مولانا آ رہے ہیں یا سیاست سے جا رہے ہیں؟

اک طرف نواز شریف ہیں۔ آصف زرداری ہیں۔ جیل میں ہیں۔ ان کی پارٹیاں بات کرتے گھبراتی ہیں۔ بلاول بولتا ہے تو کرنٹ پھرتا ہے، پر تھوڑی دیر میں نارمل ہو جاتی صورتحال۔ مریم بڑے جلسے کر رہی تھی اب اک کیس میں اندر ہے۔ باقی نون لیگ منہ اٹھا کر ادھر ادھر دے رہی جو بہت انقلابی تھے گواچی گاں کی طرح پھر رہے۔

مولانا فضل الرحمان نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہاں ذرا ٹھہریں منظور پشتین کو یاد کریں۔ وہ جو نعرے لے کر اٹھا تھا اس کے بعد سیدھا تصادم ہوا۔ دو ممبران جیل پہنچے اور پی ٹی ایم کو چپ لگ گئی۔ کوئی مستقبل بظاہر اب ان کا دکھائی نہیں دیتا۔

Read more

مولانا فضل الرحمان بمقابلہ “گلاب سنگھ نیازی” کا دنگل سجنے کو ہے

کوئی طالب مولانا فضل الرحمان کی ٹانگیں دبا رہا ہو۔ ایسے میں ان سے سوال پوچھتا رہے ۔ اسے جواب ملتے رہتے ہیں۔ اچھے سوال پر داد بھی مل جاتی ہے۔ اپنے کارکنان سے طویل بحث کر لینا، ان کو جواب دینا ، ان کے مشکل سوالات کا خوشگوار موڈ میں جواب دینا، مولانا کا مستقل ٹریڈ مارک رہا ہے

Read more

سی پیک: ہماری قومی حماقتوں کی داستان مجاہد اور امریکی چالیں

علی بابا کا مالک جیک ما آٹھ جنوری دو ہزار اٹھارہ کو شیر بنا دھاڑتا ہے ”کوئی سیاستدان یہ ہمت نہیں کر سکتا، ہاں میں کہتا ہوں کہ ہم ہانگ کانگ کی مارکیٹ میں آئیں گے۔ اس شہر کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں گے“۔

اکیس اگست دو ہزار انیس یہی ہانگ کانگ ہے، وہی جیک ما ہے اس کی میاؤں اخبار میں چھپتی ہے کہ ہانگ کانگ مارکیٹ میں لسٹنگ کا علی بابا نے اپنا پندرہ ارب ڈالر کا پروگرام ملتوی کر دیا۔ جیک ما بھی پھر شیخ ہی نکلا۔ گیلی جگہ پیر نہیں رکھتا۔

Read more

ہے ہمت تو نیکی کرو، بھلے چور کہلاؤ

دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا رہتا ہوں۔ بس تب چھوڑ دیتا ہوں جب حالات گڑبڑ ہو جائیں۔ بس کبھی سیکھا تھا کہ خدا سے تعلق دوستی یاری کا ہو تو پھر مشکلات سے روتے گھبراتے نہیں بس ان کا سامنا کرتے ہیں۔ اب یہ گڑبڑ دل کے معاملات میں ہو یا دنیا داری کے سوچتا ایک ہی بات ہوں۔ کہیں کوئی تعلق گڑبڑ ہو گیا ہے۔ اس کو ڈھونڈنا ہے بحال کرنا ہے۔

ہاتھ تنگ ہو جائے تو شئرنگ بڑھا دینے کی عادت ہے۔ پیسے کم ملیں تو تھوڑا مزید اپنے آپ کو آزمانا شروع کر دیتا ہوں۔ آسان سا طریقہ ہے جو ملتا ہے اس میں سے کچھ حصہ تقسیم کرتا ہوں۔ بندہ ڈھونڈتا ہوں اس کے لیے خوار ہوتا ہوں۔ ضرورت مند تو راہ چلتے مل جاتے ہیں پر تلاش ان کی ہوتی ہے جو منہ سے کچھ نہیں کہہ پاتے۔

Read more

پنڈ والے جاٹ

اگر آپ اپنی بات کے پکے ہیں اس پر کھڑے رہ سکتے ہیں تو آپ بلوچ ہیں۔ اگر آپ دوسرے کی بات پر کھڑے ہو سکتے ہیں تو آپ ٹھیک پختون ہیں۔ اگر آپ بغیر بات کے ہی کھڑے ہو سکتے ہیں تو پھر آپ سردار ہی ہیں۔

یہ سب خوار ہونے کے مختلف طریقے ہیں۔ جیسے دل چاہے ہو سکتے ہیں، ہو جائیں۔ قدرت نے فیاضی سے سارے آپشن دیے ہیں۔
زیادہ نہ سوچیں کسی کو نہ بتائیں کہ آپ اصل میں ہیں کیا۔ بندے کا کوئی پتہ لگتا وہ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

Read more

پیار بھی کیسی کیسی نشانیاں دے جاتا ہے

ماما یہ نہیں ہو سکتا میں نے تمھارے ڈیرے کا سب سے بڑا درخت کاٹ دینا ہے۔ جب تم سو رہے ہو گے نہ تب کاٹوں گا۔ تمھارے اوپر گرے گا پھر پڑے رہنا منجی پر۔ جیسے تمھارا سسر چارپائی پر پڑا رہتا تھا۔ اس کو چارپائی سمیت اٹھا کر جب دھوپ چھاؤں لگوانے کو…

Read more

ایک تھا پیر اور ایک تھا مُلا

لوگو ٹھہرو میری بات سنو۔ آج پیروں کے ہاں دستاربندی ہے نئے پیر کی۔ وہاں مت جانا۔ یہ کفر نہ کرنا۔ خدا سے رابطے کے لیے کسی واسطے کسی انسان کی ضرورت نہیں۔ ہاتھ اٹھاؤ جو چاہو مانگو اگر وہ مانگ تمھارے لیے اچھی ہو گی پوری ہو جائے گی۔
لوگوں نے بات سنی۔ ان کے دل گھبرائے۔ شک نے ڈیرے ڈالے۔ کوئی گھر گیا۔ کوئی سوچنے لگا۔ کوئی دستار بندی دیکھنے چل پڑا۔

پیر نے ماں کے پیروں کو ہاتھ لگائے۔ اپنے بڑوں کو یاد کیا۔ کوشش کے باوجود اسے بڑوں کی اچھائی سے زیادہ ان کے برے کام یاد آئے۔ ڈولتے قدم اٹھاتے پیر دہلیز کی جانب چلا تو بہن نے اٹھا کر دستار اس کے سر پر رکھ دی۔
ملا نے لوگوں کو جاتے دیکھا۔ دل میں کہا کہ اس زمین پر عذاب آئے گا۔ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں لوگ بندوں کو۔

Read more

دفاع میں خچروں کا کردار

پاکستان بھر میں بینر لگے ہوئے ہیں۔ راحیل صاحب کا منت ترلا ہو رہا ہے کہ جانے کا سوچیں بھی مت، آنے والی کریں۔ ایسے میں جب حکومت ڈر کے میز کے تھلے چھپی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک ایم این اے صاحب نے ایک وڈا سا سانڈ کھول رکھا ہے جو اپنی ہی حکومت کو سینگوں پر اٹھائے پھر رہا ہے۔

آج قومی اسمبلی کی دفاعی امور کے لئے قائمہ کمیٹی کا اجلاس تھا۔ شیخ روحیل اصغر اس کے چیئرمین ہیں۔ شیریں مزاری بھی اس کمیٹی کی رکن ہیں۔ اس اجلاس میں چھوٹے چھوٹے ایشوز چینی آبدوزوں پر کمیٹی کو بریفنگ، بھارت کے ساتھ سرکریک مسئلے پر بریفنگ وغیرہ کے معاملات تو فوری طے ہو گئے۔

Read more

خدا کو اب دل میں ہی رکھیں

خدا کے ساتھ ذاتی تعلقات نہایت خوشگوار بھی ہیں اور دوستانہ بھی۔ یہ تعلقات ایک دن میں ایسے نہیں ہوئے۔ پہلے غلامانہ رہے پھر تابعداری کے درجے میں آئے۔ ایک وقت لگا انہیں خوشگوار اور دوستانہ ہونے میں۔

ہم ابھی چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے جب پہلی بار ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کسی توپ سے گولہ داغ دیا گیا تھا یا شاید کسی جہاز نے ساؤنڈ بیرئیر توڑا تھا۔ ایک ہم جماعت نے ہماری کلاس ٹیچر سے پوچھا مس کیا روس آ گیا۔

اب ضروری ہو گیا تھا کہ روس کا پتہ کریں۔ جلدی پتہ لگ گیا۔ کچھ محلے کی مسجد میں مولوی صاحب نے بتایا۔ کچھ مدد نسیم حجازی نے کی، حالانکہ انہوں نے براہ راست کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ یہ ہم ہی تھے جو ایسا سمجھے کہ یہی کہہ رہے ہیں۔ پتہ لگایا اتنی سی سمجھ آئی کہ روسی خدا کو نہیں مانتے۔

Read more

سیاستدان فوج جیسی کوالٹی بھی تو لائیں

محمود خان اچکزئی نے ایک بار سیاپا کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے پچاس کی دہائی میں فیصلہ کیا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل بننی چاہیے کتنی دہائیاں بیت گئیں فوج کے ادارے کا موقف یہی رہا کہ یہ بننی چاہیے کیونکہ ادارے نے یہ موقف کوئی ہوم ورک کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے برعکس سیاستدان بیان دینے کے بعد ابھی اس کی گونج ختم نہیں ہوتی کہ اپنی ہی بات کی مخالفت شروع کر دیتے ہیں اسی سیکیورٹی کونسل کے مسئلے پر سیاستدانوں کا موقف مختلف برسوں، مہینوں اور ہفتوں میں مختلف ہوتا ہے۔

فوج میں بھی ایسے خاندان ہیں جو کئی نسل سے فوج ہی میں آ رہے ہیں، شجاعت اور حوصلے کی ایک تاریخ بناتے ہیں جو اگلی نسل کو منتقل ہو جاتی ہے لیکن وہاں ایک فرق ہے۔ ضروری نہیں کہ جرنیل کا بیٹا جرنیل ہی بنے وہ نچلے عہدوں پر بھی ریٹائر ہو جاتا ہے جبکہ حوالدار کے بچے اگر فوج میں آئیں تو چیف کے عہدے تک بھی پہنچ جاتے ہیں۔ جنرل موسی خان سپاہی سے آرمی چیف بننے کی الگ مثال کے طور پر بھی موجود ہیں۔

Read more