گلگت بلتستان کی حیثیت میں تبدیلی۔ حقیقت یا فسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے شیخ رشید نے گلگت بلتستان کے بارے میں سات پردوں کے پیچھے کی جانے والی سرگوشی کی ہانڈی بیچ چوراہا پھوڑ دی ہے پہلا سوال تو یہ ذہن میں آتا ہے کہ کیا شیخ صاحب نے خود سے ایسا کیا ہے یا یہ بھی اس سکرپٹ کا حصہ تھا جس میں وہ مہمان اداکار کے طور پر بلائے گئے تھے۔ گلگت بلتستان اور کشمیر کے موضوع پر سرگرم عمل لوگوں کا ایک ہی سوال ہے کہ اگر گلگت بلتستان پاکستان کا صوبہ بن سکتا تھا تو ستر سال سے کیوں نہ بن سکا اور اگر نہیں بن سکتا ہے تو اب کیسے بنے گا۔

پاکستان کی مضبوط ترین اسٹبلشمنٹ کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے لئے بلایا گیا وہ اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاؤل بھٹو کی اس تجویز پر اتفاق کر کے اختتام پذیر ہوا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی پر غور وہاں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد ہی ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو اس سے فائدہ یا نقصان نہ ہو اور کوئی سیاسی جماعت اس بحث کو انتخابی منشور کا حصہ بنا کر اس پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی کوشش نہ کر سکے۔

کچھ ہی دنوں بعد وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف صاحب نے ہندوستان کے صحافی کرن تھاپڑ کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستان کے ارادوں اور ممکنہ اقدامات کا جس انداز میں ذکر کیا اس سے لگتا تھا کہ اس کا مقصد ملک کے اندر رائے عامہ کو اعتماد میں لینے کے بجائے متوقع بین الاقوامی رد عمل کا اندازہ لگانا تھا۔

پاکستان کے سیاسی حلقے گلگت بلتستان کو صوبہ بنانا اتنا ہی آسان اور سہل سمجھتے ہیں جیسا پچھلے دنوں حکومت نے جموں و کشمیر کا نقشہ بنا کر اور اعلان کیا تھا کہ اب کے بعد یہ پاکستان کا نقشہ (پولیٹیکل میپ) یہ ہوگا۔ مگر سنجیدہ حلقے کشمیر کے مسئلے پر پولیٹیکل میپ سے زیادہ ایک روڈ میپ پر زور دے دیتے رہے ہیں جو اب تک وضع نہیں ہو سکا ہے۔ سفارتی حلقے مگر دوسری طرف اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ پاکستان جو کچھ بھی کرے اس کو اقوام متحدہ کے قانونی امور کے شعبے کے سامنے حق بجانب کیسے ثابت کیا جائے۔

اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کی قرار دادوں کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان طے ہوئے کچھ معاہدے بھی اس مسئلے کا احاطہ کرتے ہیں جس میں ایک شملہ معاہدہ بھی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی میں طے پایا تھا۔ اقوم متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی زیرنگرانی استصواب رائے کے ذریعے ہونا قرار پایا ہے اس سے قبل دونوں ملکوں کو اپنی افواج کی تعداد متنازع علاقے میں کم کرنا لازمی ہے۔ اس معاملے میں دونوں ممالک لیت و لیل سے کام لیتے رہے ہیں۔

جب تک استصواب رائے نہیں ہوتا ہندوستان اور پاکستان پر لازم ہے کہ وہ یہاں بسنے والوں کے ان تمام بنیادی حقوق کو یقینی بنائے جو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں درج ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان پر یہ بھی لازم ہے کہ یہاں رہنے والوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنائیں، ان کی سماجی و اقتصادی ضرورتیں پوری کریں اور ان کو تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولتیں مہیا کریں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں متنازع علاقے میں مقامی انتظامیہ (لوکل اتھارٹی) کے قیام عمل کی متقاضی بھی ہیں جو یہاں کے انتظامی امور کو عوامی ضرورتوں کے مطابق چلائے۔

لوکل اتھارٹی کی تشریح ابتداء میں ہندوستان اور پاکستان دونوں نے کشمیر کی ’خود مختار ریاست‘ کے طور پر کی تھی اور دونوں ممالک نے اپنے زیر تسلط حصوں میں صدر اور وزیر اعظم کے عہدے برقرار رکھے تھے۔ کچھ عرصے بعد ہندوستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے خود مختار ریاست کی حیثیت ختم کر کے ایک خصوصی حیثیت دی تھی اب مودی سرکار نے ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت بھی ختم کردی۔ ہندوستان کی طرف سے کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کر کے خصوصی حیثیت دینے پر پاکستان کا سرکاری موقف یہ تھا کہ ”اس مسئلے کے آخری حل تک کسی بھی فریق (ہندوستان اور پاکستان) کو متنازع علاقے یا اس کے کسی حصے کی حیثیت تبدیل کرنے کا حق حاصل نہیں ہے“ ۔ پاکستان کے اس موقف میں سرکاری طور پر تبدیلی کا کم از کم مجھے علم نہیں۔

کیا پاکستان کا گلگت بلتستان کی حیثیت تبدیل کرنے کا ارادہ ہندوستان کا ایک سال قبل کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور وہاں گلگت بلتستان کی لسانی و ثقافتی اکائی کے اپنے زیر قبضہ علاقے لداخ، گریز اور کارگل کو براہ راست دہلی کی عملداری میں لینے کا رد عمل ہے۔ اس سوال پر پاکستان کے سفارتی حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ ایسا ہر گز نہیں کیونکہ گلگت بلتستان کے بارے میں سوچ بچار پہلے سے موجود تھی۔ اس بارے میں سرتاج عزیز کی رپورٹ اور اس سے پہلے 2009ء، 1994ء اور 1975ء کی پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار میں کی گئی اصلاحات ثبوت کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان 1963ء میں شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے لئے جو سرحدی معاہدہ ہوا تھا اس میں بھی گلگت بلتستان کی متنازع حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں تنازع کشمیر کے حل کے نتیجے میں یہاں بننے والی نمائندہ حکومت حکومت چین کے ساتھ اس معاہدہ کے احیاء کے لئے بات چیت دوبارہ کرے گی۔

چین اور پاکستان کے بیچ گزشتہ دس سالوں سے ایک تجارتی راہداری کے تحت سرمایہ کاری کے بہت بڑے منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ عالمی بنک اور اس کے زیر اثر دیگر مالیاتی ادارے کسی بھی متنازع علاقے میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہوتے ہیں اور ان اداروں کی شرکت کے بغی رسرمایہ کے تحفظ کی کوئی عالمی ضمانت نہیں ہوتی۔ کیا پاکستان کا یہ ممکنہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی راہداری کے تحت کی جانے والی سرمایہ کاری کو تحفظ دینے کے لئے ہے؟

امریکہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد داخلی اور خارجی ترجیحات میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی حیثیت کو مستحکم کرنے، افغانستان سے افواج کی واپسی اور ایران کے ساتھ امریکی معاہدے کی منسوخی جیسے اقدامات کے اس خطے میں گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک طرف ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ بھی یاری کا دعویٰ ہے۔

صدر ٹرمپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا دنیا کو دیکھنے کا انداز غیر روایتی اور اس سے پہلے کے امریکی صدور سے مختلف ہے۔ وہ مسائل کا ’آؤٹ آف باکس‘ حل نکالنے پر یقین رکھتا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم مودی کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ اس کو صدر ٹرمپ کا آشیرباد حاصل ہے۔ کیا امریکی صدر کا پاکستان پر بھی اپنے زیر انتظام علاقوں خاص طور پر گلگت بلتستان میں اصلاحات کے لئے دباؤ ہے جس سے تنازع کی شدت بتدریج کم ہو تاکہ جنوبی ایشیاء کے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کو روکا جاسکے؟

دوسری طرف گلگت بلتستان کے مستقبل کے سوال پر رائے عامہ روز اؤل سے ہی منقسم ہے اور بد قسمتی سے اس تقسیم کا پس منظر سیاسی سے زیادہ مذہبی اور فرقہ ورانہ ہے جو نہایت ہی حساس اور جذباتیت پر مبنی ہے۔ رائے عامہ کو تقسیم کرنے کے پیچھے محرکات بھی وہی ہیں جو صدیوں سے کارفرما ہیں یعنی ”تقسیم کرو اور حکومت کرو“ ۔

گلگت بلتستان کے لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرنا ہوگی کہ اس علاقے کی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی اگر عوامی امنگوں کو مدنظر رکھ کر لانا مقصود ہوتی تو پہلے آ چکی ہوتی۔ اب یہ تبدیلی اگر حقیقت ہے تو اس کے پیچھے بھی کوئی حقیقت ہوگی جو ہمارے علم میں نہیں۔ تبدیلی کی حقیقت سامنے آئے بغیر بظاہر یہ بھی ایک فسانہ نظر آتا ہے جس کا مقصد و مدعا کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ علاقے کے سیاسی و مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، اہل علم و فہم اور عام لوگوں کا ایسے کسی فسانے کو حقیقت سمجھ کر اس مسئلے کو وجہ نزاع بنانا انتہائی سنگین غلطی ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 230 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan