی کو انجوائے کرو، تیمور کے دوست آ رہے ہیں تم لوگ ان میں بزی ہو جاؤ گے، پھر اس کے اور بھی پلان ہیں سو فور گیٹ دس جاب۔

ان کا اطمینان قابل دید تھا۔

صدمے اور غصے کی شدت سے وہ انھیں خدا حافظ بھی نا کہہ سکی اور بعد میں پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی اور بھی نجانے کن کن باتوں کی شکایت تھی اسے، ماں باپ اسے روتا دیکھ کر بے حد تکلیف میں تھے مگر وقار کے ساتھ اختلاف نہیں کر سکتے تھے چنانچہ اس کی تسلی تشفی کرتے رہے اور کومپرومائیز کرنے کے سوا کوئی مشورہ نا دے سکے مگر وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھی، اس کی عمر بھر کی محنت خاک میں مل گئی تھی۔

میکے آئے اسے مہینہ ہو چکا تھا، پھپھو اور تیمور دو دفعہ اس کو لینے آئے مگر وہ ٹال گئی۔ اس کا دل بجھ رہا تھا، تیمور کو دیکھ کر اس کے دل میں پھوٹنے والے قوس قزح کے رنگ مدہم پڑ رہے تھے۔ وہ جمعے کی ایک شام تھی جب صائمہ اور تیمور اس کو لینے آ گئے تھے۔ وہ ڈارک جینز اور سفید پولو میں دل میں اتر رہا تھا اور اس کی جادو بھری نظریں عفت پر ٹکی تھیں جو ایک تھکے ہوئے حلیے میں بیٹھی تھی مگر ماں سمجھ گئی کہ آج عفت کو جانا ہو گا اور مناسب بھی یہی تھا سو سعیدہ کی مدد سے وہ اپنی چیزیں سمیٹ کر رخصت ہو گئی، صائمہ کو کہیں اور جانا تھا سو الگ کار میں تھیں۔

تیمور ہاؤس کا گیٹ کھلا، ان کی گاڑی اندر داخل ہوئی اور گیٹ بند ہو گیا اور ساتھ ہی عفت کا نجانے کیوں دل ڈوب سا گیا۔ تیمور نے اس کا ہاتھ تھاما اور انیکس کی طرف چلا جہاں کچھ لوگ برآمدے میں اور کچھ لان میں تھے، سب ہی تیمور کے دوست تھے اور کچھ سے وہ شادی پر مل چکی تھی۔ سب نے اسے خوش آمدید کہا اور اس کے بیٹھنے کے لئے جگہ ڈھونڈنے لگے مگر ہر کوئی یا تو سگریٹ پی رہا تھا یا شیشہ اور بے حد دھواں پھیلا ہوا تھا اور اس دھواں دار ماحول میں معراج بھائی ایک سماوار ہاتھ لئے ان لڑکوں کی چھوٹی چھوٹی پیالیاں ٹرکش قہوے سے لبریز کر رہے تھے، عفت کا دم گھٹ رہا تھا اس لئے معذرت کر کے وہ تیزی سے گھر کی طرف لپکی مگر تیمور پیچھے نہیں آیا بلکہ وہیں گھاس پر ایک کشن میں دھنس گیا۔

زندگی کی وہی ایک روکھی پھیکی روٹین شروع ہو گئی اور تیمور کے دوستوں کے جتھے آ جا رہے تھے اور تمام ملازم، معراج بھائی اور حتٰی کہ اگر صائمہ گھر پر ہوتیں وہ بھی ان کی خاطر مدارت میں مصروف رہتیں تھیں۔ عفت سب کچھ بے حسی سے دیکھتی رہتی، اس کے گالوں کے گلاب مرجھا رہے تھے اور آنکھوں کے ستارے مدہم پڑ رہے تھے مگر کون دیکھ رہا تھا۔ وہ سارا دن اپنے پورشن میں رہتی تھی اور تیمور کی مرضی ہوتی تو گھر آ جاتا ورنہ دوستوں میں ہی پڑا رہتا۔ حالات شادی کے بعد اتنی جلدی اور اس طرح بدل جائیں گے عفت کے کبھی برے ترین گمان میں بھی نہیں تھا اور اس کے منہ پر گویا قفل ہی لگ گیا تھا۔ اب وہ اپنے دوستوں کے ایک بڑے جتھے ایک ملازم خالد اور معراج بھائی کے ساتھ ناردن ایریاز چلا گیا تھا۔

اپنے اور تیمور کے غیر فطری تعلق کو بہت اچھی طرح جان گئی تھی، اس کی شادی کو پانچ مہینے گزر گئے تھے مگر وہ پیچیدہ گرہیں ہی کھول نا سکی تھی اور تیمور کی کیسی بدنصیبی تھی کہ اس جیسی بیوی کے ہوتے نجانے کہاں تھا۔

اب وہ ایک ہی نہج پر سوچ رہی تھی کہ اس کا افئیر کہیں اور تھا مگر ماں باپ کے دباؤ پر اس نے عفت سے شادی کرلی کیونکہ انھیں ایک حسین پڑھی لکھی اور سب سے بڑھ کر خاندانی بہو درکار تھی اور یہ تمام خصوصیات اس میں بدرجہ اتم تھیں، مگر وہ تیمور کا دل نا جیت پائی تھی اور اسے اس حسن اور قابلیت سے بھی نفرت ہو گئی تھی۔

اب وہ دیوانوں کی طرح پزل کے ٹکڑے جوڑتی رہتی، شادی کی رات سے آج تک وہ اچانک اٹھ کر کہیں چل پڑتا، آدھی رات تک ٹیکسٹ آتے رہتے یا سٹنگ روم میں دھیمی آواز میں لمبی لمبی کالز کرتا تھا۔

شروع میں عفت کے پوچھنے پر اس نے پہلے اس کا منہ کئی بار چوما اور پھر بتایا کہ اس کے دوست فارن سے فون کرتے ہیں، وہ ایک نوجوان اور حسین لڑکی تھی اور تیمور بھی بھر پور نوجوان تھا مگر نکاح میں ہوتے بھی ان کا تعلق ہنسی مذاق، گلے لگانا اور ہاتھ یا منہ چومنے سے آگے نا بڑھا تھا اور اب تو وہ بھی نہی تھا، تیمور کے رویے میں سرد مہری آ چکی تھی جو عفت کی برداشت سے باہر تھا اور محبت کے دیے کی لو مدہم ہوتی جا رہی تھی۔

وہ سارا دن بدروح کی طرح گھر میں اوپر اور نیچے گھومتی رہتی تھی اور نجانے کیا سوچتی رہتی۔

پھپھو پھو پھا بے حد مصروف لوگ تھے اور اگر وقار شہر میں ہوتے تو وہ ہر روز کہیں انوائیٹڈ ہوتے تھے، ایک دو دفعہ ان کے اصرار پر وہ بھی گئی مگر اتنے مصنوعی اور جعلی لو گوں کو برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔ اب تیمور نجانے کتنے دن کے لئے گیا تھا اور حسب معمول فون بند تھے مگر ماں کے ساتھ رابطے میں شاید ہوگا۔ ایک بات جو اس نے نوٹ کی تھی کہ ماں باپ تیمور کی محبت میں اندھے تھے اس لئے اس نے بھولے سے بھی ان سے کبھی کوئی بات نا کی تھی۔

اس دن اس نے ماں کو فون کیا اور کہا کہ وہ چند دن کے لئے آنا چاہتی ہے جب کہ تیمور بھی شہر سے باہر ہے تو اماں کچھ ہچکچا گئیں

دیکھو بیٹا! ابھی کچھ دن پہلے تم مہینہ رہ کر گئی ہو اور سارا خاندان جانتا ہے، یوں بار بار آ کر رہنا مناسب نہیں ہے، اپنے گھر میں دل لگاؤ بیٹا!

اس نے فون بند کر دیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کیا کروں!

وہ اٹھی ا پنے کپڑے درست کیے دوپٹہ اوڑھا اور باہر نکلی تا کہ قریبی مارکیٹ میں ونڈو شاپنگ کرے تو گھر میں موجود گارڈز میں سے ایک مؤدب فاصلے پر ساتھ ساتھ چلنے لگا،

آپ کہاں ساتھ ساتھ آرہے ہیں؟
اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے نرمی سے کہا
سر کار حکم ہے
نہیں آپ واپس جائیں
سرکار ڈیوٹی ہے
وہ ٹس سے مس نا ہوا، وہ کھولتی ہوئی واپس آ گئی اور اپنے بستر پر گر گئی۔
مجھے کیا ہو گیا ہے؟

کہیں مجھے ڈپریشن تو نہیں ہو رہا، نہیں میں یہ زندگی نہیں گزاروں گی اور تیمور سے پوچھوں گی اور اس ناکام شادی کا معمہ حل کر کے رہوں گی

ناکام شادی؟
اس کا دل دھک سے رہ گیا

نہیں نہیں یہ تو فیری ٹیل شادی تھی اور ابھی بھی لوگوں میں اس کا چرچا تھا مگر کیا تھا جو دل کا دیا بجھا رہا تھا۔

ہاں اس کو شوہر کی محبت، توجہ اور لمس کی ضرورت تھی۔

وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی مگر نجانے کس عورت نے اس کے خواب اور خوشیاں چرا لی تھیں جس نے پہلے تیمور کا دل اور اب نگاہیں بھی پتھرا دی تھیں۔

کیا مجھ سے زیادہ حسین ہے؟
وہ شیشے کے سامنے سوالی بن کر کھڑی تھی
نہیں! شیشے نے جواب دیا
ایسا حسن کم لوگوں کو بخشا گیا ہے
کس سے بات کروں کس سے پوچھوں؟

وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔ کز نز سے وہ اتنا قریب ہی نہیں تھا کہ وہ اس کے رازدار ہوتے ورنہ وہ تو عفت کو خبردار کر چکے ہوتے اور اس کے دوستوں سے وہ بے تکلف نہیں تھی کہ اتنی پرسنل بات کر سکتی۔

اف! دماغ کی رگیں گویا پھٹ رہی تھیں اور اس نے سچ مچ اپنے بال مٹھیوں میں جکڑ لئے تھے کی اس کے ذہن میں ایک نام گونجا

معراج بھائی!

ہاں ان کو ضرور پتہ ہوگا کہ کون ہے اور کیا معاملہ ہے۔ جب سے تیمور آیا تھا وہ وقار احمد کو توگویا بھلا ہی چکے تھے اور چوبیس گھنٹے بس اس کی سروس میں تھے اور عفت کو تو اب پتہ چلا تھا کہ جب تیمور باہر تھا تو ایک دفعہ وہ صائمہ اور وقار کے ساتھ ملنے بھی گئے تھے توان سے بڑا رازدان بھلا کون ہو سکتا ہے۔ یہ خیال آتے ہی اس کے اندر ایک نئی توانائی نے جنم لیا۔ اس شام وہ بہت اچھی طرح سے تیار ہو کر صائمہ اور وقار کے ساتھ ایک ڈنر پر گئی اور اگلے دن اپنے ڈرائیور کو لے کر وہ میکے چلی گئی اس نے ایک بھر پور دن گزارا اور رات کو واپس آئی تو انیکسی کی تمام لائیٹس آن تھیں اور اس کے ڈرائیو وے پر ایک مرسیڈیز پارک تھی۔

اس مطلب تیمور آ گیا ہے، چلو دیکھتی ہوں کون کون ہے،

جب سے اس نے سوچا تھا کہ وہ تیمور کی بے اعتنائی کی وجہ جان کر رہے گی، اس کے دل میں تیمور کی محبت کے چراغ دوبارہ سلگنے لگے تھے اور وہ آگے بڑھی، برآمدے میں ہلکی ہلکی باتوں اور ستار کی آواز آ رہی تھی، اس سے پہلے کہ وہ دستک دیتی دروازہ کھلا اور تیمور کا دوست حارث باہر نکلا اور اس نے دروازہ دوبارہ بند کر دیا تھا۔

ہائے عفت
اس نے ہاتھ ہلایا تو عفت نے بھی خوش دلی سر ہلا دیا
تیمور تو ابھی نہیں پہنچا،
حارث نے کہا، لیکن گھنٹے میں پہنچ جائے گا

یہ کیسے ہو سکتا تھا؟ اس نے خود ستار کی آواز سنی تھی اور اس کے سوا اس کے گروپ میں کوئی بھی ستار نہیں بجاتا تھا اور یہ بات خود تیمور نے بتائی تھی۔

ستار کون بجا رہا ہے؟
کوئی بھی نہیں ہے، آر یو او کے؟
وہ ہونقوں کی طرح کھڑی رہ گئی اور حارث گاڑی لے کر چلا گیا۔ وہ مرے مرے قدمو ں سے گھر کی جانب چل پڑی۔

اندر ستار بج رہا تھا، یہ میرا وہم نہیں تھا اور باتوں کی آواز بھی آ رہی تھی لیکن چند منٹوں میں کوئی غائب کیسے ہو سکتا ہے۔ کیا میں دماغی توازن کھو رہی ہوں؟

رات بھر عجیب و غریب خیالات اس کا پیچھے کرتے رہے اور وہ بے حد ڈسٹرب رہی تھی۔ تیمور بھی شاید واپس آ گیا تھا مگر انیکسی میں ہی رہا اور گھر نا آیا تھا۔ موسم بدل رہا تھا مگر اس کی زندگی کا موسم ایک ہی جگہ ٹھہرا ہوا تھا۔ فیملی میں دو کزنز کی شادیاں ہوئیں وہ اپنے ماورائی حسن اور پوری سج دھج کے ساتھ شریک ہوئی مگر آج اس کے حسن کے چرچے زیادہ نہیں ہوئے بلکہ سب خوشخبری کی کھوج میں تھے اور وقار کی منجھلی بہن نے تو صاف کہہ دیا

وقار بھی اکلوتا اور تیمور بھی اکلوتا، ہمارے باپ کی نسل تو چلنی چاہیے نا ووہٹی!

ماں اور ساس کو بھی سوالات کا سامنا تھا مگر وہ خود بس سب کی شکل ٹکر ٹکر دیکھتی رہی تھی۔ اور ماں کی پوچھ گچھ پر بھی اس نے کچھ اگل کر نا دیا کیونکہ یہ معمہ اسے خود ہی حل کرنا تھا۔

الیکشن ملتوی ہو گئے تھے اور دوستوں کے جتھے انیکسی میں مستقل مقیم بھی تھے اور آتے جاتے بھی رہتے اور سارا دن چائے کافی اور کھانوں کے انبار انیکسی میں بھجوائے جاتے تھے۔ کبھی کبھی اسے لگتا کہ پھپھو تیمور کی فر مائش پر اسے ایک خوشنما کھلونے کے طور پر لائی تھیں اور اب وہ نئے کھلونوں کے لئے مچل رہا تھا۔

وہ نومبر کی ایک خنک شام تھی مگر وہ ابھی تک اپنے ٹیرس پر بیٹھی تھی، ڈوبتے سورج کی لالی غائب ہو چکی تھی اور چودھویں کا چاند طلوع ہو رہا تھا لیکن اس کی زندگی میں شاید اماوس ٹھہر گئی تھی۔

نہیں میں اتنی کمزور نہیں اورنا ہی اس طرح کی زندگی گزاروں گی۔ تیمور کو راہ راست پر آنا ہو گا۔
عفت نے ٹیرس سے نیچے جھانکتے ہوئے سوچا،
اسی وقت لان لائٹ میں اس نے کسی کو دیکھا اور وہ معراج بھائی تھے جو ذرا سی آڑ لے کر سگریٹ پی رہے تھے۔
معراج بھائی!

اس نے بے اختیار مگر نیچی آواز میں انھیں پکارا، وہ بری طرح چونک گئے شاید اس مو جودگی سے بے خبر تھے، انھوں نے سگریٹ فوراً قریبی گملے میں بجھا دیا تھا۔

جی بی بی!
حسب معمول بے حد مودب اور نگاہیں نیچے تھیں
آپ یہاں آئیں گے ٹیرس پر، کچھ بات کرنا تھی۔
جی آیا!

اور دو منٹ میں باہر والی سیڑھیاں چڑھ کر ٹیرس پر پہنچ گئے، اتنے میں وہ بھی اپنی ہمت مجتمع کر چکی تھی۔ وہ سامنے آ کر کھڑے تھے۔

حکم بی بی!
پلیز بیٹھیں معراج بھائ

انھوں نے کین کی کاؤچ تھوڑا فاصلے پر کھسکائی اور بیٹھ گٰئے۔ وقار اور صائمہ کسی ڈنر پر جا چکے تھے عفت نے سر سے پاؤں تک سیاہ شال میں خود کو ڈھانپ رکھا تھا اور چہرہ کسی بھی میک اپ کے بغیر چاند کی روشنی میں چاند سے زیادہ چمک رہا تھا مگر نامعلوم حزن نے بھی عجیب سا نور بخش رکھا تھا۔ دو چار رسمی فقروں کے بعد اس نے گفتگو کا آغاز کیا،

تیمور کہاں ہے معراج بھائی؟
مم، پپ پتہ نہیں بی بی، آج سارا دن تو ملاقات نہیں ہوئی مگر اس وقت شاید آرٹ گیلری میں ہیں۔
اس کے غیر متوقع سوال پر وہ ذرا سا ہکلا کر سنبھل گئے تھے۔
آپ کو کیسے پتہ کہ وہ آرٹ گیلری میں ہے؟
بی بی ستار کی آواز آ رہی تھی تو وہ صاحب ہی بجاتے ہیں۔
ہم! تو اس دن بھی وہ ہی بجا رہا تھا،
اس نے ٹوٹے دل سے سوچا
آپ کب سے تیمور کے ساتھ ہیں؟

بی بی میں تو بڑے صاحب کے ساتھ پندرہ سال کی عمر سے تھا اور صاحب تو میرے ہوتے ہوئے ہی پیدا ہوئے اور ان کو گود میں کھلایا ہے جی،

ان کے لہجے میں ہی تیمور کے لئے محبت جھلک رہی تھی۔

تو آپ تیمور کی زندگی سے واقف ہیں سوائے ان سالوں کے جب وہ باہر تھے اور میں نے سنا ہے کہ آپ ایک بار انگلینڈ بھی ان کو ملنے گئے تھے۔

جی میں دو دفعہ بڑے صاحب اور بیگم صاحبہ کے ساتھ گیا تھا
وہ آہستگی سے بولے
تو اگر تیمور آپ کے بیٹوں جیسا ہے تو میں کون ہوں؟
اس نے پوچھا مگر اب وہ اپنا آپ ڈانواڈول ہو تا محسوس کر رہی تھی۔
آپ اس گھر کی عزت آبرو اور سب کچھ ہیں، آپ اور صاحب، بیگم صاحبہ اور بڑے صاحب کی کل کائنات ہیں!
اب وہ پر اعتماد دکھائی دے رہے تھے

تو معراج بھاٰئی مجھے صرف یہ بتائیے کہ تیمور کس عورت میں انٹرسٹڈ ہے؟ کون ہے وہ؟ کیا وہ پاکستان آنے سے پہلے ہی اسے جانتا تھا؟ اس نے مجھ سے شادی کیوں کی آخر؟

اف!

وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے بمشکل اپنے آنسو ضبط کر رہی تھی۔ اتنا بڑا راز جو اس نے ماں باپ سے بھی چھپا رکھا تھا آج ایک غیر آدمی کے سامنے اگل دیا تھا۔

کیا کہہ رہی ہیں بی بی آپ؟

شاید مارے حیرت کے مگر ان کی آواز بلند ہو گئی تھی اور ایک سیکنڈ کے لئے نگاہ بھی اس کی طرف اٹھی مگر فوراً جھک گئی۔

مجھے پتہ ہے کہ آپ سب جانتے ہیں، اس لئے پلیز مجھے بتائیں کیونکہ میں تو کسی اور سے پوچھ بھی نہیں سکتی، آپ ہی اس کے دمساز آور رازدار ہیں معراج بھائی صرف آپ!

وہ ہاتھ مسلتے ہوئے بے بسی سے بولی

بی بی مجھے شرمندہ نا کریں، صاحب ایسے نہیں ہیں اور اس کی میں گواہی دیتا ہوں کیونکہ کم از کم میرے علم میں ایسی کوٰی بات نہیں، اور آپ سے میری درخواست ہے کہ خدا کے واسطے ایسی غلط فہمی دل میں نا پالیں،

انھوں نے گویا گڑگڑا تے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے آپ جائیں
اس نے ٹھنڈے لہجے میں کہا تو الٹے قدموں چل کر وہ پیچھے ہوئے اور سیڑھیاں اتر گئے۔
یہ کیا ہو گیا مجھ سے؟

ذلت کے احساس نے گویا آنکھوں میں کرچیاں بھر دیں او ر لہو کے آنسوؤں سے دامن بھیگنے لگا، کیا کر بیٹھی تھی وہ، اتنی بے صبری اور ہلکا پن کیوں دکھایا، یہ تو اس کی فظرت ہی نہیں تھی۔ وہ صبح کازب تک نومبر کی شبنم کے قطروں میں بھیگتی نجانے کس کس چیز کا ماتم کرتی رہی، پھر اسی طرح جا کر لیٹ گئی اور اگلا ایک ہفتہ بخار میں پھنکتے گزارا۔ ان دنوں میں اماں ابا اور بھائی تو ہر روز دیکھنے آتے تھے اور تیمور بھی آس پاس ہی رہا، پتہ نہیں معراج بھا ٰئی نے اس سے کوئی ذکر کیا یا نہیں مگر عفت کو اب اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں تھی۔ پھپھو نے ذاتی طور پر اس کی دیکھ بھال کی تو وہ جلد ہی بہتر ہو گئی مگر اب اس کا اردہ ماں باپ کے گھر جانے اور ان کو اعتماد میں لینے کا تھا۔

اس دن بھی پھپھو اس کے کمرے میں ہی تھیں اور اسے اپنا خیال رکھنے اور شوہر کو مٹھی میں کرنے کے گر بتا رہی تھیں۔

پھپھو شادی سے پہلے تیمور کہیں اور انٹرسٹڈ تھے؟
اس کے اچانک سوال سے پھپھو حیران رہ گئیں

یہ کیسا سوال ہے اور اگر ایسا ہو تا تو ہم کیا زبردستی کرتے؟ نہیں وہ صرف تم میں انٹرسٹڈ تھا اور اس نے خود تمہارا نام لیا تھا۔ تمہیں کیسے یہ خیال آ گیا؟

ویسے ہی کہہ دیا،
وہ پھیکی ہنسی ہنستے ہوئے بولی
ممی کو مت بہکاؤ حسینہ عا لم!

پرانے دنوں کی طرح تیمور نے ایک دم کمرے میں آ کر فقرہ کسا اور باری باری اس کے دونوں گال چوم لئے۔ ممی ہنسنے لگیں

نہیں بھئی اگر بیوی کو شبے نا ہوں تو مطلب اس کو شوہر کی پرواہ نہیں ہے۔ اچھا تیمور میں باہر نکل رہی ہوں، تم اب میری بیٹی کو اینٹر ٹین کرو،

انھوں نے پیار سے عفت کے ماتھے سے بال ہٹاتے ہوئے کہا
شیور، آئم ایٹ یور سروس میم،

اس نے ماں کو سلیوٹ مارا اور ماں کے کمرے سے نکلتے ہی سائیڈ ٹیبل کی دراز کھنگالنے لگا، نجانے کیا ڈھونڈھ رہا تھا، عفت چند ثانئیے اس کو دیکھتی رہی اور پھر تکئیے پر سر رکھ آنکھیں موند لیں۔

اس سے اگلے دن وہ ایک ہفتے کا کہہ کر میکے چلی گئی لیکن واپسی کا اس کا پلان کچھ واضح نہیں تھا۔

ایک ہفتہ بہت ہی اچھا گزرا، ماں باپ اور بھائیوں کے ساتھ خوب مزہ رہا، زیادہ وقت گھومنے پھرنے باہر کھانے پینے میں گزرا اس کو بے تحاشا شاپنگ کرائی گئی۔ سب اتنے خوش تھے کہ وہ کوئی بات کرنے کی ہمت ہی نا کر سکی تھی۔ ایک ہفتے کے بعد تیمور اسے لینے آ گیا اور سب کے اصرار کے باوجود لنچ پر نا رکا۔

نہیں ماموں آج نہیں، مجھے بہت کام ہیں، انشا اللہ نیکسٹ ٹائم۔

اور وہ دونوں نکل گئے۔ راستے میں دونوں کے درمیان کوئی بات نا ہوئی مگر گھر کے گیٹ پر اندر جانے سے پہلے تیمور نے اس کی طرف دیکھا،

میں چار ہفتے کے لئے انگلینڈ جا رہا ہوں اور ممی با با چاہتے ہیں تم بھی ساتھ جاؤ تو مجھے اپنا پاسپورٹ دے دو، با با ویزہ لگوا دیں گے۔ عفت نے کوئی جواب نا دیا اور اندر چلی گئی۔ وہ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہی تھی اس لئے پھپھو سے علیک سلیک کے بعد وہ کمرے میں آ گئی۔ وقار احمد اپنے سیشن کے لئے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔ کمرے میں آ کر اس نے پہلے چینج کیا اور پھر آ کر لیٹ گئی کہ تیمور کمرے میں آ گیا۔

پاسپورٹ کہاں۔
وہ اٹھ کر صوفے پر جا کر بیٹھ گئی،
مجھے کہیں نہیں جا نا تیمور، بس بات ختم!
دیکھو عفت۔
وہ چند لمحے لب بھینچے اسے دیکھتا رہا اور بولا
مگر عفت نے درمیان میں ہی بات کاٹ دی
دیکھاؤ کیا دیکھا نا چاہتے ہو؟ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کس تماشے کے ٹکٹ ہیں تمہارے پاس
تیمور احمد!
وہ پر سکون لہجے میں بولی
میرا صبر مت آزماؤ!
وہ مٹھیاں بھینچ رہا تھا
میرا بھی!

عفت کے سکون میں کوئی فرق نا آیا تھا۔ وہ کھولتا ہوا باہر نکل گیا تو وہ ٹیرس پر آ کر جھولا جھولنے لگی اور تھوڑی دیر بعد تیمور اسے انیکسی کی طرف جا تا دکھائی دیا وہ تیز تیز چل رہا تھا اور شاید فون پر بات بھی کر رہا تھا۔ وہ دیر تک بس جھولا جھولتی رہی مگر پھر ٹھنڈ کا احساس ہوا تو کمرے میں آ گئی۔

اس وقت پھپھو کا ٹیکسٹ آیا کہ وہ آج گھر پر ہیں تو ان کے پاس آ کر بیٹھے تو وہ فوراً نیچے ان کے کمرے میں چلی گئی۔ اس کا ٹائم اچھا گزر گیا بہت سی باتیں ہوئیں جس میں زیادہ تو خاندان کی گوسپ ہی تھی اور دونوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا تھا۔ کھانا بھی کمرے میں ہی کھایا گیا اور کافی بھی پی گئی۔ صائمہ نے اچانک شادی کی ویڈیو دیکھنے کی فرمائش کر دی تو عفت کے منہ کا ذائقہ خراب ہو گیا لیکن اس نے اپنے اوپر قابو رکھا اور مووی کیا تھی پریوں کی کوئی کہانی تھی، پھپھو تو خوش ہو رہی تھیں مگر وہ خود بھی اس میں کھو گئی تھی۔ صائمہ بار بار عفت کو پیار کر رہی تھیں اور نظر سے محفوظ رہنے کی دعائیں دے رہی تھیں۔ رات کافی گزر گئی تھی۔

گڈ نائیٹ ممی!

تیمور نے ذرا سا دروازہ کھولا اور ماں کو خدا حافظ کر کے، ان کا جواب سنے بغیر بند کر دیا تو طیش کی ایک لہر عفت کے بدن میں دوڑ گئی تھی۔

حد کرتا ہے یہ کبھی کبھی، چلو میری طرف سے گڈ نائیٹ کس کر دینا۔

انھوں نے شرارتی لہجے میں کہا مگر وہ مسکرا بھی نا سکی تھی اور اسی لمحے اس کے دل میں ایک خیال آیا تھا کہ کیوں نا وہ ان سے بھی بات کرے

آج آپ اکیلی ہیں پھپھو میں آپ کے ساتھ سو جاتی ہوں

اللہ نا کرے، اللہ میرے بیٹے کو ہزار سال زندگی دے، تم کیوں میرے پاس سونے لگی، جاؤ تیمور انتظار کر رہا ہوگا۔

صائمہ نے پیار سے اس کا گال تھپ تھپا کر کہا
پھپھو آپ سے کچھ بات کرنی ہے تو

عفت ابھی نہی، سب باتیں صبح کریں گے بیٹے ان شا اللہ، وہ اپنے تکئیے ٹھیک کرنے لگیں تو اسے کمرے سے نکلنا پڑا مگر اس نے تہیہ کیا کہ صبح سب سے پہلے یہ بات ہو گی پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے گی چاہے کتنی بھی دھول کیوں نا اڑے۔

وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگی مگر ایک دم لائٹ چلی گئی تھی اور وسیع و عریض گھر عمیق اندھیرے میں ڈوب گیا، وہ ایک سیکنڈ کے لئے گھبرا گئی مگر جانتی تھی کہ ابھی دوسری لائن ورنہ تمام جنریٹر تو آن ہو ہی جائیں گے

بشیر، خالد، لیاقت کہاں ہو سب، لائٹ کا انتظام کرو جلدی

پھپھو کی آواز گونج رہی تھی، سردیوں کے دن تھے اس لئے سب اپنے اپنے کواٹرز میں دبکے ہوئے تھے۔ معراج بھائی البتہ جب سے انیکسی بنی تھی اس میں رہتے تھے بلکہ وقار نے ایک لگژری بیڈروم اور باتھ روم صرف ان کے لئے بنوایا تھا۔

پتہ نہیں وہاں کیا لائیٹ کا سسٹم ہے

وہ سوچتے اور ٹٹولتے ہوئے آگے بڑھنے لگی مگر پھر اس نے فون کی لائٹ آن کی اور کمرے کے دروازے تک پہنچ گئی مگر دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا شاید تیمور بند کرنا بھول گیا تھا۔ اس نے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر نا چاہا مگر وہ ایک خاص حد سے آگے نہیں جا رہا تھا شاید کچھ پھنس گیا تھا اور اب تو صبح ہی کچھ ہو سکتا تھا۔

وہ پہلے ہی ڈھیلے ڈھالے لباس میں تھی اس لئے ڈریسنگ روم میں جا کر ٹامک ٹوئیاں مارنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ فون کی لائیٹ میں بیڈ تک پہنچی مگر دل بھر کہ بدمزہ ہوئی کیونکہ تیمور اس کی سائیڈ پر سو رہا تھا حالانکہ کہ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو گھر پر اپنا تکئیہ اور اپنی سائیڈ کے بغیر سو نہیں سکتے اور عفت یہ جانتی تھی مگر آج وہ شاید کس ڈرگ کے زیر اثر تھا کونکہ کمرے میں بھی ایک نا مانوس سی مہک کچھ کہانی کہہ رہی تھی اور بقائمی ہوش و حواس تو کبھی بھی اس طرف نا سوتا۔

طوعاً کرہاً وہ بھی لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر کے روز مرًہ کی مسنون دعائیں پڑھنے لگی اور شاید اس کو نیند آ گئی تھی اور معلوم نہیں وہ کتنا سوئی کہ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی اور اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا گویا سینہ توڑ کر باہر آ جائے گا اور اپنی کیفیت ابھی وہ سمجھ نا پا رہی تھی کہ اس کو لگا کہ کمرے میں کوئی اور بھی ہے۔ اس کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہو چکی تھیں اور وہ بے حس وحرکت لیٹی رہی۔

نہیں وہم ہے میرا!

کسی کی اتنی مجال اور ہمت نہیں تھی کہ یوں ان کے کمرے میں بلا اجازت داخل ہو سکے اور لائت ابھی تک نہیں آئی تھی اور اس کا مطلب تھا کہ کوئی ملازم بھی جنریٹر آن کرنے نہیں آیا تھا۔ اس نے دوبارہ آ نکھیں بند کر لیں اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔

مگر کوئی کسی چیز سے ٹکرایا اور کچھ گر گیا، اب وہ دہشت سے کانپتے ہوئے، سختی سے آنکھیں بند کیے ، لب بھینچے چیخوں کو روک رہی تھی اور یاد آ گیا تھا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

اسے لگا کہ کوئی بہت قریب ہے تو بے اختیار اس نے آنکھیں کھول دیں تو اندھیرے ایک ہیولا تیمور کے سرہانے کھڑا تھا، عفت نے بے قابو چیخوں کے ساتھ غیر ارادی فون کی لائیٹ ہیولے پر پھینکی مگر تب تک وہ تیمور پر کئی وار کر چکا تھا۔ اب اس کی چیخوں، ملازموں کی بھاگ دوڑ اور صائمہ کے واویلے سے گھر گونج رہا تھا اور پھر عفت عمیق اندھیروں کی گہرائی میں دھنس گئی۔

اخبارات کی شہ سرخیاں اور بریکنگ نیوز
ناجائز تعلقات کا خوفناک شاخسانہ

حکومت کے سینیٹر وقار حمد کے اکلوتے بیٹے اٹھائیس سالہ تیمور احمد کو پرانے گھریلو ملازم معراج دین نے خنجر کے پے در پے وار کر کے سوتے میں موت کے گھٹ اتار دیا۔ معراج دین پینتیس سال سے وقار احمد کے ساتھ تھا اور تیمور احمد کو گود کھلایا تھا مگر قتل ناجائز تعلقات کا شاخسانہ بتایا جا تا ہے جو معراج دین نے تیمور سے اس کے بچپن استوار کر رکھے تھے اور تیمور کی بیرون ملک سے واپسی اور شادی کے بعد بھی قائم تھے۔

ملزم کا کہنا ہے کہ مقتول نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا ٹاسک اسے دیا تھا مگر اس رات ڈرگ کی زیادہ ڈوز لینے باعث وہ بیوی کی سائیڈ پر سو گیا تھا۔

ملزم سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت تفتیش کی جائے گی۔
مقتول کی ماں اور نوبیاہتا بیوی صدمے سے حواس کھو بیٹھی ہیں جب کہ وقار احمد کی ہارٹ اٹیک کے بعد حالت خطرے سے باہر ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments