(مردانہ ہدایت نامہ برائے عورت مارچ)
محمد حنیف
اگر کوئی اس بات پر حیران ہے کہ اتنے سارے مرد موزے ڈھونڈنے والی بات پر کیوں برہم ہیں تو انھوں نے نہ صرف مرد کی شناخت، اُن کی مردانگی، بلکہ تحریکِ پاکستان کے مقاصد اور ہمارے مکمل ضابطہ حیات پر حملہ کیا ہے۔
انھوں نے یقیناً کبھی وہ آسمانی صحیفہ نہیں پڑھا جس کا آغاز ہمیشہ اس طرح سے ہوتا ہے کہ ’جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آتا ہے۔ ‘
اب ہو سکتا ہے کہ مرد گھر سے کہیں گیا ہی نہ ہو، مرد مرد ہے، ٹی وی روم سے باتھ روم تک جاتے ہوئے بھی تھک ہار سکتا ہے۔ جب تھکا ہارا مرد گھر واپس آئے اور موزے نظر نہ آنے کی صورت میں پوچھے کہ ’وہ میری جرابیں کدھر گئیں‘ اور آپ نے کہہ دیا مجھے نہیں پتہ!
اس صورت میں تھکے ہارے مرد کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے : ’تجھے نہیں پتہ؟ کیا ماں باپ نے تجھے پڑھایا لکھایا اس لیے تھا۔ اس لیے تجھے اسلام نے اتنے حقوق دیے کہ تو مجھے یہ بتائے کہ مجھے نہیں پتہ کہ تمہارے موزے کہاں ہیں؟ کیا ہم نے یہ ملک اس لیے آزاد کرایا تھا، کیا ہندوؤں اور انگریزوں سے آزادی اس لیے حاصل کی تھی کہ اپنے موزے خود ڈھونڈنے پڑیں! ‘
Read more