جوائنٹ فیملی سسٹم کے مضر اثرات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوائنٹ فیملی سسٹم مشرقی روایات کا امین ہے۔ لیکن ہم اپنی سوچ اور رویوں کی وجہ سے اپنی روایات سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو یقیناً بے سکونی کا باعث بھی ہیں جہاں جوائنٹ سسٹم کے بہت سارے فائدے ہیں وہاں کچھ نقصانات بھی ہیں۔ کسی کا تجربہ اچھا رہتا ہے اور کسی کا برا۔ سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے ’حالات و واقعات مختلف اور اسی طرح تجربات بھی۔

بزرگوں کے وجود سے گھر میں جہاں سکون ہوتا ہے وہیں ان کی بدولت برکتیں بھی ہوتی ہیں۔ دل کو ایک سکون ہوتا ہے کہ ان کا سایہ سر پر موجود ہے دعاؤں کے لئے اٹھنے والے ہاتھ موجود ہیں ’لمحہ بہ لمحہ رہنمائی کرنے والے موجود ہیں۔ ہم اپنے بزرگوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں معاملہ فہمی‘ درگزر غرض ہر ہر قدم پر وہ اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور بڑے سے بڑے مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔

جن گھروں میں بزرگ اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں وہ گھر خوشیوں کا گہوارہ بن جاتے ہیں اور گھر کا ماحول خوشگوار بن جاتا ہے جو کہ راحت کا باعث بنتا ہے۔

مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب گھر میں بہوئیں آ جاتی ہیں اب چونکہ وہ دوسرے گھر سے آتی ہیں ان کی سوچ ’طور طریقے‘ رہن سہن حتی کہ پسند نا پسند بھی مختلف ہوتی ہے۔ ان کے نئی زندگی کو لے کر کچھ ارمان بھی ہوتے ہیں۔ ساس بہو کے جھگڑے ہر گھر میں دیکھنے میں آتے ہیں چاہے وہ امیر ہوں یا غریب ’پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ بس تھوڑے بہت فرق کے ساتھ مسائل وہی رہتے ہیں۔

اب چونکہ ساس نے ساری زندگی بھرپور گزاری ہوتی ہے حکمرانی کی ہوتی ہے وہ یہی چاہتی ہے کہ اسی کا حکم چلے ہر بات ’ہر کام اسی کی مرضی سے ہو اور اس کا بیٹا بھی اسی کا رہے۔ اکژ بیٹے بھی رشتوں میں اعتدال نہیں رکھ پاتے اور ان کا جھکاؤ ایک طرف زیادہ ہو جاتا ہے جس سے زندگی کی گاڑی چلنا مشکل ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ جیسا وہ اپنا داماد چاہتے ہیں ویسی تربیت اپنے بیٹے کی بھی کریں تاکہ ان کی بیٹی کی طرح‘ کسی اور کی بیٹی بھی خوش رہ سکے جو آپ کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر آتی ہے۔

کچھ والدین کہتے ہیں کہ اپنے شوق اپنے گھر یعنی شوہر کے گھر جا کر پورے کرنا اب شوہر کا گھر بھی اس کا نہیں بن پاتا۔

بہو جو آتی ہے وہ اپنی مرضی کرنا چاہتی ہے اپنی مرضی سے اٹھنا ’سونا‘ کام کرنا ’گھر کو سجانا وغیرہ اب ساس سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔ بس کھٹ پٹ شروع ہو جاتی ہے۔ جن گھروں میں بیٹیوں اور بہوؤں میں فرق کیا جاتا ہے وہاں حالات زیادہ خراب ہوتے ہیں۔

بیٹیاں دیر سے سو کر اٹھیں تو کوئی بات نہیں لیکن بہو کو اس بات کی اجازت نہیں بے شک وہ بیمار ہی کیوں نہ ہو اسی طرح بیٹیاں گھر کے کام کو ہاتھ نہ لگائیں تو کوئی بات نہیں لیکن بہو کو مشین ہونا چاہیے اور غلطی کی گنجائیش نہیں ہوتی نہ اس کو آرام کی ضرورت ہے کیونکہ وہ انسان نہیں روبوٹ ہے جو تھکتا نہیں ’جس کے کوئی جذبات و احساسات نہیں۔

اسی طرح شادی شدہ بیٹی اہل و عیال سمیت جب دل چاہے آسکتی ہے جب تک رہنا چاہے رہ سکتی ہے لیکن بہو کو ماں باپ کے گھر ملنے جانے کے لئے ساس سسر سے نہ صرف اجازت لینی پڑتی ہے بلکہ باتیں الگ سننی پڑتی ہیں۔

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ بہو کا فرض سمجھا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف ساس سسر بلکہ گھر کے سبھی چھوٹے بڑے کی خدمت کرے ’ناز و نخرے اٹھائے اور اف تک نہ کرے بلکہ ہنس ہنس کر بڑھ چڑھ کر سارے کام کرے اور بدلے میں کچھ نہ مانگے حتی کہ تعریف کے دو بول بھی نہیں۔ یہ جوائنٹ فیملی سسٹم فساد کی نفرت کی جڑ ہے۔ ہر کسی کو اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کا حق حاصل ہے زندگی ایک بار ملتی ہے جسے بھرپور گزارنا چاہیے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بہو اور بیٹیوں میں فرق نہیں ہونا چاہیے دوسرا بہو کو گھر کا فرد سمجھتے ہوئے ہر فیصلے میں شریک کرنا چاہیے اس کی رائے کو مقدم سمجھنا چاہیے۔

جن گھروں میں بیٹیوں کی چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ہوں کی حکمرانی ہو گی ہر بات ان سے پوچھ کر کی جاتی ہو گی وہاں کبھی بہوئیں بس نہیں سکیں گی۔ اگر زیادہ بھائی ہیں تو الگ الگ رہنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ سب اپنے بچوں کی اپنے مطابق تربیت کر سکیں اور آپس میں رنجشیں پیدا نہ ہوں ہاں سب سے چھوٹا بیٹا ماں باپ کے ساتھ رہے تاکہ ان کا خیال رکھا جا سکے کیونکہ ماں باپ کی خدمت کرنا نہ صرف فرض ہے بلکہ ہم ان کی محبت کے مقروض بھی ہیں جس کہ صلہ ہم مر کر بھی ادا نہیں کر سکتے۔

اور اگر کوئی بیٹا اکلوتا ہے تو رہے ماں باپ کے ساتھ لیکن اپنا پورشن الگ کر لے اوپر نیچے رہ لیں ماں باپ کا ہر طرح سے خیال رکھیں کھانے پینے کا‘ صحت کا ’ہر طرح کی ضرورت کا اور سب سے بڑھ کر ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ رشتوں کو بھی سپیس چاہیے ہوتی ہے ہر وقت کی روک ٹوک‘ لڑائی جھگڑا رشتوں میں دراڑ ڈال دیتا ہے اور یہ دراڑ رشتوں کا حسن اور تقدس پامال کر دیتی ہے۔ ایسے ساتھ رہنے کا کیا فائدہ جب دلوں میں نفرت ہو۔

ہمارے معاشرے میں بیٹے کا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ الگ رہنا معیوب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا تاکہ پر سکون رہ  سکیں۔ ماں باپ کی بھی دل آزاری نہ ہو اور آنے والی بھی اپنے ارمان پورے کر سکے۔ سوچ بدلنے میں وقت لگتا ہے اور لوگوں کی باتوں کا ڈر بھی ضرور لگتا ہے لیکن اگر ہم اپنی سوچ کو بدل لیں ’مثبت سوچیں اور لوگوں کا نہیں اپنا سوچیں تو حالات کافی بہتر ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کی زندگیوں میں بے جاہ دخل اندازی نہ کی جائے جیو اور جینے دو پر عمل کیا جائے تو سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •