جی ایچ کیو پر ایک بورڈ لگا دیں
آسمان نے دیکھا کہ جاری سیاسی تھیٹر کے سٹیج پر اوور ایکٹنگ کرنے والی شلوار سوٹ حکومت اچانک مہمان اداکار میں تبدیل ہو گئی اور کہانی نے انہونا موڑ لے لیا۔
Read moreآسمان نے دیکھا کہ جاری سیاسی تھیٹر کے سٹیج پر اوور ایکٹنگ کرنے والی شلوار سوٹ حکومت اچانک مہمان اداکار میں تبدیل ہو گئی اور کہانی نے انہونا موڑ لے لیا۔
Read moreگزشتہ دو مضامین میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اسرائیلی سرحد سے متصل مصر اور اردن نے تو اسرائیل سے یوں امن سمجھوتہ کر لیا کیونکہ وہ تین جنگوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ بھرپور امریکی پشت پناہی کے ہوتے وہ اسرائیل کو عسکری لحاظ سے نیچا نہیں دکھا سکتے لہذا اسرائیل کو تسلیم کر کے اپنے علاقے واپس لینا ہی عقلمندی ہے۔
رہا فلسطینی حقوق کا مسئلہ تو ان کی مدد کے لیے اوپر والا ہے نا۔ البتہ اسرائیل کے دو ہمسائے شام اور لبنان اسرائیلی جارحیت کا متعدد بار شکار ہونے کے باوجود جھکنے کو تیار نہیں اور آج چوہتر برس بعد بھی اسرائیل سے حالت جنگ میں ہیں۔ مگر ان دونوں ممالک کا اندرونی طور پر اتنا پتلا حال ہے کہ ان کی دشمنی اسرائیل کے لیے فی الحال کوئی معنی نہیں رکھتی۔
Read moreایک زمانہ تھا کہ سب عرب بھلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں مگر اس نکتے پر متفق تھے کہ اسرائیل عربوں کا مشترکہ دشمن ہے اور اسرائیل کا وجود ناجائز ہے۔پھر جیسا کے ہوتا ہے۔مصر نے اسرائیل سے تین جنگیں ہارنے کے بعد اسرائیل دشمنی کے شیشے میں سمجھوتے کا پہلا پتھر مارا۔جن جن عرب حکمرانوں نے اسرائیل کو ابھرتے دیکھا تھا۔ ان میں سے اکثر رفتہ رفتہ وقت کی دھند میں معدوم ہوتے گئے اور ان کی
Read moreمیاں نواز شریف سمیت ہر رہنما کی تقریر سن کر آنکھیں بھر آئیں۔ غضب خدا کا ایسے مخلص و محب لوگوں کا بھی کوئی دشمن ہو سکتا ہے۔ مگر جب اپنے ہی کہے پر عمل کا موقع آتا ہے تو اجتماعیت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔ ارکانِ پارلیمان پارٹی قیادت کے احکامات کے برعکس ووٹ دیتے ہیں یا پھر نہیں دیتے۔
Read moreانیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کے قیام کے بعد جن عرب ممالک نے فلسطینیوں کے حق میں نئی ریاست پر لشکر کشی کی ان میں سے چار ممالک ( شام، لبنان، اردن، مصر) کی سرحدیں براہ راست اسرائیل سے ملتی تھیں۔ جب کہ متعدد مسلمان ممالک کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت علامتی نوعیت کی تھی۔ علامتی تو محض تکلفاً کہہ رہا ہوں۔ دراصل ان مسلمان ممالک کی فلسطین نواز پالیسی ”حسین سے بھی مراسم یزید کو بھی سلام“ کے اصول پر استوار تھی۔
یہاں میں غیر عرب مسلم ممالک ترکی اور ایران کا تذکرہ نہیں کر رہا جنھوں نے اسرائیل کو وجود میں آنے کے ایک برس کے اندر ہی باضابطہ تسلیم کر لیا (انیس سو اناسی میں ایران نے اسرائیل سے تعلقات توڑ لیے )
Read moreآج عالمی یوم جمہوریت ہے۔ دنیا کے لگ بھگ پونے دو سو ممالک اور خطے جمہوریہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
کہیں یہ جمہوریت منتخب کے بجائے نامزد اداروں پر مشتمل ہے، کہیں یک جماعتی نظام کو جمہوریت کے نام پر نافذ کیا گیا ہے، کہیں فوج اور سویلینز کی مخلوط حکومت کو جمہوریت کا لقب دیا گیا ہے (جیسے برما اور مصر وغیرہ ) ۔ مگر عام طور پر جمہوریت کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ایک کثیر جماعتی نظام میں عوام کے منتخب نمائندوں کے بنائے ہوئے آئین و قوانین کے مطابق شہریوں کو آزادی اظہار، آزادی انتخاب، نقل و حرکت کی آزادی، تشدد سے تحفظ، عدالتی تحفظ اور صحت و تعلیم و روزگار و رہائش جیسے بنیادی حقوق کی ضمانت ہو۔
Read moreآج منظر یہ ہے کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے ریپ کیس پر بڑے شہروں میں صرف خواتین کے جلوس نکل رہے ہیں جیسے یہ صرف انھی کا مسئلہ ہو۔ ہر قومیت، فرقے، مسلک اور زبان بولنے والے کو اپنے اپنوں کے سوا اردگرد کے دیگر مسائل زدہ پاکستانی طبقات نظر آنے بند ہوتے چلے گئے ہیں۔
Read moreچلیں جی سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی یہ بات مان لیتے ہیں کہ بدھ کو علی الصبح لاہور سیالکوٹ ایم الیون موٹر وے پر جس خاتون کا اس کے دو بچوں کے سامنے مسلح افراد نے ریپ کیا ، تشدد کیا ، سامان لوٹا اور فرار ہو گئے تو اس میں بنیادی غلطی عورت کی ہے۔ اس عورت کو دو چھوٹے بچوں کے ساتھ آدھی رات کو سنسان موٹر وے پر سفر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Read moreکیا ٹریفک کے حادثات محض ڈرائیور یا گاڑی کے سامنے آنے والے کی غفلت کا نتیجہ ہوتے ہیں یا پھر یہ موت انسانوں کی قسمت میں اسی طرح لکھی ہوئی ہوتی ہے یا پھر اس خونی کھیل میں دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں کہ جنھیں ہم غفلت و مجرمانہ بے احتیاطی کا درجہ دینے پر تیار نہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ اگر ایک ساتھ پچاس لوگوں کے مرنے کی خبر آ جائے تو سننے اور دیکھنے والا چند لمحوں کے
Read moreپاکستان میں سکولی نصاب کے مطابق بھارت نے چھ ستمبر کو رات کی تاریکی میں چھپ کر پاکستان پر حملہ کیا۔ مگر کیوں کیا؟ بھارت پر اچانک کوئی دماغی دورہ پڑا یا حملے کی کوئی خاص وجہ تھی ؟ بچوں کو اس بابت کچھ نہیں بتایا جاتا۔ اور نہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ اسے کامیاب جنگ کیوں کہا جاتا ہے؟ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔
Read moreارے رے رے رے، یہ کیا ہو گیا۔ بارشوں میں دیواریں ڈھینا، گھروں کا آدھا پونا ڈوب جانا، ہفتوں گلی کوچوں میں پانی کھڑے رہنا، اس پانی کے سبب سیوریج لائنوں کا دم گھٹ جانا، کھڑے پانی میں مچھروں کی افزائش ہونا، کئی کئی روز بجلی کی سپلائی منقطع رہنا، نام نہاد ایمرجنسی فون نمبروں پر مسلسل ٹوں ٹوں ٹوں ہوتے رہنا یا ریکارڈنگ بجتے رہنا، اور اس سب کے بعد جب احتجاج کے لیے سڑک پر نکلنا تو مسلح
Read moreیہ جو پچھلے چند روز سے کراچی کی حالتِ زار پر مرکز سے صوبے تک ہر فیصلہ ساز ماتمی اداکاری کر رہا ہے۔ یہ تماشا ہم اہلیانِ کراچی کئی عشروں سے سالانہ بنیاد پر دیکھتے آ رہے ہیں۔اب تو سب کچھ ایک پھٹیچر اسکرپٹ جیسا لگنے لگا ہے۔ پہلے منظر میں شدید بارش ہوگی۔شاہراہوں اور گلیوں میں پانی جمع ہو گا۔میڈیا کے کیمروں کی چاندی ہو جائے گی اور ریٹنگ کی آنکھ سے چھ انچ اونچا پانی بھی چھ فٹ
Read moreسرخ رنگ ہر دور میں ایک نئے انداز میں تازہ ولولے کے ساتھ ابھرتا ہے اور رفتہ رفتہ جب اس پر مصلحتی سیاہ رنگ غالب آنے لگتا ہے تو کہیں اور سے ایک اور سرخ فوارہ ابل پڑتا ہے۔ پڑھیے وسعت اللہ کا ہفتہ وار کالم بات سے بات۔
Read moreیہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ، مشرک، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک، گمراہ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون۔
اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی۔
Read moreلگ بھگ دس ہفتے بعد امریکی صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔ مگر گزشتہ انتخاب کے برعکس اب تک کوئی بھی سرکردہ پنڈت، تھنک ٹینک یا رائے عامہ کا جائزہ کرانے والا ادارہ اعتماد کے ساتھ کھل کے نہیں کہہ پا رہا کہ اگلے برس بھی ٹرمپ سرکار ہی ہو گی یا نہیں۔ اس بابت بلا جھجھک پنڈت گیری میں بنیادی رکاوٹ بس اتنی سی ہے کہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن اور ان کی امیدوار برائے نائب صدارت کمالا ہیرس
Read moreپاکستان کے صوبہ بلوچستان میںمیں نوجوان طالبعلم حیات بلوچ کے قتل نے بلوچستان کو ایسی تصویر مہیا کر دی ہے، جو ہزار الفاظ پر بھی بھاری ہے۔
Read moreطبعاً ملنگ تھے اور فائیو سٹار ہوٹل سے لے کر فٹ پاتھ تک بیٹھنے میں کبھی کوئی عار نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے زندگی بھر صرف ایک اثاثہ بنایا یعنی ان کے دوست نظریاتی حدود سے ماورا ہر طبقے سے تھے: وسعت اللہ خان کی تحریر
Read moreآج جنرل محمد ضیا الحق کو جسمانی طور پر رخصت ہوئے تینتیسواں برس لگ گیا اور پرویز مشرف کو سبکدوش ہوئے بارہ برس مکمل ہو گئے۔وہ الگ بات کہ ضیا الحق جیسا کوئی نہیں۔نہ ان سے پہلے نہ بعد میں۔ ان کی روح پاکستان کے قومی جسد میں تینتالیس برس سے حلول ہے۔جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو کم ازکم فانی زندگی سے معزول ہو کر گڑھی خدا بخش جانا پڑا۔مگر ضیا الحق نے
Read moreہم صحافی، سیاستداں، شاعر، منصف اور دانشور تو آج بھی اپنا قلم و دہن انسانیت کے لیے دان کرنے کو تیار ہیں مگر مرنے والے یا غائب ہونے والے بھی تو ہمارا کچھ خیال کریں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا تازہ کالم۔
Read moreجب دو روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل مکمل سفارتی تعلقات بحال کرنے پر راضی ہو گئے ہیں تو اس کے فوراً بعد اماراتی وزیرِ خارجہ انور گرگیش نے خوشخبری دی کہ ہمارے اس فیصلے سے فلسطینی مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عمل رک گیا ہے مگر اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے وضاحت کی کہ غربِ اردن کو ضم کرنے کا فیصلہ کالعدم نہیں ہوا صرف ملتوی ہوا ہے۔
Read moreکچھ عرض کرنے سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک عام سے مسلمان کی طرح میں بھی دین کے بنیادی اصولوں سے واقف ضرور ہوں مگر ان کی باریکیوں اور شرح سے نابلد ہوں۔ چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل کے واجب الاحترام علمائے کرام سے بلا تخصیصِ فرقہ و فقہ رہنمائی کا طلب گار ہوں۔ کیا شادی کے لیے لڑکے اور لڑکی کی کم ازکم عمر متعین ہے یا پھر اس بارے میں احکامات ِشرعیہ کا لبِ لباب یہ
Read moreآج گیارہ اگست ہے۔ چوہتر برس پہلے آج ہی کے دن پاکستان کے باقاعدہ وجود میں آنے سے چار روز قبل کراچی میں آئین ساز اسمبلی کے صدر محمد علی جناح نے ریاستی خدو خال سے متعلق اپنے بنیادی خطاب میں وہ مشورے دیے جو ان کے خیال میں نئی مملکت کے آئین کی بنیاد ہونے چاہئیں۔ لگ بھگ نصف گھنٹے کے خطاب میں صرف وہی پیرا نہیں تھا جس کو لے کر ہم چوہتر برس سے کشتم کشتا ہیں
Read moreیہ تو وہ قصہ ہے جو کھل گیا۔اب تک نہ جانے پارلیمنٹ اور اسمبلیاں ایسے کتنے قوانین منظور کر چکی ہیں جنھیں صرف مرتب کرنے یا کروانے والوں نے ہی پڑھا ہو گا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات۔
Read moreاس پانچ اگست کو بابری مسجد کے ملبے پر رام مندر کی بنیاد رکھی گئی۔ پچھلے پانچ اگست کو ڈوگرہ ریاست جموں و کشمیر کی نیم خود مختارانہ آئینی بنیاد اکھاڑ دی گئی۔ مگر آج سے ساٹھ برس پہلے پانچ اگست انیس سو ساٹھ کو مغل اعظم ریلیز ہوئی۔ برصغیر کی فلمی تاریخ میں اس سے پہلے اور نہ بعد میں ایسی عظیم الشان فلم بنی۔
ویسے تو بہت سی فلمیں ہیں جن کی ایک یا دو لائنیں نسل در نسل سفر کرتی ہیں مگر آج تک دو ہی ایسی فلمیں بنی ہیں جن کا ہر کردار لوگوں کو ازبر ہے۔ مغل اعظم اور شعلے۔ مگر مغل اعظم کیسے بنی؟ خود یہ کہانی بھی ایک بہت بڑی فلم کا مواد ہے۔
Read moreگذشتہ برس نومبر کے تیسرے ہفتے میں نیویارک میں کشمیری پنڈتوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی قونصل جنرل سندیب چکرورتی نے فرمایا ، ’’میرے خیال میں (کشمیر میں) امن و امان کی صورت بہتر ہو رہی ہے۔ آپ جلد ہی واپس لوٹ سکیں گے کیونکہ آپ کے تحفظ کے لیے پہلے ہی سے ایک ماڈل موجود ہے۔ اس ماڈل پر عمل نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ اسرائیل اس پر کامیابی سے عمل کر رہا ہے۔ یہودیوں نے
Read moreآج تک جس طرح نیب حسبِ ضرورت محمود و ایاز کو ایک صف میں یا ایک صفحے پر لانے میں حسبِ ضرورت کامیاب ہوا۔ ماضی کا کوئی ادارہ یا ایجنسی اتنے موثر ثابت نہیں ہو سکے۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔
Read moreکوئی بہت زیادہ پرانی بات نہیں۔ بیس پچیس برس اًدھر کا قصہ ہے (چوتھائی صدی یوں نہیں کہہ رہا کہ بہت لمبا زمانہ نہ لگے)۔ یہ تب کی بات ہے جب خواندہ طبقات کی روزمرہ گفتگو میں سیاست پہلے نمبر سے دسویں نمبر تک نہیں چھائی رہتی تھی۔ بلکہ سیاست اگر بحث کے پہلے پائیدان پر تھی تو دوسرے ہی پائیدان پر ادبی گفتگو و غیبت براجمان تھی اور پھر تیسرے چوتھے نمبر پر دیگر سماجی و مقامی و قومی
Read moreاگر پنجاب تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ پر ہو بہو عمل ہوتا ہے تو پھر علما بورڈ کی منظور شدہ مذہبی کتابوں کے علاوہ کوئی بھی کتاب شائع یا درآمد کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ سائنس، تاریخ، فلسفے، جغرافیے، حالاتِ حاضرہ، ادبیات وغیرہ کو بھول جائیں۔ کیونکہ غالب و اقبال کی شاعری سمیت ہر کتاب میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور نکل آئے گا جو قومی سلامتی، ثقافتی و مذہبی اقدار و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے منافی ہو۔ پڑھیے وسعت اللہ کا کالم بات سے بات۔
Read moreعالمی بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت سرکردہ مالیاتی اداروں کی سرخ بتی مسلسل روشن ہے۔ اب تک بفضلِ کورونا عالمی معیشت تین فیصد تک سکڑ چکی ہے۔ آگے کی بحرانی سرنگ کتنی طویل ہے کوئی نہیں جانتا۔ حتی کہ ٹرمپ جو باقی سب جانتا ہے مگر نہیں جانتا کہ نومبر کے صدارتی انتخابات میں اس کی نئیا پار لگے گی یا کورونا کے منجدھار میں ڈوب جائے گی۔ امریکا میں ساڑھے چار کروڑ ملازمتیں یا تو
Read moreاگر گزشتہ ہفتے مردان کی تحصیل تخت بائی میں ایک مکان کی کھدائی کے دوران ٹھیکیدار کو مہاتما بدھ کا قدِ آدم سنگی مجسمہ نہ دکھائی دیتا اور وہ کسی متعلقہ سرکاری اہل کار کو اس کی اطلاع دینے کے بجائے ایک مقامی مولوی کو جائے وقوع پر نہ لے آتا اور وہ مولوی فوری طور پر یہ حکم صادر نہ کرتا کہ یہ مجسمہ حرام ہے۔ لہذا اسے فوراً ٹکڑے ٹکڑے کر کے پاک کر دیا جائے اور پھر
Read moreآج سیاسی نسل کشی کو ایک عظیم قومی کارنامہ بتانے والوں سمیت سب ہی حیرت کی اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ آخر کو یہ زمین دماغی اعتبار سے بنجر کیوں ہو گئی؟
Read moreاب سے بارہ روز پہلے ( چھ جولائی ) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اشارہ کیا کہ چین کے ساتھ ایک پچیس سالہ ساجھے دار سمجھوتے کو آخری شکل دی گئی ہے۔ حسن اتفاق سے اس معاہدے کی حتمی نقل کے اٹھارہ صفحات بھی فوراً میڈیا کے ہتھے چڑھ گئے۔ اگر یہ صفحات اصلی ہیں تو پھر یہ وہی سمجھوتہ ہے جس کی بازگشت سال بھر سے سنائی دے رہی ہے۔
گزشتہ برس تین ستمبر کو روزنامہ ڈان میں منجھے ہوئے پاکستانی سفارت کار منیر اکرم کا مضمون شایع ہوا۔ اس مضمون میں توانائی کے شعبے سے متعلق معتبر ماہانہ جریدے پٹرولیم اکانومسٹ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا کہ چین ایران میں تیل و گیس، ٹرانسپورٹ، مواصلات اور تعمیراتی شعبوں میں لگ بھگ چار سو دس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس سرمایہ کاری کے بدلے ایران اگلی چوتھائی صدی تک جتنے بھی بڑے ٹینڈر جاری کرے گا ان میں اولین ترجیح چینی کمپنیوں کو دی جائے گی۔
Read moreقبل از ضیا دور میں جیسی کیسی بھی تاریخِ عالم و تاریخِ برصغیر نچلے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جاتی تھی، اب اس کی تدریس بھی عنقا ہے۔ اس زمانے میں میٹرک تک ہر بچے کو تاریخ کا مضمون پڑھایا جاتا، بھلے یہ بچہ سائنس کا طالبِ علم ہو یا آرٹس کا۔یوں ہر بچے کو ماضی کے بارے میں سو فیصد نہیں تو کم ازکم چالیس فیصد سچ ضرور پڑھنے کو مل جاتا اور جو تاریخی کڑیاں غائب ہوتیں انھیں بچہ
Read moreاگلے ہفتے ترکی کی اعلیٰ عدالت استنبول کے آیا صوفیہ میوزیم کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کی سرکاری درخواست پر فیصلہ سنانے والی ہے۔ آیا صوفیہ ڈیڑھ ہزار برس پرانی عمارت ہے اور پانچ سو سینتیس عیسوی میں مشرقی سلطنت روم کے شہنشاہ جسٹینین نے دارالحکومت قسطنطنیہ کے شایان شان بطور گرجا تعمیر کروائی۔ نو سو برس بعد عثمانی سلطان محمد دوم نے چودہ سو تریپن میں قسطنطنیہ فتح کیا تو دنیا کے سب سے بڑے گرجا گھر کی چھتوں اور گیلریوں میں کی گئی مذہبی مصوری کو ڈھانک دیا۔ اس عمارت میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ بعدازاں معروف ترک ماہر تعمیرات سنان نے آیا صوفیہ پر اسلامی رنگ چڑھانے کے لیے عمارت میں میناروں کا اضافہ کروایا اور اسے باقاعدہ مسجد میں بدل دیا۔ اگلے پانچ سو برس تک یہاں نماز جاری رہی۔
آیا صوفیہ چرچ کے گنبد کا شکوہ اتنا متاثر کن تھا کہ جب سولہ سو سولہ میں استنبول میں عظیم الشان نیلی مسجد مکمل ہوئی تو اس کے ڈیزائن پر آیا صوفیہ کا آرکیٹیکچر غالب تھا۔ بعد ازاں عثمانی طرز تعمیر نے اسے اپنی تعمیراتی شناخت کا مستقل حصہ بنا لیا۔
Read moreوزارتِ مذہبی امور کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی نئی عبادت گاہ کی تعمیر کے لیے پیسے نہیں دے سکتی البتہ پہلے سے قائم عبادت گاہوں کی دیکھ بھال ، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے مدد کر سکتی ہے۔نیز حکومت کو فلاحی کاموں کے لیے مختص قطعاتِ اراضی میںسے عبادت گاہوںکے لیے رعائیتی سرکاری قیمت پر الاٹمنٹ کا اختیار بھی ہے۔ مگر کیا کوئی مخیر شخص ، ادارہ یا غیر مسلم مذہبی
Read moreیقین نہیں آتا کہ یہ وہی ملک ہے جہاں 60 کے عشرے تک جو 22 سرکاری چھٹیاں ہوتی تھیں، ان میں 25 تا 31 دسمبر کرسمس کی ایک ہفتے کی چھٹیوں کے علاوہ ایسٹر، بیساکھی، دسہرے، دیوالی اور ہولی کو بھی قومی تعطیل کا درجہ حاصل تھا۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔
Read moreجب دل نرم پڑ جائیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔
ایک نسل در نسل کہاوت ہے ”دل کا راستہ معدے سے گزرتا ہے“ ۔ یعنی مہمان نوازی دل نرم کرتی ہے اور جب دل نرم پڑ جائیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔
بھارت اور پاکستان میں کئی عشروں سے یہ نسخہ بتایا جا رہا ہے کہ پہلے تجارت کے فروغ، چھوٹے چھوٹے سرحدی تنازعات کے نمٹاؤ اور ویزے و سفر کی سہولتیں آسان کر کے باہمی اعتماد سازی کی جائے۔ اس کے بعد کشمیر جیسے بڑے مسئلے سلجھانے کی کوشش کی جائے تو بہتر نتیجہ نکلے گا۔ پاکستان نے اس نظریے کو مکمل طور پر کبھی تسلیم نہیں کیا۔
Read more’یہ تاثر غلط ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسی میں کوئی کنفیوژن ہے۔ کنفیوژن صرف حزبِ اختلاف کی صفوں میں ہے جس نے اس ملک کو لوٹ کھایا اور آئندہ کے لیے بھی دانت لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔۔مگر خوش قسمتی سے اس بار ملک کا صدر ایک ڈینٹل ڈاکٹر ہے ۔۔۔۔۔ جہاں تک مودی کا سوال ہے تو وہ ایک نفسیاتی مریض اور ہٹلر کا پیروکار ہے ۔۔۔ مگر امریکہ نے بھی ہم سے نائن الیون کے بعد خوب خوب کام لیا البتہ دو مئی کو ایبٹ آباد میں جس طرح اسامہ بن لادن کو ہلاک عرف شہید کیا گیا اس دن مجھے زلت کا جتنا احساس ہوا کبھی نہیں ہوا۔۔۔احساس سے یاد آیا کہ ہمارے احساس پروگرام کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے ۔۔۔۔ جبکہ بھارت کشمیریوں پر جو مظالم کر رہاہے دنیا کو اس کا کوئی احساس نہیں۔۔۔مگر مجھے اپنے عوام پر پورا بھروسہ ہے۔۔۔۔یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے۔۔۔۔میں کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔بس گھبرانا نہیں ہے۔
Read moreاکتوبر 1991، شمالی لندن۔ بی بی سی کی نوکری اختیار کیے پانچ ماہ گزر گئے۔ اس دوران میرا صرف ایک گھر میں آنا جانا کھانا پینا تھا۔ جعفر بھائی اور فیروزہ جعفر عرف بجیا کا گھر۔
جعفر بھائی نے ایک دن پوچھا ارے کراچی میں ہمارے ایک بھتیجے بھی رہتے ہیں طالبِ جوہری، کبھی ان سے ملاقات ہوئی؟ میں اچھل پڑا۔ آپ کے بھتیجے ہیں علامہ؟ ہاں تو کیا ہوا، کیا علامہ لوگ کسی کے بھانجے بھتیجے نہیں ہو سکتے؟
اور پھر لگ بھگ ایک ماہ بعد بجیا نے فون کیا وہ آ گئے ہیں تمہارے علامہ، ملنا ہے تو آ جاؤ۔ ہم بجیا کے گھر سے پانچ منٹ کی پیدل دوری پر ایک سٹوڈیو فلیٹ میں رہتے تھے۔ یہ تصور ہی کتنا زبردست تھا کہ جس شخص کو کبھی کبھار عشرے کی مجالس میں ہزاروں کے مجمع میں بیٹھ کر سنا ان سے آج بالمشافہ ملاقات ہو گی۔
Read moreاونچے پائیدان پر براجمان رہنماؤں کا ایک بنیادی المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انھیں ہمیشہ وقت کی کمی کا وہم رہتا ہے لہذا وہ عجلت میں بڑے بڑے کام انجام دینا چاہتے ہیں۔چنانچہ ٹھوکر لگنے اور منہ سے بڑا نوالہ ٹھونس لینے کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔دوم یہ کہ عجلت پسند رہنما اوپر یا آگے تو دیکھ لیتے ہیں البتہ عقب یا پاؤں تلے دیکھنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ جواہر لال نہرو کے ساتھ بھی یہی المیہ تھا۔ایفرو ایشیائی
Read moreاگر انڈیا چین سرحد کی لمبان ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے تو پاک انڈیا بارڈر کی طوالت بھی تین ہزار تین سو کلومیٹر سے کم نہیں۔ مگر چین کی خوش قسمتی کہ وہ پاکستان نہیں ورنہ اب تک جانے کیا سے کیا ہو چکا ہوتا۔
بیس فوجیوں کا مرنا اور وہ بھی کسی دھشت گرد یا خود کش کے زریعے نہیں بلکہ مدِمقابل اصلی باوردی دشمن کے ہاتھوں ڈنڈوں، سریوں سے مرنا کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جبکہ بھارت کوئی چھوٹا ملک بھی نہیں۔ چین اگر بیس ہے تو بھارت انیس۔ مگر چین خوش قسمت ہے کہ وہ پاکستان نہیں۔
Read moreپہلی بات یہ کہ یہ جھگڑا ورثے میں ملا ہے۔ اب سے ایک سو چھ برس پہلے ( انیس سو چودہ ) جب تبت اور برٹش انڈیا کے درمیان شمال مشرقی بھارت اور جنوبی تبت کی سرحدی حد بندی کا سمجھوتہ میکموہن لائن کے نام سے ہوا توتبت چین کا حصہ نہیں تھا۔اسی طرح چینی ترکستان ( شن جیانگ) بھی چین کا علامتی حصہ مگر اندرونی طور پر خود مختار صوبہ تھا۔ جب انیس سو انچاس میں چین میں چیانگ
Read moreاور پھر ایک مناسب سا پڑھا لکھا آدمی جو دنیا کے ہر مسئلے پر قطعی رائے رکھتا ہے۔
چوبیس میں سے تئیس گھنٹے کامن سینس برتتا ہے، میرے آپ کے چھوٹے موٹے گھریلو، معاشی، طبی، اخلاقی مسائل کا جھٹ سے تیر بہدف ٹوٹکا علاج یا معقول حل تجویز کر دیتا ہے۔ مگر جب اپنی یا اپنے پیاروں کی جان بچانے کا سوال آتا ہے تب اس کی کامن سینس جو میرے مسائل کے حل کے لیے ٹکے سیر دستیاب ہے جانے کہاں گھاس چرنے چلی جاتی ہے اور تب ہی پلٹتی ہے جب اس کی زیادہ ضرورت نہیں رہتی۔
وہی آدمی جو مجھے ہر وقت سمجھاتا ہے کہ ڈاکٹر سے پوچھے بغیر دوا ڈائریکٹ میڈیکل اسٹور سے نہیں لینی چاہیے۔ یہ میڈیکل اسٹور والے دس میں سے آٹھ بار تو صحیح دوا دے دیں گے مگر پھر کوئی ایسی دوا تھما دیں گے کہ آپ الٹ کے رہ جاؤ گے اور جب تک آپ کو کوئی ڈاکٹر سیدھا کرے بات ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔
اب اسی افلاطون کا بڑا بیٹا بخار سے پھنک رہا ہے، قوت ذائقہ و شامہ جواب دے چکی ہیں۔ سانس بلا رکاوٹ نہیں آ پا رہا۔ مگر صاحبزادے کو اسپتال لے جا کر معائنہ کرانے پر تیار نہیں۔
جب افکار تازہ کو دماغوں میں گھسنے سے روکنے کے تمام ہتھیار اور حربے یکے بعد دیگرے کند ہونے لگیں تو پھر تازہ نمو بخش نظریات کو وبائی شکل میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ایک آخری ہتھیار میدان میں لایا جاتا ہے، ’ہماری ثقافتی اقدار خطرے میں ہیں، ہمارا اسلام، ہندوتوا، عیسائیت، یہودیت، بودھ مت، لادینیت خطرے میں ہے۔‘
یوں اذہان کی تشکیل نو کا عمل مزید کچھ عرصے کے لیے ملتوی تو ہو جاتا ہے۔ البتہ حالات کا جبر بھی ساتھ ساتھ بطور سود مرکب بڑھتا جاتا ہے اور ایک دن ہر بند ٹوٹ جاتا ہے اور سب اچھا برا بہا لے جاتا ہے۔ اب یہ آپ کی قسمت کہ اس سیلاب کے دوران انقلاب کے موتی ہاتھ آتے ہیں کہ انارکی و بربادی کا کوئی طویل سیاہ دور۔
Read more1932ء میں بمبئی کے ایک ہلالی میمن خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا اور اس کا نام ابراہیم جان محمد درویش رکھا گیا۔ درویش 21 برس کی عمر میں کراچی آ گیا اور اردو اخبار ”نئی روشنی“ اور خبر رساں ایجنسی ”پی پی آئی“ سے مختصر وابستگی کے بعد روزنامہ ”ڈان“ میں سب ایڈیٹر بھرتی ہو گیا۔ ساتھ کام کرنے والے دو چار صحافیوں کے سوا اُسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ ویسے بھی ایک لاغر سے عینک لگائے الگ تھلگ
Read moreلگ بھگ نو دن پہلے ایک چھ سالہ بچی زہرہ شاہ کی بحریہ ٹاؤن پنڈی کے ایک رہائشی اور اہلیہ کے ہاتھوں تشدد آمیز موت کے سبب الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں تھوڑی بہت تشویش انگیز پھڑ پھڑاہٹ ہوئی اور پھر خبری ندی کا پانی اسی بہاؤ پر بہنے لگا جس رخ بہنا اس کی عادت ہے۔ آپ میں سے شائد بہت سوں کو یاد ہو کہ گھریلو مشقت میں ملوث بچوں پر بہیمانہ تشدد کی موجودہ سیریز کا سب
Read moreیہ قوم بھی بنی اسرائیل کی طرح ہر بال کی کھال اتارنے، ہر غلطی کا زمہ دار سامنے والے کو قرار دینے اور خداداد و باصلاحیت رہنماؤں کی ناقدری کے مرض میں مبتلا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جو اپنی کسی بھی بڑی سے بڑی غلطی کا اعتراف کرنے اور سامنے والے کی معمولی بھول بھی درگزر کرنے پر آمادہ نہیں۔ اسی لیے تمام تر صلاحیتوں کے باوجود در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ یہ قوم بجائے منتوں مرادوں
Read moreعذاب قسط وار ہوتا ہے جیسے الہامی کتابوں میں قدیم مصر کے عذاب کا ذکر ہے۔ ایک برس دریا نیل کا پانی سرخ ہو کر زہریلا ہو گیا، دوسرے برس نیل کے پانی میں کروڑوں مینڈک آ گئے اور پوری سرزمین پر پھیل گئے۔ ایک برس فصل ایسی اچھی آئی کہ لوگ لہلہا اٹھے اور دوسرے برس ایسی خشک سالی آئی کہ آنکھیں پتھرا گئیں، پھر اگلے برس زراعت اچھی ہوئی تو اچانک مشرق سے ٹڈی دل اٹھا اور یہاں سے وہاں تک فصل چٹ کر گیا۔
ایک برس ایسی وبا آئی کہ مصر میں پہلوٹی کے سب بچے مر گئے اور ایک سیلاب کے سبب نیل نے اتنا راستہ چھوڑ دیا کہ کنارے آباد شہروں میں ریت بھرنے لگی۔ الغرض لگ بھگ دس عذاب ہیں جو اتنی ہی مدت پر پھیلے ہوئے ہیں۔
Read moreہمارے معیار کے اعتبار سے کسی بھی گناہگار یا بے گناہ کا پولیس کے ہاتھوں ٹارچر یا غلطی سے مرجانا، تھوڑی بہت ہاہا کار مچنا اور پھر اسی طرح کے اگلے واقعے تک زندگی معمول پر آجانا کوئی بڑی بات نہیں۔
ریاست، عدلیہ اور عام آدمی سب نے ایسے واقعات و سانحات کو ایک ناخوشگوار معمول سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے ایسے ممالک میں قانون محض کاغذی ہے لہذا مثالی انصاف کا حصول ناممکن ہے۔ ابھی ہمیں تہذیب کے اگلے مرحلے تک پہنچنے تک کئی عشرے درکار ہیں۔
Read moreتشکیک کے عنصر سے بنے انسانی ذہن کو ہر نئی صورتِحال سمجھنے اور قبول کرنے میں ایک ضروری مدت درکار ہوتی ہے۔ چنانچہ سمجھنے سمجھانے میں ہی اکثر بہت سا قیمتی وقت نکل جاتا ہے اور کوئی بھی واقعہ وقوع پذیر ہو جانے کے باوجود ایک عرصے تک ذہن پر قسط وار کھلتا چلا جاتا ہے۔ نہیں نہیں یہ ان کی بیماری ہے، ہمارا اس سے کیا لینا دینا۔ نہیں نہیں یہ بیماری نہیں سازش ہے۔ ہاں ٹھیک ہے، یہ بیماری
Read moreمیری بلا سے سردرد کی پیٹنٹ گولی دس روپے کی آئے کہ سو کی۔مجھے تو کوئی بس یہ بتا دے کہ کیا دس روپے کی گولی بیس روپے کی ہونے کے بعد خالص ملے گی ؟ یہ سوال یوں پیدا ہو رہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی ڈرگ مارکیٹ میں جعلی دواؤں کا تناسب چالیس سے پچاس فیصد (دیہی علاقوں میں لگ بھگ اسی فیصد) کے درمیان بتایاجاتاہے۔چند بڑے شہر چھوڑ کے قصبات اور دیہات دو نمبر بلکہ تین
Read moreہم اور ہمارے بڑے تو ہر برس کی طرح اس سال بھی بس باتیں ہی بگھارتے رہ گئے کہ عید سادگی سے منانا چاہیے اور آس پاس کے لوگوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔
پر اچھا یہ ہوا کہ اس بار کورونا بھی سادگی کے عملی معنی دیکھ کر سٹپٹا گیا۔ باقی دنیا میں بھلے جو بھی تماشا ہو رہا ہو۔ ہمارے ہاں کورونا آگے آگے اور لوگ پیچھے پیچھے ہیں۔
آصف زرداری نے صدر بننے کے بعد گڑھی خدا بخش میں جب یہ الفاظ کہے تھے تو کورونا پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ ’ارے موت ہمیں کیا ڈرائے گی۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو موت کا تعاقب کرتے ہیں۔‘
Read moreسرکاری آنکڑوں کے مطابق اس وقت پاکستان میں نابالغ یتیم بچوں کی تعداد بیالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ مگر ان میں سے کتنے اپنے دیگر رشتے داروں کے زیرکفالت ہیں، کتنوں کی دیکھ بھال کی ذمے داری ریاستی و غیر ریاستی فلاحی اداروں اٹھا رہے ہیں اورکتنے اپنی زندگی کو خود لڑھکانے پر مجبور ہیں۔ اس بابت جتنے منہ اتنی باتیں۔
جو بچے اپنا بوجھ خود اٹھا رہے ہیں ان میں بارہ سے پندرہ لاکھ کے درمیان پاکستانی بچے اسٹریٹ چلڈرن یعنی بڑے اور درمیانے پاکستانی شہروں کی سڑکوں اور گلیوں میں رہنے سہنے پر مجبور ہیں۔
Read moreمیں خیرمقدم کرتا ہوں ان سورما جہادیوں کا جنھوں نے گذشتہ منگل کو کابل کے ایک زچہ بچہ ہسپتال میں کافر نوزائیدہ بچوں، ان کی دس دین دشمن ماؤں، اغیار کی ایجنٹ چند نرسوں اور ایک مشرک سیکورٹی گارڈ سمیت چوبیس ناپاک روحوں کو قتل اور سولہ کو زخمی کر دیا اور وہ بھی ایک ایسے ہسپتال میں جس کا انتظام و انصرام یہود و نصاری کی پروردہ تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس این) کے ہاتھ میں ہے۔
Read moreیحییٰ جعفری کورونا سے متاثر پہلے پاکستانی شہری تھے۔ انھیں چھبیس فروری کو آئسولیشن میں بھیجا گیا اور وہ صحت یاب بھی ہو گئے۔ مگر جیسے ہی انھیں کورونا سے متاثر ڈکلئیر کیا گیا۔ کسی نے ان کی تصویر سوشل میڈیا پر شائع کردی اور کچھ چینلوں نے تصویر کے ساتھ خبر بھی نشر کر دی۔ طبی و صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں تو بکھری ہیں مگر یحیی اور ان کے اہل خانہ کے لیے سب سے تکلیف دہ مرحلہ کورونا سے بھی زیادہ لوگوں کے غیرہمدردانہ اور کسی حد تک سفاکانہ تبصرے تھے۔
Read more’بھوک سے ایک انسان مرے تو المیہ ہے۔ دس لاکھ مر جائیں تو محض اعداد ہیں‘ ( جوزف اسٹالن)۔ انفرادی موت زخم اور اجتماعی موت مرہم۔ یعنی درد کا حد سے گذر جانا دوا ہو جانا۔ میں نے پارٹیشن دیکھی نہیں بس کہانیاں سنی ہیں کہ بیس لاکھ انسان قتل اور لگ بھگ ایک کروڑ بے گھر ہوئے۔ جن پر گزری وہ واقعات سناتے ہوئے ذرا بھی افسردہ نہیں ہوتے۔ ان کی گفتگو میں بس یہ خلش جھلکتی ہے کہ
Read more( چوالیس سالہ یووال نوح ہراری اسرائیل کی ہیبرو یونیورسٹی میں تاریخ پڑھاتے ہیں اور ان کا شمار جواں فکر مورخوں کی نئی عالمی کھیپ میں ہوتا ہے۔ تاریخی ارتقا اور مستقبل کے موضوع پر ان کی تین معرکتہ الا آرا کتابیں شایع ہو چکی ہیں، سیپینز (بنی نوع انسان کی تاریخ ) ، ہومودیوس ( مستقبل کی مختصر تاریخ ) اور اکیسویں صدی کے لیے اکیس اسباق۔ ان کتابوں کے چالیس سے زائد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں کورونا کی وبا کے تعلق سے یوال کا ایک مضمون ”کیا کورونا موت و حیات کے بارے میں ہمارا طرز عمل بدل سکے گا“ شایع ہوا۔ پیش خدمت ہیں اس مضمون کے اقتباسات ) ۔
Read moreلگتا ہے کئی برس سے آزاد صحافت شہری حقوق کے کھاتے سے نکال کر جرائم کی فہرست میں ڈال دی گئی ہے۔ حکومتی کارندوں کی ایک اہم ذمے داری یہ بھی قرار پائی ہے کہ کس طرح میڈیا کو پابند سلاسل کر کے منہ سی دیا جائے۔ جیسے جیسے کورونا پھیل رہا ہے، ویسے ویسے میڈیا کی آزادی سکڑ رہی ہے۔ ایک ایسے موڑ پر جب صحت عامہ کے حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ نسبتاً
Read moreجن ممالک نے سنجیدگی سے لاک ڈاؤن کرنا تھا انھوں نے لاک ڈاؤن کر ڈالا۔ عوام کو اس دوران زندہ رہنے کے لیے نقد و جنس کی شکل میں بنیادی مدد بھی فراہم کی۔ ان ممالک کے کارپوریٹ سیکٹر نے بھی کاروبار کی تباہی اور بے روزگاری کا رونا رونے کے بجائے حکومتوں سے پوچھا ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟ حکومتوں نے کہا حفاظتی سوٹ، ماسک، شیلڈز، فیلڈ ہسپتالوں کے لیے بڑی عمارتیں، میدان، ضروری سامان، مفت
Read moreپچھلے ہفتے دو بڑی اموات ہو گئیں اور دونوں کینسر سے ہوئیں۔ ایک وہ ( رشی کپور ) جس کی فلموں کے ساتھ ساتھ میری نسل بڑی ہوئی اور دوسرا وہ (عرفان خان ) جس نے روایتی فلمی فریم توڑ پھوڑ کے رکھ دیا اور تاثراتی و مکالمہ جاتی ادائی کا تصور ہی بدل دیا۔ رشی تسلسل میں چلی آ رہی تھیٹریکل روایت کا وارث تھا۔ اس کی جڑیں اس زمانی مٹی میں پیوست تھیں جب ہیرو ہی کسی فلم
Read moreشرمین عبید چنائے کا ٹویٹ ایک نان ایشو ہے جسے مسلسل کھینچنا وقت گنوانا ہے۔ نواز شریف، عمران خان یا ڈی جی آئی ایس پی آر وغیرہ کی تقاریر یا لمبی لمبی پریس کانفرنسیں محض ایک خبر کے طور پر نشر کرنے کے بجائے براہِ راست اور پورا پورا دکھانا ناظرین اور صحافتی اقدار سے زیادتی ہے۔ یہی نشریاتی وقت حقیقی مسائل اجاگر کرنے میں بھی کھپایا جا سکتا ہے۔ ہر ٹی وی ٹاک شو میں پاناما لیکس یا لیگی
Read moreشاید آپ کو یاد ہو لگ بھگ دو برس پہلے لاہور میں ایک ماں تین معصوم بچے لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گئی۔ ان بچوں کے گلے میں پڑے پلے کارڈز پر لکھا تھا ’غربت کے ہاتھوں مجبور برائے فروخت۔‘ اس کے بعد کئی شہروں میں پریس کلب یا مصروف چوک پر ہر چند روز بعد کوئی نہ کوئی مرد یا عورت اپنے بچوں کو ایسے ہی پلے کارڈز پہنا کر سڑک پر لانے لگا۔ شروع شروع میں تو
Read moreنوم چومسکی کا شمار بیسویں اور اکیسویں صدی کے ان گنے چنے روشن خیال دانشوروں میں ہوتا ہے جن کے سیاسی، سماجی و اقتصادی تجزیات و خطابات کو عالمی سطح پر ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ اگر جدید سرمایہ دارانہ نظام کے کھلائے گئے شگوفوں، سپر پاورز بالخصوص امریکا کے فیصلہ سازی کے ظاہری و باطنی نظام اور اس نظام کی ڈوریاں ہلانے والوں کو سمجھنا ہو۔ یا پھر یہ سمجھنا ہو کہ کلاسیکی اور جدید نوآبادیاتی دور نے تیسری
Read moreکیسا لگے اگر کوئی ماہرِ لسانیات کسی آٹو مستری سے کہے کہ تم جس طرح انجن کھول رہے ہو یہ نرا اناڑی پن ہے میں تمھیں انجن کھول کے دکھاتا ہوں ذرا دھیان سے دیکھنا۔ اور اس ماہرِ لسانیات پر کیا گزرے گی جسے کوئی آٹو مستری یہ کہے کہ گرائمر کے بنیادی اجزا کیا ہوتے ہیں؟ میں تمھیں ان کی مشق کرواتا ہوں۔ اس پنواڑی کو آپ کیا کہیں گے جو کسی پولیس والے کو بتائے کہ بندوق کیسے
Read moreعالمی ادارہِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی حکومت لاک ڈاؤن تب ہی نرم کرے جب چھ بنیادی شرائط پوری کر لے۔ اول وائرس کے عمومی پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا گیا ہو، دوم، صحت کے ڈھانچے اور نظام میں اتنی سکت اور صلاحیت ہو کہ آبادی کے ایک بڑے حصے کی ٹیسٹنگ کے نتیجے میں متاثرہ افراد کو فوری طور پر الگ کر کے ان کو قرنطینہ اور علاج کی سہولت فراہم کی جا سکے۔سوم، اسپتالوں اور
Read moreپیسہ اور آزمائش۔دونوں صورتوں میں آدمی کا سارا ملمع اتر جاتا ہے، قلعی اکھڑ جاتی ہے، اصلیت دکھ جاتی ہے اور اندر پرت در پرت پوشیدہ اچھائی اور برائی یوں سامنے آ جاتی ہے گویا رنگین ایکسرے فلم۔ جب پیسہ ملتا ہے تو یا ہل من مزید کی لالچ اسے ترنت گود لے لیتی ہے یا پھر سخاوت کی چادر اسے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔پیسے والا یا تو انتہائی کنجوس ہو گا یا پھر دوسروں کے دکھ درد بانٹنے
Read moreبرطانوی ماہرِ حیاتیات جین گوڈال کا شمار ان چند گنے چنے سائنسی محققین میں ہے جنھوں نے اپنی زندگیاں جنگلی جانوروں کی عادات و اطوار اور ارتقا کا مطالعہ کرنے میں کھپا دی۔ دو روز پہلے ہی نیشنل جیوگرافی نے اس 82 سالہ محقق کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ’جین گوڈال ایک امید ‘ کے نام سے دستاویزی فلم کا اجرا کیا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جین گوڈال نے کہا کہ جب تک
Read moreچین سامان تو بھیج ہی رہا ہے۔ ساتھ ساتھ پاکستانی فیصلہ سازوں کی تیاری اور ذہن کا جائزہ لینے کے لیے حال ہی میں اس نے طبی ماہرین کی نو رکنی ٹیم بھی بھیجی۔یہ ٹیم انتظام و صحت کے وفاقی و صوبائی عمل داروں سے ملی اور چند مفید مشورے بھی دیے نیز وہ مجربات بھی بتائے جن کی مدد سے چین اس وائرس کو فی الحال پسپا کرنے میں کامیاب ہوا۔ یعنی جزوی کے بجائے مکمل لاک ڈاؤن۔اس سے
Read more’’مدد یوں کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو‘‘۔
یہ وہ بات ہے جو ہر بچہ اسلامیات یا اخلاقیات کی درسی کتاب میں پڑھتا ہے۔مگر جب میں نے وہ تصویر دیکھی جس میں جدید ریاستِ مدینہ کے بانی اعلی حضرت ایک برقعہ پوش خاتون کو امدادی سامان کو ڈبہ تھما رہے ہیں اور ان کے برابر میں برطانیہ میں طویل زندگی بسر کر کے خدمتِ وطن کے لیے واپس لوٹ کر پنجاب کی گورنری سنبھالنے والے چوہدری محمد سرور اور وزیرِ اعلی پنجاب جناب عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس اور مشیرِ اطلاعات محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ایم بی بی ایس اور ان کے برابر میں ایک بیوروکریٹ کھڑے ہیں۔ ان میں سے کسی نے نہ ماسک پہنا ہے نہ ضروری فاصلہ برقرار رکھا ہے۔بس وزیرِ اعظم کے پیچھے فاصلے سے کھڑے دو اسٹافرز نے ماسک لگایا ہوا ہے ۔
Read moreجس کھڑکی کے قریب بیٹھ کر میں لکھائی پڑھائی کا کام کرتا ہوں، اسی کھڑکی کے باہر کونے میں چڑیا نے آج اپنا گھونسلہ مکمل کر لیا۔ اس کی آٹھ، نو سہیلیاں اور ایک طوطا مبارک باد دینے آئے ہیں۔ ایک چہچہاتی ہاؤس وارمنگ پارٹی چل رہی ہے۔
حالانکہ یہ سب مجھے دیکھ رہے ہیں مگر ان کی چُوں چُوں اور ٹیں ٹیں میں کوئی وحشت نہیں۔ ویسے بھی کمرے میں مقید جاندار سے کسی کو کیا ڈرنا۔
Read moreاسلام آباد کی جو زیریں عدالت پچھلے ڈھائی برس سے لال مسجد کے منتظم غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل کی سماعت کر رہی ہے اس مقدمے میں مطلوب واحد ملزم جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آج تک اپنے روبرو نہیں دیکھ سکی۔ حالانکہ یہ عدالت اس عرصے میں تین بار جنرل صاحب کے ناقابلِ ضمانت گرفتاری وارنٹ نکال چکی ہے۔ تازہ وارنٹ گذشتہ روز جاری کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز قادر میمن نے کہا کہ ملزم جان بوجھ
Read moreسب ریاستوں کے لیے عالمی ادارہِ صحت کی بنیادی نصیحت ایک ہی ہے۔ لاک ڈاؤن اور ٹیسٹنگ۔ اگر صرف لاک ڈاؤن ہو تو بھی کام نہیں چلے گا اور لاک ڈاؤن کے بغیر ٹیسٹنگ ہو تو بھی کام نہیں چلے گا۔ مگر ہم جیسے ممالک جن کے پاس وسائل کی چادر بس اتنی ہے کہ منہ ڈھانپیں تو پیر کھلتے ہیں اور پیر ڈھانپیں تو منہ ننگا ہوتا ہے، آخر کیسے لاک ڈاؤن اور عمومی ٹیسٹنگ بیک وقت کر سکتے ہیں؟
دنیا میں اس وقت روایتی ٹیسٹنگ کٹس محدود تعداد میں ہیں لہذا انھی لوگوں کے ٹیسٹ کے لیے استعمال ہو رہی ہیں جن میں کورونا جیسی علامات پائی جاتی ہیں یا پھر ان کی ٹیسٹنگ ہو رہی ہے جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ کسی کورونا زدہ سے براہِ راست رابطے میں رہے ہیں اور وائرس کے ممکنہ کیریر ہو سکتے ہیں۔ پھر ان ٹیسٹوں کے نتائج کے لیے دو تین روز انتظار بھی کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ چند مخصوص لیبارٹریاں ہی یہ ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
مگر حوصلہ افزا اطلاع یہ ہے کہ اس وقت پاکستان، امریکا، جرمنی، سینیگال، جاپان سمیت کئی ممالک میں ایسی سستی ٹیسٹنگ کٹس کی تیاری اور بڑے پیمانے پر کم سے کم وقت میں مارکیٹ کرنے کی سرتوڑ کوشش ہو رہی ہے جو اتنی آسان ہوں کہ کوئی بھی مشتبہ شخص شوگر ٹیسٹ کے طرح خود اپنا ٹیسٹ کر سکے اور اس ٹیسٹ کا نتیجہ بھی دس سے پندرہ منٹ میں آ جائے۔ البتہ ایسی ٹیسٹنگ کٹس کی مارکیٹنگ جون جولائی سے پہلے ممکن نہیں۔ مگر کورونا جس رفتار سے پھیل رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے جون جولائی کئی برس دور لگ رہا ہے۔ پھر کیا کیا جائے؟ لاک ڈاؤن میں سختی کی جائے اور ان طبقات و گروہوں کی ٹیسٹنگ ترجیحی بنیاد پر کی جائے جو زیادہ خطرے میں ہیں۔ یہ ممکنہ طبقات اور گروہ کون سے ہیں؟
Read moreاگرچہ روس، چین، جنوبی کوریا اور جاپان کو کورونا نے جکڑ رکھا ہے مگر ان چاروں ہمسائیوں کے عین بیچ میں پڑے ہوئے شمالی کوریا کا دعویٰ ہے کہ ہمارے ہاں کورونا کا ایک بھی مریض نہیں اور جس نے افواہ پھیلائی اسے توپ دم کر دیا جائے گا۔
شمالی کوریا نے سچائی ثابت کرنے کے لیے اسی مہینے میں چار میزائلی تجربے کیے۔ چین نے شمالی کوریا کو تکنیکی مدد دینے کی پیش کش کی مگر ریاست کے مالک عزت ماآب کم جونگ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال ہمیں ضرورت نہیں بلکہ الٹا انھوں نے جنوبی کوریا کو ہمدردی کا پیغام بھیجا ہے۔
Read moreبھلے چودھویں صدی عیسوی کے پسماندہ یورپ میں پھیلنے والا طاعون ہو جو یورپ کی ایک تہائی آبادی چٹ کر گیا یا پھر بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پھیلنے والا اسپینش فلو جو پہلی عالمی جنگ کے اختتامی مراحل میں شروع تو یورپ کے محاذ پر ہوا لیکن جب جنگ سے لوٹنے والے برطانوی ہند کے دیسی سپاہی اسے اپنے ساتھ وطن لائے تو اگلے دو برس میں یہ فلو دو کروڑ ہندوستانیوں کو چٹ کر گیا۔ اب تک
Read moreعالمی ادارہِ محنت نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومتوں نے مربوط حکمتِ عملی نہ بنائی توآنے والے دنوں میں کورونا وائرس کم ازکم ڈھائی کروڑ ملازمتیں مستقل ختم کر دے گا اور موجودہ طبی بحران کی جگہ طویل المعیاد معاشی بحران لے لے گا۔ ویسے طبل بج چکا ہے۔اب تک کی صورتِ حال کو اگر تخمینے کی کسوٹی بنایا جائے تو اگر آج کورونا کی وبا تھم بھی جائے تب بھی اگلے دو سے تین برس تک عالمی معیشت
Read moreویسے تو انسان جاتی ہی بہت عجیب ہے مگر انسانوں میں بھی اگر قسم بندی کی جائے تو ہم جنوبی ایشیائی سب سے الگ ہیں۔ سو روپے کے ادھار پر قتل کر دیں گے، خاندانی و دینی غیرت کے مارے سر اتار دیں گے، ہمیشہ اپنے کے بجائے دوسرے کو مشورہ دیں گے، بات بے بات ریاستی نااہلی کو اپنے انفرادی و اجتماعی افعال کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ لیکن جب آزمائش کا وقت آئے گا تو عقل کے ایٹم
Read moreیہ وائرس کا حملہ نہیں، تیسری عالمی جنگ ہے۔ جس میں ایسے دشمن سے پالا پڑا ہے جس کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آیا ہے، کب تک رہے گا اور فاتح ہو گا کہ پسپا۔ ایسے میں ذرا سی بھی کامن سینس والا شخص توقع رکھتا ہے کہ میڈیا ذمے داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس جنگ میں ایک پروفیشنل اور تمام متعلقہ اداروں کی رابطہ کاری میں ہاتھ بٹانے والا سپاہی ثابت ہو
Read moreہر انسان میں کوئی نہ کوئی جانور پوشیدہ ہے جو آزمائش کی گھڑی میں اندر سے نکل آتا ہے۔انسان کی اصلیت جاننے کی جو چند کسوٹیاں ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی شخص کے کھانے پینے کے آداب کیا ہیں۔وہ لین دین میں کتنا پکا یا کچا ہے اور آزمائش کی گھڑی میں اس کا کردار اندر سے کیا نکل کے آتا ہے۔ جیسے فسادات کے دوران بہت سے لوگ سامنے والے کو بغیر جانے مارنے پیٹنے
Read moreآج کل سب سے زیادہ مزے میں وہ ہے جس کی یا تو گرد و پیش کے حالات تک رسائی نہیں یا ہے بھی تو اسے اپنے محلے یا شہر یا صوبے یا زیادہ سے زیادہ ملک سے باہر کے حالات جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ آگہی سے زیادہ فروغِ جہل کا آلہ بنا ہوا ہے۔ کورونا کے بارے میں ہر سنی سنائی بات یا پوسٹ بلا تصدیق اور پوری طرح پڑھے بغیر دکھی انسانیت کے جذبے
Read moreحضرت علی ابن ابی طالب کا ایک قول یہ بھی ہے کہ غصہ دیوانگی سے شروع ہو کر ندامت پے ختم ہوتا ہے۔اس قول کی صداقت پرکھنے کے لیے اگر کوئی سامنے کی مثال درکار ہو تو افغانستان حاضر ہے۔نائن الیون کے ایک ماہ بعد امریکا نے ٹھنڈے دل سے حکمتِ عملی بنانے اور عمل کرنے کے بجائے عالمِ طیش میں افغانستان پر ہلہ بول دیا اور اپنے القاعدہ دشمنوں کے خفیہ تعاقب کے بارے میں سوچنے کے بجائے پوری
Read moreایک نقطہ محرم کو مجرم بنانے کے لیے کافی ہے لہٰذا ترجمہ ہمیشہ احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ لفظ کے پیچھے پوری ثقافتی و سماجی تاریخ ہوتی ہے۔
جیسے سیاحوں کو ٹریول گائیڈز پر علاقے کی حساسیت اور کس اشارے کا کیا مطلب لیا جا سکتا ہے، سمجھاتے ہیں اسی طرح ترجمہ کرتے وقت بھی یہی اصول پیشِ نظر رہنا چاہیے ورنہ بات کہیں سے کہیں نکل کے کیا سے کیوں ہو جاتی ہے۔
Read more( کل دو مارچ کو معروف ویب سائٹ اسکرول پر ارون دھتی رائے کا ایک مضمون شائع ہوا۔جب رائے جیسے لکھاری لکھ رہے ہوں تو مجھ جیسوں کو ان کے سامنے با ادب بیٹھ کر صرف دھیان سے سننا چاہیے۔ پیشِ خدمت ہے اس مضمون کی تلخیص )۔ ابھی چند ہی دن پہلے حکمران جماعت کی اشتعال انگیز تقریروں سے مسلح فاشسٹ ہجوم شمالی مشرقی دہلی کی مسلمان اکثریتی بستیوں پر اس اطمینان کے ساتھ چڑھ دوڑا کہ پولیس خاموش
Read moreاب تو خیر 1947 میں قتلِ عام کرنے والی نسل کے بہت کم لوگ باقی بچے ہوں گے۔ مگر شمالی ہندوستان سے اٹک تک آج بھی کسی بھی پچاسی نوے برس کے بوڑھے سے پوچھ لو قاتل کون تھے؟ ہر بوڑھا بتائے گا ہم نہیں تھے۔ مارنے والے باہر سے آئے تھے۔ اور مرنے والے؟ وہ تو سب یہیں کے تھے اسی محلے کے۔ کسی نے کسی کو بچایا؟ ہاں جی میں نے کرم چند کو بچایا، ہاں جی میں
Read moreریاست بنانے کا مقصد ہی یہی تھا کہ وہ انفرادی آزادیوں پر کچھ پابندیوں اور روزمرہ انتظام چلانے کے اخراجات کی وصولی کے عوض تمام شہریوں کو بلا امتیاز جان و مال کے تحفظ سمیت بنیادی سہولتیں فراہم کرے اور کسی اور کو ریاست کے اندر ریاست نہ بننے دے۔ عرض یوں ہے کہ خدا کو چھوا تو نہیں جاسکتا لیکن طرح طرح سے محسوس ضرور کیا جاسکتا ہے۔ بالکل اسی طرح ریاستی اختیار نام کی شے آپ کو کسی ٹھیلے پر نہیں ملے گی۔
اگر ریاست مساویانہ و منصفانہ پالیسی بنانے اور نفاذ کرنے میں ناکام ہو گی تو پھر یا تو وہ ظلم کا سہارا لے گی یا پھر اس کا اختیار مٹھی میں بند ریت کی طرح گرتا اور لٹتا چلا جائے گا۔ یہ وہ پھسل منڈا ہے جس سے اگر ریاست کا پیر رپٹ جائے تو اپنے ہی بوجھ سے خود کو نیچے ہی نیچے جانے سے نہ روک پائے۔
Read moreپاکستان اپنے قیام کے بعد نو برس گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ مجریہ انیس سو پینتیس سے اپنی آئینی ضروریات پوری کرتا رہا۔تاآنکہ انیس سو چھپن کا آئین اختیار کیا گیا جس کے تحت طاقت کا سرچشمہ قومی اسمبلی قرار پائی۔مگر یہ آئین ٹھیک طرح سے آزمائے جانے سے پہلے ہی نوزائیدگی میں پہلے مارشل لا کے ہاتھوں محض پونے دو برس کی عمر میں قتل ہوگیا۔ اس کی قبر سے چار برس بعد انیس سو باسٹھ کا صدارتی آئین نمودار
Read moreسلویٰ اس وقت تین سال کی ہے، اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ پناہ گزیں ہے۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔ اسے بس یہ سکھایا گیا ہے کہ دھماکے کی آواز سن کر روتے نہیں ہنستے ہیں۔ کیونکہ دھماکہ ایک کھیل ہے اور کھیل ڈرنے کے لیے نہیں بلکہ انجوائے کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ جتنا شدید دھماکہ ہو اتنا ہی زور سے ہنسنا چاہیے۔ یہ کھیل سلویٰ کو اس کے والد عبداللہ المحمد
Read moreشاید آپ نے گزشتہ ہفتے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وہ ویڈیو دیکھی ہو جس میں اسلام آباد کے ایک پٹرول اسٹیشن پر ایک پولیس والا ایک خاتون ڈرائیور کو ٹریفک کے کسی قانون کے بارے میں پنجابی میں سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ خاتون چیخ رہی ہیں کہ اس جاہل نے پنجابی میں مجھ سے بات کر کے بدتمیزی کی ہے۔ مجھے اس خاتون پر قطعاً غصہ نہیں آیا کیونکہ پنجاب واحد صوبہ ہے
Read moreتھرپارکر کے ایک گاؤں میں دونوں بازؤں سے محروم ایک مڈل پاس لڑکی اپنی جھونپڑی میں تیس بچوں اور تیس بچیوں کا اسکول تنِ تنہا چلا رہی ہے۔اس کا نام حسینہ ہے۔واقعی یہ کام کرنے والی حسینہ سے بڑھ کے دنیا میں اور کون حسین ہوسکتا ہے۔ ہم سے بیشتر افراد جسمانی معذوروں کے لیے ایک لمحاتی ہمدردی محسوس کرتے ہوئے آگے نکل جاتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ ان نارمل دماغ و دل کے لوگوں کو ہماری ہمدردی سے
Read moreمیری نسل شاید وہ آخری تھی جس نے سینما میں بلیک اینڈ وائٹ ہندی اردو فلمیں دیکھیں۔ ان فلموں میں کچھ کردار ایسے تھے جن کے بارے میں کسی پیش گوئی یا اندازے لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ مثلاً ولن ہے تو ہوس کا پچاری ہی ہوگا۔ غریب باپ ہے تو مالی، خانساماں یا ڈرائیور ہوگا، امیر شوہر ہے تو بچوں اور بیوی سے بے اعتنائی برتتا ہوگا اور کسی نہ کسی اگلے سین میں سیلیپنگ گاؤن میں ملبوس گول
Read moreپاکستان کی بائیس کروڑ میں سے ساڑھے سات کروڑ آبادی کی رسائی براڈ بینڈ یا موبائل فون انٹرنیٹ تک ہے۔ یعنی آبادی کا لگ بھگ چھتیس فیصد حصہ انٹرنیٹ کے دائرے میں ہے۔
اگر سرکاری ذہن سے سوچا جائے تو گویا ہر تیسرا شہری کسی نہ کسی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے براہ ِ راست فحاشی، فرقہ واریت، ملک دشمنی، سماجی گمراہی اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کی زد میں ہے۔ لہذا یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ان معصوم شہریوں کو جو اچھے بھلے منفی اور مثبت میں تمیز کرنے سے عاری ہیں۔ انھیں خطرناک و منفی مواد سے بچانے کے لیے موجودہ نافذ قوانین کے اوپر مزید حفاظتی ضابطوں کی ایک اور تہہ چڑھا دی جائے تاکہ ڈیجیٹل صارفین کو ملاوٹ و گمراہی سے پاک خالص سوشل میڈیائی مصنوعات میسر آ سکیں اور یوں ان کی ذہنی و قومی صحت کا قبلہ درست رہے۔
Read moreقومی اسمبلی نے جذباتی اکثریت کے ساتھ بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد انھیں قتل کرنے والے مجرموں کو برسرِ عام پھانسی دینے کی قرار داد منظور کر لی۔اس مردانگی پر تالیاں تو بنتی ہیں۔ یہ جو بچے ہم نے پیدا کیے ہیں واقعی ہمارے ہیں؟عجیب سا سوال ہے نا؟ غصہ بھی آنا چاہیے ایسے سوالوں پر۔ چلیے میں آپ سے یہ بات کسی اور طرح سے پوچھتا ہوں۔ یہ جو بچے ہم نے پیدا کیے ہیں آخر ہم ان
Read moreکیا ہم نے کبھی مطالبہ کیا کہ ریاست حمود الرحمان کمیشن رپورٹ باضابطہ طور پر شائع کرے؟
ہم اگلے 50 برس بھی یہ مطالبہ نہیں کریں گے کیونکہ بحثیت ذمہ دار پاکستانی شہری ہمیں اپنے نصف صدی پرانے اس ریاستی بیانیے پر صد فیصد اعتماد ہے کہ مشرقی پاکستان کی محبِ وطن بنگالی اکثریت کو چند مٹھی بھر غداروں نے انڈیا کی مدد سے ورغلانے کی کوشش کی۔
Read moreجب تک آپ یہ سطریں پڑھیں گے تب تک کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد سات سو کا ہندسہ عبور کر چکی ہو گی۔ بلاشبہ چینیوں نے کرونا وائرس کے متاثرین کے علاج کے لیے ایک ہفتے میں تین بڑے اسپتال کھڑے کر دیے ہیں اور ایسے کارنامے چینیوں کے علاوہ فی زمانہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مگر مجھے کرونا وائرس کے مرکز ووہان شہر میں ہونے والی تین اموات کا بہت دکھ رہے گا۔ ایک وہ عمر
Read moreبھارت میں کالی یا نان ریگولیٹڈ معیشت کا حجم اکیس فیصد کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے۔ مگر یہ بھی عالمی بینک کا محض اندازہ ہے۔ پاکستان میں نان ریگولیٹڈ یعنی کالی معیشت کا حجم کیا ہے؟ اس کا آنکڑا ستر سے نوے فیصد حلال معیشت کے برابر بتایا جاتا ہے۔ مگر ٹھیک ٹھیک جانتا کوئی بھی نہیں۔ جیسے یہ کوئی نہیں جانتا کہ اس وقت پاکستان کی آبادی کتنی ہے؟ کسی زمانے میں کہا جاتا تھا کہ بھارت اور پاکستان میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ وہاں ریاست امیر ہے اور عوام غریب جب کہ پاکستان میں ریاست غریب عوام امیر۔ اب لگتا ہے کہ دونوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ وہاں دو فیصد قابلِ ذکر لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ یہاں ایک فیصد سے بھی کم لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔
Read moreیہودی پچھلے تین ہزار برس میں کب کے فنا ہو کر دیگر نسلوں اور قوموں اور جغرافیوں میں گھل مل کے خلط ملط ہو کر کتابِ تاریخ کا حاشیہ ہو چکے ہوتے مگر صرف ایک جملے نے نسل در نسل انھیں بچائے رکھا۔یہ وہ جملہ تھا جو بخت نصر کے قیدی یہودیوں کی زبان پر تھا اور پھر نسل در نسل زبان در زبان یہود در یہود منتقل ہوتا چلا گیا۔ جملہ تھا ’’ یروشلم اگلے برس گر خدا نے
Read moreانگریزی میں ریپ کی اصطلاح موجودہ معنوں میں پندرھویں صدی سے استعمال ہونی شروع ہوئی۔ اس سے قبل ریپ سے مراد لوٹ مار اور استحصال وغیرہ ہوتا تھا۔ لیکن آج ریپ کا ایک ہی مطلب ہے یعنی کسی کے جسم پر طاقت و تشدد کے ذریعے جنسی قبضہ۔ ضروری نہیں کہ یہ طاقت جسمانی ہی ہو۔ نفسیاتی طور پر شکار کا ذہنی کنٹرول حاصل کرکے اس کی رضامندی کے بغیر یا اس کی وقتی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنسی مقاصد پورے کرنا بھی ریپ ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ جیسے کسی ہم جنس یا جنسِ مخالف سے دوستی کرنا اور پھر نشے کی حالت میں یا سوتے ہوئے یا بہلا پھسلا کر دھونس، دھمکی اور تصاویر سمیت بلیک میلنگ کا کوئی بھی طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس کا جسمانی کنٹرول جنسی مقاصد کے لیے حاصل کرلینا۔
Read moreجس طرح ہر بچے کے ذہن میں اللہ میاں یا بھگوان کی اپنی ہی بنائی ہوئی تصویر ہوتی ہے اسی طرح مجھے ریاست ہمیشہ کچھ نہ کچھ آڑی ترچھی، مثبت منفی، ٹیڑھی سیدھی، بنتی بگڑتی شے لگتی ہی رہتی ہے۔
مثلاً ان دنوں بات بے بات ٹیکس لگانے اور نت نئے شعبوں سے ٹیکس نچوڑنے کے لئے ریاست جس طرح کوشاں ہے۔اور اس حقیقت سے بالکل آنکھیں موندے ہوئے ہے کہ ہر گائے کا مطلب محض دودھ دوہنا نہیں ہوتا۔ کچھ گائیں تعلیمی، تجرباتی، افزائشی و لحمیاتی تقاضوں کے تحت بھی پالی جاتی ہیں۔
Read moreپاکستانی دفترِ خارجہ نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ آزاد کشمیر کے بارے میں بھارت کی جانب سے مسلسل خطرناک ارادوں کے اظہار کے بعد اعلیٰ سطح پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان میں باقاعدہ ضم کر لیا جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ افواہیں پچھلے دو تین ہفتوں سے گردش کر رہی ہے اور آزاد کشمیر کے موجودہ وزیرِ اعظم سردار فاروق حیدر سے یہ بات منسوب کی گئی ہے
Read moreسولہویں صدی کے مشہور فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارت کا بھی یہ خیال تھا کہ جانور بالکل گھڑی کی طرح مکینکل ہوتے ہیں، انھیں دکھ درد کا احساس نہیں ہوتا۔ ہر مذہب نے کچھ جانوروں کے گوشت کے استعمال کی اجازت دی اور کچھ کا گوشت ممنوع قرار دیا۔ہر مذہب نے ضرورت کے سوا جانوروں کو خوامخواہ قید کرنے اور بغرضِ تفریح تکلیف و ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا اور پالتو جانوروں سے مہربانی کا سلوک اختیار کرنے کی تاکید
Read moreوقت کے ساتھ ساتھ کرپشن کے معنی بھی بدل گئے۔ بہت پہلے اسی پاکستان میں کسی کو درآمدی یا برآمدی پرمٹ سے نواز دینا، کسی خاص کمپنی یا شخص کے لیے کسی قانون میں عارضی رعایت یا استثنیٰ دینا یا واپس لے لینا حتیٰ کہ سیاسی کارکن کو راشن ڈپو کا لائسنس ملنا بھی کرپشن کے دائرے میں آتا تھا۔ عام آدمی اگر موٹر سائیکل یا فریج لے لیتا تو اہلِ محلہ کی چھیدتی نگاہوں سے بچنے کے لیے وہ
Read more