مجرم کون، سنگتراش یا بت شکن؟
سزا ان مزدوروں کو ملے گی مگر اصل مجرم کون ہے؟ مزدوروں نے وہی کیا جو انھیں مناسب لگا۔ اگر یہ سب غیر مناسب تھا تو یہ علم تخت باہی کے ان مزدوروں تک کس نے نہیں پہنچنے دیا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے
Read moreسزا ان مزدوروں کو ملے گی مگر اصل مجرم کون ہے؟ مزدوروں نے وہی کیا جو انھیں مناسب لگا۔ اگر یہ سب غیر مناسب تھا تو یہ علم تخت باہی کے ان مزدوروں تک کس نے نہیں پہنچنے دیا؟ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے
Read moreجب تک آپ اپنے دوست، ساتھ کام کرنے والے یا ساتھی سے اس کی جنسی فتوحات یا عورتوں کے ساتھ روا رکھی ہوئی دیگر بد تمیزیوں کا ذکر سن کے لطف لینے کی بجائے اس کے منھ پہ طمانچہ مارنے کی ہمت پیدا نہیں کریں گے یہ معاشرہ نہیں سنور پائے گا۔ پڑھیے آمنہ مفتی کا کالم
Read moreوزیراعظم کی تقریب حلف برداری سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب وزیراعظم کی زبان نہ پھسلی ہو۔ وزیراعظم کی زبان پھسلتی ہے، ان کی کابینہ کے ارکان کی زبان پھسلتی ہے، ان کے صوبائی وزرا کی زبان پھسلتی ہے اور ان کے ووٹرز، سپورٹرز کے منہ سے ان کے دفاع میں مغلظات کا طوفان ابلتا ہے۔
زبان کا پھسلنا، مشہور نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کے نزدیک اتفاق نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ غلطی ہوتی ہے۔ انسان کا تحت الشعور جان بوجھ کر زبان سے ایسے جملے ادا کرا دیتا ہے جو اس کے اعصاب پر طاری بوجھ کو ہلکا بھی کرتے ہیں اور اس کے لاشعور میں چھپے، خوف، جھوٹ یا خواہش کو بے نقاب بھی کرتے ہیں۔
دوسری طرف گالیاں دینے اور گندے الفاظ استعمال کرنے والوں کو بھی نفسیات دان ایک خاص اصطلاح ’اے ٹائپ 2‘ سے یاد کرتے ہیں یعنی ایسے لوگ بھی دماغی طور پر صحت مند نہیں ہوتے۔
Read moreلیجیے صاحب! جو سارا ہنگامہ تھا، جس کے لیے ہزاروں سال سے لوگ پیش گوئی کر رہے تھے اور وعید دینے والے کہتے تھے کہ جب وہ گھڑی آئے گی تو سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا ۔ وہ گھڑی آ گئی۔
ہمیں واٹس اپ پہ قریباً تین سو سے زائد پیغامات موصول ہوئے کہ اتوار یعنی اکیس جون دو ہزار بیس کو صبح گیارہ بج کے پنتالیس منٹ پہ دنیا ختم ہو جائے گی۔
Read moreکورونا کی وبا آخر کار پھوٹ پڑی اور پاکستانیوں کی سب خوش فہمیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ نہ بی سی جی کی ویکسین کام آئی، نہ ریسوچن کی گولیوں نے کام دکھایا اور نہ ہی ہمارا مشہور زمانہ موسم گرما ہی اس کا کچھ بگاڑ سکا۔
یہ وبا آفت کی صورت، دندناتی ہوئی آئی اور ہماری گلیوں بازاروں میں پھیل گئی۔ کئی دہائیوں سے سکھ چین کی زندگی گزارنے والے انسانی ذہن نے اس وبا کو رد کر دیا۔ عین اسی طرح جیسے کچھ لوگ اپنے پیاروں کی موت کو قبول نہیں کرتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ زندہ ہیں۔ صدمہ ان کے اعصاب کو شل کر دیتا ہے۔
Read moreامریکہ میں جارج فلائیڈ کا سانحہ بپا ہونے سے پہلے اور شروع کے دنوں میں جب بات اتنی بگڑی نہ تھی، صدر ٹرمپ اور مائیک پومپیو، کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے میں چین کی طرف ڈھکے چھپے اشارے کر رہے تھے۔
چین کے اخبارات میں جوابی وار کیے جا رہے تھے۔ ذہن میں بار بار تارڑ صاحب کا ناولٹ ‘فاختہ’ آ رہا تھا۔ جس میں فینسی ڈریس کی ایک رات، فاختہ اور خرگوش کی عقاب اور ریچھ کے ہاتھوں گت بنتے دیکھ کر ہاتھی کے ٹھٹھے لگانے پر ایک بے بس اژدها بار بار پھنکارتا تھا کہ ایک بار میرے دانت نکلنے دو پھر دیکھنا۔
Read moreپچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک خبر بہت اچھلی۔ ایک خاتون نے اپنے شوہر کو ان کی محبوبہ کے گھر میں جا پکڑا۔ چونکہ یہ ویڈیو کسی طرح لیک ہوگئی یا کر دی گئی تو اس پہ طرح طرح کے تبصرے ہوئے۔ ان خاتون کے بقول وہ اپنی شادی شدہ زندگی بچانے کے لیے یہ سب کر رہی تھیں۔ مشرق میں عموماً اور پاکستان اور انڈیا میں خصوصاً شادی ایک رومانی تصور ہے۔ لڑکا پیدا ہوتے ہی اس کے سہرے گائے جانے
Read moreرات گئے مفتی منیب الرحمن نے چاند نظر آنے کا اعلان کیا اور آج پاکستان میں عید منائی جارہی ہے۔ یہ عید ایسے دنوں میں آئی ہے جب کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پاکستان میں بھی بیماری تیزی سے پھیلتی جارہی ہے لیکن، انسانی فطرت میں ایک عجیب سی لچک ہے۔ وہی لوگ جو چند سو مصدقہ مریضوں کی خبر سن کر رد بلا کے لیے چھت پہ چڑھ کر اذان دے رہے تھے، آج بے فکری سے بازاروں میں گھوم رہے ہیں۔ خوف، احتیاط اور انسانی فطرت، آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔
پرسوں پی آئی اے کی عید فلائٹ کے سانحے کے بعد کتنے ہی لوگ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ موت جہاں، جیسے، جس کی، جب لکھی ہے وہ آ کے رہے گی۔ درست کون ہے، غلط کون؟ یہ فیصلہ بھی کوئی نہیں کر سکتا۔ اس بدقسمت فلائٹ میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو عید منانے اپنے گھر جا رہے تھے۔ رن وے کی پٹی پانچ کلومیٹر کی دوری پہ تھی اور قضا ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی۔ کون جانتا تھا کہ اس سفر کا انجام یہ ہوگا؟
Read moreپی ٹی وی پر ارطغرل کی کھڑکی توڑ نمائش جاری ہے اور لوگوں کو پی ٹی وی کا سنہرا زمانہ یاد آنے لگا ہے۔ جب اس دور کے مقبول ڈراموں کو دیکھنے کے لیے سڑکیں ویران ہو جایا کرتی تھیں۔ بقول شخصے، پی ٹی وی کا مردہ گھوڑا زندہ ہو گیا ہے مگر ’یہ جینا بھی کوئی جینا ہے ببوا؟‘
تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر بہت عجیب طرح سے۔ سڑکیں تو آج بھی ویران ہیں مگر اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ پی ٹی وی کی ٹی آر پیز اور یوٹیوب سبسکرائبرز بے تحاشا بڑھ رہے ہیں مگر اس کے پیچھے پی ٹی وی کی ذاتی قابلیت کی بجائے مانگے کی ضیا ہے۔
Read moreفیض صاحب کا مصرعہ ہے، ”چاند کو گل کریں تو ہم جانیں“ اسی مصرعے پہ اسامہ صدیق صاحب نے ایک اعلی درجے کا ناول لکھ مارا۔ چونکہ ناول انگریزی بلکہ شدھ انگریزی میں ہے تو اس کا نام ”snuffing out the moon“ ہے۔ ناول موصول ہوا تو لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ فرصت کے رات دن میں اس سے اچھا مشغلہ کیا ہو گا کہ دھریکوں کی کاسنی کلیوں کی چھاوں میں ایک دلچسپ ناول لے کے وقت کاٹا جائے۔
Read moreمارچ کے وسط میں جب پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاو کے لیے سکول، کالج بند کیے گئے تو اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو اسے ڈینگی کی طرح ہفتے دو ہفتے میں قابو آنے والی وبا سمجھ رہے تھے۔ لاک ڈاون شروع ہوا تو بہت سے دوست احباب نہایت یقین سے ایک عالمی سازش کی نشاندہی کرنے لگے، جس کا نقشہ تل ابیب میں بنا تھا اور جس کے ڈانڈے پنٹاگون اور امریکی صدارتی انتخابات سے جا کر ملتے
Read moreقصّوں کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں کہ کسی علاقے پہ آفت آتی تھی، خشک سالی یا کسی وبا کا سامنا ہوتا تھا تو سیانی قومیں تو ان سے نمٹنے کے لیے عملی اور موثر قدم اٹھاتی تھیں، مگر احمق اور برباد ہو جانے والی قوموں کا سنا کہ لڑکیوں اور عورتوں کی بھینٹ چڑھایا کرتی تھیں۔ نتیجہ ظاہر ہے تیر یا تکے والا ہی ہوتا تھا۔ انسانی تہذیب ترقی کے مدارج طے کرتی ہوئی بہت آگے آ چکی ہے۔ آج
Read moreاگر آپ کا بچپن پنجاب کے دیہات میں گزرا ہے تو ممکن ہی نہیں کہ آپ پنجاب کی مقامی جڑی بوٹیوں سے آشنا نہ ہوں۔ اگر آپ ان کے نام نہیں بھی جانتے ہوں گے تو کسی کھیت کی مینڈھ پر، کسی سڑک کے کنارے، کسی فٹ پاتھ کی گھاس میں، کہیں بھی آپ کو یہ کسی پرانے آشنا کی طرح اچانک مل جاتی ہوں گی، ایک ایسے آشنا کی طرح جس کا نام تو یاد نہیں ہوتا مگر اسے
Read moreکووڈ 19 کی وبا دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا میں پھیل گئی۔ لاکھوں مصدقہ مریض، لاکھ سے اوپر اموات، اجتماعی قبریں اور اپنے اپنے گھروں میں دبکی بیٹھی دنیا، بالکل جیسے کسی پوسٹ ایپو کلپس فلم کے مناظر۔ کئی دہائیوں کے امن اور سکون کے بعد جو یہ آفت آئی ہے تو لوگ یقین نہیں کر پا رہے۔ اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اس مرض کا شکار ہوا ہے؟ کیا آپ نے
Read moreلاک ڈاون کو تیسرا ہفتہ ہونے کو آیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ کارِ جہاں جسے ہم دراز سمجھتے تھے کچھ ایسا دراز بھی نہیں۔ سارا دن شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے، سارا ہفتہ ایک شہر سے دوسرے شہر اور سارا سال ایک ملک سے دوسرے ملک بھاگے بغیر بھی زندگی گزر جاتی ہے اور اچھی خاصی گزر جاتی ہے۔ وبا، قدیم زمانے کی کسی منتقم دیوی کی طرح کسی ملک میں اپنے پنجے گاڑ لیتی ہے۔ آج
Read moreچھوت کی بیماری کووڈ 19 پاکستان میں آ چکی ہے اور پھیل رہی ہے۔ روز سینکڑوں نئے مریضوں کی تشخیص ہو رہی ہے ان میں ابھی زیادہ تر وہ ہیں جو حال ہی میں کسی دوسرے ملک سے آئے ہیں۔ ایران سے آئے ہوئے زائرین میں بھی بڑی تعداد میں متاثرین شامل ہیں۔ ملک کے کچھ حصوں میں فی الحال منگل تک لاک ڈاون ہے اور بین الاقوامی پروازیں معطل کی جا چکی ہیں مگر بیماری ملک میں آ چکی
Read moreپاکستان سمیت پوری دنیا اپنے اپنے گھروں میں سمٹی بیٹھی ہے۔ موت، گلیوں بازاروں میں دندناتی، ایک ملک سے دوسرے ملک، ایک براعظم سے دوسرے براعظم, دھمال ڈالتی، دانت نکوسے پھر رہی ہے۔ چین کے شہر ووہان کے ایک بازار سے پھیلنے والا، کورونا وائرس اب ایک عالمی وبا بن چکا ہے۔ سکولوں کالجوں، یونیورسٹیوں کے امتحانات، کانفرنسیں، شادیاں، کھیل کے مقابلے، بڑے اجتماعات، عالمی سفر، سب بند ہیں۔ کورونا وائرس پاکستان میں بھی پہنچ چکا ہے۔ حکومت ابتدائی حفاظتی
Read moreسنتے آئے ہیں کہ قدیم زمانے میں جادوگر، منتر پڑھ کے انسان کو جانور بنا دیا کرتے تھے، کوئی اسم پھونک کے پورے شہر کو پتھر بنادیتے تھے، ’کھل جا سم سم‘ کے چار لفظ پہاڑ میں دراڑ ڈال دیا کرتے تھے ۔ تشکیک پسند فطرت کو لگتا تھا یہ سب کہانیاں ہیں، مگر ہر کہانی فکشن نہیں ہوتی کچھ کہانیاں حقیقت بھی ہو تی ہیں۔
’میرا جسم، میری مرضی‘ وہ منتر ہے کہ جس نے پل بھر میں کیسے کیسے لوگوں کے چہروں سے نقاب نوچ کر اصل چہروں کو برہنہ کر دیا۔ ادہان چر کے بھاڑ سے کھل گئے اور زبانیں کترنی کی طرح چلنے لگیں۔ مغلظات کے طوفان ابل پڑے اور صدیوں سے عورت کا حق مارے، اس کی طاقت سلب کئے اس کے سر پہ پدر شاہی نظام کی بساط بچھائے عفریت نما لوگوں کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا۔
Read moreدو چھتی میں جست کے سیاہ روغن سے رنگے ٹرنک میں بڑا سا ہضمی قفل لگا ہوا تھا۔ جسے سو جتنوں سے کھولنے کے بعد صندوق سے نکلی بھی تو ایک شکستہ، سرورق پھٹی کتاب۔ اس کتاب کے دوسرے صفحے پر یہ تحریر لکھی تھی۔
’دِلی دل دینے کے قابل تھی مگر ہم ہی دل والے نہ تھے۔‘
یہ کتاب ہمارے ابا کے رشتے کے ماموں مرزا اجمل بیگ کے سامان سے نکلی۔ لکھنے والی کوئی خاتون تھیں۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ دلی کے بارے میں مجھے بس اتنا معلوم تھا کہ جو بچہ بڑوں کی محفل میں زیادہ شور مچاتا، کوئی نہ کوئی پکڑ کر اسے ’دلی دکھا دیتا۔‘ یہ دلی دکھانا کیا تھا؟ وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنھوں نے بچپن میں دِلی دیکھی ہو۔
Read moreپچھلے چند برس سے دنیا بھر میں عموماً اور ہمارے ملک میں خصوصاً ادبی میلوں اور ان میلوں میں لگے ٹھیلوں کا رواج روز افزوں ہے۔ چند برس پہلے یہ میلے بپا ہونے شروع ہوئے تو ہمارے کان کھڑے ہوئے۔ نو آموزوں کے کان یوں بھی بات بے بات کھڑے ہو جاتے ہیں کھڑکنے جو ٹھہرے۔ خیر، جے پور لٹریچر فیسٹیول وہ پہلا ادبی میلہ تھا جس کی ہمیں کچھ سن گن ملی۔ میلہ اور وہ بھی ادبی میلہ، جاٹ
Read moreدنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ بدلتی رہتی ہے۔ سیاست کے پلڑوں میں وقت کے باٹ ایسے توازن بگاڑتے بناتے ہیں کہ کبھی دائیں طرف جھکاؤ ہوتا ہے تو کبھی بائیں طرف۔ تاریخ کی کتابوں میں کئی کئی سو برس صفحہ پلٹنے پہ گزر جاتے ہیں اور جب یہ برس گزارنے بیٹھو تو نسلیں لگ جاتی ہیں اور ایک قدم غلط اٹھ جائے تو نسلیں بھٹک جاتی ہیں۔
ترکی کے صدر طیب اردوغان اپنا دو روزہ دورہ مکمل کر کے جا چکے ہیں۔ ان کا یہ دورہ آج کے حالات کے تناظر میں بہت اہم ہے۔ آج دنیا کے نقشے پہ نظر ڈالیں تو خلیجی ممالک سے لے کر افغانستان تک بارود کا دھواں اور گولیوں کی جھڑی نظر آتی ہے۔
Read moreدو ایک روز پہلے میں اپنے شریر بھانجے کو لے کر بازار گئی۔ گو میں نے اپنے تئیں کس کر اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا مگر آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ایک پیار کرنے والی خالہ، اپنے معصوم اور شریر بھانجے کا ہاتھ کتنی سختی سے پکڑ سکتی ہے؟ بچہ بار بار ہاتھ چھڑاتا تھا اور یہ جا وہ جا۔ بھاگتے ہوئے وہ کہیں کپڑوں کے تھان اچھالتا تھا تو کہیں سڑک کنارے کھسے سجائے موچیوں کے جوتے
Read moreچین میں کورونا وائرس پھیلنے سے ہونے والی اموات روز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہزاروں پاکستانی چین میں پھنس چکے ہیں اور پوری دنیا دم سادھے اس موت کو دیکھ رہی ہے۔ موت جو ہر طرف ہے مگر نظر نہیں آ رہی۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ کورونا وائرس جنگلی چمگادڑوں اور دیگر جنگلی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا اور پھر پھیل گیا۔ اس مرض کے ابتدائی متاثرین ایک ہی بازار میں کام کرتے تھے یا کسی وجہ
Read moreپنجاب میں اکثریت کاشتکار ہیں۔ ہاڑی ساونی، گندم کی فصل سنبھالی جاتی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے ہاں بھی بھڑولے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ پہ جہیز کا ایک اہم جز، اٹی، مٹی اور پیٹی کا سیٹ ہوتا ہے، جس میں سے دو اول الذکر اشیا، بالترتیب گندم اور آٹا رکھنے کے کام آتی ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کے کھنڈرات سے بھی ایسے آثار ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے کے باسی صدیوں پہلے بھی نہ
Read moreگذشتہ برس ٹڈی دل افریقہ سے اٹھا، ایتھوپیا سے چلا، عمان سے ہوتا ہوا ایران اور وہاں سے چاغی اور پھر سندھ پہنچا، عین اسی طرح جیسے آبی پرندوں کے جھلڑ ایک خطے سے دوسرے خطے میں سفر کرتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ٹڈی دل مہمان پرندہ نہیں ایک آفت ہے اور ہم پر دیگر آفتوں کے ساتھ یہ آفت بھی ٹوٹ پڑی ہے۔ پاکستان پر اس کا پہلا حملہ گذشتہ برس جون اور جولائی میں ہوا۔ سندھ
Read moreپاکستان تو بنتے ہی ہائی جیک ہو گیا اور انڈیا کو ہائی جیک ہونے میں 28 سال لگے۔ بابری مسجد کے واقعے نے انڈیا کو بھی پاکستان کے ساتھ لا کر کھڑا کر دیا۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ چوٹی سے کھسکا یہ ایک سنگریزہ کیسے برف کا طوفان لائے گا مگر سنگریزہ کھسکانے والوں کو بخوبی اندازہ تھا۔ انڈیا کی آزادی کی تحریک میں طلبا اور نوجوانوں کا کردار بہت اہم تھا اور تحریک پاکستان میں
Read moreمانسہرہ میں ایک دس سالہ بچے کے ساتھ مدرسے کے منتظم کی مبینہ بد فعلی کے واقعے نے ایک بار پھر ہماری توجہ معاشرے کے بیمار جنسی رویوں کی طرف مبذول کرائی۔ نہ یہ سانحہ نیا ہے نہ اس کی تفصیلات نئی۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا، اخبارات میں اس نوعیت کی خبریں پڑھتی چلی آ رہی ہوں۔ صرف اخبارات ہی میں کیا، زبانی کلامی، سرگوشیوں میں مسجدوں میں پڑھنے والے بچوں، پان سگریٹ کی دکانوں، ورکشاپوں، بسوں کے
Read moreسردی، دھند، گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے درمیان، ٹھنڈ سے تھر تھر کانپتے خصوصی عدالت کا فیصلہ سنا ۔ ایک لمحے کو لگا کہ زمین اپنے محور پہ الٹی گھوم گئی ہو۔ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کا وہ دن آنکھوں کے آگے آ گیا جب بوٹوں کی دھڑدھڑاہٹ سے سول اداروں کے برآمدے اور راہداریاں گونج اٹھی تھیں۔ پرویز مشرف کی مطلق العنان آواز اور وہ جملے جو میں سے شروع ہو کر میں پہ ختم ہو
Read moreپی آئی سی میں جہاں پھول لے جانا بھی منع ہے ہمارے وکیل بھائی پتھر، ڈنڈے اور پستول لے کر پہنچ گئے۔ مبینہ طور پر ایک مریضہ کا آکسیجن ماسک اتارا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی اور ایسا بلوہ کیا کہ ڈاکٹروں کے تو کیا سب مریضوں کے ہوش بھی ٹھکانے آ گئے۔ پورے پاکستان کو بلکہ پوری دنیا کو اچھی طرح علم ہو گیا کہ ہمارے وکیل بہت ’ڈاہڈے‘ ہیں اور ان سے معاملات الگ ہی رکھے
Read moreپرانے وقتوں میں، پنجاب میں مویشی چوری عام تھی۔ پنجاب کے دریا اتھرے ہوئے تھے اور ابھی ان پر کیمیائی فضلے کا عذاب نازل نہ ہوا تھا نہ ان پر بندہی باندھے گئے تھے اور نہ ہی ان کا بٹوارا ہوا تھا۔ ان اتھرے ہوئے دریاؤں کے کنارے دلدلی جنگل تھے اور سرکنڈوں کے جھنڈ۔ کچے کے ان علاقوں میں ڈاکووں کی مملکتیں آباد تھیں کسی کی مجال نہ تھی کہ وہاں پر بھی مار سکتا۔ پنجاب میں انگریز آیا
Read more29 نومبر کو وہ لال رنگ، جسے دفن ہوئے اب تو چار دہائیاں بیت چکی تھیں، اچانک پاکستان کے گلی کوچوں، شاہراہوں پہ لالہ کی خود رو کھیتیوں کی طرح لہرانے لگا۔ شگفتہ چہروں والے نوجوانوں کے ساتھ سفید بالوں والے وہ لوگ بھی اس میں شامل تھے جو اپنی جوانی میں ’سرخے‘ یا کامریڈ کہلاتے تھے، ان کے خوابوں کا ماڈل فلاپ ہو گیا مگر وہ اپنے خوابوں سے دست بردار نہ ہوئے۔ کامریڈ تنویر، فرخ سہیل گوئندی اور
Read more’پیارے بچو! پھر یوں ہوا کہ عمرو عیار نے اپنی زنبیل سے سفوف عیاری نکال کر پہرے داروں کو سنگھایا۔ سب کے سب جہاں تھے وہیں کے وہیں بت بن کر ساکت ہو گئے۔ عمرو نے زنبیل سے روغن عیاری نکالا، اپنے اور شہزادے کے منہ پہ ملا، جس سے شہزادہ ایک قریب المرگ بوڑھے میں اور عمرو ایک ادھیڑ عمر طبیب میں تبدیل ہو گیا۔ تب عمرو، قید خانے کے پہرے داروں، مہتمم محلات، بادشاہ اور وزیر اعظم کی
Read moreملک کی سیاسی سٹیج پر ہڑبونگ مچی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کا نعرہ لے کر اٹھے اور بڑے بڑے بت زمیں بوس نہ بھی ہو ئے تو لرز ضرور گئے۔ لرزے اس لیے کیونکہ ان کے پائیدانوں تلے، کئی برسوں کے غلط فیصلوں کی سیلن، اقربا پروری کی کیچڑ، سمجھوتوں کی دلدل اور مفاد پرستی کی کائی جمی ہوئی تھی۔ ہم نے دنیا کے اسفار کے دوران جو بت دیکھے وہ سنگی پائیدانوں پر بڑی مضبوطی سے
Read moreلیجیے صاحبو! دھرنے کا موسم آ گیا، مولانا فضل الرحمان کا دھرنا سامنے دھرا ہے اور سیاسی مبصرین نے الٹی گنتی گننا شروع کر دی ہے۔ ہم چونکہ ریاضی میں نہایت کمزور واقع ہوئے ہیں اس لیے سیدھی گنتی بھی بہت ٹھہر ٹھہر کر گِن رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کو آئے سال، سوا سال ہوا ہے اور ہمارے نزدیک ابھی پونے چار سال باقی ہیں۔ نومبر،دسمبر میں بساط لپٹنے کی پیش گوئیاں کرنے والے بے شک سیانے ہوں
Read moreگذشتہ ہفتے ادب کا نوبل انعام پانے والے دو ادیبوں کے نام کا اعلان ہوا تو پاکستان کا ہر لکھنے والا ایسے خفا ہو گیا جیسے یہ انعام اسی کو ملنا تھا۔ حد یہ کہ وہ برگزیدہ ادیب جنھوں نے عمر بھر سوائے انجمن ستائش باہمی چلانے کے اور لابی لابی کھیلنے کے کچھ نہ کیا وہ بھی بڑ بڑا رہے ہیں کہ بھئی یہ یورپ سے باہر نکل کر کیوں نہیں دیکھتے؟ ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔
Read moreانڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں آج کرفیو کو دو ماہ ہو گئے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز بھی معطل ہیں۔ گاہے گاہے جو خبریں کان میں پڑتی ہیں وہ کچھ اچھی نہیں۔ عالمی ضمیر نامی وہم بھی خیر سے دور ہوا۔ پاکستان جس حد تک احتجاج کر سکتا تھا کر لیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے نہایت درد مندی سے حالات بیان کیے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا مگر بات
Read more20 ستمبر کو دنیا بھر میں ماحول کو بچانے کے لیے احتجاج کیا گیا۔ یہ احتجاج پاکستان میں بھی ہوا۔ شرکا، ظاہر ہے جن میں سول سوسائٹی کے لوگ آگے آگے تھے، بڑی شدومد سے ماحول کی تبدیلی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ان کی باتوں کا مقصد جو کچھ میں اخذ کر سکی وہ یہ ہی تھا کہ اس معاملے کے بارے میں لوگوں میں آ گہی نہیں خاص کر دیہات میں، تو ہمیں آگہی پھیلانی ہے۔
Read moreدو تین سال پہلے کا ذکر ہے، ایک رات گھر جاتے ہوئے ایک گیدڑ عین گاڑی کے سامنے آگیا، دراصل یہ ایک مادہ گیدڑ تھی اور اس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے۔ وہ گاڑی کی روشنی میں چند لمحے ہراساں سی کھڑی رہی پھر بھاگ کے پپیتے کے باغ میں گھس گئی۔ پیچھے پیچھے دونوں بچے۔
عقل مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ میں ان کو بھول بھال جاتی۔ مگر مجھے تجسس نے گھیرا اور میں چپکے چپکے ان کے پیچھے باغ میں پہنچ گئی۔ وہ اماوس کی رات تھی مگر آسمان اتنا روشن تھا کہ اگر کوئی ہل چل ہوتی تو نظر آجاتی۔ یوں بھی پپیتے کا نہ تو اتنا گھن ہوتا ہے اور نہ ہی سایہ۔ اس لیے سارا باغ ہی نظر کے سامنے تھا۔
Read moreپچھلے دنوں ایک ہوائی سی اڑی، یقیناً کسی دشمن نے اڑائی ہو گی۔ دشمنوں کو اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں، بیٹھے بیٹھے ہوائیاں اڑایا کرتے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ ا ن کی اڑائی، ہوائیاں، ہمارے چہروں پہ چھوٹ جاتی ہیں اور پھر دشمن گنگناتے پھرتے ہیں، یہ اڑی اڑی سی رنگت، یہ کھلے کھلے سے گیسو اگلا مصرعہ اکثر بھول جاتا ہے، اور کیوں نہ بھولے؟ نسیان کا مرض پرانا اور موروثی۔ خیر وہ ہوائی یہ
Read moreکراچی میرے ذہن میں ایڈگر ایلن پو کے ایل ڈوراڈو جیسا ایک شہر تھا۔ سمندر کے کنارے بسا شہر جہاں سنا تھا کہ راتیں جاگتی ہیں، شریفے، پپیتے اور ناریل کے درخت جھومتے ہیں۔ سمندری کھاڑیوں کے کناروں پر سمندری بگلے مچھلیوں پر تاک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں، جہاں موہٹہ پیلس اور قائد اعظم کا مزار ہے، ساحل سمندر ہے، جس پر سبز سمندری کچھوے انڈے دینے آتے ہیں، منگھو پیر کی پہاڑیاں ہیں، کلفٹن،نیٹی جیٹی، کیماڑی، منوڑہ اور کھارادر
Read moreصلاح الدین ہم سب کو منہ چڑاتا، پولیس حراست میں راہ ملک عدم ہوا۔ پیچھے رہ گئی پنجاب پولیس جس کے ہاتھ صلاح الدین، عامر مسیح اور جانے کتنے مظلوموں کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ دستانے پہننے کا تکلف بھی نہیں مگر کوئی مائی کا لعل ان ہاتھوں سے ٹپکتے لہو پر انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ پنجاب پولیس کولونیل عہد کا تحفہ ہے۔ سنہ 1861 میں بننے والا یہ ادارہ دو ایک بار کچھ تبدیلیوں
Read moreبھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر کے وہاں کرفیو نافذ ہوئے مہینہ بھر ہونے کو آیا۔ وادی سے نہ خبر آتی ہے نہ یہاں کی خبر وہاں جاتی ہے۔ ایک منحوس سناٹا مسلط ہے۔ جس میں ان سنی چیخیں ہیں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ۔ وزیر اعظم صاحب نے فرمایا کہ مسلمانوں کے خلاف ہندو ہمیشہ ہی سے سازشیں کرتے آئے ہیں اور یہ سب بھی اسی سازش کا حصہ ہے۔ ہم بڑوں کی بات مانتے
Read moreایمیزون کے جنگلات میں آگ لگنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا احتجاج کر رہی ہے اور برازیل کی حکومت کے خلاف پابندیاں لگانے کا غوغا اٹھ رہا ہے۔ ادھر ہمارے ہاں سنا گیا تھا کہ پلاسٹک کے شاپر ختم کیے جائیں گے، بات چل پڑی ہے۔ اسلام آباد سے خبریں مل رہی ہیں کہ شاپر کی جگہ پھر سے سودا سلف لانے کا تھیلا متعارف کرایا جا رہا ہے۔ خیر بات ہے ماحول کی۔ ماحول کی بات پہلے کوئی نہیں
Read moreمیں نے جب آنکھ کھولی تو معلوم ہوا کہ ملک پر ایک پکا اور سچا مسلمان حکومت کر رہا ہے جس کا نام ضیا الحق ہے۔ یہ معلومات بھی یوں ملیں کہ سکول میں ایک بچہ ایک نظم گاتا تھا: قائد اعظم کھادا پان وچوں نکلا پاکستان پاکستان دی اک گلی وچوں نکلا لیاقت علی اور یہ خراباتی نظم چلتی چلاتی، اپنی روانی میں تاریخ سمیٹتی ضیا الحق تک آتی تھی۔ جس کے بعد فقط ہکا ہک، ہکا ہک کا
Read moreہمارے بزرگ، جو اب سوائے ایک چچی کے کوئی باقی نہیں رہے، اگست کے مہینے میں عجیب حرکتیں کرنے لگتے تھے۔ واضح رہے کہ جملہ بزرگ نہایت معزز اور معقول تھے اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم کردار نبھا کر اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ جس محلے میں یہ لوگ آ کے ٹھہرے، اس کا نام سمادھانوالا تھا، غالباً کسی کی سمادھ ہو گی وہاں۔
ہمارے چچا جانی مرحوم کو ایک بار یہ خیال آ گیا کہ بازار میں بنے بنائے پرچم درست ناپ کے نہیں۔ کسی پہ چاند تارہ غلط سمت میں بنا ہے اور کسی پہ سفید اور سبز کا تناسب بے ڈھب ہے۔ اس خیال نے ایک کھلبلی سی مچا دی۔
Read moreکشمیر کا مسئلہ جو بہتر برسوں سے بر صغیر کے سینے میں ایک ناسور کی طرح پک رہا تھا آخر کار مودی سرکار نے اس میں خنجر گھونپ دیا۔ پوری وادی دنیا سے کٹی ہوئی ہے ،آج چاند رات ہے۔ بہتر سال پہلے کی ایک عید الفطر جو سنی سنائی ہے یاد آ جاتی ہے اور دل مزید بھاری ہو جاتا ہے۔ آزادی ایک ایسا خوش رنگ پرندہ ہے جس کا ذکر ہم بر صغیر والوں نے صرف سنا ہی
Read moreکارگل کی جنگ کے بارے میں جو ’سازشی تھیوری‘ ہم نے سنی اس کے مطابق یہ ایک کنٹرولڈ جنگ تھی جس کی ثالثی تب بھی امریکہ نے کرنا تھی اور اس کے نتیجے میں لیہ، لداخ اور جموں انڈیا کے حصے میں آنے تھے جبکہ باقی ماندہ کشمیر پاکستان کے ساتھ ایک خود مختار یا نیم خود مختار ریاست کی طرح آزاد رہنا تھا۔
Read moreتنگنائے ہرمز میں کشیدگی کی فضا پائی جاتی ہے۔ امریکہ اور ایران ایک بار پھر سینگ اڑائے نظر آتے ہیں۔ اس تنازعے میں ایران اور امریکہ کی کیا صورت حال ہو گی یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن کچھ چیدہ چیدہ نکات سامنے نظر آتے ہیں۔ اس وقت ہمارے سامنے دنیا کی سیاست کا جو نقشہ نظر آتا ہے وہ بظاہر بنیادی انسانی جبلت ہی پہ قائم ہے۔ وسائل کی تلاش۔ اب یہ وسائل اکیسویں صدی میں
Read moreیہ اسی کی دہائی کا ذکر ہے ہمارے گھر میں سودا سلف لانے کے لئے زین کے دو موٹے تھیلے ہوا کرتے تھے۔ ایک تھیلا بھٹی چڑھنے جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ سودا لانے والا ملازم بچھیری نامی گھوڑی کو تانگے میں جوتتا، جن بچوں نے سکول جانا ہوتا انھیں تانگے میں سوار کراتا، راستے بھر دل سے جوڑ جوڑ کر رنگ برنگے قصے سناتا، واپسی پر سودا سلف لے کر مسر مسر گھر پہنچتا۔ سودے کا
Read moreملکِ عزیز میں زبان بندی، ٹیکس گردی اور ہڑتالوں کا موسم جاری ہے۔ مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات اور دستاویزات کی شرائط کے خلاف سنیچر کو پاکستان کی تاجر تنظیموں کی کال پر ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی. سنیچر کو ہونے والی ہڑتال کامیاب تھی۔ یہ ہڑتال اپوزیشن کی کال پر نہیں ہوئی۔ اپوزیشن کو اس بات کی ذرا بھی فکر نہیں کہ عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔؟ مریم نواز اور
Read moreآخر کار وہ پریس کانفرنس ہو ہی گئی جس کے سب منتظر تھے۔ شاید یہ ہی بم پھوڑنے کو رانا ثنا اللہ فیصل آباد سے نیلے سوٹ کیس میں مبینہ طور پر 15 کلو ہیروئن رکھ کے نکلے تھے۔ وہ بے چارے تو اپنی کرنیاں بھگت رہے ہیں، مگر جج صاحب کا ضمیر جاگ گیا ہے۔ مجھے بچپن سے انڈین اور پاکستانی اصلاحی فلمیں بہت پسند تھیں۔ ان فلموں میں ولن انجام سے پہلے اقرار گناہ کر لیتا تھا۔ اکثر
Read moreبزرگوں سے (جن میں سے اب کوئی باقی نہیں رہا) سنا کہ گئے وقتوں میں ٹھگ لوٹا ہوا مال دیگوں میں بھر کے زمین میں گاڑ دیا کرتے تھے۔ کہنے والے یہ بھی کہتے تھے کہ ایسا کرتے ہوئے وہ آٹے کا سانپ بنا کر دیگ کے ڈھکن پر بٹھا دیا کرتے تھے۔ یوں وہ دیگ ناگ دیوتا کی حفاظت میں چلی جاتی تھی۔ اب چونکہ یہ لوٹ کا مال ہوتا تھا تو ٹھگوں کو بھی ہضم نہیں ہوتا تھا۔ وہ بد
Read moreتبدیلی حکومت کا پہلا بجٹ بھی پیش کر دیا گیا۔ بجٹ تقریر پر بحث جاری ہے اور آنے والا وقت بتائے گا کہ اس تقریر پر نحوست اور بد شگونی کے جو سائے منڈلا رہے تھے وہ ہمیں کہاں لے کر جائیں گے۔
تقریر کی ریکارڈنگ بے حد ناقص تھی۔ پسِ منظر میں لگی قائداعظم کی تصویر بار بار فریم سے کٹ رہی تھی۔ وزیر اعظم کا انداز بے حد جارحانہ تھا، وہ اپوزیشن کی شکایتیں لگا رہے تھے اور ان کو دھمکیاں دے رہے تھے۔ اپنی ریاست کو ریاستِ مدینہ بتانے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ کے اہم عسکری معاملات پر اپنی بے لگام اور بے تکان رائے بھی دے رہے تھے۔
Read moreکچھ عرصے سے پنجاب کی دو صوبوں میں تقسیم کا غلغلہ بلند ہے۔ ہر اہم معاملے کی طرح اس پر بھی عوام کی کوئی رائے نہیں اور خواص کی رائے دو حصوں میں منقسم ہے۔ سرائیکی صوبے کے حق میں بات کرنے والوں کے پاس دلائل کے انبار ہیں۔ پنجاب کی تقسیم کے خلاف بولنے والے بھی اپنی جگہ درست ہیں۔ ان کے خیال میں یہ پنجاب کو بے دست و پا کرنے کی سازش ہے۔ انڈیا میں پنجاب ہریانہ اور
Read moreامریکہ افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے یہ بات اب نہ مفروضہ ہے اور نہ ہی افواہ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ طالبان سے مذاکرات جاری ہیں اور ان مذاکرات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ طالبان کو ایک دہشت گرد گروہ کی بجائے ایک باضابطہ طاقت تسلیم کر لیا گیا ہے۔زلمے خلیل زاد، طالبان کے امیر اور نمائندوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، دیگر اتحادی ممالک بھی طالبان کو بہلانے پھسلانے کے لیے میز پر بیٹھے ہیں۔
Read moreبڑے بوڑھے کہا کرتے تھے کہ چاند چڑھتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے۔ پرانے وقتوں کے بزرگ اشارے کنایوں میں بات کرنے کے عادی ہوتے تھے اور بعض اوقات اس عادت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اتنی دور کی کوڑی لاتے تھے کہ کوڑی، کوڑی کی ہو کے رہ جاتی تھی ۔ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں، ہم بھی آہستہ آہستہ بڑھاپے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اپنے بزرگوں کی دیکھا دیکھی کنایوں میں بات کرنے کا
Read moreہم پاکستانیوں کی یوں تو ساری ہی عادتیں بری ہیں لیکن ایک بات بہت اچھی ہے جس کے بارے میں سارے سیاستدان اور غیر سیاستدان حکمران متفق ہیں۔ وہ یہ کہ یہ لوگ ہر مشکل کو بڑی استقامت سے برداشت کر سکتے ہیں۔ صورتِ حال اگر کچھ زیادہ ہی پریشان کن ہو تو اس پہ لطیفے بنا لئے جاتے ہیں، اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہو تو نظمیں لکھ دی جاتی ہیں، مزید بری ہو تو نظمیں لکھنے والوں
Read moreصدر مملکت عارف علوی کی نجی رہائش گاہ کے باہر دیے گئے دھرنے کے نتیجے میں 19 افراد کی واپسی ہوئی ہے وہیں ممتاز حسین کے اہلخانہ اب بھی ان کی راہ دیکھ رہے ہیں انسان غائب کیوں ہو جاتے ہیں اور ان کے لواحقین ان کے غائب ہونے پہ دکھی کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوال بہت سال پہلے اس وقت ذہن میں اٹھا جب ایک بار نانی اماں کو ‘میلادِ اکبر’ کی ایک دعا رو رو کے پڑھتے ہوئے
Read moreرمضان المبارک 1438ھ کا پہلا روزہ شروع ہو چکا ہے۔ اسلام دنیا کا دوسرابڑا مذہب ہے۔ قریباً 58 مسلم ممالک اور کروڑوں مسلمان اس کرۂ ارض پر بس رہے ہیں۔ دیگر ابراہیمی مذاہب میں بھی روزے کا تصور پا یا جاتا ہے۔ سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا ’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ ‘(سورۃالبقرہ، آیت 183)روزے کے روحانی اور سماجی پہلوؤں پر علمائے کرام کی بے شمار تصانیف اور درس مو جود ہیں۔ مجموعی طور پہ روزے کا جو تصور ہمیں سمجھ آتا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر موجود فطری بھوک، لالچ اور وسائل کی ہوس کو ختم کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ تمام مذاہب چونکہ انسان کی فلاح اور ایک پر امن معاشرے کے قیام کے لیے ہی تربیت کرتے ہیں اس لیے ابراہیمی مذاہب کے علاوہ بھی ہر مذہب میں ’برت‘ اور‘تیاگ‘ کا فلسفہ پایا جا تا ہے۔
Read moreپچھلے سال، میشا شفیع نے اپنے ساتھی اداکار علی ظفر پر انھیں جنسی طور پر ہراس کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ معاملہ، سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا، عدالت تک بھی گیا اور آج بھی عدالت میں ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، جس کے منہ میں جو آیا، اس نے بکا۔ علی ظفر نے کل بھی اس الزام سے انکار کیا اور آج بھی وہ ہر نجی چینل پر بیٹھ کے زار و قطار رو رہے ہیں اور خاتون
Read moreپچھلا پورا ہفتہ، پاکستانی سیاستدانوں نے گندی گندی باتیں کرتے گزارا اور یوں، وطن اور اہلِ وطن، سب بہت خوش رہے۔ جیسے کچھ گھروں میں مایوں کی رسم پہ، ایک دوسرے پہ ابٹن ملی جاتی ہے۔ اسی طرح پورے ملک نے ایک دوسرے کے منہ پہ غلاظت ملی۔ وزیرِ اعظم صاحب کی حلف برداری کی تقریب سے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگلے سالوں میں بارہا یہ ‘سلپ آف ٹنگ’ جو کہ میرے نزدیک ‘فرائیڈین سلپ آ ف
Read moreکوئٹہ کے ہزار گنجی علاقے میں ہونے والے سانحے کو ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ کوسٹل ہائی وے پہ گاڑیاں روک کر، شناخت کر کے مسافروں کو قتل کیا گیا۔ یہ قتل بھی بظاہر قومیت کی بنیاد پہ کیے گئے۔ قاتل کون ہیں؟اس کے بارے میں شاہ محمود قریشی نے اشارہ کیا ہے۔ ٹھیک ہے، ادھر دیکھ لیتے ہیں۔ مگر مرنے والے انسان تھے، یہ سوچنے سے کیسے باز رہیں؟ایک طرف یہ قتل وغارت گری جاری ہے اور دوسری طرف مہنگائی کا جن دانت نکوسے بازاروں میں دوڑتا پھر رہا ہے۔’ساتھ ساتھ کابینہ میں وزرا تبدیل ہونے شروع ہو گئے۔ اسد عمر کی رخصتی بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ ایسے سوالیہ نشان تاریخ کی پراسرار کڑیوں کو آپس میں جوڑ دیتے ہیں۔
Read moreجمعے کی صبح کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی منڈی میں خود کش دھماکہ ہوتا ہے اور 20 سے زائد افراد ہلاک اور 48 کے قریب زخمی ہو جاتے ہیں۔ جمعے کا دن ہے اور یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ ہزارہ افراد بھی شامل تھے۔ بظاہر یہ حملہ ایک بار پھر ہزارہ برادری ہی پہ کیا گیا ہے۔ہزارہ برادری، کوئٹہ میں دوسری اینگلو افغان جنگ کے زمانے سے آباد ہے۔ وسطی افغانستان میں بسنے والے اس قبیلے پہ خطے کے سیاسی حالات کے باعث ایسی آفات آتی رہیں کہ یہ پہلے 1880 کی دہائی میں اپنے آبائی علاقے ہزارہ جات سے ہجرت کر کے کوئٹہ میں آباد ہوئے پھر آنے والے وقتوں میں جوں جوں حالات بگڑتے گئے ان مہاجروں کی تعداد بڑھتی گئی، آج اندازاً آٹھ لاکھ کے قریب ہزارہ کوئٹہ کے علاقہ ہزارہ ٹاؤن، مہر آباد اور علمدار روڈ پہ آباد ہیں۔
Read moreبہار آتی ہے تو لاہور پر ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ زمین کے کونے کونے سے روئیدگی پھوٹتی ہے اور اینٹ اینٹ سے سبزہ جھلکنے لگتا ہے۔ آموں میں بور پڑتا ہے اور بکائین کے پھولوں کی پاگل کر دینے والی خوشبو حواس پر سوار ہونے لگتی ہے۔ اچھے وقتوں میں اس موسم میں لاہور کا آسمان پتنگوں سے ڈھکا ہوا ہوتا تھا۔چونکہ اچھے دن ہمیشہ باقی نہیں رہتے اس لیے وہ دن بھی گزر گئے۔ اب لاہور کے آسمان پہ چیلیں اڑتی ہیں اور ٹی وی چینلز پر دل دہلا دینے والی خبریں چلتی ہیں۔ ایسی خبریں جن کو سن کر یہ سمجھ آ جاتا ہے کہ بسنت کا تہوار کیوں ختم کیا گیا۔لاہور ہی کی رہائشی ایک لڑکی کو اس کے شوہر نے سر کے بال مونڈ کر تشدد کا نشانہ بنایا اس لیے کہ وہ اس کے دوستوں کے سامنے ڈانس نہیں کر رہی تھی۔
Read moreصادق ایجرٹن کالج کے پروفیسر خالد حمید کو ان ہی کے ایک طالبعلم نے درسگاہ ہی میں چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ پروفیسر مرحوم، انگریزی کے استاد تھے۔ ملزم کے بقول ‘اسلام کے خلاف بولتے تھے۔۔۔ روز بولتا تھا، بہت زیادہ توہین کرتا تھا ‘ جب اس سے پوچھا گیا کہ اگر ایسا تھا تو تم نے شکایت کیوں نہیں کی؟ قانون موجود ہے۔لڑکے کا جواب صاف تھا، ‘ کون سا قانون؟ قانون تو گستاخوں کو رہا کرتا ہے۔’
Read moreنیوزی لینڈ کے سانحے پر پوری دنیا دکھی ہے۔ 50 جیتے جاگتے انسان لمحوں میں جان سے مار دیے گئے۔ اسی پر بس نہیں، اس قتلِ عام کو اس طرح نشر کیا گیا کہ دنیا بھر کے تارکینِ وطن اور خصوصاً مسلمانوں میں دہشت پیدا ہو۔ملزم ایک 28 سالہ سفید فام ، نسل پرست شخص ہے جو مبینہ طور پہ ‘ اسلامو فوبیا ‘ کا شکار نظر آتا ہے۔ابتدائی تفتیش سے اس کا ایک ذاتی مینی فیسٹو بھی نظر آتا ہے۔ گویا وہ کوئی نفسیاتی مریض نہیں بلکہ باقاعدہ ایک نظریے کا بانی یا حامی ہے جس کے تحت، مسلمان تارکینِ وطن کو واپس ان کے ملکوں میں دھکیل دیا جائے۔
Read moreبارش ژالہ باری اور اس بیچ میں سنہری دھوپ سے بھرا مارچ کا پہلا ہفتہ پھر آیا، آٹھ مارچ کا دن آیا اور پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ‘عورت مارچ ‘ ہوا۔اس مارچ میں عورتوں، لڑکیوں اور بچیوں کے ساتھ کچھ مرد فیمنسٹ بھی گتے اٹھائے شریک تھے۔ یہ گتے، عام گتے نہ تھے، ہانکا کرنے کے کنستر تھے۔آپ میں سے جن لوگوں کو شکاریات سے دلچسپی ہے اور انھوں نے جم کاربٹ جیسے شکاریوں کی داستانیں پڑھ رکھی ہیں، انہیں یقیناً ‘ ہانکے‘ کی تکنیک کے بارے میں بخوبی علم ہو گا۔
Read moreایک بار پھر کشمیر کے ناسور سے اٹھی ٹیس، ایک درد بن کے پورے خطے پہ چھائی ہے۔ عوام چلا رہے ہیں، ‘جنگ نامنظور’۔ بھارتی چینل چلا رہے ہیں، مار دو، گرا دو، نیست و نابود کر دو۔ فوجیں دونوں طرف سرحدوں پہ پرے جمائے کھڑی ہیں اور جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ جھڑپیں ،پتھروں کے پتھروں سے ٹکرانے کا نام نہیں۔ انسان کا انسان کو مارنے کے ارادے سے آگے بڑھنے کانام ہے۔ یہ بات کس قدر بھیانک ہے کہ
Read moreسیاسی ماہرین آج کل جنگ کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو تو جنگی جہاز سنائی اور دکھائی بھی دے گئے۔ جنگ کے باقی شائقین کے لیے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا نے بھی خوب اہتمام کر رکھا ہے۔ بقول شخصے ‘رونق’ لگی ہوئی ہے اور ‘شغل میلہ’ جاری ہے۔
یہ سارا قضیہ، پلوامہ میں ہونے والے خود کش حملے اور اس کے نتیجے میں مارے جانے والے انڈین سپاہیوں کی موت کے بعد شروع ہوا۔
انڈیا سے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا گیا۔ عقل کہتی ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان، سعودی ولی عہد کے استقبال کی تیاری کرنے اور خود پر لگے، مختلف طرح کے داغ دھونے میں مصروف تھا، یہ حملہ کرانا کوئی دانش مندی نہیں تھا۔
اس حملے سے اگر کسی کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ مودی حکومت ہے۔
Read moreپلوامہ میں بھارتی ریزرو فورس کے کانوائے پہ خودکش حملہ ہوا اور کم وبیش پچاس فوجی مارے گئے۔ ہمیں فوجیوں کے مرنے پہ ہمیشہ بہت دکھ ہوتا ہے ۔ چاہے سرحد کے ادھر مریں یا ادھر۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فوجی تیار کرنے میں ، ہر ملک و قوم کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی شامل ہوتی ہے اور وہ یہ فوجی اس لئے تیار کرتے ہیں کہ جیت کر سینے پہ تمغہ سجا کر گھر آئیں ۔ اس طرح ایک نادیدہ دشمن کی بھینٹ نہ چڑھیں ، دشمن بھی وہ جو خود کو اس جرم کی سزا پہلے ہی دے چکا ہوتا ہے ۔
کشمیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے میں اتنی جذباتی ہو جاتی ہوں کہ زمینی حقائق تک سے نظریں چرا جاتی ہوں۔ میں تو خیر برصغیر کے ان کروڑوں باشندوں میں سے ہوں جو سرحد کے ادھر اور ادھر پتا نہیں کس کی چھیڑی ہوئی جنگیں لڑنے اور ان جنگوں میں ہر لمحے بے موت مرنے کو تیار رہتے ہیں ۔لیکن کشمیر کا معاملہ ایسا ہے کہ بڑے بڑے جغادری بھی دیوانے سے ہو جاتے ہیں ۔
Read moreجب میکسم گورکی کا ناول ‘مدر’ پڑھا تو وہ زمانہ بڑا پرسکون تھا۔ جنرل ضیاء کا مارشل لأ تھا۔ ابا تہجد کے وقت اٹھ کے تلاوت کرتے، فجر کے بعد بھٹو صاحب اور اندرا گاندھی کو برا بھلا کہا جاتا، جنرل ضیا کی برکات پہ تفصیلی روشنی ڈالی جاتی اور گفتگو کا انجام ’پاک فوج کو سلام‘ وغیرہ پہ ہوتا۔
’مدر‘ مجھے سخت برا لگ رہا تھا، مگر امی کے حکم کے تحت پڑھنا پڑ رہا تھا۔ بھلا کہاں وہ شورش زدہ روس کی کہانی اور کہاں میری پر سکون ارضِ پاک؟ اس میں جو گرفتاریاں، نعرے اور فضول کی باتیں تھیں، میرا ان سے دور دور کا ناطہ نہیں تھا۔
مر مر کے ایک ایک باب ختم کیا، جس روز میں اپنے تئیں اس ناول سے عمر بھر کے لیے جان چھڑا چکی تھی امی نے ایک دبی دبی خوشی سے مجھے بتایا کہ میں نے 1965 کے انتخابات میں فاطمہ جناح کو ووٹ ڈالا تھا، ایوب خان کو نہیں ۔
Read moreمحمد حنیف، ہمارے ہم عصر ہیں۔ پہلا ناول لکھنے کے بعد ان کے تائب ہو نے کے بہت ساز گار حالات تھے۔ ناول بہت معروف ہوا، بورا بھر کے رائلٹی ملی۔ اب اگر سیانے ہوتے تو پرنٹنگ پریس کھولتے، زیادہ سیانے ہوتے تو ڈیفینس یا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ لے کر پراپرٹی کا بزنس کرتے۔ ادبی محفلوں میں جاتے، باقی وقت، دفتر کی جھولنے والی کرسی پہ، منہ پہ اخبار ڈالے دن میں خواب دیکھا کرتے، چاہے نہ بھی دیکھتے، فقط اونگھتے رہتے۔ سیانے ہوتے تو دوسرا ناول کبھی نہ لکھتے۔
دوسرا ناول لکھنے کے بعد بھی وقت تھا، ادبی میلوں میں سپیچیں دیتے اور ٹی وی پہ تجزیہ نگاری کرتے۔ باقی وقت ٹوئٹر اور فیس بک پہ دانشوری بگھارتے۔ تیسرا ناول نہ لکھتے لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ناول نگاری کا مرض، دق کے دائمی بخار کی صورت ہڈیوں میں اتر چکا تھا اور اب لکھنے اور لکھتے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
ریڈ برڈز، لکھا جاتا رہا۔ چھہ سال کی تنہائی، تکلیف۔ ایک پورے عہد کا اکلاپا اور ایک زمانے کے لاپتہ لوگوں کا نوحہ۔ ناول کا لوکیل، تنہائی ہے۔ جدید انسان کی ازلی و ابدی تنہائی۔ صحرا، جہاں ریت ہے، جہاں بکر وال ہیں اور ان کی جنگلی تہذیب اور اس تہذیب سے خائف، اسے تباہ کرنے کے درپے ایک امریکی پائلٹ جو کہانی شروع ہونے سے پہلے مر چکا تھا۔
Read moreپچھلے ہفتے لاہور کی آبادی اقبال ٹاؤن میں ایک خاتون نے اپنی گھریلو ملازمہ کو مبینہ طور پہ قتل کر کے اس کی لاش گندے نالے میں پھینک دی۔ ایک نجی ٹی وی کے انوسٹی گیٹو رپورٹر نے اس سانحے کو مہم میں بدلنے کی کوشش کی لیکن ایک ہفتے کے اندر اندر ہی معاملہ سرد پڑگیا۔ بچی کی عمر اس کے باپ کے بقول پندرہ سولہ سال تھی۔ محلے کی عورتوں نے اس پہ مبینہ تشدد کا ذکر کیا،
Read moreآج سے کوئی 17 سال پہلے لفظ ‘دہشت گرد’ جن معنوں میں استعمال ہونا شروع ہوا وہ خاصا قابلِ غور ہے۔ مجھے اپنے بچپن کی دھندلی یادوں میں ایک بات واضح طور پر یاد ہے کہ روس نامی ایک ملعون ملک ہمارے برادر اسلامی ملک پہ حملہ آور تھا اور اللہ کی راہ میں لڑنے والے مجاہدین اس سے نبرد آزما تھے۔
ایک مخصوص اصطلاح میں ‘فرسٹ لائن آف افنس اینڈ ڈیفنس۔’
بچے چونکہ معصوم ہوتے ہیں اس لیے کبھی یہ سوال ذہن میں نہ آیا کہ اس برادر اسلامی ملک کی اپنی فوج کہاں تھی جو مجاہدین روس کے دانت کھٹے کر رہے تھے؟
Read moreٹیلی ویژن، سٹیج اور فلم کی معروف اداکارہ روحی بانو جمعے کو ترکی میں انتقال کر گئیں۔ بے شک جو اس دنیا میں آیا ہے اس کو جانا بھی ہے اور زندگی نام کے اس مختصر وقفے میں اپنے حصے کا کام سرانجام بھی دینا ہے، اپنے حصے کے دکھ، سکھ، خوشیاں، غم، سب ہی بھوگنے ہیں۔ یہ ہی قدرت کا نظام ہے اور ہم سب اسی میں راضی ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کچھ لوگوں کے
Read moreپنجاب پولیس کے کارناموں پہ سالہا سال سے سر دھنتے آ رہے ہیں لیکن سنیچر کے سانحے نے دل ہلا کے رکھ دیا ہے۔
یہ ہی ملتان روڈ ، یہ ہی یوسف والا ٹول پلازہ، جہاں سے میں ہفتے میں دو سے تین بار گزرتی ہوں اور سوچتی ہوں ‘گر جنت برروئے زمین است۔۔’ اسی ٹول پلازہ پر چچا زاد بھائی کی شادی میں شرکت کے لیے جانے والے ‘مبینہ’ دہشت گرد، مہر خلیل، ان کی بیگم، 13 سالہ بچی اور ٹیکسی ڈرائیور ذیشان کو ‘مبینہ’ مقابلے میں گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔
یہ سانحہ کسی غلط رپورٹ، کسی غلط فہمی، کسی بھتہ خوری، کسی وقتی اشتعال یا کسی لمحاتی غلط فیصلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ چار انسانوں کی زندگیاں، تین معصوم بچوں کا مستقبل، پنجاب پولیس جیسے بڑے ادارے کے لیے جو ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نہایت جاں فشانی سے قانون کی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو گا۔
Read moreپیمرا نے آٹھ جنوری کو ایک پریس ریلیز جاری کیا۔ پریس ریلیز کے پہلے پیرا گراف میں یہ بیان کیا گیا کہ پیمرا کو لاتعداد ناظرین کی شکایات موصول ہوئیں اور ذاتی مشاہدے نے بھی اس نتیجے پہ پہنچایا ہے کہ موجودہ ڈراموں کے موضوعات، عکس بندی اور لباس معیار سے گرے ہوئے ہیں۔ ناضرین کی کثیر تعداد نے ساس بہو کے جھگڑوں، سماجی اور روایتی طرزِ زندگی کے خلاف نشر کیے جانے والے مواد اور ڈراموں میں عورت کے
Read moreپچھلے دنوں، حویلیاں اور پھر نو شہرہ میں دو کم سن بچیوں کے ریپ اور قتل کے واقعات نے ایک بار پھر سب کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ اسی سال جنوری کے مہینے میں قصور میں ایک بچی کے ریپ اور پھر قتل کے واقعے نے عوامی احتجاج کی شکل اختیار کی تو معلوم ہوا کہ اس شہر میں یہ سلسلہ مدت سے جاری ہے اور کئی بچیاں اس حادثے کا شکار ہو چکی ہیں۔ شدید عوامی احتجاج، انتخابات کی
Read moreآج سے 19 سال پہلے جب نیب نامی ادارہ وجود میں آیا تو ہمارے، تعلقاتِ عامہ کے استاد، ڈاکٹر اے آر خالد نے نیب کے لیے تعلقاتِ عامہ کا منصوبہ بنانے کا کام دیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس اسائنمنٹ میں میرے سب سے زیادہ نمبر تھے۔
گو اس وقت نیب کو کسی مائی کے لال کی نظروں میں اچھا بننے کی چنداں ضرورت نہ تھی لیکن تاڑنے والے تاڑ گئے تھے کہ آنے والے وقت میں معاملات کیا شکل اختیار کر جائیں گے۔
نیب کے قیام کے چاروں مقاصد نہایت ارفع ہیں۔ یعنی لوگوں میں بدعنوانی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، بدعنوانی کی روک تھام کرنا، اس پہ نظر رکھنا اور بدعنوان عناصر سے نمٹنا۔ اگر میں کچھ بھول رہی ہوں تو معاف کیجیے گا، زمانہ بھی تو کتنا گزر گیا۔ آگاہی پیدا کرنے والا کام تو نیب با حسن و خوبی سر انجام دے رہا ہے۔
Read moreپچھلے ہفتے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک گھبرو جوان پنجوں پہ تنا، اپنے کسی دوست کے ساتھ کھڑا، گالیاں بک رہا ہے اور اپنے سامنے کھڑی عورت سے معافیاں منگوا رہا ہے۔ عورت چونکہ پیدا ہی خطاوار ہوئی ہے اور خاص کر اس وقت جب ایک اتھرا ہوا جوان مسلح اپنے دوست کے ساتھ کھڑا ہو تو عورت کا ہاتھ جوڑنا ہی درست تھا۔
ہاتھ جوڑے کھڑی اس عورت نے اس مایہ ناز نوجوان کے پیروں میں بیٹھ کر معافی مانگی، لیکن اسے یہ بات بھی نہ بھائی اور پستول کا دستہ لڑکی کے پیٹ میں اس زور سے مارا کہ وہ درد سے دہری ہو گئی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پہ چلی اور اس لڑکے کی شناخت بھی کر لی گئی۔ اس کا فیس بک اکاؤنٹ بھی لوگوں کی نظر میں آیا اور یہ بھی نظر آیا کہ لڑکا خاصا مذہبی ہے۔
Read moreگنے کے کاشتکار، اپنا کام کاج چھوڑ کے لاہور کی سڑکوں پہ ٹریکٹر لیے کھڑے ہیں اور ہمارے ایک دانشور دوست، فیس بک پہ سٹیٹس لگا رہے ہیں ’سٹک ان اے موب فیلنگ ہراسڈودمرزا غالب اینڈ فورٹی نائن ادرز‘۔ یہ صاحب، علمی محفلوں میں اچھل اچھل کر ’جس کی محنت، اس کا حاصل‘ کے آؤٹ آف ووگ نعرے پہ سپیچیں دیتے پائے جاتے ہیں
Read moreراقم کو اکثر خود پہ دانشور ہونے کا شبہ ہوتا تھا، یہ شبہ یقین میں کبھی نہ بدلتا اگر ملک میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ہو کر تحریکِ انصاف کی حکومت نہ آتی۔ اس وقت کے متوقع وزیرِ اعظم کی پہلی تقریر ہی سے بھانپ لیا تھا کہ حکومت کے مینی فیسٹو میں سب سے اوپر ‘خارجہ پالیسی’ رکھی ہے۔ حکومت کے پہلے سو دن پورے ہونے کا انتظار بھی جاری تھا اور نو حاصل شدہ دانشوری کے تحت یہ
Read more28 اگست 2016۔
مرغے میں نے انڈا دیا۔
مرغی تو نے اچھا کیا۔
انڈے کتنے اچھے ہیں۔
پاؤں تیرے ننگے ہیں۔
انڈے بیچو، جو تے لو!
یہ نظم میری نہیں۔ یہ نظم کس کی ہے، مجھے معلوم نہیں، شاید لکھتے ہوئے کچھ الفاظ بھی آگے پیچھے ہو گئے ہیں، لیکن نظم کا مقصد جو مجھے سمجھ آیا وہ یہ ہے کہ مرغی کے انڈے بیچ کر زندگی کی بنیادی سہولیات خریدی جا سکتی ہیں۔
پھر مزید غور کیا تو، رشتوں کا استحصال، انسان کی کجیاں، اس عرصہِ حیات کے لیے انسان کا حد سے بڑھا ہوا لالچ اور دیگر باریکیاں اور کمینگیاں واضح ہونے لگیں، دل بھر آیا اور مرغی کی بے بسی اور مرغے کی خباثت نے بے ساختہ آنکھیں نم کر دیں۔
مرغے، مرغی اور انڈے کی یاد آنے اور آتے ہی رہنے کے پیچھے پنجاب حکومت کا ایک اعلان پو شیدہ ہے۔ شنید ہے کہ سرکاری سکولوں میں طالبات کو چار مرغیوں اور ایک مرغے کا سیٹ دیا جائے گا۔ اس طرح ان کو چھوٹے پیمانے پر مرغبانی کی تربیت بھی ملے گی اور باورچی خانے کے کوڑے کو ٹھکانے لگانے کی تمیز بھی آئے گی۔
Read moreاردو کی ممتاز ناول نگار، مترجم، افسانہ نگار اور استاد، 1929ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئیں اور 29 نومبر 2018ء کو لاہور میں انتقال فر ما گئیں۔ نواسی برس کی اس زندگی میں انہوں نے اردو ادب کو جو شاہکار عطا کئے ان کی قدر جوہری ہی جانتے ہیں۔ چونکہ اردو زبان خر کاروں کے ہتھے چڑھ چکی ہے اس لئے افسوس انہیں وہ مقام نہ دیا گیا جس کی وہ اہل تھیں۔ میرا آپا سے تعارف سن نوے میں
Read moreلاہور میں گذشتہ چار برس سے فیض میلہ ہو رہا ہے۔ اس برس اس میلے پہ شرکت کے لیے جاتے ہوئے اچانک یہ انکشاف ہوا کہ پاکستان جیسے ہیرو کش معاشرے میں رہتے ہوئے ہیرو کیسے بنا جائے؟ یہ انکشاف ہوتے ہی لمحہ بھر کو تو انسان کی ازلی کمینگی اور ابدی بھوک نے مجھ پہ غلبہ پایا اور چاہا کہ اس نسخے پہ خود ہی عمل کروں اور پھر اسے اپنے سینے کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن کر لوں
Read moreجب فہمیدہ ریاض کا ادبی سفر شروع ہوا تو ملک پر مارشل لاء کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1942 کو پیدا ہوئیں ایک پر ہنگام زندگی بپا کر کے ایک مختصر علالت کے بعد 22 نومبر 2018 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ باقی بس اللہ۔ زندگی گزارنے کی بجائے زندگی بپا کرنے کی ترکیب میں نے جان بوجھ کر لکھی۔ فہمیدہ آپا نے زندگی گزاری نہیں، بپاکیے رکھی۔ بہتر سال کے اس وقفے میں
Read moreراقم کے خیال میں زندگی اتفاقات سے عبارت ہے اور اتفاقات سے زیادہ بے ڈھنگی کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ زندگی کے جگسا پزل میں سب ٹکڑے اتفاقات کی دیوی آ کر جوڑتی ہے اور جب اس کا جی چاہتا ہے ساری بساط بکھیر کے چلی جاتی ہے۔ راقم کا یہ بھی خیال ہے کہ انسان جس چیز سے بھاگتا ہے وہ اس کی جان کو پیر تسمہ پاء بن کی چمٹ جاتی ہے۔لاکھ کندھے جھٹکے ، لاکھ جان چھڑائے
Read moreدھندھواں نے لاہور شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور یہ تیسرا سال ہے کہ یہ زہریلی دھند پھیلی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس بار کسی کو اس کی فکر نہیں۔ فکر تو شاید مجھے بھی نہ ہوتی، وہ تو بدھ کے روز دس گیارہ بجے کے قریب ایک فون آیا۔ کسی نے بہت پراسرار انداز میں کہا ، ’بچوں کو سکول سے لے آئیں ؟‘ کھڑکی کے باہر دیکھا تو سیاہ دھواں بل کھاتا اٹھ رہا
Read moreدیگر بہت سی بد خصلتوں کے ساتھ، ہم پاکستانیوں کو افواہوں پہ یقین کرنے کی بھی پرانی عادت ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، ہر ہر واقعے کی ایک سے زیادہ تفصیلات مل جائیں گی۔ سچ اور جھوٹ کا آملیٹ ہم کچھ ایسی مشاقی سے پھینٹتے ہیں کہ، پیاز، ہری، مرچ، زردی، سفیدی، کسی کی بھی انفرادیت برقرار نہیں رہتی۔ موجودہ حکومت کی طرف عوام الناس کا رویہ کچھ ویسا ہی ہے، جیسا نئی نویلی بہو کے ساتھ کسی زمانے
Read moreسعودی صحافی جمال خاشقجی آخر کار سعودی حکومت نے جمال خشوقجی کے اپنے قونصل خانے میں کیے جانے والے قتل کا اعتراف کر ہی لیا۔ یہ قتل نہایت بھیانک طریقے سے کیا گیا۔ آوازوں کو قتل کرنے کے لیے ہمیشہ بھیانک طریقے ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک کروفر اور جاہ و جلال والی حکومت کو ایک 60 سال کے صحافی سے کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟ جمال خوشقجی کا آخری کالم بھی آج ہی پڑھا۔ اس کالم کا
Read more‘او لیولز‘ کے نتائج آئے۔ طالب علم کامیاب بھی ہوئے، ناکام بھی۔ اچھے نمبر لینے والے خوش تھے اور کچھ طلبا اچھے نمبر لے کر بھی خوش نہ تھے۔ چہروں پہ پریشانی جھلک رہی تھی، اضطراب کے عالم میں دانتوں سے ناخن کتر رہے تھے اور نظریں ملنے پہ ان کی آنکھوں میں ایک واضح ہراس نظر آرہا تھا۔ خیر سے یہ متمول گھرانوں کے بچے تھے۔ چلیے متمول نہ سہی، ان گھرانوں کے بچے تو تھے ہی، جو آدھا
Read moreسنتے آئے ہیں کہ ہونسنے والوں کی نظروں سے بڑے بڑے بادشاہ تاج وتخت سے محروم ہو گئے۔ جلنے والوں کا یہ ہے کہ بس جلے جاتے ہیں بے وجہ۔ میڈیا والوں ہی کی بات کر رہی ہوں، کتنا سمجھایا کہ دیکھو، انقلاب آ گیا ہے، اب سب ٹھیک ہونے والا ہے وہ دن آگیا جس کا وعدہ تھا۔ دو سو ارب روپے خزانے میں جمع ہو چکے ہیں مودی کا یار، سلاخوں کے پیچھے جا چکا ہے۔ راوی چین
Read moreتطہیرفاطمہ کی کہانی بھی دیگر بہت سی پاکستانی بچیوں کی کہانی ہے، جن کے ماں باپ کو ایک بے جوڑ شادی کے ذریعے باندھ دیا جاتا ہے۔ اس تعلق کے نتیجے میں جو اولاد دنیا میں آتی ہے وہ اس بے جوڑ شادی کا بھگتان، ماں باپ سے بھی زیادہ بری طرح بھگتتی ہے۔ تطہیر فاطمہ ایک ایسی لڑکی ہے، جس کے ماں باپ میں طلاق ہوئی اور اسے اس کی ماں نے پالا۔ پالنے کا لفظ یہاں بہت وسیع
Read moreوزیرِ اعظم عمران خان نے پانی کی کمی کو پاکستان کا بنیادی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے دیامربھاشا ڈیم کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیا ہے اور اس مقصد کے لیے چیف جسٹس کے قائم کردہ فنڈ کو وزیراعظم کے فنڈ برائے ڈیم میں ضم کر لیا ہے۔ یہ بہت اچھا قدم ہے۔ ویسے تو موجودہ حکومت کا ہر قدم اچھا ہی ہو گا کیونکہ یہ ایک محبِ وطن اور اسلامی شعائر پر کاربند حکومت ہے لیکن جانے کیوں ایسا لگ
Read moreپاکستان تحریک انصاف کی نئی حکومت آہستہ آہستہ جمنی شروع ہو چکی ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں تشکیل پاچکی ہیں اور تمام وزرا حلف اٹھا چکے ہیں۔ ملک میں باقی وزارتیں تو قریباً وہی ہیں جو پچھلے ادوار میں اور دنیا کے ہر ملک میں ہوتی ہیں مگر ایک وزارت نئی بنی ہے۔ یہ خفیہ وزارت ہے لیکن ایسی خفیہ، کہ سب ہی کو اس کی موجودگی کی خبر ہے۔ اب آ پ کہیں گے کہ یہ کیسا راز ہے
Read moreہم پاکستانی بڑے ہی ظالم لوگ ہیں، اسی لیے ہم پہ پچھلے 70 سالوں سے سوائے، سکندر مرزا، ایوب خان، یحی ٰ خان،ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے،بد عنوان اور ظالم لوگ ہی حکومت کرتے رہے۔ اب اللہ اللہ کر کے ایک شریف النفس، صادق اور امین، وجاہت و نجابت کا پیکر، جس کے دل میں خوفِ خدا اور ہاتھ میں تلوار معاف کیجیے گا تسبیح ہے، وزیرِ اعظم بنا تو اب بھی ان کو چین نہیں۔ حلف برداری کی تقریب کو
Read moreآخر کار یار لوگوں نے تتو تھمبو کر کے کسی طرح عمران خان کو وزیرِ اعظم بنا ہی دیا۔ دل کی گہرائیوں سے مبارک باد۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو یہ جیت مبارک ہو، جنھوں نے عمران خان کو اس لیلائے وطن کے لیے آخری امید سمجھا اور اپنے ووٹ کی طاقت سے ان کو کامیاب کیا۔ باقی رہ گئے جلنے والے۔۔۔ پچھلے دو روز میں ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے اور ایسی ایسی گتھیاں سلجھیں کہ عقل دنگ
Read moreپرانے وقتوں میں، جب زمانے نے اتنی ترقی نہیں کی تھی کہ بچے سمارٹ فون پہ پب جی کھیلیں، گرمی کی دوپہریں کاٹنی دوبھر ہو جایا کرتی تھیں۔ گھروں کے بڑے، ڈیزرٹ کولر چلا، کمرے بند کر پوری دوپہر بے سدھ سوتے تھے اور بچوں کے لشکر، بےسری فوج کی صورت گلیوں میں خاک اڑاتے پھرتے تھے۔ خاک بھی کہاں تک اڑاتے؟ جو دو ایک کھیل آتے تھے انھیں بھی کھیل کھیل کر جی اُوب جاتا تھا۔ تب بچوں کا
Read moreاگست کا مہینہ آ لگا ہے اور ہر بار کی طرح اس سال بھی بے حسی کی گرد جھاڑ کے لوگ اٹھے ہیں کہ بہتری کے لیے کچھ کیا جائے۔ اس بار سب کا زور ،’درخت’ لگانے پہ ہے۔ ایسی تحریکیں چونکہ اکثر بے سری ہوتی ہیں، اس لیے اٹھتی تو بہت زور سے ہیں لیکن پھر یا تو کسی مفاد پرست کے ہتھے چڑھ کے اپنا مقصد کھو بیٹھتی ہیں یا کسی وجہ سے پر تشدد ہو کے بدنام
Read moreابھی سرکاری انتخابی نتائج کا اعلان بھی نہ ہوا تھا کہ تحریکِ انصاف کے سر براہ عمران خان نے ’عوام سے خطاب‘ نما تقریر کر ڈالی۔جیت کا یقین ہو تو ایسا۔ واہ ! جی خوش کر دیا۔ اب پیچھے رہ گئے ہارنے والے تو انھوں نے حسبِ توقع اور حسبِ روایت دھاندلی کا رونا شروع کر دیا۔ انتخابات میں دھاندلی کرنا، سفارشی بھرتی کرانا، امتحان میں نقل کرنا اور تاریخِ پیدائش میں ہیر پھیر کرنا ہمارے ایسے قومی کھیل ہیں
Read more