پاکستان اور ہندوستان 75 سال کے ہو گئے ہیں۔ اگر انسان کے بچے ہوتے تو اب تک بوڑھے ہو گئے ہوتے۔ کسی ٹاہلی کے نیچے بیٹھ کر پرانی باتیں یاد کرتے۔ ہنس دیتے رو لیتے، یہ کہتے کہ جو ہونا تھا ہو گیا۔ جانے دو، ہم نے لڑ بھڑ کر اپنی ساری زندگی گزار دی ہے، اب اگلی نسلوں کے لیے کوئی صلح صفائی کی بات کر لیں۔ لیکن نہیں۔ جو شریکا پچھتر برس پہلے شروع ہوا تھا وہ آج تک نہیں ختم ہوا۔
جن بابوں اور مائیوں نے پارٹیشن دیکھی تھی ان میں سے کئی ابھی بھی حیات ہیں۔ ہمارے کچھ بزرگ پارٹیشن کو نہ آزادی کہتے ہیں اور نہ انہیں یہ یاد ہے کہ ہم نے 1947 میں انگریزوں سے جان چھڑائی تھی، یا ایک نیا ملک بنایا تھا۔ وہ تو بس یہ کہتے ہیں کہ 47 میں لوٹ مچی تھی، ہماری دنیا اوپر نیچے ہو گئی تھی۔
Read more