جج ہی نہیں، ڈاکٹر بھی صاحب دل ہوتے ہیں

رہ رہ کے تاؤ آ رہا ہے اپنے آپ پہ، بھلا اتنی جلد دنیا میں نازل ہونے کی ضرورت کیا تھی ؟ چالیس سال پہلے کی ہمارے بچپن کی دنیا! اتنی بور کہ آج کے بچوں کا سانس بند ہو جائے! نہ انٹر نیٹ، نہ سوشل میڈیا، نہ سو پچاس چینل، نہ سمارٹ فون، نہ لیپ ٹاپ، نہ ٹویٹر، نہ واٹس ایپ، نہ فیس بک، نہ انسٹاگرام، نہ کچھ اور۔ ہمیں تو کمبختوں کے پوری طرح نام بھی نہیں آتے!

Read more

کھل کر ماہواری کیوں نہیں آتی؟

”‎میری عمر چھتیس سال ہے سات سال ہوئے شادی کو۔ پچھلے تین چار سال سے ماہواری بہت کم ہو گئی ہے۔ تاریخ ریگولر ہے ہمیشہ وقت پہ ہوتی ہے لیکن بلیڈنگ بہت کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پیٹ بہت بڑھ رہا ہے اور سخت بھی ہو گیا ہے۔ ‎جب ماہواری آتی ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہے بلیڈنگ کھل کے نہیں ہوتی۔ کریمپس ہوتے رہتے ہیں جیسے اندر بہت کچھ رہ گیا ہو۔ کچھ ایسا بتائیں یہ

Read more

چالیس؛ عورت کے لیے خطرے کی گھنٹی!

علم الاعداد سے شغف رکھنے والے سات نمبر کے گن گاتے نہیں تھکتے اور خوشی سے ہم پھولے نہیں سماتے کہ سات تاریخ کو پیدا ہوئے تھے۔ ویسے سوچنے کی بات ہے اس میں بھلا ہمارا کیا کمال تھا؟ اماں کو درد زہ ہی چھ ستمبر کو شروع ہوئے جو تین، چار پانچ کسی بھی تاریخ کو شروع ہو سکتے تھے۔ لیکن یہ بھی تو ممکن ہے کہ ہم ہی ہٹ دھرم بن کر بیٹھے رہتے سات کے انتظار میں،

Read more

ماہواری اور اداکاری!

”کیا بات ہے، آج تمہاری آنکھ ہی نہیں کھل رہی؟ جمائی پہ جمائی“

”کیا بتاؤں، نیند ہی نہیں پوری ہوتی۔ سحری کے وقت اٹھنا، سب کے ساتھ مل کر کھانا پینا، پھر دوبارہ سونے کی کوشش کرنا، دوبارہ نیند کہاں آتی ہے بھلا؟“

”مگر تم تو ماہواری میں ہو، روزہ تو رکھنا نہیں تھا پھر سحری میں کیوں جاگ گئیں؟“

”توبہ کرو، گھر میں کون مجھے سونے دے گا۔ بقول اماں، سحری میں سب کے ساتھ اٹھو، سب کے ساتھ روزہ کھولو۔ باپ بھائیوں کو پتہ نہ چلے کہ ماہواری آئی ہے“

Read more

ٹانکا لگا

”جب سوئی سے ٹانکہ بھریں تو آپ کو علم ہونا چاہیے کہ سوئی کی نوک کہاں سے گزرتے ہوئے، کس کس عضو کو چھید کے کہاں نکلے گی؟ سرجن کے لیے سوئی اور دھاگہ ایسا ہی ہتھیار ہیں جیسا کسی سپاہی کے لیے بندوق۔ اپنے ہتھیار کا استعمال اور اس پہ کنٹرول ہی آپ کو اچھا سرجن بناتا ہے۔ رحم/ بچے دانی کے منہ یعنی cervix پہ ٹانکہ لینا مشکل اس لیے ہے کہ بچے دانی کی شکل الٹی لٹکی

Read more

شادی، حمل اور زچگی کی مثلث!

صاحب کیا کریں، ہم کچھ بھی کر رہے ہوں، کہیں بھی ہوں، ہمیں کوئی نہ کوئی ایسا خیال آ جاتا ہے جس کا تانا بانا ہماری دکھتی رگ تک پہنچتا ہو۔ سو وہاں اہرام مصر کے سامنے کھڑے ہو کے ہم نے سوچا، عورت کی زندگی بھی ایک تکون ہی تو ہے۔ ایک ایسی تکون جو شادی، حمل اور زچگی کے ملاپ سے بنائی گئی ہے اور جس میں کہیں بال برابر فرق بھی اگر آ جائے تو جیتی جاگتی عورت کو زندہ درگور ہی سمجھیے۔

Read more

چیتھڑوں میں ملبوس عورت!

”آج شام کافی پینے چلیں؟“ ”نہیں آج نہیں“ ”کیوں کیا ہوا؟“ ”طبعیت ٹھیک نہیں، چیتھڑوں میں ہوں“ ”اوہ۔“ اگر آپ کے سامنے دو سمارٹ اور خوش لباس لڑکیاں انگریزی میں یہ گفتگو کر رہی ہوں تو یہ سن کر آپ کا دماغ تو چکرا ہی جائے گا نا کہ کون سے چیتھڑے بھئی؟ اپنے اچھے خاصے کپڑوں کو یہ چیتھڑے کیوں کہہ رہی ہیں اور اگر ایسا سمجھ بھی رہی ہیں تو بھلا کافی پینے سے اس سے کیا تعلق؟

Read more

داستان گوئی کا ہنر اور فرعون!

” اب اس مغرور کا حال سنئیے، رات کو وہ سو گئی، صبح کیا دیکھتی ہے کہ اس کے بچے مر گئے غلہ اور سامان غائب ہو گیا۔ جب گھر میں کچھ نہ رہا تو اس کے حواس جاتے رہے۔ دونوں میاں بیوی رونے لگے۔ جب کافی وقت گزر گیا تو اس نے کہا یا اللہ اب بھوک سے میرا برا حال ہے میں کیا کروں۔

گھر میں گیہوں کی بھوسی ملی سو چا اس کو پکا کر کھا لوں جیسے ہی اس کو چھوا اس میں برابر کے کیڑے نظر آئے۔ اس نے فوراً بھوسی کو پھینک دیا جب اس کے شوہر نے یہ ماجرا دیکھا تو کہنے لگا کہ میری بہن کے گھر چلو وہاں روٹی ملے گی اور میرا بہنوئی مجھے لازمی کھانا دے گا۔ گھر کا تالا بند کر کے دونوں میاں بیوی چل دیے۔ ان کے پاس کچھ نہ تھا جو کسی سواری میں جاتے، پیدل چلنے سے ان کے پیروں میں چھالے پڑ گئے ”

Read more

قفس کا قیدی!

” مجھے لگتا تھا، سب لڑکیاں جھوٹ بولتی ہیں یا خواہ مخواہ کی ایکٹنگ کرتی ہیں۔ میں تو ہر ماہ ویسے ہی ہشاش بشاش گھومتی رہتی، نہ کوئی درد، نہ تھکاوٹ، نہ قے، نہ گھبراہٹ۔ ایسی ہی رہی میں لڑکپن میں، جوانی میں اور شادی کے بعد ۔ میں حیران ہوا کرتی تھی کہ کیسے میری سہیلیاں لوٹ پوٹ ہو جاتی ہیں۔ ہائے وائے کرتی نہیں تھکتیں، مجھے تو پتہ بھی نہیں چلتا تھا کب ماہواری آئی اور کب ختم

Read more

پراسرار دنیا؛ رحم!

ہولے سے کیمرہ رحم (بچے دانی) میں داخل ہوا، اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتا چلا گیا جیسے کوہ پیما کسی چوٹی کو سر کرنے کی کوشش میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہوں۔ ہماری بے چین آنکھ کسی کی تلاش میں تھی۔ ساتھ میں ہم یہ بھی سوچ رہے تھے کہ یہ ہے دنیا میں ہر آنے والے کا پہلا گھر، کسی تاریک اور پرسکون غار کی مانند، انسانی آنکھ سے اوجھل، گہرا اور پراسرار، جہاں آسانی سے کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔

Read more

جب وقت سے پہلے ہی انڈے مر جائیں!

نازک اندام، خوش شکل، پچیس چھبیس برس کی لڑکی چہرے پہ پریشانی کے آثار لئے روہانسی آواز میں ہمیں بتا رہی تھی، ”پچھلے بارہ برس میری ماہواری باقاعدگی سے آتی تھی، کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ آج سے دو برس پہلے ماہواری کے بیچ وقفہ بڑھنا شروع ہوا۔ میں نے سوچا کہ شاید شادی کے بعد ایسا ہوتا ہو گا۔ کبھی کبھی شک گزرتا کہ شاید حمل ہو گیا ہو۔ پیشاب چیک کرتی تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ وقفہ بڑھتے

Read more

مجھے ماہواری نہیں چاہیے!

اف خدایا، آج تو اتنا برا حال ہے کہ چلا بھی نہیں جا رہا، صفیہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی آ رہی تھی۔ قدموں میں تھکن اور کمزوری دور سے دیکھی جا سکتی تھی۔

کیوں کیا ہوا؟ زاہدہ نے چونک کر پوچھا
”ارے ڈاؤن ہوں نا“

”ہائیں، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے سبھی ابھی کچھ ہی ہفتے پہلے تو تم ڈاؤن تھیں، پورا مہینہ بھی نہیں ہوا کہ پھر؟“

Read more

مجھے ماہواری چاہیے!

اڑی اڑی رنگت، پیشانی پہ پسینے کے قطرے، چہرے پہ اضطراب، فربہی مائل جسم، پچاس پچپن کا سن!

”ڈاکٹر صاحب، جس وقت کی خواہش میں دن گن گن کر گزارے تھے وہی عذاب بن چکا ہے۔ خدا کے لئے اسے واپس لے آئیے“

یا خدا یہ کس کو ڈھونڈنے کا کام ہمیں دیا جا رہا ہے۔ مانو کہ ہمیں شر لاک ہومز بھی پسند تھا اور عمران بھی لیکن سراغ رسانی کی کسی مہم سے ہمارا دور دور تک تعلق نہیں رہا پھر یہ کیا کہہ رہی ہیں ہمیں؟

”کسے واپس لے آؤں؟“ ہم نے آنکھیں پھیلا کر کہا۔
”وہ جی ماہواری کو“

Read more

مجھے خود کشی کرنی ہے!

وہ قے کرتے ہوئی اپنی ماں سے لپٹ گئی اور ڈوبتی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا، ”میری بیٹیوں کی شادی کسی انسان سے کرنا“ پولیس انسپکٹر کا زہریلی گولیاں کھا کر اپنی ماں اور دو ننھی بچیوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے مر جانا! کیا رونگٹے کھڑے ہوئے آپ کے؟ کیا دل ایک لمحے کے لئے دھڑکنا بھول گیا؟ کیا اس ایک جملے نے وہ قلعی اتار دی جو ہمارے پدرسری معاشرے پر لپٹی ہوئی ہے؟ معاشی طور پہ خود

Read more

پدرسری نظام کا عورت مارچ کو سلیوٹ؛ پانچ گولیاں!

بابا پدرسری تخت پہ براجمان ہے اس کی گدلی آنکھوں میں وحشت ناچ رہی ہے۔ باچھیں کھلاتا ہوا، مونچھوں پہ تاؤ دے کر وہ اپنی کھرکھراتی آواز میں کہتا ہے، ”خوب، بہت خوب، لڑکے تیری ہمت و جرات پسند آئی“ ”جی بابا، بس آپ کا سر پہ ہاتھ چاہیے“ ، سامنے کھڑا مرد منمناتی آواز میں کہتا ہے۔ ”لے بچہ، میری شاباشی! تجھ جیسے نڈر ہی تو ہمارا مان ہیں۔ تم نے اپنی بیٹی کو پانچ گولیاں مار کے ان

Read more

عورتاں لئی اک گیت

‎ہن جُتیاں نئیں اساں کھانیاں ‎آہو، آہو ‎ہن سٹّاں نئیں لوانیاں ‎آہو، آہو ‎ہُن ہڈیاں نئیں تڑوانیاں ‎آہو، آہو ‎ہن گالہاں وی نئیں کھانیاں ‎آہو، آہو ‎عزتاں نئیں لُٹنوانیاں ‎آہو، آہو اسیں ‎اگّاں نئیں لواینیاں ‎آہو، آہو ‎نئیں گلے چ پھائیاں پانیاں ‎آہو آہو ‎اسین جاناں نئیں گنوانیاں ‎آہو، آہو سانوں گھٹ نہ سمجھیں ہانیاں آہو آہو سانوں گھٹ نہ سمجھیں ہانیاں آہو آہو ‎اسّاں اپنی مرضی کرنی اے ‎آہو آہو ‎جس کرنی اے اُس بھرنی اے ‎آہو آہو ‎

Read more

ڈاؤن سنڈروم؛ محض عورت کی عمر کیوں؟

جھوم۔ جھوم۔ جی چاہ رہا ہے اسی طرح جھومتے جھامتے کوک سٹوڈیو میں جا گھسیں اور عزیزی زلفی سے کہیں کہ اب کے عابدہ پروین کے ساتھ جھومنے کی باری ہماری ہے۔ دوست و احباب ہماری بلند آواز کے تو گواہ ہیں ہی، کسی بھی محفل میں ہوں دور سے پتہ چل جاتا ہے کہ قصے کہانیوں کا دور چل رہا ہے۔ باقی رہا سر کے ساتھ تان اڑانے کا معاملہ تو کچھ نہ کچھ کر ہی لیں گے۔ امید

Read more

کیا غالب کی بیگم کی ماہواری بھی تکلیف دہ تھی؟

“یقین کیجئیے ڈاکٹر صاحب میرا لباس بھیگ جاتا ہے۔ شرابور ہوتی ہوں، کچھ سمجھ نہیں آتا؟” وہ روہانسی ہو کر بولیں۔ “مت نہایا کریں نا بارش میں! نہ لباس بھیگے گا نہ شرابور ہوں گی” ہم نے بے نیازی سے جواب دیا۔ ہماری بات سن کر ان کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ “نہیں ڈاکٹر صاحب آپ غلط سمجھ رہی ہیں۔ میں بارش کی نہیں ماہواری کی بات کر رہی ہوں” اب دیکھیے بے چاری گائناکالوجسٹ کا حال، برسات کا

Read more

ماہواری، بیماری اور وہ سات دن!

”ہم سات بہنیں ہیں، وہ سب سات دن بیمار ہوتی ہیں اور میں صرف تین دن۔ بڑی پریشان ہوں“ بھرائی ہوئی آواز۔

یا اللہ یہ کون سی بیماری ہے جس کا دورانیہ کم ہونے پہ یہ غمگین ہیں؟ کیا کووڈ؟ لیکن اس کے نہ ہونے پہ خوش تو ہوا نہیں جا سکتا۔ ویسے سات بہنیں اور سات دن کی بیماری۔ واہ کیا بات ہے۔ ہمیں تو وہ فلم یاد آ گئی چھ بھائیوں والی، کیا بھلا سا نام تھا۔ ہاں یاد آیا، ستے پہ ستہ۔ ویسے ایک اور بھی تو تھی، وہ سات دن!

Read more

شوگر ڈیڈی کی الجھن: اگر شوگر بے بی کڑوی نکل آئی تو؟

فرض کرو کہ تمہاری عمر اٹھارہ برس ہے۔ ارے بھئی اگر نہیں بھی ہے تو فرض کر لو نا، تھوڑی دیر کے لئے کیا بگڑے گا تمہارا۔ چلو فرض کر لیا کہ تم ابھی اٹھارہ برس کی ہوئی ہو اور دنیا فتح کرنے کے منصوبے بنائے بیٹھی ہو۔ گھر گاڑی، ہیرے جواہرات، شہرت، نام، سب کچھ ہے تمہاری وش لسٹ پہ ہے۔ اگر ہم سے پوچھو گی کہ کیسے حاصل کرنا ہے تو ہمارا جواب تو ایک ہی ہو گا

Read more

تیز لڑکی۔ ۔ ۔ توبہ کرو جی!

”بہن میں نے رشتے کروانے والی سے کہہ دیا کہ لڑکی خوبصورت ہو، اچھے خاندان سے تعلق ہو، پڑھی لکھی بھی ہو، بس ایک بات کا خیال رکھنا“ ”وہ کیا؟“ ”فلاں کالج سے پڑھی ہوئی نہ ہو۔ وہاں کی لڑکیاں بہت تیز، بہت پٹاخہ ہوتی ہیں، پروں پہ پانی ہی نہیں پڑنے دیتیں۔ نہ بابا نہ ہمیں ایسی تیز لڑکی نہیں چاہیے“ اماں اور ان کی سہیلی کے بیچ ہونے والی گفتگو میں ہمیں یہ سمجھ نہ آیا کہ تیز

Read more

کیل ٹھونکنا سیکھیے!

سب سے بڑا علاج تو ہم نے ابھی تک بتایا ہی نہیں!

دیکھیے بلی تب ہی شیر کی خالہ بنی نا جب ضرورت پڑنے پر بھاگ کر درخت پہ چڑھ گئی اور تعاقب کرنے والا منہ دیکھتا رہ گیا۔ سو ثابت ہوا کہ خاص نسخہ جات عوام الناس کی نظر سے اوجھل رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ان کو خواص تک پہنچایا جانا وقت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھنے کے مترادف ہے۔

اب کیا ہے کہ ہم سوچے بیٹھے ہیں کہ عورت تب تک اپنے حقوق کی جنگ نہیں لڑ سکتی جب تک اس کا ذہن اور جسم صحت مند نہ ہو اور اسے اپنے معاملات سے جدید سائنس کے مطابق آگہی نہ ہو۔

جس طرح نزلہ زکام کھانسی بخار کسی بھی انسان کو نڈھال کرتا ہے اسی طرح عورت کے تخلیقی اعضا میں کسی قسم کی تکلیف عورت کو محض نہ تو نڈھال کرتی ہے اور نہ ہی کسی ٹوٹکے سے بہتر ہوتی ہے بلکہ پوری توجہ چاہتی ہے۔ کیونکہ ان اعضا کے درست کام نہ کرنے سے عورت کا وجود ( Being) خطرے میں پڑ جاتا ہے اور اس کے ہونے یا نہ ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔

Read more

جب زچہ کے جسم کا رگ و ریشہ ادھڑ جاتا ہے!

”رحم کا منہ دو گھنٹے سے کھلا تھا۔ درد بھی تیز تھے لیکن بچہ نیچے نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اوزار لگانے کا سوچا تاکہ اس کی مدد سے بچہ باہر کو کھینچ لوں۔ ویجائنا میں کٹ بھی دیا کہ زچگی ممکن ہو سکے۔ پھر بھی بچہ تو باہر آ گیا لیکن تھا بہت صحت مند۔ نہ جانے عورتیں حمل میں اتنا کیوں کھاتی ہیں؟ کیا انہیں علم نہیں ہوتا کہ اس پہلوان کو باہر بھی دھکیلنا ہے؟“ وہ

Read more

دیر تک چند مختصر باتیں!

جی چاہتا ہے آج آپ سے باتیں کی جائیں۔ بہت سی ان کہی اور ان سنی ادھوری باتیں جو ابھی تک نہ آپ کہہ سکے نہ ہم۔ ایسا نہیں لگتا کیا کہ ہم اور آپ سمے کے بندھن میں بندھے ہیں۔ ہماری کھڑکی سے جو نیلے آسمان کا ٹکڑا نظر آتا ہے، کسی اجنبی سرزمین پہ اپنے آنگن میں بیٹھ کر وہی ٹکڑا شاید آپ دیکھتے ہوں۔ پروا کا وہ جھونکا جو کبھی ہلکے سے چھو کر فضاؤں میں کہیں

Read more

بدھائی ہو بدھائی: کی جاناں میں کون؟

منڈا جمیا اے، لکھ لکھ مبارکاں! ہائے میں قربان! لمبی عمر والا ہووے، بھاگ لگے رہن! شادمانی ہو شادمانی! ہم سب کی زندگی کے کسی نہ کسی صفحے پر یہ منظر نقش ہے۔ زرق برق چیختے چلاتے رنگوں کے ملبوسات میں کچھ تھرکتے ہوئے جسم، میک اپ زدہ چہروں کی مخصوص آواز دور دور تک اعلان کرتی ہوئی کہ محلے کے فلاں گھر میں ہیجڑے موجود ہیں۔ بچہ پیدا ہوا ہو یا شادی کا ہنگام، ان کی موجودگی لازم ہوتی۔

Read more

بچے دانی نہ ہو تو لڑکی کا کیا کریں؟

”سنا کچھ تم نے؟“ ”کیا؟“ ”عشرت کی منجھلی اٹھارہویں میں لگ گئی اور اب تک ماہواری شروع نہیں ہوئی“ ”ہائے یہ کیا غضب ہوا؟ کیا وجہ ہوئی آخر؟“ ”سنا ہے اس کے جسم میں بچے دانی / رحم ہی نہیں ہے“ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی لڑکی کا رحم ہی نہ ہو؟ اے بہن وہ تو ہیجڑا ہوئی نا پھر“ ”ہیجڑوں جیسی لگتی تو نہیں ہے۔ نازک نین نقش بھی لڑکیوں والے ہیں، آواز بھی مہین سی ہے۔

Read more

ویجائنا کی کٹائی، سلائی اور ترپائی!

“سنو کاج ٹانکہ بناؤ” “وہ کیا ہوتا ہے”  “کاج ٹانکہ …بٹن ہول سٹچ …بھئی وہی جو کاج بٹن میں لگایا جاتا ہے” “نہیں مجھے نہیں آتا” وہی حشر ہوا ہمارا جو ایک بار دوست ڈاکٹر سے سن کر ہوا تھا کہ انہیں ترپائی کرنی نہیں آتی ۔ اور ہم منہ پھاڑے دیکھتے رہ گئے تھے کہ ترپائی کرنا کونسی سائنس ہے بھئی؟ اب پلیز یہ مت سمجھ لیجئے گا کہ ہمارا کسی خیاط یا سوزن کار گھرانے سے کوئی تعلق

Read more

ہسٹریکل حمل میں حرکت کون کر رہا تھا ؟

چوبیس پچیس سالہ خوش لباس اور خوش شکل لڑکی مگر پھر بھی کچھ اور تھا جو ٹھٹھک کر اسے دیکھنے پہ مجبور کرتا تھا۔ وہ حاملہ عورتوں کے ساتھ ایک بینچ پر بیٹھی تھی۔ ساتھ میں ایک ادھیڑ عمر عورت، چادر اوڑھے، پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتی ہوئی، وہ اپنی بیٹی کی باری کی منتظر تھی۔ کچھ دیر بعد دونوں ہمارے سامنے بیٹھی تھیں۔ “ڈاکٹر صاحب، چھٹا مہینہ چل رہا ہے لیکن ابھی بھی طبعیت گری گری سی رہتی ہے۔

Read more

آج کی سلطانہ کالی نہیں، لال شلوار مانگتی ہے

”میڈم، مجھے ایک تھان چاہیے، لال کپڑے کا“ ۔ رضیہ کی عجیب و غریب فرمائش سن کر میں اچھل پڑی۔ ”کپڑے کا تھان اور وہ بھی لال رنگ کا۔ کیا کرنا ہے بھئی اتنا زیادہ کپڑا اور وہ بھی ایک ہی رنگ کا“ ، میں نے حیرانی سے پوچھا۔ ”جی شلواریں بنانی ہیں۔“ ”شلواریں، اتنی بہت سی اور وہ بھی لال رنگ کی؟ کالی کیوں نہیں“ ۔ میں نے خود کلامی کی۔ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ شلوار کا

Read more

ارون دھتی رائے کا آفتاب یا انجم؟

”اگلی صبح جب سورج نکلا اور کمرے کی فضا نرم گرم ہو گئی تو انہوں نے ننھے آفتاب کے کپڑے اتارے اور اس کے ننھے بدن کی پڑتال کرنے بیٹھیں۔ آنکھیں، ناک، سر، گردن، بغلیں، انگلیاں، انگوٹھے ایک سیری اور بے تعجیل خوشی کے ساتھ ٹٹولے۔ تبھی اس کے مردانہ اعضا کے نیچے لگا ایک چھوٹا، ادھورا لیکن بلاشبہ زنانہ حصہ نظر آیا۔ خیر یہ سچ مچ کا زنانہ حصہ تو ہے نہیں، انہوں نے خود کو سمجھایا۔ اس کا

Read more

منٹو کی مسٹر حمیدہ

برقعے میں چہرہ چھپائے ایک لحیم شحیم عورت ہمارے سامنے کھڑی تھی۔ نقاب الٹے بنا بھاری مردانہ آواز آئی، ”آپ کو بہت دور سے دکھانے آئی ہوں“ برقعہ اور مردانہ آواز۔ یا خدا کہیں پھر کسی نے فرار ہونے کا منصوبہ تو نہیں بنایا؟ ہم نے اپنے آپ سے سرگوشی کی۔ ”ڈاکٹر، زندگی چھپ چھپ کے گزر گئی لیکن اب تکلیف بہت بڑھ گئی ہے اس لئے آنا پڑا“ ”دیکھیے جو بھی ہوا میرے بس میں، ضرور کروں گی“ ”ڈاکٹر

Read more

پاجامے کے اندر مت جھانکیے!

” کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی ماں اپنے ہی بچے سے خوفزدہ ہو جائے؟ جہاں آرا ہو گئیں۔ پہلا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنے دل کو سکڑتے اور اپنی ہڈیوں کو راکھ میں بدلتے محسوس کیا۔ دوسرا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے دوبارہ دیکھا، کہیں دیکھنے میں غلطی تو نہیں ہوئی۔ تیسرا ردعمل یہ تھا کہ انہوں نے اپنی تخلیق سے منہ موڑ لیا۔ اپنے چوتھے ردعمل میں انہوں نے خود کو اور بچے کو مارنے

Read more

آنکھوں میں چبھ گئیں تری یادوں کی کرچیاں!

عمر و عیار کی زنبیل، کیا غضب کی چیز تھی بھئی، جو چاہے لپک جھپک اندر ڈالو اور سب آنکھ سے اوجھل۔ بحری جہاز سے لے کر سوئی دھاگے تک گویا ایک عالم زنبیل میں بند تھا۔ ہم سالہا سال اس زنبیل کے سحر میں رہے۔ ہر ناممکن خواہش کے بعد آہ بھر کر کہتے، نہ ہوئی زنبیل ہمارے پاس ورنہ دیکھتے ہم بھی۔ خیر کچھ تھیلے تو ہمارے پاس بھی ہیں جن سے عمر رفتہ کے کچھ ایسے لمحات

Read more

ماہواری اور مرینہ!

آج پھر دو باتیں ہوئیں، معاف کیجئے گا دو نہیں تین ! واللہ, ہمیں وہ جادوگر ہر گز نہ سمجھیے جو ہیٹ سےکبھی کبوتر نکالتا ہے اور کبھی ریشمی رومال! ہم تو بس یونہی کچھ نہ کچھ سنانے کے شوق میں اور آپ کی محبت میں! دہلی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر پونم پڑوسی ہسپتال میں میڈیکل سپیشلسٹ ہیں۔ وہ اپنے چیک آپ کے لئے آئیں اور ہماری ٹرینی ڈاکٹر کو انہوں نے داستان حمزہ کی طرح اپنی کہانی بیان

Read more

ہیرا منڈی، طوائف اور لیڈی ڈاکٹر

دو پیشے، ایک انتہائی معزز، دوسرا معاشرے کا ناسور! پر ہے ایک قدر مشترک اور وہ ہے عورت! کوئی عورت شرافت کے سنگھاسن پہ براجمان ہو تی ہے اور کوئی پاتال میں اتر جاتی ہے، یہ تقدیر کا وہ کھیل ہے جو کوئی آج تک سمجھ نہیں سکا۔ کائنات کے اسرار میں زمان و مکان کا فیصلہ کس کے لئے کیا ہے اس پہ نہ ہم قادر ہیں نہ آپ۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ایک پرانا کلپ

Read more

۔۔۔ کی ٹوکری سے کیا نکلنے والا ہے؟

اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہمیشہ ہی مدر ٹریسا بنے لوگوں سے ہنس ہنس کر بات کرتے رہیں اور مزاج کبھی برہم ہی نہ ہو۔ دیکھیے ہم بھی دکھتی رگ رکھتے ہیں اور اگر اسے کوئی چھیڑ دے تو پھر سوچ لیجیے کہ کیا گزرتی ہوگی۔ ہم پہ نہیں، چھیڑنے والے پہ! الٹراساؤنڈ کرتے ہوئے بچے کی جنس دریافت کرنے پہ ہمارا پارہ قطعی قابو میں نہیں رہتا۔ ارے بھئی شکر کرو کہ اللہ نے حاملہ کیا،

Read more

مرد و زن، خواجہ سرا اور انگوری حمل!

اس ہفتے دو باتیں ایسی ہوئیں جن کا ذکر کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک عزیزم نے علم طب میں ہمارے درجات بلند کرتے ہوئے لکھا، ” آپ ڈاکٹر صحیح نہیں بنیں، میڈیکل کی ایجوکیشن آپ نے کہاں سے لی؟ کس نے آپ کو یہ ایجوکیشن دی؟ اللہ معافی! سب ہی جھوٹ لکھ دیا۔ آپ کو اپنا پروفیشن تبدیل کر لینا چاہیے کہ آپ کے پاس غلط انفارمیشن ہے“ قصہ کچھ یوں تھا کہ خواجہ سرا پہ لکھے گئے ایک

Read more

درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا!

اماں کب آرام آئے گا؟ بستر میں آڑھی ترچھی لیٹی ہوئی وہ بچی بار بار ماں سے یہ سوال کرتی۔ پیٹ پہ ناف کے نیچے گرم پانی کی بوتل رکھی تھی۔ درد کی گولی بھی کھلائی جا چکی تھی لیکن رحم کو ابھی رحم نہیں آیا تھا۔ بیٹا کچھ دیر اور، ماں نے بہلانا چاہا۔ نہیں اماں، نہیں آ رہا آرام۔ کیا اس درد سے میری جان کبھی نہیں چھوٹے گی؟ ، وہ منہ بسورتے ہوئے کہنے لگی۔ شاید ہاں،

Read more

ندیم عہد شوق کی سنائے جا کہانیاں!

”آخر اتنی بہت سی کہانیاں کہاں سے مل جاتی ہیں آپ کو؟“ ”یہ دوپہر کے بعد آپ کی لو اتنی دھیمی کیوں پڑ جاتی ہے؟“ بار بار پوچھے جانے والے دو سوال جو آپس میں مربوط بھی ہیں، تقاضا کرتے ہیں کہ ایک دن جیو کے ساتھ کی طرز پہ ہم آپ کو پورا دن تو نہیں لیکن آدھے دن کی جھلک دکھانے کی کوشش کر ہی لیں۔ صبح خیز ہونے کے ناتے دن کا آغاز بہت جلد ہو جاتا

Read more

دو ہزار اکیس اداس ہے!

دو ہزار اکیس بھی گزر گیا! بالکل اسی طرح جیسے دو ہزار بیس گزرا، اور دو ہزار انیس اور دو ہزار اٹھارہ۔ دو ہزار دس۔ دو ہزار اور شاید سب ہی برس! سب برس یونہی آتے ہیں، ہم سے پوچھے بنا، ہمارے ساتھ رہتے ہیں یا شاید ہم ان کے ساتھ رہتے ہیں خواہش ہو یا نہ ہو اور پھر وہ چل دیتے ہیں، اجازت لئے بنا! کیا کبھی ایسا ہوا کہ کسی ایک برس سے ہم نے کہا ہو

Read more

جب رحم اور ویجائنا گر جاتے ہیں!

”میرا جسم گر گیا ہے۔ میں نہ بیٹھ سکتی ہوں، نہ چل سکتی ہوں۔ خدارا میری مدد کیجیے!“ وہیل چئیر پہ بیٹھی ستر پچھہتر سالہ عمر رسیدہ خاتون ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھیں۔ ”بہت برس ہوئے جب ماہواری ختم ہوئی تو میں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ ماہواری کے مسائل سے مر مر کے جان چھوٹی تھی، سوچا تھا کہ زندگی سہل ہو گی اب لیکن یہ تو اس سے بھی بڑا عذاب ہے۔ میرا پیشاب رک جاتا

Read more

دائی طاہرہ اور چودھری مستنصر حسین تارڑ!

دائی کھینچ کھانچ کے بچہ اندر سے نکالتی ہے اور گائناکالوجسٹ بھی بچہ کھینچتی ہے، کیا فرق ہوا دونوں میں۔ جیسے نائی آج کل ہیر ڈریسر بن گئے ہیں،

ایسے ہی دائیاں گائناکالوجسٹ بن گئی ہیں۔
شکر ہے میری بیٹی ڈاکٹر تو ہے لیکن گائناکالوجسٹ نہیں ”

Read more

ماہواری والا جن!

” میرے اندر ایک شعلہ بھڑکتا ہے، جو الاؤ میں بدل جاتا ہے، جی چاہتا سب کو جلا کر راکھ کر دوں۔ اس قدر غصہ آتا ہے کہ خدا کی پناہ! ہر کوئی برا لگتا ہے، ہر کسی سے الجھن محسوس ہوتی ہے، کسی کا لمس اچھا نہیں لگتا۔ ہر کسی سے لڑ پڑتی ہوں، چیختی ہوں، بچوں کو مارتی ہوں، شوہر سے تلخ ہوتی ہوں اور اس کے بعد رونے بیٹھ جاتی ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں کوئی

Read more

شرم و حیا کے تقاضے اور ’گائنی فیمینزم‘

کراچی سے لوٹ تو آئے ہیں لیکن خمار ہے کہ اُترنے کا نام نہیں لے رہا۔ علمی مباحثوں کا ذائقہ اب بھی مزہ دے رہا ہے۔ انسانی حقوق کی آگہی پھیلانے کے لیے کراچی کی چودہ روزہ بین الاقوامی تقریبات ہر لحاظ سے منفرد رہیں۔ انسانی حقوق پر ان تھک کام کرنے والی درویش منش مہناز عرفان، جنہیں ہم اپنی گاڈ مدَر سمجھتے ہیں، نے چاہا کہ ماہواری کے وہ سب قصے، جو ہم ہر وقت لکھتے ہیں، کسی اجتماع

Read more

اٹھائیس دن کی زندگی!

”ماہواری کتنے دن آتی ہے؟‘‘ ’’سات دن‘‘ ’’کس تاریخ پر آتی ہے؟‘‘ ’’جی تقریباً، تاریخ سے ایک یا دو دن پہلے آ جاتی ہے۔‘‘ تیزی سے ٹائپ کرتے ہوئے ہم نے لکھا، اٹھائیس دن کے بعد، اٹھائیس دن! ہم بڑبڑائے۔ ارے یاد آیا، اس سے ملتا جلتا ایک فلم کا بھی تو نام تھا، وہ سات دن! ان سات دنوں کے احوال سے فلم میں گویا زندگی کا منی ایچر نقشہ کھینچ دیا گیا تھا۔ تو کیا یہ اٹھائیس دن

Read more

فیصل آباد: دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

”ڈاکٹر طاہرہ، مجھے اس وڈیو میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے، بات وہ نہیں ہے جو وڈیو ظاہر کرتی ہے“ ”کیا مطلب؟“ ہم نے پوچھا، ” غور سے دیکھیے صرف ایک سیکنڈ کا منظر ہے کہ ایک عورت شور مچا رہی ہے اور دوسری چادر لئے گھوم رہی ہے۔ یک لخت بڑی چھوٹی کی طرف گھومتی ہے اور اس کی چادر اتار کر پھینک دیتی ہے۔ کیا آپ نے سوچا کہ اس نے چھوٹی کی چادر کیوں اتاری؟“ ”میرا خیال ہے

Read more

فیصل آباد کے خرابے میں کوئی مرد کہاں ؟

مردوں کا ایک ہجوم ہے، باریش بھی موجود ہیں اور داڑھی منڈے بھی، عمر رسیدہ بھی ہیں اور جوان رعنا بھی، ضعیف بھی ہیں اور توانا بھی۔ لگتا ہے کہ پڑھے لکھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی لیکن سب اکھٹے ہیں ۔ ایکا کئے ہوئے ہیں، کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں، باچھیں کھل رہی ہیں، ٹھٹھے لگائے جا رہے ہیں ۔ قدر مشترک کیا ہے اس ہجوم کی؟ عمر ؟ نہیں وضع قطع؟ نہیں رتبہ؟ نہیں علم ؟

Read more

جلیلہ حیدر اور نوعمری کی شادی

عزیزی جلیلہ حیدر نئی نسل کے ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں دیکھ کر بے اختیار وہ گیت گنگنانے کا جی چاہتا ہے، چھوٹی سی اک لڑکی ہوں پر کام کروں گی بڑے بڑے! ہمارے تعفن زدہ معاشرے میں ان کے سوال ہلچل بھی مچاتے ہیں اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔حال ہی میں ان کا ایک سوال فیس بک پر دیکھا، لڑکیوں کی نوعمری میں شادی کے پیچھے کیا عوامل کام کرتے ہیں؟ سوچنے بیٹھے تو ہمیں بھی

Read more

غیر فطری ازدواجی زندگی کا عذاب

پینتالیس برس کی دلکش عورت، ویران، بجھی بجھی آنکھیں اور اداس مضمحل چہرہ لئے سامنے بیٹھی تھی۔ ”ڈاکٹر میں پیمپر اور پیڈ پہن پہن کے تھک چکی ہوں۔ کئی برس ہو گئے اس تکلیف میں مبتلا ہوئے، جسم پہ قابو ہے ہی نہیں۔ نہ کہیں آ جا سکتی ہوں، نہ کسی کے ساتھ بیٹھ سکتی ہوں۔ ریح اٹھتے بیٹھتے خارج ہوتی ہے، شرمندگی کے مارے برا حال، میں نے احباب سے ملنا جلنا چھوڑ دیا ہے۔ تقریبات میں جانے سے

Read more

ایک مثالی مرد کو کیسا ہونا چاہئے؟

 یاسر پیرزادہ کا کالم پڑھ کے محسوس ہوا کہ جیسے زخموں سے کھرنڈ اتر گیا ہو اور یہ پھر سے رسنے لگے ہوں۔ ہمیں اچھا لگا کہ آپ کو کسی درسی کتاب کے باب کا سرنامہ دیکھ کے عورت سے ہمدردی محسوس ہوئی۔ ورنہ بیشتر  کرم فرما اور مہربان تو ہمدردی کے قابل بھی نہیں سمجھتے کہ موری کی اینٹ کے بارے میں کیا سوچنا؟ ہم سے پوچھیے، عورت ہونا اور وہ بھی پاکستانی معاشرے میں، کیسا محسوس ہوتا ہے؟

Read more

بلیڈنگ کی فکر: کیسی محبت؟

”ڈاکٹر میرا معائنہ کر لیجیے“ ، وہ کرسی پر بیٹھتے ہی بولی، ”کر لیا“ ، ہم نے اسے سر سے پاؤں تک گہری نظر سے دیکھا۔ ”نہیں ایسے نہیں، میرا مطلب ہے وہ والا“ وہ جھینپ کر بولی۔ ”یہ وہ والا معائنہ کون سا ہوتا ہے؟“ ہم نے بھی لطف اٹھاتے ہوئے پوچھا ”جی۔ وہ۔ وہ“ ، وہ ہکلانے لگی۔ ”آپ پہلے اپنی تکلیف تو بتائیے؟“ ہم نے پوچھا۔ ”وہ اصل میں میری شادی ہونے والی ہے تو میں پریشان

Read more

وقت، سرحدیں اور ماں کے دل کے تار

الارم بج رہا ہے، ٹرن ٹرن، ٹرن۔ کسلمندی سے کروٹ بدلتے ہوئے سائیڈ پہ رکھے ہوئے موبائل فون کو ہم ادھ کھلی آنکھ سے دیکھتے ہیں جس سے موسیقی نما الارم کی آواز ہمیں جاگنے پہ مجبور کر رہی ہے۔ آہ، کس قدر بدل گیا وقت، کہاں گئیں سرہانے رکھی وہ بڑی سی گھڑیاں جن کی سوئی مروڑ کے الارم سیٹ کیا جاتا تھا اور وہ ایسی آواز میں بجتا کہ قبر میں پڑے مردے بھی جاگ جاتے۔ ہوسٹل میں

Read more

گڑھا، کوڑے کا ڈھیر یا پھانسی کا پھندا؟

آئیے پانچویں صدی عیسوی کے جزیرہ نمائے عرب میں چلتے ہیں : نصف شب کا عالم، چاندنی میں کھجوروں کے درخت ریت پر عجیب سے نقش و نگار بنا رہے ہیں۔ درختوں کے بیچوں بیچ مٹی کے کچھ گھر تاریکی میں ڈوبے ہیں لیکن ایک گھر کے بند دروازے کی درزوں سے چھن کر نکلتی دیے کی لو بتا رہی ہے کہ اس گھر کے مکین جاگ رہے ہیں۔ دروازے پہ کچھ بھیڑ بکریاں بندھی ہیں اور ان کے قریب

Read more

موٹاپا، ماہواری، اور پولی سسٹک اووریز کا کھیل!

”ماہواری ٹھیک نہیں آتی، موٹاپا بڑھتا جا رہا ہے“
”وزن کم نہیں ہوتا کیونکہ میری اووریز پولی سسٹک ( polycyclic ovaries ) ہیں“
”جب سے اووریز پولی سسٹک ہو گئی ہے، ماہواری ٹھیک نہیں آتی اور وزن بھی بڑھ گیا ہے“
”حمل نہیں ہو رہا، ماہواری مہینے میں دو دفعہ آ جاتی ہے“
”ماہواری کبھی تین ماہ کے بعد آتی ہے کبھی چار ماہ کے بعد“
” دوا استعمال کیے بنا ماہواری نہیں آتی“ ۔

Read more

ویجائنا یا موت کا کنواں؟

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ ہمارا دماغ چل گیا ہو! اب دیکھیے نا نصف شب کا عالم ہو، باہر شاہین طوفان کی تباہ کاریاں ہوں، آپریشن تھیٹر ہو، آپریشن ٹیبل پہ ایمبولینس کے ذریعے لائی عورت لیٹی ہو، عورت کے جسم سے خون کا اخراج تیزی سے ہو رہا ہو اور ہم خون روکنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنا غم لے کر بیٹھ جائیں۔

Read more

میں بتاتا ہوں…

”دیکھو یہ بات اس طرح نہیں ہے!“ ”نہیں، اس طرح نہیں ہوتا!“ ”تمہیں علم نہیں!“ ”اصل میں ہوتا کچھ یوں ہے!“ ”حقیقت کا مجھے پتہ ہے!“ ہوا کچھ یوں۔ ”نہیں، اصل واقعہ مختلف ہے!“ ”سمجھنے کی کوشش کرو۔“ ”تم کچھ نہیں جانتیں“ ” تمہیں کیا پتہ، دنیا میں کیا ہوتا ہے“ احباب کی محفل ہو یا شادی کی کوئی تقریب، سرکاری میٹنگ ہو یا کوئی علمی بحث، اس طرح کے جملے آپ نے سن ہی رکھے ہوں گے۔ منظر کچھ

Read more

ماں اور بچہ

جان عزیز! آج بہت دنوں بعد تم سے روبرو بات ہوئی۔ تمہارا خوبرو چہرہ دیکھنے کو ملا اور کانوں میں تمہارے رس گھولتے الفاظ… دیکھا اکیسویں صدی کا معجزہ کہ ہمارے بیچ وقت کی دیوار بھی تھی اور کئی اجنبی سرزمینیں بھی لیکن پھر بھی ہم ایک دوسرے کے ساتھ تھے۔ الفاظ تھے، چہرہ تھا، محبت تھی، کیا ہوا جو ہم ایک دوسرے کو چھو نہیں سکتے تھے۔ کیا فرق پڑا کہ تمہارے ہاں رات اپنی سیاہی پھیلا چکی تھی

Read more

قاہرہ ہو یا کراچی یا کہ لاہور ہو….

کھوے سے کھوا چھل رہا ہو، بے ہنگم ٹریفک ہر طرف سے ابل رہی ہو، موٹر سائیکل سوار بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوں، چلتی گاڑیوں کی پروا کیے بغیر لوگ باگ بے دھڑک سڑک پار کرتے ہوں، لال بتی کا اشارہ بنا کسی شرمندگی کے توڑا جا رہا ہو، ٹریفک کانسٹیبل سب کچھ دیکھ کر لاپرواہی سے منہ پھیر لیتا ہو، ٹوٹے پھوٹے رکشوں کو دھکے لگ رہے ہوں، گداگر سیاحوں کی تاک میں ہوں، فٹ پاتھ پر کتابیں سجی

Read more

ابا کو سالگرہ مبارک

“ لڑکیوں کا بھلا کیا کام کہ باپ کی جائیداد کے حصے بخرے کریں اور بھائیوں کے منہ کو آئیں۔ ارے وہی تو ان کا میکہ ہوتے ہیں۔ میکے کے چراغ سدا جلتے رہیں، دروازے سدا کھلیں رہیں۔ نہ بابا نہ، ہم تو غیرت والی بیٹیاں ہیں” ہمارے ابا کمال شخص تھے! چھ بچوں کے باپ بنے، تین بیٹیاں اور تین بیٹے، اور محبت کا ترازو کبھی اولاد نرینہ کی طرف نہ جھکا۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے نہ جانے کیا

Read more

ایپی کرو۔۔۔بچہ آ رہا ہے!

”گھبراؤ نہیں، ایپی تھوڑی بڑھ گئی ہے۔ ہوتا ہے ایسا اکثر۔ تم ایسا کرو کہ اس کو ایسے ہی سی ڈالو جیسے عام طور پہ ایپی کی سلائی کرتے ہیں“ ہماری بوکھلائی ہوئی شکل جس پہ بارہ بھی بج رہے تھے دیکھ کے ہماری سینئر نے ہمیں تسلی دی، ”لیکن۔ لیکن۔ ایپی تو مقعد تک جا پہنچی ہے“ ہم ہکلاتے ہوئے بولے، ”ارے کچھ نہیں ہوتا، بس سب مسلز کو سی ڈالو، سب ٹھیک ہو جائے گا“ ہم دل ہی

Read more

زچگی اور پورن…؟

بات چلی تھی زچگی سے اور پہنچی اس کتھا تک جو کچھ کے لئے عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے مگر عورت اف کہنے کا یارا نہیں رکھتی۔ لاعلمی، سماجی دباؤ، جھوٹی شرم و حیا اور سینہ بہ سینہ چلنے والی کہانیاں زچہ کو سمجھنے ہی نہیں دیتیں کہ اصل ماجرا کیا ہے۔ کبھی اگر ان سب حد بندیوں کو پار کر کے وہ کسی چارہ گر تک پہنچ ہی جائے تو عطار کا لونڈا ہی اناڑی نکل آتا

Read more

زچگی کو آسان مت سمجھیے!

“زچگی کے دوران ویجائنا پھٹ جائے اور شگاف مقعد(Anus) تک جا پہنچے تو کیسے پہچانیں گی کہ نقصان کتنا ہوا؟ “مسلز ( muscles )کے پھٹ جانے سے” “کونسے مسلز؟” “مقعد کے ارد گرد والے مسلز” “وہاں مختلف مسلز ہوتے ہیں، ان کی کیا پہچان ہے؟” “وہ مقعد کے گرد ہوتے ہیں” “صحیح فرمایا لیکن ان کی کوئی پہچان بھی تو ہو گی؟” “جی ایک اندر ہوتا ہے اور ایک باہر” “ درست لیکن اندر اور باہر کے مسلز مقعد کے

Read more

کلیوپیٹرا، زلیخا۔ لگا ہے مصر کا بازار، دیکھو!

ایسا بہت دفعہ ہوتا ہے کہ ہوا کے دوش پر کہیں بہت دور سے کسی بھولے بسرے گیت کے ٹوٹے پھوٹے بول ہم تک آ پہنچیں تو ہم اپنے آپ کو ایک ایسے گھر میں محسوس کرتے ہیں جہاں کم و بیش چوبیس میں سے اٹھارہ گھنٹے ریڈیو بجتا تھا۔ ہمیں نہیں علم کہ ابا کی ریڈیو سے محبت کی داغ بیل کیسے اور کس عمر میں پڑی؟ لیکن ہم نے ابا اور ریڈیو کو لازم و ملزوم دیکھا۔

Read more

وہ کاغذ کی کشتی، وہ بارش کا پانی!

اپنی بیماری کی تشخیص تو ہم نے کر رکھی ہے اور اس کی تفصیل آپ کو بتانے سے بھلا کیا ہچکچاہٹ؟ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اب تک آپ خود ہی جان چکے ہوں۔ پرانے کاغذات میں سے کوئی ایسا پرزہ مل جائے جس پہ کوئی حکایت دل لکھی ہو، خستہ حال سوٹ کیس خالی کرتے ہوئے کوئی دھندلی سی بلیک اینڈ وائٹ تصویر ہاتھ لگ جائے، جستی پیٹیوں میں بند لحافوں کو ہوا لگواتے ہوئے کوئی

Read more

فرض کرو کہ طاہر بیٹا طاہرہ ہے…  

دیکھو فرض کیے لیتے ہیں کہ…  ارے بھئی اب ایسا منہ نہ بناؤ، فرض تو کچھ بھی کیا جا سکتا ہے …ہاں کچھ بھی، جو بھی دل میں آئے…  کسی کا کچھ بگڑے گا تو نہیں…  جیسے میں فرض کر لوں کہ میں کلیو پیٹرا ہوں اور سیزر سے مل کر دنیا فتح کرنے کے منصوبہ بنا رہی ہوں … کیا کہا تم نے؟ ماضی کا وہ زمانہ فرض کرنا اور تصور میں لانا مشکل ہے؟ لیکن فرض تو ایسی

Read more

جو بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے!

دن گزرتے جا رہے ہیں۔ بوسیدہ یادیں وقت کی دھول میں زندہ رہنے کے لئے مچل رہی ہیں۔ ماضی کے اجلے چہروں کے خطوط کبھی دھندلاتے ہیں اور کبھی روشن ہو جاتے ہیں۔ اس کھیل میں ایک خیال ہے جو روز بہ روز تقویت پکڑ رہا ہے۔ اماں گزر تو گئیں مگر بہت ہوشیاری سے اپنی محبت کا جال ہمارے گرد بن کر مضبوط کر گئیں۔ ایک البم ہے جس کے ہر صفحے پہ کچھ مختلف ہے، یا شاید اسے

Read more

کیا ہم نے گندہ لفظ استعمال کیا؟

ہمارے کچھ کرم فرماؤں کا کہنا ہے کہ ویجائنا جیسے گندے لفظ پہ ہم نے لکھنے کی آخر ہمت کیسے کی اور کیوں کی؟ اب کیا ہمارے گھروں میں ویجائنا لفظ بولا جائے گا پاکباز اور نیک بیبیوں کی موجودگی میں؟ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارا وہ خیال صحیح ثابت ہوا کہ عورت کو کمتر اور انسان نہ سمجھنا ہمارے معاشرے میں اس قدر رچ بس چکا ہے کہ اس کے مسائل اور تکالیف پہ بات کرنا بہت

Read more

ڈاکٹروں کی پرائیویٹ پریکٹس کے کچھ ٹریڈ سیکرٹ

پرائیویٹ پریکٹس ایک گورکھ دھندا ہے جو تین لوگوں کے مفاد کے گرد گھومتا ہے، ہسپتال، ڈاکٹر اور مریض۔ بدقسمتی سے مفاد کی ترتیب بھی یہی رہتی ہے۔ ہسپتال نے سہولت تو فراہم کرنی ہے لیکن ہر حال میں منافع بھی کمانا ہے سو مریض کے سر سے پاؤں تک غیر ضروری ٹیسٹ کروانے کی ہدایت اکثر و بیشتر جاری کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے اپنی مہارت، قابلیت اور وقت فروخت کرنا ہے سو اسے ہر حال میں مریض نامی

Read more

اچھے پروفیشنل کا نشان کیا ہے؟

آج جی چاہتا ہے کہ آپ کا امتحان لیا جائے۔ ارے ارے گھبرائیے نہیں، نہ کوئی طویل پرچہ ہے اور نہ ہی کچھ اور، بس دو سادہ سے سوال ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر دس افراد کے گروہ میں سات یا آٹھ ایک بات کہہ رہے ہوں اور بقیہ دو یا تین لوگ ایک سو اسی ڈگری کے زاویے سے متضاد رائے رکھتے ہوں، تو آپ کس کا اعتبار کریں گے؟ دوسرا یہ کہ ایک اچھا پروفیشنل ہونے کی کیا

Read more

ویجائنا؛ عورت کے جسم کا گندا عضو

وہ خاتون انتہائی پراسرار انداز میں ہماری طرف جھکیں اور جھکتی ہی چلی گئیں۔ ہم گھبرا کر کچھ پیچھے ہٹے اور کھسکتے کھسکتے دیوار سے جا لگے۔
”جی فرمائیے؟“ ہم نے کہا۔
”وہ۔ وہ۔ مجھے بہت تکلیف ہے“ وہ رک رک کر دبی آواز میں بولیں۔

”کہاں؟“
”میں نہ بیٹھ سکتی ہوں، نہ لیٹ سکتی ہوں۔ ایسے لگتا ہے کہ وجود زخم زخم ہے“
”بتائیے تو کہاں؟“
ان کی آواز سرگوشی میں بدل گئی
”جی وہ نیچے۔“

Read more

ڈاکٹریاسمین راشد اور بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال کا زنانہ ڈریس کوڈ

خدا جھوٹ نہ بلوائے، کم وبیش تیس برس ہو گئے ہسپتالوں میں زندگی بسر کرتے مگر رہے ہم وہی بدھو کے بدھو۔

ہسپتالوں کا قصہ کچھ یوں ہے کہ ہمیں تو وہ اپنے گھر جیسے ہی لگتے ہیں، مہربان، چھتر چھایا کرنے والے، مسیحائی آخر ہم نے وہیں تو سیکھی ہے۔ دیکھیے نا زندگی کا سب سے اچھا وقت پوری توانائی اور محبت کے ساتھ جہاں خرچ کیا جائے وہی چھت تو ہوتی ہے ایسی ساتھی، جو کبھی ہنستے ہوئے دیکھتی ہے اور کبھی روتے ہوئے، کبھی خوش اور کبھی مضمحل، کبھی زندگی سے پیار اور کبھی شکایت کرتے ہوئے۔

Read more

17 اگست 1988 اور بابائے چادر کا احسان

آج بابائے چادر کی یاد آئی ہے اور بے طرح آئی ہے۔ کیا کہیے کہ مرحوم ایسے صاحب بصیرت تھے کہ عورت کو محض ضرورت کی جنس جانا اور اس کے گرد مکڑی کا ایسا جالا ترتیب دیا کہ برسوں بیت گئے، آزاد ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتے ہیں لیکن عورت اس جال میں مزید دھنستی ہی چلی جاتی ہے۔ اسی کی دہائی کا آغاز تھا۔ بابائے چادر اپنے ذاتی مقاصد کو نفاذ اسلام کے کمبل لپیٹ کر ایک

Read more

عمر رواں نے اک جھٹکا سا کھایا۔۔۔ اور اک سال گیا

سمجھ میں نہیں آتا خوش ہو کر قہقہے لگائیں یا اداس ہو کر آنکھیں نم کریں۔ معمہ ہے یہ بات کہ وقت کے سفر میں اگلی منزل کا استقبال کیسے کیا جائے ؟ کچھ کا کہنا ہے کہ عمر عزیز کے اگلے سنگ میل پہ تو رنجیدہ ہونا چاہئے کہ زندگی کی شمع تیزی سے پگھل رہی ہے۔ ہم ایسا نہیں سوچتے! ہمارے خیال میں زندگی کا ہر پل سرمایہ حیات ہے۔ ہر گزرتا پل جو یادوں کے جگنوؤں کو

Read more

حمل؛ زندگی اور موت کے بیچ کا پل صراط!

رگوں سے قطرہ قطرہ نچڑتی ہوئی زندگی، حرارت بھرے جسم میں پھیلتی ٹھنڈک، چہرے پہ موت کی زردی، اکھڑتی سانس، آنکھوں کی بجھتی ہوئی جوت اور ڈوبتی ہوئی دھڑکن، جیسے تھکا ہوا سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا ہو!

ایک ننھی سی جان دنیا سے رخصت ہوتی ماں کے پستان سے چپکی، چسر چسر دودھ پینے میں مگن، نہیں جانتی تھی کہ جاں بہ لب عورت کے پستان خشک ہونے کو ہیں اور یہ لمس اسے پھر کبھی نہیں ملے گا۔

موت کی اندھیری گھاٹیوں میں دھیرے دھیرے اترتی وہ عورت سوچتی تھی، کاش اسی گلی میں کچھ قدم دور اپنے گھر میں میرے ماں جائے کو کسی طرح یہ خبر ہو جائے کہ اس کی بہن زندگی ہار رہی ہے۔

Read more

نئی منزلیں آواز دیتی ہیں!

دل کی چھتری پہ بیٹھے سب سے چھوٹے پرندے حیدر میاں نے بھی بالآخر اپنے پر کھول کے لمبی پرواز بھر ہی لی! دور دراز اجنبی سرزمین پہ بنی انیسویں صدی کی پرشکوہ عمارت مندی آنکھوں سے دیکھتے اور مسکراتے ہوئے سب پرندوں کو اپنی آغوش میں سمانے کے لئے اپنے بازو وا کر دیتی ہے۔ دو صدیوں سے زمانے کے گرم و سرد سہتی، اپنے سائے میں دانا دنکا کھلاتی، سوچ کے نئے دریچے کھولتی، زندگی کی پرپیچ راہوں

Read more

مجھے دفن کرنے کی بجائے راکھ میں بدل دیجیے گا!

صاحبان دانش، جی چاہتا ہے کہ آج ذوق کی مدح سرائی کی جائے جنہوں نے نہ جانے کیسے بھانپ لیا کہ آنے والے زمانوں کی چیرہ دستیوں میں گھری عورت کی فریاد کیا ہو گی؟ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ہمیں استاد ذوق کی یاد کچھ کمنٹس پڑھ کے آئی ہے آپ بھی دیکھ لیجیے "میری ماں کہتی ہیں کہ عورت دفن ہونے کے

Read more

جنسی ہراسانی میں عورت تب بے قصور مانی جائے گی جب وہ قبر میں لیٹی ہو!

کیا ٹک ٹاکر عائشہ جنسی ہراسانی کا شکار ہوئی؟
جی ہاں، لیکن وہ خود بھی اچھی لڑکی نہیں ہے۔

کیا عائشہ کو چار سو مردوں کے ہجوم نے گھیرا؟
جی ہاں، لیکن وہ اس ہجوم میں گئی کیوں تھی؟

کیا عائشہ کے جسم کو بری طرح مضروب گیا؟
جی ہاں، لیکن اس نے خود اعلان کیا تھا کہ اس کے فینز وہاں آئیں۔

Read more

آزادی کے مینار کے گرد سرسراتی عورت بو!

کیا کہیے کہ خطے میں جادو کی چھڑی گھوم چکی، طلسم ہوشربا کے دروازے کھل چکے اور ایک نہایت بدصورت اور خوفناک مخلوق آزاد ہو چکی۔ ہر طرف آزادی اور اختیار سے بلا جھجک گھومتی، ناک سکیڑے سونگھنے کی بھرپور کوشش، عیار آنکھیں گول گول گھماتی، شکار کو ڈھونڈتی، منمناتی آوازیں! ” عورت بو، عورت بو“ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کریں؟ ہنسیں، چیخ و پکار کریں، پھوٹ پھوٹ کر روئیں یا سر میں خاک ڈال کر گریہ

Read more

وہ پی ایچ ڈی کی طالبہ تھی، گاؤں میں رہنے والی لڑکی نہیں!

“آپ کی مدد کی ضرورت ہے، اشد ضرورت! آپ کے پچھلے دو مضمون پڑھ کے مجھے ایسا لگا کہ میرے خدایا، آپ تو میری کہانی بیان کر رہی ہیں، سو فیصد میری کہانی! میں آپ کو اپنی داستان سنانا چاہتی ہوں تاکہ جنہیں آپ کی بات سمجھ نہیں آ رہی وہ جان سکیں کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟” یہ پیغامات ہمیں میسنجر کے ذریعے ملے اور ان میں چھپے درد کو ہم نے محسوس کرتے ہوئے اس بچی کی بات

Read more

ظاہر جعفر کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟

"نی عظمت توں کجھ سنڑیا، ہائے ہائے کیہی انت چکیا اے ایس آدمی نے، چوتھا ویاہ تے او وی ایس عمرے؟” (عظمت کچھ سنا تم نے، اس آدمی نے کیا تماشا بنا رکھا ہے، چوتھی شادی کرلی اور وہ بھی اس عمر میں) خالہ ہانپتی کانپتی، دور سے اماں کو پکارتی آ رہی تھیں. "آپا جی کیہہ ہویا؟” (آپا کیا ہوا؟) ہا نی اڑیے، امجد نے فیر ویاہ کر لیا، پینٹھ توں ٹپیا اے تے فیر وی ویاہ تے ویاہ،

Read more

تقسیم کے وقت ریپ ہونے والی عورتوں کا لباس ناکافی تھا کیا؟

چھ بیٹیوں اور رئیس شوہر کے ہمراہ وہ ملتان میں اپنی حویلی میں ٹھاٹ باٹھ سے رہا کرتی تھیں۔ اپنی بیٹیوں کے ساتھ اپنی زندگی میں مگن، اپنے ہی دیس میں بھلا کس بات کی فکر؟ لیکن اس وقت سب نے آنکھیں پھیر لیں جب انسانیت کے بیچ میں مذہب آ گیا۔ باہر حملہ آور دیوان صاحب کی دولت اور چھ بیٹیوں کے سرور میں حویلی کے گرد گھیرا تنگ کر رہے تھے اور اندر دیوان صاحب کچھ اور ہی سوچے بیٹھے تھے۔

کانتا، رادھا، آشا، شوبھا، رینوکا اور رینا کا گلا کاٹنا ہی پرکھوں کی عزت بچانے کا آخری حل تھا۔ چھ بیٹیوں کو ذبح کرنا آسان نہیں تھا لیکن باہر وحشی ہجوم کے ہتھے چڑھنے سے بہتر تھا۔ جب تک حویلی کا دروازہ ٹوٹا، دیوان صاحب اپنا کام پورا کر چکے تھے۔ بے تاب ہجوم نے خون میں نہائے دیوان پہ مشتعل ہو کے تیل چھڑکا اور آگ لگا دی۔

Read more

کیا پاکستانی عورت پولیانا سنڈروم کا شکار ہے؟

”وہ بہت اچھا ہے بس تھوڑا سا غصیلا ہے“ ”بہت مزے کی باتیں کرتا ہے، لیکن تھوڑا کنٹرولنگ ہے، چلو خیر ہے“ ”گالیاں بہت دیتا ہے لیکن بعد میں کافی شرمندہ ہوتا ہے“ ”کبھی لڑائی میں ایک آدھ تھپڑ لگا دیتا ہے لیکن پیار بھی تو کرتا ہے“ ”گھمانے پھرانے کا بہت شوقین ہے تو پھر کیا ہوا اگر بدمزاج ہے“ ”پابندیاں بہت لگاتا ہے لیکن اچھی شاپنگ بھی تو کراتا ہے“ ”دوسرے ملکوں میں تشدد کرنے کا کرمنل ریکارڈ

Read more

آنکھ ہمیشہ شہر لاھور میں کھلتی ھے

عمر گزرتی جا رہی ہے اور بہت سی حقیقتیں واضح ہوتی چلی جاتی ہیں! زندگی کی بے ثباتی، خواہشوں کا کھوکھلا پن، بے قراریوں کا حساب، رشتوں کا اصل اور سفر کے اختتام کو دوڑتے ماہ و سال! ماضی کے کچھ دنوں کی یاد کو کھونے سے خوفزدہ اور کچھ دنوں کو قصداً بھول جانے کی خواہش! اور پھر ایک خیال سر اٹھاتا ہے، گئے دنوں کا یادداشت کی سلیٹ سے مٹنا صحرا کی باد نسیم ہے یا انگارے اگلتا

Read more

ماہواری: زندگی سے ڈرتے ہو؟َ

۔۔۔ زندگی سے ڈرتے ہو؟ زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں! آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو، آدمی تو ہم بھی ہیں! "ان کہی” سے ڈرتے ہو جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو واللہ ہمیں خبر نہیں کہ ماہواری کی آگہی پھیلاتے ہوئے درد مند شاعروں کے زندگی سے جڑے الفاظ کیسے جھٹ سے کود کے ہمارے سامنے یوں جھلک دیتے

Read more

بچپن میں ماہواری، ایک جذباتی ہیجان!

اڑی اڑی رنگت اور پریشان تاثرات کے ساتھ وہ خاتون کلینک میں داخل ہوئیں۔ پیچھے پیچھے ایک گھبرائی ہوئی بچی، عمر یہی کوئی آٹھ نو برس!
دھم سے کرسی پہ بیٹھتے ہی بولیں،
”ڈاکٹر پلیز میری بیٹی کو چیک کر لیجیے“

دیکھیے، اگر آپ بچی کی ہائمن چیک کروانا چاہتی ہیں تو وہ ہم نہیں کریں گے۔ بچیوں کی ہائمن اور اس کی جانچ پڑتال ہمارے لئے ایک حساس مسئلہ ہے اس لئے ہم پہلے ہی معذرت کر لیتے ہیں۔

Read more

یہ خط ہم نے نہیں لکھا!

(راہ رواں: بانو قدسیہ: صفحہ نمبر 119) دیال سنگھ کالج لاہور اکتوبر 1951 حضور امی جان! قدسیہ کی وہ کہانیاں جو ایک عرصے سے میرے پاس تھیں، اچانک طلب کر لی گئیں۔ ایک رات اثر صاحب تشریف لائے اور کہا کہ کاکی (قدسیہ) نے لکھا ہے کہ وہ افسانے اشفاق سے لے کر اسے پہنچا دیئے جائیں۔ میں نے بلا چون وچرا وہ فائل اثر صاحب کے سپرد کر دی اور انہوں نے اسے مقام مقصود تک پہنچا دیا۔ ان

Read more

درختوں کے پتے اور ماہواری

گھر میں چاروں طرف عجیب سی بو تھی، جیسے کوئی مردہ چوہا کسی الماری کے پیچھے پڑا ہو، یا کوئی مری ہوئی چھپکلی صوفے کے نیچے۔ کبھی ایسے لگتا کہ کچن کے سنک میں گوشت کو دھوتے ہوئے نیچے پائپ میں کچھ پھنس گیا ہے جو چاروں طرف بو پھیلا رہا ہے۔ لیکن بو کا کہیں سراغ نہیں ملتا تھا جو کبھی گندے موزوں سے اٹھنے والی سڑاند جیسی محسوس ہوتی اور کبھی کئی دن کے رکھے باسی سالن جیسی۔

ہر تھوڑی دیر بعد بو کا ایک جھونکا آتا اور سر میں ایک گرز سا لگتا، ٹیسیں اٹھتیں اور ہم پھر سے بے چین ہو جاتے۔
کیسی بو ہے یہ؟ کہاں سے آ رہی ہے؟ ہے؟ صفائی کی کہاں کمی رہ گئی؟ سب ملازم ہمارے ان سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھے۔

Read more

ہسٹیریا کا علاج؛ شادی، مساج یا صنفی برابری؟

” میں درد سے تڑپ رہی تھی، قے تھی کہ رکنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اور وہ ڈاکٹر میرے ماں باپ سے کہہ رہا تھا کہ آپ کی بیٹی کو ہسٹیریا ہے، رشتہ ڈھونڈیں اور شادی کر دیں کہ یہی آخری حل ہے۔ یہ آخر ڈاکٹر کیسے ہسٹیریا کی تشخیص ہر کسی پر تھوپ دیتے ہیں؟ میری عمر اس وقت صرف اٹھارہ برس تھی۔ مجھے ہر ماہ ماہواری کا شدید درد اٹھتا تھا، بلیڈنگ بھی زیادہ ہوتی تھی، میں

Read more

معاشرہ اور ریاست عینی بلیدی کے بچوں کو جوابدہ ہے!

ایک اور بیٹی مر گئی لیکن شاید اچھا ہی ہوا کہ روز روز کے مرنے سے جان چھوٹی۔ پچھلے دس برس میں وہ پل پل مر ہی تو رہی تھی، درد اور اذیت کے کے اس پل صراط سے گزرتے ہوئے جو ایک مرد نے چھت مہیا کرنے کے بدلے میں ترتیب دیا تھا۔

کیا وہ اس وقت اذیت سے نہیں گزری ہوگی جب شوہر نے اس کا ہاتھ توڑا ہو گا؟ اور اس بے بسی کا اندازہ کیجیے جب پیدا کرنے والوں نے اپنی چھت کے نیچے پناہ نہیں دی ہو گی۔ عالم میں کیسی تنہائی ہو گی جب اسے یہ کہہ کے واپس جانے پہ مجبور کیا گیا ہو گا کہ بیٹی برداشت کر، مرد تو ایسا ہی ہوتا ہے۔

اور وہ وقت جب اس ظالم انسان نے اسے آگ میں جلانے کی کوشش کی ہو گی اور وہ کسی ڈری سہمی چڑیا کی طرح مدد کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑی ہو گی۔ اکثر نے یہ کہہ کے منہ موڑ لیا ہو گیا کہ یہ تو میاں بیوی کا گھریلو مسئلہ ہے۔

Read more

ان گنت عورتوں سے زندگی چھیننے والا لفظ، ہسٹریا!

”خالہ، خالہ، بھاگ کے آئیے، روبینہ کو پھر سے ’دندلیں‘ پڑ گئی ہیں، اماں آپ کو بلا رہی ہیں“ ، وہ چھوٹی بچی دور سے پکارتی چلی آ رہی تھی۔

نانی نے یہ پیغام پاتے ہی چپل پاؤں میں گھسیٹی، سر پہ چادر رکھی اور یہ جا وہ جا۔ اب چونکہ سکول سے گرمیوں کی چھٹیاں کی وجہ سے ہم نانی کے گھر موجود تھے اور ہاتھ میں موبائل اور سرہانے لیپ ٹاپ کی سہولت تو موجود نہیں تھی سو ہم بھی چپکے سے پیچھے پیچھے ہو لیے۔

وسیع و عریض دالان میں بچھے تخت پوش پہ ایک نوجوان لڑکی آڑی ترچھی پڑی تھی۔ ہاتھ مٹھی کی صورت میں بند، جسم اکڑ کے کمان بنا ہوا، دانت سختی سے بھنچے، آنکھیں موندی ہوئیں، چہرے پہ اذیت کے آثار۔

Read more

جو گزرتے ہیں داغ پر صدمے۔۔۔ اور عورت کی روز مرہ زندگی

"یہ جو آپ نے عورت کے درد کی رام لیلا چھیڑی ہے، ماہواری اور زچگی کے متعلق، پڑھ کے ہمیں تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ عورت کی اہلیت پہ جو شک کیا جاتا ہے، وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں” ایک بحث میں ہمیں گھیر لیا گیا تھا اور حزب مخالف پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتری تھی۔ “وہ کیسے؟” ہم بھی تیار تھے۔ “دیکھیے، جب وہ ہر ماہ مختلف قسم کے درد سے گزرے گی تو

Read more

گم ہوجانے والے جڑواں کی کہانی!

بڑی صاحبزادی چھ برس کی ہو چکی تھیں۔ دوسرا حمل ساقط ہوئے بھی چار برس بیت چکے تھے۔ ہمیں تو کوئی تشویش نہیں تھی لیکن ماہم کا اصرار بڑھتا چلا جاتا تھا کہ انہیں گھر میں دوسراہٹ کے لئے بے بی چاہیے۔ چار و ناچار اپنے ہی اساتذہ کے پاس جا پہنچے کہ چارہ گر کچھ مسیحائی کا کرشمہ دکھائیں۔ لیبارٹری ٹیسٹ ہوئے، کچھ نہ ملا، فرمائشی لیپرو سکوپی بھی کروا ڈالی، وہاں بھی کسی مشکل کے کوئی آثار نہیں تھے۔ سو ہمارے اوپر تشخیص کا ٹھپا لگا، unexplained infertility یعنی ایسا بانجھ پن جس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور یہ صورت حال تیس فیصد بانجھ جوڑوں میں نظر آتی ہے۔ کیا کرتے سوائے اس کے کہ سب غیر مرئی چیزوں کو منہ بھر بھر کے کوسنے دیتے۔

Read more

جب بے زاری آتی ہے!

عذرا عباس کی نظمیں تو یقیناً آپ نے پڑھ رکھی ہوں گی۔ احساس اور درد کی شدت میں گندھے ہوئے الفاظ جو صرف ایک عورت ہی بیان کر سکتی ہے اور ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔ زندگی کی کھٹنائیوں اور نارسائی سے سجی ان نظموں کا کمال یہ ہے کہ آپ ان کو پڑھتے ہیں، الفاظ دل پہ اثر کرتے ہیں، لیکن آپ جونہی صفحہ پلٹتے ہیں، نظم کی حساسیت اور شدت آپ کو واپس لوٹ کے پھر سے

Read more

بغداد کی رات اور شہرزاد کی کہانی

صاحب، گزشتہ شب کی کہانی کا دامن پکڑ کے کچھ اور کھوجنے کا ڈھنگ تو ہم نے شہر زاد سے ہی سیکھا ہے جس کے عاشق ہم اوائل عمری میں ہوئے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ بات درد سے شروع ہوئی، فیض کی نظم تک پہنچی اور ان اشعار کی آفاقیت سراہتے ہوئے درد کی ان اصناف تک پہنچ کے ٹھہر گئی جن کے ذکر سے بہت سوں کے پر جلتے ہیں۔  شاعر کے لئے درد جذب وجنوں و

Read more

مفتی اور خلیل الرحمان قمر جیسوں کا کیا ہو گا

صاحب، بات کرنے سے پہلے قسم لے لیجیے جو کسی بھی ادبی، سیاسی، مذہبی اور سماجی گروہ سے ہمارا تعلق ہو اور ہم کسی ایک کے ایجنڈے پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے دوسروں کے بھڑکتے ہوئے جذبات پاؤں تلے روند رہے ہوں۔

مفتی نام سے خوش فہم ایک صاحب نے ہمیں بے وقوف عورت کے لقب سے نوازا ہے۔ ہم انہیں جانتے نہیں سو ہمیں حیرت بھی نہیں ہوئی بلکہ اپنی پیٹھ ٹھونکنے کو جی چاہا کہ ہم مرد ذات کے متشددانہ رویوں کے متعلق جو لکھتے ہیں وہ انہوں نے دو منٹ میں ثابت کر دیا۔ ایک انجان عورت پر فتویٰ جاری کرنے والا مرد ذاتی زندگی میں کیا کیا کرتا یا کر سکتا ہو گا، تصور کر لیجیے!

Read more

کاش فیض صاحب کو ماہواری آتی!

درد اتنا تھا کہ اس رات دل وحشی نے ہر رگ جاں سے الجھنا چاہا ہر بن مو سے ٹپکنا چاہا اور کہیں دور ترے صحن میں گویا پتا پتا مرے افسردہ لہو میں دھل کر حسن مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا میرے ویرانۂ تن میں گویا سارے دکھتے ہوئے ریشوں کی طنابیں کھل کر سلسلہ وار پتا دینے لگیں یہ لازوال اور آفاقی شعر پڑھ کے سر دھنتے ہوئے ہم رشک و حسد میں مبتلا ہوئے جاتے ہیں۔

Read more

ماہواری کے بعد کیا ہو گا؟

وطن عزیز میں ایک ہی کتاب بکتی ہے ” مرنےکے بعد کیا ہو گا "۔ حالیہ زندگی کی کھٹنائیوں اور نارسائی سہنے والوں کو یہ کتاب کہیں اور پناہ لینے کے سپنے دیکھنے پہ اکساتی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ اس میں لکھے گئے فسانے پڑھنے کے بعد رواں زندگی ہی جنت کا ٹکڑا محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ صاحب مرنے کے بعد کیا ہو گا تو پردہ غیب میں ہے لیکن ہماری زنبیل میں کچھ ایسا ہے

Read more

سنپولیے لفظوں سے ٹپکتا زہر!

بہن…. تیری ماں دی….. تیری بہن دی…. تیری دھی نوں…. بہن کو…. ماں کو… بچپن میں گلی محلے میں کھیلتے ہوئے، سڑک پر چلتے چلتے، کسی تقریب میں، بازار میں کسی دوکان پہ، بس میں سفر کے دوران، بس سٹاپ پر انتظار کرتے ہوئے یہ لفظ کان میں پڑتے جن کا مطلب قطعی سمجھ میں نہ آتا۔ اب ہمارے سوالات کے جواب تو ایک ہی ہستی کے پاس ہوا کرتے تھے سو آپا کے سر ہو جاتے کہ اس کا

Read more