جب ناران پریوں کا مسکن تھا

کیوائی سے کوئی پانچ کلومیٹر آگے پارس نام کا ایک چھوٹا سا سٹاپ آتا ہے۔ یہاں بھی کافی ٹورسٹ دم لینے کو رکتے ہیں کہ چائے پانی کرلیں۔ ہم بھی یہاں کچھ دیر کو رکے تھے۔ یہاں سے ایک بار دوستوں کے ساتھ جیپ لے کر شاران گئے تھے۔ اتنا خوبصورت جنگل میں نے پہلے…

Read more

کاغان کے مسافر

شاہ اسمٰعیل کی قبر سے واپس آیا تو بچّے پریشان تھے، کہ بغیر بتائے نکل آیا تھا اور موبائل بھی کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔ ہوٹل کے لان میں ایک فیملی اپنا ناشتا بنا رہی تھی۔ ان کے بچے اوپن ائیر میں ناشتا بننے کے عمل سے اور خوشبودار دھویں سے محظوظ ہو رہے تھے۔…

Read more

دریچے:مسافر کاغان کے

میاں جی سے کھانا کھا کر نکلے تو چار بج چکے تھے۔ ٹریفک اسی طرح چیونٹی کی رفتار سے چل رہی تھی۔ میاں جی سے تھوڑا سا آگے ایک میکڈونلڈ بھی کھل گیا ہے۔ اس کی لوکیشن بھی اچھی ہے اور خاصا وسیع ہے۔ میکڈونلڈ چھوٹو کی فیورٹ جگہ ہے، دیکھتے ہی اس کی رال…

Read more

دریچے: سفر سے جڑے سفر

خانیوال سے حویلیاں، شاہ مقصود انٹر چینج تک تقریباً چھ سو کلومیٹر، آدھا گھنٹہ بھیرہ رکنے کے باوجود، چھ گھنٹے میں طے کر لیا۔ شاہ مقصود انٹر چینج سے جیسے ہی باہر نکلے، دوطرفہ ٹریفک اور ٹوٹی سڑک نے ہماری سپیڈ کو بریک لگادیے۔ اس دن غیر معمولی طور ٹریفک زیادہ تھی یا وہ روز…

Read more

دریچے: سفر سے جڑے سفر

یوں تو زندگی ایک سفر ہی ہے۔ انسان ماں کی گود سے لحد تک سفر ہی تو کرتا ہے۔ یہ سفر خوشگوار بھی ہو سکتا ہے اگر راستے میں سایہ میسر ہو۔ ماں اور باپ ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح ہوتے ہیں۔ آپ ان کے پتے توڑ لیں، ٹہنیاں کاٹ لیں، یہ آپ…

Read more

بکرا کلچر

پاکستان میں ہیروئن اور کلاشنکوف کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت بکرا کلچر کو ملی ہے۔ اس کلچر کی بقا اور ترقی کے لئے لاکھوں بکرے روزانہ اور کروڑوں بکرے سالانہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ قصاب کی دکان پر یہ بکرے اپنی کھال اترواکر الٹے لٹکے ہوتے ہیں، ان بکروں کے سپئیر…

Read more

میں ماں بننا چاہتی ہوں

شمّی ایک بدکردار لڑکی تھی، یا اس کی شہرت ایسی تھی۔ مشہور ہونے والی لڑکیوں کا کردار کسی نہ کسی وجہ سے مشکوک ہی رہتا ہے۔ وہ بھی شاید مشکوک کردار کی حامل لڑکی تھی۔ وہ میرے ہسپتال میں نرس دائی لگی ہوئی تھی۔

یہ ایک چھوٹا دیہاتی ٹائپ ہسپتال تھا۔ شمّی کے علاوہ اس ہسپتال میں ایک لیڈی ڈاکٹر اور ایل ایچ وی کے علاوہ سارا عملہ مرد حضرات پر مشتمل تھا۔

Read more

عوام کے لہو سے جلتا چراغ کب تک روشن رہ سکے گا

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں عسکری لیجنڈز سے خطاب کرتے ہوئے ماہر اقتصادیات مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے فرمایا کہ قوم اور پاکستان کو سنجیدہ نوعیت کے سیکیورٹی خدشات ہیں۔ اسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے فرمایا کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا سبب سابقہ حکومتوں کی معاشی بد انتظامیاں ہیں۔…

Read more

افواہوں کے شہر کی دلہن

ویسے تو اس شہر کے لوگ بہت نیک تھے۔ وہاں کی مسجدیں نمازیوں سے بھری رہتی تھیں۔ زیادہ تر تاجر طبقہ اس شہر کا باسی تھا۔ لوگ باریش تھے اور ان کے ماتھوں پر محرابیں تھیں۔ پھر بھی شہر میں اضطراب تھا اور ایک بے نام افراتفری تھی جس کو دیکھنے کے لئے گہری بصیرت کی ضرورت تھی۔ میں ان لوگوں سے بہت متاثر تھا۔ شاید اس کی وجہ میرا مذہبی بیک گراونڈ ہو یا اس کی وجہ کچھ اور رہی ہو، میرا کام اگرچہ مریض دیکھنا اور لوگوں کی جسمانی مشکلات کو کم کرنا تھا۔ مجھے لڑائی جھگڑے کے کیسوں میں میڈیکولیگل رپورٹ بھی جاری کرنی پڑتی تھی اور قتل و غیر قدرتی اموات کی صورت میں پوسٹ مارٹم بھی میری ذمہ داری تھی۔ یہی دونوں ذمہ داریاں مجھے لوگوں کے رویے نظر میں رکھنے پر مجبور کرتی تھیں۔

Read more

زرداریوں میں گھرے ہوئے عمران خان

اللہ کا شکر ہے۔ اللہ کو پاکستان پر رحم آگیا۔ سارے چور پکڑے گئے۔ عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں یہ بات وزیروں کو بڑا پکّا منہ کر کے بتائی۔ وزیروں نے کچے کانوں سے یہ بات سنی اور گھر جا کر سکون سے لیٹ گئے۔ وزیر صاحبان کوئی نئے تو ہیں نہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ اس طرح کے وزیراعظموں کی آنیاں جانیاں دیکھ چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے وزیروں کی تنخواہیں کم کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزرا نے اس بات کا بھی برا نہیں منایا، انہیں اچھی طرح علم ہے کہ پہلے بھی وہ کون سا تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے تو دس سال تنخواہ نہیں لی پھر بھی احتساب کے شکنجے میں کس دیے گئے ہیں۔ وزرا جانتے ہیں تنخواہ کا تو کبھی احتساب ہوا ہی نہیں۔ اور تنخواہ کو تو ان کے ڈرائیور چوکیدار اور چھوٹے ملازم تک جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔

Read more