قلعہ فراموشی کی رات اور کوہ ندا کا بلاوا

بیٹھے بیٹھے ہمیں کیا جانیے کیا یاد آیا۔ اشتعال اور انفعال کے اس موسم میں غیر ضروری خیال آرائی سے پرہیز مناسب ہے۔ یہ کچھ برادر بزرگ ایاز امیر ہی کا حصہ ہے کہ بجوگ کی فصل میں شوق کے انگاروں کو ہوائے وارفتہ سے سلگائے رکھتے ہیں۔ اپنے ہاں تو ذیابیطس نے ایسی غارت گری کی ہے کہ ”سایہ خیال بھی اب سر سے اٹھ گیا“۔ وہی جو احسان دانش نے کہا تھا، مجھ سے پہلے مرے اظہار کو

Read more

عمران خان فریق نہیں ہیں

(ذیل کی تحریر 28 اگست 2018 کو روز نامہ جنگ اور "ہم سب آن لائن” پر شائع ہوئی) جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں تو صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ اعتزاز احسن کے کاغذات جمع ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کے کاغذات نامزدگی کچھ دیر میں داخل کر دیے جائیں گے۔ 4 ستمبر کو تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی صدر پاکستان کا انتخاب جیت جائیں گے۔ آنے

Read more

ڈزرائیلی کا دو قومی نظریہ اور تیسری مخلوق

قائد اعظم محمد علی جناح، خدا انہیں جنت نصیب کرے، عالی دماغ مدبر تھے۔ ان کی ذہنی پرداخت انیسویں صدی کے انگلستان میں ہوئی تھی۔ وکٹوریہ کا انگلینڈ جو ایک طرف صنعتی عہد کی سماجی ٹوٹ پھوٹ  سے گزر رہا تھا، دوسری طرف نوآبادیاتی مقبوضات کے تناظر میں اہم ترین عالمی طاقت تھا اور تیسری طرف رجعت پسند اور اصلاح پسند سیاسی افکار کی کشمکش سے جونجھ رہا  تھا۔ دادا بھائی نوروجی کی صحبت میں قائد اعظم نے وکٹورین عہد

Read more

دیانت کی دھند اور کرپشن کا کہرا

وسطی یورپ میں چیک رپبلک نام کا ملک ساٹھ کی دہائی میں پیدا ہونے والی ہماری نسل کے لئے فکری حریت اور شہری آزادیوں کے استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ چاروں طرف سے آسٹریا، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک میں گھرے ہونے کے باعث براہ راست بحری رسائی سے محروم یہ ملک دنیا کے نقشے پر جنوری 1993 میں نمودار ہوا۔ قبل ازیں یہ وارسا بلاک کے رکن ملک چیکوسلاواکیہ کا حصہ تھا۔ نومبر 1989 میں مشرقی یورپ کی آزادی

Read more

دانشور کی آزمائش اور اقتدار کا بیوپار

ہم میں سے بہت کم ہوں گے جنہوں نے ولی مونزنبرگ (Willi Munzenberg) کا نام سن رکھا ہو۔ یہ نام پچھلے 35 برس سے ایک مسلسل فکری مخمصے کے طور پر درویش کے پیش نظر رہا ہے۔ آپ سے کوئی پردہ نہیں۔ زندگی ایک بہتا دریا ہے اور مختلف زمینوں اور منطقوں سے گزرتے ہوئے اس دریا کے رنگ غیرمحسوس طریقے سے بدلتے رہتے ہیں۔ آپ کے نیاز مند پر ایک دور اشتراکی فکر سے وابستگی کا بھی گزرا۔ واپس

Read more

ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کو کیسے لوٹا؟

بہت برس گزرے، استاذی رضی عابدی ہمیں چارلس ڈکنز کا ناول Hard Times پڑھا رہے تھے۔ یہ مختصر ناول انیسویں صدی کے انگلستان میں کوئلے کے کان کنوں کی زندگیاں بیان کرتا ہے۔ ناول میں ایک مزدور میاں بیوی کی گھریلو توتکار کا تفصیلی بیان پڑھتے ہوئے ایک طالب علم نے کہا کہ ان دو کو لڑنے جھگڑنے کے علاوہ کوئی کام نہیں؟ عابدی صاحب نے مسکرا کر کہا کہ "چھوٹے گھروں کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ سارا

Read more

غلام ہمدانی مصحفی سے امبرٹو ایکو تک

کچھ عجیب سے دن ہیں۔ کورونا وائرس کی آفت ابھی پوری طرح سے ختم نہیں ہوئی کہ ہمیں بارش نے آ لیا۔ کراچی تو ایک گہرے تالاب میں تبدیل ہو گیا۔ لاہور اور دوسرے شہروں میں بھی کچھ بہتر صورت حال نہیں۔ قصہ یہ ہے کہ ہم نے اس ملک میں اداروں، ضابطوں اور اقدار کے ساتھ جو کھلواڑ کی، شہری کو جس طرح بے وقعت کیا، انسانی ترقی کے بنیادی ہدف کو جس طرح نظر انداز کیا، عوام کے

Read more

پناہ مانگتا ہوں بلوچ ماں کے سوال سے

کبھی بیٹے کو غلط اور برا نہیں کہتی۔ ماں کہتی ہے، میرا بیٹا بہت اچھا ہے۔ اسے دوستوں نے گمراہ کیا ہے، دل کا بہت اچھا ہے۔ میرا بیٹا نیک ہے۔ میرا بیٹا مجرم نہیں ہے۔ میرے بیٹے کو برا نہیں کہو۔۔۔۔ اگر بیٹے کو تکلیف دی جائے  تو ماں بھوکی شیرنی کی طرح لپکتی ہے ۔۔۔ دنیا میں کوئی بندوق ایسی نہیں بنی جو ماں کو خوف دلا سکے۔ کوئی بم ایسا نہیں بنا جس سے ڈر کے ماں بچے کے گرد اپنی شفقت کی بانہہ ہٹا لے

ماں بیٹوں کی سب سے بڑی وکیل ہے۔

Read more

گ گبھرو گم شدہ، س سوال سوختنی

نوبل انعام بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں ملنا شروع ہوا۔ ٹالسٹائی، مارسل پراؤست، جیمز جوائس اور فرانز کافکا کو نہیں ملا۔ اناطول فرانس کو مل گیا۔ یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔ پہلے چار ناموں کے بغیر بیسویں صدی کے فکشن پر بات نہیں ہو سکتی۔ اناطول فرانس کا نام بھی اب مشکل ہی سے کسی کو یاد رہا ہو گا۔ ایک صدی پہلے البتہ اناطول فرانس کا طوطی بولتا تھا۔ مصنف کا طوطی بولے تو مدرس اور

Read more

ہماری خارجہ پالیسی: شخصی ناکامی یا حکمت عملی کا بحران

میر جمہوریت میر حاصل بزنجو رخصت ہو گئے۔ حالیہ عرصے میں ان کی صحت کے بارے میں دھڑکا لگا ہوا تھا۔ موت ناگزیر ہے لیکن میر حاصل جس جمہوری قبیلے کے سردار تھے وہ اس ملک میں معدومیت کے خدشے سے دوچار ہے۔ محکوموں کے خیمے کی شاہ طناب کٹ گئی ہے۔ میر حاصل بزنجو کی شخصیت اور کردار ایسا نہیں جسے چند لفظوں میں سمیٹا جا سکے۔ ابھی زخم تازہ ہے اور گھاؤ کی گہرائی ناپنے کی مہلت نہیں

Read more

منحرف صحافی کا یوم آزادی

ناصر نے کہا تھا، جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو / بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے۔ شعر تھوڑا گمبھیر ضرور ہے لیکن ناصر بہرصورت محب وطن تھے۔ آہوئے رمیدہ اور کسی قدر وارستہ تھے، آزادی کے پہلے پچیس برس کی تاریخ غزل میں بیان کر گئے۔ ہجرت کی آشفتگی میں "طلسم کم نگاہی” ٹوٹنے کی امید باندھی اور لکھا "پھر خاک نشیں اٹھائیں گے سر”۔ ربع صدی بعد رخصت کی گھڑی آئی تو مشرقی پاکستان کے "کشتیاں چلانے

Read more

وقت گزر رہا ہے

شاہد خاقان عباسی مئی 1988 کے سانحہ اوجڑی کیمپ کے پس منظر میں سیاسی منظر پر نمودار ہوئے۔ راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 2002 اور 2018 کے انتخابات میں شکست کے سوا مسلسل رکن پارلیمنٹ چلے آتے ہیں۔ عسکری پس منظر اور دائیں بازو کی سیاست کرنے والے شاہد خاقان نے نوے کی شور انگیز دہائی میں بھی غیر متنازع شناخت قائم رکھی۔ اکتوبر 1999ء میں وہ پی آئی اے کے سربراہ تھے اور طیارہ اغوا کیس

Read more

جان لیوس سے مفتی کفایت اللہ تک

28 اگست 1963 ایک ایسا دن تھا جس نے ہماری نسل کا معانی متعین کیا۔ اس روز واشنگٹن میں ابراہم لنکن کی یادگار کے سائے میں دس لاکھ سفید اور رنگ دار امریکی شہری پرامن مارچ کرتے ہوئے جمع ہوئے تھے۔ وہ رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس احتجاج کی قیادت 34 سالہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کر رہے تھے اور چھ رکنی رہنما کمیٹی کے سب سے کم عمر رکن جان

Read more

دریا پر پل کیسے باندھا جائے؟

دریائے مسسپی دنیا کا چوتھا طویل ترین دریا ہے۔ امریکا کی شمالی ریاست منی سوٹا کی ایک جھیل سے نکل کر 2300 میل کا فاصلہ طے کر کے جنوب میں لوزیانا کے قریب خلیج میکسیکو میں گرنے والے اس دریا کی کہانی امریکی تاریخ کے ساتھ بندھی ہے۔ نقشے پر دیکھیں تو یوں لگتا ہے گویا مسسپی دریا نے ایک عمودی لکیر کی صورت امریکا کو قریب قریب دو برابر حصوں میں بانٹ رکھا ہے۔ یہ محض ایک جغرافیائی حقیقت

Read more

قوم کا مبینہ اغوا اور ملزم کی تلاش؟

مطیع اللہ جان کو 22 جولائی 2020 کی صبح اسلام آباد سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ ان کے مبینہ اغوا کاروں نے ان پر گھنٹوں مبینہ طور پر تشدد کیا اور پھر مبینہ طور پر فتح جنگ کے پاس ویرانے میں چھوڑ کر مبینہ طور پر فرار ہو گئے۔ ہمارے ملک میں یہ سرگزشت نئی نہیں۔ یہ قصے مئی 1949 میں سول اینڈ ملٹری گزٹ کے خلاف سات اخبارات کے مشترکہ اداریے سے شروع ہوئے۔ پبلک سیفٹی ایکٹ،

Read more

نواز شریف اور میر شکیل الرحمن میں کیا مماثلت ہے؟

کل رات فون پر ایک حبیب عنبر دست سے بات ہو رہی تھی۔ اچانک انہوں نے مجھے ایک خوشگوار حیرت سے دوچار کر دیا۔ فرمایا، چند برس پہلے تک تم سے جان پہچان نہیں تھی۔ کسی مشترکہ دوست سے تمہارا تعارف چاہا تو انہوں نے علاوہ تمہاری دیگر ناقابل اشاعت خوبیوں کے یہ بھی بتایا کہ اس شخص کو "کیری لوگر بل” میں بہت موٹی رقم موصول ہوئی تھی۔ یہ اطلاع پا کر کئی ہفتوں سے چھائی میری اداسی یکایک

Read more

The Choice of the Turks

مولانا محمد علی جوہر برصغیر میں وقیع صحافت کے امام تھے۔ رچے ہوئے سیاسی موقف کو ایسی کانٹے کی تول انگریزی نثر کم کسی نے بخشی ہو گی۔ کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ اور دہلی سے اردو روزنامہ ہمدرد نکالا۔ حریت فکر اور جوش عمل کا نادر امتزاج تھے۔ برسوں انگریز کی قید کاٹی۔ جولائی 1914 میں پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو ابتدائی طور پر برطانوی حکومت کی خواہش تھی کہ سلطنت عثمانیہ جنگ میں برطانیہ عظمیٰ کا

Read more

منو بھائی اور دیگر ماؤں کے بارے میں

جن بلاؤں کو میر سنتے تھے، ان کو اس روزگار میں دیکھا۔ وبا کاہے کی ہے، فلک کو ہمارے ہاتھ کاٹنے کا بہانہ منظور تھا۔ اگتے تھے جس میں شعر، وہ کھیتی اجڑ گئی۔ جن بستیوں سے ہواؤں کے دوش پر سُروں کے جھونکے موصول ہوتے تھے، جہاں خوشبو کا ڈیرا تھا، جہاں ہم دلی کے چھتنار پیڑوں کی سہایتا تھی، وہ گھر سنسان جنگل ہو گئے ہیں۔ باہر گلی میں بے بسی کی لو کے تھپیڑے ہیں، پچھلے موسم

Read more

بارہ مولا کا بشیر احمد خان اور جامشورو کا گل محمد چھچھر

سات مارچ 1975 بروز جمعہ کی شام مرنے والی میری دادی غلام فاطمہ کشمیر کے کسی نامعلوم قصبے سے آنے والی یتیم بچی تھی جو لدھیانہ میں دادا کی موجودگی میں باپ کی موت کے باعث جائیداد سے محروم ہونے والے یتیم و یسیر پنجابی راجپوت محمد علی خان سے 1911 میں بیاہی گئی۔ مجھے تفصیل ٹھیک سے معلوم نہیں کہ سفید پوش گھرانوں میں ماضی چھپانے کی ثقافت ہوتی ہے۔ غربت، ذلت اور بے بسی کے سلسلہ وار المیے

Read more

یونائیٹد فروٹ کمپنی اور مرہٹہ مافیا

افتخار عارف نے ہمارے عہد میں آہوئے رمیدہ کی درماندگی کو شعر کیا، آفت کی آشفتگی کو گداز دیا۔ ہمارے اندیشوں کو آہ سرد کی زبان بخشی اور لکھا…. محورِ گردشِ سفاک سے خوف آتا ہے۔ وقت کی گردش سے تو مفر نہیں۔ لیکن دشنہ جبر کی چبھن کا علاج تو ممکن تھا۔ ایسا نہیں ہو سکا۔ چارہ گروں کو چارہ گری سے گریز تھا۔ جولائی کا پہلا ہفتہ آن پہنچا۔ دو جولائی 1972ء کو بھٹو صاحب نے شملہ معاہدے

Read more

عمران خان کے تازہ ناقدین: توبة النصوح یا ابن الوقت

بلھے شاہ نے فرمایا ’الٹے ہور زمانے آئے‘۔ سراج اورنگ آبادی نے اس کیفیت کو ’چلی سمت غیب سے اک ہوا….‘ کا مضمون بخشا۔ سراج نے یہ کمال دکھایا کہ اسی غزل میں ’جو رہی سو بے خبری رہی‘کی پیش گوئی بھی کر دی۔ غیب اب کچھ ایسا غیب نہیں رہا اور بے خبری تو سربام یوں اجاڑ منہ کھولے بے حجاب ہوئی ہے کہ احمد مشتاق کے لفظوں میں ’پچھلی شام کے کالے بادل‘یاد آتے ہیں۔ عشق کے دردمندوں

Read more

عوام بنام جسٹس ارشاد حسن خان

اس موقر روزنامے میں ملک کے معروف صحافی محترم عرفان صدیقی نے چھ کالموں کے ایک مربوط سلسلے میں جون 2001 کے ان واقعات کی آنکھوں دیکھی کہانی بیان کی ہے جب پاکستان پر زبردستی مسلط ہونے والے جرنیلوں کے ٹولے نے بیس مہینے تک انتظار کرنے کے بعد بالآخر ملک کے منتخب صدر محترم رفیق تارڑ کو بھی ان کے منصب سے بے دخل کر دیا۔ اس مقصد کے لئے ایک عقیم و سقیم حکم نامے سے مدد لی

Read more

جہالت علم اور ظلم کا بحران ہے

کتاب مقدس کی سورہ فرقان کی آیت 63 میں ہدایت کی گئی کہ زمیں پر تواضع (یعنی تحمل اور آہستہ روی) اختیار کی جائے اور اگر جاہلوں سے واسطہ پڑ جائے تو انہیں سلام کر کے اپنی راہ لی جائے۔ اپنے سچ پر قیام، دوسروں کے ساتھ رواداری اور فساد سے گریز کا اس سے بہتر نسخہ کیا ہو سکتا ہے۔ مناسب ہو گا کہ مکی دور کی اس آیہ مبارک کے ساتھ قریب قریب اسی دور کی سورہ الشوری

Read more

بابو گوپی ناتھ ڈاکٹرائن اور کرنل صاحب کی پنشن

ادب اور تاریخ میں کیا فرق ہے؟ تاریخ گزری ہوئی حکایت ہے۔ اس کا انجام معلوم ہوتا ہے۔ اگر ہم ابھی تک سانس لے رہے ہیں تو تاریخ کے کردار کتاب کے صفحوں سے نکل کر ہم پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔ ادب ایک فتنہ پرور ہنر ہے۔ لکھنے والا نامعلوم کو معلوم میں اس طور ملا دیتا ہے کہ ماضی کے حادثے اور حال کے اندیشے گڈ مڈ ہو جاتے ہیں۔ پڑھنے والا اپنی ذات سمیت ایک ایسی

Read more

ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہے۔ ہمارا متوسط تعلیم یافتہ طبقہ ذات پات کی مساوات کے ضمن میں تکلیف دہ حد تک بے لچک واقع ہوا

Read more

لفافہ صحافی اور ناخن کا قرض

اگرچہ دانا لوگ اس راز کو کھولا نہیں کرتے لیکن آپ سے کیا پردہ، درویش ایک لفافہ صحافی ہے۔ ضمیر کی کیا پوچھتے ہیں؟ خانہ برباد نے مدت ہوئی، گھر چھوڑ دیا۔ احوال واقعی یہ ہے کہ جس ادارے کا ملازم ہوں، اس کا سیٹھ ٹھیک تین مہینے سے ایک ایسے سنگین الزام میں گرفتار ہے جسے اب تک باقاعدہ مقدمے کی شکل بھی نہیں دی جا سکی۔ خبر یہ ہے کہ صحافت ایک ناپسندیدہ شعبہ قرار پا چکا۔ کوئی

Read more

غلط فہمی کا اخلاقی بحران

اسلام آباد میں آٹھ سالہ گھریلو ملازمہ کو میاں بیوی نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ اس پر "بے لگام سوشل میڈیا” نے طوفان کھڑا کر دیا کہ زہرہ شاہ کو انصاف دو۔ آج کی بات نہیں، ان حالوں ہم کو برسوں گزرے ہپں۔ ہم نے کم سن زینب کے لئے انصاف مانگا۔ نقیب محسود کے لئے انصاف مانگا۔ ساہیوال کے بے گناہوں کے لئے انصاف مانگا۔ مشال خان کے لئے انصاف مانگا۔ پروین رحمان اور راشد رحمن کے لئے

Read more

خلل اور اختلال کے درمیان صحافت

خلد آشیانی مشتاق احمد گورمانی کی رسمی تعلیم کچھ زیادہ نہیں تھی لیکن ذاتی مطالعے سے استعداد یہاں تک بڑھا لی تھی کہ سرکاری دستاویز اور سیاسی بیان میں سند مانے جاتے تھے۔ ٹھٹھہ گورمانی، کوٹ ادو کے نواب صاحب نے کم عمری ہی سے منصب اور جاہ و حشم کا ذوق پایا تھا۔ برطانوی ہند میں عہدوں کی سیاست کا راستہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے ہو کر نکلتا تھا اور افتادگان خاک کی تکریم کو روندتا ہوا مسند

Read more

زوال کے دھندلے میں نجات کا راستہ

یاد کی ڈاک گاڑی نامانوس گھنے جنگلوں میں پہنچ رہی ہے۔ یہاں دو وقت ملتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کی راکھ سے جنم لینے والے ققنس رخصت ہو رہے ہیں۔ غیر ملکی غلامی سے آزادی کا خواب مقامی حبس بے جا میں نظر بند ہو گیا اور اس المیے سے دوبدو ہونے والی نسل رخصت ہو رہی ہے۔ ہماری نسل کے لئے زیاں اور یافت کی دبدھا کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔ باہر اندھیرا پھیل رہا ہے اور اندر بھیروں

Read more

عمران خان کا ویژن اور ہمارے راؤ غلام مصطفیٰ

عزیزم راؤ غلام مصطفیٰ کی تحریریں ”ہم سب“ کے لئے تواتر سے موصول ہوتی ہیں اور رائے کے کسی ممکنہ اختلاف سے قطع نظر من و عن شائع کی جاتی ہیں۔ راؤ غلام مصطفیٰ زود نویس ہیں۔ ان کی تحریروں میں وسطی پنجاب کے متوسط طبقے کے تاریخی شعور اور سیاسی نفسیات کی جھلک ملتی ہے۔ مہ و سال کے اعتبار سے راؤ صاحب اس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے عہد میں سن

Read more

مارکسی دانشور اور کسان تحریک کے بزرگ رہنما چوہدری فتح محمد

پاکستان میں کسان تحریک کے عظیم انقلابی رہنما، نیشنل عوامی پارٹی کے بانی رکن اور عوامی ورکرز پارٹی پنجاب کے بانی صدر چوہدری فتح محمد کینسر کے خلاف ایک طویل لڑائی کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات 25 مئی کی صبح واقع ہوئی۔ انہیں اسی شام ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ان کے گاؤں 305 گ ب میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ کامریڈ فتح محمد نے سرمایہ داری اور جاگیرداری کے خلاف سات دہائیوں تک عملی جدوجہد کی

Read more

سوال، اختلاف اور دلیل…. مکالمہ کیسے کیا جائے؟

اگر بات ہی کرنا ہے تو کیوں نہ اچھے لوگوں کی بات کی جائے۔ بعض انسانوں میں کوئی ایک خوبی ذات کا اتنا بڑا منطقہ گھیر لیتی ہے کہ شخص اور صفت میں فاصلہ نہیں رہتا۔ نام استعارہ بن جاتا ہے اور خوبی کو ایک نام مل جاتا ہے۔ یوسف میں حسن آ جاتا ہے۔ بات کے موضوعی ہونے سے ڈرنا چاہئے لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ خوبی کی ایک تعریف شاید یہ ہے کہ اس کا دوسری اچھائی

Read more

ارطغرل اور منٹو کا ’ماتمی جلسہ‘

منٹو مرحوم پر برطانوی ہندوستان اور آزاد پاکستان میں فحاشی کے الزام میں چھ مقدمے چلائے گئے۔ پہلے پانچ مقدمات میں بری ہوئے البتہ 1953ءمیں چھٹے مقدمے میں کراچی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مہدی علی صدیقی نے انہیں پچیس روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ بے شک پاکستان میں عدلیہ ہمیشہ قانون کی بالادستی کا روشن نشان رہی۔ دراصل ’اوپر، نیچے اور درمیان‘ کے عنوان سے منٹو نے اپنے وقت کے ایک زعیم سیاسی جوڑے کے روزگار خلوت پر روشنی ڈالی

Read more

سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا ایک عبرت ناک ورق

جیسا کہ ہم جانتے ہیں برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ سے گہری محبت رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد جب خود ترک قوم اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں خلافت کا بستر لپیٹ رہی تھی، برصغیر کے کونے کونے میں نہ صرف مسلمان تحریک خلافت چلا رہے تھے بلکہ مسلمان عورتوں نے خلافت کے دفاع کے لئے اپنے زیور تک اتار کر چندے میں دے دیے۔ اس دور کا ادب بھی اس مذہبی حمیت

Read more

وبا پر یقین نہ کرنے کے بارے میں

اس سے پہلے کہ کراچی یونیورسٹی کے کسی زبدة العلما طالب علم کے سفال تحقیق میں طوفان اٹھے، مسافر اقرار کرتا ہے کہ یہ عنوان آرتھر کوئسلر کے مضمون On Disbelieving the Atrocities سے اخذ کیا ہے۔ ارتھر کوئسلر کو عام طور سے ناول نگار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ظلمت نیم روز (Darkness at Noon) ان کا شہرہ آفاق ناول ہے۔ 1904 میں پیدا ہونے والے اس آسٹرین دانشور کا اصل میدان فلسفہ سائنس اور سیاسی سماجیات تھے۔

Read more

ڈاکٹر اقبال احمد  کون تھے؟  

اس برس 11 مئی کو ڈاکٹر اقبال احمد کو ہم سے جدا ہوئے اکیس سال ہو گئے۔ ڈاکٹر اقبال احمد کا شمار بیسویں صدی کی ان چیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے عالمی سطح پر بیک وقت گراں قدر علمی سرگرمیوں، انسان دوست سیاست اور وقیع صحافت کے متنوع میدانوں میں اپنی ذکاوت کا لوہا منوایا۔ عالمی امور خصوصاً مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کی تاریخ اور جدید مسائل پر وہ سند کا درجہ رکھتے تھے۔ ان

Read more

یہ ماتم وقت کی گھڑی ہے

آج سات مئی ہے۔ چھ برس پہلے آ ج ہی کے دن پاکستان کے بہادر، حساس اور ذمہ دار بیٹے راشد رحمن کو شہید کیا گیا تھا۔ ماہ و سال کی گردش میں یہ تکلیف دہ تاریخ پھر لوٹ آئی ہے۔ دکھ یہ ہے کہ عارف اقبال بھٹی سے بشپ جان جوزف تک، سلمان تاثیر سے راشد رحمن تک، پاکستان کے بہترین بیٹوں نے جس مقصد کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، یقین کی وہ صبح ابھی طلوع

Read more

بستی سے منہ اندھیرے نکلنا اور سفر کی رائیگانی

خالد حسن مرحوم علم، ذہانت، احساس اور بذلہ سنجی کا نادر امتزاج تھے۔ محکمہ ٹیکس کی کان نمک چھوڑ کے چند سو روپلی پر پاکستان ٹائمز میں سینئر رپورٹر ہو گئے تھے۔ ایسا فیصلہ بذات خود شخصی قامت پر دلیل ہوتا ہے۔ ایسا دماغ جو منصب اور جاہ کا طالب نہیں، دل کی کشاد مانگتا ہے۔ خیال رہے کہ ژولیدہ مو دانشور نہیں تھے، خوش لباس، باذوق اور نفیس طبع بلکہ اچھے خاصے صاحب بہادر تھے۔ اخبار میں قلم کاری

Read more

اجتماعی دیوانگی میں وبا کے منظر

طالب علم کی رائے ہے کہ ہندوستان کی مسلم تاریخ میں امیر خسرو اور میر تقی میر سے بڑے ذہن پیدا نہیں ہوئے۔ امیر خسرو نے یہ تو کہا کہ کافرِ عشقم، مسلمانی مرا درکار نیست لیکن دوسرے ہی مصرعے میں اپنی رگ رگ کے تار ہو جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کفر کے زنار سے بھی دست کشی کا اعلان کر دیا۔ تین سو برس بعد میر تقی نے فرمایا، سخت کافر تھا جس نے پہلے میر، مذہب عشق

Read more

اجل، ان سے مل

ملتان کے جنوب میں کوئی 30 میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر شجاع آباد واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے قریب قریب مرکز میں واقع اس زرعی قصبے کو پہلے پہل صلاح الدین صاحب کے طفیل جانا۔ پیرانہ سالی میں فکری دیانت اور سیاسی بیدار مغزی کا لائق احترام نمونہ ہیں۔ متوسط طبقے میں جنم لینے والے نوجوان ذیشان ہاشم نے انہی سے فیض پایا۔ معاشیات میں درک پا کر چھوٹی عمر میں ورلڈ بینک

Read more

قومی حکومت یا قوم کی حکومت؟

برادر محترم نے انہی صفحات پر 13 اپریل اور 15 اپریل کو ایک ہی سانچے (Template) میں ڈھلے دو کالم یکے بعد دیگرے ارزاں کئے ہپں۔ دونوں کالموں میں، معمولی تصرف کے ساتھ، تین نکات بیان کئے ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کورونا بحران سے نمٹنے میں ناکام ہوئی ہے۔ معیشت کا حال پہلے سے دگرگوں تھا، اب سراپا پراگندگی ہو چکا۔ تیسرے یہ کہ عمران حکومت سیاسی مفاہمت کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ نتیجہ تحریر یہ نکالا ہے کہ

Read more

کوئی ایسا بھگت سدائے

ایم ڈی تاثیر نے طرفہ طبیعت پائی تھی۔ ہماری تمدنی اور ادبی تاریخ میں اقبال اور فیض کی درمیانی کڑی سمجھنا چاہیے۔ ذہانت بے پناہ اور مزاج شوریدہ تھا۔ ایک روز اقبال کے پاس اپنی غزل لے کر پہنچے، تیری صورت سے تجھے درد آشنا سمجھا تھا میں…. الخ۔ اقبال نے غزل سنی اور کہا ’کاغذ قلم لیجئے، کچھ غلط فہمیاں آپ نے بیان کر دیں، کچھ کا افشا ابھی باقی ہے‘۔ اور پھر وہ غزل ہوئی جس کا مقطع

Read more

مختاریا چپ رہ! میمو گیٹ کھلا ہے اور نہ ڈان لیک ہوئی ہے

دیواروں کے کان ہمیشہ سے رہے ہیں، اب یہ کان حساس بھی ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے کہ کسی کو دیواروں میں منہ نظر آئیں اور آئینہ خانہ عبرت سرائے دہر بن جائے، بتا دینا چاہیے کہ درویش کو ندیم افضل چن اچھے لگتے ہیں۔ ان کی سیاست سے غرض نہیں اور ذاتی تعلق بھی نہیں۔ دو چار بار ادھر ادھر کسی مجلس میں دیکھا اور سنا۔ ان کی بے ساختگی اچھی لگی اور وہ ٹھیٹھ دیہاتی دانش جو

Read more

معصوم بچہ اور برہنہ بادشاہت کا اوجھل ہوتا تخت

ہم نے عجب قسمت پائی ہے۔ کبھی جغرافیہ غداری کرتا ہے اور کہیں تاریخ کا پاؤں رپٹ جاتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے بہار کے نقیب اپریل کو ظالم ترین مہینہ لکھا تھا۔ شرح اس بلیغ مصرعے کی یہ تھی کہ کہرے میں لپٹی بے رنگ زمیں سے سبز اکھوے پھوٹتے ہیں اور نئی کونپلیں سر نکالتی ہیں تو دل کے گھاؤ ہرے ہو جاتے ہیں۔ ایلیٹ تو مغرب کا شاعر تھا، اسے ہماری افتاد کی کیا خبر۔ ہمارے شاعر

Read more

برٹولٹ بریخت کے کھیل "گیلیلو "کا ایک منظر

کردار گلیلیو :    مرکزی کردار آندریا :    گلیلیو کا طالب علم اور دوست چھوٹا راہب : طالب علم فیدر زونی : طالب علم ورجینیا :  گلیلیو کی بیٹی اور کلیسا کی راسنح العقیدہ مقلد ***     *** (پردہ اٹھتا ہے) تاریخ : 22 جون 1633ء۔ ایک تاریخی دن ۔ اس روز ”عہد تعقل“ کا آغاز امکان میں تھا۔ منظر : روم میں فلورنس کے سفیر کا پائیں باغ ۔ چھوٹا راہب اور فیدر زونی بظاہر شطرنج کھیلنے کی

Read more

یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

ٹی ایس ایلیٹ نے لکھا کہ ”اپریل ظالم ترین مہینہ ہے“۔ فیض صاحب نے بھی کہا تھا، ”پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں“۔ اس ظالم مہینے میں بھی ایک تاریخ خاص طور سے ظالم ہے۔ اپریل کی چار تاریخ کو کھلنے والے پھولوں میں لہو کا رنگ اور ظلم کی بو کیوں ہوتی ہے؟ اپریل کی چار تاریخ اور 1968 کا سال۔ امریکہ کے شہر میمفس میں پچھلی رات طوفان گھِر کے آیا تھا۔ باہر سڑک پر تیز ہوا کے

Read more

مسولینی کی یرغمال سلطنت اور وبا کا سبق

تاریخ کی تمثیل کے مناظر شاذ ہی لکھے ہوئے اسکرپٹ کے مطابق کھلتے ہیں۔ مولا علی کا قول تو ہم سب نے سن رکھا ہے، میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے فسخ سے پہچانا۔ علی مرتضیٰ علم کے شہر کا دروازہ تھے۔ ہم کوتاہ قدم اور کم نظر ان کی بصیرت کی تھاہ کو کیا پہنچیں گے۔ مگر ایسا ہے کہ ہم صدیوں کی پاکوبی میں ان گنت تجربات سے گزرے، واقعات کی بنتی بگڑتی ترتیب کا مشاہدہ

Read more

راج روگ کے مقدمے میں وبا کی ضمنی

مصائب اور تھے پر جی کا جانا، عجب ایک سانحہ سا ہو گیا ہے۔ کورونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی ہے۔ چین میں اس بلا کی ابتدائی نمود ہوئی تھی، چین کا قصہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ سد سکندری کے حصار میں ہیں۔ کسی خبر کی معروضی تصدیق یا تردید ممکن نہیں۔ سرکار جو کہہ دے، وہی شہر ممنوعہ سے خبر ہے اور وہی پتھر پر کندہ حقیقت۔ پھر اٹلی سے روح فرسا خبریں آئیں۔ نہ گور

Read more

بحران کی فالٹ لائن پر وبا کے دن

کورونا وائرس نے ایک دو نہیں، دنیا کے قریب قریب ہر ملک کو آ لیا۔ اس کا علاج معلوم نہیں، کسی کے پاس حتمی اعداد و شمار نہیں کہ تیز رفتار سفری سہولتوں کے اس عہد میں کون کہاں سے آیا اور کہاں کہاں سے ہوتا ہوا کدھر جا نکلا۔ ساڑھے سات ارب سے زائد آبادی میں سے کون کس سے کب ملا، کب اس نادیدہ عفریت نے کس کے جسم کو ٹھکانہ بنایا اور گھات لگا کر بیٹھ گیا۔

Read more

وبا اور وہم کے درمیان

محمد فیاض بھلے انسان تھے۔ بظاہر اطلاعات کے شعبے میں کار سرکار سے سروکار کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی کچھ چوہدری محمد حسین اور میر نور احمد کا خیال آتا ہے مگر فیاض کا رکھ رکھاؤ پہلو داری سے خالی نہیں تھا۔ ٹھہری ہوئی سطح کے نیچے تلاطم بھی تھا، جذبے کی حرارت بھی اور گاہے کسی خیال، کسی رائے سے وابستگی بھی لو دیتی تھی۔ کئی برس پہلے سرراہ ملاقات ہوئی تو اپنے مخصوص لہجے میں بولے،

Read more

میر شکیل الرحمن…. پریوں کی تلاش میں گئے ہیں

مرے دل مرے مسافر، ہوا پھر سے حکم صادر…. ہر اک اجنبی سے پوچھیں، جو پتا تھا اپنے گھر کا۔ میر شکیل الرحمن گرفتار کر لئے گئے۔ لفظ کو ہتھکڑی پہنائی گئی ہے۔ انسانوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لفظ کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ لات، منات اور عزیٰ کی دھوپ ڈھل جاتی ہے۔ اِن الباطل کان زھوقا۔ (بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا)۔ کوندے کی طرح خیال تو لپکا ہو گا کہ سیکولر

Read more

عورت مارچ جمہوریت کی لڑائی ہے

ستر کی دہائی تھی۔ روز نامہ امروز ایوب آمریت کی تخلیق نیشنل پریس ٹرسٹ کے پتھر تلے سسک رہا تھا۔ دست تہ سنگ آمدہ…. بھٹو صاحب بھی، خدا غریق رحمت کرے، مجموعہ اضداد تھے۔ نیشنل پریس ٹرسٹ کی تحلیل کا وعدہ کیا تھا۔ وزارت اطلاعات مولانا کوثر نیازی کو سونپ دی۔ ببیں تفاوت رہ…. امروز کا سیاسی تشخص تو نصیب دشمناں ہو چکا تھا لیکن تمدنی اور ادبی زاویوں کی کاٹ برقرار تھی۔ اس سائبان تلے روشنی دینے والے ستاروں

Read more

آٹھ مارچ عورتوں کا دن نہیں ہے

مجھے معلوم ہے کہ آپ اس عنوان سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ حیران ہوں کہ آج آٹھ مارچ کو جب کہ دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق پر بات ہو رہی ہے، عالمی رہنماؤں سمیت مقامی بیان بازوں تک، سب کے لئے صدیوں پرانے پامال بیانات دہرانے کا دن ہے، کہیں حفیظ جالندھری ماؤں، بہنوں، بیٹوں کو بتا رہے ہیں کہ دنیا کی عزت ان سے ہے۔ کہیں اقبال میزان کے دو پلڑوں میں آزادی نسواں

Read more

قلیل خمری کی ڈرامہ سازی اور صنفی سوال

قلیل خمری کو خدا غریق رحمت کرے۔ مرحوم تاریخ میں واحد ملامتی صوفی تھا جو واقعتاً قابل ملامت تھا۔ قبلہ نے جب جب دہان دریدہ کو زحمت دی، خود ساختہ عظمت، نرگسیت، کم سوادی، بداطواری اور پٹی ہوئی دانش کے ایسے پھول جھڑے کہ خلقت اس تھوتھے چنے سے برآمد ہوتی بے تال جہالت کی گھنی تاریکی میں سر پٹختی تھی۔ غریب الدہر نے چولہا جھونکنے کے لئے ڈرامہ لکھنا چاہا تھا اس کی بدقسمتی کہ اردو ڈرامے کی صنف ایسی بے مایہ نہیں تھی جیسی اس ہیچمداں نے سمجھی۔

Read more

اپنا اپنا امپائر

کیلنڈر پر مارچ کا مہینہ اتر آیا ہے اور نامیاتی ترتیب سے خشک ٹہنیوں پر کونپلیں بھی ہر برس کی طرح نمودار ہو رہی ہیں لیکن بہار کا کوئی نشان نہیں۔ بہار تو ایک کیفیت ہے نئی فصلوں کے بادام اترنے کی امید، دوستوں کے ساتھ کچھ قہقہ بار شاموں کی ترنگ، محبت کرنے والی آنکھوں سے بن کہے لفظ سننے کی سرخوشی، ایک کتاب جو پہلے صفحے سے اپنی گرفت میں لے لے گی، ایک گیت جو آنے والے

Read more

چوڑا بازار لدھیانہ سے شاہین باغ دلی تک

27 فروری کی صبح سورج کی روپہلی کرنیں معمول کی طرح دریائے جمنا پر اتری تھیں۔ گلابی جاڑے کی سہج سکم دھوپ میں غیر ملکی صحافی دہلی کے جنوب میں جامعہ نگر پہنچے تو شاہین باغ کی رونق اجڑ چکی تھی۔ تین روز کی مار دھاڑ کے بعد غیر منصفانہ شہریت بل کے خلاف 75 روز سے جاری لاکھوں بھارتی شہریوں کا پرامن احتجاج تشدد کے جوار بھاٹے میں بہ گیا تھا۔ مڑے تڑے جھنڈے اور نوچے ہوئے پوسٹر جہاں

Read more

بارہ موسموں کے محرم اور ذہانت کا بحران

ڈاکٹر لال خان کو سلام پہنچے۔ ہماری دھوپ ڈھلنے کو آ پہنچی۔ دیدہ تر کی شبنم سوکھ چلی۔ شب سست گام کا ساحل ہمیں دکھائی نہیں دیا اور اب اس کی کچھ ایسی فکر بھی نہیں۔ ایک غم تھا کہ عمر رواں پہ سایہ فگن رہا، ایک ملال تھا کہ ہر سانس میں خنجر زن رہا۔ دل میں جب تک آگ تھی، ہم روشنی کرتے رہے۔ اسی کشید دل میں زیست کا مزہ پایا۔ اب کھیتی کی پرداخت کرنے کو

Read more

جمہوری ثقافت کے فروغ میں جنسی تعلیم کا کردار

میری عمر چون برس ہے۔ میں دو بچوں کا باپ ہوں اور گزشتہ تیس برس سے بڑی حد تک خوش و خرم زندگی گزار رہا ہوں۔ تاہم مجھے معلوم ہے کہ میری خوشی میں اتفاقات کو زیادہ دخل ہے۔ معاشرے نے ایک شہری ہونے کے ناتے میری خوشی، آزادی اور تحفظ کی کوئی خاص ضمانت نہیں دی۔ میری خواہش ہے کہ میرے بچے ایک ایسی دنیا میں بڑے ہوں جہاں ان کی خوشیاں کسی اتفاق یا حادثے پر منحصر نہ

Read more

ہمارے وزیر اعظم بہت اچھے ہیں

آپ کو بتانا تھا کہ درویش نے عمران خان صاحب کے بارے میں اپنی رائے بدل لی ہے۔ خدا وزیر اعظم کی حفاظت فرمائے اور ان کی حکومت کو دوام بخشے۔ فطری کاہلی آڑے آئی ورنہ اصولی طور پر تو تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتے ہی اطاعت کا اعلان واجب تھا کہ یہی ہماری روایت ہے اور بزرگوں کا بتایا ہوا اصول بھی۔ دیر آید درست آید۔ وزیر اعظم نے اسلام آباد اور لاہور میں اوپر تلے جو بصیرت

Read more

اماوس کی رات اور امکان کے جگنو

ناانصافی ہماری دھرتی کے سینے پر رکھا ایسا پتھر ہے جس کا بوجھ ہمارے رگ و ریشے، ہر بن مو میں ایک جیسی تکلیف دیتا ہے۔ ہماری زمین کا امتیاز یہ ہے کہ ہمارے پرکھوں نے نسل در نسل ناانصافی سے جنگ کی ہے۔ ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ پاکستان کے ہر خطے میں، تاریخ کے ہر موڑ پر، قلم کی کاٹ سے پھانسی کے رسے تک بہادری کی داستانیں لکھی ہیں۔ عبداللہ بھٹی سے خوشحال خان خٹک تک، بھگت

Read more

قوم ناکام کیوں ہوتی ہے؟

اسلام آباد سے محبت کرنے والے اسے ’اسلام آباد ، دی بیوٹی فل‘ کہتے ہیں اور ٹھیک کہتے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے امڈتے بادلوں تلے دو رویہ جھومتے درختوں کے بیچوں بیچ برکھا کی بوندوں میں بھیگتی سڑکوں کے نشیب و فراز آنکھ میں ٹھنڈک بن کر اترتے ہیں۔ وہی نیشا پور کے نظیری کی حکایت…. کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جاست۔ یہ شہر لیکن پاکستان کا دارالحکومت بھی تو ہے۔ اسلام آباد کی راول جھیل

Read more

قندھاری انار، لعل بدخشاں اور احسان اللہ کا احسان

 منٹو نے آغا حشر سے ایک ملاقات کا احوال مزے لے لے کر لکھا۔ آغا حشر حسب معمول دون کی لے رہے تھے ۔ہندوستان کے مشاہیر ادیبوں کو خطیبانہ آہنگ میں لتاڑ رہے تھے۔ کلکتہ اور بمبئی کے سیٹھوں کی ہشت پشت بیان کر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں رک کر پوچھتے تھے کہ مختار بیگم کیوں نہیں آئیں اور یہ کہ جس ملازم کو قندھاری انار لینے بھیجا تھا، وہ کہاں رہ گیا؟ خدا معلوم مختار بیگم اور قندھاری

Read more

فروری کی کونپلیں اور سیاسی اظہار کے چراغ

عزیزان گرامی، گزشتہ ہفتے آپ سے ملاقات نہیں ہو پائی۔ اگرچہ ان دنوں ملاقات کی صورت یوں بھی کچھ دگرگوں ہی رہتی ہے۔ پہرے کی چاپ مسلسل کانوں میں گونجتی رہے تو قلم لڑکھڑانے لگتا ہے، نطق میں لکنت چلی آتی ہے۔ آنکھ البتہ سب کہتی ہے۔ اور پھر یہ کہ آپ جیسے ذہین اور حساس دلوں تک رسائی تو بوئے رفاقت کی دین ہے، یہ رشتہ سلامت رہے تو …. ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخ مہر و وفا

Read more

عمران خان کے دفاع میں ایک تحریر

اگر پاکستان ہمارا ملک ہے تو اپنے ہی ملک کے رہنماؤں اور باشندوں کو ہمہ وقت اڑنگی دینے اور دھول چٹانے سے کیا فائدہ ہو گا۔ کسی کو شیطان اور کسی کو فرشتہ سمجھنے کی لاحاصل مشق میں ہم نے بہت وقت گنوایا ہے۔ سامنے کا سبق یہ ہے کہ کسی فرد یا واقعے سے امیدیں باندھنے کی بجائے حقائق، مسائل، وسائل اور امکانات پر معروضی طریقے سے غور و فکر کر کے قوم کو مشکلات سے نکالنے کا کوئی

Read more

رسل ٹریبونل سے گلوبل ڈیموکریٹک ڈائیلاگ تک

ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی مکمل کرنے کو ہیں۔ سات ارب 80 کروڑ انسانوں کا یہ قافلہ علم، تخلیقی سرگرمی، پیداواری عمل اور ٹیکنالوجی کے چار دیو ہیکل پہیوں پر آگے بڑھتا ہے۔ ان چار عظیم الشان کائناتی قوتوں کو انسانی ذہانت کے اعلیٰ ترین اظہار کی مدد سے اقدار، ضابطے، پالیسی اور اداروں کی صورت میں ایک واضح سمت دینا سیاست کا منصب ہے۔ سیاسی تدبر پر حکمرانوں، ریاستی اہلکاروں اور غالب بیانیے کا اجارہ نہیں۔ ابن رشد

Read more

ماؤں کے نام پر جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے جاتے

اسلام آباد کی شام آہستگی سے رات میں ڈھل رہی تھی۔ آتش دان سے آتی حرارت کی لہریں محبت کی سرگوشی کی طرح نظر آئے بغیر کمرے کی دیواروں سے لپٹ رہی تھیں۔ تین دوست دن بھر کی مشقت کو ملاقات کی سرخوشی میں بھگو رہے تھے۔ بہت برس گزرے، ان تینوں نے معمولی وقفے سے ایک ساتھ جیون کے منہ زور دھارے میں اپنی اپنی ناؤ ڈالی تھی۔ ایک نے قانون کی دنیا میں کامرانی کے جھنڈے گاڑے۔ سرکار

Read more

دروازہ نہیں کھلتا

یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں، جینے کا ہنر بھی جانتے ہیں، بات کہنا بھی انہیں آتی ہے اور یہ رقیب سے بھی راز و نیاز کر لیتے ہیں۔ عرفان اور نروان کی ان منزلوں کا اندازہ نیاز و ناز سے ہوتا نہیں۔ ہم جیسے کم نظر اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ پاتے، دشت نوردی کا حوصلہ اور گہرے پانیوں سے شناوری کی تاب نہیں رکھتے، نتیجہ یہ کہ مٹھی بھر ریت سے ایک تنک سا سچ تراش کے

Read more

عزا دارو، جنازے لوٹ کے آتے نہیں

سال میں تین سو پینسٹھ دن اور باون ہفتے ہوتے ہیں۔ صدی کے بیسویں برس کے پہلے دو ہفتے ہی میں ایسا بجوگ پڑا ہے کہ منزلوں منزلوں راہ تاریک نظر آتی ہے۔ طلوع کے دھندلے میں ایسی ویرانی ہے تو رات گزرے گی کس خرابی سے۔ بیوہ ماں نے رت جگوں کی محنت سے بارہ برس میں جو کٹیا اٹھائی تھی، رات کے پچھلے پہر کی آندھی نے ایک ہی شوخی میں چھت چھین لی، کواڑ اکھاڑ دیے، چار

Read more

22 کروڑ کے لئے پیر و مرشد کی بشارت

دیکھیے جو ہونا تھا، ہو چکا۔ بات کچھ ایسی بڑی نہیں تھی، کہنہ روایت موجود تھی، بس انجانے میں پاؤں رپٹ گیا اور پھر قسمت کا لکھا پورا ہوا۔ مسہری اور دری کی ایک ساتھ پامالی کا تماشا ایک دنیا نے دیکھنا تھا، سو دیکھ لیا۔ جو ہونا تھی، وہ بات ہو لی کہارو۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس سے آگے کیا ہونے کو ہے۔ جنوری کے پہلے عشرے کا منڈپ تو رسمی دربار کے لئے سجایا گیا تھا، مطبوعہ،

Read more

نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں نقطے اور صحافی کا نامعلوم فریق ثانی ۔۔۔۔ وجاہت مسعود  کا ناقابل اشاعت کالم

نظیر اکبر آبادی 1746 کے لگ بھگ پیدا ہوئے اور 1830 میں وفات پائی۔ مہ و سال کے تناظر میں یوں جانیے کہ میر تقی میر سے کوئی 25 برس بعد پیدا ہوئے اور ربع صدی بعد انتقال ہوا۔ گویا زمانی طور پر ہم عصر تھے۔ افتاد طبع کا فرق یوں سمجھا جائے کہ میر تقی کو چاند میں ایک صورت نظر آتی تھی اور نظیر اکبر آبادی چاند میں روٹیاں دیکھتے تھے۔ دونوں نے فورٹ ولیم کالج قائم ہوتے

Read more

غلام عباس کا جواری اور نمبردار کا نیلا

غالب نے عجب طرفہ طبیعت پائی تھی۔ ایک طرف کہتے ہیں کہ واقعہ سخت ہے اور جان عزیز، چنانچہ تاب لاتے ہی بنے گی۔ دوسری طرف کہتے ہیں ، دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں۔ چھوڑیئے بھائی، دلی کے کوچہ قاسم جان میں رہنے والے اسد اللہ خان کو کبھی اقلیم،حریم، تکریم اور ترمیم کی گھاٹیوں سے واسطہ پڑا تھا؟ ہمارے دکھ کا بیان تو ڈلہوزی میں پیدا ہونے والے عدیم ہاشمی

Read more

چار بزرگ جن کا احترام سیکھنے میں ایک عمر صرف ہوئی

لیجئے صاحب، اس برس کی آخری صبح آن پہنچی۔ آج کا سورج ڈوبے گا تو کل نئے برس میں جاگیں گے۔ اس برہمن کی کوئی خبر نہیں جو غالب کو اچھے سال کی نوید دیا کرتا تھا۔ آخری مرتبہ اسلام آباد کی نواحی پہاڑیوں میں دیکھا گیا تھا۔ معلوم ہوتا ہے ہمارے عہد کے برہمنوں نے اقبال کو پڑھ لیا ہے اور اب اپنی خوش خبریاں ان جوانوں ہی کو سناتے ہیں جو ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں۔ ہمارے شاعر

Read more

پاکستان کے شہری قائد اعظم کا خاندان ہیں

بھارتی حکومت کے متنازع قانون شہریت پر ہنگامہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ یہ قانون بھارت کے مسلمان شہریوں کے ساتھ امتیاز کرتا ہے۔ ریاست کسی مذہبی گروہ کے ساتھ ترجیحی سلوک کرے یا امتیازی، ہر دو صورتوں میں اپنے فرض سے کوتاہی کی مرتکب ہوتی ہے۔ ریاست کا کام کسی مذہبی امتیاز کے بغیر اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا اور انہیں ایک جیسے مواقع، حقوق اور رتبے کی ضمانت دینا ہے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بھارت میں مسلمان شہریوں

Read more

بادل گہرے ہیں لیکن آسمان نیلا ہے

ہم دیکھتے ہی دیکھتے ایک طوفان بلا خیز کے دہانے پر آن کھڑے ہوئے ہیں۔ دیوہیکل قوتوں میں یہ کھلی کشمکش کوئی قدرتی آفت نہیں ہے۔ ہم نے عشروں پر پھیلی غلطیوں اور غفلتوں کے ایک خوفناک تسلسل سے قوم اور ریاست کے دفاعی دمدموں کو ایک ایک کر کے مسمار کیا۔ اب ہمارا بحران ہمہ جہتی ہے۔ آئینی پیچیدگیاں ہیں۔ قانونی الجھنیں ہیں، معاشی چیلنج ہیں، سیاسی انتشار ہے، تمدن میں افلاس ہے، بین الاقوامی تناظر کی پیچ در

Read more

ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت

پسماندہ معاشروں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اہم مسائل پر گھسے پٹے انداز میں ایک ہی طرح کی باتیں اتنی بار دہرائی جاتی ہیں کہ پورا مسئلہ چند رٹے رٹائے مفروضوں کی نذر ہوجاتا ہے۔ عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام میں درکار تبدیلیوں ہی کو لے لیجئے۔ گذشتہ صدی میں مولوی ممتاز علی کی تحریروں سے لیکر آج تک ہمارے نام نہاد ثقہ حلقوں نے اس بنیادی مسئلے کو ٹھٹھے بازی کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کبھی

Read more

فالٹ لائن سے سرخ لکیروں تک – مکمل کالم 

اردو صحافت کی لغت اور لہجے میں دیکھتے ہی دیکھتے بہت سی تبدیلیاں آ گئی ہیں۔ انگریزی الفاظ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ بہت سے لفظوں کی املا بدل گئی ہے۔ اور بہت سی تراکیب ایسی چلی آئی ہیں کہ مولانا غلام رسول مہر تو خیر جدید اردو صحافت کے معمار تھے، نوائے وقت کے موقر اداریہ نویس بشیر احمد ارشد مرحوم کی پیشانی پر بھی گہری لکیریں نمودار ہو جاتیں۔ کسی مہربان نے عوام کا صیغہ تبدیل کر کے

Read more

ایک عمر کی حکایت اور ناخدا کی تلاش

کوئی پچیس برس پہلے خشونت سنگھ کا ناول ’دہلی‘ پڑھنے کو ملا۔ ہڈالی خوشاب کے فرزند کی داستان گوئی میری، آپ کی داد سے بے نیاز ہو چکی۔ لفنگے صحافی اور خواجہ سرا بھاگ متی کی رس بھری کہانی میں خوشونت سنگھ نے دہلی کی تین صدیاں سمیٹ لی تھیں۔ سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے۔ لیجئے، جالب صاحب یاد آ گئے۔ حسب معمول پکڑے گئے بلکہ دھر لئے گئے تو شب فتنہ کو ایک مصرعے میں سمو

Read more

انسانی حقوق کیا ہیں ؟

دیکھیے! کتنی سادہ سی بات ہے۔ہر انسان انصاف، امن، محبت اور خوشحالی کا طلب گار ہے۔ ناانصافی، بدامنی، نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔معاشرے میں تمام قانون، ادارے اور ضابطے اسی لیے بنائے جاتے ہیں کہ انسانوں کو انصاف، امن اور خوشحالی مل سکے اور بدامنی، ناانصافی اور محرومی کا راستہ روکا جاسکے۔بس اسی کا نام انسانی حقوق ہے۔ ’حق ‘ عربی زبان کا لفظ ہے اور اس کا لغوی مطلب ہے، ’درست‘ اور ’صحیح‘۔ گویا انسانی حقوق کا

Read more

وائیمر ری پبلک کے ہیولے اور وشی حکومت کے کردار

سیاسی موضوعات پر بننے والی فلموں سے شغف رکھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جس نے 1972 میں بننے والی فلم کیبرے (Cabaret) نہ دیکھی ہو۔ کرسٹوفر ایشروڈ کی ایک مختصر کتاب Goodbye Berlin سے ماخوذ یہ فلم جرمنی کے پہلے جمہوری تجربے وائیمر ری پبلک کی ناکامی بیان کرتی ہے۔ وائمر ری پبلک کا کچھ ذکر آج کریں گے لیکن اس وقت اس فلم کا تذکرہ ایک تیکنیک کے حوالے سے چلا آیا۔ سٹیج پر کردار اپنے

Read more

لگاتار سردمہری کا دسمبر گزرتا ہی نہیں

عرش صدیقی کو ملال تھا کہ دسمبر آ گیا ہے۔ دسمبر کے تو اکتیس دن ہوتے ہیں اور یہ سرد دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ ہمارا دکھ یہ ہے کہ ریاست کی سرد مہری پر بہتر دسمبر گزر چکے ہیں۔ اس زمستانی موسم کی ہڈیوں تک اتر جانے والی بے بسی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ آمریت موت جیسی بے مہر ہے۔ موت مکالمہ نہیں کرتی، قطعیت کا فرمان جاری کرتی ہے۔ جمہوریت

Read more

اسے کہنا، دسمبر آ گیا ہے

لفظ تو یہیں کہیں خوار و زبوں پھرتا ہے۔ پھر ایک شاعر آتا ہے۔ وقت کی دھول میں سرگرداں، خلق کے قدموں میں پامال لفظ کو محبت سے اٹھاتا ہے، اسے جھاڑ پونچھ کر تجربے کے خدوخال بخشتا ہے، کیفیت کے سیاق و سباق میں رکھ دیتا ہے۔ لفظ شاعر کی سطروں میں سج جائے تو جانو، سپھل ہو گیا۔ شاعر لفظ کو زندگی عطا کرتا ہے لیکن ظالم چترکار اسے بھی ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیتا ہے۔ منیر

Read more

ماسکو ٹرائل اور حب الوطنی کا مقابلہ

بارے خیریت رہی۔ 27 نومبر کی رات گزر گئی۔ کس قیامت کی رات تھی، بیم و رجا کا کھیل تھا، ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔ ہماری تاریخ میں ایسی بہت سی راتیں گزریں جب آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں۔ یہ روزن کی سہولت بھی مرزا غالب کو دلی میں میسر تھی۔ ہمارا احوال بیان کرتے ہوئے تو شاعر نے لکھا، ’فیض نہ ہم یوسف، نہ کوئی یعقوب جو ہم کو

Read more

گالی اور دلیل کے درمیان سیاسی اسموگ

ہمارے سیاسی مکالمے میں گالی نے دخل پا لیا ہے۔ ایک صوبائی وزیر نے ٹیلی ویژن پر کیمروں کی موجودگی میں میزبان کو ٹکسالی گالی دی۔ ایک مذہبی رہنما نے اپنی سیاسی مہم جوئی کو ایک ایسی گالی کاعنوان دیا کہ حضرت کی ذات اقدس اور ایک غیر فصیح ترکیب یک جان دو قالب ہو گئے۔ ایک آن لائن عالم کی آف کیمرہ خوش بیانی اجتماعی حافظے میں محفوظ ہو گئی۔ ایک دفاعی تجزیہ کار نے خواتین شرکائے مجلس کے

Read more

آدھے سر کا درد اور 22 کروڑ کا حق وراثت

نواز شریف علاج کے لئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن کا جوار بھاٹا ساحلوں کی گیلی ریت پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔ توپ کاپی کی محل سرا میں طاقت کی صف بندی معمولی نقل و حرکت کے ساتھ طے شدہ ترتیب میں ہے۔ نظم و ضبط کا بھرم قائم ہے۔ فلک پر ستارے بدستور چمک رہے ہیں اور نیچے گلی کوچوں میں اکا دکا راہرو کے قدموں کی چاپ کے سوا سناٹے کا راج ہے۔ زور آزمائی

Read more

افلاک کی روشنیاں اور اقتدار کی شوخیاں

آپ لاہور کو شہر کہتے ہیں۔ ارے نہیں، جنہوں نے لاہور کو دیکھا اور برتا ہے، وہ اسے کنج گلزار سمجھتے ہیں، کوچہ دلدار جانتے ہیں۔ آرزوئے دل فگاراں اور چشم نگار کا سنگم پکارتے ہیں۔ اس شہر کے بیچوں بیچ مال روڈ کی لکیر کھنچی ہے، آب رواں کی سی سہل گام ٹھنڈک لئے، مانوس عمارتوں، اجنبی چہروں اور دلوں کے محرم پیچ و خم کا ایک سبک خرام منظر، کہنے کو محض ایک شاہراہ، سچ پوچھو تو دامن

Read more

نواز شریف کیسے کامیاب ہوئے؟

یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ اخباری کالم مصدقہ اطلاع نہیں ہوتے۔ یہ تو بھنگڑ خانے کی گپ ہے ۔ کچھ سنی سنائی، کچھ دل کی دہائی اور باقی روئی کی دھنائی۔ لوگ باگ مگر کچھ ایسے خوش عقیدہ واقع ہوئے ہیں کہ بے خبر کالم نگاروں کے صریر خامہ کو نوائے سروش سمجھ بیٹھتے ہیں۔ درویش بے نشاں لاکھ صنعت ایہام میں شعر کو سخن کا پردہ کرتا ہے، ایران توران کی ہانکتا ہے، کوفہ و رے کی

Read more

میلان کنڈیرا سے عدیلہ سلیمان تک: فن کار کا فساد اور اہل کار کی ذمہ داری

کراچی میں آرٹ کی دو سالہ نمائش کے نام پر ایک نئے رنگ کا میلہ شروع ہوا ہے جسے اطالوی زبان کے لفظ Biennale کی مناسبت سے بینالے کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس برس فنکار وغیرہ کہلانے والے شرپسندوں نے پھر سے فریئر ہال میں اپنا تنبو سائبان جمایا تھا۔ اللہ کا فضل ہوا کہ پس پردہ رہ کر قومی مفاد کی رکھوالی پر مستعد اہلکاروں نے اس شرارت کا بروقت پتا چلا لیا۔ 26 اکتوبر کی صبح دو

Read more

افتاد کی افواہ اور لہو کی ایک بوند

ہوائیں سنگ دل ہیں، شاخوں پر کوئی پتہ سبز نہیں رہا، باغ میں زردی کھنڈ گئی ہے۔ ایسی خزاں کہ کھلیانوں میں کھڑی فصلوں کو ٹڈی دل نے آ لیا۔ گلیاں اجڑ گئی ہیں، بازار نخاس میں مندے کی ہولناک خاموشی ہے، گھروں کے چراغ بے نور ہیں، سہاگنوں کے دوپٹے میلے ہو گئے ہیں۔ درد مند بندی خانوں میں ہیں، پاسبانوں نے فصیل شہر سے منہ موڑ لیا۔ طفلاں گلی کوچہ کی ہاؤہو معنی سے خالی ہے۔ ایک ہجوم

Read more

جمہوری حکمرانی اور میعادی سرکار کے دوراہے پر

نومبر 2019 کا پہلا دن ہے۔ عمر رواں نے اک جھٹکا سا کھایا، اور اک سال گیا۔ اس برس کے جھٹکوں کی کیا پوچھتے ہیں۔ دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ 14 مئی 2006 ء کو ملک کی جمہوری قوتوں میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس سے زیرزمین قوتوں میں بنیادی تناؤ ایک جوہری تبدیلی سے دوچار ہو گیا۔ اس زورآزمائی کا پہلا اظہار 27 دسمبر 2007 کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی صورت میں رونما ہوا۔ اس

Read more

ماں، سیاست دان اور قلم ریٹائر نہیں ہوتے

درد اور انبساط کی حدیں جہاں ملتی ہیں، وہاں گیان جنم لیتا ہے۔ عورت اذیت کی آزمائش سے گزر کر ماں کے درجے کو پہنچتی ہے۔ ماں ہونا محض ایک حیاتیاتی فعل نہیں، یہ رشتہ جذبے، شعور اور پیچ در پیچ تعلق کی باریک نسوں کا ایک جال ہے جسے بازار کی بھیڑ میں پہچانا نہیں جاتا، مثل مقدمہ میں دلیل اور نظیر سے ثابت نہیں کیا جاتا اور سائنسدان کی خوردبین سے مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ماں ایک

Read more

ڈیلفی کے شہید دیوتا اور کاٹھ کے گھڑ سوار

ہم محبت اور موت کے دوراہے پر ہیں۔ اسکرپٹ اور واقعے کی منجدھار میں ہیں۔ سفر کی حکمت اور مہم جوئی کے جنون کی کشمکش فیصلہ کن موڑ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ خواب اور منصوبے کے اس بحران میں تجزیے کے نصابی آلات کام نہیں دیتے کیونکہ کتاب طاق میں رکھ دی گئی ہے اور بدلاو ¿ کے عناصر نے تلبیس کا نقاب اتار پھینکا ہے۔ آج کچھ ادھر ادھر کے افسانے بیان کریں گے، کچھ شعر کے قرینے

Read more

راجہ صاحب شرط ہار گئے

بات یہ ہے کہ راجہ صاحب کو اپنی عزت کا بہت خیال رہتا ہے۔ کرپشن سے بوجوہ دور رہتے ہیں۔ جو شخص دوستوں کے ساتھ گھنٹوں خوش گپیاں کرے، خوش ذائقہ خوراک کی تلاش میں شہر کے دوسرے سرے تک پہنچے، بھلے دوپہر کا کھانا شام ڈھلے نصیب ہو۔ ایسا شخص کرپشن نہیں کرسکتا۔ کچھ کینہ پرور سسرالی عزیزوں کا خیال ہے کہ راجہ صاحب ابتدا ہی سے بزدل چلے آ رہے ہیں۔ راجہ صاحب کی اہلیہ عفت بانو اس

Read more

طاقت کے شجرے میں فی کیسے آتی ہے؟

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ درویش لاہوتی ایک دوست سے مل کر پنج ستارہ ہوٹل کی لفٹ سے نیچے اتر رہا تھا۔ کانچ کا شفاف عمودی کابک زمیں تک پہنچا تو عین سامنے وہ صاحب کھڑے تھے۔ ارے وہی جن کے بارے میں گزشتہ برس 26 جنوری کو سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ اے ایس آئی بھرتی ہونے والا معمولی اہل کار 2011 میں ملیر کراچی کا ایس ایس پی تعینات ہوا تو سات برس میں 745

Read more

صحافت کی شب فتنہ اور الہ دین کے چراغ

علامہ اقبال نے کیا زمانہ اور کیا مقام پایا۔ تیز بیں، پختہ کار اور سخت کوش انسانوں کی وادی لولاب کشمیر سے خمیر اٹھا تھا۔ جموں سے ملحقہ شمال وسطی پنجاب کے قصبے سیالکوٹ میں آنکھ کھولی تو ہندوستان پر غیر ملکی استعمار کا سورج نصف النہار پر تھا۔ چھ عشرے بعد اس درویش صفت فلسفی شاعر نے رخصت لی تو انگریز کا جانا ٹھہر چکا تھا۔ اگر فرنگی کی حاکمیت بیرونی استبداد کی تاریک رات تھی تو اقبال کی

Read more

مجھے سیکولر ازم کیوں پسند ہے؟

انسانی معاشرے کو منظم کرنے کے لیے تاریخ میں مختلف ریاستی نظام اختیارکیے جاتے رہے ہیں۔ کبھی کسی خاص خاندان کو حقِ حکمرانی بخشا جاتا تھا، کبھی کسی مخصوص نسل یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کو حقِ حکمرانی ودیعت کیا جاتا تھا اور کہیں کسی خاص عقیدے کے پیشوا منصبِ حکمرانی کے اہل قرار دیے جاتے تھے۔ اسی طرح ریاست کا نصب العین بھی تبدیل ہوتا رہتا تھا۔ کہیں ریاست کا مقصد شخصی اقتدار کا فروغ قرار پاتا تو

Read more

ویسٹ لینڈ اور نیند میں چلنے والا قبیلہ

اس برس کی آخری سہ ماہی ہمارے ملک میں بہت سی تبدیلیوں کے اشارے لے کر آئی ہے۔ اس سے پہلے لیکن کچھ ذکر 2019ءکے نوبل انعام برائے امن کا جو ایتھوپیا کے44سالہ وزیر اعظم ابی احمد کے حصے میں آیا۔ ابی احمد 18 مہینے قبل شمال مشرقی افریقہ کے ملک ایتھوپیا کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔ ایتھوپیا کی آبادی دس کروڑ سے کچھ زیادہ ہے۔ جنگ، قحط اور سیاسی عدم استحکام اس ملک کی پہچان رہے ہیں۔ 1992

Read more

نواز شریف غریب کیسے ہوئے؟

آج بارہ اکتوبر ہے۔ ٹھیک بیس برس پہلے آج ہی کے دن نواز شریف کو ایوان وزیر اعظم سے گرفتار کیا گیا تھا۔ کل 11 اکتوبر 2019 کو نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں ایک بار پھر گرفتار کیا گیا اور احتساب عدالت نے انہیں جسمانی ریمانڈ پر نیب حکام کے سپرد کر دیا۔ روز بدلی جاتی ہیں کڑیاں مری زنجیر کی۔ 20 برس کے اس سفر میں 10 ستمبر 2007 کا ایک پڑاؤ بھی ہے جب نواز شریف کو

Read more