سنہ 1983 کا برس تھا۔ ایم آر ڈی کے پرچم تلے وطن کے بیٹے اور بیٹیاں آمریت کے عفریت سے دست و گریباں تھے۔ سندھ کی دھرتی جمہوریت کی بحالی کے لئے حقیقی میدان قرار پائی تھی چنانچہ استبداد کی تلوار بھی وہیں کڑک رہی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اور صحافت کے مرغان دست آموز غداری کی اسناد بانٹ رہے تھے۔ 5 ستمبر 1983 کی شام لاہور کے پچاس سے زائد ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں نے ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں سندھی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے کی اس جسارت میں شریک نیشنل پریس ٹرسٹ کے صحافی فوری طور پر برطرف کر دیے گئے اور قرار داد پر دستخط کرنے والے تمام افراد نیز ان کے ہم خیال عناصر پر سرکاری نشریاتی اداروں یعنی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے دروازے بند کر دیے گئے۔
جید اہل صحافت پر ابتلا کا یہ دور نومبر 1988 تک جاری رہا۔ یہی وہ پانچ برس تھے جب غیر جماعتی جمہوریت کی طرح صحافت میں بھی پیشہ ورانہ اقدار سے عاری خود کاشتہ جڑی بوٹیوں کی آبیاری کی گئی۔ ہماری صحافت میں دو دھارے تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خبر کی ساکھ کے لئے سربکف اقلیت اور پریس ایڈوائس کی روشنی میں ”قومی مفاد“ کا غلغلہ بلند کرنے والی اکثریت۔ اب ایک فریق کی عدم موجودگی میں فریق ثانی کو کھلا میدان مل گیا۔ ہماری درس گاہوں، ذرائع ابلاغ اور سیاسی مکالمے کا موجودہ خلائے بے کنار اسی دور کی یادگار ہے۔
Read more