قلعہ فراموشی کی رات اور کوہ ندا کا بلاوا
بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانیے کیا یاد آیا۔ اشتعال اور انفعال کے اس موسم میں غیر ضروری خیال آرائی سے پرہیز مناسب ہے۔ یہ کچھ برادر بزرگ ایاز امیر ہی کا حصہ ہے کہ بجوگ کی فصل میں شوق کے انگاروں کو ہوائے وارفتہ سے سلگائے رکھتے ہیں۔ اپنے ہاں تو ذیابیطس نے ایسی غارت گری کی ہے کہ ”سایہ خیال بھی اب سر سے اٹھ گیا“۔ وہی جو احسان دانش نے کہا تھا، مجھ سے پہلے مرے اظہار کو
Read more









