عیاں کچھ بھی نہیں

بہت پہلے کسی صاحب نے مفروضہ پیش کیا تھا کہ شدید گرمی کے سبب پا کستانی لوگ ”لیتھارجی“ یعنی کچھ نہ کرنے کی عادت کا شکار ہیں۔ یہ تھا تو طنز ہی لیکن بہرحال قابل غور نکتہ یہ تھا کہ لیتھارجی سے نجات کا مداوا کیا ہو؟ گرمی میں لسی پی جاتی ہے اور لسی پی کر سونے کو دل کرتا ہے۔ اس بارے میں ایک زمانے میں جب بہت سے لوگ کمیونسٹ یا سوشلسٹ انقلاب لانے کی خواہش رکھتے

Read more

ڈالر کی دہشت گردی

آج امریکہ ہی وہ ملک ہے جس کے بل بوتے پر سرمایہ دارانہ نظام استوارہے اور اس معیشت سے وابستہ منتظمین کی عاقبت نااندیشی کے باعث آج پوری دنیا بحران کا شکار ہے۔ گلوبلائزیشن یعنی صنعت و تجارت کو عالمگیر نوعیت دے دیے جانے کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت بچوں کے کھیل میں ان سیدھی کھڑی کی گئی اینٹوں کی قطار کی مانند بن چکی ہے جس کی ایک اینٹ اگر اوندھی ہو جائے تو باقی اینٹیں بھی

Read more

میں تو ششدر رہتا ہوں

فطرت سے متعلق سائنسدان زیادہ متحیر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلسل جستجو کرتے ہیں لیکن حیرت کے در ہیں کہ تمام ہونے میں نہیں آتے۔ ایک کھولو تو دس مزید در بند ملتے ہیں۔ عام لوگوں میں سے ایسے کچھ افراد جنہوں نے علم کا مجموعی طور پر احاطہ کیا ہوتا ہے، ماورائیت سے متعلق نتیجہ اخذ کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو اس یا اس خانے میں رکھ دیتے ہیں اور ان

Read more

انفراسٹرکچر کیا ہوتا ہے؟

میں پسماندہ پاکستان کے انتہائی پسماندہ ضلع مظفر گڑھ کی ایک زرخیز تحصیل علی پور کے صدر مقام ”شہرعلی پور“ میں پیدا ہوا تھا۔ جب میں چار برس کا تھا تب بھی میں گھر سے سڑک تک پہنچنے کے لئے اپنی ناک پر ہتھیلی رکھ کر گلی کے پچیس تیس قدم بھاک کر کے طے کیا کرتا تھا کیونکہ گلی کی بدرو غلیظ، پھوٹ پڑتی ہوئی اور متعفن ہوا کرتی تھی، نالی کی صفائی کے لیے جمعدار ایک بانس کے

Read more

جنس تبدیل کرنے والی اولاد اور باپ کے درمیان مکالمہ

 ”ہائی کڈ، میں ہوں ‌ تمہارا باپ۔ میں شام کو تمہیں کال کروں گا۔ مجھے ابھی ابھی تمہارا نمبر ملا ہے۔ میں تم سے پیار کرتا ہوں“۔  ”اوہ واؤ، آخر کار تم جان گئے کیا کہ تمہارا کوئی بچہ ہے؟ تم ایک خوش قسمت انسان ہو کہ میں دو برس پہلے تب مر نہیں گئی تھی جب مجھے فالج ہوا تھا جس نے میری ساری زندگی برباد کر دی“۔  ” تم میرے چھ بچوں میں سے ایک ہو۔ میں بھلا

Read more

غیرت اور حقیقت

اگر میں یہ کہوں کہ غیرت کیا ہوتی ہے، یہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ سکا تو وہ ان گنت لوگ جو خود بھی غیرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، مجھ کو بنا توقف بے غیرت قرار دے دیں گے۔ بہت سارے دوسرے جو غیرت سے وابستگی ہی کو غیرت سمجھ بیٹھتے ہیں، ذرا نرمی برتتے ہوئے مجھے بے حس، پژمردہ ذہن، ڈھیٹ اور نجانے کیا قرار دے دیں گے، اس الزام تراشی اور دشنام طرازی سے بچنے کی

Read more

کیسے کیسے انقلاب!

یکسر تبدیلی برپا ہو جانے، سراسر گھوم جانے یا ماہئیت قلبی واقع ہو جانے کو انقلاب کا نام دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے ان معانی کے حقیقت میں ڈھلنے کا عمل نرم اور غیر تکلیف دہ ہرگز نہیں ہوتا۔ دنیا میں بہت زیادہ انقلابات آئے ہیں لیکن عام طور پر معروف چند ہی انقلاب ہو سکے ہیں، جن میں سے ایک انقلاب فرانس تھا جس کی نوعیت فوری، متشدد اور عارضی تھی۔ ہر اس مرد اور عورت کی گردن ”گلوٹین“

Read more

بدعنوانی کا عفریت

کہا جانے لگا ہے کہ بدعنوانی ایک باقاعدہ متوازی معیشت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ البتہ یہ متوازی معیشت ملک کی عمومی معیشت کی ترقی کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔ کرنسی کو جامد کرتی ہے۔ ملک سے سرمائے کی منتقلی کو فروغ دیتی ہے۔ ہوس زر کے لیے مہمیز ثابت ہوتی ہے۔ بہت کم لوگوں کو امیر یا امیر سے امیر تر بنا تی ہے لیکن عام لوگوں کی جیبیں خالی کرتی چلی جاتی ہے۔ بدعنوانی کوئی نیا

Read more

آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ

امید کیا ہوتی ہے، کب ہوتی ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ امید ایسی خواہش ہوتی ہے جس کو اپنے طور پر پورا کرنا کسی نہ کسی وجہ سے ممکن نہیں ہوتا، جیسے غریب کے لیے گھر خریدنا، امیر کے لیے مہلک مرض سے جان بر ہونا وغیرہ۔ ایسی خواہش جیسے امید نام دیا جاتا ہے اور جو مختلف زبانوں کے محاوروں کے مطابق آخر دم تک رہتی ہے اور مرنے کے بعد ہی مرتی ہے، بے بسی کی انتہا ہونے

Read more

کینال پارک کی رات، میڈیکل سٹور پر موت اور گھر کا دروازہ

وہی دوست جس کا تذکرہ پہلے قابل توجیہہ تحیر میں ہوا تھا، اس واقعے کے تین سال بعد کی بات ہے، جب ہم دونوں لاہور منتقل ہو چکے تھے۔ میں کینال پارک کے دوکمروں اور ایک برآمدے والے گھر میں رہا کرتا تھا۔ گلی کے باہر مین بازار میں حسن نثار کی رہائش تھی۔ ہمارا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ میرے اس دوست کا ہمارے مشترکہ دوست کی بہن سے افئیر چل رہا تھا۔ وہ کبھی

Read more

میں نے پھر سے ”اسے“ کیسے مانا

میں نے، گزشتہ دنوں اپنے ساتھ پیش آنے والے کچھ ناقابل توجیہہ اور کچھ قابل توجیہہ حیران کن واقعات کا ذکر کیا تھا۔ جن میں ایک سانحے کے بعد میری مرحومہ والدہ کی طرف سے مجھے میری زندگی برقرار رہنے کی نوید دیے جانے کا ذکر بھی تھا۔ اس حادثے یا قاتلانہ حملے میں جہاں میری کھوپڑی کئی جگہ سے ”فریکچر“ ہوئی وہاں بعد میں شدید لقوہ بھی ہوا جس کے اثرات آج بھی باقی ہیں جیسے کہ میری ایک آنکھ دوسری کے مقابلے میں چھوٹی پڑ گئی اور دماغ سے عارضی طور پر انگریزی زبان یکسر محو ہو گئی تھی۔

Read more

اسرائیل: نسل پرست ریاست

جب امریکہ کے صدر ہیری ٹرومین پر نوزائیدہ یہودی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تو انہوں نے کیا خوب کہا تھا، ”انہیں (یہودیوں کو) تو حضرت عیسٰی بھی، جب وہ زمین پر تھے، خوش نہ کر پائے تھے، پھر بھلا یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ میں انہیں خوش رکھ پاؤں گا۔“ یہودی دو ہزار سے زائد برسوں تک، صبح بیدار ہوتے ہی دعا کی شکل میں خواہش کیا کرتے تھے کہ اگلا سال یروشلم میں

Read more

میں نے پھر سے "اسے” کیسے مانا؟

 میں نے، گذشتہ دنوں اپنے ساتھ پیش آنے والے کچھ ناقابل توجیہہ اور کچھ قابل توجیہہ حیران کن واقعات کا ذکر کیا تھا۔ جن میں ایک سانحے کے بعد میری مرحومہ والدہ کی طرف سے مجھے میری زندگی برقرار رہنے کی نوید دیے جانے کا ذکر بھی تھا۔ اس حادثے یا قاتلانہ حملے میں جہاں میری کھوپڑی کئی جگہ سے "فریکچر” ہوئی وہاں بعد میں شدید لقوہ بھی ہوا جس کے اثرات آج بھی باقی ہیں جیسے کہ میری ایک

Read more

مجھے عشق نہیں ہوا، قصے ہیں، افسانے ہیں

میں نے دس گیارہ سال پہلے ایک تحقیقی کتاب لکھی تھی جو فکشن ہاؤس لاہور سے شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا، ”محبت۔ ۔ ۔ تصور اور حقیقت“ جس میں میں نے پیار، محبت، عشق، جنوں میں فرق بیان کیا تھا۔ جسے انگریزی میں Love کہا جاتا ہے اسے میں نے تحقیق کے بعد عشق جانا۔ پیار Liking، محبت Infatuation اور جنوں Passion۔ یہ کتاب میں نے یونہی نہیں لکھی تھی بلکہ عشق سے متعلق جو میں نے تھیوری وضع کی

Read more

جمہوریت نام جپنا

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب۔ ۔ ۔ ہم میں سے بہت سوں نے علامہ اقبال کا یہ مصرعہ پڑھا ہوا ہے۔ سن سنا کر یہ بھی جان گئے ہیں کہ اقبال صاحب بتا رہے ہیں، جمہوریت کے جبے میں ظلم ڈھانے والا بھوت پاؤں سے کچلنے میں مصروف ہوتا ہے۔ آج ہم کہیں گے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ مگر یہ بات نظر انداز نہ کریں کہ یہ کس زمانے کی سوچ ہے اور کن ملکوں کے لوگوں

Read more

ایک مافوق الفطرت تجربہ

تھا تو میں فوج میں کپتان مگر ”ضیا الحقی“ کے بعد اس فوج میں جس کا وہ سربراہ تھا رہنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ زبردستی فوج میں لیے جانے کی مدت پوری ہونے سے پہلے فوج کو خیرباد کہنا دشوار تھا۔ اوپر سے شادی بھی ہو گئی تھی۔ نئی نویلی بیوی میڈیکل کالج کی طالبہ تھی۔ کوئی رات ہوٹل میں تو کوئی رات کسی دوست کے گھر، معاملہ کچھ جمنے نہیں پا رہا تھا چنانچہ طے کیا کہ فوج میں تو رہنا نہیں، گھر کا مطالبہ کیا کرنا، چند ماہ کی بات ہے اس لیے فوج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھکانہ کر لیتے ہیں۔ دو کمرے مل گئے۔ ایک میں بیڈ تھا اور دوسرا ملنے ملانے والوں کے لیے۔ کھانا آرمی میس سے آ جایا تھا۔

میرا ایک دوست تھا، نام بتانے کی ضرورت نہیں لیکن تب وہ منشیات کی متنوع اقسام کے استعمال میں کچھ عرصے کے لیے بدمست رہنے لگا تھا۔ ایک بار اس کی حالت دیکھ کر مجھے شرم بھی آئی اور غصہ بھی۔ اسے زبردستی موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر بٹھا کر، مجھے اس کا نشہ اتروانے کی خاطر، ایک ہاتھ سے اسے پکڑے ہوئے، ایک ہی ہاتھ سے ہینڈل تھامے ہوئے ملتان سے چناب کے پل تک موٹرسائیکل چلانی پڑی تھی۔ آدمی بہت ذہین تھا، ذہین شخص کو بھلا کون سمجھا سکتا ہے۔

Read more

کورونا میں مبتلا مریض کا علاج کرایا

میرا بھتیجے کی، جو چھ فٹ کا لحیم شحیم اور صحت مند 48 برس کا مرد ہے، ہڈیاں نکل آئی ہیں۔ چہرہ پچک گیا ہے اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن گئے ہیں۔ دس قدم چلنے سے سانس پھول جاتی ہے۔ کبھی پریشانی اور مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے مگر ہم پھر بھی خوش ہیں کہ صحت یابی کی جانب گامزن ہے۔ معاملہ صرف کھانسی اور تھوڑا تھوڑا بدن ٹوٹنے سے شروع ہوا تھا۔ اس سے پہلے وہ

Read more

یہ انتظار کا موسم

دیکھیں جی سب کچھ آپ کے وجود سے جڑا ہوا ہے، کم از کم آپ کے شعور کی حد تک، مذہب سے لے کر کے سیاست تک۔ اگر آپ ہیں ہی نہیں، یعنی آپ کا اس کرہ ارض پر کبھی وجود ہی نہیں رہا تب تو بات ہی کرنے کی ضرورت نہیں، کون سا مذہب اور کون سی سیاست سب ”بلیک ہول“ ہے اور اگر آپ اس ارض پہ وارد ہوئے اور معدوم ہو گئے تب مذہب سے متعلق کچھ عرصے تک زندہ رہنے کے لیے آپ کا کم از کم غامدی ہونا لازم ہوگا اور سیاست میں زندہ رہنے کے لیے کم از کم ذوالفقار علی بھٹو۔

Read more

ڈاکٹر جسے قسمت نے جوہری بنا دیا

وہ بنا تو ڈاکٹر تھا مگر اب جواہرات کا تاجر ہے۔ 56 ملکوں میں آتا جاتا ہے۔ خاصا امیر ہو چکا ہے، باتیں بہت سناتا ہے شاید بناتا بھی ہوگا۔

کہتا ہے کہ لاہور کے ایک ہسپتال میں ہاؤس جاب کے دوران کسی فوجی افسر کے باپ کا زیادہ خیال رکھا ( فوجی افسر کا باپ سی ایم ایچ میں کیوں نہیں داخل ہوا، میں نے نہیں پوچھا ) تو افسر نے گرمیوں میں چھٹیاں گزارنے کو اسے کشمیر آنے کی دعوت دی جہاں افسر تعینات تھا۔

بتاتا ہے افسر کے دفتر کی میز پر ایک نیلگوں پتھر دھرا تھا جسے ہاتھ میں لے کر میں کھیلتا رہا۔ پوچھا کہ یہ پتھر کیا ہے تو اس نے لاپرواہی سے کہا معلوم نہیں۔ ایک شخص کو ایل او سی پار کرنے کے جرم میں حراست میں لیا تھا جس نے یہ پتھر دیا۔ میں نے میز پر رکھ دیا۔ تمہیں پسند ہے تو تم لے لو۔

Read more

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے

12 مارچ 2020 وہ پہلا روز تھا جب میں ساتویں جماعت سے بنے اب تک کے دوست غلام نبی کے دفتر پہنچا تو میں نے ہاتھ باندھ کے کہا تھا کہ مصافحہ معانقہ ممنوع۔ غلام نبی 73 برس کا ہے اور اسے لگتا ہے کہ زندگی کے سات برس مزید بچ رہے ہیں کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ ان کے گھرانے میں کسی کی عمر اسی برس سے بڑھی نہیں چنانچہ وہ اپنے سات برسوں کو سنبھالے رکھنے کے سبب مجھ سے بھی زیادہ محتاط برائے صحت و عافیت ہے، ہنس پڑا اور مصافحہ کرنے کو ہاتھ نہیں بڑھایا۔

اسی روز شام اس کے بڑے بیٹے سہیل لاشاری اور چھوٹے بھتیجے اعظم لاشاری نے مجھے کھانے پر سہیل کے ہاں مدعو کیا ہوا تھا۔ غلام نبی بولا مجھے بھی بلایا ہے ( باپ بیٹے کے گھر ملحق ہیں ) مگر میں نے کہا ہے کہ میں بس پانچ دس منٹ آ کر کے بیٹھ جاؤں گا۔

Read more

میرے سوا کوئی چوائس نہیں

” تکبر عزازیل را خوار کرد“ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہم میں سے بہت سے نہیں بھولے ہوں گے کہ ہم سے بیشتر لوگوں کے قائد نے، جو عدالت کے ہاتھوں قتل کیے جانے یعنی جوڈیشل مرڈر کے بعد آج بھی عوام و خواص کی ایک بڑی تعداد کے اذہان میں زندہ ہیں، کہا تھا کہ ”یہ کرسی بہت مضبوط ہے“ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد ہم نے ان کے اقتدار کو بازوال ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

ہم سب الحمدللہ مسلمان ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کسی کو بھی اپنی زبان سے ایسی بات نہیں کہنی چاہیے جس میں تکبر کا شائبہ تک ہو تاکہ عرش نشین ناراض نہ ہو جائے چہ جائیکہ تکبر کے تیقن کے ساتھ کہنا کہ ”میرے سوا کوئی چوائس نہیں۔“

Read more

اپنے جیسوں سے انسیت بارے

میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں سے دیکھ کر کہتی، ”تمہارا گھڑ سوار دوست آ گیا“ مجھے لگتا جیسے میرے دانتوں تلے ریت آ گئی ہو۔ بادل نخواستہ اسے ملنے کے لیے گھر کے دروازے سے نکل جاتا اور جتنی جلدی ممکن ہوتا اسے رخصت کرنے کی

Read more

محکمہ صحت پنجاب کے ڈھول کا پول

محکمہ صحت حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا سے نمٹنے کے دعوے تو بلند بانگ کیے جاتے ہیں مگر حقیقت بالکل مختلف ہے۔

میرے ایک بھتیجے کو جو 48 برس کا ہے خاصی چیسٹ انفیکشن ہوئی۔ شدید کھانسی اور بلغم۔ مرض کے شروع ہونے کے تیسرے روز ایکس رے لیا گیا۔ مقامی ڈاکٹر علاج کر رہے تھے۔ مرض برقرار آٹھویں روز یعنی گزشتہ کل بھی ایکس رے لیا گیا۔

علی پور میں ظاہر ہے کرونا کے لیے ٹیسٹ نہیں ہوتا چنانچہ احتیاط کی خاطر ملتان لے جانے کا سوچا۔ میں نے نشتر ہسپتال سے ریٹائر ہوئے میڈیسن کے مایہ ناز پروفیسر محمد علی کو فون کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر طرح کے بخار کو آج کل کووڈ 19 لینا چاہیے۔ میں نے بتایا کہ بخار تو ایک روز بھی نہیں ہوا۔ بولے ہمیں چونکہ اس نئے وائرس کے بارے میں بہت ہی کم علم ہے اس لیے اسے نشتر ہسپتال کی ایمرجنسی میں لے جائیں وہاں کورونا ٹیسٹ ہو جائے گا۔

Read more

تینتالیس برس پہلے عالم بالا کو گئے ابا کے نام خط

ابا، مجھے اس روز اتنی حیرت ہوئی تھی جب آپ ٹامی اور جیمی کو نہلانے نہر پر لے جا رہے تھے۔ چونکہ ہم سب آپ سے ڈرتے تھے شاید اس لیے کہ جونہی آپ ایک عرصے کے بعد اپنے کاروباری مقام سے گھر آتے تو اماں کہتی ”قل ہو اللہ پڑھو تمہارا باپ آ رہا ہے“ میں کبھی کبھار آپ کو اور شیطان کو ایک سا سمجھ لیا کرتا تھا کیونکہ اماں شیطان سے بچنے کی خاطر بھی اسی سورت کا ورد کرنے کو کہا کرتی تھیں۔ تو میں بات کہہ رہا تھا آپ سے اپنے متحیر ہونے کی جس میں تھوڑی سی نفرت بھی شامل ہو گئی تھی۔

میں چونکہ چھپ چھپ کے آپ کے پیچھے پیچھے گیا تھا اس لیے آپ مجھے دیکھ نہیں پائے تھے۔ ٹامی بہت زیادہ بھونک رہا تھا آپ نے اسے سوقیانہ الفاظ میں وہ کہا تھا جو آج ہندوستانی فلموں کی وجہ سے پھٹنے کے حوالے سے گھروں میں بظاہر شریف لڑکیاں بھی باپ بھائیوں کے سامنے کہنے لگی ہیں مگر ہمارے گھر میں جو اصل میں اماں کے زیر اثر تھا ماسوائے الو، گدھا کے کوئی بھی برا لفظ کہنا ممنوع تھا۔

Read more

جب مارینا نامی لڑکی سے مرد کے روپ میں ملاقات ہوئی

کتنی الجھن ہوتی ہوگی جب آپ خود کو لڑکا محسوس کرتے ہوں اور آپ کو مجبور کیا جائے کہ لڑکی بن کر رہو یا معاملہ اس کے برعکس ہو۔ اس گمبھیرتا کو لوگ برسوں برداشت کرتے ہیں۔ بہت کم ہوتے ہیں جو ہمت کرکے یا موقع پا کر اسی طرح کی شخصیت کے طور پر زندگی بسر کرنے لگیں جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ ایم بی بی ایس کے فائنل امتحان میں میں اپنے بیچ میں فرسٹ آیا تھا

Read more

مختلف امراض سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ لیکن خوف کورونا کا

آج یعنی 8 جون 2020 سے پاکستان میں نئے کورونا وائرس کے اس ”متعدی دورانیہ“ یعنی انکوبیشن کا آغاز ہو رہا ہے جسے ماہرین وبا کا عروج کہتے ہیں۔ چودہ روز یا دو ہفتوں کے اس دورانیہ میں انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس عرصے میں انتہائی ضرورت کے بغیر گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے۔ اگر نکلنے کی بہت ہی زیادہ مجبوری ہو تو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، باہر موجود گتے، لکڑی یا دھات سے بنی کسی بھی شے سے ہاتھ مس نہ ہونے دینے، ماسک باندھے رکھنے اور گھر آ کر باہر کے کپڑے دہلیز میں ہی اتار کے گرم پانی یا واشنگ مشین میں ڈال دینے اور ہاتھوں کو صابن کی جھاگ میں کم سے کم بیس سیکنڈ تک بھگوئے رکھنے کے بعد دھونے پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

Read more

میں عمران خان کی طرح نڈر نہیں ہوں

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے آس پاس بیٹھیں یا دائیں بائیں، آگے پیچھے ساتھ ساتھ چلتیں شخصیات سبھی ماسک باندھے ہوتی ہیں مگر خطرے کی زد میں عمر کے حامل ہمارے ان سابق کھلاڑی سیاستدان نے اگر ماسک استعمال کیا تو شاید ایک دو بار ورنہ ماسک کے بغیر اور مطمئن ہی دکھائی دیے، جب کہ ماسک باندھے لوگوں کی آنکھوں میں اضطراب اور بے یقینی جھلکتی دیکھی جا سکتی ہے۔ عمران خان اگر خدانخواستہ کورونا وائرس پھیلانے والے

Read more

خواب، ارادے اور اوقات

ایم بی بی ایس کے دوران اکٹھے پڑھنے والے ہم کلاس فیلوز کا ایک وٹس ایپ گروپ ہے۔ اس میں ایک ہم جماعت دوست نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ اپنی زندگی کے کچھ ”چسکے دار“ واقعات دوستوں کی ”دل پشوری“ کی خاطر تحریر کروں۔ میں نے نیا کیا تحریر کرنا تھا، زندگی تو پہلے ہی کھول کے رکھ چکا ہوں، جس کا پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ کے عنوان سے کتابی شکل میں گزشتہ برس آ چکا تھا، دوسرا حصہ باوجود مکمل ہونے کے اس ”کورونا کرائسز“ کے باعث تا حال نہیں آ سکا ہے۔ اس دوسرے حصے کو ، جو پہلے ناول کی صورت لکھا تھا، میں ایک حد تک ”مثل برگ آوارہ“ کے عنوان سے قسط وار سوشل میڈیم پر ڈال چکا تھا جو میرے ای میل کے ڈرافٹس میں موجود ہیں۔ ان میں ہی سے کچھ اقساط دوستوں کے گروپ میں شیئر کر دیں۔

Read more

کیا دکھ کی فضا میں عید ہو سکتی ہے؟

میرے لیے اس بار کا رمضان تو تب موقوف ہو گیا تھا جب میں نے پہلا روزہ رکھا اور پہلے سے جاری مرض کی اذیت دو چند ہو گئی تھی۔ دوسرے روزہ کی افطاری تک جسم کا پانی قریب قریب خشک ہو گیا تھا۔ اس میں میری غلطی تھی بلکہ میری طب کے اپنے علم سے پہلو تہی تھی۔ جس مرض کا میں شکار ہوا اس میں جسم میں پانی کی مقدار ضرورت سے بھی کچھ زیادہ رکھنا ہوتی ہے جبکہ گرمی تب بھی بہت تھی۔

Read more

زندگی ہے۔۔۔ تو موت بھی ہو گی

زندگی کو طویل کرنے کی تگ و دو تو بہت عرصہ سے جاری ہے۔ انٹی بائیوٹکس کی ایجاد کے بعد اور صحت سے متعلق نظام بہتر ہونے سے، گزشتہ سو برس میں مختلف ملکوں کے انسانوں کی زندگیوں میں، اوسطا ”بیس تا چالیس برس کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سائنسدانوں کا دعوٰی ہے کہ صرف دس برس بعد یعنی 2030 تک ممکن ہو جائے گا کہ جو چاہے 500 سے 1000 سال کی عمر خرید سکے گا البتہ حادثات، معاہدے

Read more

روس میں کرونا ویکسین دینے کے لیے درجہ بندی

گھر کے عقب میں اس باغیچہ والے صحن میں جس میں لسوڑا، کیکر، نیم، شہتوت، کھجور، بیری کے درخت ہیں اور کئی کیاریوں میں موتیا کے پودے پھولے ہوئے ہیں، میں جب صبح دم سیر بلکہ قدم زنی کرتا ہوں تو کئی طرح کی چڑیاں آتی ہیں جن میں گلدم جسے عام لوگ بلبل کہتے ہیں مگر وہ بلبل یعنی مل کے آہ وزاریاں کرنے والی عندلیب نہیں ہوتی، کا جوڑا، خوبصورت معصوم فاختاؤں کا جوڑا اور سب سے بڑھ کر چمکدار سیاہ رنگ، جس میں زمردیں چمکدار رنگ بھی ادھر ادھر، خاص طور پر گردن سے ملے بدن کے حصے پر، جھلکتا ہے کا جوڑا مجھے بہت بھاتا ہے، اور ہاں آج تو میں نے اس جوڑے کے ساتھ ایک تنہا فاختئی رنگ کی بدی بھی دیکھی۔

Read more

خود سے متعلق لکھنا شوق نہیں

گزشتہ چند ماہ کے دوران اردو زبان میں لکھنے والوں میں شاید بلکہ غالباً یا یقیناً میں وہ واحد شخص ہوں جس نے اپنے متعلق سب سے زیادہ لکھا۔ یقین جانیے ایسا کرنا کوئی شوق نہیں نہ ہی نرگسیت پسندی۔ یہ پہلے تو ضرورت کے تحت کیا گیا اور دوسرے مجبوری کے تحت۔

ضرورت یہ تھی کہ گزشتہ برس چونکہ میری خود نوشت کا پہلا حصہ ”پریشاں سا پریشاں“ شائع ہوا تھا جس کی تقاریب پذیرائی کے انعقادات میں شمولیت کی خاطر مجھے پاکستان میں ہونا تھا۔ کتاب چھپنا چونکہ چھاپہ خانہ میں جانے کے بعد پبلشر کے بھی ہاتھ میں نہیں ہوا کرتا چنانچہ گزشتہ برس بھی مارچ میں لوٹ جانے کی بجائے جون کے شروع میں روس لوٹنا ممکن ہو سکا تھا۔

Read more

ایک دوست کی یادیں: بکے آ، توں ای ٹر گئیوں

نئے نئے اپنے اپنے قصبات سے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے تھے۔ ایف ایس سی پری میڈیکل کے بیچ تھے، میرے بیچ میں چھوٹے قد کا، چہرے کے ایک طرف پھوڑے کا نشان، چہرے پر مسلسل شرارتی مسکراہٹ، ایک ڈے سکالر تھا۔ نام تھا اس کا برکت عباس جعفری۔ گانٹھ کا پورا تھا، حد درجہ شرارتی۔ میں اقبال ہوسٹل میں رہتا تھا اور وہ لکشمی چوک میں رتن سینما کے پیچھے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ، جو غالباً کہیں ملازم تھے۔ میں علی پور ضلع مظفر گڑھ سے تھا اور وہ ملتان کے ایک نواحی شہر شجاع آباد سے۔ سرائیکی زبان جسے ان کے ہاں تب ملتانی کہتے تھے اور ہمارے قصبے میں ریاستی ہمارا مشترکہ معاملہ تھی۔ اس لیے ہم دوست بن گئے تھے۔ میں اسے پیار سے بکے آ کہتا اور وہ مجھے مرزے آ۔

Read more

ہمیں خبر نہ ہوئی، مصطفیٰ چلا گیا

سوشل میڈیم پر گزشتہ کئی برسوں میں جب بھی جھنگ کے کسی دوست سے رابطہ ہوا تو میں نے اپنے ہم جماعت ڈاکٹر محمد مصطفٰی سے متعلق ضرور پوچھا۔ مجھ سے استفسار ہوا کیپٹن ڈاکٹر مصطفٰی؟ تو میں کہتا، ہاں کیونکہ فوج میں تو وہ رہا تھا۔ جواب ملتا ٹھیک ہیں۔ خود میں زندگی میں کبھی جھنگ نہیں گیا، ہاں البتہ بہت پہلے جب کبھی سیلاب آ کے گزر گئے ہوتے تو ملتان سے جھنگ کے راستے لاہور جانے والی

Read more

کچھ اور طرح کیوں نہ ہوا؟

معاملہ جبر و قدر کا نہیں مگر معاملہ جبر و قدر کا ہے بھی۔ میں اجبار کا شکار یا مقدر کے مارے غریب لوگوں کو دکھی دیکھ نہیں سکتا ویسے تو میں خود بھی بالکل نہ امیر ہوں اور نہ خوشحال۔ میں کیا میرے بڑے بھائی بھی بس سفید پوش ہیں۔ شروع سے خوشحالی بھی دیکھی، بدحالی بھی مگر معاملہ سفید پوشی پر آ کے ٹک گیا۔

Read more

وبا کے موسم میں غیر وبائی بیماری

درد، رنجش، مایوسی، کرب، اضطراب، غیر یقینی پن کے جتنے شیون ہیں کورونا کا خوف و خدشہ ان سب میں دب کے رہ گیا ہے۔ ادویہ کھا کھا کے کوئی غذا لینے کو جی نہیں کرتا۔ بین الاضلاعی تجارتی بندش کے تحت اس قصبہ میں کوئی پھل نہیں ملتا بلکہ بعض ادویہ بھی دستیاب نہیں ہو پا رہیں جن میں میرے فشارخون کو معمول پر رکھنے کی دوا بھی شامل ہے۔ نہ کوئی بین الاقوامی پابندیاں لگیں نہ کوئی جنگ

Read more

منٹو اور بھٹو کے بعد عرفان خان

یہ جو کچھ خاص افراد حساس لوگوں کو کسی نہ کسی حوالے سے بہت زیادہ متاثر کرنے والے ہوتے ہیں یہ آتے ہیں، چھا جاتے ہیں اور بظاہر عام وقت سے پہلے غروب ہو جاتے ہیں لیکن ان کا اثر اور یا تاثر بہت دیر تک قائم رہتا ہے۔ میں گزشتہ دو روز سے تلاش کر کر کے عرفان خان کی فلمیں دیکھ رہا تھا اگرچہ میں خود بڑی اذیت میں ہوں مگر عرفان خان کی موت نے مجھے اس

Read more

اس بار گھر پر ماہ رمضان

13 دسمبر 2000 کو میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں یونہی ایک سال گزارنے کے بعد ماسکو پہنچا تھا۔ 13 دسمبر 1999 کو امریکہ جانے سے پہلے، 9 مارچ 1999 کو کسی نامعلوم شخص نے ماسکو میں میرے سر پہ پیچھے سے کسی کند آلے سے وار کرکے میری کھوپڑی تین مقامات سے توڑ دی تھی۔ بھاری جوتوں کی ٹھوکروں سے ناک کان توڑ دیے تھے۔ میری تو سر پر وار سے ہی شاید کلینیکل ڈیتھ ہو گئی تھی، ٹھوکروں پہ

Read more

دستائیوسکی اسلام کے بارے میں کیا جانتا تھا؟

دستاییوسکی اور اسلام۔ موضوع مشکل بھی ہے اور کئی طرح سے سمجھنے لائق بھی۔ انہوں نے اپنی تحریر کے کسی بھی پیرے میں اس مذہب پر روشنی نہیں ڈالی جیسا کہ انہوں نے عیسائیت اور یہودیت کے ضمن میں کیا تھا تاہم اس عظیم ادیب کی تحریروں میں اسلام کی فکر بارے اندازے بہر طور پائے جاتے ہیں۔ معلوماتی کتاب ”دستاییوسکی اور عالمی ثقافتیں“ کے مدیر اعلٰی اور فلسفی ڈاکٹر کارین ستیپانیان نے عظیم روسی مصنف کے اسلام سے رشتے

Read more

شور میں کچھ سنائی نہیں دیتا

خامہ فرسائی کرتے ہوئے پچاس برس پورے ہونے کو ہیں۔ اس اثنا میں مختلف انداز ہائے تحریر نظر سے گزرے۔ پہلے زیادہ وہی تحریریں پڑھی جاتی تھیں جن میں عمق اور گیرائی ہوتی تھی۔ عمق کے بنا گیرائی کی حامل تحریر نعرے دہرانے یعنی Rhetorics بن کر کے رہ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ بعد اس میں یکسانیت جگہ پا لیتی ہے۔ بہت سے پسندیدہ لکھنے والے اگر ناپسندیدہ نہیں تو ایسے ضرور بن جاتے ہیں جن کی دس منٹ میں

Read more

عوام ہیں یا غول یا گلّہ؟

جب سے ورلڈومیٹر نام کے ویب سائٹ نے دنیا بھر میں نوول کورونا وائرس کے حملوں اور تباہ کاریوں سے متعلق بروقت ہر خبر دینا شروع کی تو میں اس کا مسلسل مشاہدہ کار بن کر رہ گیا تھا۔ دیکھتا تھا کہ کس ملک میں کتنے نئے مریض آئے؟ معمولی مریض کتنے رہے؟ ایسے مریض کتنے تھے جن کو ہسپتالوں میں داخل کرنا پڑا؟ کہاں کتنی اموات ہوئیں؟ کہاں کتنے بہت حد تک مریض یا نازک حالت میں مریض ہیں؟

Read more

محبت اور بیاہ ( آخری حصہ )

مرد اور عورت نہ صرف افعال بدن کے حوالے سے مختلف ہیں، بلکہ ان کے جذبات بھی مختلف ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے، کہ یہ جذباتی اختلافات وقت اور ماحول کی دین ہیں یعنی اکتسابی ہیں۔ اور کچھ لوگ ان کو حیاتیاتی نوعیت کا گردانتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ان دونوں کے بدن کے کچھ اعضا اپنی حیثیت اور فعل میں مختلف ہیں۔ اس بنا پر ان دونوں کی تربیت مختلف طرح سے کی جاتی ہے۔ اس

Read more

محبت اور بیاہ ( اگلا حصہ )۔

محبت کے میدان میں عورت کا کام دوہری حیثیت کا حامل ہے۔ آدمی ڈھونڈنا اور پھر اس کو رکھنا۔ صرف آدمی پا لینا تو درحقیقت اس کی ناکامی ہے، چاہے وہ اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اکثر عورتوں میں یہ وہم جاگزیں ہے کہ آدمی پر یہ ظاہر کرنا کہ وہ اس کا بہت خیال کرتی ہے، غلط ہے۔ یہ اصل میں ایک شعوری یا لاشعوری خوف ہوتا ہے کہ اگر آدمی پر یہ واضح ہو جائے

Read more

محبت، حسن اور بیاہ

بیاہ، شادی یا عروسی ایک سماجی ادارہ ہے جس کا محبت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ادارہ کب، کیوں اور کیسے پیدا ہوا؟ اس بارے میں کوئی حتمی رائے موجود نہیں۔ جتنی بھی آراء ہیں وہ مفروضات پر مبنی ہیں۔ قدیم اور نیم متمدن سماج دونوں میں ہی ازلی کنواروں کی تعداد آٹے میں نمک کے مصداق رہی ہے۔ مغربی ممالک کی بہ نسبت مشرقی ممالک میں بن بیاہے افراد کی تعداد کم ہے اور وہاں کسی مرد کے

Read more

کورونا سے تو بچ نکلا مگر ۔۔۔۔

میری پیٹھ میں شدید درد اور جلن ہے۔ بائیں طرف کی سامنے کی پسلیوں کا نچلا حصہ بھی دکھ رہا ہے۔ پیٹ کے پٹھے اکڑے ہوئے ہیں۔ گزشتہ تین روز اور تین راتیں اس تکلیف دہ درد کے سبب بہت کٹھن رہے۔ درد دور کرنے کی وہ ادویہ بھی لیں جو بظاہر بے ضرر ہیں اور وہ بھی جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں نہیں لی جانی چاہییں اور ایسی ادویہ جنہیں Non steroid anti inflammatory drugs

Read more

وبا کی تنہائی میں بے بسی کا احساس

ایک بار میں ماسکو میں کئی سال بیروزگار رہا تو مجھے گھر بیٹھے رہنے کی عادت ہو گئی تھی۔ زیادہ سے زیادہ ساٹھ پینسٹھ گھنٹے ہی گزار پاتا تھا لیکن باہر نکلنا بھی بس مارکیٹ تک جانے یا تھوڑی سی چہل قدمی کرنے تک محدود ہوا کرتا یعنی مجے تنہائی اچھی لگنے لگی تھی اور اب بھی لگتی ہے۔ مگر ایسا اپنی مرضی سے کیا جائے تو برا نہیں لگتا، اگرچہ ایسا کرنے میں خالصتاً اپنی مرضی نہیں ہوا کرتی

Read more

وبا کے اندیشوں میں سہمے گھر کا نقشہ اور سرکاری تدفین کا خوف

وہ دن اور آج کا دن، گھر سے باہر نہیں نکلا۔ ہمارا گھر ایسے بنا ہوا ہے کہ جس کمرے میں میں ہوں اس کے سامنے کے دو کمرے میرے کمرے کے دروازے سے بالترتیب تیس اور تنتیس قدم پر ہیں اس لیے کہ ان میں سے ایک کمرے کے سامنے اسی طرح برآمدہ ہے جیسے میرے کمرے کے سامنے۔ انگریزی کے لفظ یو کی طرح بنے اس گھر میں میرے اور سامنے کے کمروں کے بیچ صحن کے ایک

Read more

ڈاکٹر جاوید باتش کی ”خموشی بھی صدا ہے“

شعر کی ابتدا، غالباً غنا سے ہوئی ہو گی اور غنا کا شروع لامحالہ آہنگ سے۔ پھر آہنگ تو بذات خود فطرت کا انگ ہے۔ آہنگ ہی نے ترنم کو جنم دیا۔ البتہ یہ لازم نہیں کہ باد صبا کی یکساں سرسراہٹ یا کسی خاموش ندی کے ایک سے پتھروں پر سے قلقل مے کے مانند ایک لے سے بہنے کی صدا آہنگ کہلائے۔ سرشور ہوا کا بے ہنگم پن، ادھر سے ادھر قوی تھپیڑوں کی سی چٹاخ پٹاخ کے

Read more

وبا کا سنا تھا، پالا اب پڑا

طاعون کی وبا پھیل گئی تھی۔ قصبے کی بیشتر آبادی گھروں سے نکل کر کھلے کھیتوں میں زندگی گزارنے لگی تھی مگر حکیم مرزا عبدالعزیز اپنی حویلی میں ہی رہتے رہے، روز اپنی گھوڑی پہ سوار ہو کر لوگوں کا حال پوچھنے قصبے سے باہر جایا کرتے تھے۔ ایک روز لوٹے تو اپنی دوسری بیوی سے بڑے بیٹے مرزا رفیق سے کہا، ”آج میں کچھ تھک گیا ہوں، تھوڑی دیر کے لیے میری ٹانگیں دبا دو“۔ ٹانگیں دباتے دباتے مرزا

Read more

کورونا وائرس کی اطلاع دینے والی چینی ڈاکٹر کہاں ہے؟

18 دسمبر 2019 کو چین کے شہر ووہان کے سنٹرل پولی کلینک ہسپتال میں ایک 65 سالہ مرد پہنچا جسے سانس کی غیر معمولی عفونت یعنی انفیکشن تھی۔ اسے یہ مرض کئی روز سے تھا، وہ معائنے کے لیے مقامی کلینک بھی گیا تھا جہاں اسے نسخہ میں اینٹی بائیوٹک لکھ دی گئی تھی۔ دوا کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اس کو شدید بخار تھا جو کسی طرح بھی کم ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ اس کی برونکو

Read more

ذوالفقار علی بھٹو سے دو ملاقاتیں اور تیسرا تجاذب

میں تب گورنمنٹ کالج لاہور میں سال دوم کا طالبعلم تھا۔ ایوب خان کے خلاف جلوس نکلا کرتے تھے۔ میں بھی شریک ہوتا تھا۔ میں نے بھٹو کو پہلی بار مال روڈ پر ایسے ہی ایک جلوس میں دیکھا تھا۔ وہ ٹرک کے اوپر کھڑے تھے۔ شلوار قمیص میں ملبوس تھے۔ حسب معمول گریبان کے بٹن کھلے تھے ۔ کف چڑھائے ہوئے تھے۔ سیاہی مائل سفید بال پریشان تھے اور انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ’اب تو مجھے

Read more

کورونا سے بچو تو کرلی ڈرائے

جب میں انقلابی ہوا کرتا تھا تب جیل میں بنے میرے انقلابی دوست، جو بعد میں انقلابی رہنما بنا پھر پیپلز پارٹی کا مددگار اور آخر میں قریب قریب صوفی، یعنی جام ساقی نے میری کراہت اور خوف کا ذکر سن کے جن میں چھپکلی پنجابی میں جسے کرلی اور سرائیکی میں لہجہ بدل کے کرڑی کہا جاتا ہے، چپچپاہٹ اور کتے کا ذکر تھا، مجھے مشورہ دیا تھا کہ اپنے ایسے معاملات کا عام ذکر نہ کیا کرو کیونکہ پکڑے جانے کی صورت میں، قانون لاگو کرنے والے یہی کچھ تمہارے خلاف برت سکتے ہیں۔ بات تو سچ تھی کہ مجھ پر چھپکلی چھوڑنے کی محض دھمکی دے کر مجھ سے ڈونلڈ ٹرمپ، بورس جانس اور عمران خان تینوں کا ہی قتل کرنا تسلیم کروایا جا سکتا ہے، بھلے وہ تینوں زندہ ہوں اور اپنے عہدوں پہ برقرار۔

Read more

یہ جنگ نہیں، وبا ہے

ملکوں میں جنگ چھڑ جائے تو جہاں توپ و تفنگ، اسلحہ و بارود، بمباری اور میزائل پھینکنے سے جنگ لڑی جاتی ہے وہاں دشمن ملک ایک دوسرے کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی لڑتے ہیں جس کا موثر ترین ہتھیار پروپیگنڈہ ہوتا ہے یعنی اطلاعات پھیلانا۔ جنگ میں چونکہ ناجائز بھی جائز ہوتا ہے چنانچہ یہ اطلاعات عموماً جھوٹی ہوتی ہیں۔ اپنے مسائل اور مصائب کو کم کرکے اور دشمن ملک کے مسائل اور مصائب کو زیادہ کرکے بتایا جاتا ہے۔

Read more

نفرت کی نفسیات

نفرت کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے کوئی زیادہ مغزماری نہیں کرنی پڑتی بس اتنا کرنا ہوتا ہے کہ اپنے کہے کو، اپنی سوچ کو، اپنی فہم کو، اپنے عمل کو، اپنے تصور کو، اپنے طرز لباس، طرز تمدن غرض اپنی پر شے کو درست اور برحق مان کر اس بارے یقین کر لو تو اس کے برعکس عمل کرنے والے فرد سے، گروہ سے، قوم سے یا ملک سے آپ کو اگر آج نہیں تو کل نفرت ہو ہی

Read more

کرونا وائرس: اٹلی میں اتنی اموات کیوں؟

نوول کرونا وائرس کی وجہ سے، اٹلی میں اس وقت تک سوا آٹھ ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ تعداد چین، جہاں سے یہ مہلک مرض‌شروع ہوا تھا، میں اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے اڑھائی گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تعداد وہ ہے جس کا سرکاری طور پر اندراج کیا گیا، درحقیقت اموات اس سے کئی گنا زیادہ ہوئی ہوں گی۔ لومباردی کے شہر برگامو کے میئر جارجیو گوری کہتے ہیں، ”مرنے والے

Read more

حکومت کرونا کے بارے میں عوام کو سچ بتائے

ایک عرصہ طب سے وابستہ رہنے کے سبب بتا سکتا ہوں کہ بہت حد تک موت کا باعث بننے والی مرض کی تشخیص ہونے کے بعد مریض کو آگاہ کیے جانے سے متعلق دو مکتب ہائے فکر ہیں۔ ایک پرانا مکتب ہے جس میں مریض کے اقرباء کو حقیقت بتا دی جاتی مگر مریض کو یہی کہا جاتا کہ کوشش کر رہے ہیں، ٹھیک ہو جائیں گے۔ یوں مریض خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہوئے اس جہان سے چلا جاتا ہے۔

ایک نسبتاً نیا مکتب ہے جو مریض کو ہی مرض کے مہلک ہونے سے متعلق آگاہ کرنے کو مقدم جانتا ہے تاکہ وہ خود کو جو ہونا ہے اس کے لیے تیار کرے، ساتھ ہی اگر اسے کوئی ضروری کام سرانجام دینے ہیں، کوئی وصیت نصیحت کرنی ہے یا کوئی خواہش پوری کرنی ہے وہ کرلے اور حقیقت کو حقیقت جان کر اس کا سامنا کرے۔

Read more

وبا کے دنوں میں دیکھی گئی دو فلمیں

کورونا وائرس کی ایک نئی نوع کے سبب سانس کے انتہائی اور بہت حد تک مہلک عارضہ کی عالمی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ گھر میں محصور ہونا کوئی اتنا خوشگوار نہیں ہوتا۔ جہاں ہوں وہاں ‌ کوئی اتنی زیادہ کتابیں بھی نہیں ہیں۔ اگر منگوا بھی لوں تو نجانے کس کس کے ہاتھ لگیں، کسی کی چھینک یا کسی کی کھانسی سے فضا میں معلق ہو کر ان پر گرے مہین قطرے خدانخواستہ عفریت کو ساتھ ہی نہ لے آئیں

Read more

کورونا کا میلہ میرے کھیس چرانے کو لگا؟

یہ عام سی کہانی تو آپ میں سے بیشتر نے سنی ہوگی کہ جب میلے میں کسی دیہاتی کا کھیس چرایا گیا تو اس نے کہا تھا کہ میرا کھیس چرانے کو ہی میلہ لگایا گیا تھا۔ مگر یہ شاید آپ میں ‌سے بیشتر نہ جانتے ہوں کہ ڈاکٹر سب سے برے مریض ہوتے ہیں کیونکہ وہ امراض کے بارے میں عام آدمی سے بہت زیادہ اور پڑھے لکھوں سے خاصا زیادہ جانتے ہیں پھر یہ بھی کہ ڈاکٹروں میں

Read more

بے یقینی کی نہ محسوس ہونے والی دلدل

ایسی دلدل ہوا کرتی ہے جو دیکھنے میں دلدل نہیں بلکہ گیلی اور بعض اوقات سوکھی مٹی کا مسطح رقبہ دکھائی پڑتی ہے۔ دھنستا وہی ہے جو غور کیے بن اور سوچے بغیر اس میں ‌ پاؤں دھر دیتا ہے۔ میں نے اپنی بات کہنے کو یہ عنوان اپنے متبدل مزاج دوست شمعون سلیم کی سوشل میڈیم پر جاری کی گئی ایک انگریزی زبان میں لکھی پوسٹ سے لیا ہے جو انہوں نے اس ضمن میں تحریر کی ہے کہ

Read more

معاملہ نہ یک پہلو ہوتا ہے نہ سیاہ یا سفید

چلیے ہم مذہب کی بات تو سرے سے کرتے ہی نہیں مگر نظریہ یا نظام جو بھی لیں اس کے حامی ہوں گے تو اس کے گن گائیں گے اور مخالف اس کے نقائص گنوائیں گے۔ اسی طرح کوئی مسئلہ لے لیں، اس کا سبب بتاتے ہوئے حتمی طور پر کسی ایک بات کو قرار دے دیا جائے گا جیسے آج کسی نے سوشل میڈیم فیس بک پر تصویر شیئر کی کہ کسی شہر کا کوئی زرگر زیورات سازی چھوڑ

Read more

کچھ جزیرے ہیں باقی جوہڑ ہے

ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر میں ویجیٹیبل آئل کی ایک بوتل لائی گئی جس پر درج قیمت 1025 روپے تھی لیکن دکاندار نے یہ کہہ کر کہ پرانے سٹاک سے ہے، قیمت بڑھ چکی ہے 1200 روپے میں دی اور ساتھ ہی نوید دی کہ اب جو سٹاک آئے گا اس میں ایسی ہی بوتل کی قیمت 1280 ہوگی۔ میں نے مذاق میں ہنستے ہوئے کہا ”عمران خان زندہ باد“ تو بھتیجی نے اس کا جواب مخالفانہ نعرے سے دیا۔

Read more

زندگی وبا سے خائف ہے

میں نے اتنی صبح کبھی نہیں لکھا شاید جتنی جلد آج اور ہاں اب تو لکھنا بھی کہنا غلط ہے ٹائپ کرنا یا سوچ کو کمپوز کرنا کہنا چاہیے۔ سردی نے ماند کیا ہوا ہے۔ قصبے میں اپنے گھر میں رہتے ہوئے اکتایا ہوا ہوں مگر کہیں جانے کو جی بھی نہیں کرتا۔ کہیں جا کے کرنا بھی کیا؟ ہمارا یہ گھر تین مکانوں اور چار صحنوں پرمشتمل ہے۔ ایک صحن گھر کے بالکل عقب میں درختوں پودوں سے بھرا

Read more

کیا بھول بھلیوں کی زبان لکھنے والے صحافت کا حق ادا کر رہے ہیں؟

ملک عزیز کی صحافت میں یہ عام عادت ہے۔ اگر کسی ادارے (بلکہ درست کہا جائے تو ایک ہی ادارہ) کا نام نہ لیا جا سکتا ہو یا نام لینے کی ہمت نہ ہو تو لفظ حساس ادارے کا استعمال کر لیا جاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی شخصیت کا نام نہ لیا جا سکتا ہو یا لینے کی ہمت نہ ہو تو لفظ اہم شخصیت استعمال کر دیا جاتا ہے۔ ایسا کیے جانے کی بظاہر دو وجوہ ہو سکتی

Read more

سب پہ نظر رکھنے کی دو دھاری تلوار

آج ہمارے گھر کے نزدیک کی مسجد میں امام خطیب نے خلاف معمول اپنا خطبہ جلد تمام کیا اور کہا کہ ہمارے ایک بھائی آپ سے بات کرنا چاہیں گے۔ میں نے تیسری صف سے ایک کلین شیو شخص کو آگے بڑھتے دیکھا جس نے امام خطیب سے مائک پکڑ کے نمازیوں کی جانب رخ موڑا تو پنجاب پولیس کی ناپسندیدہ نئی یونیفارم پہنے اس شخص کی ایک جیب پر DSP کڑھا ہوا پڑھ کے حیرانی بھی ہوئی اور کمر

Read more

لوگوں نے کیا چاند کے صحراؤں کو آباد

سپیس ایکس کے مالک انجنیر اور بزنس مین ایلن مسک نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ وہ 2050 تک دس لاکھ افراد کو مریخ بھجوا دیں گے۔ ان کے پروٹو ٹائپ خلائی جہاز کی ہر روز تین پروازیں روانہ ہوں گی جس میں ایک سو افراد اور سات سکول کی بسوں بمع بچوں اور ان کے بستوں کے اوزان کے برابر سامان جیسے کہ اشیائے خورونوش، تعمیراتی مادے وغیرہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔ ہر 26 ماہ کے

Read more

ایک بس تھی۔ ۔ ۔

یو ٹنگ کمپنی کی بنی ایک بس جو کراچی سے ہیڈ پنجند تک جانے کو کچھ ہی دیر پہلے سے رواں دواں ہے۔ اس سے پہلے بحریہ ٹاون کے سامنے دس منٹ، سہراب گوٹھ ٹرمینل پر پندرہ منٹ اور پانچ بج کے دس منٹ پر قیوم آباد سے چل کر پانچ پچپن پر پنجاب اڈہ پہنچ کر آٹھ بجنے سے کچھ دیر پہلے تک رکی رہی تھی جہاں ڈرائیور نے وردی پہنی تھی جبکہ سہراب گوٹھ ٹرمینل سے بس ہوسٹس

Read more

غیر سیاسی کالم، یا خدا بارش نہ ہو

اف اس قدر ٹھنڈ۔ انگلیاں ٹھنڈی برف جیسے منجمد۔ ٹانگیں جب تک لحاف میں نہ گھسیڑ لو تب تک یخ بستہ۔ نہاتے ہوئے دراوزے تلے کی ریخ سے سرد ہوا کا جھکڑ نما جھونکا پورے ننگے بدن کو کمزور ٹہنی کی مانند ہلا کے رکھ دے۔ ماگھ اتنا سرد بھی ہوتا ہے، کم از کم مجھے پہلی بار ایسے لگا ہے۔ جب اس آبائی گھر میں رہتے ہوئے چھوٹے تھے تب نہانا دھوپ نکلنے سے بندھا ہوتا تھا یا کچے

Read more

ہجرتی! گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں

میری سالگرہ کے موقع پر میری روس نژاد اہلیہ نے ایک روسی شاعر کی یہ نظم مجھے ارسال کی ۔ ہم دونوں میں کوئی سال بھر پہلے علیحدگی ہوئی ہے۔ نظم کا ترجمہ آپ سب کے لیے ” ہم سب ” میں پیش کر رہا ہوں – مجاہد مرزا ٭٭٭   ٭٭٭ کبھی، کسی وجہ سے کسی بات کا دکھ نہ کرو پانی بہتا ہے اگر ایسا ہے کہ کچھ ہو چکا ہے تو بدلے گا نہیں ماضی کے ورق پہ،

Read more

کیا لکھوں کیا نہ لکھوں

ٹرمپ نے جنرل قاسم سلیمانی کو دہشت گرد کہا، پاکستان میں سوشل میڈیا پر شیعہ سنی مخاصمہ آرائی شروع ہو گئی۔ میرے ہی ایک عزیز نے سوال اٹھایا کہ کیا انہیں صاحب نے صدام کی موت پر سہ روزہ جشن نہیں منایا تھا؟ بھئی امریکہ پہلے کام لیتا ہے، تھوڑا سا سر اٹھاؤ تو انتقام لے لیتا ہے ویسے ہی جیسے ہمارے ملک جیسے ملکوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے شروع میں سر اٹھاتے غنڈے کو نمبری بدمعاش بننے

Read more

2020 کا پہلا کالم

ویسے تو سب مایا ہے مگر بظاہر ایک کائنات ہے جس میں ‌موجود اربوں کہکشاؤں میں ایک کہکشاں ”راہ شیر“ یعنی Milky Way نام کی ہے، جس کے اربوں سورجوں میں سے ایک سورج کے گرد سیاروں کے ہجوم کو ”نظام شمسی“ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام میں ایک سیارہ زمین نام کا ہے۔ اس کرہ ارض پر ”پاکستان“ کے نام سے ایک ملک ہے جس کا سب سے بڑا کوئی پونے دو کروڑ آبادی والا شہر کراچی

Read more

2019 کا آخری کالم

سردی سے قلفی جم گئی۔ چولہوں میں گیس نہیں آ رہی۔ عوام کو نئے سال کی سلامی، پٹرول اور ڈیزل مہنگا کیے جانے کی سمری تیار۔ سال کے آخری روز چینلوں سے نشر کی جانے والی خبروں کی سرخیاں ہیں یہ۔ میں ان دنوں کراچی میں ہوں جہاں کے باسیوں کے لیے بیس ڈگری سنٹی گریڈ بھی سردی مانی جاتی ہے جبکہ رات گئے صبح تک درجہ حرارت 9 ڈگری سنٹی گریڈ تک بھی گر جاتا ہے۔ اور ہاں صرف

Read more

2019  کا آخری کالم

سردی سے قلفی جم گئی۔ چولہوں میں گیس نہیں آ رہی۔ عوام کو نئے سال کی سلامی، پٹرول اور ڈیزل مہنگا کیے جانے کی سمری تیار۔ سال کے آخری روز چینلوں سے نشر کی جانے والی خبروں کی سرخیاں ہیں یہ۔ میں ان دنوں کراچی میں ہوں جہاں کے باسیوں کے لیے بیس ڈگری سنٹی گریڈ بھی سردی مانی جاتی ہے جبکہ رات گئے صبح تک درجہ حرارت 9 ڈگری سنٹی گریڈ تک بھی گر جاتا ہے۔ اور ہاں صرف

Read more

ہونے کی دلدل

صدیوں پہلے ایک صوفی نے کہا تھا، ”میں تھا، میں ہوں، میں ہوں گا“ تاہم انہوں نے، نے یعنی بنسری کو استعارہ بناتے ہوئے اپنی اصل سے کٹ جانے کا نوحہ بھی کہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک کل کا ایک اٹوٹ حصہ تھے، مگر ایک علیحدہ وجود کے طور پر بھی موجود تھے اور خود میں کل یعنی مکمل۔ اپنی اصلیت کوکھو کر وہ اپنے منبع کے ساتھ باہم ہونے کی آرزو بھی رکھے ہوئے تھے۔

Read more

آئین شکنی غداری نہیں ‌تو کیا ہے؟

آئین کیا ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کے انتظام و انصرام کے لیے طے اور عوامی نمائندوں کی جانب سے منظور کردہ محکم اصول وضوابط آئین کہلاتے ہیں جن سے روگردانی ملک مخالف عمل شمار کیا جاتا ہے، یوں ہر وہ شخص یا ادارہ جو ایسے کسی فعل کا مرتکب ہوگا وہ غدار وطن قرار پائے گا۔ مالی بدعنوانی کرنا کسی بھی آئین میں درج نہیں ہوا کرتا۔ ے یہ انتظامی بدنیتی پر محمول جرم ہے جس کو زیر تعزیر

Read more

چراغ، اتنے بہت سے چراغ

میری تحاریر پڑھنے والے قارئین کو احساس ہو چلا ہوگا کہ میں نے سیاسی معاملات بارے لکھنے سے حتٰی الوسع گریز کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔ ایسا کیے جانے کی بڑی وجہ ملک میں بہتری کے امکانات سے متعلق ازحد مایوسی ہے۔ ایسا سوچنے کا سبب طرح طرح کے افراد سے ملنا ہے جو ہونے کو جیسے بھی ہیں مگر مجھ سے بہت سا سچ نہیں چھپاتے، یہ ان کی مہربانی بھی ہے اور تعلقات کی گہرائی اور گیرائی کا

Read more

انتظار امید ہوتا ہے

مولانا فضل الرحمٰن اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ طمطراق سے آئے اور کسی شعبدہ باز کے برعکس ایک اچھے سیاستدان کی طرح ”مبارک ہو، مبارک ہو“ کا غلغلہ بلند کیے بغیر بردباری سے پلان بی کا اعلان کرکے اپنے کارکنوں کو کچھ روز کچھ مقامات پر مصروف رکھنے کا جھکاؤ دے کر سیاست کرنے چلے گئے۔ ملاقاتیں، بیانات اور امید بر آنے کے منتظر رہنے کی تلقین کرتے ہوئے۔ میاں نواز شریف صاحب کی Platelets کم ہوئیں۔ ہسپتال منتقل ہوئے۔

Read more

کیسے برباد کیے کوہ و دمن

بارہا نتھیا گلی کی بلندیوں سے یا گلگت میں فوج کی سروس کے دوران یا کسی بھی پہاڑی سڑک سے گزرتے ہوئے، پہاڑوں کی ڈھلوانوں پر تعمیر گاؤں دیکھتا رہا۔ دن میں ویسے ہی گھروندے اور راتوں کو روشنیاں اوپر تلے مگر کبھی کسی ایسے گاؤں میں جانے کا اتفاق نہیں ہو پایا۔ اسی طرح اٹلی کی شاہراہوں سے گزرتے ہوئے پہاڑیوں کی ڈھلوانوں اور کہیں کہیں کگر پہ بسی بستیاں دیکھنے کا اتفاق ہوا مگر دور دور سے۔ روس

Read more

پھر سے اے ارض وطن

پاکستان ان ملکوں ‌ میں سے ہے جہاں ‌کی آبادی کا بہت کم حصہ سیاحت کی غرض سے دوسرے ملکوں میں جا سکتا ہے۔ یا تو بیرونی ممالک میں روزگار کی غرض سے گئے وہ پچاس ساٹھ لاکھ افراد ہیں جن کا بیشتر حصہ محنت مزدوری کی خاطر سعودی عرب، عرب امارات اور کچھ ملحقہ ملکوں میں ہے یا یورپی ملکوں میں جا بسے کوئی زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ افراد۔ یا تو سیاحت کی غرض سے بیرون ملک بہت

Read more

بکھیڑا لبرل اور پروگریسیو ”ترقی پسند“ ہونے کا

معلوم ہوا کہ لبرل افراد کو ”دیسی لبرل“ یا ”لنڈے کے لبرل“ صرف رجعت پسند ہی نہیں بلکہ وہ جنہیں پروگریسیو ہونے کا زعم ہے وہ بھی کہتے ہوں گے یا شاید کہتے ہی ہوں۔ بتایا گیا کہ لبرل ضروری نہیں کہ پروگریسیو بھی ہو مگر پروگریسیو بلا شبہ لبرل ہوگا۔ کیا کسی کو یہ جان کر حیرت نہیں ہوگی کہ جو لبرل کو پروگریسیو نہ سمجھے وہ بھلا کیسے خود کو پروگریسیو کہلا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ اصطلاح

Read more

میں نے پاکستان میں کیا دیکھا؟

میں نے 30 جون کو ملک چھوڑا تھا۔ ارادتاً واپسی کا ٹکٹ لے کے گیا تھا کیونکہ اس دروان اپنی خود نوشت کا دوسرا حصہ مکمل کرکے پبلشر کو ارسال کرنا تھا۔ چونکہ ان کا قصد اس کتاب کو دسمبر کے اواخر تک منصہ شہود پہ لانا تھا، چنانچہ نوک پلک درست کرنے کی خاطر میرا یہاں ہونا سہل تر رہتا۔ وجہ یہ کہ پہلے حصے کو اگرچہ بہت سراہا گیا لیکن اس کی املاء کے فاش سقوم مجھ سمیت

Read more

وستی مہرے آلی میں 34 واں سرائیکی ادبی ثقافتی میلہ

میری جیسی کیسی بھی کئی عادات میں سے ایک عادت یہ بھی ہے کہ ارادہ کر لوں تو اس پر بہر صورت عمل کرتا ہوں ویسے ہی جیسے اگر بمشکل ہی سہی کوئی وعدہ کر لوں تو نبھاتا ہوں۔ وعدہ اپنے مہربان جناب عاشق بزدار سے کیا تھا کہ ان کے زیراہتمام ان کی بستی مہرے آلی میں ہر برس ہونے والے ادبی ثقافتی میلے میں شرکت ضرور کروں گا۔ ایسے اولین دو اکٹھوں میں جب شامل ہوا تھا تب

Read more

ڈاکٹر اقبال نیازی یوں چلے گئے؟

کل رات سے انتہائی مضطرب ہوں۔ ڈاکٹر ملا احسان کا فون آیا تھا، جس نے بتایا کہ کچھ ماہ پیشتر اقبال نیازی گزر گیا۔ ہائیں، فروری کے آخر میں تو ہم ڈاکٹر جنید قریشی ماہر امراض اطفال کے بیٹے کے ولیمہ سے اکٹھے ڈاکٹر عصمت اللہ خان ماہر امراض قلب کی کار میں ان کے گھر پہنچے تھے جہاں بیٹھ کے ہم نے چائے پی تھی اور بہت دیر تک گپ لگائی تھی۔ گپ کیا لگائی تھی نیازی کی باتیں

Read more

وطن میں سات دن

ماسکو سے لاہور تک سوا چار ہزار کلومیٹر کا ہوائی سفر کر کے اب علی پور ضلع مظفرگڑھ میں بیٹھے مجھ فقیر باتقصیر کو وطن پہنچے سات روز بیت چکے ہیں۔ ایک دو مداحین نے رابطہ ضرور کیا مگر دوستوں میں چاہے وہ کالج کے زمانے کا کوئی دوست ہو یا سابق نظریہ کے توسط سے شناسا ہوا کوئی دانشور دوست ہو، کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ میرے فون کرنے کے بعد فون کر لیتا۔ اگر کسی سے میں نے

Read more

اپنے جیسوں سے انسیت کے بارے میں

میں دسویں جماعت میں تھا، زلفی ایک اونچے گھوڑے پر سوار ہو کر ہماری گلی میں داخل ہوتا تھا اور گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے بیٹھے دروازہ کھٹکھٹا دیا کرتا تھا۔ میری بہنوں میں سے کوئی دروازے کی ریخ میں سے دیکھ کر کہتی،”تمہارا گھڑ سوار دوست آ گیا” مجھے لگتا جیسے میرے دانتوں تلے ریت آ گئی ہو۔ بادل نخواستہ اسے ملنے کے لیے گھر کے دروازے سے نکل جاتا اور جتنی جلدی ممکن ہوتا اسے رخصت کرنے کی

Read more

رابیرت بارتینی: سوویت طیارہ سازی کا ”سرخ نواب“

”ماضی، حال اور مستقبل۔ ۔ ۔ ایک ہی ہیں۔ اس طرح سے وقت راستے سے مماثل ہے۔ جب ہم سے گزر چکے ہوتے ہیں تو راستہ معدوم نہیں ہو جاتا۔ وقت بھی ایک لمحے کے لیے نہیں رکتا، بس موڑ آتے رہتے ہیں“۔ یہ الفاظ لکھنے والے کی شخصیت بارے بہت سی افواہیں ضرور تھیں، لیکن اس کے اصل نام سے کم لوگ ہی شناسا تھے۔ بیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں سوویت انجینیروں اور سائنسدانوں کے حلقے میں ایک

Read more

سرد جنگ میں روسی جاسوسی کا داستانوی کردار: روڈلف ایبل

روس کی تاریخ میں بیسویں صدی مد و جزر، بربادی اور بنیادی سماجی تبدیلیوں سے عبارت رہی تھی۔ ایسے عہد میں ممکن نہیں تھا کہ بہت زیادہ نمایاں افراد پیدا نہ ہوتے جن میں سرکاری و سماجی شخصیات، ثقافت سے وابستہ لوگ اور دیگر عظیم لوگ شامل تھے۔ ان کی زندگیوں سے وابستہ عروج و زوال۔ خوش بختی پر مبنی لمحات اور ذاتی سانحات، دوستیوں اور غداریوں سے متعلق ہی ہم آپ کو اس سلسلہ وار پروگرام ”تاریخ روس: بیسویں

Read more

فنون عالیہ کے سرپرست: پاویل تریتیاکوو

بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ روس کے دارالحکومت کے مرکز میں دنیا بھر میں جانی پہچانی سرکاری تریتیاکوو گیلری واقع ہے، جو روسی مصوری کے شاہکاروں کی قومی گیلری ہے۔ عالمی اہمیت کا حامل یہ میوزیم روسی تاجر پاویل تریتیاکوو نے بنایا تھا۔ پاویل تریتیاکوو ابھی انیس برس کے تھے کہ انہوں نے فن پارے خرید کرنا شروع کر دیے تھے اور وہ شروع سے ہی جانتے تھے کہ وہ یہ اپنا پورا مجموعہ شہر اور ”روس کی کے

Read more

میں کسی اور کے بدن میں ہوں

اردو میں ایک لفظ ہے ”جنس“ جس کا تعلق اعضائے تناسل کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس سے ہم طے کر دیتے ہیں کہ کون انسان مادہ ہے اور کون نر۔ اس لفظ جنس کو انگریزی میں Sex لکھا جاتا ہے مگر انگریزی میں ایک اور لفظ Gender بھی ہے جس کا اردو ترجمہ نہیں کیا گیا ویسے بھی یہ لفظ کوئی اتنا پرانا نہیں ہے۔ اس کا ترجمہ عرفان ذات کی طرح ”عرفان جنس“ کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں

Read more

ہندوستان پر حملے کے روسی منصوبے

اکتوبر 1917 کے انقلاب کے بعد روس میں اشتراکیوں (کمیونسٹوں ) کی حکومت قائم ہو گئی تھی، جس کے سربراہ ولادیمیر لینن تھے۔ اس کامیابی کو اشتراکی عالمی اشتراکی انقلاب کا محض پہلا قدم تصور کرتے تھے۔ لینن کے ساتھیوں نے یورپی حمایتیوں کی حمایت کرنے پر زور دیا تھا تاہم وہ غلطی پر تھے۔ جرمنی، ہنگری اور سلاویکیہ میں ”سوویت جمہوریائیں“ قائم کیے جانے کی کوششیں ناکام ہو گئی تھی اور ایسا کرنے والے کو ملیا میٹ کر دیا

Read more

ایوسف ستالن اور ماورائیاتی جنگ

دوسری عالمی جنگ بیسویں صدی کی عالمی تاریخ کا سب سے بڑا اور شاید سب سے زیادہ سانحہ خیز واقعہ تھی۔ یہ دہشتناک جنگ نہ صرف لڑائی کے میدانوں بلکہ خفیہ طور پر ماورائیاتی سطح پر بھی لڑی گئی تھی۔ اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے کہ جرمن فیوہرر ایڈولف ہٹلر کو ماورائیات کا چسکہ تھا۔ جرمنی کی تنظیم ”اینین نربے“ کی سرگرمیوں کے بارے میں سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ماورائیات بارے تحقیق کرتی تھی

Read more

نکیتا خروشیو کی منطق

دنیا کبھی جوہری جنگ کے اس قدر قریب نہیں ہوئی تھی جتنی کہ 1962 کے موسم خزاں میں۔ امریکہ کے ساحل سے کلومیٹروں کی دوری پر واقع کیوبا میں غیر متوقع طور پرسوویت میزائل اور ایٹم بم گرانے والے جنگی طیارے پہنچ گئے تھے۔ نزدیک ہی سمندر میں سوویت جوہری آبدوزیں گھومنے لگی تھیں۔ یہ سوویت رہنما نکیتا خروشیو کا، 1961 میں درمیانی طوالت تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں اور جوہری وارہیڈز کو ترکی میں اتارے جانے کا جواب

Read more

روس کی ریل گاڑیاں

روس میں دوطرح کی ریل گاڑیاں ہیں جن میں سے ایک قسم کو ”فرمنّے پوئزد“ یعنی فرم کی ریل گاڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں علیحدہ کمپنیوں کے زیرانصرام ہوتی ہیں چنانچہ ان گاڑیوں میں سروس بہتر ہوتی ہے۔ سٹاپ کم ہوتے ہیں مگرکرایہ زیادہ۔ البتہ دوسری قسم کی ریل گاڑیاں بھی اپنی صفائی، کارکردگی اور سہولت میں کچھ کم نہیں ہوتیں۔ گاڑی کی روانگی سے پہلے ہر ڈبے کے باہروردی میں ملبوس مستعد ڈبہ بان خاتون یا مرد کھڑے

Read more

ایوان غصّہ ور کا کربناک مقدر

مترجم : ڈاکٹر مجاہد مرزا زار ایوان چہارم کو، جنہوں نے سولہویں صدی کے وسط میں روس کی باگ ڈور سنبھالی تھی، آج لوگ بلا وجہ ”ایوان غصہ ور“ کا نام نہیں دیتے۔ روس کے اس اولین زار، کیونکہ ان سے پہلے روس راجواڑوں میں بٹا ہوا تھا، کے بارے میں یکساں آراء نہیں ہیں۔ ایک جانب تو وہ روس کی سرحدیں وسیع کرنے میں سپھل ہوئے تھے اور جنگ پہ مائل ہمسایوں کو مجبور کیا تھا کہ ان کے

Read more

نہ ہی باٹا نہ اسکول

” پہلے باٹا پھر اسکول“ کمرشل سروس ریڈیو پاکستان پر چند خوش باش بچے یہ فقرہ یا مصرع پڑھ کر خاموش ہو گئے اور مجھے رنج و غم کے اتھاہ سمندر میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے چھوڑ گئے۔ آپ بھی کہیں گے بھلا اس ایڈورٹائزمنٹ کو سن کر کے غمگین ہونے کی کیا تک ہے؟ اگر یاسیت سے لطف اندوز ہونا مقصد ہو تو کوئی حزنیہ گیت یہ کام بخوبی سرانجام دے سکتا ہے یا پھر ”آداب عرض“ کی کوئی سچی

Read more

وطن کے بارے میں کڑھنا کیوں؟

ایسا نہیں کہ موجودہ حکومت کی نا اہلی کے سبب ہی لوگ ملک کے حالات بارے کڑھنے لگے ہوں، کڑھنے والے تب سے کڑھتے رہے ہیں جب سے یہ مملکت معرض وجود میں آئی تھی۔ کڑھتا کون ہے؟ ایسا شخص جو یا تو درد دل رکھتا ہو یا اس کے ذاتی مفادات پورے نہ ہوتے ہوں۔ درد دل رکھنے والا اس لیے کڑھتا ہے کہ اسے لوگوں کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے حالات زندگی، لوگوں کی معاملات بارے سرکاری

Read more

لینن پہ گولی کس نے چلائی تھی؟

گذشتہ صدی کے وسط میں سوویت یونین میں نامور ہدایت کار میخائیل روما کی فلم ’لینن 1918 میں‘ خاصی مقبول تھی۔ فلم کا اختتام رہبر انقلاب روس پہ اسی سال کے 30 اگست کو کیے گئے قاتلانہ حملے پر ہوتا ہے۔  ایک جلسے سے خطاب کرنے کے بعد مزدوروں کے ہجوم میں گھرے ہوئے ولادیمیر لینن کو اپنی کار کی جانب جاتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔  اس لمحے فانّی کپلان نام کی ایک عورت قریب پہنچ کر، ریوالور سے لینن

Read more

آخری روسی بادشاہ نکولائی رومانوو اور ان کی ملکہ الیکساندرا رومانووا

مترجم : ڈاکٹر مجاہد مرزا روس کے آخری شہنشاہ اور ان کی اہلیہ الیکساندرا کی جوڑی کو مثالی کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو محبت کی مکمّل نرم روی پر مبنی سات سو سے زیادہ محبت نامے لکھے تھے۔ ان کے بیاہ کے بعد ان کے پانچ بچے پیدا ہوئے۔ بیاہ کی بیسویں سالگرہ کے روز نکولائی نے اپنے روزنامچے میں لکھا تھا: ”خدا نے مجھے نادر گھریلو خوش بختی بخشی ہے۔“ تاریخ دانوں کا کہنا ہے

Read more

گریگوری راسپوتن: برگزیدہ ہستی یا جنسی درندہ اور ڈھونگی؟

راسپوتن پر کچھ کم فلمیں نہیں بنیں، اس کے بارے میں کئی کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں لیکن اس کی شخصیت آج بھی لوگوں کی توجہ مبذول کرا لیتی ہے۔ راسپوتن کی زندگی کے تاریک پرتو کا راز کیا ہے؟ کچھ اسے تمام قبیح ترین گناہوں میں لتھڑا ہوا بتاتے ہیں، دوسرے تقریباً برگزیدہ خیال کرتے ہیں۔ ایک معمولی دیہاتی، جو روس کے آخری زار کے کنبے کا دوست بن گیا تھا، کچھ کم رازوں کا امین نہیں تھا۔

Read more

میخائیل گورباچوو: روس کی تعمیر نو کے آئینے میں

یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس کے پہلے اور آخری صدر میخائیل گورباچوو کو یقین ہے کہ وہ ملک میں آزادی اور جمہوریت لائے ہیں لیکن سابق سوویت یونین کی بیشتر آبادی ایسا نہیں سوچتی۔ کمیونزم کے حامی تو انہیں غدّار کہتے ہیں۔ انہوں نے سرد جنگ کو تمام کیا اور سوویت یونین کو دفن کر دیا۔ مغرب میں انہیں سراہا جاتا ہے اور مشرق میں ان کو پسند نہیں کیا جاتا۔ ہمارا آج کا موضوع میخائیل گورباچوو اور ان

Read more

پاکستانی ذرائع ابلاغ، ذرائع ابلاغ نہیں ہیں

چونکہ میں ایک طویل عرصے سے پاکستان سے دور ایک ایسے ملک میں ہوں جس کا پاکستان سے کوئی خاص ربط نہیں ہے جیسے چین کا ہے، امریکہ اور برطانیہ کا ہے، حتیٰ کہ ہندوستان، افغانستان، ایران، مشرق وسطٰی و سعودی عرب کا ہے جن کی مثبت یا منفی سیاست کا پاکستان پر اثر پڑتا ہے، جہاں سے اردو میں اخبار جاری ہوتے ہیں اور کہیں کہیں تو اردو کے علاقائی ٹی وی چینل بھی ہیں، اس لیے پاکستان سے

Read more