زمانہ عدالت نہیں ہے

یہ عنوان بیسویں صدی میں اردو کے ایک بڑے شاعر مبارک احمد کی 1961ء میں لکھی نظم سے ماخوذ ہے۔ مبارک احمد کا کچھ ذکر رہے گا مگر اس سے پہلے صاف کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دن بے کراں ذہنی انتشار، پژمردگی اور اعصابی دباؤ  میں گزرے۔ ملکی سیاست بدستور دگرگوں ہے اور میری نسل کے عرصہ حیات میں کسی بامعنی بہتری کے کوئی آثار نہیں۔ خیر یہ تین نسلوں کی رائیگانی کی حکایت ہے اور چوتھی نسل کے

Read more

جمہوریت کی آزادی یا آمریت کی کج روی

منٹو لفظ کا جوہری تھا۔ اسے اونچی دکان کی جھالر پٹی یا دست فروش کی کم مائیگی سے غرض نہیں تھی۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے ایسا لفظ اٹھاتا تھا جو معنی ہی نہیں، کیفیت بھی بیان کرے۔ احساس کے کیف و کم ہی پر اکتفا نہ کرے، سوچ کے پیچ و خم کا احاطہ بھی کرے۔ اواخر نومبر یا دسمبر 47ء کے ابتدائی ہفتوں میں منٹو بمبے کی بندرگاہ سے پاکستان روانہ ہوا۔ اس نے اپنی ان دنوں

Read more

دہشت کی منقسم یاد اور نظریے کا جبر

باتیں تو درویش کی زنبیل میں بھی وہی ہیں جو ن م راشد کا  ’اندھا کباڑی‘  لئے پھرتا تھا۔ افسوس کہ ڈاکٹر خورشید رضوی سے کبھی نیاز نہ رہے ورنہ ان سے عربی زبان میں تثنیہ کا قاعدہ ٹھیک سے سمجھ لیتا۔ ایک خیال سا ہے کہ فارسی کے نامعلوم شاعر اور نجد کے قیس بن الملوح میں  ’ماؤ و مجنوں ہم سبق بودیم در دیوان عشق‘  کی یکجائی سے  ’او بہ صحرا رفت و ما در کوچہ ہا رسوا

Read more

افتادگان خاک کی بے چادری اور ظواہر کی پردہ داری

واقعات کے بہاﺅ نے اچانک تھپیڑوں کی سی تندی اختیار کر لی ہے۔ جن معاملات کو سیاسی جوڑ توڑ اور ذرائع ابلاغ پر نادیدہ اختیار کی مدد سے پوشیدہ رکھا گیا تھا، وہ اب تاریخ کے ناگزیر سفر میں جگہ جگہ سے سر نکال رہے ہیں۔ کچھ حالیہ واقعات پر، بغیر کسی موضوعی تبصرے کے، ایک نظر ڈال لیجیے۔ 14 جولائی کو بالائی کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجنیئروں کو زیر تعمیر ڈیم پر لے جانے والی بس اچانک

Read more

یاسر پیرزادہ کی بصیرت پر سوالیہ نشان!

برادرم یاسر پیرزادہ نے تو گویا بندگان ریا اور عباد المفاد کو خفیف کرنے پر کمر باندھ لی ہے۔ بندہ خدا نے صحافت کے شاہ سواروں کی فہرست اعمال قلم بند کر رکھی ہے۔ دن، مہینہ اور سال گنواتے ہیں، موقف بیان کرتے ہیں اور پھر سوال کرتے ہیں کہ یہ آپ کی کیسی بصیرت تھی جو حقائق کا احاطہ کرنے میں ناکام رہی۔ پاکستان کے شہریوں کا خون بہتا رہا، ہمارے فوجی جوانوں کے جسد خاکی کی بے حرمتی

Read more

عید، ناانصافی…. مجھے گھر یاد آتا ہے

ایک دو روز میں عید ہوگی۔ لغت میں لفظ کا معانی کچھ اور ہوتا ہے اور زبان استعمال کرنے والوں کے احساس میں اس کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ میر ہی کو لیجئے، خدائے سخن نے لکھا۔ ہوئی عید، سب نے پہنے خوشی و طرب کے جامے، نہ ہوا کہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں۔ میر نے نوے برس کی عمر پائی۔ باہر سیاسی افراتفری تھی، تاج تلوار کی نوک پہ رکھا تھا، مغلوں کی سیاسی قوت بکھر رہی

Read more

بھنڈی اور جوانی آنجہانی کی کچھ یادیں

اللہ تعالیٰ چھ دن اور چھ رات مسلسل اپنی خلاقی کا اظہار کرتے رہے حتی کہ رنگ و بو سے سجی کائنات تیار ہو گئی۔ طرح طرح کے گل بوٹے، انواع و اقسام کے چرند پرند، ان گنت رویے، جذبات، محبت، نفرت، دوستی، تعلق، واسطہ۔ یہ منظر اس قدر خوش نما تھا کہ اللہ تعالیٰ کو اندیشہ پیدا ہوا کہ ایسی خوب صورت دنیا میں بسنے والے انسانوں کی عادتیں خراب ہو جائیں گی۔ چنانچہ ہفتہ وار چھٹی کے دن

Read more

دلوں کی اور دھواں سا دکھائی دیتا ہے

اس میں کوئی شک نہیں کہ تجاہل عارفانہ کے بارہا اظہار کے باوجود محترم نصرت جاوید سوشل میڈیا کی حرکیات پر بہت سوں سے گہری نظر رکھتے ہیں۔ پرنٹ میڈیا تو الیکٹرانک میڈیا آنے کے بعد اپنی کلیدی اہمیت کھو چکا تھا۔ اگر ہر اہم خبر چند منٹ میں ٹیلی ویژن سکرین پر جگمگا رہی ہو گی تو اگلی صبح اخبار کے صفحہ اول پر کیا رکھا ہو گا۔ کبھی کبھار کوئی خصوصی رپورٹ البتہ توجہ کھینچتی تھی۔ خدا بھلا

Read more

پانچ جولائی: اب بھی رات کی رات پڑی ہے – ٹیکسٹ اور ویڈیو کالم

خود راستی اور پارسائی کے متعلقات سے شغف رکھنے والے خواتین و حضرات مضطرب نہ ہوں، میں 5 جولائی 1977 ء اور اس کے بعد گزرنے والے گیارہ برس کے مرکزی کردار کی مذمت تو ایک طرف، ذکر کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ تاریخ کے طالب علموں کے لئے کتاب مقدس کی نصف آیت ہی کافی ہے، لم یکن شی۔ مذکوراً (کہ وہ ذکر کے قابل چیز نہ تھا) ۔ اس عشرہ زیاں میں جو ہوا، وہ ایک الگ تھلگ حادثہ نہیں تھا، نا اہلی، کوتاہی، سازش، جرم اور نا انصافی کا ایک تسلسل تھا۔ ایک کے بعد ایک برس گزرتا رہا، ربیع میں تعطل تھا اور خریف میں عبور، کاشت کاری کی مہلت ہی نہیں مل سکی۔ اپنی مٹی کی تحقیق نہیں کی، بیج کی جانچ نہیں کی، موسموں کی خبر نہیں رکھی، سو لاحاصلی کی فصل کاٹتے رہے۔ ایسی ہی ایک رات 5 جولائی 77 ء کو اتری جس کے بعد منزلوں منزلوں راہ تاریک تھی۔

Read more

جنرل جیمز میتیس کے مشاہدات اور عمران خان کے فرمودات

غالب نے کہا تھا، کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا مکان ہے / جس میں کہ ایک بیضہ مور آسمان ہے۔ چیونٹی کے انڈے جیسی تنگ مکانی کا یہ شکوہ اس شخص نے لکھا جو قطرے میں دجلہ دیکھ سکتا تھا۔ 1826 میں بیٹھ کر 1857 کے ہنگامے کی پیش بینی پر قدرت رکھتا تھا۔ ہماری روایت ایسی ہی توانا ہے لیکن کیا کیجئے کہ ہمیں ایسے ناخداؤں سے واسطہ پڑا ہے جن کا ’لیوے نہ کوئی نام ستم گر

Read more

عذر خواہی کی سیاست اور عذاب رت کے ملول پنچھی

20  دسمبر 1971 کی رات سرد اور سیاہ تھی۔ سنہ ہجری 1391 تھا اور ذی قعد کی یکم تاریخ۔ معلوم انسانی تاریخ میں کسی قوم نے شاید ہی ایسا المیہ دیکھا ہو۔ دشمن ہمسایہ ملک نے دو ہفتے سے بھی کم لڑائی میں آدھے سے زیادہ ملک چھین لیا تھا۔ اس سے بڑا حادثہ یہ تھا کہ الگ ہونے والے حصے کا بچہ بچہ سابقہ پاکستان کا مخالف تھا حتیٰ کہ متعدد ممالک میں ہمارے سفارت خانوں نے نوزائیدہ بنگلہ

Read more

گالی کلچر نہیں، جرم کی دھمکی ہے – آڈیو ویڈیو کے ساتھ

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے گالی کو پنجاب کا کلچر قرار دیا ہے۔ بظاہر محترم روحیل اصغر پارلیمنٹ کے فلور پر اپنے رویے کا مسکت دفاع کرنے سے قاصر تھے چنانچہ رکھائی سے اپنا ذاتی فعل پنجاب کی ثقافت کے سر منڈھ دیا۔ اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ 80 کی دہائی کے ابتدائی برس تھے۔ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں انڈر گریجویٹ طالب علم تھا اور انگریزی اختیاری کا مضمون لے رکھا تھا۔ منظور شدہ نصابی کتاب

Read more

بے نظیر بھٹو کی قیادت اور دیانت کیسے ثابت ہوئی؟

چوہدری نثار علی خان میں ایک خوبی بہت کمال کی ہے۔ بڑی سے بڑی خبر کو قومی مفاد میں اپنے سینے میں بند رکھتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے جولائی 2017ء میں ایک بڑی پریس کانفرنس کرنا تھی۔ اگست گزر گیا۔ ستمبر آن لگا، چوہدری صاحب نے پریس کانفرنس نہیں کی۔ ایک انٹرویو البتہ سلیم صافی کو دیا ہے۔ تفصیلات اس انٹرویو کی نشر ہونے کے بعد سامنے آ سکیں گی۔ البتہ پورا بحیرہ عرب کھنگال کے اور پوٹھوہار کی پہاڑیوں

Read more

لب بستہ صحافی اور حلقہ زنجیر میں رکھی زبان (مکمل کالم)

انتظار حسین طبعاً مرنجاں مرنج تھے۔ تاریخ اور سیاست کا رچا ہوا شعور رکھتے تھے لیکن تحریر ہو یا مجلس احباب، سیاسی بحث سے گریزاں رہتے تھے۔ کبھی کبھی اس خود اختیار کردہ خاموشی کا پردہ چاک کرتے تو قیامت اٹھا دیتے تھے۔ ضیا الحق کا ابتدائی زمانہ تھا۔ ریڈیو ٹیلی ویژن پر تقدیس کی دبیز چادر ڈال دی تھی۔ ایک ریڈیو مذاکرے میں مدعو کیے گئے۔ پروڈیوسر شکور بیدل نے آموختہ سنایا کہ علاوہ دیگر حجابات کے مشروب ممنوعہ

Read more

لوح آئندہ کے ملال کا حزنیہ یا امید کی خیال گائیکی

اس میں کیا شک کہ جو دن گزر رہے ہیں، وہ کچھ ایسے خوشگوار نہیں۔ پچھلے موسم میں جو آندھیاں چلیں، انہوں نے ریت پر کسی ناقابل فہم طرز خطاطی میں کچھ نقش و نگار چھوڑے۔ بارش تو ہوئی نہیں کہ گھاس کی نمود ہو سکتی۔ سو ہم سب ایک چٹیل میدان میں اپنی اپنی قوس اور لکیر کے قیدی خراش زدہ آوازوں میں ایک دوسرے پر نعرہ زن ہیں۔ ہماری للکار میں یقین کی کھنک نہیں اور ہمارے غصے

Read more

سماجی بجٹ کا اعلان کب ہو گا؟

باہر جون کا سورج آگ برسا رہا تھا۔ کمرے میں بے تکلف دوستوں کی مجلس تھی، بیشتر ثروت مند اور ایک آدھ نچلے متوسط طبقے کا قلم گھسیٹ۔ ایک عزیز بار بار ہمسایہ ملک کی معاشی ترقی کا حوالہ دے رہے تھے۔ معیشت کا حجم، زر مبادلہ کے ذخائر، سرمایہ کاری، غربت کی لکیر سے اوپر لائی گئی آبادی کی شرح اور فلک بوس عمارتوں کے تاحد نگاہ پھیلتے سلسلے۔ بالآخر ایک متفنی شریک محفل نے تاریخ کی بھول بھلیوں

Read more

دریا کیسے خلیج بن جاتا ہے؟

وبا کے دن ہیں۔ عورتیں مرد، بچے بوڑھے اور امیر غریب قطار باندھے رخصت ہو رہے ہیں۔ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ہمیں ان کی موت کا صدمہ زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے جو ہمارے قریب تھے، جن کے ہونے سے ہمارے ہونے کی تصویر مکمل ہوتی تھی۔ سب کو ایسا ہی لگتا ہے کہ وبا گویا چن چن کر ہمارے پیاروں کو چھین رہی ہے۔ پندرہ مہینے کی اس آزمائش میں اتنے دوست، اتنے پیارے اوجھل

Read more

کچھ ذکر محمد انور خالد کا

خاکسار کو مقبول لکھنے والے کا درجہ حاصل نہیں۔ کبھی کوئی مہربان ایک آدھ سطر سے حوصلہ افزائی کردیتا ہے۔ کہیں سے کوئی اختلافی زاویہ بھی سنائی دے جاتا ہے۔ لکھنے والے کو پڑھنے والے کے ردعمل پر ہمیشہ احسان مند رہنا چاہئے۔ پڑھنے والے کو حق ہے کہ بے اعتنائی سے صفحہ پلٹ دے یعنی ’اک نگہ جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، ہی سے انکار کردے ۔ اور اگر چاہے اڑتی اڑتی سی اک نظر ڈال کر اخبار

Read more

منٹو کا افسانہ ’لائسنس‘ اور صحافی کا روزگار

درویش گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا تو ایک طرف، ڈھنگ سے سڑک پار کرنا بھی نہیں جانتا۔ وہی جو سیماب اکبر آبادی نے کہا تھا، ’کم بخت جب ملا ہمیں، کم آشنا ملا‘۔ اساتذہ نے سبق دیا تھا کہ صحافی کو صیغہ متکلم سے گریز کرنا چاہیے۔ اخبار کا صفحہ پڑھنے والوں کی امانت ہے، صحافی کی ذات کا اشتہار نہیں۔ مجبوری آن پڑی ہے۔ کچھ ایسا بجوگ پڑا ہے کہ کسی کا نام لئے بغیر بھی بات کرو تو

Read more

صحافت آزاد ہے تو ملک ترقی کیوں نہیں کرتا؟ (مکمل کالم)

بزرگوں کی دعا ہے اور آپ جیسے خیر خواہوں کی رہنمائی میسر ہے۔ طلعت حسین جیسے پرفتن کردار تو خیر زمرہ صحافت ہی سے خارج قرار پائے۔ درویش پر تقصیر مطیع اللہ جان، ابصار عالم، عمر چیمہ، سلیم شہزاد اور اسد علی طور جیسے عاقبت نااندیش صحافیوں سے بھی چار کھیت چھوڑ کر کھڑا ہوتا ہے۔ سرکاری بیانیے کو حرز جاں بنا رکھا ہے، ریاستی موقف کی حرف بہ حرف عذر خواہی کو حیات فانی کی ضمانت اور توشہ آخرت

Read more

محبوب کی مہندی، گلشن کا کاروبار اور 3.9 فیصد شرح نمو

ہمارے مدیر محترم کو محبوب کی مہندی کے ذکر سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ آج ہم لکھنو کی سیاحت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ گلشن کے کاروبار سے خائف ہونے کا اندیشہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اس شعبے میں تو برادر بزرگ ایاز امیر نے گویا اپنا اجارہ ہی قائم نہیں کیا، چام کا سکہ بھی جاری کر دیا۔ آج معیشت کا کچھ ذکر رہے گا۔ خدائے سخن میر سے بہرصورت مفر نہیں۔ جن بلاؤں کو میر سنتے تھے

Read more

بنتے بگڑتے دائروں کے درمیاں

کچھ برس قبل برادر مکرم ظفر محمود کے افسانوں کا مجموعہ ’دائروں کے درمیاں‘شائع ہوا تھا۔ ظفر صاحب کے سفر حیات میں عہدوں اور مناصب کا ذکر سوئے ادب کا مضمون ہے کہ عہدے کسی انسان کا مقام متعین نہیں کرتے، فرد البتہ اپنے کردار سے کسی منصب کو توقیر بخشنے کا اختیار رکھتا ہے۔ آزادی موہوم کی سات دہائیوں میں کوڑیوں چیف سیکرٹری اور وفاقی سیکرٹری گزرے ہوں گے۔ شیخ محمد اکرم کی ژرف نگاہی کا ثانی کون ہو

Read more

کچھ بات ابراہیم جلیس کی

ابراہیم جلیس نام تھا ۔ حیدر آباد دکن کی مٹی تھی اگرچہ انہیں خود خبر نہیں تھی کہ ان کی مٹی کہاں کی تھی ۔ قلم براق اور طبیعت پارہ صفت۔ لکھنے کی چٹیک نے علی گڑھ یونیورسٹی ہی میں آن لیا تھا جہاں سے 1940 میں بی اے کیا ۔کچھ دن سرکاری ملازمت کا بھاڑ جھونکا ۔ یک بینی و دو گوش نکال باہر کئے گئے۔ ابھی بیس برس کے نہیں ہوئے تھے کہ ہندوستان کے بہترین ادبی ماہنامے

Read more

ہم پناہ مانگتے ہیں

تین برس پہلے ملک میں سیاسی تبدیلی کا سونامی آنے کے بعد سے ہماری خارجہ پالیسی منجدھار میں ہے۔ کبھی ہم چین سے دوستی کی گہرائی آزماتے ہیں، کبھی ترکی، ایران اور ملائشیا سے تزویراتی تعلقات کے سراب کے پیچھے بھاگتے ہیں اور کبھی خلیج کے راستے مغرب کے کوئے ملامت میں سجدہ سہو ادا کرتے ہیں۔ اس اٹھا پٹخ کا حاصل یہ ہے کہ چین سے قریب 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا خواب ایران اور چین میں 400 ارب ڈالر سے زیادہ کے طویل مدتی سمجھوتے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

گوادر میں سعودی عرب کی دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے موعودہ محمل سے پردہ اٹھتا ہے تو سعودی عرب کی بھارت میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نظر آتی ہے۔ یورپین یونین کو چھ ارب ڈالر کی سالانہ برآمدات کے لالے پڑتے ہیں تو ہم اسلاموفوبیا کے خلاف مسلم امہ کی قیادت بھول کر اندرون ملک توہین مذہب کے مقدمات کے اعداد و شمار جمع کرنے دوڑتے ہیں۔ افغانستان میں ہماری چار عشروں کی سعادت مندی کا حاصل یہ نکلا کہ طالبان سے بات کرنا تو اشرف غنی سے معاملت کرنے سے بھی زیادہ کٹھن ہے۔ افغانستان پر منڈلاتی خانہ جنگی کا دھواں ہمارے شہر سے ہو کر گزرے گا اور اس پر مستزاد یہ کہ اطلاعات کے مطابق ہم سے فوجی اڈے بھی مانگے جا رہے ہیں۔

Read more

سلطان کا فرمان اور محمود درویش کا گیت

سنہ 1983 کا برس تھا۔ ایم آر ڈی کے پرچم تلے وطن کے بیٹے اور بیٹیاں آمریت کے عفریت سے دست و گریباں تھے۔ سندھ کی دھرتی جمہوریت کی بحالی کے لئے حقیقی میدان قرار پائی تھی چنانچہ استبداد کی تلوار بھی وہیں کڑک رہی تھی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ اور صحافت کے مرغان دست آموز غداری کی اسناد بانٹ رہے تھے۔ 5 ستمبر 1983 کی شام لاہور کے پچاس سے زائد ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں نے ایک قرارداد پر دستخط کیے جس میں سندھی عوام سے یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق ادا کرنے کی اس جسارت میں شریک نیشنل پریس ٹرسٹ کے صحافی فوری طور پر برطرف کر دیے گئے اور قرار داد پر دستخط کرنے والے تمام افراد نیز ان کے ہم خیال عناصر پر سرکاری نشریاتی اداروں یعنی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے دروازے بند کر دیے گئے۔

جید اہل صحافت پر ابتلا کا یہ دور نومبر 1988 تک جاری رہا۔ یہی وہ پانچ برس تھے جب غیر جماعتی جمہوریت کی طرح صحافت میں بھی پیشہ ورانہ اقدار سے عاری خود کاشتہ جڑی بوٹیوں کی آبیاری کی گئی۔ ہماری صحافت میں دو دھارے تو ہمیشہ سے موجود رہے ہیں، عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے خبر کی ساکھ کے لئے سربکف اقلیت اور پریس ایڈوائس کی روشنی میں ”قومی مفاد“ کا غلغلہ بلند کرنے والی اکثریت۔ اب ایک فریق کی عدم موجودگی میں فریق ثانی کو کھلا میدان مل گیا۔ ہماری درس گاہوں، ذرائع ابلاغ اور سیاسی مکالمے کا موجودہ خلائے بے کنار اسی دور کی یادگار ہے۔

Read more

پیپلز پارٹی کی حالیہ سیاست اور جمہوری سوال

پہلی عالمی جنگ میں چار بڑی سلطنتیں ختم ہو گئیں۔ روس میں زار نکولس رومانوف اور جرمن – پرشین سلطنت میں قیصر ولہلم کے عہد تمام ہوئے، ترکی میں عثمانی سلطنت اپنے اختتام کو پہنچی۔ آسٹرو ہنگیرین سلطنت کا نام و نشان مٹ گیا۔ قدیم یورپ کے بطن سے نیا یورپ جنم لے رہا تھا۔ جنگ معمولات زندگی کے تعطل اور تمدن کے ہموار ارتقا سے انحراف کا نام ہے۔ آگ اور لہو کے اس کھیل میں انفرادی اور اجتماعی

Read more

آئی اے رحمان: سائبان نہ رہا

دردمندوں کے خانہ ہائے دل میں گہرے ملال کی ویرانی اتر آئی ہے۔ دکھ کی سسکی کو ضبط کی تلقین کا یارا نہیں رہا۔ آتی جاتی سانس کی دھونکنی میں رہ رہ کر اٹھتے احساس زیاں کی کٹار چلی آئی ہے کہ اب جانب کہسار سے اترتے ابر سیاہ کی گھٹا ٹوپ تاریکیوں میں کس سے رہنمائی چاہیں گے۔ بحران کی حلقہ در حلقہ بچھی بارودی سرنگوں میں کس سے سمت پوچھیں گے۔ اجتماعی ناکامیوں کے تاحد نظر پھیلے تسلسل

Read more

دیش بھگت دا شبد اخیری

ٹھیک بیس برس پہلے یہ نظم آئی اے رحمان صاحب کے لئے لکھی تھی۔ کہیں شائع نہیں ہوئی۔ یہ ادنیٰ طالب علم کی استاد زماں سے محبت ہے۔ پنجابی زبان میں ہے۔ ترجمہ کرنے سے معذور ہوں۔ محبت (اور احترام) کے اپنے بیل بوٹے ہوتے ہیں۔ ***             *** لنگھ آﺅ سجنو لے آﺅ گل دی بھری پرات مٹھے شبداں دا پشتارہ ہار حمیلاں ٹہن نرول تے پتر ساوے چُمیے، جی وچ رکھیے سجنو کت پل

Read more

استاذی آئی ۔اے ۔رحمن کے لئے لکھی ایک 25 برس پرانی تحریر

یکم ستمبر 1930ء کو مشرقی پنجاب (تب ہندوستان) کے مردم خیز قصبے گڑ گاﺅں میں پیدا ہوئے۔ ابن عبدالرحمان نام ہے۔ لیکن آئی اے رحمان کے قلمی نام سے پہچان اور شہرت پائی۔ 1947ء میں علی گڑھ کالج میں ایف ایس سی کے طالب علم تھے۔ تقسیم کے بعد لاہور چلے آئے۔ اسلامیہ کالج سے بی ایس سی تک تعلیم پائی۔ 1951ء میں گورنمنٹ کالج سے طبیعات میں ایم ایس سی کیا. اسی برس انگریزی روزنامے پاکستان ٹائمز سے وابستہ

Read more

آئی اے رحمن، حسین نقی۔۔۔ یہ کرسیاں خالی رہیں گی

یہ تحریر 7 جنوری 2017 کو روز نامہ جنگ اور ہم سب پر شائع ہوئی۔ گزشتہ صدی کے ابتدائی برس تھے۔ سرسید احمد خان کی رہنمائی میں قوم کی نیا سنوارنے والے ستارے ایک ایک کر کے اوجھل ہو رہے تھے۔ ستارے ختم نہیں ہوتے۔ ہماری آنکھ کا منظر بدل جاتا ہے۔ سرسید کے دست راست نواب محسن الملک کے اعزاز میں ایک جلسے کے صدر نشین نواب وقار الملک تھے۔ ایک جملہ ایسا کہا کہ اہل درد کے سینوں

Read more

خواجہ احمد عباس، ایک لڑکی اور عمران خان کا نمل کالج

قریب اسی برس پہلے شاہد احمد دہلوی کے رسالے ساقی میں خواجہ احمد عباس کا ایک افسانہ شائع ہوا تھا، عنوان تھا ’ایک لڑکی‘۔ آپ تو خواجہ احمد عباس کو اچھی طرح جانتے ہیں، مطالعہ پاکستان پڑھنے والی نسل کے لئے عرض کرتا ہوں کہ 1914 میں پانی پت میں پیدا ہونے والے خواجہ احمد عباس کمال کے افسانہ نگار تھے۔ ہندوستانی سنیما میں ہدایت کاری اور اسکرین پلے میں حقیقت پسند رجحانات خواجہ صاحب نے متعارف کروائے۔ اکتوبر 1946 میں پہلے کانز فلم فیسٹیول میں بتیس سالہ خواجہ احمد عباس کی لکھی فلم ’نیچا نگر‘ کو اعلیٰ ترین ایوارڈ ملا تھا۔ تو ذکر تھا خواجہ صاحب کے افسانے ’ایک لڑکی‘کا جو برصغیر میں مسلمان ذہن کی آہستہ خرامی پر کاٹ دار تبصرہ ہے۔

Read more

کچھ آئین، نصاب اور تعلیم کے بارے میں

محترم وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ وہ ہر صبح اپنے دفتر نہیں جاتے، بلکہ جہاد پر نکلتے ہیں۔ خوش قسمت ہیں کہ ہر روز نیکی کے بوریے سمیٹتے ہیں۔ اس ملک میں لاکھوں نصیب جلے ہر صبح روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں، شام ڈھلے افسردہ چہروں اور پٹپٹاتی آنکھوں کے ساتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، خدا معلوم اپنے بچوں کو کیسے تسلی دیتے ہوں گے۔ درویش کی افتاد ان دو انتہاﺅں کے بیچ کہیں واقع ہوئی ہے، جسے

Read more

قبل از مرگ واویلا اور عجلت پسند دانش

قوموں کا زوال قومی اسمبلی کے حلقہ 75 کی دھند نہیں کہ چنیدہ پولنگ اسٹیشنز پر اترے اور باقی منطقوں میں نگہ رسا متاثر نہ ہو۔ عزیز حامد مدنی نے زوال کی حرکیات کو کس بلاغت سے سمیٹ لیا، یورش باد واپسیں مجھ پہ چہار سو سے ہے…. زوال کے یہ زاویے جہالت، حماقت، جرم اور سازش کی چار جہتوں سے تشکیل پاتے ہیں اور قوم کا کوئی فرد، کوئی شعبہ اور کوئی ادارہ اس سے محفوظ نہیں رہ پاتے۔

Read more

جماعت اسلامی، جنرل ضیاالحق اور اسلامی نظام کی ناکامی

حالیہ سیاسی اور جمہوری بحران نے ایک دفعہ پھر سے قومی نصب العین کی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ ایک طرف قوم افغانستان کے راستے پلٹنے والی دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، دوسری طرف داخلی قومی سیاست بحران کا شکار ہے۔ ملک میں جمہوری بندوبست کی آزمائش جاری ہے۔ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک میں کچھ طاقتور عناصر آئین کی بالادستی اور عوام کی حکمرانی کے مخالف ہیں۔ یہ عناصر جمہوریت کی کمزوریاں گنوا کر

Read more

25 مارچ: حافظے کی کمزوری اور تاریخ کا بحران

روسی ادیب انتون چیخوف نے 1886میں ایک کہانی لکھی تھی، روسی زبان میں عنوان تھا Tocka، اردو میں ’دکھ‘ کہہ لیجیے۔ ایک بوڑھے گاڑی بان کا بیٹا کوزما آئیونچ نوجوانی میں چل بسا ہے۔ بوڑھا باپ ہر کسی سے اپنا دکھ کہنا چاہتا ہے مگر سواریوں کی اپنی اپنی دنیا ہے، اپنی ذات کی خود فریبی سے بندھی بے معنی بھاگ دوڑ۔ کسی کو شکستہ دل کوچوان آئیونا کی کتھا سننے کا دماغ نہیں۔ بالآخر دن ڈھل جاتا ہے۔ اپنے

Read more

تمنا کی وسعت اور حسن کوزہ گر کا ویران گھر

حسن کوزہ گر نے بوڑھے عطار یوسف کی دکان پر جہاں زاد کی افق تاب آنکھوں میں وہ تابناکی دیکھی کہ نو سال دیوانہ پھرتا رہا۔ بغداد کی خواب گوں رات کے تعاقب میں حسن کی کوزہ گری فراموش ہو گئی۔ اس کی ہنر مند انگلیوں میں زندگی پانے والے جام، سبو، فانوس اور گلدان گم شدہ ماضی کی ٹھیکریاں بنتے چلے گئے۔ اس دوران حسن کوزہ گر کی سوختہ بخت بیوی اسے شانوں سے ہلاتی رہی، ’حسن اپنے ویران

Read more

ہم اداس کیوں ہیں؟

اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے اور اس کی وجہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی بے یقینی اور خوف کی کیفیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، دنیا کے خوش باش ملکوں میں پاکستان دنیا کے 149ملکوں میں39 درجے کی تنزلی کے بعد 105 ویں نمبر پرآ گیا ہے۔ پچھلے برس کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ 153 ملکوں میں 66 ویں نمبر پر تھا۔

Read more

بات کیسے ویران ہوتی ہے؟

ٹھیک 72 برس گزر گئے۔ بارہ مارچ سے بارہ مارچ تک دائرے کا سفر ہے۔ دھول جھونکنے کی حکایت دھند چھانے کی کہانی تک آن پہنچی۔ بارہ مارچ 1949 کو ہم نے دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد منظور کی تھی۔ چوہتر سالہ قائد حزب اختلاف سریس چندر چٹوپادھیا دلیل کی دہائی دیتے رہ گئے، سرکاری بیانیے نے نعرے، طفل تسلی اور ملفوف دھونس کی مدد سے اقلیت کی اختلافی آواز کو کچل ڈالا۔ اس روز ہم نے شہریوں

Read more

عسکری اور سیاسی قیادت میں علیحدگی کیوں ضروری ہے؟

30 برس پرانی بات ہے۔ جنرل آصف نواز فوج کے سربراہ تھے۔ ایک غیرسرکاری تقریب میں جنرل آصف کے علاوہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان، وزیر اعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے سپیکر گوہر ایوب بھی شریک تھے۔ اگلے روز تمام اخبارات میں ایک تصویر شائع ہوئی جس میں صدر، وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کی پر اشتیاق نگاہیں فوج کے سربراہ کو ہالہ کیے ہوئے تھیں۔ ہر تین حضرات نے مصافحے کے لیے دست بیعت

Read more

ہم جنسیت جرم نہیں

محترمہ نادرہ مہرنواز ہم سب کے لئے مستقل لکھنے والوں میں سنجیدہ، حقائق پر مبنی اور مدلل مصنفہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں۔ چالیس برس قبل ناروے منتقل ہونے سے پہلے کراچی میں ایک باوقار خاتون صحافی کے طور پر اپنی شناخت رکھتی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے انہیں تجویز دی کہ اہل پاکستان کو ناروے کی تاریخ، سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعارف کروانے کے لئے مضامین کا ایک سلسلہ شروع کریں۔ ناروے انسانی ترقی کی درجہ

Read more

کرپٹ نگری کا صادق اور امین دیوتا (مکمل کالم)

قائد اعظم محمد علی جناح تاریخ ساز کرداروں کے ہجوم میں ایک دیوقامت مدبر قرار پائے۔ اہل سیاست گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں۔ برسوں معاشرے کے تاروپود سمجھنے کی ریاضت کرتے ہیں، مردم شناسی کے متلون پانیوں میں غواصی کرتے ہیں۔ قانون اور دستور کی باریکیاں سمجھتے ہیں، تاریخ میں غوطہ زن ہوتے ہیں، معیشت کے زیروبم پر آنکھ رکھتے ہیں، ذاتی زندگی کو دبیز پردوں میں اوجھل رکھنا ہوتا ہے، کہیں ایسا خارا شگاف نعرہ کہ دشمن تو

Read more

جادوئی پہاڑ، انقلابی نوجوان اور دہشت کا خواب (مکمل کالم)

آنکھ کا رنگ کاسنی سے ہلکا گلابی ہو چکا اور دماغ سوتے جاگتے کی ننداسی کیفیت میں ہے۔ اسے تاریخ کا جبر ہی کہنا چاہیے کہ قافلہ عمر کا سفر دو صدیوں میں بٹ گیا۔ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں پیدا ہونے والوں نے ابھی اچھے وقتوں کے خواب اور ناانصافی کی بدنما حقیقت سے پوری طرح نمٹنا بھی نہیں سیکھا تھا کہ اکیسویں صدی آن لگی۔ خواب دیکھنے والوں کی ایک اور سوختہ نصیب نسل پیدا ہو چکی

Read more

منگو کوچوان کی سادہ لوحی اور حسن ناصر کی ملاقات

سعادت حسن منٹو کے لافانی افسانے ’نیا قانون‘ کے مرکزی کردار منگو کوچوان کو تعارف کی ضرورت نہیں۔ ایک سادھارن محنت کش ہے جس نے ہندوستان میں ’نیا قانون‘ نافذ ہونے کی خبر کو اپنی دبی ہوئی خواہشوں کا رنگ دے لیا ہے۔ ذاتی تجربے سے منگو پر انکشاف ہوتا ہے کہ نئے قانون میں کچھ بھی نیا نہیں۔ وہی فیض صاحب کا من موہنا انکسار، ہم سادہ ہی ایسے تھے، کی یوں ہی پذیرائی۔ دلچسپ بات یہ کہ ایک

Read more

پرویز رشید: ایوان بالا سے دلوں کے دربار دوام تک

پیر و مرشد پرویز رشید کو ایوان بالا سے خارج البلد قرار دے دیا گیا۔ سالار جمہوریت کو شکستہ دل رفیقوں کے لشکر میں مقام دوام کی عزت مبارک ہو۔ جس نشست سے محروم کیا گیا، وہ ایک میعادی امانت تھی، جو اعزاز نصیب ہوا، وہ ایک ابدی منصب ہے۔ مزاحمت کی سپہ کے رجز گزار کو قبیلہ حریت کی صف اول تک رسائی پر دلی تبریک۔ ”فروغ گلشن و صوت ہزار“ کے اس سفر میں شکستہ پائی ہی سالکان

Read more

No Country for Brave Men

جوئیل کوان اور ایتھن کوان دو بھائی ہیں اور ہم عصر ہالی وڈ میں بڑے ہدایت کار شمار ہوتے ہیں۔ ان کی 2007ء میں بنائی گئی فلم No country for Old Men بظاہر ایک کرائم تھرلر ہے، دھائیں دھائیں برستی گولیاں اور پے در پے گرتی لاشیں مگر مغربی امریکہ کے پھیلے ہوئے صحرائی مناظر میں فلسفے اور نفسیات کی باریک کلیاں گندھی ہیں۔ اس فلم سے آج کا عنوان ہی اخذ نہیں کیا، ایک اہم حوالہ بھی مستعار لینا

Read more

جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار

کچھ عرصہ قبل ایک قابل احترام خاتون استاد نے سوال کیا کہ "ہم سب” میں نہایت سنجیدہ علمی مباحث کے عین بیچ میں جنسی موضوعات کیوں در آتے ہیں؟ سوال میں اس قدر اخلاص تھا کہ مختصر طور پر یہی عرض کی کہ آپ کا سوال بے حد سنجیدہ ہے۔ میں اپنا نقطہ نظر لکھ کر پیش کروں گا۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات میری دانست میں قابل بحث ہیں۔ کیا جنس ایک غیر سنجیدہ موضوع ہے؟ کیا جنس

Read more

چراغ طور اور ملاوٹ ملا تیل

لاہور کے آشفتہ مزاج شاعر ساغر صدیقی نے رواں دواں بحر میں ایک غزل کہی، ’چراغ طور جلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اور پھر کہا، ’وہ جن کے ہوتے ہیں خورشید آستینوں میں / انہیں کہیں سے بلاﺅ، بڑا اندھیرا ہے‘۔ اندھیرا تو واقعی گہرا ہے اور تیرگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ چراغ طور میں رکھا تیل ملاوٹ ملا ہے۔ مختصر وقفوں سے لو اٹھتی ہے اور پھر سازش، جرم اور

Read more

آزادی انسان کا علمبردار: تھامس پین

انسانی آزادی کی تاریخ تھامس پین کا نام لیے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ جہالت، اوہام، تعصبات اور جبر کے اندھیروں میں انسان کا آزادی کی طرف سفر تکلیف دہ حد تک سست رہا ہے۔ آزادی کے لیے لڑنے والی لافانی ہستیوں پر انہی انسانوں نے پتھر برسائے ہیں جن کی بہتری اور ترقی کے لیے یہ مجاہد اپنا سر ہتھیلیوں پر لے کر نکلتے تھے۔ یہ عجیب لشکر ہے جس کے لئے فتح یا شکست دونوں صورتوں میں سنگ زنی

Read more

ویڈیو کالم: عربی زبان کی تعلیم اور ہمارا اخلاقی کردار

سینیٹ کے نصف ارکان کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ چند ہفتوں میں نصف مدتی انتخاب ہو گا تو اپنی میعاد مکمل کرنے والے 52 ارکان میں سے ’کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے‘ ۔ جزا سے نا امید ایک رکن نے جاتے جاتے ایک ایسا مسودہ قانون ایوان بالا سے منظور کروایا ہے گویا ثریا ہی دکھا دی۔ ثریا سے نرگس، مینا کماری اور مادھو بالا کی ہم عصر اداکارہ نہیں بلکہ فلک مراد ہے۔ وہی ناہنجار فلک جس نے بندگان خاکی سے دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ حکم ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کے زیر انتطام تعلیمی اداروں میں عربی لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جائے گی۔

Read more

لنڈے کا لبرل دیس کے غریبوں کا دوست ہے

نکولائی گوگول نے ’اوورکوٹ‘ کے عنوان سے ایک کہانی لکھی تھی۔ اس افسانے کے بارے میں دوستوئے فسکی نے کہا تھا، ’ہم سب نکولائی گوگول کے اوورکوٹ سے نکلے ہیں‘۔ دوستوئے فسکی کا اشارہ اپنے علاوہ آئیوان ترگنیف اور لیو ٹالسٹائی کی طرف تھا۔ اردو لکھنے پڑھنے والوں کی عالمی ادب تک رسائی ہوئی تو گوگول کا ’اوورکوٹ” ہمارے یہاں بھی آن پہنچا۔ کون ہے جس نے غلام عباس کا افسانہ اوور کوٹ نہیں پڑھا؟ راجندر سنگھ بیدی نے بھی

Read more

عربی زبان کی تعلیم اور ہمارا اخلاقی کردار

سینیٹ کے نصف ارکان کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ چند ہفتوں میں نصف مدتی انتخاب ہو گا تو اپنی میعاد مکمل کرنے والے 52 ارکان میں سے ’کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے‘۔ جزا سے ناامید ایک رکن نے جاتے جاتے ایک ایسا مسودہ قانون ایوان بالا سے منظور کروایا ہے گویا ثریا ہی دکھا دی۔ ثریا سے نرگس، مینا کماری اور مادھو بالا کی ہم عصر اداکارہ نہیں بلکہ فلک مراد ہے۔

Read more

میں فکشن کیوں نہیں لکھتا ؟

کچھ دوست سوال کیا کرتے ہیں کہ میں فکشن کیوں نہیں لکھتا۔ جب یہ سوال متعدد بار دہرایا گیا تو ردعمل میں دو خیالات پیدا ہوئے۔ ایک گمان تو یہ گزرا کہ یہ احباب دراصل میری صحافتی تحریروں سے عاجز آ چکے ہیں۔ سیدھے سبھاﺅ یہ کہنے کی بجائے کہ صحافت کی جان چھوڑو، سلیقے سے ایک دوسرا راستہ دکھاتے ہیں۔ ایک خیال یہ گزرا کہ شاید میری تحریر میں واقعی کوئی ایسا اشارہ موجود ہو جس سے اہل علم

Read more

کچھ کرپشن اور حکومتی بندوبست کے بارے میں

حافظ سلمان بٹ رخصت ہو گئے۔ اٹل نظریاتی شخص تھے اور نہایت قابل قدر سیاسی شہری۔ ہمارے قبیلے نے پنجاب پولیس کے ایک دیانت دار افسر خواجہ طفیل کے بیٹے حافظ سلمان بٹ سے شدید مخاصمت میں آنکھ کھولی۔ 25 فروری 1985ءکی رات ابھی آنکھ میں زندہ ہے۔ حافظ سلمان جماعت اسلامی کے امیدوار تھے اور غیر جماعتی انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ لاہور کی دیو سماج روڈ پر شیراز ہاسٹل کے باہر اپنے مداحوں میں

Read more

لاہور قلندر سے پاکستان قلندر تک

کھیل کی دنیا کبھی تفریح اور تندرستی کے دو اشاریوں سے عبارت تھی۔ کھیل کے قواعد کی پابندی کرتے ہوئے ہار اور جیت کو تسلیم کرنا کھیل کا اخلاقی فلسفہ تھا۔ ہارنے والے کے لئے فتحمند کھلاڑی کی بہتر صلاحیت اور مہارت کا اعتراف کرنا اعلیٰ ظرفی کہلاتی تھی۔ ہماری روایت میں تو ڈبلیو جی گریس اور ماجد جہانگیر کی بیٹنگ بسی ہے۔ آؤ ٹ ہونے پر امپائر کی انگلی اٹھنے کا انتظار کیے بغیر پویلین لوٹ جاتے تھے۔ ہماری

Read more

بادشاہ سلامت کی خلعت صد چاک اور صحافی کی لاتعلقی

ایک صاحب ہوتے تھے لیفٹنٹ جنرل مجیب الرحمٰن۔ ضیا مارشل لا کے ساتھ ہی سیکرٹری انفارمیشن کے طور پر نمودار ہوئے۔ نفسیاتی جنگ کے ماہر تصور کیے جاتے تھے۔ واللہ! جنرل صاحب نے اپنے ہی عوام کے خلاف مارچ 1985 تک شجاعت کے بھرپور جوہر دکھائے تاوقتیکہ وزیر اعظم جونیجو نے انہیں اس ذمہ داری سے سبکدوش نہ کر دیا۔ ٹیلی وژن پر ظلم کی داستانیں، وائٹ پیپرز کی اشاعت، کھیل کی خبروں کو شہ سرخی اور مشاعروں کو مزاحیہ

Read more

ڈی این اے کا مغربی جھوٹ اور چندر بنسی دیوتاؤں کی اولاد۔۔۔

ذات پات نسل پرستی کے مترادف ہے۔ اور نسل پرستی انسانوں کے درمیان بے معنی امتیاز کی لکیریں لگانے کا نام ہے۔ ذات پات اور نسلی فخر دراصل ہمارے اندر گہرے احساس کمتری کے شاخسانے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں کئی برس تک انسانی حقوق کی تعلیم دینے کے دوران ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ پاکستان میں پڑھے لکھے لوگوں کی بڑی تعداد ذات پات، قبائلی شناخت اور مفروضہ آبا و اجداد کے بارے میں ناصرف سنجیدہ

Read more

ایک آدمی کتنا کُو سیانا ہو سکتا ہے؟

معذرت کہ آج عنوان ہی میں ایک پنجابی روز مرہ کی ضرورت آن پڑی۔ دراصل یہ مرحوم راؤ عبدالرشید کے ہریانوی عطایا میں سے ہے۔ روہتک کے قصبے کلانور سے آنے والے راؤ رشید کی پیشہ ورانہ اہلیت بے مثل تھی۔ افسوس کہ ایسے نابغہ روزگار کی ملازمت کا بیشتر حصہ ہماری تاریخ کے ان تاریک غاروں میں گزر گیا جہاں سرکاری افسر خواہی نخواہی قاعدے ضابطے سے ہٹ کر چلنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے

Read more

ڈونلڈ ٹرمپ: ہمارے شہر سے ہو کر دھواں گزرتا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ 2020 ءکا انتخاب ہی نہیں ہارے، تاریخ بھی ہار گئے۔ چار برس تک اپنے ناقابل پیش گوئی اقدامات، الٹے سیدھے بیانات اور کھوکھلے دعووں کے سہارے پہلی مدت پوری کرنے کے بعد انہوں نے ایک حیران کن انتخابی مہم چلائی۔ 2016ء میں انہوں نے ہلیری کلنٹن کے 227 کے مقابلے میں 305 الیکٹرول ووٹ حاصل کیے تھے۔ 2020 ءمیں ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ انتخاب کے مقابلے میں ایک کروڑ دس لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے لیکن جو بائیڈن

Read more

پاکستان ترقی کر سکتا ہے

1990ء کی دہائی ہمارے ملک پر بہت سخت وقت تھا۔ ہم پہ کیا کیا نہ زمانہ آیا…. چار منتخب جمہوری حکومتیں اپنی مدت مکمل نہ کر سکیں۔ تین حکومتوں پر 58 ٹو (بی) کا کلہاڑا چلا۔ ایک حکومت کو جہاز میں بیٹھ کر ہائی جیک کیا گیا۔ فرقہ وارانہ قتل و غارت بے روک ٹوک جاری تھی۔ جہاد کے نام پر تنظیمیں راتوں رات قائم ہوتی تھیں اور سب جانتے تھے کہ کوتوال کس کا دوست ہے۔ آدھا وقت افغانستان

Read more

حسن نثار قومی نفسیات کا نمائندہ نشان کیسے بنا؟ (وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم)

آج اس پیر فرتوت، تند خو صحافی کا ذکر رہے جو ہماری اجتماعی نفسیات اور ہمارے انفرادی مزاج کا نمائندہ ترین نمونہ ہے۔ حقیقی نام لینے کی ضرورت نہیں۔ غالب نے بھی تو کہا تھا، ’بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا‘۔ آپ انہیں اسرارالحق کہہ لیجیے۔ اگرچہ 69 برس اور چھ ماہ کی عمر میں ایسی سیماب صفت ہستی کے لئے کون سے اسرار کی دریافت باقی رہ گئی ہو گی۔ اس پیرانہ سالی میں تو عاقبت کے

Read more

چلی کے کانکن اور ہمارے مقامی چاہ کن

قریب چالیس برس اپنے ملک کی تاریخ اور سیاست کی خاک چھاننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری قوم کی بیشتر مشکلات کی وجہ ہماری اجتماعی سیاسی ناخواندگی ہے۔ تدریسی اعتبار سے ناخواندہ غریبوں پر الزام دھرنا قطعاً ناواجب ہے۔ اس ملک کے دس کروڑ شہری دانستہ ان پڑھ رکھے گئے ہیں۔ رسمی تعلیم سے یہ محرومی ان کی مستقل غربت، محکومی اور لاچارگی کو یقینی بناتی ہے۔ کل 27 فیصد آبادی میٹرک پاس ہے۔ سکول کی سطح پر اساتذہ کی کمزور ذہنی استعداد، تعلیمی سہولیات کے فقدان اور نصاب میں من گھڑت بیانات کی مجرمانہ تلقین نے ایسا نسخہ تیار کیا ہے کہ دس بارہ برس کی یہ تعلیمی مشق بے معنی ہے۔ اسکول میں نیم خواندہ اساتذہ کے ہاتھوں جسمانی تشدد، ناپختہ تمدنی خیالات اور ناتراشیدہ شخصی رویوں کی ترشول پر مصلوب طالب علم میٹرک پاس بھی کر لے تو اس کے لئے روزگار کا کوئی امکان ہے اور نہ معاشرے میں مفید کردار ادا کرنے کا موقع۔ پندرہ کروڑ مطلق ناخواندہ اور نیم خواندہ افراد کا یہ لشکر ٹیلی وژن پر ہر شام دھاڑتے تجزیہ کاروں کے رحم و کرم پر ہے۔

Read more

نا انصافی کی خاموشی اور حافظے کی مزاحمت

دسمبر 1976 کی ایک سرد رات ذوالفقار علی بھٹو نے مری میں اعلیٰ عسکری قیادت سے ایک تاریخی ملاقات کی۔ ان کے دائیں ہاتھ جنرل ضیا الحق اور بائیں ہاتھ میجر جنرل اختر عبدالرحمن بیٹھے تھے۔ وزیر اعظم حصار میں تھے ۔ وزیر اعظم بھٹو نے ایک مختصر جملے سے گفتگو کا آغاز کیا۔ ’ہم ایک دوراہے پر ہیں….‘ بھٹو صاحب ایسے سیاسی رہنما تھے جو لان میں اگتی گھاس کی آواز سن سکتے تھے۔ دسمبر 1976 کے اس دوراہے

Read more

نوجوان لکھنے والوں کو کیا پڑھنا چاہیے؟

کچھ نوجوان دوستوں نے استفسار کیا ہے کہ اردو غیر افسانوی نثر کی کون سی کتابیں پڑھنا مفید ہو گا تا کہ ان کی اپنی تحریر میں سلاست اور روانی پیدا ہو سکے۔ نیز وہ اردو نثر کے مختلف اسالیب سے آشنا ہو سکیں۔ مجھے اس سوال سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وسیع مطالعے کے بغیر ہمارے نوجوان اردو زبان پر کماحقہ عبور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور اگر ان کی تحریر غیر مؤثر ہو

Read more

کرک کا مندر اور ہمارے سادہ دل فواد چوہدری

اکیسویں صدی کا اکیسواں برس شروع ہو گیا۔ فیض صاحب نے نومبر 1984ءکے ایسے ہی کسی کہر زدہ روز میں سوال کیا تھا،’نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے‘۔ فیض صاحب تو چلے گئے۔ مسافران رہ صحرائے ظلمت شب کی محضر پر مہر پہ مہر ثبت ہوتی چلی جاتی ہے، رہائی کا حکم نہیں ہوتا۔ گلی کوچوں میں دندناتی وبا اور دلوں میں ٹھہرے خلا کے درمیانی منطقے پر لڑکھڑاتا 2020ءغروب کے دہانے پر تھا کہ کرک کی

Read more

چودہویں صدی کا چینی مفکر اور ایک ترک ہم عصر

بات سے بات اس طرح نکلتی ہے کہ منزلوں کا نشاں نہیں ملتا۔ ایک ایسا مقام بھی آتا ہے جہاں مصطفیٰ زیدی نے ’لٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ‘ کا مضمون باندھا تھا۔ خیر گزری کہ دیدہ تر کی شبنم ابھی خشک نہیں ہوئی، متاع احساس سلامت ہے اور قلم اپنے منصب سے دست بردار نہیں ہوا۔ اتنا ضرور ہوا کہ لاہور، لاڑکانہ اور اسلام آباد پر اتری دھند سے مجروح بصارت نے دور قریب کے دیاروں کی سیاحی

Read more

کیا سیاست دان نئے زمانے کے صوفی ہیں؟

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے لاہور جلسے سے اگلے روز حزب اختلاف کے رہنماؤں کا رائے ونڈ میں اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ ان دو ہفتوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ گیا ہے لیکن دیکھنے والی آنکھ میں اس پریس کانفرنس کا ایک منظر ٹھہر گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن گفتگو کر رہے تھے۔ ان کے بائیں طرف مریم نواز تھیں اور دائیں طرف بلاول

Read more

معیشت اور جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نباضی

تین روز پہلے وعدہ کیا تھا کہ سند باد جہازی کے قصے لکھا کریں گے، قطب شمالی کی برفانی چادر تلے دبی مچھلی کا شکار بیان کریں گے، افریقہ کے جنگلوں میں آزاد گھومتے شیروں کی عادات پر روشنی ڈالیں گے۔ اپنے دیس کی کتھا نہیں کہیں گے۔ مگر وطن تو پرندے کے پاؤں میں الجھی ڈور جیسا رشتہ ہے۔ سید امجد علی پہلی گول میز کانفرنس میں علامہ اقبال کے شریک سفر تھے۔ ایک روز حضرت علامہ کو ذوق

Read more

منجھلے بھائی جان کی صحافت

ناصر نے لکھا تھا۔ ’خیال آ گیا مانوس رہ گزاروں کا / پلٹ کے آ گئے منزل سے تیرے دیوانے‘۔ ارے، پلٹ کے کدھر سے آتے، کہیں گئے ہی نہیں۔ ابھی کل ہی کی تو بات ہے۔ اپریل 1949 ءمیں سول اینڈ ملٹری گزٹ نے ایک خبر شائع کی۔ حکومت نے پرزور تردید کی اور پھر صحافت کے جملہ منجھلے بھائی جان رواں ہو گئے۔ غداری کے الزامات میں تتر بتر ایسی مہم چلی کہ 6 مئی 1949 کو مغربی

Read more

یہ میرا دامنِ صد چاک اور بہار کا سوگ

سپین کے جنوب میں اندلس کا تاریخی خطہ واقع ہے۔ یہاں کا صدر مقام قرطبہ جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) سے نکلنے والے دریا Guadalquivir کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ 712ء سے 1492ء تک قریب آٹھ سو برس پر محیط مسلم دور حکومت میں یہ دریا وادی الکبیر کہلاتا تھا۔ سقوط غرناطہ سے کوئی پانچ سو برس بعد 1933ء میں لاہور کے صاحب جذب و فکر محمد اقبال سپین گئے تو اس تاریخی تلمیح کو ایک لافانی شعر عطا

Read more

زیاں کے دفتر میں ایک اور برس بڑھ گیا…

عرش صدیقی بھلے آدمی تھے۔ تدریس کو معاش کا پردہ کیا تھا۔ نظم اور افسانہ لکھتے تھے۔ ہماری چاک دامن تاریخ پر 1978کا برس اترا تو دور دور تک کسی امید کا امکان تک اوجھل ہو چکا تھا۔ ہم ایک ایسے عہد تعطل میں داخل ہو گئے تھے جہاں چند جنوں پرور وطن پرستوں کو چھوڑ کر معاشرے نے ریاکاری، عافیت کوشی اور جرم سے سمجھوتے کا مکھوٹا پہن لیا تھا۔ لباس کے قرینے اور زبان کے آداب تو بدلے

Read more

اس لاحاصل عہد میں عمریں یونہی ڈھلتی ہیں

ہر عہد کی ایک خوشبو ہوتی ہے، کسی انجان جنگلی پودے سے آنے والی تیز مہک، بعد کے برسوں میں ہم جس کی ایک اداس کر دینے والی کیفیت میں جستجو کرتے ہیں. وہ جنگل ہی کٹ گیا، لوگ اوجھل ہو گئے، گلیاں اور مکان بدل گئے، تو وہ خوشبو کہاں رہی جو دلوں میں خوشی اور خواب جگاتی تھی. شکرگڑھ شہر سے مشرق میں کوٹ نیناں کی طرف سفر کریں تو بڈوال جنگل کے کنارے بارہ منگا کے پڑاؤ

Read more

وجاہت مسعود کا ناقابلِ اشاعت کالم: ویڈیو

مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ آور نے طالبات اور طلبا کو علیحدہ کر کے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی۔ چھ بچیاں موقع پر ہلاک ہو گئیں۔ اس دوران حملہ آور نعرے لگاتا رہا ۔ I hate feminists. I am fighting feminists. (مجھے فیمنسٹوں سے نفرت ہے۔ میں فیمنسٹوں سے جنگ کر رہا ہوں)۔ اگلے بیس منٹ میں حملہ آور نے درسگاہ کے برآمدوں اور کیفے ٹیریا میں درجنوں طالبات پر گولیاں برسانے کے بعد خود کو گولی مار لی۔ چودہ طالبات ماری گئیں۔ حملہ آور نے اپنی خود کش تحریر میں کسی ذاتی عداوت کی تردید کرتے ہوئے اپنے فعل کو سیاسی جدوجہد قرار دیا تھا۔

Read more

وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم

مانٹریال کے پولی ٹیکنیک سکول میں 6 دسمبر 1989 معمول کا دن تھا۔ انجنیئرنگ کے طلبا اور طالبات درس و تدریس میں مصروف تھے۔ سہ پہر 5 بج کے دس منٹ پر ماخت لپینو (Marc Lépine) نام کا 35 سالہ مسلح شخص دوسری منزل کے ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوا۔ یہاں نو طالبات سمیت ساٹھ طالب علم موجود تھے۔ حملہ آور نے طالبات اور طلبا کو علیحدہ کر کے طالبات پر فائرنگ شروع کر دی۔ چھ بچیاں موقع پر

Read more

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ

ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی ایسی گرم بازاری ہے گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ رفتگاں کی فہرست ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ابھی ایک مانوس آواز سے محرومی، ایک دیرینہ رفیق سے فراق اور ایک قدیمی آشنا چہرے کے صدمے سے سنبھل نہیں پاتے کہ ایک اور سناﺅنی آ لیتی ہے۔ پت جھڑ تو ابھی شروع ہوا ہے، ہمارے لئے تو یہ پورا برس ہی خزاں کی ویرانی سے منسوب ہو گیا۔ موت محض ایک ہندسہ نہیں ہوتی، ہر جانے والے کے ساتھ ایک پوری دنیا پر پردہ گر جاتا ہے، کتاب ادھوری رہ جاتی ہے، ساز کے تار کسی حادثے جیسی قطعیت کے ساتھ چٹختے ہیں اور نغمہ ان دیکھے خلا میں کھو جاتا ہے۔ سیاست، مذہب اور تمدن کے ستون ہیں کہ ایک ایک کر کے بغیر آواز کیے منہدم ہو رہے ہیں۔

دوسروں کی کیا کہوں۔ میرے لئے کراچی سے آصف فرخی، بہاولپور سے رانا اعجاز احمد، ملتان سے حیدر عباس گردیزی، لاہور سے استاذی محمد خالد، قاضی جاوید اور اب اسلام آباد سے اشفاق سلیم مرزا۔ یہ شہر گویا اپنا معنی کھو بیٹھے۔ کس قدر پات گرے ہیں اب کے۔ پہلے کون سا ہم نظام الملک طوسی کے باغ میں عمر خیام سے ہم پیالہ ہو رہے تھے، یہ تھا کہ یاران ہم نفس کہیں مل بیٹھتے تھے تو جینے کا بہانہ میسر آ جاتا تھا۔ فلک ناہنجار کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔

Read more

نومبر کی رات اور کاتک کا چاند

موسموں کی کیا پوچھتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں۔ بام حرم کے دست آموز پرندے البتہ موسموں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ آب و ہوا کو موافق پا کر جھیلوں کے کنارے اترتے ہیں۔ ’پانی کے پرندوں کا اکثر چشموں میں بسیرا ہوتا ہے‘۔ پانیوں ہی پر موقوف نہیں، حریم ناز کے خوش رنگ پرندے تو زیر زمیں زلزلوں کی پیش بینی بھی کر لیتے ہیں۔ گھاس کی پتیوں کی کپکپاہٹ پڑھ لیتے ہیں۔ ہوا کا رخ پہچان کر دور

Read more

جنرل جذباتی نہیں ہوتے – آڈیو ویڈیو کالم

اکتوبر 1958 شروع ہوا تو جنرل ایوب خان فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ اکتوبر ختم ہوتے ہوتے ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، وزیر اعظم، صدر اور فیلڈ مارشل کی منزلیں مارتے ان رفعتوں کو پہنچ چکے تھے جہاں فوج کی کمان ایک غیر اہم ذمہ داری تھی جسے کسی مطیع اور مودب ماتحت کو سونپا جا سکتا تھا۔ چنانچہ 28 اکتوبر 1958 کی گلابی دھوپ میں صدر ایوب خان نے فوج کی کمان جنرل موسیٰ خان کے سپرد کر دی۔ اس تقریب میں باوردی اہل حشم سے الوداعی تقریر کرتے ہوئے ایوب خان کی آواز بھرا گئی۔ ایک اردو اخبار نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ایوب فوج سے 30 سالہ وابستگی کو خیر باد کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ اس پر بڑا طوفان اٹھا۔ ایک کرنل صاحب نے اخبار کے مدیر کی میز پر ڈنڈا بجاتے ہوئے دھمکیاں دیں۔ دست بستہ گزارش کی گئی کہ اس خبر میں ہونے والی غلطی کی نشاندہی کی جائے۔ کرنل صاحب نے فرمایا ’جنرل جذباتی نہیں ہوتے‘ ۔

Read more

جنرل جذباتی نہیں ہوتے – ناقابلِ اشاعت کالم

اکتوبر 1958 شروع ہوا تو جنرل ایوب خان فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ اکتوبر ختم ہوتے ہوتے ایوب خان مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، وزیر اعظم، صدر اور فیلڈ مارشل کی منزلیں مارتے ان رفعتوں کو پہنچ چکے تھے جہاں فوج کی کمان ایک غیر اہم ذمہ داری تھی جسے کسی مطیع اور مودب ماتحت کو سونپا جا سکتا تھا۔ چنانچہ 28 اکتوبر 1958 کی گلابی دھوپ میں صدر ایوب خان نے فوج کی کمان جنرل موسیٰ خان کے سپرد کر دی۔ اس تقریب میں باوردی اہل حشم سے الوداعی تقریر کرتے ہوئے ایوب خان کی آواز بھرا گئی۔ ایک اردو اخبار نے یہ خبر دیتے ہوئے لکھا کہ صدر ایوب فوج سے 30 سالہ وابستگی کو خیر باد کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ اس پر بڑا طوفان اٹھا۔ ایک کرنل صاحب نے اخبار کے مدیر کی میز پر ڈنڈا بجاتے ہوئے دھمکیاں دیں۔ دست بستہ گزارش کی گئی کہ اس خبر میں ہونے والی غلطی کی نشاندہی کی جائے۔ کرنل صاحب نے فرمایا ’جنرل جذباتی نہیں ہوتے‘ ۔

Read more

جاگ پنجابی جاگ

استاذی پروفیسر خالد سعید اور برادرم ڈاکٹر اختر علی سید کی ہدایت پر درویش 7 اور 8 نومبر کو ملتان لٹریری فیسٹیول میں شریک ہوا۔ استاذ الاساتذہ ڈاکٹر انوار احمد کی ہم نشینی سے سرفراز ہوا۔ ڈاکٹر مقبول گیلانی اور عزیزم علی نقوی کی دلدار میزبانی سے لطف اٹھایا۔ کشور ملتان میں رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، قمر رضا شہزاد اور نوازش علی ندیم بندہ عاجز کے قدیمی مہربان ہیں، چشم گستاخ نے محبت اور علم کے ان نایاب

Read more

نام لینے کی اجازت نہیں

استاذی قیوم نظر نے ہمارا آشوب لکھا تھا، ’مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی‘۔ اِدھر ادھر سے اچھی خبروں کی لین ڈوری بندھی ہے۔ ’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن، لیکن اپنا اپنا دامن‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتخاب ہار گئے۔ یہ ری پبلکن پارٹی کی ہار نہیں، طاقت، دھونس اور دھمکی کے بل پر اجتماعی اخلاقی ذمہ داری روندنے کی شکست ہے۔ ہمارے خطے میں افغانستان سے لداخ تک بچھی بساط پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ قلمروئے روس سے

Read more

امریکی انتخاب اور دیسی لوزر کی شکست

زندگی ایک دلچسپ سیاحت ہے۔ مسافر کب اور کہاں اترے گا؟ کتنا ٹھہرے گا اور کس رنگ میں ٹھہرے گا ؟ کب اور کیسے رخصت ہو گا؟ کچھ بھی طے نہیں۔ توقع اور حادثے کا کھیل ہے۔ علی افتخار جعفری نے لکھا تھا، نیند آتی ہے مگر جاگ رہا ہوں سرخواب / آنکھ لگنی ہے تو یہ عمر گزر جانی ہے۔ اس سفر میں ایک خاص مقام کے بعد آئندہ منزلوں کی آرزو پر دھند کی چادر اترنے لگتی ہے۔

Read more

مسولینی اور سلطنت کا بحران

ایک بوڑھی خاتون جانے کن وقتوں سے انصاف کی امید پر مقدمہ لڑ رہی تھی۔ اس کے خلاف فیصلہ آیا تو اس نے ماؤں جیسے ٹھہراؤ میں رندھی آواز میں صرف یہ کہا، ” پھر یہ عدالت تو نہ ہوئی…. ” منصف کی کرسی پر رستم کیانی بیٹھے تھے۔ جذبے اور خیال کا تعلق سمجھتے تھے۔ لرز کر رہ گئے۔ بزرگ خاتون کو روسٹرم کے قریب بلایا اور فرمایا، ’اماں جی، آپ سے کس نے کہا تھا کہ یہ عدالت

Read more

گونگا طالب علم اور تیسری آواز سننے سے معذور استاد

 کمرہ جماعت میں خاموشی تھی۔ استاد منصفانہ سماعت کے اصول بیان کر رہا تھا۔ ملزم کو دفاع کا حق کیوں ہے؟ الزام کا بار ثبوت مدعی پر کیوں ہے؟ قطعی شواہد اور ثبوت کے بغیر ملزم کو معصوم کیوں سمجھا جائے گا، کوئی درجن بھر نکات ختم ہوئے تو سوالات کی دعوت دی گئی۔ تیسری قطار میں ایک نوجوان نے سوال کرنے کے لئے اٹھنا چاہا۔ ہاتھ کے اشارے سے بتایا گیا کہ آپ کو کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں۔

Read more

کریمیا سے آنے والی فلائٹ اور کوہ مردار پہ سبزے کی نمود

جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں۔ میر تقی نے کسی عالم انبساط میں یہ غزل لکھی ہو گی ورنہ حقیقی روزگار ان کا درد و اندوہ کی تالیف تھا۔ ہم آپ ہی کی طرح فن کار کی بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ فن کار کی ایک آنکھ میں حیرت اور دوسری میں گیان کا بسیرا ہوتا ہے۔ ہم کھلی آنکھوں سے کوئے مجاز کی ریزگاری شمار کرنے والے نامرادان محبت کو بہ نظر حقارت دیکھتے ہیں۔

Read more

تاریخ کا جبر اور جمہوریت کا سفر

پاکستان میں جمہوریت بیوہ ماں کا سوتیلا بچہ ہے جو ماموں کے گھر میں پرورش پاتا ہے۔ اور گھر بھی ایسا ’جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں‘۔ اہل کراچی کے سیاسی شعور کی زندگی آفریں حرارت سے نچنت ہو کر دو گھڑی کو نیند لیتے ہیں تو کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی خبر پر آنکھ کھلتی ہے۔ کیا خاک جیے کوئی، شب ایسی سحر ایسی۔ واقعات سمندری طوفان کی لہروں جیسی غضب ناک تندی سے یلغار کر

Read more

16 اکتوبر 1951 سے 16 اکتوبر 2020 تک

اکبر الہ آبادی سے ہم ایسے چھٹ بھیوں کا تعلق تاریخ کے الجھے ہوئے دھاگوں جیسا رہا۔ حسرت موہانی جیسے بطل حریت نومبر 1950 میں اپنی وفات سے کوئی چھ ماہ قبل آخری مرتبہ لاہور آئے تو احمد بشیر سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر الہ آبادی کو عجب وارفتہ ڈھنگ میں یاد کیا۔ ’اکبر… آدمی بے پناہ تھے۔ انگریزوں سے نفرت کرتے تھے، گول مول اشاروں میں کام کی باتیں کر جاتے تھے۔‘ ہماری پایاب نسل کا المیہ یہ تھا

Read more

عطا آباد کی نیلگوں جھیل اور بابا جان کی اندھیری کال کوٹھری

عطا آباد جھیل جون 2010ء میں دیوقامت پہاڑوں کے لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں دریائے ہنزہ کا راستہ رکنے سے وجود میں آئی۔ یہ پہاڑ 2002ء کے زلزلے کے نتیجے میں مخدوش ہو گئے تھے اور ہزاروں ٹن وزنی چٹانوں کی مسلسل ٹوٹ پھوٹ کی خبروں کے باوجود کسی کو ممکنہ سانحے کی روک تھام کا دماغ نہیں تھا۔ پرویز مشرف حکومت قاف لیگ بنا رہی تھی، پیپلز پارٹی کے "محب وطن” ارکان پارلیمنٹ کی غیرت جگا رہی تھی۔ کچھ

Read more

مردہ آدمی کی ہنسی سے خوفزدہ ادیب

ستمبر 1953 میں حسن عسکری نے ’ساقی‘ میں ایک مختصر سا نوٹ لکھا، ’اردو ادب کی موت‘۔ عسکری صاحب نے محض ایک ادبی تاثر رقم کیا تھا مگر اس پر کراچی سے لاہور تک تتیئے لگ گئے۔ اس ردعمل کی وجہ یہ تھی کہ ادیب ابھی زندہ تھا۔ ادب کی موت کا اعلان ایک پیرائیہ اظہار سے زیادہ کچھ نہیں۔ تخلیق کی مانگ سونی نہیں رہا کرتی۔ پرندے سبز پتوں میں ڈھکی ٹہنیوں پر گا رہے ہیں، پہاڑی ڈھلانوں پر

Read more

اے بے گنہی گواہ رہنا

اللہ اللہ، دن پھر آئے ہیں باغ میں گُل کے۔ غیرمشروط معافی کی رسم سے بات چلی تھی، غداری کے مقدمات تک آ پہنچی ہے۔ انجم رومانی ہمارے عہد میں ہنر کی پختگی، خیال کی استواری اور تہذیب کی پاسداری کا نشان تھے۔ بلاشبہ اہل کمال تھے مگر طبعیت ایسی غنی کہ محفل میں نمایاں ہونے سے باقاعدہ گریز کرتے تھے۔ غزل کے دو مصرعوں میں صدیوں کی تاریخ سمیٹ لیتے تھے۔ فرمایا۔ "اول اول چلے منجملہ آداب جو بات،

Read more

فرانکو کا اسپین اور سچائی کا راستہ

ہم لوگ بھی کیا سادہ ہیں۔ تاریخ کے جس منطقے میں اور زمیں کے جس ٹکڑے پر جینے کا موقع ملتا ہے، ہماری دنیا، ہمارے تاثرات، تصورات اور اقدار کی تصویر اسی ہاتھ بھر کی کھڑکی سے بندھ جاتی ہے۔ خیال کی پرواز کو حاضر و موجود کی کشش سے مفر نہیں۔ ہماری تہذیب نے بھی کیا کیا اہل نظر پیدا کیے۔ میر تقی میر نے ”عالم کی بے فضائی“ کا شکوہ کیا اور غالب نے ستم زدگاں کے جہان

Read more