جو مرضی کھاؤ، میرا سر نہ کھاؤ

مریض اپنے کھانے پینے کے بارے اپنی بیماری سے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔ دل کے دورے کے بعد بھی ذرا سکون آتے ہی پوچھتے ہیں ”میں کیا کھاوں“۔ ڈاکٹر کو اس کی زندگی کی فکر ہوتی ہے اور مریض کو کھانے پینے کی۔ بار بار اسی سوال کے تکرار پر کئی دفعہ تنگ آکر ڈاکٹر کہ اٹھتا ہے ”جو مرضی کھاؤ میرا سر نہ کھاو“۔ کھانے کے علاوہ زیادہ تر لوگ قبض کے بارے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔

Read more

ریاست کو جان کی بازی لگانی پڑے گی

حالیہ دنوں پاکستان تاریخ کے ایسے شرمناک دور سے گزرا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اگرچہ دھرنے اور احتجاج پہلے بھی ہوتے رہے ہیں بلکہ ماضی قریب ان دھرنوں کا عینی شاہد رہا ہے لیکن گھیراؤ جلاؤ لوٹ مار اور قتل وغارت پہلی بار ان دھرنوں کا حصہ بنی ہے۔ ہر بار دھرنوں کی شدت میں اضافہ اور حکومتی علمداری می کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس دھرنے میں کچھ ایسے شرمناک واقعات بھی وقوع پذیر ہوئے ہیں جن

Read more

بات مائینڈ سیٹ کی ہے

بات یہ نہیں کہ ایک گائے اعظم سواتی کا گھاس چر گئی۔ نہ ہی یہ کہ بچوں پر تشدد کیا گیا۔ کس نے کس کو پیٹا۔ کسے ہراساں کیا۔ پولیس کا کیا کردار تھا۔ سینیٹر وزیر نے تھانیدار کو فون کیوں نہیں کیا حالانکہ ایک جھگڑے کی بات تھی اور تھانے چوکی کے لیول کا معاملہ تھا۔ آی جی نے اس میں کیا کرنا تھا۔ کیا آئی جی لوگوں کے لڑائی جھگڑے نمٹانے کے لئے ہے۔ پھر وزیر موصوف وزیراععظم

Read more

اقتدار کا بلی اور چوہے کا کھیل

پاکستان میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے۔ اقتدار کی کشمکش اور رسہ کشی نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ نا اہل سیاستدان شروع سے ہی اقتدار پر اپنے پاوں نہیں جما سکے۔ پہلے سول بیوروکریسی اور پھر ملٹری بیوروکریسی اس نا اہلی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتدار پر قابض رہی۔ اقتدار کی اسی کشمکش نے پاکستان کو دولخت کیا۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں۔ ایوب نے دھاندلی سے محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دی۔ اس کی کرپشن نے

Read more

ہمارے وزیراعظم سچے پاکستانی ہیں

اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ اس نے ہمیں قرض کی نعمت بے پایاں سے سرفراز فرمایا۔ ہم یہ قرض لینا نہیں چاہتے تھے۔ ہم تو قرض کے سخت خلاف تھے لیکن برادر سعودی عرب کا دل دکھانا بھی مقصود نہیں تھا۔ ہم نے اس وقت روضہ رسول پر قوم کے لئے رو رو کر دعائیں کیں۔ پوری قوم اس وقت اس قرض کے حصول کے لئے دعا گو تھں۔ اللہ نے قوم کی سن لی اور ہمیں کافر

Read more

اردو زبان کی ترویج ہمیں ایک قوم بنا سکتی ہے

ہماری اردو جتنی مرضی اچھی ہو جائے اس میں سے کھٹی لسی کی بو ضرور آتی ہے۔ پنجاب کے جوان اور کسان یہی لسی پی کر جوان گھبرو ہوتے ہیں اور زمین کا سینہ چیر کر ہمارے لئے گندم اگاتے ہیں۔ پنجاب کے لکھاری جتنی کوشش کر لیں ان کی تحریر میں دلی کی بریانی کی خوشبو نہیں آسکتی۔ یہ الگ بات کہ خیالات اور احساسات کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ زبان صرف اظہار کا ذریعہ ہے ورنہ بلھے شاہ

Read more

جنرل مشرف کے گھروں سے نیا پاکستان کے گھروں تک کے سبز باغ

جناب وزیر اعظم صرف ایک گھر چاہیے۔ آپ پچاس لاکھ گھر بنوا رہے ہیں۔ اس سے پہلے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دو کروڑ گھر بنائے ہیں۔ حکومت نے جو گھر بنا کے دیے ہیں ان کی تعداد سینکڑوں نہیں تو ہزاروں میں ہو سکتی ہے لاکھوں میں نہیں۔ لیکن مجھے صرف ایک گھر چاہیے کہیں بھی نہیں اسلام آباد میں۔ یہ بہت بڑی خواہش ہے چولستان کے خانہ بدوش کیمپوں میں رہنے والوں کی۔ لاہور کراچی کے

Read more

لاٹھی، ہتھ کڑیاں اور حوالات

چار سو سے زیادہ لوگ پاناما میں پکڑے گئے۔ وقت نواز شریف پر ضائع کیا گیا۔ کھودا پہاڑ، نکلا چوہا؛ وہ بھی مرا ہوا۔ شیر لندن سے گرفتاری دینے آ گیا، ساتھ بیٹی کو بھی لے آیا۔ بیمار تو پڑا اسپتال داخل ہونے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ دو سال سے مقدمہ چل رہا ہے، جس کو چور ثابت کرنا تھا، وہ ہیرو بنتا جا رہا ہے۔ چوری کیے پیسے واپس

Read more

کیا سندھ میں موت کی وادی میں چیف جسٹس جائیں گے

تھر میں غذائی قلت سے مرنے والے بچوں کا کیس سنتے ہوئے چیف جسٹس ثاقب نثار سیکرٹری صحت سندھ پر شدید برہم ہوئے۔ فرمایا کہ اگر حالات درست نہ ہوئے تو میں وہاں خود آ جاوں گا اور بچوں کو مرنے سے بچاوں گا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تھر میں ہسپتال ہیں ڈاکٹر نہیں۔ وہاں جو ڈاکٹر لگائے جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو سزا یافتہ سمجھتے ہیں۔ اور اس کا انتقام بچوں سے لیتے ہیں۔ سیکرٹری صحت نے

Read more

حوا کی مسیحا بیٹیاں اور زوال پزیر معاشرہ

پاکستان میں سرکاری ڈاکٹر دو طرح کے مسائل کا شکار نظر آتے ہیں۔ محدود وسائل میں نوکری، لامحدود مریضوں کا مفت علاج معالجہ اور دو نمبر یا کمزور ادویات کے ساتھ طاقتور بیماریوں کا علاج کرنا ہے۔ ان دو کمزوریوں کے ساتھ کمزور سروس سٹرکچر، جس میں ڈاکٹر کے لئے کوئی سیکیورٹی نہیں۔ اور ترقی کا امکان نہیں۔ طاقتور بے لگام میڈیا اور بے صبر بے ضمیر معاشرہ ہے۔ گزشتہ ماہ رحیم یار خان کے شیخ زائد ہسپتال میں ایک

Read more

چور بیوروکریسی اور پاکستان

کویتی وفد اقتصادی امور پر وزیراعظم سے مذاکرات میں مصروف تھا جب اس کا پرس اور بیگ چوری ہو گیا۔ وفد اپنے اقتصادی معاملات طے کر رہا تھا، چور اپنے اقتصادی حالات درست کر رہا تھا۔ ایک اپنے ملک کی ترقی کے لئے مصروف عمل تھا تو دوسرا اپنی ذاتی پسماندگی کا علاج کر رہا تھا۔ چور شاید پکڑا گیا۔ سی سی ٹی نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا لیکن حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرا رہی ہے۔ انکوئری ہو

Read more

کرکٹ کپتان ہاکی گراونڈ میں

عمران حکومت کے ابتدائی ایام دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کرکٹ کے کپتان کو ہاکی کھیلنے پر لگا دیا گیا ہو۔ اب خان کے پاس جب بھی بال آتی ہے وہ ساتھی کھلاڑی کو پاس دینے کی بجاے حسب عادت زور دار شاٹ لگاتے ہیں۔ بال گراونڈ سے باہر چلی جاتی ہے یا فاول ہو جاتا ہے۔ وہ تو امپائر اپنا ہی بندہ ہے اس لئے نہ پیلا کارڈ دکھا رہا ہے نہ لال۔ کافی سارے فاول ہو

Read more

بیوروکریسی اور وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں

بیوروکریسی حکومتی عہدے داروں کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو عوام کے منتخب کردہ نہیں ہوتے۔ یہ اپنی قابلئت کی بنیاد پر ایک مخصوص۔ سول سروس کا امتہان پاس کرکے آتے ہیں اور اپنی قابلئت کے بل بوتے پر ترقی کرتے کرتے گریڈ 22 تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ کسی بھی حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکومت چلانے کے لئے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیدھے اور ٹیڑھے تمام راستے اختیار کرتے ہوئے امور

Read more

عمران خان اور متعفن سرکاری ادارے

عمران کی آئیڈیل ریاست مدینہ ہے اور آئیڈیل ترجمان فواد چودھری۔ الیکشن سے پہلے کی سال آپ برطانیہ کی جمہوریت کی مثال دیتے رہے۔ ہالینڈ کے وزیر اعظم کو مثالی قرار دیتے رہے۔ انگلینڈ جا کر پاکستانی غریب ڈرایور کے بیٹے صادق خان کی بجائے اپنے یہودی برادر نسبتی کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ لیکن اب صرف مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ یہ فیضان نظر تھا یا کہ پیرنی کی کرامت سکھائے کس نے عمران کو آداب ہنر مندی مدینہ

Read more

یوم دفاع اور سقوط ڈھاکہ

6 ستمبر ہماری تاریخ کا یادگار دن ہے۔ اس دن 1965 میں انڈیا نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر حملہ کر دیا۔ انڈیا کی فوج ہم سے کئی گنا زیادہ تھی۔ وسائل اور اسلحہ کی اسے کمی نہیں نہیں تھی لیکن جوش و جذبہ سے عاری اس فوج کو علم نہیں تھا کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لئے میجر عزیز بھٹی اور ایم ایم عالم جیسے جانباز سپاہی موجود ہیں جو اپنے مادر وطن کے لئے جان

Read more

مولانا فضل الرحمان اور صدارتی انتخاب

مولانا فضل الرحمان آج کل راتیں گن گن کے گزار رہے ہیں۔ ان کے ساتھ راجہ پرویز اشرف بھی۔ ان کا خیال ہے کہ ایک دو راتوں میں مسئلہ حل ہو جاے گا۔ پی پی کی بی ٹیم کے پاس اتنی ہی اجازت ہوتی ہے کہ مذاکرات کو طول دیا جا سکے۔ حتمی فیصلہ کرنے کا انہیں اختیار نہیں ہوتا۔ پی پی کی اصل طاقت آصف زرداری کے پاس ہے۔ اگرچہ مولانا زرداری سے دوستی کا دعوی کرتے ہیں مگر

Read more

نوجوانوں کے اعتماد کو مجروح نہ کیا جائے

پاکستان میں ہمیشہ سے بے یقینی کی ایک ایسی صورتحال رہی ہے کہ ہم اس سے کبھی نکل نہیں پائے۔ یہ بے یقینی افرادی اور اجتماعی ہر دو صورتوں میں ہمارے اندر بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہم نے اس بے یقینی سےنکلنے کی کبھی شعوری یا غیر شعوری کوشش بھی نہیں کی۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے انتخاب کے موقع پر اس کی ایک جھلک دیکھنے کو ملی۔ پرویز الہی پی ٹی آی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار تھے۔

Read more