انور عزیز چودھری کی وفات…اور غیر محفوظ موٹروے

مئی 2019 سے میرا اپنے گھر سے باہر نکلنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔ کسی اور شہر کا سفر کرنے سے کمر کی تکلیف کے خوف کی بنا پر گھبرائے رہتا ہوں۔چودھری انور عزیز صاحب کی وفات کی خبر سن کر مگر شکرگڑھ جائے بغیر دل کو تسلی نہیں مل سکتی تھی۔ میری بیوی کو بھی ان کی قبر پر حاضری دئیے بغیر چین نصیب نہیں ہونا تھا۔ چودھری صاحب کی 90 ویں اور آخری سالگرہ ہم نے اسلام آباد

Read more

حالاتِ حاضرہ اور رفتگاں کی یادیں

شکرگڑھ سے تھکا ماندہ اور بہت اداس لوٹا تو ایڈمرل فصیح بخاری کے انتقال کی خبر آگئی۔ چودھری انور عزیز اور اشفاق سلیم مرزا صاحب کے برعکس ان کے ساتھ دوستی کے بجائے محض شناسائی کا رشتہ تھا۔میرے صحافتی کیرئیر کا ایک اہم ترین Exclusive مگر انہوں نے فراہم کیا تھا۔جو خبر انہوں نے دی اسے لکھنے کو احمقانہ دلیری درکار تھی۔ معاملہ اس وجہ سے بھی مزید پیچیدہ ہوگیا کہ جس اخبار کے لئے ان دنوں کام کرتا تھا

Read more

’’وفا داری بشرط استواری‘‘کی مجسم علامت۔ اشفاق سلیم مرزا

چودھری انور عزیز صاحب کی تعزیت کے لئے شکر گڑھ کا سفر درپیش تھا کہ اشفاق سلیم مرزا صاحب کی رحلت کی خبر آگئی۔ عرصہ ہوا ان سے سرسری ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔زندگی کے مختلف دائروں تک محدود ہوکر ایک دوسرے سے ہم جدا ہوچکے تھے۔اپنی زندگی کے کئی برس مگر ہم نے خاندانی اکائی کی صورت گزارے ہیں۔ان کی وفات نے بہت کچھ یاد دلادیا۔ انتہائی پریشان کن حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ طبعاََ ابھی تک موت

Read more

کورونا کی نئی لہراور جلسے!

پاکستان کا شمار معدودے چند ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کورونا وبا کی پہلی لہر پر کامیابی سے قابو پایا گیا۔ عدم برداشت اور محاذ آرائی کے دور میں بھی وفاق اور صوبوں نے اس مہلک وبا سے نبٹنے کے لیے مل کر مربوط حکمت عملی اختیار کی جس سے اموات بڑھنے کی رفتار کم ہوتی گئی اور بالآخر احتیاطی تدابیر جن میں لاک ڈاؤن اور سمارٹ لاک ڈاؤن شامل تھیں کو آہستہ آ ہستہ نرم کیا گیا۔ ریستورانوں

Read more

افغانستان کے بارے میں آسٹریلوی رپورٹ

یہ بات ہے دو ہزار بارہ کی۔افغان صوبہ ارزگان میں تعینات آسٹریلیا کے خصوصی کمانڈو دستے کے ساتھ منسلک الیکٹرونک آپریٹر بریڈن چیپمین نے دیکھا کہ ان کے ایک ساتھی نے ایک نہتے افغان کو یونہی گولی مار کر ہلاک کردیا حالانکہ اس افغان نے حکم ملنے پر ہاتھ بھی کھڑے کر دیے تھے۔ بقول چیپمین ’’یہ منظر دیکھ کر میں بھونچکا رہ گیا۔ میرے ایک ساتھی نے میرا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا پریشان مت ہو۔کوئی پوچھے تو یہی بتانا

Read more

’’بغاوت‘‘ کا سرغنہ ٹھہرے چودھری انور عزیز

اپنے والد،والدہ،سسر اور ساس کی موت کو میں نے بہت حوصلے سے برداشت کرلیاتھا۔چودھری انور عزیز صاحب کے انتقال کی خبر نے مگر ’’یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر؟‘‘ والا سوال کھڑا کردیا ہے۔ان سے جڑی یادوں کو ایک کالم میں سمونہیں سکتا۔ اختصارنویسی کے تمام تقاضوں کو پوری طرح نبھاتے ہوئے بھی کئی سو صفحات پر مشتمل کتاب لکھنا ہوگی۔ اپنے اسلوب کے حوالے سے منفرد شمار ہوتے صحافی جناب عباس اطہر صاحب کی وساطت سے

Read more

کراچی سرکلر ریلوے

ایک بجے کے لگ بھگ کلاسیں ختم ہو جاتیں تو کچھ لوگ سینٹرل مسجد کا رخ کرتے اور کچھ کیفے ٹیریا کا۔یہ دونوں مقامات کشش رکھتے تھے۔ مسجد میں ظہر کی چار رکعتوں کے بعد طلبہ کی ٹولیاں صحن، برآمدے اور دروازوں کے کھلے چبوتروں پر دھرنا دے کر بیٹھیں اور باتوں کے وہ فوارے چھوٹتے کہ سننے دیکھنے والے سب بھیگ کے اٹھتے۔ کچھ ایسے ہی مناظر کیفے ٹیریا کے ہوتے۔آلو کے کٹلٹ اور انڈاگھوٹالے کے ساتھ دو لقمے

Read more

علامہ خادم حسین رضوی ایک طاقتور کرشماتی شخصیت

وہ دوست جن کی پُرخلوص شفقت اور محبت کی بدولت اب تک زندگی سے کامل کنارہ کشی اختیار کرنے کو مجبور نہیں ہوا، ان کی تعداد ہاتھ کی اُنگلیوں کے برابر رہ گئی ہے۔جمعہ کے دن سے مگر مجھے یہ خوف لاحق ہونا شروع ہوگیا ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے بارے میں میری بے لچک رائے انہیں مجھ سے ناراض نہ کردے۔ حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ علامہ صاحب کی زندگی میں ان کے اندازِ

Read more

گلگت بلتستان توقعات پر پورا اترا

وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ یعنی جو پارٹی اسلام آباد میں حکمران ہو گی وہی گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھی کامیاب ہو گی۔اس بار یہ اعزاز تحریک انصاف نے حاصل کیا۔دو ہزار نو کے بعد مجلس قانون ساز کے یہ تیسرے انتخابات تھے۔ تینتیس ارکان پر مشتمل اسمبلی میں چوبیس نشستوں پر براہِ راست مقابلہ ہوتا ہے۔ چھ اضافی نشستیں خواتین کے لیے اور تین ٹیکنو کریٹس کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ نو مخصوص نشستیں چوبیس عام نشستوں

Read more

، ہمارے لیے ایران کا کھلتا دروازہ

خارجہ تعلقات میں اعلانات سے زیادہ اشارے اہم ہوتے ہیں۔کچھ ایسے ہی اشارے پاک ایران تعلقات کے ضمن میں بھی میسر ہیں۔ جواد ظریف اسلام آباد بعد میں پہنچے، اس سے پہلے ایک پیغام پہنچا جس میں امریکی صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کا ذکر کیے بغیر کہا گیا کہ جن کو جانا تھا، چلے گئے، ہمیں یہیں رہنا ہے۔ اس معنی خیز پیغام کے بعد جواد ظریف پاکستان چلے آئے اور انھوں عمران خان سے ملاقات

Read more

سازشی کہانیوں کی پذیرائی

کج بحثی میں اُلجھنے سے کیا حاصل؟ کبھی کبھار گلاس کو آدھا بھرا دیکھ کر بھی دل کو اطمینان دِلانا پڑتا ہے اورکراچی واقعہ کے بار ے میں آئی ایس پی آر کی رپورٹ آجانے کے بعد منگل کی شام پاکستان پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری نے یہی پیغام دیا ہے۔غور طلب حقیقت بنیادی طورپر اس کے باوجود یہ رہی کہ جس واقعہ کی بابت رپورٹ جاری ہوئی اسے پاکستان کے آئینی طورپر ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ ٹھہرائے وزیر اعظم عمران

Read more

اعلان لاتعلقی کی آہٹ

بیلنس آف پاور ایک تھیوری ہے۔ طاقت کا ترازو سیدھا کرنا۔ مخالف کے پاس الٰہ دین کا چراغ آ جائے تو اس کے برابر طاقت حاصل کرنے کے لیے بوتل کا جن آزاد کرنا پڑتا ہے۔ مسلم لیگ نے کبھی سیاسی تحریک چلائی نہ اسے اس کی تربیت ہے۔ اب بھی اسے سیاسی ا تالیق جو پڑھا رہے ہیں وہ سیاست نہیں، یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم بنا کر حکومت کے خلاف اپوزیشن نے طاقت کا جو توازن قائم کرنے کی کوشش کی اس کا سارا فائدہ سیاسی موسمیات سے واقف اور تربیت یافتہ پیپلز پارٹی کو ہو رہا ہے۔

Read more

بڑھتا ہوا کورونا اور انہونیاں

کووڈ 19 پہلے سے زیادہ تیزی سے پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پھیل رہا ہے۔ پہلے تو چرچے تھے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے اس مہلک وائرس کے بدمست ہاتھی پر قابو پالیا گیا ہے۔ حکومت نے بجا طو ر پر کریڈٹ بھی لیا لیکن ماہر ین کا خیال ہے کہ فتح کے شادیانے بجانے میں عجلت سے کام لیا گیا۔ کچھ ہماری لاپروائی کی بنا پر چند ہفتوں سے کورونا پھر جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 46 ہزار 476 ہے جن میں سے 3 لاکھ 19 ہزار 431 صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 7 ہزار سے زائد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

Read more

بس، یہ آخری جملہ…

‘’بس منے، یہ آخری جملہ، پھر میں چلا‘‘۔یہ شاہ صاحب تھے، وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے جس پر وہ بیٹھے ہی کہاں تھے اور آخری جملے کا آغاز کیا۔ جملہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے جانے کہاں جا نکلا،پھر نا معلوم شاہ صاحب کب واپس اپنی نشست پر بیٹھے اورکب یہ جملہ کانٹا بدل کر کسی دوسری شاہراہِ پر گامزن ہوا، اس کی خبر شاہ صاحب کو ہوئی، نہ ان کے مصاحبین کو۔ شاہ صاحب کون تھے،

Read more

جوبائیڈن سے امیدیں

ہمارے ہاں سوال اب یہ اٹھایا جائے گا کہ جوبائیڈن کے دورِ اقتدار میں پاک -امریکہ تعلقات کا کیا عالم رہے گا۔ عملی صحافت سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوچکا ہوں۔خود کو مذکورہ سوال کا تسلی بخش جواب فراہم کرنے کے لہٰذا قابل نہیں سمجھتا۔ جوبائیڈن کی پاکستان کے بارے میں ممکنہ طورپر اختیار کردہ پالیسی کے بارے میں سوچتے ہوئے مگر یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہمارے ہاں 2008-9کے برسوں میں ’’کیری-لوگربل‘‘ کا بہت چرچارہا تھا۔مذکورہ بل کاپسِ منظر بھی

Read more

جہانگیر ترین کی واپسی اور اس کے بعد ۔۔

جوچا ہے آپ کا حسن کر شمہ سا ز کر ے ،قر یبا ً سا ت ما ہ سے عملی طور پر جلا وطنی میں گزا رنے کے بعد عمران خان کے سابق معتمد خصوصی جہانگیرخان تر ین وطن واپس لو ٹ آ ئے ہیں۔ تحر یک انصا ف میں ان کے حا سد ین اور مخا لفین جو کھلے اور دبے لفظوں میں ان پر تنقید کرتے رہتے تھے اب منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے ہیں۔ جہانگیر تر

Read more

آج ٹرمپ نہیں نسل پرست ہارے

نفرت اور شرانگیزی کی علامت صدر ڈونلڈٹرمپ کا اقتدار تمام ہوا۔ہونا ہی چاہیے تھا۔ اسلاموفوبیا کو انہوں نے بھڑکایا۔امریکہ کی سرزمین مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے تنگ کی۔ اسرائیل جوارض فلسطین پر نہ صرف قابض ہے بلکہ ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہاہے کی پیٹھ ٹھونکی۔ ہمت اور شجاعت سے عاری عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو ہانک کر اسرائیل کے سامنے سربسجود کرایا۔ کشمیر میں گزشتہ پندرہ ماہ سے انسانی تاریخ کا بدترین باب رقم ہورہاہے لیکن ٹرمپ

Read more

بائیڈن کے لئے نظر آنے والی مشکلات

امریکی صدارتی انتخاب نے خوف،بے چینی اور تنائو کی جو شدت دکھائی ہے وہ دُنیا بھر کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو اپنی سوچ اور رویے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا باعث ہونا چاہیے۔ بہت خلوص سے انہیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ اپنے تئیں ’’معروضی حقائق‘‘ کو ’’دریافت‘‘ یا بیان کرتے ہوئے وہ خودپرستانہ رعونت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ فرض کرلیتے ہیں کہ ’’تھوڑی عقل‘‘ رکھنے والا ہر شخص ان ہی کی طرح ’’معقول‘‘سوچ کاحامل ہے۔معاشرے کے محض

Read more

امریکہ میں نظر آتا خوفناک بحران

فلوریڈا جیت لینے کے باوجود ٹرمپ پریشان دِکھ رہا تھا۔ حالانکہ ابھی تک ہوئے رائے عامہ کے سروے مسلسل دعویٰ کررہے تھے کہ 538 اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں 29 ووٹوں کی حامل یہ امریکی ریاست بائیڈن کی حامی ہوئی نظر آرہی ہے۔فلوریڈا میں بائیڈن کی شکست ٹرمپ مخالفین کے لئے حیران کن ہی نہیں بلکہ ان کی امیدوں پر پانی ڈالنے کا باعث بھی ہونا چاہیے تھی۔ یہ کالم لکھنے سے چند ہی لمحے قبل لیکن ڈیموکریٹ پارٹی

Read more

بندگلی میں دَم کیسے گھٹتا ہے؟

ماہِ مئی میں انتخابات ہوتے ہیں ،پی ایم ایل این برسرِ اقتدار آتی ہے ،مگر جلد ہی دھاندلی کا شُور اُٹھتا ہے اور دوہزار چودہ میں دوپارٹیاں، پی ٹی آئی اور پی اے ٹی، اسلام آباد کی اُور یلغار کرتی ہیں،ایک برس قبل منتخب حکومت اِ ن دونوں جماعتوں کے نزدیک جعلی ٹھہرتی ہے۔سولہ دسمبر دوہزار چودہ کو اے پی ایس کا سانحہ رُونما ہوتا ہے تو پی ٹی آئی کا دھرنا اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ اگست سے دسمبر

Read more

امریکہ میں خانہ جنگی جیسے بحران کا امکان؟

1986ء میں ایشیاء ،افریقہ اور لاطینی امریکہ سے ایک طویل عمل کے ذریعے چنے چند صحافیوں کے ہمراہ امریکہ میں چھ ماہ گزارے تھے۔ امریکی اخبارات کے مدیروں کی تنظیم نے ہمارے لئے ایک پروگرام کا اہتمام کیا۔مشہور زمانہ فلیچر سکول آف لاء اینڈ ڈپلومیسی کی نگہبانی میں تیار ہوئے اس پروگرام کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ دُنیا امریکہ کے بارے میں کیا جانتی اور محسوس کرتی ہے اور امریکی دیگر ممالک کے بارے میں کتنے باخبر ہیں۔

Read more

اچھی گورننس میں ہی سب کا بھلا

اپوزیشن نے وزیر اعظم پر الزام عائد کیا ہے کہ خان صاحب میں منافق کی تینوں نشانیاں موجود ہیں۔ اپوزیشن کی اس رائے سے کامل اتفاق تو نہیں کیاجا سکتا لیکن پاکستان کے کون سے مین سٹریم سیاستدان ہیں جن میں یہ نشانیاں بدرجہ اتم موجود نہیں ہیں۔ ایک مقولے کے مطابق خیرات ہمیشہ گھر سے شروع ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کو ہی لیں، اپنے سیاسی کیریئر کے دوران جتنی قلابازیاں انہوں نے لگائی ہیں شاید ہی کوئی دوسرا سیاستدان

Read more

ازجامی بے چارا رسانید سلامے

بچے گھر کے تبدیل معمولات پر سوال کریں تو ان کا جواب دینا ضروری ہو جاتا ہے‘ گھر کی تربیت اسی کو کہتے ہیں۔ عید میلاد النبیؐ پر مناہل نے فرمائش کی کہ یوٹیوب پر کوئی نعت لگائوں۔ امی مرحومہ ام حبیبہ کی پڑھی گئی نعتیں اسی شوق سے ہلکی ہلکی آواز میں پڑھا کرتیں۔ اتنی مدھم آواز کہ جسے ان کی گود میں لیٹا بچہ ہی بس سن سکتا۔ کئی بار ہم نے ان کی زبان سے یہ نعتیں

Read more

افغانستان میں اصلاحات کے عالمی پروگرام مالی بدعنوانی کے شکار

امریکا و نیٹو نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو انہیں گمان تھا کہ عسکری طاقت کے زعم میں من پسند مفادات حاصل کرنے میں رکاؤٹ کا سامنا نہیں ہوگا، تاہم سرزمین افغانستان کی تاریخ سے واقفیت ہونے کے باوجود جارحیت کے نتائج جہاں ان کے توقعات کے برعکس نکلے تو دوسری جانب شکست کے علاوہ مالی نقصانات نے امریکی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا۔ امریکا کے لئے دوہری مشکلات یہ بھی تھی کہ دنیا کے سامنے ایک ایسی افغان

Read more

اے این پی اور پیپلز پارٹی کے لئے ’’دہائی مچانے‘‘ کا موقع

اتوار کی سہ پہر طویل وقفے کے بعد میں نے اسلام آباد کے نواح میں واقع ایک دیہات میں چند گھنٹے صرف کئے۔ خودروجھاڑیاں اور درخت رونق سے محروم نظر آئے۔ فرض کرلیا کہ سردی کی آمد سے گھبراگئے ہیں۔تھوڑی دیر بعد مگر احساس ہوا کہ فصلوں اور سبزیوں کی کاشت کے لئے جو رقبے مکانات تعمیر ہونے سے بچ گئے ہیں کسانوں کی توجہ سے محروم ہیں۔زمین خشک مٹی کی تہہ میں چھپ گئی ہے۔ کاشت کاری کے لئے

Read more

نیلا چاند اور ممکنہ المیے

پس ثابت ہوا کہ اردو ہی نہیں دنیا کی ہر زبان بقول داغ دہلوی ”آتے آتے“ آیا کرتی ہے۔ انگریزی سے سطحی واقفیت کی وجہ سے میں نے ہمیشہ یہ باور کیا کہ ”Once in a Blue Moon“ والا جو محاورہ ہے وہ اچانک نصیب ہوئی اس خوشی کو بیان کرتا ہے جو مصیبتوں کا مارا کوئی شخص تصور میں بھی نہیں لاسکتا۔ چند دن قبل مگردریافت یہ ہونا شروع ہوا ہے کہ ”بلیو مون یا نیلا چاند“ کبھی کبھار نمودار ضرور ہوتا ہے مگر ہمیشہ ”خیر“ کی خبر نہیں لیتا۔ اس کی نمائش بسا اوقات اذیت دہ انہونیوں کا باعث بھی ہوتی ہے۔

Read more

سیاست اور کرکٹ میں فرق

انتہائی مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ عمران خان صاحب اپنے وزراء سے ان دنوں سخت ناراض ہیں۔انہیں گلہ ہے کہ وہ اپوزیشن کا مؤثر انداز میں مقابلہ نہیں کرتے۔ٹی وی سکرینوں پر بجھے بجھے نظر آتے ہیں۔سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی حزب مخالف کو منہ توڑ جواب نہیں دیتے۔ وزیر اعظم کے مبینہ غصے کی وجوہات میں نے ایک صحافی کے تجسس کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہے۔میری ’’تحقیق‘‘ بالآخر ایک بار پھر مجھے

Read more

گندم کی ’’امدادی‘‘ قیمت

چوہدری پرویز الٰہی نے درست کہا ہے۔ عمران حکومت کی جانب سے گندم کی ’’امدادی‘‘ قیمت میں دو سو روپے فی من کا اضافہ ’’مذاق‘‘ ہی محسوس ہورہا ہے۔ذاتی طورپر اگرچہ میں اسے ’’مذاق‘‘ کے بجائے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تصور کروں گا۔ مذکورہ قیمت کو طے کرنے سے قبل حکومت ہرگز یہ کوشش کرتی نظر نہیں آئی جس کی بدولت اِن دِنوں بازار میں گندم کی فی من قیمت کا پتہ لگایا جاتا۔اس قیمت کاجائزہ لیتے ہوئے

Read more

سازش ناکام!

اپوزیشن کی حکومت کے خلاف تحریک سے سیاسی ٹمپریچر بڑھتا جا رہا ہے، ابھی تک تین بڑے جلسے ہو چکے ہیں ۔ گوجرانوالہ ، کراچی اور کوئٹہ میں ہونے والے جلسوں نے یہ بات تو طے کر دی ہے کہ ملک میں جاندار اپوزیشن موجودہے جس کو عوام کی طرف سے پذیرائی بھی مل رہی ہے ۔پہلے تو حکومتی ناقدین کا خیال تھا کہ اپوزیشن ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی نہیں ہو پائے گی اور اگر ہو بھی گئی تو

Read more

فرانس میں اسلامی شناخت مٹانے کی تیاری

فرانس کا صدر اپنے عوام کے بارے میں واقعتا پریشان ہوتا تو اس کی تمام تر توجہ اس حقیقت پر مرکوز رہنا چاہیے تھی کہ اس کے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاََ 52ہزار افراد کرونا کی زد میں آرہے ہیں۔یورپ کے اس ’’جدید ترین‘‘ اور نام نہاد ’’مہذب‘‘ ملک میں ابھی تک کرونا کے مریضوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ یہ وباء پھوٹنے سے کئی ماہ قبل فرانس ہی میں ’’پیلی جیکٹوں‘‘ والی تحریک بھی

Read more

انہونیاں…مگر 31 اکتوبر تک انتظار فرمائیے

چند ٹھوس معلومات کی بنیاد پر 20 ستمبر سے اس کالم میں ان وجوہات کو بیان کرتا رہا ہوں جو میری دانست میں نواز شریف کو اشتعال دلانے کا سبب ہوئیں۔یہ وجوہات بیان کرتے ہوئے اس خدشے کا بھی تواتر سے اظہار کرتا رہا کہ موصو ف اب خاموش نہیں رہیں گے۔لندن میں قیام پذیر ہیں۔ سوشل میڈیا کا استعمال سیکھ لیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ان کا بیانیہ تلخ تر ہوتا چلاجائے گا۔ سیاست دان مگر لکھاری یا مفکر

Read more

باکو جس کی شریانوں میں بہادری کا لہو دوڑتا ہے

ابھی پرسوں پرلے روز اہل باکو بے تاب ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور انھوں نے آرمینیا کی جارحیت کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ۔ مظاہرین کے پس منظر گلابی رنگ کا ایک مینار سر اٹھائے کھڑا تھا، اس دیس میں مزاحمت کی سب سے بڑی علامت۔ یہ علامت کیا ہے؟ ایک معمہ ہے۔ کوئی دائیں جانب سے دیکھتا ہے اور کوئی بائیں طرف سے،ایک طرف سے دیکھنے والے اسے چھ(6سمجھتے ہیں اور دوسری

Read more

گرے لسٹ میں ٹِکے رہنا ہماری فتح یا…؟

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان بنیادی طورپر انگریزی صحافت کا بڑا نام رہی ہیں۔ بعدازاں سیاست کی نذر ہوگئیں۔میرے عزیز ترین دوستوں میں شامل ہیں۔انہیں ’’سیاسی‘‘ ہونے کے باعث ذاتی ملاقاتوں میں اکثر طعنے دیتا رہتا ہوں۔وہ کھلے دل سے میرے پھکڑپن کو برداشت کرلیتی ہیں۔اتوار کی صبح اخبارات دیکھنے کے بعد مگر یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ ایک باقاعدہ بیان کی بدولت وہ اپوزیشن کی واحد سیاست دان ثابت ہوئیں جنہوں نے فنانشل ایکشن فورس (FATF)کی

Read more

گلبدین حکمت یار کے ساتھ نشست

گلبدین حکمت یار تین دن تک اسلام آباد میں قیام کے بعد واپس کابل لوٹ گئے۔ جہاں وہ بیس برسوں کی جلاوطنی کے بعد گزشتہ تین سال سے مقیم ہیں۔اسلام آباد کسی زمانہ میں حکمت یار کا ٹھکانہ نہیں دوسرا گھر تھا۔ آج بھی ان کی صاحبزادی اور درجنوں قریبی رشتہ دار او حلیف یہاں قیام پذیر ہیں۔ اسلام آباد میں قائم فکر گاہ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز نے حکمت یار کے ساتھ ایک محدود نشست کا اہتمام کیا

Read more

’’غداری‘‘ کے پرچے اور عوام کا محسوس نہ ہونے والا درد

عملی سیاست سے عرصہ ہوا ریٹائر ہوئے چودھری انور عزیز محض ایک فرد نہیں تابدارروایت بھی ہیں۔مجسم شفقت جو مجھ ایسے لوگوں کو زندگی کی ہرمشکل سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ بخشتی ہے۔حال ہی میں انہیں ہماری بہن پروفیسر کرن عزیز کی بے وقت موت کے سانحے کا سامنا کرنا پڑا۔ چودھری صاحب اس کے باوجود اپنی ہی نہیں ہماری ہمت بھی جواں رکھے ہوئے ہیں۔ طویل عرصے کے بعد وہ اسلام آباد آئے تو میری بیوی اور بچیوں کے

Read more

منصور کے پردے میں خدا بول رہا ہے

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس منگل کی سہ پہر ہوئی۔اس کے بعد آرمی چیف نے ان سے فون پر رابطہ کیا۔بعدازاں فیصلہ ہوا کہ پیر کی صبح کراچی میں کیپٹن صفدر کی پُراسرار مگر کافی شرمناک انداز میں ہوئی گرفتاری کا باعث ہوئے ’’حقیقی‘‘ کرداروں کی نشاندہی ہو۔ان تمام واقعات سے کئی گھنٹے قبل میں کالم لکھ کر دفتر بھجواچکا تھا۔ بدھ کی صبح وہ ’’حکومتی صفوں میں کنفیوژن‘‘ کے عنوان سے شائع ہوگیا۔میرے کالم میں بیان کردہ خدشات

Read more

جمہوریت کے نام پر ہی ڈبہ گول؟

کراچی میں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے بھرپور احتجاج پر وزیراطلاعات، سینیٹر شبلی فراز کا تبصرہ دلچسپ ہے ،ان کے مطابق گوجرانوالہ کے جلسے کے برعکس کراچی میں شو ہے لیکن پاور نہیں ہے ،اتنا بھی غنیمت ہے کہ شبلی فراز کو یہ توماننا پڑا کہ اپوزیشن کا کراچی کا اپنے حجم کے لحاظ سے بہت بڑا شو تھا ۔لگتا ہے حکومتی زعما نے ابھی تک شترمرغ کی طرح آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ سوال یہ نہیں ہے

Read more

حکومتی صفوں میں کنفیوژن آف کمانڈ

ریاستی قوت سے رعایاکو بنیادی طورپر ڈرایا جاتا ہے۔اس کا بے جاء مسلسل اور بچگانہ استعمال آخرکار قانونِ تقلیل افادہ کو متحرک بنادیتا ہے اور ریاست ’’لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا‘‘ دینے کے قابل نہیں رہتی۔اگست  2018میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران حکومت نے بہت مہارت سے اپنا خوف لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کیا۔ فواد چودھری صاحب کی رہ نمائی میں صحافتی اداروں کو اپنا ’’بزنس ماڈل‘‘ درست کرنے کے احکامات صادر ہوئے۔ اخبارات اس کی بدولت

Read more

لداخیوں کے ساتھ ہونے والا ہاتھ

بھارتی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں جموں کی ہندو اکثریت ریاستی تشخص کے خاتمے پر خوش ہے، وادیِ کشمیر کی مسلمان اکثریت ناخوش ہے اور لداخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے باشندے شروع میں تو خصوصی تشخص کے خاتمے پر خوش ہوئے۔ کیونکہ ان کے خیال میں سرینگر میں موجود روایتی کشمیری مسلمان حکمران اشرافیہ لداخیوں کو دور دراز خطے کے قبائلی سمجھ کر ان کی ترقی اور حقوق سے اغماز برتتی رہی ہے۔لداخیوں کا

Read more

پی ڈی ایم کی بے سود ’’احتیاط‘‘

کئی مہینوں سے فریاد کئے جارہا ہوں کہ اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں ’’معروضی حقائق ‘‘عنقاہونا شروع ہوجاتے ہیں۔’’سچ‘‘ محض ذاتی یا گروہی تعصبات کے اظہار کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ایسے ماحول میں ’’صحافی‘‘ سے توقع فقط اتنی ہوتی ہے کہ وہ ’’غیر جانب داری‘‘ والی ’’منافقت‘‘ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فریقین کے پھیلائے ’’بیانیوں‘‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔اس ضمن میں ہچکچاہٹ یا تحمل اسے ’’حکومت کا غلام ‘‘ یا ’’لفافہ‘‘ ہوا دکھاتی

Read more

اپوزیشن تبدیل ہو جائے گی ؟

کہا جاتا ہے کہ فوج دو محاذوں پر لڑائی نہیں کرتی۔ پاکستان کے سیاست دان جو کچھ کر رہے ہیں اور جو کچھ کہہ رہے ہیں اس پر گرفت کی جا سکتی ہے‘ اگر نہیں کی جا رہی تو وجہ دوسرا محاذ نہ کھولنے کا فیصلہ ہے۔ پہلا محاذ عالمی طاقتوں اور بھارت نے کھول رکھا ہے۔ایک دوست بتا رہے تھے کہ ہٹلر نے جب تک دوسرا محاذ نہ کھولا وہ فتح یاب تھا،اتحادی فوجیں اس کے آگے بکری بنی

Read more

شرارتی بکرے نے شیر کے کان میں کہا

سنا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور دشمنی مستقل نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے دشمن اور آج کے دشمن کل کے دوست ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے یہ تاریخی سچائی بین الاقوامی سیاسی تعلقات کی بجائے اندرونی سیاسی تعلقات کے حوالے سے زیادہ سچی لگتی ہے۔ مثلاً: امریکا، چین، ترکی اور عرب ہمارے دوست تھے لیکن مشرقی پاکستان بنگلا دیش بن گیا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب ذوالفقار علی بھٹو کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

امریکا، چین، ترکی اور عرب پاکستان کے دوست تھے، لیکن ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا نام آتا رہا۔ امریکا، چین، ترکی اور عرب نواز شریف کے دوست تھے، لیکن پھر بھی انہیں اقتدار سے نکال دیا گیا۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہمسایہ تھا اور برادر اسلامی ہمسایہ افغانستان بھی دوست نہ تھا۔ بھارت اب بھی دشمن ہمسایہ ہے اور برادر اسلامی ہمسائے افغانستان سے پاکستان کو اب بھی خطرہ ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جتنے شکوک و شبہات پہلے تھے، اتنے ہی شاید اب بھی ہیں۔

Read more

سیاست میں پرسیپشن بدل چکا

امریکا میں صدارتی انتخابات کا معرکہ شروع ہونے کو ہے لیکن یہاں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ کچھ پرانا ہے، یوں کہیے کہ کچھ زیادہ ہی پرانا۔ حریف جیسا کہ ہوتا ہے، حتمی نامزدگی سے پہلے ہی اپنا اپنا منشور پیش کر کے رائے دہندگان کی توجہ کے حصول کی کوشش کرتے ہیں اور پارٹی کے اندر اثر و رسوخ  بڑھانے کی بھی۔ اس واقعے کا تعلق بھی نامزدگی کے اسی مرحلے سے ہے۔ ایک صاحب جو نسبتاً زیادہ

Read more

گوجرانوالہ جلسہ: پی ٹی آئی بے جا چراغ پا

خوش نصیب ہوں۔ چند دوست مجھے کسی صورت تنہائی اور گمنامی کی نذر ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایسے ہی دو مہربانوں نے جمعہ کی رات فیصلہ کیا کہ گوجرانوالہ کا جلسہ میرے ہمراہ بیٹھ کر ٹی وی پر دیکھا جائے۔یہ دونوں دوست مختلف ٹی وی چینلوں کی پالیسی سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے لیکن میں ہذیاتی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ تقریباََ ہر چینل کے ’’سٹار‘‘ اینکرز اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ

Read more

اللہ بچائے نادان دوستوں سے

شہ زوروں کے شہر میں جمعہ کو گھمسان کا رن پڑا۔ ایک دن پہلے وہ کچھ ہوا جس کی چند ہفتے پہلے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ عمران خان کے حواریوں کو طوہاً وکرہاًحکومت کے خلاف اپوزیشن کے جلسے کو برداشت کرنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمٰن سے لے کر بلاول بھٹو اور مریم نوازتک قریباً تمام اپوزیشن رہنمائوں نے شرکت کی اور دھواں دھار خطاب کیے۔ میاں نواز شریف لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے تھے،عام

Read more

معیدیوسف کا کرن تھاپرکو انٹرویو

یہ کوئی معمولی اور روایتی انٹرویو نہیں تھا کیونکہ چودہ ماہ بعد وزیرعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویودینے کا فیصلہ کیا۔کرن ایک منجھے ہوئے اور نوکیلے سوال کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پاک بھارت تعلقات کی باریکیوں سے بھی خوب واقف ہیں۔ معید یوسف کا یہ طویل انٹرویو کئی پہلوؤں سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس انٹرویو میں پہلی بار کھل کر دلائل کے ساتھ پاکستان کا نقطہ

Read more

گوجرانوالہ میں جلسہ پر نظریں

اقبالؔ کے ایک مصرعہ میں تحریف کی جسارت کرتے ہوئے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ’’صحافت نام تھا جس کا ‘‘ وطن عزیز میں باقی رہ گئی ہوتی تو بدھ کے روز ہمارے میڈیا کے لئے اہم ترین موضوع وہ رپورٹ ہونا چاہیے تھی جو IMFنے بعداز کرونا معیشت کے بارے میں تیار کی ہے۔پاکستان کے حوالے سے عالمی معیشت کے نگہبان ادارے نے اس رپورٹ میں پریشان کرنے والی Projectionsکی ہیں۔ کلیدی پیغام یہ ہے کہ جولائی2018کے انتخاب سے

Read more

آصف زرداری سے ہوئی ’’مفروضہ‘‘ ملاقاتیں

جولائی 2018میں ہوئے انتخاب کے نتیجے میں جو حکومتی ڈھانچہ نمودار ہوا اس کے تحفظ کو روایتی اور سوشل میڈیا پر حاوی عمران حکومت کے سرکاری اور رضا کار ترجمان بہت بے چین رہتے ہیں۔میں ذاتی طورپر اگرچہ ان کی پریشانی کی وجوہات ابھی تک دریافت نہیں کرسکا۔ حکومتوں کے بارے میں ہمارے ہاں آزاد اور بے باک میڈیا کی بدولت 2008 سے ’’صبح گیا یا شام گیا‘‘ والا تاثر موجود رہا ہے۔ کرپشن کے خلاف افتخار چودھری کی بحالی

Read more

فرقہ واریت کا خاتمہ اور پیغام پاکستان

پاکستان بطور ریاست, سماج یا معاشرہ جن بڑے سنگین مسائل سے دوچار ہے ان میں ایک بڑا بنیادی مسئلہ معاشرے میں موجود انتہا پسندی پر مبنی رجحانات یا فرقہ واریت جیسے مسائل میں شدت کا پیدا ہونا ہے. یہ مسئلہ چند برسوں کا نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بطور ریاست ہم اس مسئلہ کی سنگینی کا شکار ہیں. اس مسئلہ کے پھیلاو کی ایک بڑی وجہ ماضی میں موجود ریاستی و حکومتی پالیسیوں کا بھی بہت زیادہ عمل دخل

Read more

گوجرانوالہ جلسے کا مومنٹم بن چکا

سیاست کے کھیل میں اہم ترین بات پیش قدمی ہوتی ہے۔انگریزی میں اسے Initiative کہتے ہیں۔شطرنج میں چلایا پہلا مہرا۔ تاش میں پھینکا پہلا پتہ۔حکمرانوں کی یہ خواہش ہی نہیں بلکہ ضرورت ہوتی ہے کہ Initiative ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہے۔عمران خان صاحب نے حکومت سنبھالنے کے بعدمگر Initiativeکی اہمیت کوسمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔بنیادی طورپر ایک بائولر ہوتے ہوئے اپوزیشن کے دور کی طرح مخالفین کی وکٹ اُڑانے کو بے چین رہے۔ بھول جاتے ہیں کہ

Read more

مرتضیٰ سولنگی‘یوٹیوب چینل اور سوالات

مرتضیٰ سولنگی مجھے بہت عزیز ہے۔ زندگی کے کئی برس موصوف نے ریڈیو کے ذریعے عوام سے رابطے کا ہنر سیکھنے کی نذر کئے ہیں۔ ’’وائس آف امریکہ‘‘ کے لئے واشنگٹن میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ وہ پاکستان لوٹ ا ٓئیں۔ وہ اس جہاں میں نہ رہیں لیکن آصف علی زرداری کو ان کی خواہش یاد رہی۔ 2008کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو انہیں ریڈیو

Read more

عدم برداشت: سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی گراوٹ

جب بھی کوئی قوم زوال پذیر ہوتی ہے تو اس میں عدم برداشت اور اس کے رویے تہذیب و شائشتگی ’اخلاق و کردار اور صبر و عمل سے عاری ہو جاتے ہیں لہجوں اور چہروں سے کرختگی کے تاثرات نمایاں ہوتے ہیں تعمیری سوچ کے بجائے تخریبی سرگرمیاں ان کا محور بن جاتی ہیں۔ وطن عزیز میں عدم برادشت کا یہ عالم ہے کہ کسی کی ذرا سی بات پر باہمی احترام‘ رواداری ’صلح جوئی اور امن و آشتی کو

Read more

سوشل میڈیا کا ”مکو ٹھپنے“ کا آغاز

سیاست میں بیانات نہیں ٹھوس واقعات ہی اہم تبدیلیا ں لاتے ہیں۔ مثال کے طور پر مارچ 1977 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف نواپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چلائی تحریک شدت کی انتہاؤں کو چھونے لگی تو بالآخر مسلح افواج کے سربراہان نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔ اس بیان کو ”آئین کے مطابق“ قائم حکومت کی حمایت کا واضح اور بھرپور اظہار تصور کیا گیا تھا۔ یہ بیان مگر 7 جولائی 1977 کو روک نہیں پایا تھا۔ بیانات پر نہیں بلکہ ٹھوس واقعات پر اپنی توجہ لہٰذا مرکوز رکھیں۔ اس ضمن میں اہم ترین واقعہ میری دانست میں سوشل میڈیا پر بہت ہی مقبول ”ٹک ٹاک“ پر لاگو ہوئی پابندی بھی ہے۔

Read more

سکندر مرزا کا راستہ

اکتوبر کا مہینہ پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ایک مہینے کے دوران قتل کی دو وارداتیں ایسی ہوئیں، جنہوں نے مستقبل پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے، اور ان سے ابھی تک سو فی صد نجات ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ قیام پاکستان کے چار سال بعد اس ماہ کی 16 تاریخ کو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں (جسے بعد ازاں ان کے نام سے موسوم کر دیا گیا تھا) گولی کا نشانہ بنایا گیا۔

لیاقت علی خان محض ایک وزیر اعظم یا سیاست دان نہیں تھے، وہ تحریک پاکستان کے دوسرے بڑے رہنما تھے۔ قائد اعظمؒ کے بعد ان کی شخصیت سب سے قد آور اور محترم تھی۔ وہ مسلسل کئی برس تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل رہے تھے، اور انہی کی انتظامی صلاحیتوں نے مسلم لیگ کو ایک تنظیم کے طور پر کھڑا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ ان کا قتل پاکستانی سیاست کا قتل ثابت ہوا، اور اقتدار میں نوکر شاہی کا عمل دخل بڑھتا چلا گیا۔ بونے اپنے آپ کو جن سمجھنے لگے، انہوں نے نہ صرف جسد سیاست کو تار تار کیا، بلکہ اپنے پاؤں پر بھی کلہاڑی ماری، اور خود بھی بے ننگ و نام ہو گئے۔

Read more

نواز شریف سے جیتنا آسان نہیں!

اپنی نوجوانی میں میاں صاحب زندگی کے ہر شعبے میں ناکام ہوتے ہوئے نظر آئے تو والد صاحب نے انہیں جنرل جیلانی کے حوالے کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن وطن عزیز میں آئے روز پیدا ہونے والی ہر ہیجانی صورت حال کے اندر میاں صاحب کو ایک دائمی فریق کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ میاں صاحب کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پرچی کے بغیر ایک جملہ ٹھیک سے نہیں بول سکتے، آدھے صفحے سے زیادہ جو تحریر پر توجہ مرکوز رکھنے کی صلاحیت سے عاری ہیں، انہی میاں صاحب نے بڑے بڑے طاقتورافراد کو ان کے مقتدر اداروں سمیت کم و بیش تین عشروں سے آگے لگا رکھا ہے۔

جنرل مشرف کو میاں صاحب کس طرح جل دینے میں کامیاب ہوئے، یہ قصہ ابھی کل کی بات ہے۔ پچھلے برس کے کسی مہینے، جسٹس کھوسہ نے جیل میں بندشدید ذہنی دباؤ کے شکار قیدی کو اسی قدر شدید انسانی ہمدردی کے جذبات سے مغلوب ہو کر کچھ ہفتے گھر گزارنے کی انوکھی رعایت عطا کی تھی۔ رہائی ملی تو عام خیال یہی تھا کہ قیدی عافیت پا کر گھر میں سستاتا ہوگا۔ کسے معلوم تھا کہ ضمانت پر رہائی کے انہی دنوں، قیدی کو سزا سنانے والے جج سے جاتی عمرہ میں معاملات طے پا رہے تھے۔

Read more

اللہ جمہوریت کے مستقبل پر رحم فرمائے!

پکڑ دھکڑ اور تھوک کے حساب سے اپوزیشن کے خلاف انکوائریوں اور مقدمات کے علاوہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے ایک متنازعہ شخص کی جانب سے بغاوت کی ایف آئی آر درج کرانے کے منظرنامے میں وزیراعظم کی یہ خواہش کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو عالمی طاقت بن کر ابھرے، بڑی نیک خواہش ہے اور کون پاکستانی ذی شعور ہو گا، جو اس سے اختلاف کرے گا لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف کے دو سال سے زائد عرصے کے دور حکومت میں صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی چلی گئی۔

عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اقتصادی صورتحال مسلسل روبہ زوال ہے، غربت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے حتیٰ کہ اقتصادی شرح نمو مالی سال 2021 میں کم ہونے کی توقع ہے اور 0.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو گزشتہ تین برس میں چار فیصد تھی۔ رپورٹ کے مطابق اقتصادی نمو توقع سے کم یعنی مالی سال 2021۔ 22 ء میں اوسطاً 1.3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کے بارے میں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے جی ڈی پی کی حقیقی نمو مالی سال 2019 ء کی 1.9 فیصد سے کم ہو کر 2020 ء میں 1.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جو کئی دہائیوں کے بعد بدترین کمی ہے۔

Read more

کیا باسمتی ہم سے چھن جائے گی؟

آپ کے پاس گاؤں میں رہنے کی کیا وجہ ہے؟ میں نے ایک بار اپنے دادا جی سے پوچھا۔ آپ کی ساری اولاد شہر میں بس چکی۔ باغ کی دیکھ بھال اب آپ سے ہو نہیں سکتی۔ طبیعت خراب ہو جائے تو وہی نیم حکیم، نیم ڈاکٹر۔ ان کی آنکھوں میں انار کے پھولوں جیسے رنگ بھر گئے، محبت کی ہریاول ان کے سفید دراز بالوں کے گرد حاشیہ بنا کر اتر آئی۔ بولے! تم جس راستے سے آئے ہو وہاں چاول کی فصل پکنے کو تیار ہے۔ اس کی خوشبو سے ملے؟

Read more

جمہوریت سے وفاداری کا حلف بھی

ابھی بہت سی جگہوں پر بندروں کا راج تھا۔ کہیں کہیں انسانی تہذیبیں پھوٹ رہی تھیں مگر حکمرانی کے طور طریقے اور قانون جنگل والے ہی تھے۔ جو زیادہ طاقتور ہوتا وہی بادشاہ کہلاتا اور اس وقت تک تخت پر قابض رہتا جب تک کوئی اس سے زیادہ طاقتور پیدا نہ ہو جاتا۔ عام انسانوں اور جانوروں میں کوئی فرق نہ تھا۔ دونوں کو قابو کرکے اپنے کام کے لیے استعمال کیا جاتا۔ یہ منظر تقریباً پانچ سو سال قبل

Read more

افغانستان کو دو طرفہ تعلقات اور عوامی روابط مستحکم بنانے کا موقع

افغانستان کے قومی مصالحت کی اعلیٰ کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے وزیراعظم عمران کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ نورخان ائربیس پر وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد، افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق، افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان اور وذرات خارجہ کی افغانستان ڈویژن کے ڈائریکٹر جنرل آصف میمن نے عبداللہ عبداللہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔ عبداللہ

Read more

کرونا کے تدارک کے لئے ٹرمپ پر آزمایا نسخہ

اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم پاکستان کے مقابلے میں دُنیا کی واحد سپرطاقت اور ’’حقیقی‘‘ جمہوریت کی علامت شمار ہوتے امریکہ میں جنونت کی انتہائوں کو ناقابلِ برداشت حد تک چھورہی ہے۔اس ضمن میں سفاکی کا بھرپور مظاہرہ حال ہی میں امریکی صدر کے حوالے سے بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ٹرمپ کئی حوالوں سے مجھے اپنا ’’لاہوری‘‘ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے رویے سے لطف اندوز ہونے کے باوجود مجھے اس کی سیاسی ترجیحات سے شدید نفرت ہے۔ "America

Read more

میری ’’آنے والی تھاں‘‘

نوٹس Notesلینے کا میں عادی نہیں۔کئی اخبارات کے لئے چند دہائیوں سے جو کچھ روزانہ کی بنیاد پر لکھا ہے اس کا ریکارڈ بھی میرے پاس نہیں۔کبھی اس گماں میں مبتلا نہیں رہا کہ میں نے آنے والے زمانوں کے مورخین کی آسانی کے لئے ’’ٹھوس مواد‘‘ جمع کررکھا ہے۔رزق کمانے کی مشقت میں ڈنگ ٹپائو صحافت ہی کی ہے۔پتھروں میں بند کیڑے کو رزق فراہم کرنے والے ربّ کریم نے لیکن مجھے حیران کن مواقعہ فراہم کئے۔ میں ناشکرا

Read more

’’بیانیہ‘‘کا کھیل

سیاسی جماعتوں کے پاس سلوگن تو ہیں بیانیہ نہیں۔جس کو سیاسی جماعتیں بیانیہ کہتی ہیں ،وہ سلوگن ہیںاور سلوگن بدلتے رہتے ہیں،جیسے سلوگن نوازشریف کے پاس ہیں۔مئی2013ء کے عام انتخابات میں منتخب ہونے والے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے 2017ء کے ماہِ مارچ میں دواہم تقاریر کی تھیں ۔ پہلی تقریر اُنہوں نے11 مارچ جامعہ نعیمیہ لاہورمیں کی تھی ۔جس میں مذہبی علما ء پر زور دیتے ہوئے کہا تھا ’’ وہ قوم کے سامنے دین کا اصل بیانیہ

Read more

ایک محبِ وطن شہری کی درخواست پر فرض شناس پولیس افسر کی فوری کارروائی

نواز شریف صاحب نے اپوزیشن جماعتوں کے سربراہی اجلاس سے ’’شرانگیز خطاب‘‘ 20 ستمبر کے روز کیا تھا۔اس کے بعد وہ اپنی جماعت کے دو اہم اجلاسوں سے بھی ایسی ہی گفتگو فرماتے رہے۔شہباز گِل صاحب نے 20 ستمبر کے خطاب سے قبل ٹی وی چینلوں کو متنبہ کردیا تھا کہ وہ اسے نشر کرنے سے باز رہیں۔بعدازاں ہمیں مگر ’’ذرائع‘‘ کی بدولت مطلع کیا گیا کہ وزیر اعظم صاحب مذکورہ خطاب کے براہِ راست نشر ہونے کی بابت ہرگز

Read more

پی ڈی ایم کو غیر موثر بنانے کی مشق

پیر کے روز چھپے کالم میں عرض فقط یہ کرنا مقصود تھا کہ جناب شہباز گِل صاحب کے ذریعے نواز شریف کی مبینہ ’’بھارت نوازی‘‘ کی کہانی دہرانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ کہانیاں تو ان دنوں ہی پھیلنا شروع ہوگئی تھیں جب پاکستان کے تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہونے کے چند ہی ماہ بعد نواز شریف نریندر مودی کی حلف برداری میں شریک ہونے نئی دلی چلے گئے تھے۔الزام لگاکہ دہلی میں موجود ہوتے ہوئے انہوں نے

Read more

جنوبی پنجاب کا تعلیمی مرکز: داتا گنج بخش اہل قلم کانفرنس

قلم دوست کے رکن اور عزیز دوست ڈاکٹر اختر سندھو نے وائس چانسلر خواجہ فرید یونیورسٹی رحیم یار خان کے ساتھ ایک نشست رکھی تو معلوم ہوا جنوبی پنجاب میں تعلیمی سہولیات کے ضمن میں اہم کام ہو رہا ہے۔ وی سی ڈاکٹر سلیمان طاہر انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی ہیں۔ خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ کئی کھیلوں میں یونیورسٹی گرانٹس کمشن کی ٹیم کا حصہ رہے۔ زمانہ طالب علمی سے ان کے دوست اور سینئر صحافی میاں عابد اور عدنان احمد نے بتایا کہ انہیں تعجب ہوا کرتا کہ ایک کھلاڑی کیسے اتنے اچھے نمبر لے جاتا ہے۔

Read more

بابری مسجد کے قضیہ نے اتاردیے نقاب

6دسمبر 1992 کی رات، بی بی سی نے اپنی نشریات روک کر اعلان کیاکہ اتر پردیش کے شہر فیض آباد سے سنڈے آبزرور کے نمائندے قربان علی لائن پر ہیں اور وہ ابھی ابھی ایودھیا سے وہاں پہنچے ہیں۔ اگلی پاٹ دار آواز قربان علی کی تھی۔ جس میں انہوں نے دنیا کو بتایا کہ مغل فرمانروا ظہیر الدین بابر کی ایما پر تعمیر کی گئی بابری مسجد اب نہیں رہی۔ جس وقت و ہ ایودھیا سے روانہ ہوئے، وہ ملبہ کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہو چکی تھی۔

اس دن 12 بجے کے بعد سے کسی بھی میڈیا ادارے کا ایودھیا میں موجود اپنے رپورٹروں سے رابط نہیں ہو پا رہا تھا۔ حکومت دعویٰ کر رہی تھی کہ ایک ہجوم نے مسجد پر حملہ کر کے اس کو معمولی نقصان پہنچایا اور سکیورٹی دستوں نے ان کو کافی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ہندو قوم پرست تنظیموں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ویشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے جب رام مندر تحریک شروع کی، تو میں بھی تقریباً اسی وقت دہلی میں صحافت کی تعلیم مکمل کر رہا تھا۔

Read more

غیر جمہوری سیاسی نظام!

ملک عزیز کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو اس ملک کی ترقی میں حائل پرعزم ’ایماندار اور محب وطن قیادت کا فقدان اور سیاستدانوں کا روایتی طرز عمل ہے جس کے باعث عام فرد اپنے گرد مسائل کے انبار دیکھ کر تبدیلی کی شدید خواہش تو رکھتا ہے لیکن ملک میں جمہوری اور مفاد عامہ سے عاری سیاست کے سامنے اس کی خواہش دم توڑ جاتی ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں گڈ گورننس‘ اداروں میں اکاؤنٹبیلٹی اورشفافیت

Read more

امریکی صدارتی مباحثہ، ہمارے سیاستدان اور اساتذہ

جی چاہتا ہے کہ آج کا کالم امریکی صدارتی انتخابات کی نذر کر دوں، جو نومبر میں منعقد ہو رہا ہے، لیکن ہمارے یہاں اور بھی بہت غم ہیں۔ ان غموں کے باوجود امریکی صدارتی امیدواروں کے پہلے روایتی مباحثے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ ری پبلکن امیدوار، موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کے درمیان یہ مباحثہ ابھی دو دن پہلے ہوا۔ کئی سالوں سے یہ روایت بن چکی ہے کہ دو بڑی جماعتوں کے صدارتی امیدوار آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

ایک ماڈریٹر اس مباحثے کو سنبھالتا اور سوالات کرتا ہے، جو عموماً اس وقت کے قومی یا بین الاقوامی مسائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ایسے تین مباحثے وقفوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بعد کے مباحثوں میں حاضرین یا سامعین بھی موجود ہوتے ہیں، جنہیں سوال کرنے کا حق ہوتا ہے۔ عموماً یہ کھلے مباحثے کسی یونیورسٹی کے ہال میں منعقد ہوتے ہیں۔ اگرچہ کسی بھی امیدوار پر کوئی آئینی یا قانونی پابندی نہیں کہ وہ ہر حال میں ایسے مباحثوں میں شریک ہو، لیکن جب سے یہ روایت چلی ہے، کسی صدارتی امیدوار نے اس سے انحراف نہیں کیا۔

Read more

حزب اختلاف کی سیاسی جنگ

کیا واقعی پاکستان میں موجود حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے خلاف حتمی جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ حزب اختلاف کا بننے والا نیا سیاسی اتحاد ”پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ” پی ڈی ایم ایک بڑی سیاسی تحریک کو پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ اور کیا ان کی یہ تحریک واقعی حکومت کو سیاسی محاذ پر ایک بند گلی میں دھکیل سکتی ہے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ یہاں حزب اختلاف کی سیاست کسی بھی شکل میں تعمیری کم اور مسائل کو پیدا کرنے کی زیادہ رہی ہے۔

حکومتوں کو قبول نہ کرنا، وقت سے پہلے گھر بھیجنا، پس پردہ قوتوں کی مدد سے سازشوں کو تیار کرنا یا اس پر عمل کرنا، سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے سیاست اور معیشت دونوں کے لیے مشکلات پیدا کرنا، سیاسی جماعتوں کی سطح پر توڑ پھوڑ، منفی بنیادوں پر اتحادوں کا قیام، جلاؤ گھیراؤ اور ٹکراؤ کی سیاست کو غلبہ رہا ہے۔ یہ کام کسی ایک حزب اختلاف کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہر حزب اختلاف کی سیاست انہی مقاصد کے گرد گھومتی ہے۔

Read more

نوازشریف کی سوشل میڈیا پر فعالیت

سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں بٹھانے کے محاذپر ابھی تک تحریک انصاف حیران کن حد تک چھائی ہوئی تھی۔نواز شریف صاحب نے مگر اب ذاتی ٹویٹر اکائونٹ بنالیا ہے۔فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا۔یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن مؤثر انداز میں انہیں جواب نہیں دے پارہے۔ روایتی میڈیا کو تحریک انصاف نے بہت معتبر شمار ہوتے کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کو ’’لفافہ‘‘ثابت کرتے

Read more

تین ہزار سال پرانی اولیگارکی اور ہمارا طرز حکمرانی

پاکستان میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں میں کئی اختلاف سہی لیکن یہ اتفاق بڑھتا جا رہا ہے کہ جمہوریت ہی ملک کا شاندار پہناوا ہے۔ دل میں اقتدار کی قیامت خیز تڑپ لئے کچھ ایسی جماعتیں بھی ہیں جن کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کی جگہ اگر سلیکشن نہ ہوتی تو وہ اپنی حسرتوں پر آنسو بہاکر سوتی ہی رہتیں۔ تاہم سلیکٹروں کے احسان تلے دبی یہ جماعتیں بھی جمہوریت کے خلاف سرعام گناہ سے

Read more

مقامی حکومتوں کا نظام

پاکستان کے نظامِ حکمرانی میں، کیا واقعی مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیادی ترجیحات کی بنیاد پر ایک مضبوط اور مربوط نظام کے تحت قائم کیا جاسکے گا؟ کیونکہ عملی طور پر پاکستان کا جمہوری حکمرانی کا نظام، مقامی حکومتوں کے نظام سے نا صرف محروم ہے بلکہ اس نظام کو سیاسی بنیادوں پر ایک بڑے سیاسی استحصال کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت یا بالخصوص صوبائی حکومتوں کا کردار سب سے زیادہ تنقید کے زمرے میں آتا ہے، جو اس بنیادی جمہوریت کے نظام کے ہی خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت وفاق اور صوبائی سطح پر حکمرانی کے شدید ترین بحران میں سب ہی سیاسی، انتظامی اور قانونی فریقین مقامی حکومتوں کے نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن حکمران طبقہ چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، اس نظام کی تشکیل اور خود مختاری کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔

Read more

اکتوبر ہلچل کا مہینہ!

بلھے شاہ کی ’’بہنوں اور بھرجائیوں‘‘ کی طرح راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کئی ہفتوں سے شہباز شریف کو سمجھاتے چلے آرہے تھے کہ سرجھکاتے ہوئے ’’میری پارٹی‘‘ بن جائو۔ حالانکہ بہت عرصے سے وہ ’’حاضر جناب‘‘ ہوئے نظر آرہے تھے۔ وہ یہ رویہ اختیار نہ کرتے تو عمران حکومت کسی صورت پارلیمان سے ’’وہ‘‘ قانون منظور نہیں کرواسکتی تھی جسے ایک دستی بم کی مانند ’’سسیلین مافیا‘‘ کے خلاف برسرپیکار رہے کھوسہ صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ

Read more

سوالات انبار ہے مگر جواب ندارد

دولت اور اختیار پر پاکستان ہی نہیں دُنیا بھر میں مٹھی بھر لوگوں کا اجارہ ہے۔ غریب اور امیر کے درمیان تقسیم دن بدن گہری ہوتی چلی جارہی ہے۔کرونا نے امریکہ اور یورپ میں اس کی وجہ سے جوقیامت خیزمناظر دکھائے انہوں نے سوچنے سمجھنے والوں کی بے تحاشہ تعداد کو اس امر پر غور کرنے کو مجبور کردیا ہے کہ ناقابل برداشت علاقوںمیں داخل ہوتی معاشی عدم مساوات سے بچائو کے راستے ڈھونڈے جائیں۔ ہماری خوش بختی رہی کہ

Read more

دل پر اب الہام اترتے ہیں عذابوں کی طرح

بہت دنوں کے بعد ہفتے کے روز فیس بک کھولی تو وہاں سرمدؔصہبائی نے اپنی ایک تازہ غزل لگائی ہوئی تھی ۔اسے دیکھنے کے بعد رات گئے تک اس کے طلسم میں کھویا رہا۔ مذکورہ غزل نے چونکا دینے کے علاوہ کافی طمانیت اس وجہ سے بھی فراہم کی کہ سرمدؔ صاحب میرے دیرینہ دوستوں میں شامل ہیں۔کئی حوالوں سے وہ میرے اُستاد نہیں تو ہر صورت رہ نما تو ہیں۔ زندگی میں کچھ نہ کچھ کرنے کی تڑپ کے

Read more

”وزیر اعظم اپنا کام آپ کریں“

اے پی سی کا انعقاد بذات خود کوئی معمولی بات نہیں تھی، اپوزیشن جماعتیں اعلیٰ ترین سطح پر اکٹھی ہوئیں، اور اپنے مخالفوں کو حیران کر گئیں، لیکن ان کے اجتماع سے بڑا دھماکہ یہ ہوا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے طویل خطاب کیا، اور اس میں وہ سب کچھ کہہ ڈالا، جو کہنا چاہیے تھا یا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ اپنے بیانیے کو نہ صرف دہرایا، بلکہ مزید زور دار بنایا۔ ریاست کے اندر ریاست سے بات بڑھا کر ریاست کے اوپر ریاست تک پہنچا دی، اور دور و نزدیک اپنے وجود کا احساس دلا دیا۔

اس کے بعد عسکری قیادت سے سیاست دانوں کے رابطوں کی تفصیلات منظر عام پر آنے لگیں، ”میدان خطابت کے جرنیل“ شیخ رشید احمد میدان میں آ نکلے، اور یکے بعد دیگر انکشاف کرتے چلے گئے۔ خفیہ ملاقاتوں کی کچھ باتیں بتائیں، کچھ مزید بتانے کی دھمکی دی۔ یہاں تک کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کو بھی یہ اعلان کرنا پڑا کہ سندھ کے سابق گورنر صاحب نے، جو مسلم لیگ (ن) کے سرخیلوں میں شمار ہوتے ہیں، یکے بعد دیگرے دو ملاقاتیں چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے اپنی خواہش پرکیں، اور ان کے سامنے اپنے لیڈروں کے معاملات رکھے۔

Read more

’’بس بھئی بس۔ زیادہ بات نہیں۔‘‘

کچھ فقرے ایسے ہوتے ہیں جو برجستہ اور عام سنائی دیتے ہیں۔جن ڈرامائی پس منظر میں انہیں ادا کیا جاتا ہے ان کی بدولت مگر سننے والے کے ذہن میں چپک کے رہ جاتے ہیں۔ 1975میں ایک مرتبہ ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایسے ہی چند کلمات ادا کئے تھے۔ گزشتہ تین دنوں سے ’’ملاقاتیں جو ہوتی ہیں‘‘ کے بارے میں ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا پر جو شوروغل برپا ہے اس

Read more

ٹرمپ کی چین پر چڑھائی

جی ہاں امریکی صدارتی انتخاب تک پہنچنے میں فقط پانچ ہفتوں کا فاصلہ رہ گیاہے۔ اسے ذہن میں رکھیں تو ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے پیر کی شام جو خطاب کیا اسے انتخابی مہم کا حصہ قرار دے کر نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔امریکی اشرافیہ کی سوچ اور ترجیحات سے تھوڑی آگہی کے سبب اگرچہ میں اس تقریر کو نہایت سنجیدگی سے لینے کو مجبور ہوں۔ میری دانست میں اس تقریر کے ذریعے امریکی صدر

Read more

اے پی سی ترپ کا پتا تھی یا کوئی سپانسر مل گیا ہے؟

کمزور اور ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں جب بھی آتی ہیں یا جاتی ہیں یا حکومتوں کے خلاف کوئی بھی موثر تحریک چلتی ہے تو یہ سب کچھ ان کے اپنے بل بوتے پر نہیں ہوتا بلکہ ان سرگرمیوں کا کوئی نہ کوئی سپانسر ضرور ہوتا ہے جس کے تانے بانے مقامی سطح سے شروع ہوکر انٹرنیشنل سطح تک جڑتے ہیں۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہر بڑے آدمی کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے

Read more

’’بڑا کھانا‘‘ اور نوازشریف کی کشتیاں جلاتی تقریر

جس ’’بڑے کھانے‘‘ کا پیر کے دن سے بہت شوروغوغا کے ساتھ ذکر ہورہا ہے اس کا اہتمام بدھ کی شام ہوا تھا۔ یہ وہی دن تھا جب پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک دو نہیں دس کے قریب قوانین عمران حکومت نے یک مشت منظور کروائے تھے۔ ان تمام قوانین کو قومی اسمبلی سے منظوری کے باوجود اپوزیشن جماعتوں نے بھاری بھر کم اکثریت کے بل بوتے پرسینٹ کے ذریعے ’’مسترد‘‘ کردیا تھا۔ ایوانِ بالا سے ’’مسترد‘‘ ہوئے قانون

Read more

متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور ایران

ایک زمانہ تھا کہ سب عرب بھلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں مگر اس نکتے پر متفق تھے کہ اسرائیل عربوں کا مشترکہ دشمن ہے اور اسرائیل کا وجود ناجائز ہے۔پھر جیسا کے ہوتا ہے۔مصر نے اسرائیل سے تین جنگیں ہارنے کے بعد اسرائیل دشمنی کے شیشے میں سمجھوتے کا پہلا پتھر مارا۔جن جن عرب حکمرانوں نے اسرائیل کو ابھرتے دیکھا تھا۔ ان میں سے اکثر رفتہ رفتہ وقت کی دھند میں معدوم ہوتے گئے اور ان کی

Read more

اے پی سی اور نواز شریف کا خطاب

ڈاکٹر شہباز گِل صاحب کا حکم ہے۔اس کی لازماََ تعمیل ہوگی۔ قانون کا دل وجان سے احترام کرنے والے میڈیا مالکان جیل سے سزا یافتہ اور اب عدالت سے ’’اشتہاری‘‘ قرار پائے نواز شریف صاحب کی اپوزیشن کی اے پی سی میں ہوئی تقریر اپنے چینلوں پر دکھانے کی جرأت آزمانے کو سوبار سوچیں گے۔بہتر اگرچہ یہ ہوتا کہ شہباز گِل صاحب ایک ٹویٹ لکھ کر میڈیا مالکان کو قانون کا ہر صورت احترام والا حکم صادر نہ فرماتے۔ Whatsapp

Read more

عمران حکومت کے لئے ’’گلیاں سنجیاں‘‘ کا ماحول

’’حرکت تیز تر ہے‘‘ والی کیفیت برقرار رکھنے کے لئے ٹی وی سکرینوں پر ٹکر چلتے ہیں۔بریکنگ نیوز ہوتی ہے اور اخبارات میں چیختی دھاڑتی سرخیاں۔فقط ان پر اکتفا کریں تو ’’دریافت‘‘ یہ ہوگا کہ تھوڑی اکثریت کے باوجود حزب مخالف کی تمام جماعتیں بدھ کی شام باہم مل کر بھی عمران حکومت کو وہ قوانین قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کروانے سے نہ روک پائیں جنہیں سینٹ سے نامنظور کروادیا گیا تھا۔دوبرس تک ’’صبح گیا

Read more

عمر شیخ پر حکومت کا ترجیحی بیانیہ

عمر عزیز کے 35 برس پارلیمانی رپورٹنگ کی نذر کئے ہیں۔آج بھی اس کی بابت The Nationکے لئے پریس گیلری والا کالم لکھتا رہتا ہوں۔ ان تمام برسوں میں ’’ہمارے نمائندوں‘‘ کو میں نے ہمیشہ پولیس کے بارے میں غیر مطمئن ہی پایا۔ امن وامان سے متعلق کہیں کوئی گھنائونا واقعہ رونما ہوجاتا تو اس کے حوالے سے پارلیمان میں ہوئی دھواں دھار تقاریر اس شہر کی پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتیں۔اس کے افسروں کے خلاف انتظامی کارروائی

Read more

سانحہ موٹر وے اور پولیس نظام!

دوران سفر خاتون کے ساتھ پیش آنے والے المناک موٹر وے سانحہ پر قوم غمزدہ ہے وزیر اعظم عمران خان کے اس واقعہ پر نوٹس کے بعد تا دم تحریر سفاک ملزمان پنجاب پولیس کی دسترس سے باہر ہیں جس معاشرے میں امتیازی رویوں اور قوانین کا راج ہو وہ معاشرے درندگی اور وحشت کی آمجگاہ بن جاتے ہیں۔ سانحہ موٹروے نے جہاں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا کرسرخ دائرہ لگا دیا ہے وہیں یہ

Read more

موٹروے سانحہ پر غیر ذمہ دارانہ رویے

 زندگی میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد بالآخر اب یہ جان لیا ہے کہ سیاست دانوں کا اصل مقصد حصول اقتدار ہوا کرتا ہے۔اس کے حصول کے لئے جمہوری ملکوں میں عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں۔اشرافیہ کے طاقت ور طبقات سے سازشی گٹھ جوڑ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو اسے بچائے رکھنا بنیادی ترجیح ہوجاتا ہے۔ حکومتی مخالفین اس کے برعکس ہمہ وقت ’’صبح گیا یاشام گیا‘‘ والا ماحول بنانے کی کاوشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔کئی

Read more

ہم کیا ہیں؛ انپڑھوں کی منڈی

تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولنے کا آغاز ہوچکا ،دفتر آتے ہوئے گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج رائے ونڈ روڈ کے بچوں کو دیکھ کر خوشی ہوئی ،ان کی صحت و سلامتی کے لئے بے ساختہ دعا نکلی۔دھیان تعلیمی ناکامیوں اور حکومتوں کی کوتاہی کی طرف ہو گیا۔کچھ منصوبوں کے بارے پڑھا ،کچھ کا حشر نشر ہوتے خود دیکھا ۔تعلیم بالغاں سے لے کر نئی روشنی سکول اور پھر مسجد سکول جیسی کتنی ہی سکیمیں آئیں جن کے لیے عالمی اداروں نے

Read more

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

اقوام متحدہ کی فہرست میں جارحیت کرکے عوام کو محکوم بنانے کی شکل کو غلامی شمار نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ کسی بھی طاقت ور ملک کو حق حاصل نہیں کہ وہ جارحیت کر کے کسی علاقے پر قبضہ کر لے اور عوام کوخود ساختہ قوانین کا تابع بنائے، حکم عدولی پر جیلوں میں ڈالے یا سخت سزائیں دے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام جارح، غاصب حکمرانوں سے تنگ آ جاتے ہیں اورپھر گلو خلاصی کی کوشش کرتے ہیں،

Read more

صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی ممکنہ شکست اور امریکن اسٹیبلشمنٹ

امریکی صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے لئے، ہر آنے والا دن تنازعات میں الجھنے کا باعث بن رہا ہے، ایک کے بعد ایک متنازع بیانات اور حریفوں کے خلاف درشت و سخت لب و لہجے کے ساتھ خطاب امریکی تاریخ میں سیاسی رواداری کی روایت کو کچل رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات 03 نومبر کو منعقد ہوں گے تاہم امریکی عوام کرونا وبا کے باعث الیکشن کے اس ماحول سے لطف اندوز نہیں ہوسکیں گے جو صدارتی انتخابات کا خاصہ

Read more

تحریک انصاف کو نئے بیانیے کی ضرورت

عمران حکومت کی بابت مثبت تاثر کو فروغ دینے کے لئے جو افراد میڈیا سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں ان میں سے کسی ایک سے بھی میری ذاتی شناسائی نہیں۔ہمارے میڈیا کے چند بااثر دوستوں سے مگر برسوں پرانے رشتے ہیں۔ وہ میری گوشہ نشینی کے بار ے میں واقعتا متفکر رہتے ہیں۔ بہت خلوص سے یہ چاہتے ہیں کہ میں محفل بازی کی جانب لوٹ آئوں۔ پھکڑپن اور یاوہ گوئی کی رونق برقرار رہے۔ گزشہ چند مہینوں سے

Read more

کسی راؤ انوار کی تلاش؟

’’پولیس کا ہے فرض، مدد آپ کی‘‘ ، آمر مطلق جنرل ضیاء الحق کے دور میں یہ سلوگن خاصا مشہور ہواتھا۔ اس سے پہلے کے ادوار اور آج کل بھی پولیس غریب عوام کی چھترول کر کے ہی ’’مدد‘‘ کرتی آ رہی ہے۔ پولیس، برسراقتدار سیاستدانوں اور مافیاز کے درمیان گٹھ جوڑ کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ ریاست مدینہ کے داعی اور تبدیلی کے پیامبر عمران خان کے اقتدار میں

Read more

خاتون سے درندگی: میڈیا اور پولیس

کسی واردات کے ملز م کی ’’شناخت‘‘ اور ’’گرفتاری‘‘ میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اتوار کی صبح اُٹھنے کے بعد یہ کالم ختم کرنے تک لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ایک خاتون کے ساتھ ہوئی درندگی کے مرتکب افراد کی فقط شناخت ہوئی تھی۔ دو بیٹیوں کا باپ ہوتے ہوئے ربّ کریم سے فریاد کررہا ہوں کہ میرا کالم چھپنے تک ذمہ دار ٹھہرائے درندے گرفتار ہوچکے ہوں۔آنے والے کئی دنوں تک بطور صحافی یہ خیال مگر مجھے کئی دنوں تک پریشان

Read more

خواتین اور ہمارے سماجی رویے

موٹر وے پر ایک خاتون مسافر کے ساتھ جو گزری سو گزری لیکن اس سانحہ نے دنیا بھر میں پاکستان کو بری طرح رسوا کیا۔ دنیا کا کوئی بڑا اخباریا چینل نہیں جہاں اس حادثے کی بازگشت سنائی نہ دی ہو۔ اہل پاکستان رنجیدہ اور شرمندہ ہیں۔ یہ کوئی پہلا یا آخری واقعہ نہیں۔ہوس کے بھوکے، گھٹن زدہ اور قانون سے عاری معاشرے میں یہ ہر روز ہوتاہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ موٹر وے پر حادثے کا شکار ہونے

Read more

افغانستان کا تبدیلی کی جانب سفر

شاہد خان اس بار طالبان وفد کے ہمراہ اسلام آباد آئے لیکن میں مصروفیات کے باعث وہاں نہ جا سکا تاہم اس دورے کے متعلق چند نکات کا مجھے علم ہو گیا۔ اب انہوں نے دوحہ میں بین الاقوامی مذاکرات کی کچھ اطلاعات دی ہیں۔شاہد خان بہت محبت والے نوجوان ہیں جو باریک جزئیات کو نظر انداز نہیں کرتے ۔اتور کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایک تاریخی عمل کا آغاز ہوا ۔چند ماہ قبل جو ناقابل عمل دکھائی

Read more

کیا کراچی واقعی تبدیل ہو سکے گا؟

کیا کراچی کا بنیادی مسئلہ ایک بڑا مالیاتی پیکج ہے جو شہر کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بناسکتا ہے؟ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کراچی پیکج کو بنیاد بنا کر 1113 ارب روپے کی مالی مدد اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک بڑا ترقیاتی پیکج ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یقینی طور پر کراچی کو اگر واقعی مثبت انداز میں تبدیل ہونا ہے تو اس میں ایک بڑا نکتہ مالیاتی وسائل کی فراہمی کا

Read more

واردات کے بعد

ڈیفنس لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے موٹروے کے ایک ٹکڑے پر ایک خاتون کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واردات کی مذمت کے لئے لغت میں الفاظ کم پڑگئے ہیں۔ نہ صرف لوٹا گیا، بلکہ اس کے بچوں کے سامنے اس کی آبروریزی بھی کی گئی۔ دو درندوں نے ایک گھرانے، اور ایک خاندان ہی کا نہیں ہر اس شخص کا سکون چھین لیا، جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل موجود ہے۔ واقعہ تو ازحد افسوسناک، بلکہ المناک، بلکہ شرمناک تھا ہی، اس کے بعد جو کچھ سامنے آیا، اس نے تو دل کو ایسے کچوکے لگائے ہیں کہ جن کی کسک کم ہونے میں نہیں آ رہی۔

سیالکوٹ لاہور موٹروے کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے، لیکن موٹروے پولیس نے اس کی سکیورٹی نہیں سنبھالی، اس کے لئے جو افرادی قوت اور دیگر لوازمات درکار تھے، وزارت مواصلات نے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، اس کے پرجوش وزیر مرادسعید جو اپنی گرم گفتاری کے سبب خاص شہرت کما چکے ہیں، اور ہروقت اپنی کارکردگی کی تفصیلات پیش کرکر کے داد طلب کرتے رہتے ہیں، فائل پر سوئے رہے۔ پنجاب پولیس تک کو دستے متعین کرنے کے لئے نہیں کہا گیا، لیکن ٹول پلازہ جیب گرم کرنے کے لئے حاضر ہے۔

Read more

اذیت پسندی کیسے کم ہو گی؟

لاہور کے علاقے گجرپورہ میں لنک موٹر وے پر کار سوار خاتون سے زیادتی ہوئی۔ وقفے وقفے سے وحشی مزاج ہمارے سکون کو غارت کرتے رہتے ہیں۔ کئی قانونی سوال اٹھے ہیں جن کو دماغ قبول کرنے لگے ہیں، صدمے سے نکلنے پر سارا سماج سوچ سکتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا اور اسے کیسے روکا جا سکتا تھا۔ پاکستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات پر ہر بار عوامی سطح پر شدید ردعمل آیا۔ حیرت یہ کہ اس ردعمل کی شدت قانون کا حصہ نہیں بن پائی۔

جانے کتنی زینب قتل ہوئیں تو زینب ایکٹ تیار ہوا۔ یہ جو جمہوریت کے لیے جینے مرنے کی بات کرتے ہیں، ان لیڈروں نے دو سال تک زینب ایکٹ منظور نہ ہونے دیا۔ آج ہر کسی کا خون ابل رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ مہنگے اینکروں سے سجا الیکٹرانک میڈیا۔ ہر جگہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گجر پورہ لنک روڈ پر زیادتی کے واقعہ میں ملوث افراد کو پکڑ کر سرعام پھانسی دی جائے۔ کیا آپ جانتے ہیں بے حس کسے کہتے ہیں : سب مومی الفاظ مظفر بے حس تھے گونگے تھے دل کی آنچ ملی تو نکلی بوند بوند چنگاری سی اپنے اردگرد دیکھ لیجیے، بہت بے حس مل جائیں گے۔

Read more

منی بال سٹریٹیجی اور حکومت کی آپشنز

فی الوقت حکومت وقت انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ اس کی غلط پالیسیاں پہلے ہی تنقید کی زد میں تھیں، معاشی صورتحال ابتر سے ابتر ہوتی چلی جارہی تھی کہ کرونا کی وبا نے تباہی مچا دی۔ معیشت پہلے ہی انگریزی محاورے کے مطابق ”راک باٹم“ پر تھی کہ لوگوں کا رہا سہا روزگار بھی جاتا رہا اور معاشی صورتحال ناقابل بیان تباہی سے دوچار ہو گئی۔ اب حکومتی وزراء کے درمیان بڑھتے اختلافات کی خبریں زبان زد عام

Read more

مودی کی مقبولیت اور میرا علمِ نجوم

ضائع کرنے کو وقت ان دنوں میرے پاس ضرورت سے زیادہ میسر ہے۔بہتر تو یہی تھا کہ اسے کوئی کتاب لکھنے میں صرف کرتا۔کتاب مکمل نہ بھی ہوتی تو کم از کم دل کو یہ تسلی رہتی کہ اپنے ذہن کو کسی ہدف پر فوکس رکھے ہوئے ہوں۔ بستر پر لیٹے ہوئے سارا دن گزار دینا مگر راحت فراہم کرنا شروع ہوگیا ہے۔خود کو یہ سوچتے ہوئے بھی مطمئن رکھتا ہوںکہ طالب علمی کے زمانے سے بہت متحرک زندگی گزاری

Read more

کراچی ٹرانسفورمیشن پلان اور درست ترجیحات کی ضرورت

کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کا اعلان کیا جا چکا ، اس سے قبل وزیراعظم کی سربراہی میں گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر کراچی، گورنر و وزیراعلیٰ سمیت وفاقی وزراء بھی شریک تھے۔ کراچی پیکج پر عمل درآمد کی شروعات و خد و خال کے حوالے سے تفصیلات آ چکیں، تاہم وزیراعظم ابھی کراچی میں ہی تھے کہ دو بیانات نے سیاسی خوشگواری کے فضا مکدر کردی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے قائد حزب اختلاف و صوبائی حکومت پر سیاسی وار کرتے ہوئے انہیں ماضی میں دیے گئے جذباتی بیانات یاد کراتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے ایشو پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔

عجب وتیرہ ہے کہ سیاست کرنے کے بعد کہا جائے کہ ’سیاست‘ نہیں کرنا چاہتے، بہرحال یہ اتنی اہمیت کا حامل اس لئے نہیں کیونکہ جذباتی بیانات دینے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے میں کسی بھی جماعت نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اہم بیان بلاول بھٹو زرداری کا رہا، جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے 1100 ارب روپے کے پیکج میں 800 ارب روپے کے منصوبے سندھ حکومت کے ہیں۔ کراچی پیکج میں وفاق کی جانب سے صرف 300 ارب روپے شامل کیے گئے۔ بلا ول نے کراچی پیکج کو ایک اچھا آغاز قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وفاق سے اپنا حق لینا ہوگا۔ اسد عمر نے بیان کی تردید کی اور صرف چنگ گھنٹوں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا جو شد و مد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

Read more