منگل کو میڈیا پر یہ خبر دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دو روزہ دورے پر قاہرہ پہنچ گئے، انہوں نے مصر کے صدر عبدالفتح السیسی اور ہم منصب سامح شکری سے ملاقاتیں کیں۔ وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا گزشتہ 10 سال سے مصر کے ساتھ تعطل کا شکار تعلقات ازسرنو بحال ہو گئے ہیں۔ ہما رے اکثر وزرائے خارجہ پاکستان میں چند روز ہی گزارتے ہیں اور بیرون ملک مصروفیات میں مگن رہتے ہیں، وہ غیر ملکی دوروں میں ہی خوش رہتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سربراہان مملکت و حکومت اور وزرائے خارجہ ریڈ کارپٹ استقبال کے دلدادہ ہوتے ہیں اور وی وی آئی پی ویلکم، عشائیوں، ظہرانوں اور کانفرنسوں میں بڑی بڑی شخصیات سے ملاقاتوں سے ان کا دل بہلا رہتا ہے اور اندرون ملک جھمیلوں میں پڑنے کے بجائے سیر و تفریح سے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں اور تھوڑا سا کام بھی مزے سے ہوجاتا ہے۔ جب امریکہ کے مدبر، نیشنل سکیورٹی کے ایڈوائزر اور بعد میں وزیرخارجہ بننے والے ہنری کسنجر نے خارجہ پالیسی میں نئی جہت ڈالی تو اسے شٹل ڈپلومیسی کہا جانے لگا جس پر یہ نکتہ چینی کی جاتی تھی کہ اگر وزیر خارجہ بہت زیادہ سفر کرے گا تو وہ اپنے ملک کی پالیسیوں کے بارے میں فوکس کھو دیتا ہے۔
Read more