جو مرضی کھاؤ، میرا سر نہ کھاؤ
مریض اپنے کھانے پینے کے بارے اپنی بیماری سے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔ دل کے دورے کے بعد بھی ذرا سکون آتے ہی پوچھتے ہیں ”میں کیا کھاوں“۔ ڈاکٹر کو اس کی زندگی کی فکر ہوتی ہے اور مریض کو کھانے پینے کی۔ بار بار اسی سوال کے تکرار پر کئی دفعہ تنگ آکر ڈاکٹر کہ اٹھتا ہے ”جو مرضی کھاؤ میرا سر نہ کھاو“۔ کھانے کے علاوہ زیادہ تر لوگ قبض کے بارے زیادہ فکر مند ہوتے ہیں۔
Read more
