عربن سے عشق اور ہکا بکا یار دلدار

اُن دنوں ایک اسائنمنٹ تھی، مزاروں پر گھومتا پھر رہا تھا۔ ملنگوں سے باتیں کرتا، ان کی سنتا تھا وہ زندگی کو کیا سمجھتے ہیں کیسے دیکھتے ہیں۔ شام ہونے کو آتی تو ڈیرے پر پہنچ جاتا کہ نانا کے بے قابو ہو جانے کا اندیشہ رہتا تھا۔ مجھے تو خیر انہوں نے کیا کہنا تھا سارے گھر کی شامت آ جایا کرتی تھے کہ اس کو ڈھونڈ کر لاؤ کدھر چلا گیا، ابھی تک آیا کیوں نہیں۔ پنڈ میں

Read more