کانستینتین روکوسووسکی : ”کمانڈر ایر“ سے فاتح مارشل تک

آٹھ مئی 1945 کو شہر برلن کے علاقے کارلس ہورسٹ کے انجنیرنگ کالج میں جو مہمان پہنچے وہ کوئی عام مہمان نہیں تھے۔ دسیوں جرنیلوں کے علاوہ ان میں جرمنی کی تمام مسلح افواج کے کمانڈر اور دو مارشل بھی تھے جن میں سے ایک مارشل سوویت تھا اور ایک امریکی۔ یہ اعلٰی عسکری عہدیدار جرمنی کی شکست کے محضر نامے پہ دستخط کرنے کی خاطر جمع ہوئے تھے۔ سوویت یونین کی جانب سے اس دستاویز پر مارشل گیارگی ژوکوو

Read more

انتون چیحوو اور لیدیا اویلووا

1930 کی دہائی کے اواخر میں ماسکو میں ایک معمّر خاتون رہا کرتی تھیں۔ ان کے پاس دانشور، ادیب اور ادب شناس اکثر آتے تھے اور ان سے عموماً چیحوو کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ ایک روز ان میں سے ایک نے جھنجھلا کر کہا تھا، ”آپ کو پتہ ہے، ہم جتنا بھی سمجھ پائے ہیں ہمیں چیحوو کی زندگی میں گہرا پیار نہیں دکھائی دیا۔ سنجیدہ پیار تھا ہی نہیں“ لیکن یہ سچ نہیں تھا۔ ان کی زندگی میں ایسی خاتون تھیں۔ یہ بوڑھی خاتون یہ بات جانتی تھیں کیونکہ وہ خود وہی خاتون تھیں، لیدیا اویلووا۔

Read more

ڈاکٹر اعزاز نذیر: جو چلے تو کوہ گراں تھے ہم

آپ مخمصے میں پڑ گئے ہوں گے کہ اس مصرعے میں کوئی خامی ہے۔ خامی کوئی نہیں، بس دو لفظوں کو ادھر ادھر کر دیا ہے۔ اصل میں شعر تو یوں ہے : جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے مگر میں اپنے دوست اور رہنما ڈاکٹر اعزاز نذیر صاحب کے لیے یہ شعر یوں پڑھا کرتا تھا: جو چلے تو کوہ گراں تھے ہم جو رکے تو جاں سے گزر گئے میرے

Read more

خودنوشت پل پل کا قصہ ہے

ایک عمر ہوتی ہے جب انسان کی زندگی کی گاڑی کے شاک ابزاربر مضبوط ہوتے ہیں۔ رگوں کے اندر ابھی کولیسٹرول کی تہہ جمنا شروع نہیں ہوتی۔ فشار خون مارے غصے کے بڑھتا تو ہے لیکن بہت جلد معمول پر بھی آ جاتا ہے۔ اس کو نیچے لانے کی خاطر کوئی دوا نہیں لینی پڑتی۔ اذیت کی شدت اگر بہت زیادہ ہو بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ کسی مسکن دوا سے ذہنی دباوؑ کم ہو جاتا ہے۔ اس عمر

Read more

مارشل ژوکوو، ہٹلر کو زیر کرنے والی شخصیت

”فتح کا مارشل“ ”وہ انسان جس نے ہٹلر کو زیر کیا“ دوسری جنگ عظیم کا ایک نامور ترین سپہ سالار۔ قسمت اسے انتہائی بلندیوں پر لے گئی اور پھر قعر گمنامی میں دے مارا، مقدر نے اسے عوام کا پیار اور دشمنوں کی نفرت بخشی۔ اس کے حقیقی سپہ سالار ہونے کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اس کی یادگار بنائی گئی اور اس پر یہ کہہ کر کیچڑ اچھالا گیا گویا اس نے جنگ عقل کی بنیاد پر نہیں بلکہ لمحہ لمحہ فیصلے کرکے لڑی تھی۔ اپنی زندگی میں وہ دوبار فوج کے اعلٰی ترین عہدے پر رہے اور دونوں بار انہیں سوویت عہد کے نازک ترین لمحوں سے گزرنا پڑا۔

Read more

سفاکی کی نفسیات

گذشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر صلاح الدین ایوبی نام کے ایک ملزم کی تھانے میں تشدد کے باعث موت، اس پر افسوس اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے مطالبہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کسی بھی معاملے کو سب کی نگاہوں میں لانے کا اچھا ذریعہ ہے۔ کسی ملزم کو دوران تفتیش جان سے مار دیے جانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اور یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ آخری واقعہ

Read more

اپنا خاکہ کھینچوں یا خاکہ اڑاوؑں

میں اپنے اعمال و اطوار کو اپنی نظر سے دیکھوں یا اوروں کی نظر میں۔ اور بھی تو مختلف طرح کے ہوتے ہیں جیسے پیار کرنے والے، دوست، مداح، ناقد۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پیار کا دعوٰی ہوتا ہے اور بعض اوقات بلند بانگ نوع کا مگر تعلق کے کچھ عرصے بعد جب ضرورتیں اور اختلافات ٹکرانے لگتے ہیں تب محبت کی قلعی اگر یک دم نہیں تو بتدریج اترنے لگتی ہے، پھر آپ ان کی نظر میں

Read more

روس میں بچے کا سکول میں پہلا دن کیسا ہوتا ہے؟

روس کے تمام تعلیمی اداروں میں یکم جون سے 31 اگست تک موسم گرما کی تعطیلات ہوتی ہیں۔ یہاں کے سکول پہلی سے گیارہویں تک ہوتے ہیں۔ چوتھی تک ابتدائی سکول ہوتا ہے۔ پانچویں کے بعدکو وسطی یا مڈل سکول کہا جاتا ہے اور دسویں گیارہویں کو ہائی سکول۔ یہ سکول ہمارے ملک کی طرح علیحدہ علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ایک ہی عمارت میں پہلی سے گیارہویں تک بچے بچیوں، لڑکوں لڑکیوں کو مخلوط تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں کے سکولوں میں تین کلاسیں اہم ہوتی ہیں۔

Read more

میری قانونی بیوی میری شرعی بیوی کا راز کھل جانے پر ناراض ہے

گذشتہ برس بعینہ ان ہی تاریخوں میں میں اسی داچا پرتھا جس میں آج بیٹھا حروف جوڑ کرالفاظ میں ڈھال رہا ہوں۔ لگتا ہے کہ تب اوراب میں کچھ فرق ہے اورکچھ فرق ہے بھی نہیں۔ داچا محض ایک مقام یا جائے استراحت نہیں جسے انگریزی میں کنٹری ہاوؑس کہا جاتا ہے بلکہ یہ گھر ہے جس کی مکین میری قانونی اورشرعی بیوی ہے جو میری خالصتاً شرعی بیوی کا راز کھل جانے پرمجھ سے ناراض ہے۔

Read more

مہذب ہونا ریت ہوتی ہے

دنیا میں جوڑے بنتے اور ٹوٹتے رہتے ہیں۔ کہیں زیادہ جوڑوں کا ٹوٹنا موجب تشویش بنتا ہے تو کہیں زیادہ جوڑوں کا جڑے رہنا باعث حیرت۔ کہیں جڑنا اور ٹوٹنا معمول ہے تو کہیں جوڑنا مہم اور ٹوٹنا الم۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ دو انسانوں کے ملنے، قریب آنے کا عمل جہاں ایک تسلسل سے ممکن ہو پاتا ہے وہاں ٹوٹ جانا کہیں تدریجی عمل ہوتا ہے تو کہیں کسی تدریجی عمل کا اچانک مظہر۔

Read more

کچھ فحش اور فحاشی بارے

  سوشل میڈیا پر ایک عالم شخص نے استناد سے بتایا کہ موسیقی سننا حرام نہیں البتہ فحش حرام ہے چنانچہ موسیقی کی حرمت اگر ہے تو اس ضمن میں کہ اس کے ساتھ فحش عوامل بھی شامل ہوں۔ میرے ذہن میں آیا کہ عمر بیت گئی فحش اور فحاشی سے متعلق سنتے ہوئے جیسے یہ کہ ملک میں فحاشی عام ہو گئی ہے وغیرہ تو کیوں نہ اس فاضل شخص سے استدعا کی جائے کہ وہ "فحش” کی تعریف

Read more

عید پر بھوکا رہنے والے بچوں کے باپ کا رونا

نہ تو سابق بریگیڈیر اعجاز شاہ کے تازہ اعتراف سے غرض ہے جو ایک پورٹل میں یوں درج ہے :

” وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے کہا ہے 2008 ء میں میں نے استعفیٰ دیا کیونکہ میری اور جنرل کیانی کی پلاننگ تھی مسلم لیگ ق کو جتوانے کی۔ بعد میں اس کو undo بھی ہم نے ہی کیا۔ کیانی میرے بھائیوں کی طرح ہیں۔ میرے سے چھوٹے ہیں اور مجھ سے سینئر بھی نہیں مگر جنرل بن گئے۔ ق لیگ کی ڈیل بھی انہوں نے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ کروائی تھی اور نام میرا دیا تھا کہ یہ سب معاملات دیکھے گا۔ میرا موقف یہ تھا کہ پیپلز پارٹی اور ق لیگ ایک ساتھ نہیں چل سکیں گی۔

Read more

طرز حکمرانی پر ماضی کی تربیت کے اثرات

میں اپنی خودنوشت کا دوسرا حصہ لکھنے میں اس قدر مصروف ہوں کہ مجھے کچھ اور لکھنے کی فرصت نہیں مل پا رہی۔ ویسے بھی میں اس بار ماسکو میں مختلف مقام، مختلف ماحول اور مختلف حالات میں رہ رہا ہوں، یہ بھی ایک وجہ ہے۔ البتہ آج مجھے روس کے ایک ویٹیرن صحافی اور جرنلزم اکیڈیمیشن ولادیمیر پوزنر صاحب کا ایک بیان پڑھنے کو ملا جس نے مجھے خودنوشت کے علاوہ کچھ اور لکھنے پر مائل کیا۔ پہلے وہ

Read more

روس کے داچا میں دو روز

یہاں روس میں، بڑے شہروں کے باسی، بیشتر لوگوں کو دیہات کی زندگی بہت ہی اچھی لگتی ہے۔ جس سے سنو وہ شہر سے دور فضا کی پاکیزگی کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتا۔ مگر شہروں کی فضا کو آلودہ ہوئے تو زیادہ عرصہ نہیں ہوا یہی کوئی سو سوا سو برس کی صنعتی زندگی اور بعد میں مشینی گھوڑوں یعنی گاڑیوں کے عام اور زیادہ ہونے سے شہروں اور قصبوں کی ہوائیں مسموم ہوئی ہیں مگر روسی شہریوں کو اس

Read more

اقتدار کی اخلاقیات

روسی کا ایک محاورہ ہے ”پیسے سے بو نہیں آتی“ مطلب یہ کہ پیسہ جس طور بھی کمایا جائے، اس میں سے بو نہیں آتی جس سے معلوم ہو پائے کہ مناسب ذرائع سے کمایا گیا ہے یا نامناسب ذرائع سے۔ جائز طور پر کمایا گیا یا ناجائز طور پر۔ محنت مزدوری سے حاصل کیا گیا یا اجرت کا قاتل بن کر مگر متمدن دنیا نے ایسے قوانین مدون کر لیے ہیں اور احتساب و توازن کا ایسا نظام قائم

Read more

چوک میں میلے کپڑے دھونا کہنا غلط ہے

جو بات دو یا دو سے زیادہ لوگ جانتے ہوں اور اس میں ایک یا دوسرے یا دونوں کا کوئی نقص، کوئی ناراحتی، کوئی اختلاف، کوئی نافہمی یا کوئی غلط فہمی مخفی ہوں یا عیاں اس بات کو سب سے سامنے کرنے سے متعلق انگریز بادشاہ نے ایک کہاوت گھڑی To wash the dirty linen in open جس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے میلے کپڑے سب کے سامنے دھوو گے تو اس سے آپ کی سماجی حیثیت، آپ کا

Read more

پاکستان میں معاملات کو تہ و بالا ہونے میں دیر نہیں لگتی

مجھے نہ تو ٹرمپ اور ٹرمپ یا عمران خان اور عمران خان کی ملاقات بارے لکھنا ہے نہ ہی میلانیا کی ام دا ڈم کے ساتھ تھوڑی سی چپکی تصویر بارے نہ ہی کسی ملک کے وزیراعظم کی چاہے اسے سیلیکٹڈ ہی کیوں نہ مانا جائے ایک بڑے ملک کے الیکٹڈ صدر کی بیوی کو نم و گرم آنکھوں سے پینے کی سعی کرنے سے متعلق کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ مرد کے ہارمون عمر کے ساتھ کم تو

Read more

اخلاقیات کیا اجتماعی وصف ہے یا انفرادی؟

کسی بھی انسان کا بہتر سماجی شعور اور اس سے اجتماعی طور پر وضع کردہ اصول و قواعد پر مناسب عمل پیرائی اخلاقیات کہلائے گا۔ ضروری نہیں کہ سماجی شعور اجتماعی طور پر بلند ہو تو اخلاقیات کا معیار بہتر ہوگا۔ درحقیقت ایک عرصے سے جاری رسوم و رواج اخلاقیات کی تدوین میں ممد ہوتے ہیں۔ اخلاقیات کے اجتماعی پیمانے معیشت میں آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ بدلتے جاتے ہیں جیسے جاگیردارانہ سماج کی اخلاقیات اور نوع کی ہوگی، سرمایہ

Read more

ملک عزیز میں جنسی گھٹن کا جائزہ

یقین کیجیے ان عرب ممالک میں جہاں سے جدید مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام کی ابتدا ہوئی نہ وہاں کبھی پہلے اس قدر جنسی گھٹن تھی نہ آج ہے جتنی برصغیر میں تھی اور آج بھی ہندوستان اور پاکستان میں ہے۔

مذاہب کی جنسی اختلاط پر قدغنوں کو اس لیے دوش نہیں دیا جا سکتا کہ اگر ایسا ہوتا تو عرب ملک بھی جنسی گھٹن کا شکار ہوتے۔ یہ بھی دیکھیے کہ ہندومت میں نہ صرف جنس بلکہ جنسی عمل تک مذہبی رسوم کا حصہ رہیں۔ دیو داسیاں تو آج تک کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ اس کے باوجود بہت پہلے کام سوتر ( کاما سوترا ) پھر کوک شاستر اور جنس سے متعلق دوسرا مواد بھی اسی خطے میں لکھا گیا۔ جبکہ عربی میں پندرہویں صدی عیسوی میں محمد ابن محمد النفظاوی کی لکھی ایک کتاب، ”الروض العاطر فی نزھة الخاطر“ ‎ ہی مشہور ہو سکی جس کا ترجمہ The Perfumed Garden کے نام سے انگریزی میں کیا گیا ت

Read more

روز بیتی کہنا سہل نہیں

چاہتا تو لوگوں کی ازدواجی یا محض خانگی زندگی کی دسیوں کہانیاں لکھ سکتا تھا اور لکھ سکتا ہوں۔ دو جمع دو چار کی مانند جان لیجیے کہ دو انسانوں کی باہم زندگیوں میں چلی سے لے کر جاپان تک اور ناروے سے لے کر نیوزی لینڈ تک، کوئی فرق ہوتا ہے تو بس اٹھارہ بیس کا ویسے کوئی فرق ہوتا نہیں ہے۔

بیاہتا ہوں یا باہم بسر، بے اولاد ہوں یا با اولاد معاملات قریب قریب ایک سے ہوتے ہیں بس کہیں زیادہ وقت اکٹھے گذارنے یا کم وقت باہم بتانے کا فرق ہوتا ہے۔

Read more

بیویاں غیر ہوتی ہیں اور بچے اپنا خون

کل رات میں نے جھنجھلا کے وٹس ایپ پہ اپنی غلط روسی میں پیغام لکھا تھا: ”یہ کیا ہو رہا ہے۔ مجھے آئے آج دسواں روز ہے، معاملہ نہ ادھر ہو رہا ہے نہ ادھر۔ اگر تم نے طلاق کی درخواست دے دی ہے تو بتاو، میں اپنا اسباب اٹھا لے جاتا ہوں اور اگر نہیں دی تو بیٹھ کر بات کرتے ہیں“۔

پیغام بھیج کے میں سو گیا تھا۔ صبح دیکھا تو جواب موصول ہوا ہوا تھا، ”مجھے کسی معاملے پر بات نہیں کرنی۔ ہم ابھی ماسکو کے راستے میں ہیں۔ کل سہ پہر کو اپنی چیزیں لینے آ سکتے ہو“۔

Read more

مذہب کارڈ اور انجان عوام

آج 6 جولائی کے ایک پاکستانی معاصر روزنامہ کی شہ سرخی یوں ہے : برطانیہ، مدینہ فلاحی ریاست کی نقل۔ چین نے ان اصولوں پر عمل کرکے دس کروڑ عوام کو غربت سے نکالا۔ مدینہ آج کی ماڈرن سٹیٹ تھی، عمران خان۔ کیا آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ریاست کا وہ تصور تھا جو آج ہے۔ اس سے بھی بہت پہلے یونان کے ایک جزیرے کے باسیوں نے ریاست کا تصور ضرور پیش کیا تھا اور اس پر

Read more

یہ دلوں کے سلسلے ہیں

زندگی میں کئی موڑ آتے ہیں۔ زندگی کی تلخیوں اور شیرینی کا ذمہ دار جہاں ایک طرف خود ہر شخص ہوتا ہے وہاں مقدر کا بھی ہاتھ ہوتا ہے جو مقدر نہیں مانتے، اونچ نیچ سے واسطہ ان کا بھی پڑتا ہے۔ تو ایسا ہی ایک موڑ بارہ برس پہلے میری زندگی میں آیا تھا جس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ میں آپ بیتی نہیں لکھ رہا۔ خیر میری زندگی میں ایک اور لڑکی در

Read more

حکومتیں چلنی چاہئیں

یہ فقرہ بظاہر تو ایسے لگتا ہے جیسے کھانا پکنا چاہیے یا سورج نکلنا چاہیے مگر بعض اوقات لکڑیاں یا گیس نہیں ہوتیں تو کھانا نہیں پک سکتا چاہے آپ کی شدید خواہش ہو اور آپ کے پاس کھانا پکانے کے لوازمات خریدنے کے وسائل بھی ہوں اور لوازمات دستیاب بھی ہوں۔ اسی طرح مطلع ابر آلود ہو تو سورج نکلنے کے باوجود نہ تو دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی اس کی حدت پوری طرح محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہی حال کچھ حکومتوں کا بھی ہوا کرتا ہے، چاہے آپ جس قدر بھی چاہیں کہ وہ چل پائیں مگر وہ چل نہیں پاتیں۔ ایسا ہی کچھ پاکستان کی موجودہ حکومت کا احوال ہے کہ باوجود ان کی خواہش کے بھی جو اس کے مخالف ہیں نہ تو یہ چل رہی ہے اور نہ مستقبل میں چلتی دکھائی دیتی ہے۔

Read more

بجٹ وجٹ چھوڑو، قوت خرید دیکھو

میرے پیارے دوستوں میں سے ایک جو نہ صرف عمر میں دو چار سال ”بزرگ تر“ ہیں بلکہ حکومت پاکستان سے تمغہ حسن کارکردگی بھی پا چکے ہیں، سیاستدانوں کی مانند گذشتہ ایک دو برس سے اپنی ہمدردیاں پی پی پی سے تبدیل کرکے تحریک انصاف کے حامی ہو رہے ہیں۔ بحث میں جھگڑتے نہیں بلکہ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بات پر ڈٹے ہمیں غلط ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ رجائیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں جو ہمارے دوسرے فرانس نژاد ادیب دوست کے مطابق جھوٹی اور لغو کیفیت کا نام ہے۔رات جب میں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں ہیں تو بولے میں تو معاشی حالات کو تب برا تسلیم کروں اگر دکانوں پر گاہکوں کا ہجوم کم ہو، ریستوران خالی دکھائی دیں۔

Read more

حقائق سے ڈرانا ہے

عید کے روز میرے پسندیدہ کالم نگار نصرت جاوید نے لکھا کہ گندم سے متعلق مجھے کسی شخص نے کچھ بتایا ہے جو بتا کر کے میں آپ کو عید کے روز اداس نہیں کرنا چاہتا۔ عید کے روز البتہ شام کو جب میں نے دوست کے فرزند سہیل خان لشاری سے جو علی پور ضلع مظفر گڑھ میں کسانوں / زمینداروں کو ٹریکٹر قسطوں پر فروخت کرنے کا کاروبار کرتا ہے، سے کاروبار سے متعلق پوچھا تو اس نے گذشتہ دو فصلوں کی حالت زار سے متعلق، کسانوں پر پڑی افتاد اور مستقبل میں ملکی حالات پر پڑنے والے منفی اثرات کا نقشہ کھینچتے ہوئے یوں بتایا۔

Read more

اٹھ رخت سفر باندھ

میں شخصیت کے حوالے سے مضطرب انسان ہوں جسے آپ Hyperactive یا Mildly autistic بھی لیبل کر سکتے ہیں۔ میں کتاب پڑھتے پڑھتے اس کے کسی لفظ پہ فقرہ پورا پڑھے بن مطالعہ ترک کر سکتا ہوں۔ کتاب کے اختتام پر تو ویسے ہی جھنجھلایا ہوتا ہوں معلوم نہیں میں نے سوا سات سو صفحات کی کتاب کیونکر لکھی اور ہاں ایک بالکل مختلف وصف بھی ہے مجھ میں کہ کچھ ٹھان لوں تو نتیجہ تک پہنچے بن، چاہے غلط ہو یا درست، سود مند ہو یا مبنی بر خسارہ، میں چین سے نہیں بیٹھتا دوسرے یہ کہ میں بالعموم کسی سے یعنی باقاعدہ کسی سے محبوب ہو یا حبیب، بچے ہوں یا بڑے بہن بھائی، دوست ہوں یا اغیار وعدہ نہیں کرتا، ہمیشہ کہہ دیتا ہوں کوشش کروں گا لیکن اگر وعدہ کر لیتا ہوں تو طبع پر چاہے جتنی گرانی گزرے، وعدہ پورا کرتا ہوں۔

Read more

محصور من الملک

میں نے صبح کے اس وقت زندگی میں کچھ نہیں لکھا۔ مجھے نماز فجر کے بعد سو جانا چاہیے تھا مگر پہلی بات تو یہ کہ کمرے میں کوئی جھینگر اپنے پر مل رہا ہے جس سے ایک یکساں چک چک یا ٹک ٹک، جیسا بھی سمجھ لیں، قسم کی آواز نکل کے دماغ میں بج رہی ہے دوسرے ملک میں ایسے ایسے جھینگر اپنی اپنی آوازیں نکال رہے ہیں۔ کہیں وزیر سائنس و ٹکنالوجی فرماتے ہیں کہ وزارت سائنس

Read more

پریشاں سا پریشاں

کوئی ڈیڑھ عشرہ پہلے کی بات ہے کہ میری، مبنی بر تحقیق کتاب ”محبت۔ تصور اور حقیقت“ شائع ہوئی تھی۔ درحقیقت میں نے اس نوع کی تحقیق کو تین حصوں میں منقسم کیا تھا۔ ارادہ تھا کہ اگلی جلد ”مباشرت۔ تعیش اور ضرورت“ اور آخری ”مناکحت۔ تعلق اور کدورت“ ہوگی بلکہ میں نے یہ پہلی ( پھر اس ضمن میں آخری ) کتاب جب اپنے دوست نذیر لغاری کو تحفہ کی اور اس کی کار میں سوار کہیں جاتے ہوئے

Read more

سیاست خواہشات پوری ہونے کا نام نہیں

اسلام آباد میں کہنہ مشق صحافیوں اور روشن ذہن اساتذہ سے ملاقاتیں ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ ملک میں سیاست کچھ ناقص طرز کی ہو رہی ہے اس لیے عموماً موضوع گفتگو سیاست اور سیاستدان ہوتے ہیں۔ نزلہ سیاستدانوں کے ساتھ فوج کی اشرافیہ پر بھی گرتا ہے جس کی ماضی کی عیاں اور حال کی مخفی روش نے ملکی معیشت کو یہ دن دکھائے ہیں کہ وزیراعظم بیان دے دیتے ہیں اگر سعودی عرب وغیرہ مالی مدد نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا یعنی دیوالیہ ہو جاتا۔ اس بیان کو عجیب بھی کہا جا سکتا ہے اور رندانہ جرات اظہار بھی۔

Read more

پاکستان کا لندن

ویزا لیا، ٹکٹ خریدا، طیارے میں سوار ہوئے اور لندن جا اترے۔ میرے لیے لندن ایسا مقام ہے جہاں کی فضا میں پہلا سانس لیتے ہی مجھے گھٹن کے معدوم ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ اگرچہ میں جب بھی گیا ماسکو سے لندن گیا اور ماسکو بھی سیاسی طور پر ویسا گھٹن سے پر نہیں جیسا ملک عزیز ہے۔البتہ پہلی بار ٹوٹی پھوٹی، انتہائی پر خطر قراقرم ہائی وے سے میں ساڑھے سترہ گھنٹے کے جانکاہ سفر کے بعد گلگت پہنچا تھا۔ اس سے پہلے بیالیس برس پیشتر فوکر یا سی 130 کے ذریعے ہی گلگت پہنچنا اور وہاں سے نکلنا رہا تھا۔ میں اس دوران ہنزہ نہیں جا پایا تھا۔ اس بار عزیزی زاہد کاظمی نے گرمی سے متعلق میری کل کل کو روکنے کی خاطر ہنزہ لے جانے کا عزم کیا تھا۔

Read more

آزادی، جمہوریت اور مساوات

نفسیات کی ایک اصطلاح ”فکسڈ آئیڈییشن“ یعنی ”فکر منجمد“ بھی ہے۔ اسی میں مبتلا ایک سابق مزدور رہنما نے مجھ سے سوال کیا کہ ”آزادی، جمہوریت اور مساوات“ بارے آپ کا کیا خیال ہے آیا یہ ہمارے ملک میں موجود ہیں اور اگر نہیں تو انہیں پانے کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ یہ تینوں صفات ہمارے بلکہ آپ کے ملک میں موجود ہیں۔ آزادی یوں کہ چوک میں بیٹھ کے ہم بات کر رہے ہیں اور جیسی بھی بات کریں گے اسے کوئی بھی سن سکتا ہے۔

اگر میں اور آپ مل کے کوئی ریاست مخالف منصوبہ نہیں بنا رہے تو نہ ہم پر کسی نوع کی قدغن ہے اور نہ ہی گرفت۔ جمہوریت اس لیے کہ کم از کم تیسری بار ہے کہ ملک میں انتخابات کے ذریعے حکومت تبدیل ہوئی ہے اور مساوات اس لیے کہ غیر ترقی یافتہ ملکوں میں مساوات اسی نوع کی ہوا کرتی ہے کہ کہیں غریبوں کے لیے تفریق نہیں ہے۔ آپ نے ستھرے کپڑے پہنے ہوں تو آپ پنج ستارہ ہوٹل میں گھس کے کم از کم اس کے لاونج میں کئی گھنٹے بیٹھ سکتے ہیں چاہے آپ کی جیب یکسر خالی ہو۔ ہاں مفت میں سروس تو آپ کو نہیں مل سکتی چاہے وہ خواب کا سا اشتراکی نظام والا ملک ہی کیوں نہ ہو۔

Read more

بائیں بازو کی فکری کنفیوژن

پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے ریت ڈالی تھی کہ سوال کے جواب میں کہا کرتے تھے، ”حامد، مجھے یہ بتاؤ۔ “ یعنی اگر حامد میر نے ہی بتانا ہے تو اسے ہی پارٹی کا سربراہ ہونا چاہیے تھا اور اسے ہی مستقبل میں جیسے آپ بنے ویسے وزیراعظم مقرر ہو جانا چاہیے تھا۔تین ماہ سے زیادہ پاکستان میں قیام کرتے ہوئے مجھے یہی لگنے لگا ہے جیسے یہ فیشن ہو گیا ہو۔

Read more

علم سے پہلے تعلیم

ویسے تو ہری پور ہزارہ شہر میں زاہد حسین کاظمی نے مجھے یوں مہمان کیا بلکہ گھر کا فرد بنایا تاکہ میں اپنی خودنوشت کے پہلے اور دوسرے حصے پر مبنی 702 صفحات پر مشتمل ”پریشاں سا پریشاں“ ( ویسے بیشتر لوگوں پر واضح کرنا پڑ رہا ہے کہ پریشاں کا مطلب پریشان ہونا نہیں بلکہ بکھرا ہوا ہونا ہے ) کے عنوان سے کتاب کی تقریب رونمائی میں شریک رہوں۔ یہ کتاب خود زاہد کاظمی نے سنگی کتاب گھر ہری پور سے شائع کی ہے۔ چھاپے خانے اور جلد ساز کی جانب سے تاخیر کے سبب کتاب بروقت نہ مل پائی یوں تقریب کا ہونا موخر ہو گیا۔ خیر کتابیں شائع ہوا کرتی ہیں۔ دلچسپ ہوں تو رونمائی درکار نہیں ہوتی۔

Read more

دو نئے محبوب

  نہ تو محبوب بنانے کی عمر ہے نہ فرصت مگر محبوب بنائے تھوڑا نہ جاتے ہیں، محبوب تو بس بن جایا کرتے ہیں۔ ایک ہی نظر میں، ایک کلمہ سن کے، اس کی ایک اچٹتی نگاہ کو محسوس کرکے۔ اب یہ پوچھنا کہ کوئی محبوب کیوں بن جاتا ہے ویسا ہی سوال ہے جس کا جواب دیا جانا اگر ممکن ہو تب بھی وہ جواب کسی نہ کسی پہلو سے کسی نہ کسی زاویے سے بآسانی رد کیا جا

Read more

چل وے منا ہن پنڈی چلیے

راولپنڈی سے شناسائی تب ہوئی تھی جب مجھے پنڈی والوں نے ”حضرت سلیمان کی جیل“ بطورکپتان قید ہونے بھیجا تھا۔ گلگت کی پرواز ہفتہ بھر نہ جاتی تومیرے جیسے ”ہارڈ ایریا“ میں تعینات افسر ٹرانزٹ افسرز میس میں پڑے رہتے۔ میں صدر کے علاقے میں کتابوں کی معروف دکانوں سے بہترین انگریزی کتابیں خریدتا رہتا یا پھر گھومنے کو اسلام آباد کے روز اینڈ جیسمین گارڈن چلا جاتا۔ اے ایم سی سنٹر میں ٹریننگ کے دوران سنٹر میں تعینات کیپٹن

Read more

کیا معاشرے میں رائج اعمال سے ہٹ کر خوشحال ہونا ممکن ہے؟

میرے ایک دوست ہیں، خاصے انسانیت پسند مگر خوشحال ہوتے ہوتے کچھ سنکی ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں غریبوں سے تمہارا واسطہ نہیں پڑا یہ سب سے زیادہ ظالم ہوتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ سبھی معاملات کے بارے میں سوچنا ہمارا کام نہیں یہ مخصوص لوگوں کا کام ہے جیسے مذہبیات، سیاست، معاشرت وغیرہ وغیرہ۔ مجھے ان کا کہا ایسے سمجھ آیا کہ اگر آپ ایر کنڈیشنڈ کار میں سوار ہیں، اگر ایک پوش علاقے میں آپ کا اچھا اور مجہز مکان ہے، اگر آپ کا معیار زندگی بیشتر لوگوں سے بہتر ہے تو ان اشیاء اور اخراجات کو ممکن اور قائم بناتے ہوئے اپنی یعنی اپنے کنبے کی زندگی بہتر بنانے کی لگن ہونی چاہیے اور بس۔ باقی سب سے آنکھیں موند لو کیونکہ آپ اس سب کو بدلنے سے قاصر ہیں۔

Read more

ناواقف آداب غلامی پرائم منسٹر

تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے ویسے تو یہ انقلابی شاعر جناب حبیب جالب کا شعر ہے جو مبینہ طور پر نواب آف کالا باغ امیر محمد خان کے حکم پر فلم سٹار نیلو کو رقص نہ کرنے بلکہ اقدام خودکشی کرنے کی خبر کے بعد کہا گیا تھا مگر معروف تب ہوا جب اداکارہ مذکور کے شوہر نے اپنی فلم ”زرقا“ میں اسے اپنی اہلیہ پر بطور گیت فلمایا تھا

Read more

ملتان اس بار …

میں سوچ رہا تھا کہ وقت بہت بیت گیا۔ نوجوان بھی استراحت کرنا چاہتے ہوں گے اگرچہ وہ کہہ رہے تھے کہ آپ چاہیں تو لیٹ رہیں، آرام کر لیں۔ میں نے جانا چاہا۔ پہلے یوسف مرزا کو فون کیا مگر وہ شہر سے باہر تھا۔ اس نے ڈینٹل ڈاکٹر فضل کا فون نمبر بھیج دیا کہ آپ خود طے کر لیں اور جا کر دانت دکھا دیں۔ میں اتنا مستعد کہاں ہوں۔ اعجاز کو فون کیا، بعد میں معلوم

Read more

ملتان کی محبتیں

لاہور سب کے دل میں بیٹھا ہوتا تھا۔ کہیں گورنمنٹ کالج لاہور کے بارے میں پڑھ لیا تھا تو وہاں داخل ہونے کی ضد کر بیٹھا تھا۔ علی پور ضلع مظفرگڑھ جیسی دور افتادہ بستی سے لاہور پہنچا۔ جیسی کے اقبال ہوسٹل میں رہتے ہوئے گھر کی بندھن والی فضا سے نکلا تو دو کام کرنے شروع کیے پہلا صبح دوپہر شام فلمیں دیکھنا اور دوسرا عشق کے بارے میں قطعی انجان ہوتے ہوئے عشق کر بیٹھنا، وہ بھی جوانی کا۔ بڑی کوشش رہی کہ کم نمبر آئیں ‌تو لاہور میں ہی بی اے ایم اے وغیرہ کرلوں مگر اردو اور انگریزی مروا گئیں کہ نمبر پھر بھی اتنے آ گئے کہ میڈیکل کالج میں داخلہ مل جائے۔ زمانہ ٹیگ سسٹم کا تھا، اسی علاقے کے میڈیکل کالج میں داخلہ ملتا جہاں کا آپ نے ڈومیسائل لیا ہوتا۔ اتنی عقل نہیں تھی نہ کسی نے مشورہ دیا کہ ڈومیسائل تو بہن کے گھر لاہور میں بھی بن سکتا تھا، تھوڑی سی بددیانتی کرکے۔ یوں مجھے نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخل ہونا پڑا تھا۔

باوجود سات سال ملتان میں بسر کرنے کے، اس عرصے میں بطور کپتان ملتان میں پوسٹنگ کا دورانیہ بھی شامل ہے، ملتان کبھی نہیں بھایا تھا۔ اب کی بار میں پانچ روز ملتان میں بتا کر آیا ہوں تو ملتان بہت اچھا لگا ہے، کراچی کیا لاہور سے بھی زیادہ۔ لاہور میں تو میٹرو بس کی راہ نے وہاں کے حسن کو دھندلا دیا یا ہے اس کے برعکس ملتان کی سڑکوں کے حسن کو اجاگر کر دیا ہے، شاید سونے پر سہاگہ تجاوزات ہٹایا جانا رہا۔

Read more

جب اچھی خبریں کم ہوتی ہیں

وطن عزیز میں مقتدر زعماء کو خوش خبری سنانے کا بہت شوق ہے۔ کوئی کہیں سے سونے چاندی کے ذخائر نکلنے کی خوش خبری سنا چکا تو کوئی تیل کی بوتل دکھا کے لوگوں کا دل بہلا چکا تو کوئی اب خوش خبری سنانے کی خبر دے کر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال چکا۔ منتظر لوگوں میں کوئی وزیراعظم کے ہاں منے منی کی ولادت کی نوید سننے پر تلا بیٹھا ہے تو کوئی تیل کے بے تحاشا ذخائر دریافت

Read more

تعلیم یافتہ لوگ لوگوں کو کیا بتائیں؟

کل میں ‌معاشرے کے ایک اہم فرد سے مغز ماری کرتا رہا کہ ہم پڑھے لکھوں کو لوگوں کو کیا بتانا چاہیے مگر انہوں نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ میں کوئی دیوانہ ہوں جو عام روش سے ہٹ کر بات کروں تاکہ لوگ نہ صرف یہ کہ مجھ سے ملنے سے گریزاں ہوں بلکہ عین ممکن ہے میرا ناطقہ بند کر دیں۔ بات ہو رہی تھی نام نہاد میڈیا کی جانب سے دماغ میں ٹھونسے جانے والے

Read more

تقابل اپنے ایسوں کے ساتھ

میں قریب ایک ہفتے سے اس شہر میں ہوں جہاں اس جہان میں آنا میرا مقدر ٹھہرا تھا۔ جب میں گھر کے صحن سے آسمان کی جانب دیکھتا ہوں تب مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں کہیں گیا ہی نہیں تھا، نہ پڑھنے کی خاطر، نہ ملک کے اندر کہیں گھوما نہ ملک سے باہر کبھی گیا، ہمیشہ یہیں رہا ہوں۔ اس کے برعکس میں جب دروازہ کھول کر گلی میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ اتنا عرصہ بیت گیا مگر نالیوں میں وہی تعفن ہے۔ پانچ برس کی عمر میں ناک پر ہاتھ رکھے گھر کے در سے سڑک تک کے تیس پینتیس قدم بھاگ کرکے عبور کرتا تھا اب ناک پر رومال رکھنا پڑتا ہے۔

Read more

ناستلجیا کا دیہانت

ٹہنیوں سے لٹکتے قرمزی پھول، ہر پھول کے بطن سے ابھرنے کی کوشش کرتی لمبی پتلی زرد ڈنڈی جس کے آخری سرے پر زردانوں کا دلکش گچھا، گہرے سبز چمکدار دندانے دار پتوں والے بھرپور گڑھل کے پودے تلے بچھے زمین کی سطح سے چھ انچ بلند تخت پر سجدے کی جگہ پر چنبیلی کی کلیاں دھرے تسبیح و عبادت میں مشغول ماں تو ربع پیشتر کسی اور جہاں سدھار گئی تھیں۔ نہ وہ پودا رہا، نہ وہ پھول رہے نہ وہ تخت رہا۔ اب تو اس پکے برآمدے میں، جو ان کی مرض کے دوران تعمیر ہوا تھا اور اس کمرے سے جہاں وہ ایک عشرہ مفلوج پڑی رہیں، شاید وہ اسے دیکھ ہی نہ پائی ہوں، بچھے اڑھائی فٹ اونچے تخت پر نماز پڑھنے کو چڑھنا، ان کے بوڑھے بیٹے بیٹیوں کے لیے دشوار ہے۔

Read more

ناک پہ غصہ دھرا ہوا

8 مارچ کو گزرے کئی روز ہو گئے۔ کوئی خواتین مارچ ہوا تھا۔ کوئی پلے کارڈز کا مسئلہ تھا۔ کچھ کے لیے ان پہ لکھے نعرے درست تھے، کچھ کے لیے نہیں، کچھ کی نگاہ میں معیوب تھے کچھ کی نظر میں دلچسپ۔ کچھ نعرے گذشتہ برس کے تھے جیسے ”میں کھانا گرم نہیں کروں گی“ کچھ نئے تھے جیسے ”اپنا بستر آپ گرم کرو“ اگرچہ یہ نعرہ ناقابل فہم ہے، اور جو سمجھا جا سکا وہ ناقابل عمل۔ میں Misogynist نہیں ہوں مگر چونکہ آگاہ ہوں کہ فیمینزم کی تحریک کیوں شروع ہوئی، کیسے شروع ہوئی، کس طرح آگے بڑھی اور اس کا انجام کیسے ہوا۔

فیمینزم کی کتنی روئیں Waves چلیں، ہر ایک کے پیچھے کیا عوامل تھے، اب اس کی کون سی رو ہے اور اس سے بھی آگاہ ہوں کی فیشن نما تحریک چاہے ملبوسات سے متعلق ہو یا کسی سنجیدہ مقصد کی خاطر اس کی شروعات مغرب سے ہوتی ہیں، پھر وہ ترقی پذیر ملکوں کے فیشن ایبل متمول طبقے میں سرایت کرتی ہے، جب تک وہ نچلے متوسط طبقے تک پہنچتی ہے، متمول طبقے میں فیشن کی کوئی نئی رو جگہ پا چکی ہوتی ہے جیسے نچلے متوسط طبقے کی لڑکیاں اب جینز پہن رہی ہیں جبکہ متمول فیشن ایبل حلقے کی لڑکیوں کے ملبوس میں جینز پہننا آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا، اس لیے میں فیمینزم کا حامی تو ہوں مگر فیمینسٹ نہیں ہوں۔

Read more

جنگ کا پہلا مقتول سچ ہوتا ہے

اگر سچ بولا جائے تو جنگیں نہیں لڑی جا سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ جنگ میں پہلا وار سچ پر ہوتا ہے یعنی Truth is the first casualty of war  تو casualty کا ترجمہ مقتول ہو سکتا ہے۔ جنگ چونکہ دو یا دو سے زیادہ ملکوں کے درمیان لڑی جاتی ہیں اور جنگیں ہارنے کے لیے تو لڑی ہی نہیں جاتیں۔ پھر جنگ کرنے والے ملکوں میں لوگ رہتے ہیں، جنگ کرنے والے ملکوں کی فوج

Read more

سو دن چور کے اور سو دن پی ٹی آئی حکومت کے ۔۔۔

ایک سرچ انجن ہے گوگل نام کا۔ اس میں انگریزی میں لکھیے ”حکومت کے 100 دن“ تو ماسوائے کیوبا میں 1933 میں کسی 100 روز کی حکومت کے اور تسمانیہ نام کے جزیرے، جو آسٹریلیا کے نزدیک ہے کی لبرل پارٹی کے 100 دن کے پلان کے تحریک انصاف کی حکومت کے 100 روز سے صفحات کے صفحات بھرے ہوئے ہیں جس سے تصدیق ہوتی ہے کہ 100 روز کا درفنطنی نما بکھیڑا میرا، آپ کا یا کسی اور کا گھڑا ہوا نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کا گیان ہے جس کے روح رواں عمران خان ہوتے ہیں۔

Read more

مذہب سے متعلق ملانہ رویے

کل جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد کے فرسٹ فلور سے جسے روس میں دوسری منزل کہا جاتا ہے، سیڑھیاں اتر رہا تھا تو ایک پاکستانی صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ باقاعدہ نمازی ہیں اور ریڈی میڈ کپڑوں کے تاجر بھی، بولے کہ ابھی نماز عصر کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ مجھے کہیں جانا ہے۔ بولے آخرت بنائیں۔ میں نے بس اتنا ہی کہا کہ نماز تو انشاٗاللہ پڑھوں گا ہی۔ مجھے جہاں اور جن سے

Read more

پہلے آتی تھی ہنسی

اتنا کچھ کہا اور ہر کہے کی نفی کی مگر ہم اس بارے میں اب کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ ماہ نیم شب اس سے متعلق ”یو ٹرن فلسفہ“ بگھار چکے ہیں اور ان کے مغبچے اس لایعنی ”دانشمندی“ کا دفاع کرنے میں بھی پوری طرح مصروف رہے۔ ہم نام نہاد این آر او بارے بھی بات کرنے والے نہیں ہیں چاہے اس کا اطلاق علیمہ خان کی دبئی والی جائیداد کو اسی طرح ریگولرائز کرنے پرہی کیوں نہ ہوتا ہو جیسے بنی گالہ کی جائیداد کو ریگولرائز کروانے کی اجازت دی گئی ہے۔

Read more

عمران خان کے تین ماہ پورے، لب آزاد

ماہ نیم شب نے 18 اگست کو ملک خداد داد، پاکستان کے وزیراعظم ہونے کا حلف خاتم النبیین کو بڑی مشکل سے خاتم النبیون کہتے اور اس پر خود ہنستے ہوئے دیا تھا۔ پھر کچھ عرصہ بعد صحافیوں سے ملاقات میں خواہش کی تھی کہ تین ماہ تک صحافی ان کی حکومت پر تنقید نہ کریں تاکہ وہ اپنی راہیں استوار کر لیں۔ کسی اور لکھنے والے نے ان کے کہے کا پاس کیا ہو یا نہ مگر میں نے ان تین ماہ میں ایسا کوئی مضمون نہیں لکھا جس سے ان کی حکومت پر تنقید کیا جانا ثابت ہو سکے۔ میں وضعدار آدمی ہوں مگر ایک پہاڑی قوم کے شخص کے ساتھ پھر سے ملاقات کے خوف کے باوجود وضعداری سے باغ میں بیٹھے رہنے کی حماقت کرنے والا بھی نہیں۔

آج 17 نومبر ہے، عہد کی پاسداری کا وقت تمام ہوا تو ماہ نیم شب نے خود سے ایک لغو بیان دے کر تنقید کرنے کی راہ کھول دی۔ یاد رہے رہنما کا کہا نہ کوئی ذاتی عمل ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کہے کا اطلاق محض اس کی ذات پر ہوتا ہے بلکہ اس کے رہنما ہونے کے سببب اس کی کہی کوئی بھی بات پیروکاروں کے لیے نہ صرف مشعل راہ کی مانند بلکہ ایک حکم کے مترادف ہوتی ہے۔ ایک ہدایت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ایک تلقین بھی۔

Read more

کچھ ہو تو بات کی جائے نا

آنیاں جانیاں ہو رہی ہیں، ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ ملک عزیز کی حکومتیں اگر ذوالفقار علی بھٹو سا رہنما نہ ہو تو ایسے ہی ماٹھی رہی ہیں۔ کچھ پہلی حکومت کے کیے گئے کاموں پہ پانی پھر دیتی ہیں، کچھ وعدے کر لیتی ہیں جن میں سے کچھ پر آدھ پچادھ کام کر لیتی ہیں۔ ہاں البتہ نئے الیکشن ہونے ہوں تو کچھ شروع کیے گئے کاموں کو مکمل بھی کر لیا کرتی ہیں۔ مگر اس بار تو جو

Read more

نسوانی جنسیات اور مذہبی معاشرہ

میں نے کوئی دس سال پہلے ” محبت ۔۔ تصور اور حقیقت” کے عنوان سے کتاب لکھی تھی۔ یہ محبت سے متعلق تحقیق پر مبنی کتاب تھی۔ میرا ارادہ تھا کہ اس کے بعد "مباشرت ۔۔۔ تعیش اور ضرورت ” کے عنوان سے ایک تحقیقی کتاب لکھوں گا اور پھر ” مناکحت ۔۔۔ تسکین اور صعوبت” کے عنوان سے۔ میں نے شائع شدہ کتاب نذیر لغاری کو بھی دی تھی۔ پھر ہم جب اس کی گاڑی میں جا رہے تھے

Read more

"سورج پر کمند” کتاب یا دستاویز

اکثر ایسے ملکوں کی طرح جہاں آبادی کی اکثریت بدبخت ہوا کرتی ہے پاکستان میں بھی ایسے لوگ رہے ہیں اور شاید اب بھی ہوں جو فی الواقعی بدبخت لوگوں کو خوش بخت بنانے کی نہ سہی مگر کسی حد تک زندگی سے مطمئن کرنے کی خلش اپنے دل میں محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اس خبش کو دور کرنے کی خاطر باقاعدہ پرخلوص جدوجہد بھی کرتے رہے۔ مگر ہوا یوں کہ ایسے لوگوں کو سوشلسٹ بلکہ کمیونسٹ جان کر

Read more

کیا چینی عمران خان کی شلوار سے متاثر ہو کر معاہدہ کر بیٹھے ہیں؟

تیسری تصویر میڈیکل کالج کے میرے ایک ہم جماعت اور دوست نے پوسٹ کی ہے جس میں خان صاحب کی ایک ٹانگ کی شلوار نیچے سے کافی میں ڈوبی دکھائی گئی ہے جس کے نیچے جلی رنگین نسخ میں لکھا ہے، ”تقریب کے دوران ایک چینی میزبان کے کپ سے شلوار پر گرنیوالی چائے کا برا نہ منائے بغیر اسی شلوار سے کپتان ساب ساری تقریب میں شرکت رہے۔ یہ ادا چینیوں کا دل چرا گئی اور وہ پاکستانی روپوں میں تجارت پر راضی ہو گئے۔ اور یہ چائے چائنا کے ایک بڑے بزنس گروپ ڈالیان وانڈا کے چیئرمین وانگ جیان لن کے کپ سے گری تھی اور وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے لیکن کپتان نے الٹا سوری کہ کر انکو شرمندگی سے بچا لیا۔ کپتان ایسی چیزوں کی پروجیکشن پسند نہیں کرتے“

Read more

علی شمس القمر، تو بھی گیا گزر

کرنل ہو کے تو وہ باوقار شخصیت بن گیا تھا مگر جب متعارف ہوا تو دبال پتلا، قدرے سیاہ، انتہائی سنجیدہ رو جیسے مسلسل ناراض ہو، کپڑے ہمیشہ نک سک درست، سیاہ چشمے اور موٹے شیشوں والی عینک مگر نام علی شمس القمر۔ دکھنے میں نہ شمس تھا نہ ہی قمر مگر جب بات کرنے پر آتا تو کبھی شمس کی مانند تابدار ہو جاتا تو کبھی قمر کی مانند راحت بخش۔ ہم دونوں میں دوستی نشتر میڈیکل کالج کے

Read more

بیاد ہم جماعت مولوی اسمٰعیل، ماہر امراض قلب

ان دنوں داڑھی رکھنے کا رواج عام نہیں تھا جیسے ان دنوں ہے۔ داڑھی وہی رکھتے تھے جو مذہبی اعمال کی جانب زیادہ راغب ہوا کرتے تھے۔ ایسے افراد کو ویسے ہی مولوی کہہ کر پکارا جانے لگتا تھا۔ جس نے داڑھی نہ رکھی ہوتی چاہے وہ مدرسہ نظامیہ کی تکمیل ہی کیوں نہ کیے ہوتا اسے مولوی نہیں کہتے تھے۔ اس لیے نشتر میڈیکل کالج میں ہمارا کلاس فیلو میر جمیل مولوی کے نام سے موسوم نہیں ہوا تھا۔

Read more

مقبول تحریر کیا ہوتی ہے؟

مقبول یا ہر دلعزیز لکھنے والا ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ لکھنے والا ذہین اور وسیع المطالعہ بھی ہو۔ یہ بات ہم میں سے بہت سوں نے کہیں پڑھی ہوگی یا کسی سے سنی ہوگی مگر اس کے ساتھ یہ توجہ نہیں کی ہوگی کہ ضروری نہیں کہ پڑھنے والے بے تحاشہ لوگ خود بھی ذہین اور وسیع المطالعہ ہوں۔ آخر لوگ وقت گذاری یا محض دلچسپی کی خاطر بھی تو پڑھتے ہیں۔ مصروف لوگ جو پڑھنا

Read more

آئیے آکسفرڈ اور کیمبرج چلتے ہیں

لندن میں قیام کو مختصر کرنا تنگی داماں کے سبب تھا۔ ارادہ تھا کہ دو روز دوسرے شہروں جیسے برمنگھم اور بلیک پول میں دوست اور ہم جماعت کے ساتھ بتا لوں گا۔ منصوبہ دوم تھا کہ آکسفرڈ اور کیمبرج کاً دیدار ”سہی۔ گذشتہ برس جب پاکستان گیا تھا تو تمام نمبروں کی ڈائریکٹری پر مشتمل ایک پرانا چھوٹا موبائل فون سیٹ وہیں رہ گیا تھا جو سنا کہ بعد میں کسی سے پانی میں گر گیا اور بالکل خراب

Read more

قصہ لندن جانے اور فیض میلے میں ہنگامے کا

اس کا تذکرہ پہلے کر چکا تھا کہ اس بار لندن جانے کا شوق فزوں تر نہیں تھا بلکہ بہت حد تک بے دلی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ ایک مہربان نے ماسکو میں ”پاکستانی ثقافتی مرکز“ کی طرح ڈالی ہے۔ اگرچہ 14 اگست کی اس مرکز کے توسط سے جو پہلی تقریب منعقد کی اس میں ناچیز نے ایک چھوٹا سا ڈرامہ سٹیج کیا تھا جو عام لوگوں کو تو بہت اچھا لگا تھا مگر خاص لوگوں یعنی سرکار

Read more

میں حقوق نسواں کا مخالف ہوں

  میں حقوق کے سلسلے میں جنس کی تخصیص کا مخالف ہوں۔ مردوں اور عورتوں کے حقوق یکساں ہونے چاہییں لیکن کیا کبھی یہ یکساں تھے بھی؟ کیا کہیں یکساں ہیں بھی؟ کیا کبھی یکساں ہونگے بھی؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔ آپ نے میرے بارے میں شاید فوراً طے کر لیا ہو کہ میں لبرلزم کا مخالف ہوں یا مذہبی رجعت پسند ہوں یا شاید اذیت پسند انا پرست ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی مرد چاہے وہ سکنڈے

Read more

کچھ نئی حکومت کے حق میں

جب میں ابوبکر جیسے نوجوانوں کے ” انصافی“ ہونے کا تحریری ثبوت دیکھتا ہوں تو سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ کہیں کہانی ویسی ہی تو نہیں جیسی تب تھی جب ہم اٹھارہ انیس بیس برس کے تھے اور ذولفقار علی بھٹو کے شیدائی۔ ارے نہیں ”روٹی، کپڑا اور مکان ” کے نعرے سے لوگوں کی عسرت تمام ہونے کی آس لگائے ہوئے نظام کی تبدیلی کے خواہاں لوگ اور ہمارے برعکس ہمارے بڑوں کی اکثریت پیپلز پارٹی کی عام

Read more

معیشت کی "شاک تھراپی”: سوویت یونین سے پاکستان تک

کوئی تین عشرے پہلے کی بات ہے ایک نابغہ ماہر معاشیات ہوا کرتے تھے۔ نام ان کا تھا یاوگور گائیدر ( گائیدر تاتار زبان میں حیدر کا متبادل ہے )۔ انہوں نے ہی روس میں کمیونسٹ معیشت کی بیخ کنی کرنے کا ڈول ڈالا تھا۔ اس عمل کا بیڑہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے روس کی تمام صنعتوں کو یونٹس میں بانٹ کر یونٹس پر مبنی کوپن بنائے تھے جو ملک بھر کی بالغ آبادی میں تقریبا” برابر تقسیم کرکے سبھوں

Read more

عذر گناہ بدتر از گناہ؟

اداکاروں میں سہیل اصغر اور قیصر نقوی تو طلب علم کے دور سے میرے دوست ہیں بعد میں خیام سرحدی کے توسط سے جمیل فخری دوست بنے تھے جو خیام سے زیادہ قریبی دوست ثابت ہوئے تھے۔ یعنی بہت پہلے کی بات ہے جب اپنے گھر بیٹھے مجھ سے گپ لگاتے فخری نے کہا تھا کہ ڈاکٹر یار مجھے ڈرامے کی ریہرسل پر جانا ہے، چلو ساتھ ہی الحمرا چلتے ہیں، بعد میں کمپنی کریں گے۔ وہ ہال کے اندر

Read more

میری عشقیہ زندگی کا خاکہ

میں نے دس گیارہ سال پہلے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی جو فکشن ہاوس لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا، "محبت ۔۔۔۔ تصور اور حقیقت” جس میں میں نے پیار ، محبت ، عشق، جنوں میں فرق بیان کیا تھا۔ جسے انگریزی میں Love کہا جاتا ہے اسے میں نے تحقیق کے بعد عشق جانا۔ پیار Liking, محبت Infatuation اور جنوں Passion.  یہ کتاب میں نے یونہی نہیں لکھی تھی بلکہ عشق سے متعلق جو میں نے تھیوری وضع

Read more

روس کی ملکہ اور فراڈیا وزیر

روس کی ایک بہت مقبول ملکہ ہوا کرتی تھیں یعنی ملکہ معظمہ ایکاترینا دوم۔ انہوں نے اپنے لوگوں اور اپنے ملک کے لیے بہت کچھ کیا اور بہت کچھ مزید کرنے کی کوشش کی۔ ماسکو میں آج تاریخی مسجد نام سے موسوم ماسکو کی پہلی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت بھی انہیں نے دی تھی۔ وہ سلوک بین المذاہب کی بہت بڑی امین تھیں۔ مگر وہ جو کہتے ہیں کہ بادشاہ تو بادشاہ ہوتے ہیں۔ وہ تو کہہ دیتے ہیں

Read more

روس نے طیارے کی تباہی اور پندرہ فوجیوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دے دیا

17 ستمبر کی رات شام میں لاذقیہ کے نزدیک بحیرہ روم کے اوپر روس کا ایک جنگی ٹرانسپورٹ طیارہ ایل 20، شام کے ضد میزائیل نظام سے داغے گئے میزائیل کی زد میں آ کر تباہ ہو کر بحیرہ روم میں جا گرا تھا۔ طیارے میں موجود عملے کے پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی لاشوں اور تباہ شدہ طیارے کے ملبے کی تلاش تا حال جاری ہے۔ یہ سانحہ تب ہوا جب اسرائیل کے چار ایف 16

Read more

سمند طور کے سفرنامے

میں نے سوچا نہیں تھا کہ کینگرو کا تعلق فیس بک سے بھی جڑ سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ مجھے لڑکپن سے، جی ہاں لڑکپن سے ہی کینگرو پر سواری کرنے کا بہت شوق رہا۔ یہ لمبی لمبی جست لیتا کینگرو اور اس پر سوار میں، پھر ایسی سواری جو کسی کے بھی پاس نہ ہو۔ سدھائے ہوئے کینگرو کو ایڑ ماری جو سڑک پر گاڑیوں بیچ جست لگاتا ہوا مجھے کالج یا دفتر پہنچا دے۔ کینگرو آسٹریلیا میں

Read more

رام نام ست ہے

ماسکو کے مرکز میں دو پہلووں پر مشتمل اونچی چھتوں والے کمروں کی ایک بلند اور پر شکوہ مگر مہیب عمارت کی غالباً چھٹی منزل پر ایک پہلو کے برآمدے کے دو طرفہ متنوع کمروں میں ایک جانب ایک بڑا کمرہ تھا جس میں کمرہ امتحان کی طرح میزیں کرسیاں لگی ہوتی تھیں۔ یہ ریڈیو وائس آف رشیا کے اردو، ہندی اور بنگالی حصوں کے اہلکاروں کے لیے مشترکہ دفتر تھا۔ دروازے سے دوسری قطار کی غالباً تیسری نشست پر

Read more

وزیراعظم نے تین ماہ کا وقت مانگا ہے

حکومت نے ابھی کچھ کیا ہو اور وہ غلط ہو تبھی تنقید کی جا سکتی ہے نا۔ اس بیچاری نے تو اب تک جو کیا، یا تو کر کے مکر جانا کیا یا جو کیا وہ ایسا کیا کہ اس پر طنز کیا جا سکتا ہے یا اس کا مضحکہ اڑایا جا سکتا ہے جیسے بارہ بھینسوں، لگژری کاروں کی جگہ دس سے بیس سال پرانی کاروں اور ناکارہ ہیلی کاپٹروں کی نیلامی کا اعلان کرنا یا پھر جو کہا

Read more

کیا میں عمران کا مخالف ہوں ؟

میری عمران خان سے کیا مخالفت ہو سکتی ہے؟ وہ کھلاڑی رہے، میں بھول کر بھی کسی کھیل کی جانب راغب نہیں ہوا، بس کتابیں ہی دلچسپی کا محور رہیں۔ ان کی اہلیاؤں میں ایک نامور بینکار گولڈ سمتھ کی صاحبزادی، ایک اپنے طور پر معروف اینکر پرسن اور ایک بزعم دوستاں روحانی شخصیت جب کہ میری اہلیاؤں میں سے ایک کو میں نے میڈیکل کالج سے برگشتہ کیا، دوسری کو اس لیے اپنایا کہ اس کے والد کو چنگیزی

Read more

"ری سیٹ” کی کہانی اور نئے پاکستان کی مشکلات

جب صدر باراک اوبامہ کے دور میں ہیلیری کلنٹن امریکہ کی سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر برائے امور خارجہ ) تھیں، ان دنوں اوبامہ جب بھی روس کی بات کرتے تو روس کے ساتھ تعلقات میں "ری سیٹ بٹن” کو دبانے کی بات کیا کرتے تھے۔ مارچ 2009 کے پہلے ہفتے میں ہیلیری کلنٹن اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کے درمیان جینیوا میں ایک "ورکنگ ڈنر ” پر مل بیٹھنا طے ہوا تھا۔ اس سے پہلے کے وہ تناول

Read more

گولا مارو سیاست کو، بس خارجہ پالیسی دیکھو

کل امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جو ہمارے ہاں وزیر خارجہ کہلاتا ہے، مائیک پومپیو اسلام آباد وارد ہو رہے ہیں۔ جی ہاں تشریف نہیں لا رہے بلکہ باقاعدہ وارد ہو رہے ہیں کیونکہ کچھ ہی عرصہ پیشتر جب یہ ذات شریف سی آئی کی سربراہ تھی تب سے انہوں نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا ذکر نہیں بلکہ واویلا کرنا شروع کیا تھا۔ یہاں تک کہا تھا کہ اگر پاکستان اس ضمن میں کوئی کارروائی

Read more

حکومتوں کو اخلاق سنوارنے کی مہلت نہیں ملا کرتی

حال ہی میں پاکستان کی عنان اقتدار سنبھالنے والے وزیراعظم عمران خان نے 31 اگست کو کہنہ مشق صحافیوں اور ٹی وی اینکرپرسنز سے ایک ملاقات میں میڈیا سے تین ماہ کا وقت دینے کا تقاضا کیا ہے جس دوران ( ان پر، ان کے ساتھیوں کے اعمال پر اور ان کی حکومت کی سرگرمیوں پر) تنقید نہ کی جائے کیونکہ تین ماہ کے بعد "آپ دیکھیں گے ہماری کارکردگی” انہوں نے دعوٰی کیا اور کہا کہ اس کے بعد

Read more

ماسکو کے ایک داچے کا دورہ

ماہ اگست پھولوں، سبزیوں اور پھلوں کے پک کر اتار لیے جانے کا مہینہ ہوتا ہے۔ مجھے دیہاتی ماحول سے رغبت نہیں مگر سال میں ایک دو روز نیرنگی فطرت کا نظارہ کرنے کی خاطر چارو ناچار داچے یعنی دیہاتی گھر میں آ دھمکتا ہوں جو ماسکو شہر کے ایک کمرے پر مشتمل اپارٹمنٹ سے کل 90 کلومیٹر دور ہے۔ اپنی کار ہو تو فاصلہ محض ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہو جائے چونکہ اپنی سواری نہیں ہے اس لیے گھر

Read more

سلیم صافی کی صفائیاں اور سوشل میڈیا

لگتا ہے نئی حکومت کے بارے میں سب کو چپ رہنا چاہیے۔ کوئی تنقید کوئی اعتراض کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ صورت احوال کچھ ایسی ہے جیسے افغانستان اور عراق پر حملہ کرتے ہوئے جارج بش جونیر نے دنیا بھر کو چتاونی دی تھی کہ اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں تو آپ ہمارے دشمن کے ساتھ ہیں۔ عمران خان، ان کے دعووں اور طرز عمل سے متعلق آپ کچھ کہہ کے تو دیکھیں، مقتدر پارٹی کی تاحال فعال آئی ٹی

Read more

عمران خان کے بڑے ارادے، آہنی رکاوٹیں اور پاپولزم

تجزیہ کرنے والے نہ تو تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، نہ ہی تنقید سے ان کی مراد تنقیص ہوتی ہے جبکہ تنقید کا مطلب مخالفت تو ہرگز نہیں ہوتا۔ جب عمران خان وزیراعظم بن ہی چکے ہیں تو ہر جمہوریت پسند کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی جائز اور آئینی مدت پوری کریں۔ کسی بھی وقت اگر عدالتیں الیکشن سے متعلق کوئی ایسے فیصلے کرتی ہیں جو ان کی مدت پوری کرنے میں حارج ہوں گے تو ظاہر ہے اس

Read more

ہم نے عمران خان کو جاگنگ کرتے دیکھ رکھا ہے، اب وزارت عظمیٰ چلائیں

 تجزیہ کرنے والے نہ تو تنقید برائے تنقید کرتے ہیں، نہ ہی تنقید سے ان کی مراد تنقیص ہوتی ہے جبکہ تنقید کا مطلب مخالفت تو ہرگز نہیں ہوتا۔ جب عمران خان وزیراعظم بن ہی چکے ہیں تو ہر جمہوریت پسند کی خواہش ہوگی کہ وہ اپنی جائز اور آئینی مدت پوری کریں۔ کسی بھی وقت اگر عدالتیں الیکشن سے متعلق کوئی ایسے فیصلے کرتی ہیں جو ان کی مدت پوری کرنے میں حارج ہوں گے تو ظاہر ہے اس

Read more

توہین کا کلچر اور اشتہار بازی کا فن

جیسے عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ تبدیلی کی بات کرنا اور کرپشن کے خاتمے کو اپنا نعرہ بنا لینا پاکستان تحریک انصاف کی پہل ہے حالانکہ اس سے پہلے حالیہ تاریخ میں باراک اوبامہ نے اپنے پہلے انتخاب سے تبدیلی کی بات شروع کی تھی جبکہ ماضی میں کئی ملکوں میں کئی رہنما اس لفظ یا اس سے ملتے جلتے لفظ کو اپنی مہم کا حصہ بناتے رہے تھے۔ کرپشن کو نعرہ بنا کر ایشیا اور افریقہ کے درجن

Read more

تبدیلی کیا ہوتی ہے ؟

نظام میں تبدیلی کیا ہوتی ہے، اس بارے میں جواب دو طرح سے ہوگا کہ انقلاب کے ذریعے نظام کو یکسر منقلب کر دینا یا پھر اصلاح کے عمل سے نظام کی ہئیت کو بدل ڈالنا۔ پہلے ہم مختصراً انقلاب کو دیکھ لیتے ہیں۔ دو مثالیں لیتے ہیں 1948 کے چین کی اور 1979 کے ایران کی۔ چین میں انقلاب ایک ایسی پارٹی لائی تھی جو ایک عرصے سے تگ و دو کر رہی تھی۔ انقلاب کے رہنما ماؤ زے

Read more

دیار غیر میں محنت سے اپنی زندگی بدل دینے والے پاکستانی

آپ نیویارک میں جیکسن ہائٹس جائیں تو وہاں پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کی بہت بڑی بڑی دکانیں دکھائی دیتی ہیں جن میں سونے کے زیورات سے لدی شاندار دکانیں بھی ہیں۔ یقین کیجیے جن کی یہ دکانیں ہیں ان میں سے کوئی بھی گھر سے رقم لے کر نہیں گیا تھا۔ سب ان کی محنتوں کے پھل ہیں۔ بس اتنا ہے کہ محنت کرنے والے کو سسٹم سمجھ آ جانا چاہیے۔ باہر کے ملکوں میں بڑے بڑے امیر پاکستانی

Read more

دیانت داری کی کمائی

مالی بدعنوانیوں کا غلغلہ برپا کرنے والے صرف عمران خان ہی نہیں ہیں بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کئی ملکوں کے سیاستدان اقتدار میں آنے کا یہ ” گر ” اپنا چکے ہیں اور بیشتر کامیاب بھی رہے۔ مالی بدعنوانی کی بیخ کنی کرنے میں نہیں بلکہ اقتدار پا لینے میں۔  کسی بھی ملک میں محض وہ لوگ ہی نہیں چاہتے کہ مالی بدعنوانیاں تمام ہوں جو ایسا کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ ویسے تو بہت زیادہ لوگ

Read more

عمران آپ خود سیانے ہیں

ٹھڈے مار مار کے قسم کی گفتگو کرنے والے ایک کالم نگار تو ویسے ہی بدعنوان لوگوں کو چوراہوں پر لٹکانے بلکہ شاید گلوٹین نصب کرنے کے مشورے دیتے چلے آئے ہیں جنہیں پاکستان میں ”دبنگ دانشور“ تو ایک طرف رہا ”فلسفی“ سمجھا جاتا ہے۔ ویسے کبھی کسی نے کہیں کسی متشدد فلسفی کے بارے میں پڑھا ہو تو مجھے ضرور بتلائے۔ اپنے ہاتھ سے پھانسی لگانے کا دعوٰی کرنے والے عمران خان تو خیر سے کل پرسوں وزیراعظم پاکستان

Read more

اب آ گیا ہے عمران، بنے گا نیا پاکستان ؟

قنوطیت پسندی کسی کے مزاج میں بھی ہو سکتی ہے مگر تجربات و حوادث بھی انسان لک قنوطی بنا دیتے ہیں۔ قنوطیت کا خاتمہ محض رجائیت پسندی پیدا کر لینے سے ممکن نہیں ہوتا تاوقتیکہ حالات اس جانب نہ لے جائیں کہ انسان قنوطیت سے نکلے اور پھر رجائیت پسندی اس کے اندر سے خود بخود پھوٹے۔ پروپیگنڈا بہت موثر طریقہ ہے جس سے لوگوں میں وفور پیدا کیا جاتا ہے مگر رجائیت پسندی پروپیگنڈے سے پیدا نہیں کی جا

Read more

کیا امیروں کی جمہوریت میں غریب منتخب ہو سکتا ہے؟

دو روز بعد وطن عزیز میں سیاسی حکومتوں کی مدتیں تمام ہونے کے بعد غالباً دوسرے انتخابات ہونے کو ہیں۔ اس سے پہلے ایک ہی سیاسی حکومت تھی، پیپلز پارٹی کی جس کی مدت تمام ہونے سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے انتخابات کروا دیے تھے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کی نام نہاد سیاسی حکومتیں فوجی آمروں کی چھتری تلے بنتی رہیں۔ یہ بات عموماً کہی جاتی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں نے انتخابات

Read more

اسٹیبلشمنٹ اہلیہ نہیں کہ جان چھڑا لو

نلکے سے پانی کی بالٹی بھر کے دیسی صابن مل کر نہا لیتے تھے اور صاف چادر سے بدن پونچھ لیتے تھے۔ کیکر، جس سے سوندھی مہک والے چھوٹے چھوٹے گول زرد اور بھربھرے پھول بھی کرتے تھے اور گھونسلا بنتے ہوئے بیّے کی چہکار بھی سنائی دیتی تھی، کی چھاؤں تلے بچھی چارپائی پر بیٹھ کر توری، بھنڈی، کریلے کے سالن کے ساتھ روٹی کھا لیتے تھے۔ پھر برآمدے کی چھت تلے گڑے نلکے کے ٹھنڈے پانی سے آدھ

Read more

دوزخ کی آگ میں بنتے الیکٹ ایبل ہیرے اور عصمت شاہجہاں، جبران ناصر کی ناقدری

 ڈھونڈنے کو تو "نار حاویہ” میں بھی مثبت پہلو ڈھونڈا جا سکتا ہے کہ اتنی حدت اور دباؤ سے کافروں اور منافقوں کے بدن سے بننے والا کاربن ہیروں میں بدل جائے گا۔ لاکھ کہیں کہ دوزخ کی طبیعیات زمینی نہیں ہوگی مگر عمل احتراق کو تو اسی طرح لیا جائے گا جیسے سمجھ آتا ہے۔ اگر وہاں فرشتے ہیں، گرز ہیں ،آگ ہے، خون اور پیپ پے، زقوم ہے اس کے برعکس جنت میں طیور ، فواکہات، دودھ اور

Read more

کتاب ”ریحام خان“ پر ابتدائی تبصرہ

ریحام خان صاحبہ کی کتاب ”ریحام خان“ کا آنا تھا کہ بہت سے معزز صحافی فوراً چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر بن گئے، چن چن کر وہی ٹوٹکے لوگوں کے سامنے لائے جو عمران خان سے متعلق تھے۔ یہ عمران خان کے خلاف کیمپین تھی کہ ریحام خان صاحبہ کی تحریر کو نازیبا ثابت کرنے کی کوشش میں اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ میں نے ان کی کتاب کو شروع سے پڑھنا شروع کیا تاکہ کسی شخص

Read more

پلاسٹک کے گڈے اور خلائی مخلوق کا خوف

ہاشم الغائلی نام کے کوئی شخص ہیں، نہیں معلوم نام اصلی ہے یا فرضی مگر وہ سوشل میڈیا پر "میں نے آج پڑھا ” کے عنوان سے سائنسی تحقیقات کا نچوڑ بہت خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہیں۔ موضوعات متنوع ہیں۔ کائنات کے رازوں سے لے کر جانداروں کی عادات تک۔ ایک پوسٹ میں بتایا گیا:  ” مکڑیاں پوری بنی نوع انسان کو محض ایک سال میں ہڑپ کر سکتی ہیں پھر بھی اپنی شدید گرسنگی کے سبب بھوکی رہیں

Read more

اپنے آپ سفیر، ضیاء اللہ ظہیر

فیس بک پر جہاں بہت سے لوگوں سے ایسا تعلق بنتا ہے جو محض نام کا تعلق ہوتا ہے وہاں کئی ” ہیرے لوگ ” بھی ملے جن سے دوستانہ تعلق استوار ہو گیا۔ ان میں پی ٹی وی اسلام آباد کے نیوز ایڈیٹوریل لے رمضان خالد یا ریڈیو پاکستان بہاولپور/ ملتان کے پروڈیوسر سجاد بری شامل ہیں۔ ان لوگوں سے ملاقاتیں البتہ پاکستان جانے پر پاکستان میں ہی ہوئیں۔ اسی طرح رؤف کلاسرا اور ندیم سعید کے ” ٹاپ

Read more

 5 جولائی 1977 کا کالا دن اور میرا ذاتی تجربہ

ان دنوں ایم بی بی ایس کرنے والے کو زبردستی فوج میں عارضی ملازمت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ اس مجبوری کا شکار میں بھی ہوا تھا۔ فوج کے ایک ادارے کی معاشرے میں مداخلت پہلے سے شروع تھی۔ اس ادارے کو میری بائیں بازو سے وابستہ سیاسی سرگرمیوں کا علم تھا اور ہوتا بھی کیوں نا، چونکہ میں 1972 میں مزدوروں کے ایک احتجاجی جلوس میں شامل ہونے کی بنا پر پولیس کے ہاتھوں خوب پٹا تھا اور

Read more

جب اللہ نہ کرے کہنا کارگر نہ ہو

کیا آپ نے کبھی سنا کہ امریکہ کا نائب صدر پینس کسی اور ملک کے آرمی چیف سے ملا ہو، نہیں نا مگر پاکستان میں انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل باجوہ سے ملاقات کی۔ چلیں مان لیا کہ افغانستان کے نزدیک دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے ضمن میں ایسی ملاقات ہو سکتی ہے لیکن کیوں؟ یہ معاملہ چونکہ سیاسی ہے تو اس سلسلے میں بات ملک کے سیاسی حکمرانوں سے کی جانی چاہیے۔ چلیں اس میں یہ

Read more

لنڈے کے کپڑے اور عالمی معیشت 

( ہمارے مہربان علامہ خادم رضوی صاحب ایک ٹی وی انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ملک پر چڑھا 70 ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض ہمارا اللہ کا ایک ہی بندہ اتار دے گا۔ اس مضمون سے ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ عالمی تجارت کس کس طرح کس کس شے سے متاثر ہوتی ہے، جو عام آدمی کو نہ معلوم ہوتا ہے، نہ اسے سمجھ آتی ہے اور نہ اس کو سمجھنے کی حاجت ہوتی ہے ) کچھ عرصہ سے

Read more

روس میں فٹ بال ورلڈ کپ اور وطن میں عام انتخابات

یہاں موسم خوش گوار ہے، یعنی سائے میں رہ کے یا گھر میں ہلکی رفتار میں پنکھا چلا کے گرمی نہیں لگتی۔ جیسمین (چنبیلی کے پودے پھولوں سے پھرنے لگے ہیں، کیوں کہ جیسمین فی الواقع گرمی میں کھلتی ہے، اور روس میں کھلنے والے آخری پھولوں میں شمار ہوتی ہے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کی گہما گہمی میں یہاں ملک ملک کے لوگ اپنے اپنے ملکوں کی ٹیموں کی کِٹ والی ٹی شرٹس پہنے شہر کے مرکز میں اپنی

Read more

ہمارے دیس کا بچہ، ہمارے بنائے فٹ بال اور فیفا ورلڈ کپ

کل شام اتفاقا” گھنٹہ پھر سو لینے کی وجہ سے صبح سوا تین بجے تک نیند آنکھوں سے دور رہی۔ لمحہ بھر آنکھ لگی تو پاکستان میں شاید نماز کے لیے بیدار ہوئے ایک مہربان نے وقت کا خیال رکھے بنا میسیج کر دیا، نیند بالکل خراب ہو گئی۔ بار بار شکستہ نیند کے بعد بالآخر بیدار ہونے کے باوجود بستر سے بلند ہونے کو جی نہ کیا۔ نہ صبح کی سیر کو گیا، سوچا بال کٹوانے کو پیدل جانے

Read more

غیر مسلم اکثریت والے ملک میں عید

پہلے یہ کہنا ضروری ہے اگر کوئی شخص مرنے کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتا ہے، دوزخ کے خوف یا بہشت کے لالچ میں سہی عبادت کرتا ہے تو آپ کا کیا بگاڑتا ہے؟ آپ اس کو اپنی سائنسی سوچ کو مان لینے کی خاطر دبانے کی روش کیوں اختیار کر لیتے ہیں اور اس سے بلاوجہ آپ کے اپنے خیالات منوانے کی تگ و دو میں کیوں کرنے لگتے ہیں۔ ایسا کرنے سے آپ خود ایک طرح کے

Read more

ماسکو میں رمضان کیسے بیتا

2015 میں حسب معمول روزے کے ساتھ دفتر پہنچا اور حسب معمول ہی فشار خون ماپنے کی غرض سے دفتر کے میڈیکل روم پہنچا۔ ڈاکٹر جانتی تھی کہ میرا فشار خون متبدل رہتا ہے۔ ویسے بھی مجھے سفیگمومینومیٹر فوبیا ہے یعنی بازو پر فشار خون ماپنے والے آلہ کا کف باندھتے ہی سانس تیز ہو جاتی ہے، لگتا ہے کہ فشار خون بڑھ چکا۔ ایسا فشار خون دو بار بہت زیادہ ہو جانے کے بعد ہونے لگا ہے۔ ڈاکٹر نے

Read more

میں نے فرشتے دیکھے ہیں

 بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک عرصہ یعنی تقریباً 30 برس یکسر غیر مذہبی رہا تھا۔ ملحد اس لیے نہیں کہتا کیونکہ میں نے ہمیشہ مذہب کو انسانوں کا ذاتی معاملہ مانا ہے جو ان کے اور ان کے خدا بیچ ہے۔ کون کیسا اور کتنا مذہبی ہے، اس میں اس کی اپنی فہم، اس کی سوچ کی اپنی سطح، اس نے مذہب کے بارے میں کیا اور کتنا کیسے لوگوں سے سنا اور جانا، کیا وہ مذہب

Read more

ترک تعلق کے بعد کی خود نوشت

پیدائش کے ساتھ موت جڑی ہوئی ہے۔ ذی روح پیدا ہی اس لیے ہوتا ہے کہ اسے کسی وقت مر جانا ہوتا ہے۔ علیحدگی اور طلاق کا تعلق اکٹھے رہنے اور بیاہے جانے کے ساتھ ہے۔ کہتے ہیں کہ سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں اور جدلیات بھی سیاہ و سفید، دائیں بائیں یا اوپر نیچے کو دکھانے تک محدود کرکے رکھی ہوئی ہے، کبھی کسی نے غور نہیں کیا کہ سکے کے گول چوکور یا ہشت پہلو کنارے بھی

Read more

میں ایک "ریپسٹ ” کو جانتا تھا

اس زمانے میں سوشل میڈیا نہیں تھا جو آج ہے، جس نے ثابت کر دیا ہے کہ معاشرے کے ناسور جو بظاہر بھر چکے ہیں، وہ انہیں ننگا کر کے دکھا سکتا ہے۔ ان افراد کے اعمال بد سے جن لوگوں کے ذہنوں میں گھاؤ لگے تھے وہ ابھی تک نہیں بھرے اور جب تک وہ زندہ رہیں گے، گھاؤ درد کرتے رہیں گے۔ کیا پتہ مرنے کے بعد بھی روح پر لگے زخم ہرے ہی رہیں۔ آپ سمجھ گئے

Read more

بظاہر سب ٹھیک ہے…. مگر خطرات موجود ہیں

 پاکستان میں لگتا ہے کہ بظاہر سب ٹھیک ہے۔ نگران حکومت کا معاملہ نمٹا لیا گیا ہے۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سیاستدانوں نے قلابازیاں لگانا شروع کی ہوئی ہیں۔ دوسری بار حکومت کی پرامن طریقے سے منتقلی سے متعلق لوگ پرامید ہیں۔ بلاشبہ ہر محب وطن پاکستانی کی جو خیر سے تقریباً سارے ہی پاکستانی ہیں یہی خواہش ہوگی کہ ملک میں سب ٹھیک رہے۔ ملک میں امن رہے اور ملک ترقی کرے۔  اس کے

Read more