عمران خان کا ’خان‘ کہاں ہے؟

25 سال پہلے کی بات ہے کرکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے اور کبھی سیاست میں نہ آنے کا نعرہ لگاتے ہوئے عمران خان ایک روحانی اور عملی سفر پر نکلے اور ایک کتاب لکھ ڈالی۔ کتاب انگریزی میں تھی، اردو میں اس کا نام ہوگا ’جنگجو قوم: میرا قبائلی علاقوں کا سفر‘۔

کتاب میں شامل کچھ تصویریں آج بھی یاد ہیں۔ عمران خان قبائلی سرداروں کے ساتھ سرخ قالینوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے ہیں۔ کبھی قہوہ پی رہے ہیں، کبھی کلاشنکوف چلا رہے ہیں، کبھی کسی لق و دق پہاڑ پر کھڑے پوز بنا رہے ہیں۔

کتاب کا پیغام بھی کچھ اسی طرح کا تھا کہ میں اپنی جڑوں تک پہنچ گیا ہوں۔ ہو سکتا ہے شکل سے میں دیسی انگریز لگتا ہوں لیکن اندر سے میں جی اتنا پٹھان ہوں جتنے یہ قبائلی ہیں۔ ان کی میزبانی دیکھو، ان کے کندھے پر لٹکی بندوق دیکھو، ان کا جرگہ سسٹم چیک کرو۔ یہ آزاد منش کوہستانی دنیا کے بہترین انسان ہیں اور میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔

Read more

خاموشی اور خوف

صبح اٹھا تو لورالائی سے خبر آ چکی تھی۔ دل کو یقین نہیں آیا لیکن تجربہ کہتا ہے بلوچستان سے آنے والی بری خبر عموماً درست نکلتی ہے۔

اسی طرح کی خبر چند برس پہلے آئی تھی جب پروفیسر صبا دشتیاری کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تب بھی خبر سوشل میڈیا پر ملی تھی لیکن بعد میں ٹی وی پر پٹی بھی چل گئی تھی۔ رد عمل تب بھی وہی تھا پروفیسر صاحب ایک عالم آدمی تھے۔ ان کے اردگرد بھی کتابی کیڑے قسم کی نوجوان ہوتے تھے ان سے کسی کی کیا دشمنی ہو سکتی ہے؟

Read more

بزدار کو بخش دو

غلطی سے ٹی وی لگا لیا، 15 منٹ میں کوئی ایک درجن چینل بدلے اور پتہ چل گیا کہ کائنات میں جو بھی خرابیاں ہیں اس کے ذمہ دار عثمان بزدار ہیں جو پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھیں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ بس گھڑے میں سے پرچی نکالی گئی ہے

Read more

بزدار صاحب، بچہ سو رہا ہے

کسی رپورٹر نے، کسی وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ آخر بچہ سویا کیسے۔ رو رو کر ہلکان ہو کر سویا یا کیمروں کے سامنے اپنے ماں باپ کی ہلاکت کا واقعہ دہرا کر تھک گیا اور آنکھ لگ گئی۔

ہو سکتا ہے کہ ساہیوال کے کسی مہربان ڈاکٹر نے نیند کی ہلکی سی گولی یا انجکشن دیا ہو کہ بچہ کچھ دیر کے لیے بھول جائے کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ بچوں والے جانتے ہیں کہ سویا ہوا بچہ، تھک کے سویا ہوا بچہ سب سے اچھا بچہ ہوتا ہے۔

Read more

منٹو اور جج

اگر یہ سوچ کر پریشان ہو کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے جج تمہاری سالگرہ پر کیوں خوش ہیں، مبارک کیوں دے رہے ہیں تو میاں بات یہ ہے کہ ہمارے برادر ججوں کے ساتھ تمہارے کچھ دن گزرے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ منصف کی کرسی پر تھے اور تم ملزموں کے…

Read more

محمد حنیف کا کالم: آخری جیالا

بچپن میں اس کا نام سنا تو وہ شادا بدمعاش تھا کبھی کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے کیا بدمعاشی کی ہے۔ ہمارے سکول کالج تک پہنچتے ہوئے وہ چودھری شادا ہو گیا اور آخری چند برسوں میں وہ حاجی سجاد، چوہدری سجاد وغیرہ ہو چکے تھے۔

کچھ مقامی لیجنڈ ایسے ہوتے ہیں جنھیں مقامی لوگوں کی تین نسلیں جانتی ہیں لیکن ضلع سے باہر کوئی بھی نہیں جانتا۔ چوہدری شادا اوکاڑہ کے ایسے ہی لیجنڈ تھے۔ ان کی سیاست کے عروج کا دور اس وقت تھا جب وہ بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں ایک کارپوریشن کے ایڈوائزر لگائے گئے۔

Read more

منٹو نہ کھولو

منٹو میاں، تم بہت دیر تک حیران رہے کہ تمہارے افسانے ’کھول دو‘ پر کوئی اعتراض کیسے کرسکتا ہے؟ دہشت سے بھری اس کہانی میں کوئی فحاشی کیسے ڈھونڈ سکتا ہے۔ ایک لٹی پٹی عورت جسے مسلسل ریپ کیا جاتا رہا ہے (حالانکہ تم نے لفظ ریپ یا اس کے کئی لطیف اُردو مترادف الفاظ…

Read more

خادم رضوی کی زبان پر عاصمہ جہانگیر کا نام اور میری بچپن کی تربیت !

خادم حسین رضوی کو گذشتہ برس کے احتجاجی دھرنے میں سنی تحریک کی بھی حمایت حاصل رہی تھی بچپن سے دو چیزیں گھٹی میں ڈال دی گئی تھیں۔ جانوروں سے پیار اور علمائے کرام کا احترام۔ جانور اس لیے کہ اللہ کی بے زبان مخلوق ہیں۔ آج بھی کسی بچے کو کتے کو پتھر مارتے…

Read more

جب لکشمی چوک میں ہر طرف علی اعجاز نظر آتے تھے

This entry is part 13 of 13 in the series 787 Airplane

80 کے عشرے کا آغاز ہوا تو راقم نے پہلی دفعہ گھر چھوڑا اور لاہور شہر آیا۔ گھر میں بوجوہ ٹی وی نہیں تھا، سینیما بھی گناہ کی زندگی میں پہلا قدم سمجھا جاتا تھا۔ ایک دفعہ عید پر سینیما میں جا کر زندگی کی پہلی فلم دیکھی۔ اس کا نام تھا 'ایک گناہ اور…

Read more

میں ہوں ملالہ کا باپ!

ملالہ کی کہانی تو ساری دنیا جانتی ہے لیکن ان کے والد کی کہانی کو کم لوگ جانتے ہیں کہ ضیا الدین یوسفزئی ایک پٹھان فرماں بردار بچہ، گھر میں پانچ بہنیں، جن کا نام لینا بھی غیرت کے خلاف تھا۔

پڑھا لکھا باپ لیکن دبدبہ ایسا کہ بیٹے کا نام پکارے تو گلی میں کرکٹ کھیلتا بچہ بیٹ بال چھوڑ کر فوراً حاضر۔ اپنی یادداشتوں کی کتاب ’Let Her Fly‘ کے آغاز ہی میں ضیا لکھتے ہیں کہ والد نے سکھایا تھا کہ اچھی چائے کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں، لیکن نہ باپ نے کبھی خود چائے بنائی نہ بیٹے کو بنانا سکھائی۔ آخر گھر میں پانچ لڑکیاں کس لیے تھیں۔

Read more